QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Muhammad

مُحَمَّد

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 47 · 38 verses

47:1

ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ أَضَلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ

وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کی راہ سے ضائع کر دیے اللہ نے ان کے عمل(1) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور وہ ایمان لائے اس (قرآن) پر بھی جو نازل کیا گیا محمد پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اللہ نے دور کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور اصلاح کر دی ان کے حال کی(2) یہ اس لیے کہ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، انھوں نے پیروی کی باطل کی، اور بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے انھوں نے پیروی کی حق کی اپنے رب کی طرف سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ لوگوں کے لیے مثالیں ان کی(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عبرت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یہ رؤ سائے کفر اور ائمۂ ضلالت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے ، یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ ﴿ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کر دیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کر دیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لیے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب اور سازشوں کو ان کے سینوں ہی میں دبا دیا اور وہ اپنے مقصد کو نہ پا سکے۔ اور ان کے وہ اعمال جن پر وہ ثواب کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو اکارت کر دے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی۔ اور اس سے مراد ہر وہ غایت مطلوب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو، مثلاً: بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت۔ چونکہ باطل کی مدد کے لیے کیے گئے تمام اعمال باطل ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کیے گئے تمام اعمال اکارت ہیں۔ [2]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ وہ لوگ جو اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر نازل کی خاص طور پر جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر نازل کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ کو ادا کرتے ہوئے نیک اعمال کیے﴿ كَفَّرَ﴾ ’’مٹا دے گا‘‘ اللہ تعالیٰ﴿ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ ﴾ ان کے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو۔جب ان کے گناہ مٹا دیے گئے تو انھوں نے دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات پائی۔ ﴿ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے دین و دنیا، ان کے قلوب اور ان کے اعمال کی اصلاح کرے گا، ان کے ثواب کو نشوونما دے کر اس کی اصلاح کرے گا، نیز اللہ تعالیٰ ان کے تمام احوال کی اصلاح کرے گا۔ [3] اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اتَّبَعُوا الۡحَقَّ ﴾’’انھوں نے حق کی اتباع کی‘‘ جو صدق و یقین اور جس پر یہ قرآن عظیم مشتمل ہے ﴿ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ان کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ان کی تربیت کی اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کی پس اللہ تعالیٰ نے حق کے ذریعے سے ان کی تربیت کی، انھوں نے حق کی اتباع کی تب ان کے تمام امور درست ہو گئے۔چونکہ ان کا منتہائے مقصود حق سے متعلق ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والے اللہ کی طرف منسوب اور حق مبین تھا، اس لیے یہ وسیلہ درست اور باقی رہنے والا اور اس کا ثواب بھی باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اہل خیر اور اہل شر کو کھول کھول کر بیان کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کے اوصاف بیان کر دیے جن کے ذریعے سے ان کو پہچانا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان میں امتیاز کیا جاتا ہے ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘
47:2

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَءَامَنُواْ بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٖ وَهُوَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّهِمۡ كَفَّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَأَصۡلَحَ بَالَهُمۡ

وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کی راہ سے ضائع کر دیے اللہ نے ان کے عمل(1) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور وہ ایمان لائے اس (قرآن) پر بھی جو نازل کیا گیا محمد پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اللہ نے دور کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور اصلاح کر دی ان کے حال کی(2) یہ اس لیے کہ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، انھوں نے پیروی کی باطل کی، اور بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے انھوں نے پیروی کی حق کی اپنے رب کی طرف سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ لوگوں کے لیے مثالیں ان کی(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عبرت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یہ رؤ سائے کفر اور ائمۂ ضلالت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے ، یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ ﴿ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کر دیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کر دیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لیے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب اور سازشوں کو ان کے سینوں ہی میں دبا دیا اور وہ اپنے مقصد کو نہ پا سکے۔ اور ان کے وہ اعمال جن پر وہ ثواب کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو اکارت کر دے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی۔ اور اس سے مراد ہر وہ غایت مطلوب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو، مثلاً: بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت۔ چونکہ باطل کی مدد کے لیے کیے گئے تمام اعمال باطل ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کیے گئے تمام اعمال اکارت ہیں۔ [2]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ وہ لوگ جو اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر نازل کی خاص طور پر جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر نازل کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ کو ادا کرتے ہوئے نیک اعمال کیے﴿ كَفَّرَ﴾ ’’مٹا دے گا‘‘ اللہ تعالیٰ﴿ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ ﴾ ان کے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو۔جب ان کے گناہ مٹا دیے گئے تو انھوں نے دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات پائی۔ ﴿ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے دین و دنیا، ان کے قلوب اور ان کے اعمال کی اصلاح کرے گا، ان کے ثواب کو نشوونما دے کر اس کی اصلاح کرے گا، نیز اللہ تعالیٰ ان کے تمام احوال کی اصلاح کرے گا۔ [3] اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اتَّبَعُوا الۡحَقَّ ﴾’’انھوں نے حق کی اتباع کی‘‘ جو صدق و یقین اور جس پر یہ قرآن عظیم مشتمل ہے ﴿ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ان کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ان کی تربیت کی اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کی پس اللہ تعالیٰ نے حق کے ذریعے سے ان کی تربیت کی، انھوں نے حق کی اتباع کی تب ان کے تمام امور درست ہو گئے۔چونکہ ان کا منتہائے مقصود حق سے متعلق ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والے اللہ کی طرف منسوب اور حق مبین تھا، اس لیے یہ وسیلہ درست اور باقی رہنے والا اور اس کا ثواب بھی باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اہل خیر اور اہل شر کو کھول کھول کر بیان کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کے اوصاف بیان کر دیے جن کے ذریعے سے ان کو پہچانا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان میں امتیاز کیا جاتا ہے ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘
47:3

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱتَّبَعُواْ ٱلۡبَٰطِلَ وَأَنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّبَعُواْ ٱلۡحَقَّ مِن رَّبِّهِمۡۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ أَمۡثَٰلَهُمۡ

وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا اللہ کی راہ سے ضائع کر دیے اللہ نے ان کے عمل(1) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور وہ ایمان لائے اس (قرآن) پر بھی جو نازل کیا گیا محمد پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اللہ نے دور کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور اصلاح کر دی ان کے حال کی(2) یہ اس لیے کہ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، انھوں نے پیروی کی باطل کی، اور بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے انھوں نے پیروی کی حق کی اپنے رب کی طرف سے، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ لوگوں کے لیے مثالیں ان کی(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ آیات کریمہ اہل ایمان کے ثواب، نافرمانوں کے عذاب، اس کے سبب اور مخلوق کو اس سے عبرت حاصل کرنے کے ذکر پر مشتمل ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یہ رؤ سائے کفر اور ائمۂ ضلالت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے ، یعنی انبیاء و رسل اور ان کی دعوت سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو روک رکھا ہے۔ ﴿ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے باطل کر دیا اور اس سبب سے ان کو بدبختی میں مبتلا کر دیا۔ یہ ان کے اعمال کو شامل ہے جو یہ لوگ اس لیے کرتے تھے تاکہ حق اور اولیاء اللہ کے خلاف سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب اور سازشوں کو ان کے سینوں ہی میں دبا دیا اور وہ اپنے مقصد کو نہ پا سکے۔ اور ان کے وہ اعمال جن پر وہ ثواب کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو اکارت کر دے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی۔ اور اس سے مراد ہر وہ غایت مطلوب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو، مثلاً: بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت۔ چونکہ باطل کی مدد کے لیے کیے گئے تمام اعمال باطل ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کیے گئے تمام اعمال اکارت ہیں۔ [2]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ وہ لوگ جو اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر نازل کی خاص طور پر جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر نازل کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ کو ادا کرتے ہوئے نیک اعمال کیے﴿ كَفَّرَ﴾ ’’مٹا دے گا‘‘ اللہ تعالیٰ﴿ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ ﴾ ان کے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو۔جب ان کے گناہ مٹا دیے گئے تو انھوں نے دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات پائی۔ ﴿ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے دین و دنیا، ان کے قلوب اور ان کے اعمال کی اصلاح کرے گا، ان کے ثواب کو نشوونما دے کر اس کی اصلاح کرے گا، نیز اللہ تعالیٰ ان کے تمام احوال کی اصلاح کرے گا۔ [3] اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اتَّبَعُوا الۡحَقَّ ﴾’’انھوں نے حق کی اتباع کی‘‘ جو صدق و یقین اور جس پر یہ قرآن عظیم مشتمل ہے ﴿ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ان کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ان کی تربیت کی اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کی پس اللہ تعالیٰ نے حق کے ذریعے سے ان کی تربیت کی، انھوں نے حق کی اتباع کی تب ان کے تمام امور درست ہو گئے۔چونکہ ان کا منتہائے مقصود حق سے متعلق ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والے اللہ کی طرف منسوب اور حق مبین تھا، اس لیے یہ وسیلہ درست اور باقی رہنے والا اور اس کا ثواب بھی باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اہل خیر اور اہل شر کو کھول کھول کر بیان کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کے اوصاف بیان کر دیے جن کے ذریعے سے ان کو پہچانا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان میں امتیاز کیا جاتا ہے ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘
47:4

فَإِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَضَرۡبَ ٱلرِّقَابِ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَثۡخَنتُمُوهُمۡ فَشُدُّواْ ٱلۡوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّۢا بَعۡدُ وَإِمَّا فِدَآءً حَتَّىٰ تَضَعَ ٱلۡحَرۡبُ أَوۡزَارَهَاۚ ذَٰلِكَۖ وَلَوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَٱنتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلَٰكِن لِّيَبۡلُوَاْ بَعۡضَكُم بِبَعۡضٖۗ وَٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ

پس جب ملو تم (جہاد میں) ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا تو(مارو) مارنا گردنیں (ان کی) یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تم ان کو تو مضبوطی سے باندھ دو (قیدیوں کو) بیڑ یوں میں، پھر یا تو (ان پر) احسان کرنا ہے اس کےبعد، اور یا فدیہ (تاوان) لینا ہے یہاں تک کہ رکھ (ڈال) دے لڑائی اپنے ہتھیار(حکم)یہی ہے، اور اگر چاہتا اللہ (تو خود ہی ) البتہ بدلہ لے لیتا ان سے اور لیکن (تمھیں حکم دیا ہے) تا کہ آزمائے وہ تمھارے بعض کو ساتھ بعض کے اور وہ لوگ جو قتل (شہید) کیے گئے اللہ کی راہ میں، پس ہرگز نہیں ضائع کرے گا وہ اعمال ان کے(4) عنقریب وہ رہنمائی کرے گا ان کی اور اصلاح کرے گا ان کے حال کی(5) اور وہ داخل کرے گا انھیں (اس) جنت میں کہ خوب پہچان کروا چکا ہے وہ اس کی ان کو(6) [4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے ارشاد فرماتا ہے:﴿ فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ جب جنگ اور قتال میں تمھارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے۔ ﴿ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ﴾ تو انھیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لیے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہو جائیں گے۔جب وہ تمھاری قید میں آ جائیں، تو تمھیں اختیار ہے کہ تم ان پر احسان کرتے ہوئے مال لیے بغیر چھوڑ دو یا ان سے فدیے لے لویعنی تم ان کو اس وقت تک آزاد نہ کرو جب تک کہ وہ اپنا فدیہ ادا نہ کریں یا ان کے ساتھی فدیہ میں کچھ مال ادا نہ کریں یا اس کے بدلے میں کسی مسلمان قیدی کو، جو ان کی قید میں ہو، آزاد نہ کریں۔ یہ حکم دائمی ہے ﴿ حَتّٰى تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَهَا﴾حتیٰ کہ جنگ باقی نہ رہے اور تمھارے درمیان صلح اور امن قائم ہو جائے۔ کیونکہ ہر مقام کے لیے ایک قول اور ہر صورت حال کے لیے ایک حکم ہے۔ گزشتہ صورت حال اس وقت تھی جب جنگ اور قتال کی حالت تھی۔ جب کسی وقت، کسی سبب کی بنا پر جنگ اور قتال نہ ہو تو قتل اور قیدی بنانے کا فعل بھی نہ ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ حکم مذکور ہے کفار کے ذریعے سے اہل ایمان کی آزمائش، ان کے درمیان گردش ایام اور ایک دوسرے کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بارے میں ہے﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی ایک ہی موقع پر کفار سے انتقام نہ لے تاکہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی اصل ہی ختم نہ ہوجائے ﴿ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾’’لیکن اس نے چاہا کہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرے۔‘‘ تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے تاکہ بندوں کے احوال کھلتے رہیں، سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوتا رہے، جو کوئی ایمان لائے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے، وہ مسلمانوں کے غلبے سے مطیع ہو کر ایمان نہ لائے، کیونکہ یہ تو بہت ہی کمزور ایمان ہے اور ایسا ایمان رکھنے والا شخص امتحان اور آزمائش کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے۔‘‘ ان کے لیے ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے خلاف لڑتے ہیں، جن کے خلاف ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کو باطل اور ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال قبول فرما کر ان کو بڑھائے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ [5]﴿ سَيَهۡدِيۡهِمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کو اس راستے کی طرف چلنے کی توفیق عطا کرے گا جو جنت کی طرف جاتا ہے ﴿ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے احوال اور معاملات کی اصلاح کرے گا، ان کا ثواب درست اور کامل ہو گا، جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تنگی ہو گی نہ تکدر۔ [6]﴿ وَيُدۡخِلُهُمُ الۡؔجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ﴾ ’’اور انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس سے انھیں شناسا کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اولاً ان کے سامنے جنت کے اوصاف اور اس جنت تک پہنچنے کے اعمال بیان کرنے کے ساتھ ان میں ان کا شوق پیدا کر کے اس سے متعارف اور واقف کرایا اور ان جملہ اعمال میں اللہ کے راستے میں شہادت بھی شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو بجا لانے کی توفیق عطا کی اور ان میں رغبت پیدا کی۔ پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی منازل، ان کے اندر موجود نعمتوں اور ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی سے متعارف کرائے گا۔
47:5

سَيَهۡدِيهِمۡ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ

پس جب ملو تم (جہاد میں) ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا تو(مارو) مارنا گردنیں (ان کی) یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تم ان کو تو مضبوطی سے باندھ دو (قیدیوں کو) بیڑ یوں میں، پھر یا تو (ان پر) احسان کرنا ہے اس کےبعد، اور یا فدیہ (تاوان) لینا ہے یہاں تک کہ رکھ (ڈال) دے لڑائی اپنے ہتھیار(حکم)یہی ہے، اور اگر چاہتا اللہ (تو خود ہی ) البتہ بدلہ لے لیتا ان سے اور لیکن (تمھیں حکم دیا ہے) تا کہ آزمائے وہ تمھارے بعض کو ساتھ بعض کے اور وہ لوگ جو قتل (شہید) کیے گئے اللہ کی راہ میں، پس ہرگز نہیں ضائع کرے گا وہ اعمال ان کے(4) عنقریب وہ رہنمائی کرے گا ان کی اور اصلاح کرے گا ان کے حال کی(5) اور وہ داخل کرے گا انھیں (اس) جنت میں کہ خوب پہچان کروا چکا ہے وہ اس کی ان کو(6) [4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے ارشاد فرماتا ہے:﴿ فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ جب جنگ اور قتال میں تمھارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے۔ ﴿ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ﴾ تو انھیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لیے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہو جائیں گے۔جب وہ تمھاری قید میں آ جائیں، تو تمھیں اختیار ہے کہ تم ان پر احسان کرتے ہوئے مال لیے بغیر چھوڑ دو یا ان سے فدیے لے لویعنی تم ان کو اس وقت تک آزاد نہ کرو جب تک کہ وہ اپنا فدیہ ادا نہ کریں یا ان کے ساتھی فدیہ میں کچھ مال ادا نہ کریں یا اس کے بدلے میں کسی مسلمان قیدی کو، جو ان کی قید میں ہو، آزاد نہ کریں۔ یہ حکم دائمی ہے ﴿ حَتّٰى تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَهَا﴾حتیٰ کہ جنگ باقی نہ رہے اور تمھارے درمیان صلح اور امن قائم ہو جائے۔ کیونکہ ہر مقام کے لیے ایک قول اور ہر صورت حال کے لیے ایک حکم ہے۔ گزشتہ صورت حال اس وقت تھی جب جنگ اور قتال کی حالت تھی۔ جب کسی وقت، کسی سبب کی بنا پر جنگ اور قتال نہ ہو تو قتل اور قیدی بنانے کا فعل بھی نہ ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ حکم مذکور ہے کفار کے ذریعے سے اہل ایمان کی آزمائش، ان کے درمیان گردش ایام اور ایک دوسرے کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بارے میں ہے﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی ایک ہی موقع پر کفار سے انتقام نہ لے تاکہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی اصل ہی ختم نہ ہوجائے ﴿ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾’’لیکن اس نے چاہا کہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرے۔‘‘ تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے تاکہ بندوں کے احوال کھلتے رہیں، سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوتا رہے، جو کوئی ایمان لائے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے، وہ مسلمانوں کے غلبے سے مطیع ہو کر ایمان نہ لائے، کیونکہ یہ تو بہت ہی کمزور ایمان ہے اور ایسا ایمان رکھنے والا شخص امتحان اور آزمائش کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے۔‘‘ ان کے لیے ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے خلاف لڑتے ہیں، جن کے خلاف ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کو باطل اور ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال قبول فرما کر ان کو بڑھائے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ [5]﴿ سَيَهۡدِيۡهِمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کو اس راستے کی طرف چلنے کی توفیق عطا کرے گا جو جنت کی طرف جاتا ہے ﴿ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے احوال اور معاملات کی اصلاح کرے گا، ان کا ثواب درست اور کامل ہو گا، جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تنگی ہو گی نہ تکدر۔ [6]﴿ وَيُدۡخِلُهُمُ الۡؔجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ﴾ ’’اور انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس سے انھیں شناسا کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اولاً ان کے سامنے جنت کے اوصاف اور اس جنت تک پہنچنے کے اعمال بیان کرنے کے ساتھ ان میں ان کا شوق پیدا کر کے اس سے متعارف اور واقف کرایا اور ان جملہ اعمال میں اللہ کے راستے میں شہادت بھی شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو بجا لانے کی توفیق عطا کی اور ان میں رغبت پیدا کی۔ پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی منازل، ان کے اندر موجود نعمتوں اور ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی سے متعارف کرائے گا۔
47:6

وَيُدۡخِلُهُمُ ٱلۡجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ

پس جب ملو تم (جہاد میں) ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا تو(مارو) مارنا گردنیں (ان کی) یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تم ان کو تو مضبوطی سے باندھ دو (قیدیوں کو) بیڑ یوں میں، پھر یا تو (ان پر) احسان کرنا ہے اس کےبعد، اور یا فدیہ (تاوان) لینا ہے یہاں تک کہ رکھ (ڈال) دے لڑائی اپنے ہتھیار(حکم)یہی ہے، اور اگر چاہتا اللہ (تو خود ہی ) البتہ بدلہ لے لیتا ان سے اور لیکن (تمھیں حکم دیا ہے) تا کہ آزمائے وہ تمھارے بعض کو ساتھ بعض کے اور وہ لوگ جو قتل (شہید) کیے گئے اللہ کی راہ میں، پس ہرگز نہیں ضائع کرے گا وہ اعمال ان کے(4) عنقریب وہ رہنمائی کرے گا ان کی اور اصلاح کرے گا ان کے حال کی(5) اور وہ داخل کرے گا انھیں (اس) جنت میں کہ خوب پہچان کروا چکا ہے وہ اس کی ان کو(6) [4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے ارشاد فرماتا ہے:﴿ فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ جب جنگ اور قتال میں تمھارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے۔ ﴿ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ﴾ تو انھیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لیے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہو جائیں گے۔جب وہ تمھاری قید میں آ جائیں، تو تمھیں اختیار ہے کہ تم ان پر احسان کرتے ہوئے مال لیے بغیر چھوڑ دو یا ان سے فدیے لے لویعنی تم ان کو اس وقت تک آزاد نہ کرو جب تک کہ وہ اپنا فدیہ ادا نہ کریں یا ان کے ساتھی فدیہ میں کچھ مال ادا نہ کریں یا اس کے بدلے میں کسی مسلمان قیدی کو، جو ان کی قید میں ہو، آزاد نہ کریں۔ یہ حکم دائمی ہے ﴿ حَتّٰى تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَهَا﴾حتیٰ کہ جنگ باقی نہ رہے اور تمھارے درمیان صلح اور امن قائم ہو جائے۔ کیونکہ ہر مقام کے لیے ایک قول اور ہر صورت حال کے لیے ایک حکم ہے۔ گزشتہ صورت حال اس وقت تھی جب جنگ اور قتال کی حالت تھی۔ جب کسی وقت، کسی سبب کی بنا پر جنگ اور قتال نہ ہو تو قتل اور قیدی بنانے کا فعل بھی نہ ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ حکم مذکور ہے کفار کے ذریعے سے اہل ایمان کی آزمائش، ان کے درمیان گردش ایام اور ایک دوسرے کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بارے میں ہے﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی ایک ہی موقع پر کفار سے انتقام نہ لے تاکہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی اصل ہی ختم نہ ہوجائے ﴿ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾’’لیکن اس نے چاہا کہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرے۔‘‘ تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے تاکہ بندوں کے احوال کھلتے رہیں، سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوتا رہے، جو کوئی ایمان لائے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے، وہ مسلمانوں کے غلبے سے مطیع ہو کر ایمان نہ لائے، کیونکہ یہ تو بہت ہی کمزور ایمان ہے اور ایسا ایمان رکھنے والا شخص امتحان اور آزمائش کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے۔‘‘ ان کے لیے ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے خلاف لڑتے ہیں، جن کے خلاف ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کو باطل اور ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال قبول فرما کر ان کو بڑھائے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ [5]﴿ سَيَهۡدِيۡهِمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کو اس راستے کی طرف چلنے کی توفیق عطا کرے گا جو جنت کی طرف جاتا ہے ﴿ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے احوال اور معاملات کی اصلاح کرے گا، ان کا ثواب درست اور کامل ہو گا، جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تنگی ہو گی نہ تکدر۔ [6]﴿ وَيُدۡخِلُهُمُ الۡؔجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ﴾ ’’اور انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس سے انھیں شناسا کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اولاً ان کے سامنے جنت کے اوصاف اور اس جنت تک پہنچنے کے اعمال بیان کرنے کے ساتھ ان میں ان کا شوق پیدا کر کے اس سے متعارف اور واقف کرایا اور ان جملہ اعمال میں اللہ کے راستے میں شہادت بھی شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو بجا لانے کی توفیق عطا کی اور ان میں رغبت پیدا کی۔ پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی منازل، ان کے اندر موجود نعمتوں اور ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی سے متعارف کرائے گا۔
47:7

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَنصُرُواْ ٱللَّهَ يَنصُرۡكُمۡ وَيُثَبِّتۡ أَقۡدَامَكُمۡ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم مدد کرو گے اللہ (کے دین) کی تو وہ مدد کرے گا تمھاری اور ثابت رکھے گا قدم تمھارے(7) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے ان کے لیے، اور ضائع کر دے گا وہ (اللہ) اعمال ان کے(8) یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جونازل کی اللہ نے، پس برباد کر دیے اس نے اعمال ان کے(9) [7] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ طمانیت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔ [8] رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤ ں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ﴿ وَاَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطل کر دے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کا مکر و فریب انھی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے جن کے بارے میں انھیں زعم تھا کہ یہ اعمال انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔ [9] کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ﴾ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔‘‘
47:8

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَتَعۡسٗا لَّهُمۡ وَأَضَلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم مدد کرو گے اللہ (کے دین) کی تو وہ مدد کرے گا تمھاری اور ثابت رکھے گا قدم تمھارے(7) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے ان کے لیے، اور ضائع کر دے گا وہ (اللہ) اعمال ان کے(8) یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جونازل کی اللہ نے، پس برباد کر دیے اس نے اعمال ان کے(9) [7] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ طمانیت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔ [8] رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤ ں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ﴿ وَاَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطل کر دے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کا مکر و فریب انھی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے جن کے بارے میں انھیں زعم تھا کہ یہ اعمال انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔ [9] کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ﴾ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔‘‘
47:9

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَرِهُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأَحۡبَطَ أَعۡمَٰلَهُمۡ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم مدد کرو گے اللہ (کے دین) کی تو وہ مدد کرے گا تمھاری اور ثابت رکھے گا قدم تمھارے(7) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے ان کے لیے، اور ضائع کر دے گا وہ (اللہ) اعمال ان کے(8) یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جونازل کی اللہ نے، پس برباد کر دیے اس نے اعمال ان کے(9) [7] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ طمانیت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔ [8] رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤ ں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ﴿ وَاَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطل کر دے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کا مکر و فریب انھی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے جن کے بارے میں انھیں زعم تھا کہ یہ اعمال انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔ [9] کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ﴾ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔‘‘
47:10

۞أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ دَمَّرَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡۖ وَلِلۡكَٰفِرِينَ أَمۡثَٰلُهَا

کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پھر دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ تباہی ڈال دی اللہ نے ان پر، اور کافروں کے لیے اس جیسی سزائیں ہیں (10) یہ اس لیے کہ بلاشبہ اللہ مدد گار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، اور بے شک کافر لوگ، نہیں کوئی مددگار ان کا (11) [10] رسول مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے کیوں نہیں؟ ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔‘‘ کیونکہ وہ اپنے انجام کو بدترین انجام پائیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے دائیں بائیں جدھر بھی دیکھیں گے وہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پائیں گے کہ وہ ہلاک ہو گئے، ان کے کفر اور تکذیبِ انبیاء نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، ان کا نام و نشان مٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے اموال اور گھر بار کو تباہ و برباد کر دیا بلکہ ان کے اعمال اور ان کی سازشوں کا تار و پود بکھیر دیا۔ ہر زمان و مکان میں کافروں کا اسی قسم کا برا انجام ہوتا ہے، اور انھیں بری سزائیں ملتی ہیں، رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب سے نجات دیتا ہے اور انھیں بے پایاں ثواب عطا کرتا ہے۔ [11]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوۡلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا والی و مددگار ہے۔‘‘ اس نے اپنی رحمت سے ان کی سر پرستی کی، انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لایا ان کی جزا اور فتح و نصرت کی ذمہ داری لی۔ ﴿ وَاَنَّ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی سر پرستی کے تعلق کو قطع کر دیا اور اپنے آپ پر اس کی رحمت کے دروازے بند کر لیے۔ ﴿ لَا مَوۡلٰى لَهُمۡ﴾ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں ہے جو سلامتی کے راستوں کی طرف ان کی راہ نمائی کرے، انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا سے بچائے بلکہ ان کے سر پرست تو طاغوت ہیں جو انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے آتے ہیں۔ یہی لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
47:11

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ مَوۡلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَأَنَّ ٱلۡكَٰفِرِينَ لَا مَوۡلَىٰ لَهُمۡ

کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پھر دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ تباہی ڈال دی اللہ نے ان پر، اور کافروں کے لیے اس جیسی سزائیں ہیں (10) یہ اس لیے کہ بلاشبہ اللہ مدد گار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، اور بے شک کافر لوگ، نہیں کوئی مددگار ان کا (11) [10] رسول مصطفیﷺ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے کیوں نہیں؟ ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔‘‘ کیونکہ وہ اپنے انجام کو بدترین انجام پائیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے دائیں بائیں جدھر بھی دیکھیں گے وہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پائیں گے کہ وہ ہلاک ہو گئے، ان کے کفر اور تکذیبِ انبیاء نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، ان کا نام و نشان مٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے اموال اور گھر بار کو تباہ و برباد کر دیا بلکہ ان کے اعمال اور ان کی سازشوں کا تار و پود بکھیر دیا۔ ہر زمان و مکان میں کافروں کا اسی قسم کا برا انجام ہوتا ہے، اور انھیں بری سزائیں ملتی ہیں، رہے اہل ایمان، تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب سے نجات دیتا ہے اور انھیں بے پایاں ثواب عطا کرتا ہے۔ [11]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوۡلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا والی و مددگار ہے۔‘‘ اس نے اپنی رحمت سے ان کی سر پرستی کی، انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لایا ان کی جزا اور فتح و نصرت کی ذمہ داری لی۔ ﴿ وَاَنَّ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی سر پرستی کے تعلق کو قطع کر دیا اور اپنے آپ پر اس کی رحمت کے دروازے بند کر لیے۔ ﴿ لَا مَوۡلٰى لَهُمۡ﴾ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں ہے جو سلامتی کے راستوں کی طرف ان کی راہ نمائی کرے، انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا سے بچائے بلکہ ان کے سر پرست تو طاغوت ہیں جو انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے آتے ہیں۔ یہی لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
47:12

إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأۡكُلُونَ كَمَا تَأۡكُلُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ وَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡ

بلاشبہ اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، باغات میں، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ فائدہ اٹھاتے ہیں (دنیا ہی کا)، اور وہ کھاتے ہیں جس طرح کھاتے ہیں چوپائے اور آگ ہی ٹھکانا ہے ان کا (12) [12] اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا سر پرست ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں داخل کرے گا، جہاں نہریں بہتی ہوں گی جو خوبصورت باغات، ہر قسم کے تر و تازہ پھل اور میوے دار درختوں کو سیراب کریں گی۔ چونکہ کفار کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں، اس لیے فرمایا کہ ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ بنابریں وہ مروت کی صفات سے متصف ہو سکے نہ انسانی صفات سے بلکہ وہ نچلی سطح پر گر کر چوپایوں کی مانند ہو گئے ہیں جو عقل سے محروم ہوتے ہیں اور ان میں کوئی فضیلت نہیں ہوتی۔ ان کا سب سے بڑا مقصد صرف دنیا کی لذات و شہوات سے متمتع ہونا ہے۔ اس لیے آپ دیکھیں گے کہ ان کی ظاہری و باطنی حرکات انھی لذات و شہوات کے دائرہ میں ہوتی ہیں اور ان امور کے لیے نہیں ہوتیں جن میں خیر اور سعادت ہوتی ہے۔ بنابریں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا، یعنی جہنم کے اندر ان کے لیے گھر تیار کیا گیا ہو گا۔ جہاں ان کے عذاب میں کبھی انقطاع واقع نہیں ہو گا۔
47:13

وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةٗ مِّن قَرۡيَتِكَ ٱلَّتِيٓ أَخۡرَجَتۡكَ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡ فَلَا نَاصِرَ لَهُمۡ

اور کتنی ہی بستیاں، وہ شدید تر تھیں قوت میں آپ کی (اس) بستی (مکہ) سے، جس سے نکالا ہے اس (کے رہنے والوں) نے آپ کو، ہلاک کر دیا ہم نے ان کو، پس نہیں تھا کوئی (بھی) مدد کرنے والا ان کی (13) [13] تکذیب کرنے والوں کی بستیوں میں سے کتنی ہیں جو اموال و اولاد، اعوان و انصار اور عمارات و آلات کے لحاظ سے آپ کی بستی سے زیادہ طاقتور تھیں ﴿اَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾جب انھوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، ان کو وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ دیا نہ ہم نے ان کا کوئی مددگار پایا نہ ان کی قوت اور طاقت اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کام آسکی۔ تب آپ کی بستی والے ان کمزور لوگوں کا کیا حال ہے، جب انھوں نے آپ کو آپ کے وطن سے نکال دیا، آپ کی تکذیب کی، آپ سے عداوت رکھی حالانکہ آپﷺ افضل المرسلین اور خیرالاولین ولآخرین ہیں؟ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو رحمت اور ہر کافر اور منکرِ حق پر نرمی کے ساتھ مبعوث نہ کیا ہوتا، تو کیا یہ لوگ ہلاکت اور سزا کے دوسروں سے زیادہ مستحق نہیں؟
47:14

أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّهِۦ كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم

کیا پس جو شخص کہ وہ ہے اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے، مانند اس شخص کے ہے کہ مزین کر دی گئی اس کے لیے بدعملی اس کی اور پیروی کی انھوں نے اپنی خواہشات کی؟ (14) [14] یعنی وہ شخص جو اپنے امور دین میں علم و عمل کے اعتبار سے بصیرت سے بہرہ ور ہے، علم حق سے سرفراز اور اس کی اتباع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ جو وعدہ کر رکھا ہے، اس پر اسے پورا یقین ہے کیا ایسے شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو دل کا اندھا ہے، جس نے حق کو چھوڑ کر اسے گم کر لیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے بغیر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی۔ بایں ہمہ وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے؟ دونوں فریقوں کے درمیان کتنا فرق اور دونوں گروہوں، یعنی اہل حق اور اہل باطل کے درمیان کتنا تفاوت ہے۔
47:15

مَّثَلُ ٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۖ فِيهَآ أَنۡهَٰرٞ مِّن مَّآءٍ غَيۡرِ ءَاسِنٖ وَأَنۡهَٰرٞ مِّن لَّبَنٖ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهُۥ وَأَنۡهَٰرٞ مِّنۡ خَمۡرٖ لَّذَّةٖ لِّلشَّـٰرِبِينَ وَأَنۡهَٰرٞ مِّنۡ عَسَلٖ مُّصَفّٗىۖ وَلَهُمۡ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَمَغۡفِرَةٞ مِّن رَّبِّهِمۡۖ كَمَنۡ هُوَ خَٰلِدٞ فِي ٱلنَّارِ وَسُقُواْ مَآءً حَمِيمٗا فَقَطَّعَ أَمۡعَآءَهُمۡ

مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیے گئے متقی لوگ، (یہ ہے)، اس میں نہریں ہیں (ایسے) پانی کی کہ نہیں وہ بدلنے والا اور نہریں ہیں ایسے دودھ کی کہ نہیں تبدیل ہوا (کبھی) ذائقہ اس کا اور نہریں ہیں ایسی شراب کی جو لذیذ ہے پینے والوں کے لیے اور نہریں ہیں شہدکی جو صاف کیا ہوا ہے اور ان کے لیے اس میں ہرقسم کے پھل ہوں گے اور مغفرت ہو گی ان کے رب (کی طرف) سے، (کیا یہ لوگ) مانند ان لوگوں کے ہو سکتے ہیں کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں آگ میں، اور وہ پلائے جائیں گے پانی سخت گرم کھولتا ہوا؟ پس وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ان کی آنتیں (15) [15] یعنی جنت جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کے لیے تیار کیا جو اس کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی رضا کی پیروی کی کہ یہ اس کی صفت اور اس کا وصف جمیل ہے ﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ﴾ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو کسی مضر صحت امر، بدبو، حرارت اور گدلے پن کی وجہ سے متغیر نہ ہو گا بلکہ وہ صاف ترین اور شیریں ترین پانی ہو گا، اس کی خوشبو بہترین اور پینے میں نہایت لذیذ ہو گا۔ ﴿ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ﴾ ’’اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلتا‘‘ یعنی خراب اور کھٹا ہو جانے کے باعث اس کا ذائقہ متغیر نہ ہوا ہو گا۔ ﴿ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ﴾ ’’اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لیے بڑی لذت ہے‘‘ یعنی اس شراب سے بہت زیادہ لذت حاصل ہو گی، دنیا کی شراب کی مانند نہیں کہ جس کا ذائقہ نہایت ناخوشگوار ہوتا ہے، جو سر کو چکرا دیتی ہے اور عقل کو خراب کر دیتی ہے ﴿ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾’’اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہے۔‘‘ یعنی یہ شہد موم اور دیگر ہر قسم کے میل کچیل سے پاک ہو گا۔﴿ وَلَهُمۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ﴾ جنت میں کھجور، انگور، سیب، انار، لیموں، انجیر اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے پھل ہوں گے جن کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔ یہ تمام محبوب و مطلوب چیزیں انھیں حاصل ہوں گی۔ پھر فرمایا:﴿ وَمَغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ﴾ ’’اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے۔‘‘ جس سے وہ امور زائل ہوجائیں گے جو ڈرانے والے ہیں۔پس یہ لوگ بہتر ہیں یا وہ شخص جو ہمیشہ آگ میں رہے گا، جس کی حرارت نہایت شدید ہو گی اور اس کا عذاب کئی گنا ہو گا ﴿وَسُقُوۡا﴾ ’’اور انھیں پلایا جائے گا۔‘‘ یعنی جہنم میں ﴿ مَآءً حَمِيۡمًا﴾ سخت کھولتا ہوا پانی ﴿ فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَهُمۡ﴾ جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے دونوں گھروں یعنی جنت اور جہنم، دونوں قسم کی جزاؤ ں، دونوں قسم کے عمل کرنے والوں اور دونوں قسم کے اعمال میں تفاوت رکھا۔
47:16

وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُ إِلَيۡكَ حَتَّىٰٓ إِذَا خَرَجُواْ مِنۡ عِندِكَ قَالُواْ لِلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ ءَانِفًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡ

اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف، یہاں تک کہ جب وہ نکلتے ہیں آپ کے پاس سے، تو کہتے ہیں ان لوگوں سے کہ وہ دیے گئے علم، کیا کہا تھا اس (پیغمبر) نے ابھی؟ یہی وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، اور پیروی کی انھوں نے اپنی خواہشات کی (16) اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی، اللہ نے زیادہ کیا ان کو ہدایت میں اور دیا انھیں تقویٰ ان کا (17) [16] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں ﴿ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُ اِلَيۡكَ﴾ کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے سنتے ہیں، قبول کرنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے دل اس سے روگرداں ہوتے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں، تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، ان سے کہتے ہیں۔‘‘ جو کچھ آپ نے کہا اور جو کچھ انھوں نے سنا جس میں انھیں کوئی رغبت نہ تھی، اس کے بارے میں استفہام کے انداز میں کہتے ہیں:﴿ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا﴾ یعنی ابھی ابھی آپﷺ نے کیا کہا؟ یہ ان کا انتہائی مذموم رویہ ہے، کیونکہ اگر وہ بھلائی کے خواہش مند ہوتے تو آپ کی بات غور سے سنتے، ان کے دل اس بات کو محفوظ کر لیتے، ان کے جوارح اس کی اطاعت میں سرنگوں ہوتے، مگر ان کا حال تو اس کے برعکس تھا، اس لیے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، ان کے لیے بھلائی کے تمام دروازے بند کر دیے، کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی جن میں وہ محض باطل کی خواہش رکھتے تھے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ لوگوں کا حال بیان کیا۔ فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا﴾ وہ لوگ جنھوں نے ایمان، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کے ذریعے سے ہدایت پائی ﴿ زَادَهُمۡ هُدًى﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر و توقیر کے لیے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا ﴿ وَّاٰتٰىهُمۡ تَقۡوٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔‘‘ یعنی انھیں خیر کی توفیق بخشی اور شر سے ان کی حفاظت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دو قسم کی جزا کا ذکر کیا ہے یعنی علم نافع اور عمل صالح۔
47:17

وَٱلَّذِينَ ٱهۡتَدَوۡاْ زَادَهُمۡ هُدٗى وَءَاتَىٰهُمۡ تَقۡوَىٰهُمۡ

اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف، یہاں تک کہ جب وہ نکلتے ہیں آپ کے پاس سے، تو کہتے ہیں ان لوگوں سے کہ وہ دیے گئے علم، کیا کہا تھا اس (پیغمبر) نے ابھی؟ یہی وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، اور پیروی کی انھوں نے اپنی خواہشات کی (16) اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی، اللہ نے زیادہ کیا ان کو ہدایت میں اور دیا انھیں تقویٰ ان کا (17) [16] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں ﴿ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُ اِلَيۡكَ﴾ کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے سنتے ہیں، قبول کرنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے دل اس سے روگرداں ہوتے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں، تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، ان سے کہتے ہیں۔‘‘ جو کچھ آپ نے کہا اور جو کچھ انھوں نے سنا جس میں انھیں کوئی رغبت نہ تھی، اس کے بارے میں استفہام کے انداز میں کہتے ہیں:﴿ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا﴾ یعنی ابھی ابھی آپﷺ نے کیا کہا؟ یہ ان کا انتہائی مذموم رویہ ہے، کیونکہ اگر وہ بھلائی کے خواہش مند ہوتے تو آپ کی بات غور سے سنتے، ان کے دل اس بات کو محفوظ کر لیتے، ان کے جوارح اس کی اطاعت میں سرنگوں ہوتے، مگر ان کا حال تو اس کے برعکس تھا، اس لیے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، ان کے لیے بھلائی کے تمام دروازے بند کر دیے، کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی جن میں وہ محض باطل کی خواہش رکھتے تھے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ لوگوں کا حال بیان کیا۔ فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا﴾ وہ لوگ جنھوں نے ایمان، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کے ذریعے سے ہدایت پائی ﴿ زَادَهُمۡ هُدًى﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر و توقیر کے لیے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا ﴿ وَّاٰتٰىهُمۡ تَقۡوٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔‘‘ یعنی انھیں خیر کی توفیق بخشی اور شر سے ان کی حفاظت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دو قسم کی جزا کا ذکر کیا ہے یعنی علم نافع اور عمل صالح۔
47:18

فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗۖ فَقَدۡ جَآءَ أَشۡرَاطُهَاۚ فَأَنَّىٰ لَهُمۡ إِذَا جَآءَتۡهُمۡ ذِكۡرَىٰهُمۡ

سو نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا یہ کہ آئے ان کے پاس اچانک، پس تحقیق آ چکی ہیں نشانیاں اس کی، پس کہاں ہو گا ان کے لیے، جب آ جائے گی ان کے پاس قیامت، نصیحت (حاصل کرنا) ان کا؟ (18) [18] کیا یہ اہل تکذیب منتظر ہیں ﴿ اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً﴾ کہ قیامت کی گھڑی ان کے پاس آئے، یعنی اچانک آ جائے انھیں شعور بھی نہ ہو ﴿ فَقَدۡ جَآءَؔ اَشۡرَاطُهَا﴾ یعنی قیامت کی وہ علامات آ چکی ہیں جو اس کے قریب آجانے پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ فَاَنّٰى لَهُمۡ اِذَا جَآءَتۡهُمۡ ذِكۡرٰىهُمۡ﴾ یعنی جب قیامت کی گھڑی آ جائے گی، ان کی مدت مقررہ اختتام کو پہنچ جائے گی تو ان کا نصیحت پکڑنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہونا کس کام آئے گا؟ یہ سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل گیا، نصیحت پکڑنے کا وقت گزر گیا، انھوں نے وہ عمر گزار لی، جس کے اندر نصیحت پکڑی جا سکتی تھی حالانکہ ان کے پاس برے انجام سے ڈرانے والا بھی آیا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ موت کے اچانک آ جانے سے پہلے پہلے، اس کی تیاری کر لینی چاہیے، کیونکہ انسان کی موت ہی اس کے لیے قیامت کی گھڑی ہے۔
47:19

فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ وَمَثۡوَىٰكُمۡ

پس آپ جان لیجیے کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ ہی اور بخشش مانگیے اپنے گناہ کی اور مومن مَردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی اور اللہ جانتا ہے چلنا پھرنا تمھارا اور ٹھکانا تمھارا(19) [19] علم میں اقرارِ قلب اور اس معنی کی معرفت، جو علم اس سے طلب کرتا ہے، لازمی امر ہے اور علم کی تکمیل یہ ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کیا جائے۔ اور یہ علم جس کے حصول کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم ہے اور ہر انسان پر فرض عین ہے اور کسی پر بھی، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ساقط نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کے لیے اس کا حصول ضروری ہے۔ اس علم کے حصول کا طریق کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، چند امور پر مبنی ہے:(۱)سب سے بڑا امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال میں تدبر کیا جائے جو اس کے کمال اور اس کی عظمت و جلال پر دلالت کرتے ہیں۔ کیونکہ اسماء و صفات میں تدبر، عبادت میں کوشش صرف کرنے اور رب کامل کے لیے تعبد کا موجب ہوتا ہے جو ہر قسم کی حمد و مجد اور جلال و جمال کا مالک ہے۔(۲)اس حقیقت کا علم کہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے، اس کے ذریعے سے اس بات کا علم حاصل ہو گا کہ وہ الوہیت میں بھی متفرد ہے۔(۳)اس امر کا علم کہ ظاہری اور باطنی، دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کرنے میں وہ متفرد ہے۔ یہ علم دل کے اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے، اس سے محبت کرنے، اس اکیلے کی عبادت کرنے کا موجب بنتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔(۴)ہم یہ جو دیکھتے اور سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لیے، جو اس کی توحید کو قائم کرتے ہیں، فتح و نصرت اور دنیاوی نعمتیں ہیں اور اس کے دشمن مشرکین کے لیے سزا اور عذاب ہے… یہ چیز اس علم کے حصول کی طرف دعوت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور تمام تر عبادت کا وہی مستحق ہے۔(۵)ان بتوں اور خود ساختہ ہم سروں کے اوصاف کی معرفت، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے اور انھیں معبود بنا لیا گیا ہے، کہ یہ ہر لحاظ سے ناقص اور بالذات محتاج ہیں، یہ خود اپنے لیے اور اپنے عبادت گزاروں کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، ان کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ یہ دوبارہ زندگی ہی عطا کر سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے جو ان کی عبادت کرتے ہیں بھلائی عطا کرنے اور شر کو دور کرنے میں ان کے ذرہ بھر کام نہیں آ سکتے۔ کیونکہ ان اوصاف کا علم، اس حقیقت کے علم کا موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، نیز یہ علم اللہ کے ماسوا کی الوہیت کے بطلان کا موجب ہے۔(۶)حقیقت توحید پر اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں اتفاق کرتی ہیں۔(۷)اللہ تعالیٰ کے خاص بندے، جو اخلاق، عقل، رائے، صواب اور علم کے اعتبار سے اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ کامل ہیں، یعنی انبیاء و مرسلین اور علمائے ربانی، اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔(۸)اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو دلائل افقیہ اور نفسیہ قائم کیے ہیں، جو توحید الٰہی پر سب سے بڑی دلیل ہیں، اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کی باریک کاری گری، اس کی عجیب و غریب حکمتوں اور اس کی انوکھی تخلیق کا اعلان کرتے ہیں۔یہ وہ طریقے ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کثرت سے اس امر کی دعوت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، ان کو اپنی کتاب میں نمایاں طور پر بیان کیا ہے اور بار بار ان کا اعادہ کیا ہے۔ ان میں سے بعض پر غور و فکر کرنے سے بندے کو علم اور یقین حاصل ہونا، ایک لازمی امر ہے، تب بندے کو کیوں کر علم اور یقین حاصل نہ ہو گا جب دلائل ہر جانب سے مجتمع اور متفق ہو کر توحید پر دلالت کرتے ہوں۔ یہاں بندۂ مومن کے دل میں، توحید پر ایمان اور اس کا علم راسخ ہو کر پہاڑوں کی مانند بن جاتے ہیں، شبہات و خیالات انھیں متزلزل نہیں کر سکتے، باطل اور شبہات کے بار بار وارد ہونے سے ان کی نشوونما اور ان کے کمال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اگر آپ اس عظیم دلیل اور بہت بڑے معاملے کو دیکھیں اور وہ ہے قرآن عظیم میں تدبر اور اس کی آیات میں غور و فکر... تو یہ علم توحید تک پہنچنے کے لیے بہت بڑا دروازہ ہے، اس کے ذریعے سے توحید کی وہ تفاصیل حاصل ہوتی ہیں جو کسی دوسرے طریقے سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔﴿ وَاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢۡبِكَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی بخشش طلب کیجیے، یعنی توبہ مغفرت کی دعا، ایسی نیکیوں کے ذریعے سے جو گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، گناہوں کو ترک اور جرائم کو معاف کر کے مغفرت کے اسباب پر عمل کیجیے۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح بخشش طلب کیجیے ﴿لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ﴾ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے کیونکہ وہ اپنے ایمان کے سبب سے، ہر مسلمان مرد اور عورت پر حق رکھتے ہیں اور ان کے جملہ حقوق میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ ان کے لیے دعا کی جائے اور ان کے گناہوں کی بخشش مانگی جائے۔جب آپ ان کے لیے استغفار پر مامور ہیں جو ان سے گناہوں اور ان کی سزا کے ازالے کو متضمن ہے تب اس کے لوازم میں سے ہے کہ ان کی خیر خواہی کی جائے، ان کے لیے بھلائی کو پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، ان کے لیے برائی کو ناپسند کریں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں، انھیں ان کاموں کا حکم دیں جن میں ان کے لیے بھلائی ہے اور ان کاموں سے روکیں جن سے ان کو ضرر پہنچتا ہے، ان کی کوتاہیوں اور عیبوں کو معاف کر دیں، ان کے ساتھ اس طرح اکٹھے رہنے کی خواہش رکھیں جس سے ان کے دل اکٹھے رہیں، اور ان کے درمیان کینہ اور بغض زائل ہو جو عداوت اور ایسی مخالفت کا سبب بنتا ہے جس سے ان کے گناہ اور معاصی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ حرکات و تصرفات اور تمھاری آمدورفت کو خوب جانتا ہے۔ ﴿وَمَثۡوٰىكُمۡ﴾ اور تمھاری رہائش کی جگہ کو بھی جانتا ہے۔ جہاں تم ٹھہرتے ہو وہ تمھاری حرکات و سکنات کو جانتا ہے۔ وہ تمھیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔
47:20

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُورَةٞۖ فَإِذَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ مُّحۡكَمَةٞ وَذُكِرَ فِيهَا ٱلۡقِتَالُ رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يَنظُرُونَ إِلَيۡكَ نَظَرَ ٱلۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡمَوۡتِۖ فَأَوۡلَىٰ لَهُمۡ

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23) [20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔ [21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔ [22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔ [23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
47:21

طَاعَةٞ وَقَوۡلٞ مَّعۡرُوفٞۚ فَإِذَا عَزَمَ ٱلۡأَمۡرُ فَلَوۡ صَدَقُواْ ٱللَّهَ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23) [20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔ [21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔ [22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔ [23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
47:22

فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23) [20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔ [21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔ [22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔ [23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
47:23

أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فَأَصَمَّهُمۡ وَأَعۡمَىٰٓ أَبۡصَٰرَهُمۡ

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23) [20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔ [21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔ [22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔ [23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔
47:24

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَآ

کیا پس نہیں غور وفکر کرتے وہ لوگ قرآن میں یا دلوں پر تالے لگے ہیں ان کے؟ (24) [24] کتاب اللہ سے روگردانی کرنے والے یہ لوگ، کتاب اللہ میں تدبر اور غور و فکر کیوں نہیں کرتے، جیسا کہ غور و فکر کرنے کا حق ہے، اگر انھوں نے اس میں اچھی طرح تدبر کیا ہوتا تو یہ ہر بھلائی کی طرف ان کی راہ نمائی کرتی، انھیں ہر برائی سے بچاتی، ان کے دلوں کو ایمان سے اور ان کی عقلوں کو ایقان سے لبریز کر دیتی، وہ انھیں بلند مقاصد اور انمول عطیات تک پہنچاتی، ان کے سامنے وہ راستہ روشن کر دیتی جو انھیں اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز اس جنت کی تکمیل کرنے والے امور پر اور اس کو فاسد کرنے والے امور پر دلالت کرتی، انھیں وہ راستہ بھی دکھاتی جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف جاتا ہے اور یہ بھی بتاتی کہ کس چیز کے ذریعے سے اس سے بچا جائے۔ وہ انھیں ان کے رب، اس کے اسماء و صفات اور اس کے احسان کی معرفت عطا کرتی، ان میں بے پایاں ثواب حاصل کرنے کا شوق پیدا کرتی اور انھیں درد ناک عذاب سے ڈراتی۔ ﴿ اَمۡ عَلٰى قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُهَا﴾ ’’یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔‘‘ یعنی دلوں میں روگردانی، غفلت اور اعتراضات کوٹ کوٹ کر بھر دیے گئے ، پھر ان کو بند کر کے ان پر تالے لگا دیے پس ان میں بھلائی کبھی داخل نہیں ہو گی؟ فی الواقع ان کا یہی حال ہے۔
47:25

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱرۡتَدُّواْ عَلَىٰٓ أَدۡبَٰرِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡهُدَى ٱلشَّيۡطَٰنُ سَوَّلَ لَهُمۡ وَأَمۡلَىٰ لَهُمۡ

بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28) [25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ [26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔ [27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘ [28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔
47:26

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لِلَّذِينَ كَرِهُواْ مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ سَنُطِيعُكُمۡ فِي بَعۡضِ ٱلۡأَمۡرِۖ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِسۡرَارَهُمۡ

بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28) [25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ [26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔ [27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘ [28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔
47:27

فَكَيۡفَ إِذَا تَوَفَّتۡهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ

بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28) [25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ [26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔ [27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘ [28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔
47:28

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱتَّبَعُواْ مَآ أَسۡخَطَ ٱللَّهَ وَكَرِهُواْ رِضۡوَٰنَهُۥ فَأَحۡبَطَ أَعۡمَٰلَهُمۡ

بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28) [25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ [26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔ [27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘ [28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔
47:29

أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَن لَّن يُخۡرِجَ ٱللَّهُ أَضۡغَٰنَهُمۡ

کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے یہ کہ ہرگز نہیں نکالے (ظاہر کرے) گا اللہ کینے ان کے؟(29) اور اگر ہم چاہتے (تو) البتہ ہم دکھاتے آپ کو وہ (منافق) ، پھر ضرور پہچان لیتے آپ ان کو ان کے چہروں کی علامات سے اور یقیناً آپ پہچان لیں گے ان کو انداز گفتگو سے اور اللہ جانتا ہے اعمال تمھارے (30) اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تمھیں یہاں تک کہ معلوم کر لیں ہم مجاہدین کو تم میں سے اورصبر کرنے والوں کو اور جانچ لیں ہم حالات تمھارے (31) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انھوں نے خیال کیا۔‘‘ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کر دیتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہے ۔﴿اَضۡغَانَهُمۡ﴾ وہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے جو کینہ اور عداوت ہے، اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیقی مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلا نے الٹے پاؤ ں پھیر دیا اور اس نے اس پر صبر نہ کیا، اور جب اس پر امتحان آیا تو اس نے جزع فزع کیا اور اس کا ایمان کمزور ہو گیا۔ اس کے دل میں جو بغض اور کینہ تھا ظاہر ہو گیا اور یوں اس کا نفاق ظاہر ہو گیا۔ یہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے۔ [30] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ نَشَآءُ لَاَرَيۡنٰـكَهُمۡ۠ فَلَعَرَفۡتَهُمۡ۠ بِسِيۡمٰىهُمۡ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انھیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔‘‘ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں ﴿ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِيۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ﴾ ’’اور یقیناً آپ انھیں ان کی بات کے انداز سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شر دل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کر دیتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔ [31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبۡلُوَنَّـكُمۡ﴾ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰى نَعۡلَمَ الۡمُجٰؔهِدِيۡنَ مِنۡكُمۡ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ١ۙ وَنَبۡلُوَاۡ اَخۡبَارَؔكُمۡ﴾ ’’تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔
47:30

وَلَوۡ نَشَآءُ لَأَرَيۡنَٰكَهُمۡ فَلَعَرَفۡتَهُم بِسِيمَٰهُمۡۚ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِي لَحۡنِ ٱلۡقَوۡلِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ أَعۡمَٰلَكُمۡ

کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے یہ کہ ہرگز نہیں نکالے (ظاہر کرے) گا اللہ کینے ان کے؟(29) اور اگر ہم چاہتے (تو) البتہ ہم دکھاتے آپ کو وہ (منافق) ، پھر ضرور پہچان لیتے آپ ان کو ان کے چہروں کی علامات سے اور یقیناً آپ پہچان لیں گے ان کو انداز گفتگو سے اور اللہ جانتا ہے اعمال تمھارے (30) اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تمھیں یہاں تک کہ معلوم کر لیں ہم مجاہدین کو تم میں سے اورصبر کرنے والوں کو اور جانچ لیں ہم حالات تمھارے (31) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انھوں نے خیال کیا۔‘‘ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کر دیتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہے ۔﴿اَضۡغَانَهُمۡ﴾ وہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے جو کینہ اور عداوت ہے، اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیقی مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلا نے الٹے پاؤ ں پھیر دیا اور اس نے اس پر صبر نہ کیا، اور جب اس پر امتحان آیا تو اس نے جزع فزع کیا اور اس کا ایمان کمزور ہو گیا۔ اس کے دل میں جو بغض اور کینہ تھا ظاہر ہو گیا اور یوں اس کا نفاق ظاہر ہو گیا۔ یہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے۔ [30] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ نَشَآءُ لَاَرَيۡنٰـكَهُمۡ۠ فَلَعَرَفۡتَهُمۡ۠ بِسِيۡمٰىهُمۡ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انھیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔‘‘ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں ﴿ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِيۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ﴾ ’’اور یقیناً آپ انھیں ان کی بات کے انداز سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شر دل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کر دیتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔ [31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبۡلُوَنَّـكُمۡ﴾ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰى نَعۡلَمَ الۡمُجٰؔهِدِيۡنَ مِنۡكُمۡ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ١ۙ وَنَبۡلُوَاۡ اَخۡبَارَؔكُمۡ﴾ ’’تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔
47:31

وَلَنَبۡلُوَنَّكُمۡ حَتَّىٰ نَعۡلَمَ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ مِنكُمۡ وَٱلصَّـٰبِرِينَ وَنَبۡلُوَاْ أَخۡبَارَكُمۡ

کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے یہ کہ ہرگز نہیں نکالے (ظاہر کرے) گا اللہ کینے ان کے؟(29) اور اگر ہم چاہتے (تو) البتہ ہم دکھاتے آپ کو وہ (منافق) ، پھر ضرور پہچان لیتے آپ ان کو ان کے چہروں کی علامات سے اور یقیناً آپ پہچان لیں گے ان کو انداز گفتگو سے اور اللہ جانتا ہے اعمال تمھارے (30) اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تمھیں یہاں تک کہ معلوم کر لیں ہم مجاہدین کو تم میں سے اورصبر کرنے والوں کو اور جانچ لیں ہم حالات تمھارے (31) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انھوں نے خیال کیا۔‘‘ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کر دیتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہے ۔﴿اَضۡغَانَهُمۡ﴾ وہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے جو کینہ اور عداوت ہے، اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیقی مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلا نے الٹے پاؤ ں پھیر دیا اور اس نے اس پر صبر نہ کیا، اور جب اس پر امتحان آیا تو اس نے جزع فزع کیا اور اس کا ایمان کمزور ہو گیا۔ اس کے دل میں جو بغض اور کینہ تھا ظاہر ہو گیا اور یوں اس کا نفاق ظاہر ہو گیا۔ یہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے۔ [30] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ نَشَآءُ لَاَرَيۡنٰـكَهُمۡ۠ فَلَعَرَفۡتَهُمۡ۠ بِسِيۡمٰىهُمۡ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انھیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔‘‘ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں ﴿ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِيۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ﴾ ’’اور یقیناً آپ انھیں ان کی بات کے انداز سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شر دل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کر دیتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔ [31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبۡلُوَنَّـكُمۡ﴾ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰى نَعۡلَمَ الۡمُجٰؔهِدِيۡنَ مِنۡكُمۡ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ١ۙ وَنَبۡلُوَاۡ اَخۡبَارَؔكُمۡ﴾ ’’تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔
47:32

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَشَآقُّواْ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗا وَسَيُحۡبِطُ أَعۡمَٰلَهُمۡ

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، اور مخالفت کی رسول (u) کی بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، ہرگز نہیں بگاڑ سکیں گے وہ اللہ کا کچھ بھی اور عنقریب وہ (اللہ) برباد کرے گا اعمال ان کے (32) [32] یہ آیت کریمہ اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید ہے جس میں ہر قسم کا شر جمع ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر، مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے تک پہنچانے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ ﴿ وَشَآقُّوا الرَّسُوۡلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡهُدٰؔى﴾ یعنی انھوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عناد رکھا، جہالت، گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر عناد کی وجہ سے ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد آپ کی مخالفت کی ﴿ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔؔا﴾’’اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔‘‘ پس اس سے اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔﴿ وَسَيُحۡبِطُ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو رائیگاں کر دے گا جو وہ باطل کی مدد کے لیے کر رہے ہیں، یعنی ان کو ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا اور ان کے وہ اعمال جن پر انھیں ثواب کی امیدیں ہیں، قبولیت کی شرائط کے عدم وجود کی بنا پر قبول نہ کیے جائیں گے۔
47:33

۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبۡطِلُوٓاْ أَعۡمَٰلَكُمۡ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، اور نہ باطل کرو اپنے عملوں کو (33) [33] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ایسی بات کا حکم دیتا ہے جس کے ذریعے سے انھیں دینی اور دنیاوی سعادت حاصل اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ ہے دین کے اصول و فروع اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت۔ اور اطاعت سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اخلاص اور کامل متابعت کے ساتھ مامور بہ طریقے سے تعمیل کرنا اور نواہی سے اجتناب کرنا۔اللہ تعالیٰ کے فرمان:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔‘‘ میں نہی عمل کو بجا لانے کے بعد اس کو فاسد کرنے والے امور کے ذریعے سے اس کے باطل کرنے کو شامل ہے، مثلاً: نیکی کرنے کے بعد احسان جتلانا، تکبر ، فخر اور شہرت کی خواہش کرنا وغیرہ، نیز ایسے گناہوں کا ارتکاب جو نیک اعمال کو مضمحل کر کے ان کے اجر و ثواب کو ضائع کر دیتے ہیں۔ نیز یہ نہی عمل کو اس کے وقوع کے وقت، اس کو فاسد کرنے کو شامل ہے، مثلاً: عمل کو مکمل کیے بغیر چھوڑ دینا یا کسی ایسے امر کا ارتکاب کرنا جو اس عمل کی مفسدات میں شمار ہوتا ہے۔ پس نماز، روزہ اور حج کو باطل کرنے والے امور اسی زمرے میں آتے ہیں اور ان سے روکا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ سے فقہاءS بغیر کسی موجب کے فرض کو منقطع کرنے کی تحریم اور نفل کو منقطع کرنے کی کراہت پر استدلال کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اعمال کو باطل کرنے سے روکا ہے تو اس نے گویا اعمال کی اصلاح، اس کی تکمیل و اتمام اور ان کو اس طرح بجا لانے کا حکم دیا ہے جو علم و عمل کے اعتبار سے درست ہو۔
47:34

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ مَاتُواْ وَهُمۡ كُفَّارٞ فَلَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡ

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے ، پھر وہ مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے، تو ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو (34) سو نہ سستی کرو تم اور (نہ) بلاؤ تم صلح کی طرف جب کہ تم (ہی) بلند (غالب) ہو اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور ہرگز نہیں کم گرے گا، تم سے (ثواب) تمھارے عملوں کا (35) [34] یہ آیت کریمہ اور وہ جو سورۂ بقرہ میں وارد ہوئی ہے یعنی ﴿ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾(البقرہ:2؍217) ’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مر جائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت جائیں گے۔‘‘ یہ دونوں آیات ہر اس نصِ مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔یہاں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ بے شک وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا ﴿ وَصَدُّوۡا﴾ اور مخلوق کو روکا ﴿ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی راہ سے ‘‘ انھیں راہ حق سے دور کرنے، باطل کی طرف دعوت دینے اور باطل کو مزین کرنے كے ذريعے سے﴿ ثُمَّ مَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ﴾ ’’پھر کافر ہی مر گئے۔‘‘ اور انھوں نے کفر سے توبہ نہ کی ﴿ فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾ تو اللہ تعالیٰ انھیں کسی سفارش وغیرہ کے ذریعے سے نہ بخشے گا۔ ان کے لیے عذاب واجب ہو چکا، وہ ثواب سے محروم ہو گئے اور جہنم میں ان کا ہمیشہ رہنا لازم ہو گیا ان پر رحیم و غفار کی رحمت کے تمام دروازے بند ہو گئے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے توبہ کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ انھیں بخش دے گا، ان پر رحم کر کے جنت میں داخل کر دے گا خواہ انھوں نے اپنی عمریں کفر، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کیوں نہ گزاری ہوں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے، اس نے کسی شخص پر، جب تک وہ زندہ ہے اور توبہ کرنے پر قادر ہے، اپنی رحمت کے دروازوں کو بند نہیں کیا... اور پاک ہے وہ ذات جو نہایت حلم والی ہے، جو گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتی، بلکہ ان کو معاف کرتی ہے اور انھیں رزق عطا کرتی ہے، گویا انھوں نے کبھی اس کی نافرمانی کی ہی نہیں، حالانکہ وہ ہستی ان پر پوری قدرت رکھتی ہے۔ [35] اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَلَا تَهِنُوۡا﴾ یعنی اپنے دشمن کے ساتھ قتال کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اور تم پر خوف غالب نہ آئے، بلکہ صبر کرو اور ثابت قدم رہو اپنے رب کی رضا، اسلام کی خیر خواہی اور شیطان کو ناراض کرنے کے لیے اپنے نفس کو قتال اور جانفشانی پر آمادہ کرو اور محض آرام حاصل کرنے کے لیے تم دشمن کو امن اور صلح کی دعوت نہ دو۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ حالانکہ ﴿ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ مَعَكُمۡ وَلَنۡ يَّتِرَؔكُمۡ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ کمی نہیں کرے گا‘‘﴿ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’تمھارے اعمال میں۔‘‘ یہ تین امور، ان میں سے ہر ایک صبر اور عدم ضعف کا تقاضا کرتا ہے:(۱)ان کا غالب آنا، یعنی ان کے لیے فتح و نصرت کے وافر اسباب مہیا کر دیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ سچا وعدہ کیا گیا ہے انسان صرف اس وقت کمزور ہوتا ہے جب وہ مخالفین کی نسبت کمتر تعداد، سازوسامان اور داخلی اور خارجی قوت کے اعتبار سے ان کی نسبت کمزور ہو۔(۲)اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اور تائید کے ذریعے سے اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں کو طاقت اور قوت عطا کرنے اور دشمن کے خلاف اقدام کرنے کی موجب ہے۔(۳) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا بلکہ انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ عطا کرے گا۔ خاص طور پر جہاد کی عبادت میں، کیونکہ جہاد میں خرچ کیے ہوئے مال کا اجر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَۙ۰۰ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(التوبہ:9؍120-121) ’’یہ اس سبب سے ہے کہ انھیں اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، پیاس، تھکاوٹ یا بھوک کی تکلیف، یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جس سے کفار کو غصہ آئے، یا دشمنوں سے کچھ حاصل کرتے ہیں تو اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ لیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اور جو تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں، یا کوئی وادی طے کرتے ہیں تو سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا دے۔‘‘ جب انسان کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل اور جہاد کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا تو یہ چیز اس کے لیے نشاط اور ان امور میں کوشش کرنے کی موجب بنتی ہے جن پر اجر و ثواب مترتب ہوتے ہیں۔ تب کیسی کیفیت ہو گی اگر یہ تینوں مذکورہ امور مجتمع ہوں؟ بلاشبہ یہ چیز نشاط کامل کی موجب ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ترغیب اور ایسے امور کے لیے ان میں نشاط اور قوت پیدا کرنا ہے جن میں ان کی بھلائی اور فلاح ہے۔
47:35

فَلَا تَهِنُواْ وَتَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلسَّلۡمِ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ وَٱللَّهُ مَعَكُمۡ وَلَن يَتِرَكُمۡ أَعۡمَٰلَكُمۡ

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے ، پھر وہ مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے، تو ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو (34) سو نہ سستی کرو تم اور (نہ) بلاؤ تم صلح کی طرف جب کہ تم (ہی) بلند (غالب) ہو اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور ہرگز نہیں کم گرے گا، تم سے (ثواب) تمھارے عملوں کا (35) [34] یہ آیت کریمہ اور وہ جو سورۂ بقرہ میں وارد ہوئی ہے یعنی ﴿ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾(البقرہ:2؍217) ’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مر جائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت جائیں گے۔‘‘ یہ دونوں آیات ہر اس نصِ مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔یہاں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ بے شک وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا ﴿ وَصَدُّوۡا﴾ اور مخلوق کو روکا ﴿ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی راہ سے ‘‘ انھیں راہ حق سے دور کرنے، باطل کی طرف دعوت دینے اور باطل کو مزین کرنے كے ذريعے سے﴿ ثُمَّ مَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ﴾ ’’پھر کافر ہی مر گئے۔‘‘ اور انھوں نے کفر سے توبہ نہ کی ﴿ فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾ تو اللہ تعالیٰ انھیں کسی سفارش وغیرہ کے ذریعے سے نہ بخشے گا۔ ان کے لیے عذاب واجب ہو چکا، وہ ثواب سے محروم ہو گئے اور جہنم میں ان کا ہمیشہ رہنا لازم ہو گیا ان پر رحیم و غفار کی رحمت کے تمام دروازے بند ہو گئے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے توبہ کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ انھیں بخش دے گا، ان پر رحم کر کے جنت میں داخل کر دے گا خواہ انھوں نے اپنی عمریں کفر، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کیوں نہ گزاری ہوں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے، اس نے کسی شخص پر، جب تک وہ زندہ ہے اور توبہ کرنے پر قادر ہے، اپنی رحمت کے دروازوں کو بند نہیں کیا... اور پاک ہے وہ ذات جو نہایت حلم والی ہے، جو گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتی، بلکہ ان کو معاف کرتی ہے اور انھیں رزق عطا کرتی ہے، گویا انھوں نے کبھی اس کی نافرمانی کی ہی نہیں، حالانکہ وہ ہستی ان پر پوری قدرت رکھتی ہے۔ [35] اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَلَا تَهِنُوۡا﴾ یعنی اپنے دشمن کے ساتھ قتال کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اور تم پر خوف غالب نہ آئے، بلکہ صبر کرو اور ثابت قدم رہو اپنے رب کی رضا، اسلام کی خیر خواہی اور شیطان کو ناراض کرنے کے لیے اپنے نفس کو قتال اور جانفشانی پر آمادہ کرو اور محض آرام حاصل کرنے کے لیے تم دشمن کو امن اور صلح کی دعوت نہ دو۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ حالانکہ ﴿ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ مَعَكُمۡ وَلَنۡ يَّتِرَؔكُمۡ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ کمی نہیں کرے گا‘‘﴿ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’تمھارے اعمال میں۔‘‘ یہ تین امور، ان میں سے ہر ایک صبر اور عدم ضعف کا تقاضا کرتا ہے:(۱)ان کا غالب آنا، یعنی ان کے لیے فتح و نصرت کے وافر اسباب مہیا کر دیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ سچا وعدہ کیا گیا ہے انسان صرف اس وقت کمزور ہوتا ہے جب وہ مخالفین کی نسبت کمتر تعداد، سازوسامان اور داخلی اور خارجی قوت کے اعتبار سے ان کی نسبت کمزور ہو۔(۲)اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اور تائید کے ذریعے سے اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں کو طاقت اور قوت عطا کرنے اور دشمن کے خلاف اقدام کرنے کی موجب ہے۔(۳) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا بلکہ انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ عطا کرے گا۔ خاص طور پر جہاد کی عبادت میں، کیونکہ جہاد میں خرچ کیے ہوئے مال کا اجر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَۙ۰۰ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(التوبہ:9؍120-121) ’’یہ اس سبب سے ہے کہ انھیں اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، پیاس، تھکاوٹ یا بھوک کی تکلیف، یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جس سے کفار کو غصہ آئے، یا دشمنوں سے کچھ حاصل کرتے ہیں تو اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ لیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اور جو تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں، یا کوئی وادی طے کرتے ہیں تو سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا دے۔‘‘ جب انسان کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل اور جہاد کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا تو یہ چیز اس کے لیے نشاط اور ان امور میں کوشش کرنے کی موجب بنتی ہے جن پر اجر و ثواب مترتب ہوتے ہیں۔ تب کیسی کیفیت ہو گی اگر یہ تینوں مذکورہ امور مجتمع ہوں؟ بلاشبہ یہ چیز نشاط کامل کی موجب ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ترغیب اور ایسے امور کے لیے ان میں نشاط اور قوت پیدا کرنا ہے جن میں ان کی بھلائی اور فلاح ہے۔
47:36

إِنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ يُؤۡتِكُمۡ أُجُورَكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ أَمۡوَٰلَكُمۡ

یقیناً حیاتِ دنیا (تو ایک) کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو (تو) وہ (اللہ) دے گا تمھیں اجر تمھارے، اور وہ نہیں مانگے گا تم سے مال تمھارے (36) اگر اللہ سوال کرے تم سے اس (تمام) مال کا، پھر وہ خوب اصرار کرے تم سے تو تم بخیلی کرو گے، اور وہ نکال باہر کرے گا کینے تمھارے (37) سنو! تم (تو) وہ لوگ ہو کہ بلائے جاتے ہو تاکہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں ، پھر بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور جو بخل کرتا ہے تو یقیناً وہ بخل کرتا ہے اپنے آپ سے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (اللہ) بدل لائے گا (دوسرے) لوگ سوائے تمھارے، پھر نہ ہوں گے وہ تم جیسے (38) [37,36] یہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے، یعنی بدن کے لیے لعب قلوب کے لیے لہو، اس میں زہد کی ترغیب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب و زینت، اپنی بیویوں، ماکولات و مشروبات سے حصول لذت اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بے فائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بے کاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کر لیتا ہے اور اس کی اجل آ جاتی ہے۔جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہو جاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور محرومی واضح ہو جاتی ہے اور اس کا عذاب آ موجود ہوتا ہے تو یہ چیز خردمند شخص کے لیے، دنیا میں زہد، عدم رغبت اور اس کے معاملے میں اہتمام کی موجب ہے ۔ وہ کام جو ہر چیز سے زیادہ اہتمام کے لائق ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا﴾ ’’اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لاؤ اور تقویٰ پر قائم رہو جو ایمان کے لوازم اور اس کے تقاضوں میں سے ہے۔ اور تقویٰ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو ترک کرتے ہوئے، دائمی طور پر اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا۔ تو یہ عمل بندے کو فائدہ دیتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو اس لائق ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کی جائے اور اس کی طلب میں اپنے عزم و ارادے اور اپنی جدوجہد کو صرف کیا جائے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے، ان پر رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر مطلوب و مقصود ہے، تاکہ انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے ۔بنابریں فرمایا:﴿وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا يُؤۡتِكُمۡ اُجُوۡرَؔكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ اَمۡوَالَكُمۡ﴾ ’’اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال طلب نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دینا چاہتا جو تمھارے لیے مشقت اور مشکل کا باعث ہو، مثلاً: وہ تم سے مال لے کر تمھیں مال کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہتا یا تمھیں کسی ایسے نقصان سے دو چار نہیں کرنا چاہتا جس سے تمھیں ضرر پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّسۡـَٔلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ﴾ یعنی جب وہ تم سے اس چیز کا مطالبہ کرے جس کو خرچ کرنا تم ناپسند کرتے ہو تو وہ دلوں میں چھپے ہوئے کینے اور بدنیتی کو ظاہر کر دے گا ۔ [38] اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اموال طلب کرے اور تمھارے تمام مال کا سوال کر کے تمھیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ ﴿ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ تمھیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے ﴿ فَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يَّبۡخَلُ﴾ ’’پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔‘‘ تب تمھارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لیے، تمھارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمھیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمھارا اس معاملے میں خرچ کرنے سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا يَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کر لیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہو گئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بے شک اللہ تعالیٰ ﴿اللّٰهُ الۡغَنِيُّ وَاَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ﴾ ’’ بے نیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا ﴾ یعنی اگر تم ایمان باللٰہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے۔ ﴿ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا يَكُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَكُمۡ﴾ ’’تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح کے نہیں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمھاری مانند نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِي اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدہ:5؍54) ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘
47:37

إِن يَسۡـَٔلۡكُمُوهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُواْ وَيُخۡرِجۡ أَضۡغَٰنَكُمۡ

یقیناً حیاتِ دنیا (تو ایک) کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو (تو) وہ (اللہ) دے گا تمھیں اجر تمھارے، اور وہ نہیں مانگے گا تم سے مال تمھارے (36) اگر اللہ سوال کرے تم سے اس (تمام) مال کا، پھر وہ خوب اصرار کرے تم سے تو تم بخیلی کرو گے، اور وہ نکال باہر کرے گا کینے تمھارے (37) سنو! تم (تو) وہ لوگ ہو کہ بلائے جاتے ہو تاکہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں ، پھر بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور جو بخل کرتا ہے تو یقیناً وہ بخل کرتا ہے اپنے آپ سے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (اللہ) بدل لائے گا (دوسرے) لوگ سوائے تمھارے، پھر نہ ہوں گے وہ تم جیسے (38) [37,36] یہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے، یعنی بدن کے لیے لعب قلوب کے لیے لہو، اس میں زہد کی ترغیب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب و زینت، اپنی بیویوں، ماکولات و مشروبات سے حصول لذت اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بے فائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بے کاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کر لیتا ہے اور اس کی اجل آ جاتی ہے۔جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہو جاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور محرومی واضح ہو جاتی ہے اور اس کا عذاب آ موجود ہوتا ہے تو یہ چیز خردمند شخص کے لیے، دنیا میں زہد، عدم رغبت اور اس کے معاملے میں اہتمام کی موجب ہے ۔ وہ کام جو ہر چیز سے زیادہ اہتمام کے لائق ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا﴾ ’’اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لاؤ اور تقویٰ پر قائم رہو جو ایمان کے لوازم اور اس کے تقاضوں میں سے ہے۔ اور تقویٰ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو ترک کرتے ہوئے، دائمی طور پر اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا۔ تو یہ عمل بندے کو فائدہ دیتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو اس لائق ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کی جائے اور اس کی طلب میں اپنے عزم و ارادے اور اپنی جدوجہد کو صرف کیا جائے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے، ان پر رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر مطلوب و مقصود ہے، تاکہ انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے ۔بنابریں فرمایا:﴿وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا يُؤۡتِكُمۡ اُجُوۡرَؔكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ اَمۡوَالَكُمۡ﴾ ’’اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال طلب نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دینا چاہتا جو تمھارے لیے مشقت اور مشکل کا باعث ہو، مثلاً: وہ تم سے مال لے کر تمھیں مال کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہتا یا تمھیں کسی ایسے نقصان سے دو چار نہیں کرنا چاہتا جس سے تمھیں ضرر پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّسۡـَٔلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ﴾ یعنی جب وہ تم سے اس چیز کا مطالبہ کرے جس کو خرچ کرنا تم ناپسند کرتے ہو تو وہ دلوں میں چھپے ہوئے کینے اور بدنیتی کو ظاہر کر دے گا ۔ [38] اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اموال طلب کرے اور تمھارے تمام مال کا سوال کر کے تمھیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ ﴿ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ تمھیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے ﴿ فَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يَّبۡخَلُ﴾ ’’پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔‘‘ تب تمھارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لیے، تمھارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمھیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمھارا اس معاملے میں خرچ کرنے سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا يَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کر لیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہو گئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بے شک اللہ تعالیٰ ﴿اللّٰهُ الۡغَنِيُّ وَاَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ﴾ ’’ بے نیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا ﴾ یعنی اگر تم ایمان باللٰہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے۔ ﴿ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا يَكُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَكُمۡ﴾ ’’تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح کے نہیں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمھاری مانند نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِي اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدہ:5؍54) ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘
47:38

هَـٰٓأَنتُمۡ هَـٰٓؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَمِنكُم مَّن يَبۡخَلُۖ وَمَن يَبۡخَلۡ فَإِنَّمَا يَبۡخَلُ عَن نَّفۡسِهِۦۚ وَٱللَّهُ ٱلۡغَنِيُّ وَأَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُۚ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُونُوٓاْ أَمۡثَٰلَكُم

یقیناً حیاتِ دنیا (تو ایک) کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو (تو) وہ (اللہ) دے گا تمھیں اجر تمھارے، اور وہ نہیں مانگے گا تم سے مال تمھارے (36) اگر اللہ سوال کرے تم سے اس (تمام) مال کا، پھر وہ خوب اصرار کرے تم سے تو تم بخیلی کرو گے، اور وہ نکال باہر کرے گا کینے تمھارے (37) سنو! تم (تو) وہ لوگ ہو کہ بلائے جاتے ہو تاکہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں ، پھر بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور جو بخل کرتا ہے تو یقیناً وہ بخل کرتا ہے اپنے آپ سے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (اللہ) بدل لائے گا (دوسرے) لوگ سوائے تمھارے، پھر نہ ہوں گے وہ تم جیسے (38) [37,36] یہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے، یعنی بدن کے لیے لعب قلوب کے لیے لہو، اس میں زہد کی ترغیب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب و زینت، اپنی بیویوں، ماکولات و مشروبات سے حصول لذت اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بے فائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بے کاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کر لیتا ہے اور اس کی اجل آ جاتی ہے۔جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہو جاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور محرومی واضح ہو جاتی ہے اور اس کا عذاب آ موجود ہوتا ہے تو یہ چیز خردمند شخص کے لیے، دنیا میں زہد، عدم رغبت اور اس کے معاملے میں اہتمام کی موجب ہے ۔ وہ کام جو ہر چیز سے زیادہ اہتمام کے لائق ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا﴾ ’’اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لاؤ اور تقویٰ پر قائم رہو جو ایمان کے لوازم اور اس کے تقاضوں میں سے ہے۔ اور تقویٰ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو ترک کرتے ہوئے، دائمی طور پر اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا۔ تو یہ عمل بندے کو فائدہ دیتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو اس لائق ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کی جائے اور اس کی طلب میں اپنے عزم و ارادے اور اپنی جدوجہد کو صرف کیا جائے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے، ان پر رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر مطلوب و مقصود ہے، تاکہ انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے ۔بنابریں فرمایا:﴿وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا يُؤۡتِكُمۡ اُجُوۡرَؔكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ اَمۡوَالَكُمۡ﴾ ’’اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال طلب نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دینا چاہتا جو تمھارے لیے مشقت اور مشکل کا باعث ہو، مثلاً: وہ تم سے مال لے کر تمھیں مال کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہتا یا تمھیں کسی ایسے نقصان سے دو چار نہیں کرنا چاہتا جس سے تمھیں ضرر پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّسۡـَٔلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ﴾ یعنی جب وہ تم سے اس چیز کا مطالبہ کرے جس کو خرچ کرنا تم ناپسند کرتے ہو تو وہ دلوں میں چھپے ہوئے کینے اور بدنیتی کو ظاہر کر دے گا ۔ [38] اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اموال طلب کرے اور تمھارے تمام مال کا سوال کر کے تمھیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ ﴿ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ تمھیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے ﴿ فَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يَّبۡخَلُ﴾ ’’پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔‘‘ تب تمھارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لیے، تمھارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمھیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمھارا اس معاملے میں خرچ کرنے سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا يَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کر لیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہو گئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بے شک اللہ تعالیٰ ﴿اللّٰهُ الۡغَنِيُّ وَاَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ﴾ ’’ بے نیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا ﴾ یعنی اگر تم ایمان باللٰہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے۔ ﴿ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا يَكُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَكُمۡ﴾ ’’تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح کے نہیں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمھاری مانند نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِي اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدہ:5؍54) ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘