al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 49 · 18 verses
49:1يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ آگے بڑھو تم اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو تم اپنی آوازیں اوپر نبی کی آواز کے، اور نہ اونچی آواز میں آپ سے بات کرو مانند اونچی آواز (سے بات) کرنے کے تمھارے ایک کا دوسرے سے، کہیں برباد(نہ)ہو جائیں تمھارے عمل اور تمھیں شعور (بھی) نہ ہو(2) بلاشبہ وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازیں رسول اللہ کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں کہ پرکھ کر خالص کر دیے اللہ نے ان کے دل تقوے کے لیے، ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیز یہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا یہی حقیقی ادب ہے جو فرض ہے۔ یہی ادب بندے کی سعادت اور فلاح کا عنوان ہے، چنانچہ اس کے حصول میں ناکامی، سعادت ابدی اور نعیم سرمدی کے حصول میں ناکامی ہے۔اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺ کے قول پر کسی اور کے قول کو مقدم رکھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ جب مصطفیﷺ کی سنت مبارکہ واضح ہو کر سامنے آ جائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس کو کسی اور کے قول اور رائے پر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مقدم رکھنا واجب ہے۔
[1]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کر دیں۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ﴾ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کے منافی امور کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ﴾ یہ رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے ،یعنی رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور اجلال و اعظام کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہﷺ ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاظ نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امر و نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لیے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔
49:2يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَرۡفَعُوٓاْ أَصۡوَٰتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ ٱلنَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُواْ لَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ أَن تَحۡبَطَ أَعۡمَٰلُكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تَشۡعُرُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ آگے بڑھو تم اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو تم اپنی آوازیں اوپر نبی کی آواز کے، اور نہ اونچی آواز میں آپ سے بات کرو مانند اونچی آواز (سے بات) کرنے کے تمھارے ایک کا دوسرے سے، کہیں برباد(نہ)ہو جائیں تمھارے عمل اور تمھیں شعور (بھی) نہ ہو(2) بلاشبہ وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازیں رسول اللہ کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں کہ پرکھ کر خالص کر دیے اللہ نے ان کے دل تقوے کے لیے، ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیز یہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا یہی حقیقی ادب ہے جو فرض ہے۔ یہی ادب بندے کی سعادت اور فلاح کا عنوان ہے، چنانچہ اس کے حصول میں ناکامی، سعادت ابدی اور نعیم سرمدی کے حصول میں ناکامی ہے۔اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺ کے قول پر کسی اور کے قول کو مقدم رکھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ جب مصطفیﷺ کی سنت مبارکہ واضح ہو کر سامنے آ جائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس کو کسی اور کے قول اور رائے پر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مقدم رکھنا واجب ہے۔
[1]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کر دیں۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ﴾ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کے منافی امور کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ﴾ یہ رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے ،یعنی رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور اجلال و اعظام کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہﷺ ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاظ نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امر و نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لیے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔
49:3إِنَّ ٱلَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصۡوَٰتَهُمۡ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱمۡتَحَنَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡ لِلتَّقۡوَىٰۚ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٌ عَظِيمٌ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ آگے بڑھو تم اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو تم اپنی آوازیں اوپر نبی کی آواز کے، اور نہ اونچی آواز میں آپ سے بات کرو مانند اونچی آواز (سے بات) کرنے کے تمھارے ایک کا دوسرے سے، کہیں برباد(نہ)ہو جائیں تمھارے عمل اور تمھیں شعور (بھی) نہ ہو(2) بلاشبہ وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازیں رسول اللہ کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں کہ پرکھ کر خالص کر دیے اللہ نے ان کے دل تقوے کے لیے، ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیز یہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا یہی حقیقی ادب ہے جو فرض ہے۔ یہی ادب بندے کی سعادت اور فلاح کا عنوان ہے، چنانچہ اس کے حصول میں ناکامی، سعادت ابدی اور نعیم سرمدی کے حصول میں ناکامی ہے۔اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺ کے قول پر کسی اور کے قول کو مقدم رکھنے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ جب مصطفیﷺ کی سنت مبارکہ واضح ہو کر سامنے آ جائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس کو کسی اور کے قول اور رائے پر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مقدم رکھنا واجب ہے۔
[1]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کر دیں۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ﴾ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کے منافی امور کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ﴾ یہ رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے ،یعنی رسول اللہﷺ سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور اجلال و اعظام کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہﷺ ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاظ نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امر و نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے، پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لیے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔
49:4إِنَّ ٱلَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَآءِ ٱلۡحُجُرَٰتِ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ
بلاشبہ وہ لوگ جو پکارتے ہیں آپ کو حجروں کے باہر سے، اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(4) اور اگربے شک وہ صبر کرتے حتی کہ آپ(خود ہی)نکلتے ان کی طرف تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(5)
[4] یہ آیت کریمہ، اعراب (عرب دیہاتیوں)میں سے، چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے جفا سے موصوف کیا ہے۔ وہ اس لائق ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حدود کو نہ جانیں جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔ یہ عرب دیہاتی رسول اللہﷺ کی خدمت میں وفد بن کر آئے اور انھوں نے آپ کو اپنے گھر میں اپنی ازواج مطہرات کے پاس پایا، انھوں نے ادب کو ملحوظ نہ رکھا اور آپ کے باہر تشریف لانے تک انتظار نہ کر سکے اور پکارنا شروع کر دیا ’’اے محمد! اے محمد! (ﷺ) ہمارے پاس آؤ ‘‘ ... پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی عدم عقل کی بنا پر مذمت کی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے ساتھ ادب و احترام کو نہ سمجھ سکے۔ جیسا کہ ادب کا استعمال عقل مندی میں شمار ہوتا ہے، بندے کا باادب ہونا اس کی عقل کا عنوان ہے۔اللہ بندے کی بھلائی چاہتا ہے
[5] بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰى تَخۡرُجَ اِلَيۡهِمۡ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود نکل کر ان کے پاس آتے، تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی بندوں سے جو گناہ صادر ہوتے ہیں اور ان سے ادب میں جو خلل واقع ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو بخشنے والا ہے، وہ ان پر بہت مہربان ہے کہ وہ ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔
49:5وَلَوۡ أَنَّهُمۡ صَبَرُواْ حَتَّىٰ تَخۡرُجَ إِلَيۡهِمۡ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
بلاشبہ وہ لوگ جو پکارتے ہیں آپ کو حجروں کے باہر سے، اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(4) اور اگربے شک وہ صبر کرتے حتی کہ آپ(خود ہی)نکلتے ان کی طرف تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(5)
[4] یہ آیت کریمہ، اعراب (عرب دیہاتیوں)میں سے، چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے جفا سے موصوف کیا ہے۔ وہ اس لائق ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حدود کو نہ جانیں جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔ یہ عرب دیہاتی رسول اللہﷺ کی خدمت میں وفد بن کر آئے اور انھوں نے آپ کو اپنے گھر میں اپنی ازواج مطہرات کے پاس پایا، انھوں نے ادب کو ملحوظ نہ رکھا اور آپ کے باہر تشریف لانے تک انتظار نہ کر سکے اور پکارنا شروع کر دیا ’’اے محمد! اے محمد! (ﷺ) ہمارے پاس آؤ ‘‘ ... پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی عدم عقل کی بنا پر مذمت کی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے ساتھ ادب و احترام کو نہ سمجھ سکے۔ جیسا کہ ادب کا استعمال عقل مندی میں شمار ہوتا ہے، بندے کا باادب ہونا اس کی عقل کا عنوان ہے۔اللہ بندے کی بھلائی چاہتا ہے
[5] بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰى تَخۡرُجَ اِلَيۡهِمۡ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود نکل کر ان کے پاس آتے، تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی بندوں سے جو گناہ صادر ہوتے ہیں اور ان سے ادب میں جو خلل واقع ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو بخشنے والا ہے، وہ ان پر بہت مہربان ہے کہ وہ ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔
49:6يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن جَآءَكُمۡ فَاسِقُۢ بِنَبَإٖ فَتَبَيَّنُوٓاْ أَن تُصِيبُواْ قَوۡمَۢا بِجَهَٰلَةٖ فَتُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَٰدِمِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر لائے تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر تو تحقیق کر لیا کرو (اس کی، ایسا نہ ہو) کہ تکلیف پہنچاؤ تم کسی قوم کو نادانی سے، پھر ہو جاؤ تم اس پر جو کیا تم نے نادم(6)
[6] یہ بھی ان آداب میں شامل ہے جن پر عقل مند لوگ عمل پیرا ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو وہ اس کی خبر کی تحقیق کر لیا کریں اور تحقیق کے بغیر اس پر عمل نہ کریں، کیونکہ اس میں بہت بڑا خطرہ اور گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ جب فاسق و فاجر شخص کی خبر کو صادق اور عادل شخص کی خبر کے طور پر لیا جائے، اور اس کے موجب اور تقاضے کے مطابق حکم لگایا جائے، تو اس خبر کے سبب سے ناحق جان و مال کا اتلاف ہو گا جو ندامت کا باعث ہو گا۔ فاسق و فاجر کی دی ہوئی خبر سننے کے بعد اس کی تحقیق و تبیین واجب ہے۔ اگر دلائل اور قرائن اس کی صداقت پر دلالت کرتے ہوں تو اس پر عمل کیا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے، اور اگر دلائل و قرائن اس کے کذب پر دلالت کریں تو اس کو جھوٹ سمجھا جائے اور اس پر عمل نہ کیا جائے۔اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ صادق و عادل کی خبر مقبول، کاذب کی خبر مردود اور فاسق کی خبر میں توقف ہے۔ بنابریں سلف نے خوارج کی بہت سی روایات کو قبول کیا ہے، جو صداقت میں معروف تھے۔ اگرچہ وہ فاسق تھے۔
49:7وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ فِيكُمۡ رَسُولَ ٱللَّهِۚ لَوۡ يُطِيعُكُمۡ فِي كَثِيرٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ حَبَّبَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَزَيَّنَهُۥ فِي قُلُوبِكُمۡ وَكَرَّهَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡكُفۡرَ وَٱلۡفُسُوقَ وَٱلۡعِصۡيَانَۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلرَّـٰشِدُونَ
اور جان لو بلاشبہ تم میں اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ تمھاری اطاعت کریں بہت سے معاملات میں (تو) یقیناً تم مشقت میں پڑ جاؤ اور لیکن اللہ نے محبوب بنا دیا تمھاری طرف ایمان کو اور مزین کر دیا اس نے اسے تمھارے دلوں میں، اور ناپسندیدہ بنا دیا تمھارے لیے کفر اور فسق اور نافرمانی کو، اور یہی لوگ ہیں رشد و ہدایت والے(7) بطور فضل کے اللہ کی طرف سے اور احسان کے اور اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا ہے(8)
[7]یعنی تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہﷺ تمھارے اندر موجود ہیں وہ ایسے رسول ہیں، جو صاحب کرم، نیک طینت اور راہِراست دکھانے والے ہیں، جو تمھاری بھلائی چاہتے ہیں تمھارے خیرخواہ ہیں اور تم اپنے لیے شر اور ضرر چاہتے ہو، جس پر رسول تمھاری موافقت نہیں کر سکتے۔ اگر رسولﷺ بہت سے معاملات میں تمھاری اطاعت کرنے لگے تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے اور ہلاکت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ مگر رسول اللہﷺ تمھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ تمھارے لیے ایمان کو محبوب بناتا ہے، اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں میں حق کی محبت اور اس کی ترجیح ودیعت کی ہے، اس نے حق پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، جو اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اور قلوب اور فطرت اس کی قبولیت کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انابت کی جو توفیق عطا کرتا ہے…وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں میں ایمان کو مزین کرتا ہے۔اس نے تمھارے دلوں میں شر سے جو نفرت و دیعت کی ہے، تمھارے دلوں میں شر کی تعمیل کا جو ارادہ معدوم ہے، اس نے شر کے فساد اور اس کی مضرت پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، تمھارے دلوں اور فطرت کے اندر شر کی جو عدم قبولیت ودیعت کی ہے اور دلوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے شر کے لیے جو کراہت پیدا کی ہے...۔ وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں کے لیے کفر و فسق یعنی چھوٹے بڑے گناہ کو ناپسندیدہ بناتا ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان مزین کردیا اور اسے ان کا محبوب بنا دیا، اور ان کو کفر، گناہ اور معصیت سے بیزار کردیا۔ ﴿ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ﴾ ’’وہی راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ یعنی جن کے علوم و اعمال درست ہوگئے اور وہ دین قویم اور صراط مستقیم پر کاربند ہوگئے۔ان کے برعکس اور ان کی ضد وہ لوگ ہیں جن کے لیے کفر، فسق اور عصیان کو پسندیدہ اور ایمان کو ناپسندیدہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ گناہ ان کا اپنا گناہ ہے کیونکہ جب انھوں نے فسق کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ﴿ زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ کج رو ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ چونکہ جب حق پہلی مرتبہ ان کے پاس آیا تو وہ اس پر ایمان نہ لائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا۔
[8]﴿ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً﴾ یعنی یہ بھلائی جو انھیں حاصل ہے، ان پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل و احسان ہے، اس میں ان کی اپنی قوت و اختیار کو کوئی دخل نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر کرتا ہے پس وہ اسے اس نعمت کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور اس شخص کو بھی جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر نہیں کرتا اور یہ نعمت اس کے لائق نہیں ہوتی۔ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس مقام پر رکھتا ہے جہاں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔
49:8فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَنِعۡمَةٗۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
اور جان لو بلاشبہ تم میں اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ تمھاری اطاعت کریں بہت سے معاملات میں (تو) یقیناً تم مشقت میں پڑ جاؤ اور لیکن اللہ نے محبوب بنا دیا تمھاری طرف ایمان کو اور مزین کر دیا اس نے اسے تمھارے دلوں میں، اور ناپسندیدہ بنا دیا تمھارے لیے کفر اور فسق اور نافرمانی کو، اور یہی لوگ ہیں رشد و ہدایت والے(7) بطور فضل کے اللہ کی طرف سے اور احسان کے اور اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا ہے(8)
[7]یعنی تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہﷺ تمھارے اندر موجود ہیں وہ ایسے رسول ہیں، جو صاحب کرم، نیک طینت اور راہِراست دکھانے والے ہیں، جو تمھاری بھلائی چاہتے ہیں تمھارے خیرخواہ ہیں اور تم اپنے لیے شر اور ضرر چاہتے ہو، جس پر رسول تمھاری موافقت نہیں کر سکتے۔ اگر رسولﷺ بہت سے معاملات میں تمھاری اطاعت کرنے لگے تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے اور ہلاکت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ مگر رسول اللہﷺ تمھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ تمھارے لیے ایمان کو محبوب بناتا ہے، اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں میں حق کی محبت اور اس کی ترجیح ودیعت کی ہے، اس نے حق پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، جو اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اور قلوب اور فطرت اس کی قبولیت کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انابت کی جو توفیق عطا کرتا ہے…وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں میں ایمان کو مزین کرتا ہے۔اس نے تمھارے دلوں میں شر سے جو نفرت و دیعت کی ہے، تمھارے دلوں میں شر کی تعمیل کا جو ارادہ معدوم ہے، اس نے شر کے فساد اور اس کی مضرت پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، تمھارے دلوں اور فطرت کے اندر شر کی جو عدم قبولیت ودیعت کی ہے اور دلوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے شر کے لیے جو کراہت پیدا کی ہے...۔ وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں کے لیے کفر و فسق یعنی چھوٹے بڑے گناہ کو ناپسندیدہ بناتا ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان مزین کردیا اور اسے ان کا محبوب بنا دیا، اور ان کو کفر، گناہ اور معصیت سے بیزار کردیا۔ ﴿ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ﴾ ’’وہی راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ یعنی جن کے علوم و اعمال درست ہوگئے اور وہ دین قویم اور صراط مستقیم پر کاربند ہوگئے۔ان کے برعکس اور ان کی ضد وہ لوگ ہیں جن کے لیے کفر، فسق اور عصیان کو پسندیدہ اور ایمان کو ناپسندیدہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ گناہ ان کا اپنا گناہ ہے کیونکہ جب انھوں نے فسق کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ﴿ زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف:61؍5) ’’جب وہ کج رو ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ چونکہ جب حق پہلی مرتبہ ان کے پاس آیا تو وہ اس پر ایمان نہ لائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا۔
[8]﴿ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً﴾ یعنی یہ بھلائی جو انھیں حاصل ہے، ان پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل و احسان ہے، اس میں ان کی اپنی قوت و اختیار کو کوئی دخل نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر کرتا ہے پس وہ اسے اس نعمت کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور اس شخص کو بھی جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر نہیں کرتا اور یہ نعمت اس کے لائق نہیں ہوتی۔ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس مقام پر رکھتا ہے جہاں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔
49:9وَإِن طَآئِفَتَانِ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱقۡتَتَلُواْ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَهُمَاۖ فَإِنۢ بَغَتۡ إِحۡدَىٰهُمَا عَلَى ٱلۡأُخۡرَىٰ فَقَٰتِلُواْ ٱلَّتِي تَبۡغِي حَتَّىٰ تَفِيٓءَ إِلَىٰٓ أَمۡرِ ٱللَّهِۚ فَإِن فَآءَتۡ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَهُمَا بِٱلۡعَدۡلِ وَأَقۡسِطُوٓاْۖ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ
اور اگر دو گروہ مومنوں کے آپس میں لڑپڑیں تو تم صلح کرا دو ان کے درمیان پھر اگر زیادتی کرے ایک (گروہ ان) دونوں میں سے دوسرے پر تو تم لڑو اس سے جو زیادتی کرتا ہے حتٰی کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف ، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو تم صلح کرا دو ان دونوں کے درمیان ساتھ عدل (حق) کے اور تم انصاف کرو، بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(9) یقیناً مومن (ایک دوسرے کے) بھائی ہیں، سو تم صلح کراؤ درمیان اپنے بھائیوں کے اور ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ (10)
[9] یہ آیت کریمہ، اہل ایمان کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے سے روکنے کو متضمن ہے، نیز یہ کہ جب اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دیگر اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ ان دو گروہوں کے درمیان پڑ کر، جس کے ذریعے سے ان کے مابین صلح ہو جائے، اور ان کے درمیان اصلاح کے ذریعے سے، اس بہت بڑے شر کی تلافی کریں اور وہ ذرائع اختیار کریں جو صلح پر منتج ہوتے ہوں۔اگر وہ دونوں گروہ باہم صلح کر لیں تو بہت اچھی بات ہے ﴿ فَاِنۢۡ بَغَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيۡ تَبۡغِيۡ حَتّٰى تَفِيۡٓءَ اِلٰۤى اَمۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو، حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرلے۔‘‘ یعنی اس حد کی طرف لوٹ آئیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے یعنی فعل خیر اور ترک شر۔ اور سب سے بڑا شر آپس میں لڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:﴿ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’پس جب وہ رجوع کرلے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو۔‘‘ صلح اور صلح میں عدل و انصاف کا حکم ہے کیونکہ کبھی کبھار صلح تو ہوتی ہے مگر عدل و انصاف پر نہیں بلکہ ظلم اور کسی ایک فریق پر زیادتی پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے یہ وہ صلح نہیں جس کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا لازم ہے کہ فریقین میں سے کسی کی کسی قرابت یا وطن یا دیگر اغراض و مقاصد کے حوالے سے رعایت نہ رکھی جائے، جو عدل و انصاف سے انحراف کے موجب بنتے ہیں۔ ﴿ وَاَقۡسِطُوۡا ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اور عدل کرو بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ جو لوگوں کے درمیان اپنے فیصلوں اور ان تمام ذمہ داریوں میں جن پر ان کو متعین کیا جاتا ہے انصاف سے کام لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس میں وہ عدل و انصاف بھی داخل ہے جو انسان اپنے اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں کرتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر فائز ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور منصبی ذمہ داریوں میں انصاف کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم، الإمارۃ، حدیث: 1827)
[10]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ ﴾ ’’بے شک سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کے درمیان قائم کیا ہے، زمین کے مشرق یا مغرب میں کوئی بھی شخص جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ مومنوں کا بھائی ہے۔ یہ ایسی اخوت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ مومن اس کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اور وہ چیز اس کے لیے ناپسند کریں جسے وہ اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ بنابریں رسول مصطفیﷺ نے اسی اخوت ایمان کی بنا پر حکم دیتے ہوئے فرمایا: ’’باہم حسد نہ کرو، مال کی خرید و فروخت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی نہ دو، ایک دوسرے سے ناراض نہ ہو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ ، مومن، مومن کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 1543 مختصراً و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2564)صحیحین میں رسول اللہﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ’’مومن مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔‘‘ اور رسول اللہﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈال کر دکھایا۔(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6026، و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2585)اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے حکم دیا کہ تمام مومنین ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کریں اور ایک دوسرے سے ایسا سلوک کریں جس سے باہمی الفت، محبت اور باہمی میل جول پیدا ہوتا ہے یہ سب کچھ ایک دوسرے کے حقوق کی تائید ہے۔اہل ایمان کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب وہ آپس میں کسی ایسی لڑائی میں مبتلا ہو جائیں جو دلوں میں تفرقہ، باہم ناراضی، اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی موجب ہو تو اہل ایمان اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں تاکہ ان کی باہمی دشمنی ختم ہو جائے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی تقویٰ کا حکم دیا اور قیام تقویٰ اور مومنوں کے حقوق کی ادائیگی پر رحمت کو مترتب فرمایا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل ہو جاتی ہے تو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے حقوق کی عدم ادائیگی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ان دو آیات کریمہ میں مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ بھی بعض فوائد ہیں:(۱)اہل ایمان کا ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا، اخوت ایمانی کے منافی ہے، اس لیے یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔(۲)ایمان اور اخوت ایمانی، آپس کی لڑائی کے باوجود زائل نہیں ہوتے جیسے دوسرے کبیرہ گناہوں سے ایمان زائل نہیں ہوتا، جو شرک سے کم تر ہوں۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔(۳)یہ آیاتِ کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ مومنوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرانا واجب ہے۔(۴)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے خلاف لڑنا واجب ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئیں۔(۵)نیز یہ آیات کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اگر باغی غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، یعنی وہ اس طرح رجوع کریں جس پر قائم رہنا اور اس کا التزام جائز نہ ہو، تو غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔(۶) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے اموال معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بغاوت پر جمے رہنے کی بنا پر، ان کے اموال کی بجائے خاص طور پر ان کے خون کو مباح قرار دیا ہے۔
49:10إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِخۡوَةٞ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَ أَخَوَيۡكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
اور اگر دو گروہ مومنوں کے آپس میں لڑپڑیں تو تم صلح کرا دو ان کے درمیان پھر اگر زیادتی کرے ایک (گروہ ان) دونوں میں سے دوسرے پر تو تم لڑو اس سے جو زیادتی کرتا ہے حتٰی کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف ، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو تم صلح کرا دو ان دونوں کے درمیان ساتھ عدل (حق) کے اور تم انصاف کرو، بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(9) یقیناً مومن (ایک دوسرے کے) بھائی ہیں، سو تم صلح کراؤ درمیان اپنے بھائیوں کے اور ڈرو تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ (10)
[9] یہ آیت کریمہ، اہل ایمان کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے سے روکنے کو متضمن ہے، نیز یہ کہ جب اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دیگر اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ ان دو گروہوں کے درمیان پڑ کر، جس کے ذریعے سے ان کے مابین صلح ہو جائے، اور ان کے درمیان اصلاح کے ذریعے سے، اس بہت بڑے شر کی تلافی کریں اور وہ ذرائع اختیار کریں جو صلح پر منتج ہوتے ہوں۔اگر وہ دونوں گروہ باہم صلح کر لیں تو بہت اچھی بات ہے ﴿ فَاِنۢۡ بَغَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيۡ تَبۡغِيۡ حَتّٰى تَفِيۡٓءَ اِلٰۤى اَمۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو، حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرلے۔‘‘ یعنی اس حد کی طرف لوٹ آئیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے یعنی فعل خیر اور ترک شر۔ اور سب سے بڑا شر آپس میں لڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:﴿ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’پس جب وہ رجوع کرلے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو۔‘‘ صلح اور صلح میں عدل و انصاف کا حکم ہے کیونکہ کبھی کبھار صلح تو ہوتی ہے مگر عدل و انصاف پر نہیں بلکہ ظلم اور کسی ایک فریق پر زیادتی پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے یہ وہ صلح نہیں جس کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا لازم ہے کہ فریقین میں سے کسی کی کسی قرابت یا وطن یا دیگر اغراض و مقاصد کے حوالے سے رعایت نہ رکھی جائے، جو عدل و انصاف سے انحراف کے موجب بنتے ہیں۔ ﴿ وَاَقۡسِطُوۡا ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اور عدل کرو بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ جو لوگوں کے درمیان اپنے فیصلوں اور ان تمام ذمہ داریوں میں جن پر ان کو متعین کیا جاتا ہے انصاف سے کام لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس میں وہ عدل و انصاف بھی داخل ہے جو انسان اپنے اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں کرتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر فائز ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور منصبی ذمہ داریوں میں انصاف کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم، الإمارۃ، حدیث: 1827)
[10]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ ﴾ ’’بے شک سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کے درمیان قائم کیا ہے، زمین کے مشرق یا مغرب میں کوئی بھی شخص جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ مومنوں کا بھائی ہے۔ یہ ایسی اخوت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ مومن اس کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اور وہ چیز اس کے لیے ناپسند کریں جسے وہ اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ بنابریں رسول مصطفیﷺ نے اسی اخوت ایمان کی بنا پر حکم دیتے ہوئے فرمایا: ’’باہم حسد نہ کرو، مال کی خرید و فروخت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی نہ دو، ایک دوسرے سے ناراض نہ ہو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ ، مومن، مومن کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 1543 مختصراً و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2564)صحیحین میں رسول اللہﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ’’مومن مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔‘‘ اور رسول اللہﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈال کر دکھایا۔(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6026، و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2585)اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے حکم دیا کہ تمام مومنین ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کریں اور ایک دوسرے سے ایسا سلوک کریں جس سے باہمی الفت، محبت اور باہمی میل جول پیدا ہوتا ہے یہ سب کچھ ایک دوسرے کے حقوق کی تائید ہے۔اہل ایمان کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب وہ آپس میں کسی ایسی لڑائی میں مبتلا ہو جائیں جو دلوں میں تفرقہ، باہم ناراضی، اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی موجب ہو تو اہل ایمان اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں تاکہ ان کی باہمی دشمنی ختم ہو جائے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی تقویٰ کا حکم دیا اور قیام تقویٰ اور مومنوں کے حقوق کی ادائیگی پر رحمت کو مترتب فرمایا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل ہو جاتی ہے تو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے حقوق کی عدم ادائیگی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ان دو آیات کریمہ میں مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ بھی بعض فوائد ہیں:(۱)اہل ایمان کا ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا، اخوت ایمانی کے منافی ہے، اس لیے یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔(۲)ایمان اور اخوت ایمانی، آپس کی لڑائی کے باوجود زائل نہیں ہوتے جیسے دوسرے کبیرہ گناہوں سے ایمان زائل نہیں ہوتا، جو شرک سے کم تر ہوں۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔(۳)یہ آیاتِ کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ مومنوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرانا واجب ہے۔(۴)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے خلاف لڑنا واجب ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئیں۔(۵)نیز یہ آیات کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اگر باغی غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، یعنی وہ اس طرح رجوع کریں جس پر قائم رہنا اور اس کا التزام جائز نہ ہو، تو غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔(۶) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے اموال معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بغاوت پر جمے رہنے کی بنا پر، ان کے اموال کی بجائے خاص طور پر ان کے خون کو مباح قرار دیا ہے۔
49:11يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٞ مِّن قَوۡمٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُواْ خَيۡرٗا مِّنۡهُمۡ وَلَا نِسَآءٞ مِّن نِّسَآءٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهُنَّۖ وَلَا تَلۡمِزُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَلَا تَنَابَزُواْ بِٱلۡأَلۡقَٰبِۖ بِئۡسَ ٱلِٱسۡمُ ٱلۡفُسُوقُ بَعۡدَ ٱلۡإِيمَٰنِۚ وَمَن لَّمۡ يَتُبۡ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ ٹھٹھا کرے ایک قوم (دوسری) قوم سے، شاید کہ ہوں وہ (لوگ) بہتر ان سے اور نہ عورتیں ہی (ٹھٹھا کریں دوسری) عورتوں سے، شاید کہ ہوں وہ (عورتیں) بہتر ان سے اور نہ عیب لگاؤ تم آپس میں (ایک دوسرے پر) اور نہ پکارو تم ایک دوسرے کو برے لقبوں سے برا ہے نام فسق (سے ملقب کرنا) بعد ایمان کے اور جس نے توبہ نہ کی، تو وہی (لوگ) ظالم ہیں (11)
[11] یہ بھی مومنوں کے باہمی حقوق میں شمار ہوتا ہے ﴿ لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ﴾ ’’کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے۔‘‘ یعنی کسی قسم کی گفتگو اور قول و فعل کے ذریعے سے تمسخر نہ اڑائے، جو مسلمان بھائی کی تحقیر پر دلالت کرتے ہوں۔ بے شک یہ تمسخر حرام ہے اور کسی طرح جائز نہیں نیز یہ چیز تمسخر اڑانے والے کی خود پسندی پر دلیل ہے۔ ہو سکتا ہے جس کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے وہ تمسخر اڑانے والے سے بہتر ہو اور غالب طور پر یہی ہوتا ہے۔ کیونکہ تمسخر صرف اسی شخص سے صادر ہوتا ہے جس کا قلب اخلاق بد سے لبریز ہو، جو ہر قسم کے اخلاق مذمومہ سے آراستہ اور اخلاق کریمہ سے بالکل خالی ہو۔ بنابریں نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا: ’’کسی شخص کی برائی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر جانے۔‘‘ (صحیح مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم..... حدیث: 2564) پھر فرمایا: ﴿ وَلَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ یعنی تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی عیب چینی نہ کرے۔ (اَللَّمْزُ) قول کے ذریعے سے عیب چینی کرنا۔ (اَلْھَمْزُ) فعل کے ذریعے سے عیب چینی کرنا یہ دونوں امور ممنوع اور حرام ہیں جن پر جہنم کی آگ کی وعید سنائی گئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ﴾(الہمزۃ:104؍1)’’ہلاکت ہے ہر طعن آمیز اشارے کرنے والے عیب جو کے لیے۔‘‘ مسلمان بھائی کو اپنے مسلمان بھائی کے لیے نفس سے موسوم کیا ہے کیونکہ تمام اہل ایمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ جسد واحد کی مانند ہوں، نیز جب وہ کسی دوسرے کی عیب چینی کرے تو یہ چیز اس بات کی موجب ہو گی کہ دوسرا اس کی عیب چینی کرے، لہذا وہی اس عیب چینی کا سبب بنے گا۔﴿ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ﴾ یعنی تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کسی ایسے لقب سے ملقب نہ کرے جس سے پکارا جانا وہ ناپسند کرتا ہے، اور یہی (تَنَابُزْ) ’’یعنی ایک دوسرے کو برا لقب دینا‘‘ ہے۔ رہے غیر مذموم القاب، تو وہ اس حکم میں داخل نہیں ہیں۔ ﴿ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِيۡمَانِ﴾ ’’ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے۔‘‘ یعنی کتنی بری ہے وہ چیز جو تم نے ایمان اور شریعت پر عمل کے بدلے حاصل کی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی سے اعراض کے ذریعے سے فسق و عصیان کے نام کی مقتضی ہے جو کہ تنابز بالالقاب ہے۔ ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَتُبۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔‘‘ اور یہی چیز بندے پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اپنے مسلمان بھائی سے اس کے حق کو حلال کرا کے، اس کے لیے استغفار کر کے، اور اس کی جو مذمت کی گئی ہے اس کے مقابلے میں اس کی مدح و ستائش کر کے اس کا حق ادا کرے ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَتُبۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور جس نے توبہ نہیں کی، تو وہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘ لوگوں کی دو اقسام ہیں1 اپنی جان پر ظلم کرنے والا وہ شخص جو توبہ نہیں کرتا۔ 2توبہ کر کے فوز و فلاح سے بہرہ مند ہونے والا۔ ان دو اقسام کے سوا اور کوئی قسم نہیں۔
49:12يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱجۡتَنِبُواْ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعۡضَ ٱلظَّنِّ إِثۡمٞۖ وَلَا تَجَسَّسُواْ وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن يَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِيهِ مَيۡتٗا فَكَرِهۡتُمُوهُۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ تَوَّابٞ رَّحِيمٞ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اجتناب کرو بہت سی بدگمانیوں سے، بلاشبہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اور نہ ا یک د وسرے کی جاسوسی کرو اور نہ غیبت کرے تم میں سے کوئی دوسرے کی کیا پسند کرتا ہے (کوئی) ایک تم میں سے یہ کہ وہ کھائے گوشت اپنے بھائی کا جبکہ ہو وہ(بھائی) مردہ؟ پس تم ناپسند کرتے ہو اس کو اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (12)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے بارے میں بدگمانی سے روکا ہے، اس لیے کہ ﴿ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ﴾ ’’بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ ظن و گمان ہے جو حقیقت اور قرینے سے خالی ہے ، مثلاً: وہ بدگمانی جس کے ساتھ بہت سے اقوال بد اور افعال بد مقرون ہوتے ہیں۔ کیونکہ دل کے اندر بدگمانی کے جڑ پکڑ لینے سے، بدگمانی کرنے والا شخص صرف بدگمانی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے بارے میں باتیں اور ایسے کام کرتا رہتا ہے جس کا کرنا مناسب نہیں، نیز یہ چیز مسلمان کے بارے میں بدگمانی، اس کے ساتھ بغض و عداوت کو متضمن ہے جس کے برعکس معاملے کا حکم دیا گیا ہے۔ ﴿ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا﴾ یعنی مسلمانوں کے پوشید معاملات کی ٹوہ لگاؤ نہ ان کا پیچھا کرو۔ مسلمان کو اس کے اپنے حال پر چھوڑ دو اور اس کی ان لغزشوں کو نظر انداز کر دو جن کی اگر تفتیش کی جائے تو نامناسب امور ظاہر ہوں۔ ﴿ وَلَا يَغۡتَبۡ بَّعۡضُكُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔‘‘ غیبت کا معنی یہ ہے، جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا: ’’تو اپنے بھائی کی کسی خامی کا ذکر کرے جس کے ظاہر کرنے کو وہ ناپسند کرتا ہو ...خواہ وہ خامی اس کے اندر موجود ہو۔‘‘ (صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2589) پھر اللہ تعالیٰ نے غیبت سے نفرت دلانے کے لیے مثال دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ يَّاۡكُلَ لَحۡمَ اَخِيۡهِ مَيۡتًا فَؔكَرِهۡتُمُوۡهُ۠﴾’’کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ پس اس سے تم نفرت کرو گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے، جو نفوس انسانی کے لیے انتہائی ناپسندیدہ چیز ہے۔ پس جس طرح تم اپنے بھائی، خاص طور پر بے جان اور مردہ بھائی کا گوشت کھانا ناپسند کرتے ہو اسی طرح تمھیں اس کی غیبت کرنا اور زندہ حالت میں اس کا گوشت کھانے کو ناپسند کرنا چاہیے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘(تَوَّاب) وہ ہستی ہے جو اپنے بندے کو توبہ کا حکم دے کر اسے توبہ کی توفیق سے نوازتی ہے، پھر اس کی توبہ قبول کر کے اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے کہ اس نے ان کو اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے لیے فائدہ مند ہے اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں غیبت سے نہایت سختی سے ڈرایا گیا ہے، نیز یہ کہ غیبت کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔
49:13يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقۡنَٰكُم مِّن ذَكَرٖ وَأُنثَىٰ وَجَعَلۡنَٰكُمۡ شُعُوبٗا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓاْۚ إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتۡقَىٰكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٞ
اے لوگو! بلاشبہ ہم نے پیدا کیا تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے، اور بنائے ہم نے تمھارے خاندان اور قبیلے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بلاشبہ زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے ہاں، (وہ ہے جو) زیادہ پرہیز گار ہے تم میں سے بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا خوب خبردار ہے (13)
[13] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی آدم کو ایک ہی اصل اور ایک ہی جنس سے پیدا کیا ہے تمام بنی آدم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا۔ تمام بنی آدم، حضرت آدم اور حواi کی طرف لوٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی نسل میں سے بے شمار مردوں اور عورتوں کو پھیلایا، پھر ان کو قبیلوں اور گروہوں میں تقسیم کیا ، یعنی چھوٹے بڑے قبیلوں میں تاکہ وہ ایک دوسرے کی پہچان کر رکھیں۔ کیونکہ اگر ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت کو قائم رکھے تو وہ تعارف حاصل نہیں ہو سکتا جس پر ایک دوسرے کی مدد اور باہمی تعاون، باہمی توارث اور عزیز و اقارب کے حقوق کا قیام مرتب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ وہ امور حاصل ہو سکیں جو باہمی تعارف اور الحاقِ نسب پر موقوف ہیں۔ مگر عزت کا معیار تقویٰ ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ شعار ہے اور یہ وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا اور گناہوں سے رکنے والا ہے۔ وہ شخص سب سے زیادہ عزت والا نہیں جس کا کنبہ قبیلہ سب سے بڑا اور سب سے زیادہ بلند حسب و نسب رکھتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے وہ جانتا ہے کہ ان میں کون ظاہر اور باطن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور کون اللہ تعالیٰ سے اپنے ظاہر میں ڈرتا ہے نہ باطن میں پس اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ایسی جزا دے گا جس کا مستحق وہ ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسب و نسب کی معرفت مطلوب اور مشروع ہے کیونکہ اسی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے قوم اور قبیلے بنائے۔
49:14۞قَالَتِ ٱلۡأَعۡرَابُ ءَامَنَّاۖ قُل لَّمۡ تُؤۡمِنُواْ وَلَٰكِن قُولُوٓاْ أَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ ٱلۡإِيمَٰنُ فِي قُلُوبِكُمۡۖ وَإِن تُطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَا يَلِتۡكُم مِّنۡ أَعۡمَٰلِكُمۡ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
49:15إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُواْ وَجَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّـٰدِقُونَ
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
49:16قُلۡ أَتُعَلِّمُونَ ٱللَّهَ بِدِينِكُمۡ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
49:17يَمُنُّونَ عَلَيۡكَ أَنۡ أَسۡلَمُواْۖ قُل لَّا تَمُنُّواْ عَلَيَّ إِسۡلَٰمَكُمۖ بَلِ ٱللَّهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ أَنۡ هَدَىٰكُمۡ لِلۡإِيمَٰنِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
49:18إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لائے، کہہ دیجیے! نہیں ایمان لائے تم اور لیکن تم کہو ہم اسلام لائے، اور ابھی تک نہیں داخل ہوا ایمان تمھارے دلوں میں اور اگر تم اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی (تو) نہیں کم کرے گا وہ تمھارے اعمال (کی جزا) سے کچھ بھی، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے (14) یقیناً (سچے) مومن (تو) وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، پھر نہ شک کیا انھوں نے، اور جہاد کیا انھوں نے ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہی لوگ سچے (مومن) ہیں (15) کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو اپنے دین کی؟ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (16) وہ (دیہاتی) احسان جتاتے ہیں آپ پر یہ کہ وہ مسلمان ہوئے، کہہ دیجیے! نہ احسان جتاؤ تم مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا، بلکہ اللہ احسان فرماتا ہےتم پر یہ کہ اس نے ہدایت دی تمھیں ایمان کی اگر ہو تم سچے (17) بلاشبہ اللہ جانتا ہے چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اس کو جو تم عمل کرتے ہو (18)
[14] اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ’’ہم ایمان لائے‘‘ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا﴾ ’’لیکن کہو ہم اسلام لائے۔‘‘ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾’’اور ‘‘اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ﴾سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
[15]﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُوۡا وَجٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰؔدِقُوۡنَ﴾ ’’یہی لوگ سچے ہیں‘‘ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
[16]﴿ قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰهَ بِدِيۡنِكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
[17] یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہﷺ پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ يَمُنُّوۡنَ عَلَيۡكَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا١ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَيَّ اِسۡلَامَكُمۡ١ۚ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ هَدٰؔىكُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔‘‘
[18]﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں، بیابانوں کی سختیوں میں اور ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام:6؍59)’’کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔‘‘ وہ تمھارے اعمال کو شمار کرتا ہے، وہ تمھیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بے پایاں رحمت اور حکمتِ بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔