QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Ahqaf

ٱلْأَحْقَاف

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 46 · 35 verses

46:1

حمٓ

حٰمٓ(1) نازل کرنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے، جو بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(2) نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، مگر ساتھ حق اور وقت مقرر کے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان چیزوں سے (جن سے) وہ ڈرائے گئے، منہ موڑنے والے ہیں(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنی کتاب عزیز کی ثنا اور تعظیم ہے اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ وہ اس کتاب کی روشنی سے راہ نمائی حاصل کریں، اس کی آیات میں تدبر کریں اور اس کے خزانوں کا استخراج کریں۔ [3] جب اللہ تعالی نے اس کتاب کو نازل کرنے کے بارے میں فرمایا، جو امرونہی کو متضمن ہے، تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا بھی ذکر فرمایا پس اس نے خلق و امر کو جمع کر دیا۔ ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ﴾(الاعراف:7؍54) جیسا کہ فرمایا: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے۔‘‘اور جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ يُنَزِّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ۰۰ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ﴾(النحل:16؍2) ’’اللہ ہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو (اس بات سے) آگاہ کر دو کہ بلاشبہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘ تو اللہ تعالی ہی نے مکلفین کو پیدا کیا، ان کے مساکن بنائے، ان کے لیے زمین اور آسمان کی ہر چیز کو مسخر کر دیا‘‘پھر ان کی طرف رسول بھیجے، ان پر اپنی کتابیں نازل کیں، انھیں نیکی کا حکم دیا اور بدی سے روکا، انھیں خبردار کیا کہ یہ دنیا عمل کا گھر اور اہل عمل کے لیے گزرگاہ ہے، یہ دنیا اقامت کی جگہ نہیں کہ اس کے رہنے والے یہاں سے کوچ نہیں کریں گے، وہ عنقریب یہاں سے جائے قرار اور ہمیشہ رہنے والے دائمی ٹھکانے اور اقامت گاہ میں منتقل ہوں گے۔وہ اس گھر میں، اپنے اعمال کی جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں، کامل اور وافر جزا پائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالی نے اس گھر کے اثبات کے لیے دلائل قائم کیے اور نمونے کے طور پر اسی دنیا میں بندوں کو ثواب و عقاب کا مزا چکھایا تاکہ امر محبوب کی طلب اور امر مرہوب سے دور بھاگنے کا داعیہ زیادہ شدت سے پیدا ہو۔ بنابریں فرمایا:﴿ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ﴾ ’’ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، برحق پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو عبث اور بے کار پیدا نہیں کیا بلکہ اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے ان کے خالق کی عظمت کو پہچانیں اور اس کے کمال پر ان سے استدلال کریں اور تاکہ بندے جان لیں کہ وہ ہستی جس نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ بندوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، نیز آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان کی بقا کا وقت ﴿ اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’ایک مدت مقررہ تک ہے۔‘‘ معین ہے۔جب اللہ تعالی نے اس حقیقت سے آگاہ فرمایا… اور وہ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے… اس پر دلائل قائم کیے اور راہ حق کو روشن کر دیا، تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ مخلوق میں سے ایک گروہ نے حق سے روگردانی کی اور انبیاء و رسل کی دعوت کو ٹھکرایا۔ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے، وہ اس سے اعراض کرلیتے ہیں۔‘‘ اور رہے اہل ایمان، تو انھیں جب حقیقت حال کا علم ہوا تو انھوں نے اپنے رب کی نصیحتوں کو قبول کر کے ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور اطاعت و تعظیم کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ پس وہ ہر بھلائی حاصل کرنے اور ہر برائی کو دور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
46:2

تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ

حٰمٓ(1) نازل کرنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے، جو بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(2) نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، مگر ساتھ حق اور وقت مقرر کے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان چیزوں سے (جن سے) وہ ڈرائے گئے، منہ موڑنے والے ہیں(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنی کتاب عزیز کی ثنا اور تعظیم ہے اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ وہ اس کتاب کی روشنی سے راہ نمائی حاصل کریں، اس کی آیات میں تدبر کریں اور اس کے خزانوں کا استخراج کریں۔ [3] جب اللہ تعالی نے اس کتاب کو نازل کرنے کے بارے میں فرمایا، جو امرونہی کو متضمن ہے، تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا بھی ذکر فرمایا پس اس نے خلق و امر کو جمع کر دیا۔ ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ﴾(الاعراف:7؍54) جیسا کہ فرمایا: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے۔‘‘اور جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ يُنَزِّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ۰۰ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ﴾(النحل:16؍2) ’’اللہ ہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو (اس بات سے) آگاہ کر دو کہ بلاشبہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘ تو اللہ تعالی ہی نے مکلفین کو پیدا کیا، ان کے مساکن بنائے، ان کے لیے زمین اور آسمان کی ہر چیز کو مسخر کر دیا‘‘پھر ان کی طرف رسول بھیجے، ان پر اپنی کتابیں نازل کیں، انھیں نیکی کا حکم دیا اور بدی سے روکا، انھیں خبردار کیا کہ یہ دنیا عمل کا گھر اور اہل عمل کے لیے گزرگاہ ہے، یہ دنیا اقامت کی جگہ نہیں کہ اس کے رہنے والے یہاں سے کوچ نہیں کریں گے، وہ عنقریب یہاں سے جائے قرار اور ہمیشہ رہنے والے دائمی ٹھکانے اور اقامت گاہ میں منتقل ہوں گے۔وہ اس گھر میں، اپنے اعمال کی جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں، کامل اور وافر جزا پائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالی نے اس گھر کے اثبات کے لیے دلائل قائم کیے اور نمونے کے طور پر اسی دنیا میں بندوں کو ثواب و عقاب کا مزا چکھایا تاکہ امر محبوب کی طلب اور امر مرہوب سے دور بھاگنے کا داعیہ زیادہ شدت سے پیدا ہو۔ بنابریں فرمایا:﴿ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ﴾ ’’ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، برحق پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو عبث اور بے کار پیدا نہیں کیا بلکہ اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے ان کے خالق کی عظمت کو پہچانیں اور اس کے کمال پر ان سے استدلال کریں اور تاکہ بندے جان لیں کہ وہ ہستی جس نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ بندوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، نیز آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان کی بقا کا وقت ﴿ اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’ایک مدت مقررہ تک ہے۔‘‘ معین ہے۔جب اللہ تعالی نے اس حقیقت سے آگاہ فرمایا… اور وہ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے… اس پر دلائل قائم کیے اور راہ حق کو روشن کر دیا، تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ مخلوق میں سے ایک گروہ نے حق سے روگردانی کی اور انبیاء و رسل کی دعوت کو ٹھکرایا۔ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے، وہ اس سے اعراض کرلیتے ہیں۔‘‘ اور رہے اہل ایمان، تو انھیں جب حقیقت حال کا علم ہوا تو انھوں نے اپنے رب کی نصیحتوں کو قبول کر کے ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور اطاعت و تعظیم کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ پس وہ ہر بھلائی حاصل کرنے اور ہر برائی کو دور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
46:3

مَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَأَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَمَّآ أُنذِرُواْ مُعۡرِضُونَ

حٰمٓ(1) نازل کرنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے، جو بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(2) نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، مگر ساتھ حق اور وقت مقرر کے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان چیزوں سے (جن سے) وہ ڈرائے گئے، منہ موڑنے والے ہیں(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنی کتاب عزیز کی ثنا اور تعظیم ہے اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ وہ اس کتاب کی روشنی سے راہ نمائی حاصل کریں، اس کی آیات میں تدبر کریں اور اس کے خزانوں کا استخراج کریں۔ [3] جب اللہ تعالی نے اس کتاب کو نازل کرنے کے بارے میں فرمایا، جو امرونہی کو متضمن ہے، تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا بھی ذکر فرمایا پس اس نے خلق و امر کو جمع کر دیا۔ ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ﴾(الاعراف:7؍54) جیسا کہ فرمایا: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے۔‘‘اور جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ يُنَزِّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ۰۰ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ﴾(النحل:16؍2) ’’اللہ ہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو (اس بات سے) آگاہ کر دو کہ بلاشبہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘ تو اللہ تعالی ہی نے مکلفین کو پیدا کیا، ان کے مساکن بنائے، ان کے لیے زمین اور آسمان کی ہر چیز کو مسخر کر دیا‘‘پھر ان کی طرف رسول بھیجے، ان پر اپنی کتابیں نازل کیں، انھیں نیکی کا حکم دیا اور بدی سے روکا، انھیں خبردار کیا کہ یہ دنیا عمل کا گھر اور اہل عمل کے لیے گزرگاہ ہے، یہ دنیا اقامت کی جگہ نہیں کہ اس کے رہنے والے یہاں سے کوچ نہیں کریں گے، وہ عنقریب یہاں سے جائے قرار اور ہمیشہ رہنے والے دائمی ٹھکانے اور اقامت گاہ میں منتقل ہوں گے۔وہ اس گھر میں، اپنے اعمال کی جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں، کامل اور وافر جزا پائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالی نے اس گھر کے اثبات کے لیے دلائل قائم کیے اور نمونے کے طور پر اسی دنیا میں بندوں کو ثواب و عقاب کا مزا چکھایا تاکہ امر محبوب کی طلب اور امر مرہوب سے دور بھاگنے کا داعیہ زیادہ شدت سے پیدا ہو۔ بنابریں فرمایا:﴿ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ﴾ ’’ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، برحق پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو عبث اور بے کار پیدا نہیں کیا بلکہ اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے ان کے خالق کی عظمت کو پہچانیں اور اس کے کمال پر ان سے استدلال کریں اور تاکہ بندے جان لیں کہ وہ ہستی جس نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ بندوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، نیز آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان کی بقا کا وقت ﴿ اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’ایک مدت مقررہ تک ہے۔‘‘ معین ہے۔جب اللہ تعالی نے اس حقیقت سے آگاہ فرمایا… اور وہ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے… اس پر دلائل قائم کیے اور راہ حق کو روشن کر دیا، تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ مخلوق میں سے ایک گروہ نے حق سے روگردانی کی اور انبیاء و رسل کی دعوت کو ٹھکرایا۔ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے، وہ اس سے اعراض کرلیتے ہیں۔‘‘ اور رہے اہل ایمان، تو انھیں جب حقیقت حال کا علم ہوا تو انھوں نے اپنے رب کی نصیحتوں کو قبول کر کے ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور اطاعت و تعظیم کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ پس وہ ہر بھلائی حاصل کرنے اور ہر برائی کو دور کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
46:4

قُلۡ أَرَءَيۡتُم مَّا تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُواْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٞ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِۖ ٱئۡتُونِي بِكِتَٰبٖ مِّن قَبۡلِ هَٰذَآ أَوۡ أَثَٰرَةٖ مِّنۡ عِلۡمٍ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تو! جن چیزوں کو تم پکارتے (پوجتے) ہو سوائے اللہ کے، دکھاؤ مجھے کیا چیز پیدا کی ہے، انھوں نے زمین میں سے؟ یا ہے ان کا کوئی حصہ آسمانوں میں؟ لاؤ تم میرے پاس کوئی کتاب پہلے سے (نازل شدہ) اس (قرآن) سے، یا بقیہ علم سے، اگر ہو تم سچے(4) اور کون شخص زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پکارتا ہے سوائے اللہ کے اس کو کہ نہیں جواب دے سکتا وہ اسے روز قیامت تک؟ اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں(5) اور جب اکٹھے کیے جائیں گے لوگ، تو ہوں گے وہ ان کے دشمن، اور ہوں گے وہ ان کی عبادت سے کفر (انکار) کرنے والے(6) [4]﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہرایا، جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جن کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے کی قدرت ہی رکھتے ہیں۔ان کے معبودوں کی بے بسی بیان کرتے ہوئے، نیز یہ کہ وہ عبادت کے ذرہ بھر بھی مستحق نہیں۔ ان سے کہہ دیجیے:﴿ اَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٌ فِي السَّمٰوٰتِ﴾ ’’مجھے دکھاؤ کہ انھوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔‘‘ کیا انھوں نے اجرام فلکی میں کچھ پیدا کیا، انھوں نے پہاڑ پیدا کیے یا دریا جاری کیے۔ کیا انھوں نے روئے زمین پر حیوانات پھیلائے یا درخت اگائے اور کیا انھوں نے تمام چیزوں کی تخلیق میں معاونت کی ہے۔ دوسروں کی تخلیق تو کجا، خود ان کے لیے اپنے اقرار کے مطابق وہ اپنے بارے میں بھی کسی چیز پر قادر نہیں ہیں، پس یہ اس حقیقت پر قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالی کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ پھر اللہ تعالی نے ان کے پاس نقلی دلیل کے عدم وجود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِيۡتُوۡنِيۡ بِكِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ هٰؔذَاۤ﴾ ’’اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ ۔‘‘ یعنی کوئی ایسی کتاب جو شرک کی دعوت دیتی ہو۔ ﴿ اَوۡ اَثٰرَةٍ مِّنۡ عِلۡمٍ﴾ یا رسولوں کی طرف سے کوئی موروث علم ہو جو ان عقائد کا حکم دیتا ہو… اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ انبیاء و رسل سے منقول کوئی دلیل لانے سے عاجز ہیں بلکہ ہم جزم و یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ تمام انبیاء و مرسلین نے اپنے رب کی توحید کی دعوت دی ہے اور اس کے ساتھ شرک کرنے سے روکا ہے اور یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو ان کے علم میں سے منقول ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ﴾(النحل:16؍36) ’’اور بلاشبہ ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا (جو ان کو حکم دیتا تھا)کہ اللہ تعالی کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے اپنی قوم سے کہا: ﴿ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾(الاعراف:7؍59) ’’اللہ کی عبادت کرو، تمھارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ شرک کے بارے میں مشرکین کی بحث و جدال کسی برہان اور دلیل پر مبنی نہیں، ان کا اعتماد جھوٹے نظریات، گھٹیا آراء اور فاسد عقل پر ہے۔ان کے احوال کا استقرا اور ان کے علوم و اعمال کا تتبع ان نظریات کے فاسد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز ان لوگوں کے احوال پر غور کرنے سے ان کا بطلان ثابت ہوتا ہے جنھوں نے طاغوت کی عبادت میں اپنی عمریں گنوا دیں۔ کیا طاغوت نے دنیا یا آخرت میں انھیں کوئی فائدہ دیا؟ [6,5] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا کسی ایسی ذات کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب نہ دے سکے۔‘‘ یعنی جتنی مدت اس کا دنیا میں قیام ہے وہ اس سے ذرہ بھر فائدہ نہیں اٹھا سکتا ﴿ وَهُمۡ عَنۡ دُعَآىِٕهِمۡ غٰفِلُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں۔‘‘ وہ ان کی کوئی دعا سن سکتے ہیں نہ ان کی کسی پکار کا جواب دے سکتے ہیں یہ ان کا دنیا میں حال ہے اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔ ﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ﴾ ’’اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔‘‘ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے ﴿ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘
46:5

وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّن يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسۡتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَهُمۡ عَن دُعَآئِهِمۡ غَٰفِلُونَ

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تو! جن چیزوں کو تم پکارتے (پوجتے) ہو سوائے اللہ کے، دکھاؤ مجھے کیا چیز پیدا کی ہے، انھوں نے زمین میں سے؟ یا ہے ان کا کوئی حصہ آسمانوں میں؟ لاؤ تم میرے پاس کوئی کتاب پہلے سے (نازل شدہ) اس (قرآن) سے، یا بقیہ علم سے، اگر ہو تم سچے(4) اور کون شخص زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پکارتا ہے سوائے اللہ کے اس کو کہ نہیں جواب دے سکتا وہ اسے روز قیامت تک؟ اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں(5) اور جب اکٹھے کیے جائیں گے لوگ، تو ہوں گے وہ ان کے دشمن، اور ہوں گے وہ ان کی عبادت سے کفر (انکار) کرنے والے(6) [4]﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہرایا، جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جن کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے کی قدرت ہی رکھتے ہیں۔ان کے معبودوں کی بے بسی بیان کرتے ہوئے، نیز یہ کہ وہ عبادت کے ذرہ بھر بھی مستحق نہیں۔ ان سے کہہ دیجیے:﴿ اَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٌ فِي السَّمٰوٰتِ﴾ ’’مجھے دکھاؤ کہ انھوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔‘‘ کیا انھوں نے اجرام فلکی میں کچھ پیدا کیا، انھوں نے پہاڑ پیدا کیے یا دریا جاری کیے۔ کیا انھوں نے روئے زمین پر حیوانات پھیلائے یا درخت اگائے اور کیا انھوں نے تمام چیزوں کی تخلیق میں معاونت کی ہے۔ دوسروں کی تخلیق تو کجا، خود ان کے لیے اپنے اقرار کے مطابق وہ اپنے بارے میں بھی کسی چیز پر قادر نہیں ہیں، پس یہ اس حقیقت پر قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالی کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ پھر اللہ تعالی نے ان کے پاس نقلی دلیل کے عدم وجود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِيۡتُوۡنِيۡ بِكِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ هٰؔذَاۤ﴾ ’’اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ ۔‘‘ یعنی کوئی ایسی کتاب جو شرک کی دعوت دیتی ہو۔ ﴿ اَوۡ اَثٰرَةٍ مِّنۡ عِلۡمٍ﴾ یا رسولوں کی طرف سے کوئی موروث علم ہو جو ان عقائد کا حکم دیتا ہو… اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ انبیاء و رسل سے منقول کوئی دلیل لانے سے عاجز ہیں بلکہ ہم جزم و یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ تمام انبیاء و مرسلین نے اپنے رب کی توحید کی دعوت دی ہے اور اس کے ساتھ شرک کرنے سے روکا ہے اور یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو ان کے علم میں سے منقول ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ﴾(النحل:16؍36) ’’اور بلاشبہ ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا (جو ان کو حکم دیتا تھا)کہ اللہ تعالی کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے اپنی قوم سے کہا: ﴿ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾(الاعراف:7؍59) ’’اللہ کی عبادت کرو، تمھارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ شرک کے بارے میں مشرکین کی بحث و جدال کسی برہان اور دلیل پر مبنی نہیں، ان کا اعتماد جھوٹے نظریات، گھٹیا آراء اور فاسد عقل پر ہے۔ان کے احوال کا استقرا اور ان کے علوم و اعمال کا تتبع ان نظریات کے فاسد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز ان لوگوں کے احوال پر غور کرنے سے ان کا بطلان ثابت ہوتا ہے جنھوں نے طاغوت کی عبادت میں اپنی عمریں گنوا دیں۔ کیا طاغوت نے دنیا یا آخرت میں انھیں کوئی فائدہ دیا؟ [6,5] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا کسی ایسی ذات کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب نہ دے سکے۔‘‘ یعنی جتنی مدت اس کا دنیا میں قیام ہے وہ اس سے ذرہ بھر فائدہ نہیں اٹھا سکتا ﴿ وَهُمۡ عَنۡ دُعَآىِٕهِمۡ غٰفِلُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں۔‘‘ وہ ان کی کوئی دعا سن سکتے ہیں نہ ان کی کسی پکار کا جواب دے سکتے ہیں یہ ان کا دنیا میں حال ہے اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔ ﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ﴾ ’’اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔‘‘ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے ﴿ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘
46:6

وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُواْ لَهُمۡ أَعۡدَآءٗ وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمۡ كَٰفِرِينَ

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تو! جن چیزوں کو تم پکارتے (پوجتے) ہو سوائے اللہ کے، دکھاؤ مجھے کیا چیز پیدا کی ہے، انھوں نے زمین میں سے؟ یا ہے ان کا کوئی حصہ آسمانوں میں؟ لاؤ تم میرے پاس کوئی کتاب پہلے سے (نازل شدہ) اس (قرآن) سے، یا بقیہ علم سے، اگر ہو تم سچے(4) اور کون شخص زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پکارتا ہے سوائے اللہ کے اس کو کہ نہیں جواب دے سکتا وہ اسے روز قیامت تک؟ اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں(5) اور جب اکٹھے کیے جائیں گے لوگ، تو ہوں گے وہ ان کے دشمن، اور ہوں گے وہ ان کی عبادت سے کفر (انکار) کرنے والے(6) [4]﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہرایا، جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جن کے اختیار میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے کی قدرت ہی رکھتے ہیں۔ان کے معبودوں کی بے بسی بیان کرتے ہوئے، نیز یہ کہ وہ عبادت کے ذرہ بھر بھی مستحق نہیں۔ ان سے کہہ دیجیے:﴿ اَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٌ فِي السَّمٰوٰتِ﴾ ’’مجھے دکھاؤ کہ انھوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔‘‘ کیا انھوں نے اجرام فلکی میں کچھ پیدا کیا، انھوں نے پہاڑ پیدا کیے یا دریا جاری کیے۔ کیا انھوں نے روئے زمین پر حیوانات پھیلائے یا درخت اگائے اور کیا انھوں نے تمام چیزوں کی تخلیق میں معاونت کی ہے۔ دوسروں کی تخلیق تو کجا، خود ان کے لیے اپنے اقرار کے مطابق وہ اپنے بارے میں بھی کسی چیز پر قادر نہیں ہیں، پس یہ اس حقیقت پر قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالی کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ پھر اللہ تعالی نے ان کے پاس نقلی دلیل کے عدم وجود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِيۡتُوۡنِيۡ بِكِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ هٰؔذَاۤ﴾ ’’اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ ۔‘‘ یعنی کوئی ایسی کتاب جو شرک کی دعوت دیتی ہو۔ ﴿ اَوۡ اَثٰرَةٍ مِّنۡ عِلۡمٍ﴾ یا رسولوں کی طرف سے کوئی موروث علم ہو جو ان عقائد کا حکم دیتا ہو… اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ انبیاء و رسل سے منقول کوئی دلیل لانے سے عاجز ہیں بلکہ ہم جزم و یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ تمام انبیاء و مرسلین نے اپنے رب کی توحید کی دعوت دی ہے اور اس کے ساتھ شرک کرنے سے روکا ہے اور یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو ان کے علم میں سے منقول ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ﴾(النحل:16؍36) ’’اور بلاشبہ ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا (جو ان کو حکم دیتا تھا)کہ اللہ تعالی کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے اپنی قوم سے کہا: ﴿ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾(الاعراف:7؍59) ’’اللہ کی عبادت کرو، تمھارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ شرک کے بارے میں مشرکین کی بحث و جدال کسی برہان اور دلیل پر مبنی نہیں، ان کا اعتماد جھوٹے نظریات، گھٹیا آراء اور فاسد عقل پر ہے۔ان کے احوال کا استقرا اور ان کے علوم و اعمال کا تتبع ان نظریات کے فاسد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز ان لوگوں کے احوال پر غور کرنے سے ان کا بطلان ثابت ہوتا ہے جنھوں نے طاغوت کی عبادت میں اپنی عمریں گنوا دیں۔ کیا طاغوت نے دنیا یا آخرت میں انھیں کوئی فائدہ دیا؟ [6,5] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا کسی ایسی ذات کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب نہ دے سکے۔‘‘ یعنی جتنی مدت اس کا دنیا میں قیام ہے وہ اس سے ذرہ بھر فائدہ نہیں اٹھا سکتا ﴿ وَهُمۡ عَنۡ دُعَآىِٕهِمۡ غٰفِلُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں۔‘‘ وہ ان کی کوئی دعا سن سکتے ہیں نہ ان کی کسی پکار کا جواب دے سکتے ہیں یہ ان کا دنیا میں حال ہے اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔ ﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ﴾ ’’اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔‘‘ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے ﴿ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘
46:7

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٌ

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح ، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر (انکار) کیا حق (قرآن) کا، جب آیا وہ ان کے پاس، یہ جادو ہے ظاہر(7)بلکہ وہ کہتے ہیں کہ (خود) گھڑا ہے اس نے اس کو، کہہ دیجیے: اگر (خود) گھڑا ہے میں نے اس کو تو نہیں اختیار رکھتے تم میرے لیے اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، وہ خوب جانتا ہے ان باتوں کو کہ گفتگو کرتے ہو تم اس(قرآن)کے بارے میں کافی ہے وہ(اللہ)گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، اور وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے(8) کہہ دیجیے: نہیں ہوں میں انوکھا رسولوں میں سے اور نہیں جانتا میں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور نہ تمھارے ساتھ نہیں پیروی کرتا میں مگر اسی کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف، اور نہیں میں مگر ڈرانے والا ظاہر(9) کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ تو! اگر ہو وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے، اور کفر کیا تم نے اس کے ساتھ، اور گواہی دی ایک گواہ نے بنی اسرائیل میں سے اس جیسی (کتاب) پر، پھر ایمان لایا وہ اور تکبر کیا تم نے بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (10) [7] اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں ﴿ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’ہماری واضح آیات‘‘ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔یہ آیات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’حق کے بارے میں، جب حق ان کے پاس آیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے‘‘یعنی ظاہر جادو ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ان کا یہ قول قلب حقائق کے زمرے میں آتا ہے، جو ضعیف العقل لوگوں میں میں رواج پاسکتا ہے۔ورنہ حق، جسے محمد مصطفیﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور جادو کے مابین بہت بڑا تفاوت اور منافات ہے جو زمین و آسمان کے تفاوت سے بڑھ کر ہے۔ وہ حق، جو غالب اور افلاک کی بلندیوں پر پہنچا ہوا ہے جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بڑھ کر ہے، جس کی حقانیت پر دلائلِ آفاق اور دلائلِ نفس دلالت کرتے ہیں، جس کے سامنے اصحاب بصیرت اور خردمند لوگ سرنگوں ہیں اور اس کا اقرار کرتے ہیں،اسے باطل پر کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے؟ جو جادو ہے، جو ظالم، گمراہ، خبیث النفس اور خبیث العمل شخص کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتا۔ پس جادو ایسے ہی شخص کے لیے مناسب اور اس کے موافق حال ہوتا ہے۔کیا یہ باطل کے سوا کچھ اور ہے؟ [8]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ یعنی کیا وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمدﷺ نے خود اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے نہیں ہے۔ ﴿قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ﴾ ’’اگر میں نے اسے بنایا ہے۔‘‘ پس اللہ مجھ پر قدرت رکھتا ہے اور جس کام میں تم مشغول ہو اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اس نے مجھے اس افترا پردازی کی سزا کیوں کر نہ دی جس کو تم میری طرف منسوب کرتے ہو؟ پس کیا ﴿ فَلَا تَمۡلِكُوۡنَ لِيۡ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ اگر اللہ تعالی مجھے کسی ضرر میں مبتلا کرنے یا رحمت سے نوازنے کا ارادہ کرے تو تم اللہ تعالی کے مقابلے میں میرے لیے کسی بھی چیز کا اختیار رکھتے ہو؟ ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَا تُفِيۡضُوۡنَ فِيۡهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ﴾ ’’وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے۔‘‘ پس اگر میں نے اللہ تعالی پر جھوٹ گھڑا ہوتا تو مجھے اپنی گرفت میں لے کر ایسی سزا دیتا جسے ہر کوئی دیکھتا، کیونکہ اگر میں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو یہ سب سے بڑی افترا پردازی ہوتی۔ پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان کو، حق کے بارے میں ان کے عناد اور مخاصمت کے باوجود توبہ کی طرف بلایا اور فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾ یعنی توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو جاؤ ، اپنے گناہوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالی تمھارے گناہ بخش دے گا، تم پر رحم فرمائے گا، تمھیں بھلائی کی توفیق سے نوازے گا اور تمھیں بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ [9]﴿ قُلۡ مَا كُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ﴾ یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں جو تمھارے پاس آیا ہوں کہ تم میری رسالت کو عجیب و غریب پاؤ اور میری دعوت کا انکار کرو، مجھ سے پہلے بھی انبیاء و رسل آچکے ہیں، میری دعوت اور ان کی دعوت میں موافقت ہے ، پھر تم کس بنا پر میری رسالت کا انکار کر رہے ہو۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرِيۡ مَا يُفۡعَلُ بِيۡ وَلَا بِكُمۡ﴾ ’’میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟‘‘ یعنی میں تو صرف ایک بشر ہوں، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں، میرے اور تمھارے بارے میں صرف اللہ تعالی ہی تصرف کرتا ہے، مجھ پر اور تم پر وہی اپنے فیصلے نافذ کرتا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ پیش نہیں کرتا ﴿ وَمَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور میں تو صرف علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔‘‘ لہٰذا اگر تم میری رسالت کو مانتے ہوئے میری دعوت کو قبول کر لو تو یہ دنیا و آخرت میں تمھاری خوش نصیبی اور تمھارا بہرۂ وافر ہے۔ اور اگر تم اس دعوت کو ٹھکرا دو تو تمھارا حساب اللہ تعالی کے ذمہ ہے۔میں نے تو تمھیں برے انجام سے خبردار کر دیا ہے اور جس نے خبردار کر دیا وہ بریٔ الذمہ ہے۔ [10]﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ وَكَفَرۡتُمۡ بِهٖ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَلٰى مِثۡلِهٖ فَاٰمَنَ وَاسۡتَكۡبَرۡتُمۡ﴾ یعنی مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ تعالی کی طرف سے ہو اور اہل کتاب میں سے ان توفیق یافتہ لوگوں نے بھی اس کی صحت کی شہادت دی ہو، جن کے پاس حق ہے اور وہ پہچانتے ہیں کہ یہ بھی حق ہے، پس وہ اس پر ایمان لے آئے اور ہدایت یافتہ ہوئے، تو انبیاء کرام کی خبر اور ان کی متبعین میں مطابقت ہوگئی۔اے جاہل اور کم عقل لوگو!کیا یہ (تمھارا رویہ)سب سے بڑے ظلم اور شدید ترین کفر کے سوا کچھ اور ہے؟ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ اور یہ ظلم ہے کہ حق قبول کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود تکبر سے اسے ٹھکرا دیا جائے۔
46:8

أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ إِنِ ٱفۡتَرَيۡتُهُۥ فَلَا تَمۡلِكُونَ لِي مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِۚ كَفَىٰ بِهِۦ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۖ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح ، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر (انکار) کیا حق (قرآن) کا، جب آیا وہ ان کے پاس، یہ جادو ہے ظاہر(7)بلکہ وہ کہتے ہیں کہ (خود) گھڑا ہے اس نے اس کو، کہہ دیجیے: اگر (خود) گھڑا ہے میں نے اس کو تو نہیں اختیار رکھتے تم میرے لیے اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، وہ خوب جانتا ہے ان باتوں کو کہ گفتگو کرتے ہو تم اس(قرآن)کے بارے میں کافی ہے وہ(اللہ)گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، اور وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے(8) کہہ دیجیے: نہیں ہوں میں انوکھا رسولوں میں سے اور نہیں جانتا میں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور نہ تمھارے ساتھ نہیں پیروی کرتا میں مگر اسی کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف، اور نہیں میں مگر ڈرانے والا ظاہر(9) کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ تو! اگر ہو وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے، اور کفر کیا تم نے اس کے ساتھ، اور گواہی دی ایک گواہ نے بنی اسرائیل میں سے اس جیسی (کتاب) پر، پھر ایمان لایا وہ اور تکبر کیا تم نے بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (10) [7] اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں ﴿ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’ہماری واضح آیات‘‘ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔یہ آیات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’حق کے بارے میں، جب حق ان کے پاس آیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے‘‘یعنی ظاہر جادو ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ان کا یہ قول قلب حقائق کے زمرے میں آتا ہے، جو ضعیف العقل لوگوں میں میں رواج پاسکتا ہے۔ورنہ حق، جسے محمد مصطفیﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور جادو کے مابین بہت بڑا تفاوت اور منافات ہے جو زمین و آسمان کے تفاوت سے بڑھ کر ہے۔ وہ حق، جو غالب اور افلاک کی بلندیوں پر پہنچا ہوا ہے جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بڑھ کر ہے، جس کی حقانیت پر دلائلِ آفاق اور دلائلِ نفس دلالت کرتے ہیں، جس کے سامنے اصحاب بصیرت اور خردمند لوگ سرنگوں ہیں اور اس کا اقرار کرتے ہیں،اسے باطل پر کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے؟ جو جادو ہے، جو ظالم، گمراہ، خبیث النفس اور خبیث العمل شخص کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتا۔ پس جادو ایسے ہی شخص کے لیے مناسب اور اس کے موافق حال ہوتا ہے۔کیا یہ باطل کے سوا کچھ اور ہے؟ [8]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ یعنی کیا وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمدﷺ نے خود اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے نہیں ہے۔ ﴿قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ﴾ ’’اگر میں نے اسے بنایا ہے۔‘‘ پس اللہ مجھ پر قدرت رکھتا ہے اور جس کام میں تم مشغول ہو اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اس نے مجھے اس افترا پردازی کی سزا کیوں کر نہ دی جس کو تم میری طرف منسوب کرتے ہو؟ پس کیا ﴿ فَلَا تَمۡلِكُوۡنَ لِيۡ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ اگر اللہ تعالی مجھے کسی ضرر میں مبتلا کرنے یا رحمت سے نوازنے کا ارادہ کرے تو تم اللہ تعالی کے مقابلے میں میرے لیے کسی بھی چیز کا اختیار رکھتے ہو؟ ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَا تُفِيۡضُوۡنَ فِيۡهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ﴾ ’’وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے۔‘‘ پس اگر میں نے اللہ تعالی پر جھوٹ گھڑا ہوتا تو مجھے اپنی گرفت میں لے کر ایسی سزا دیتا جسے ہر کوئی دیکھتا، کیونکہ اگر میں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو یہ سب سے بڑی افترا پردازی ہوتی۔ پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان کو، حق کے بارے میں ان کے عناد اور مخاصمت کے باوجود توبہ کی طرف بلایا اور فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾ یعنی توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو جاؤ ، اپنے گناہوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالی تمھارے گناہ بخش دے گا، تم پر رحم فرمائے گا، تمھیں بھلائی کی توفیق سے نوازے گا اور تمھیں بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ [9]﴿ قُلۡ مَا كُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ﴾ یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں جو تمھارے پاس آیا ہوں کہ تم میری رسالت کو عجیب و غریب پاؤ اور میری دعوت کا انکار کرو، مجھ سے پہلے بھی انبیاء و رسل آچکے ہیں، میری دعوت اور ان کی دعوت میں موافقت ہے ، پھر تم کس بنا پر میری رسالت کا انکار کر رہے ہو۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرِيۡ مَا يُفۡعَلُ بِيۡ وَلَا بِكُمۡ﴾ ’’میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟‘‘ یعنی میں تو صرف ایک بشر ہوں، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں، میرے اور تمھارے بارے میں صرف اللہ تعالی ہی تصرف کرتا ہے، مجھ پر اور تم پر وہی اپنے فیصلے نافذ کرتا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ پیش نہیں کرتا ﴿ وَمَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور میں تو صرف علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔‘‘ لہٰذا اگر تم میری رسالت کو مانتے ہوئے میری دعوت کو قبول کر لو تو یہ دنیا و آخرت میں تمھاری خوش نصیبی اور تمھارا بہرۂ وافر ہے۔ اور اگر تم اس دعوت کو ٹھکرا دو تو تمھارا حساب اللہ تعالی کے ذمہ ہے۔میں نے تو تمھیں برے انجام سے خبردار کر دیا ہے اور جس نے خبردار کر دیا وہ بریٔ الذمہ ہے۔ [10]﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ وَكَفَرۡتُمۡ بِهٖ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَلٰى مِثۡلِهٖ فَاٰمَنَ وَاسۡتَكۡبَرۡتُمۡ﴾ یعنی مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ تعالی کی طرف سے ہو اور اہل کتاب میں سے ان توفیق یافتہ لوگوں نے بھی اس کی صحت کی شہادت دی ہو، جن کے پاس حق ہے اور وہ پہچانتے ہیں کہ یہ بھی حق ہے، پس وہ اس پر ایمان لے آئے اور ہدایت یافتہ ہوئے، تو انبیاء کرام کی خبر اور ان کی متبعین میں مطابقت ہوگئی۔اے جاہل اور کم عقل لوگو!کیا یہ (تمھارا رویہ)سب سے بڑے ظلم اور شدید ترین کفر کے سوا کچھ اور ہے؟ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ اور یہ ظلم ہے کہ حق قبول کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود تکبر سے اسے ٹھکرا دیا جائے۔
46:9

قُلۡ مَا كُنتُ بِدۡعٗا مِّنَ ٱلرُّسُلِ وَمَآ أَدۡرِي مَا يُفۡعَلُ بِي وَلَا بِكُمۡۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ وَمَآ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٞ

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح ، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر (انکار) کیا حق (قرآن) کا، جب آیا وہ ان کے پاس، یہ جادو ہے ظاہر(7)بلکہ وہ کہتے ہیں کہ (خود) گھڑا ہے اس نے اس کو، کہہ دیجیے: اگر (خود) گھڑا ہے میں نے اس کو تو نہیں اختیار رکھتے تم میرے لیے اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، وہ خوب جانتا ہے ان باتوں کو کہ گفتگو کرتے ہو تم اس(قرآن)کے بارے میں کافی ہے وہ(اللہ)گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، اور وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے(8) کہہ دیجیے: نہیں ہوں میں انوکھا رسولوں میں سے اور نہیں جانتا میں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور نہ تمھارے ساتھ نہیں پیروی کرتا میں مگر اسی کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف، اور نہیں میں مگر ڈرانے والا ظاہر(9) کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ تو! اگر ہو وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے، اور کفر کیا تم نے اس کے ساتھ، اور گواہی دی ایک گواہ نے بنی اسرائیل میں سے اس جیسی (کتاب) پر، پھر ایمان لایا وہ اور تکبر کیا تم نے بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (10) [7] اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں ﴿ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’ہماری واضح آیات‘‘ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔یہ آیات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’حق کے بارے میں، جب حق ان کے پاس آیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے‘‘یعنی ظاہر جادو ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ان کا یہ قول قلب حقائق کے زمرے میں آتا ہے، جو ضعیف العقل لوگوں میں میں رواج پاسکتا ہے۔ورنہ حق، جسے محمد مصطفیﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور جادو کے مابین بہت بڑا تفاوت اور منافات ہے جو زمین و آسمان کے تفاوت سے بڑھ کر ہے۔ وہ حق، جو غالب اور افلاک کی بلندیوں پر پہنچا ہوا ہے جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بڑھ کر ہے، جس کی حقانیت پر دلائلِ آفاق اور دلائلِ نفس دلالت کرتے ہیں، جس کے سامنے اصحاب بصیرت اور خردمند لوگ سرنگوں ہیں اور اس کا اقرار کرتے ہیں،اسے باطل پر کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے؟ جو جادو ہے، جو ظالم، گمراہ، خبیث النفس اور خبیث العمل شخص کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتا۔ پس جادو ایسے ہی شخص کے لیے مناسب اور اس کے موافق حال ہوتا ہے۔کیا یہ باطل کے سوا کچھ اور ہے؟ [8]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ یعنی کیا وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمدﷺ نے خود اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے نہیں ہے۔ ﴿قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ﴾ ’’اگر میں نے اسے بنایا ہے۔‘‘ پس اللہ مجھ پر قدرت رکھتا ہے اور جس کام میں تم مشغول ہو اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اس نے مجھے اس افترا پردازی کی سزا کیوں کر نہ دی جس کو تم میری طرف منسوب کرتے ہو؟ پس کیا ﴿ فَلَا تَمۡلِكُوۡنَ لِيۡ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ اگر اللہ تعالی مجھے کسی ضرر میں مبتلا کرنے یا رحمت سے نوازنے کا ارادہ کرے تو تم اللہ تعالی کے مقابلے میں میرے لیے کسی بھی چیز کا اختیار رکھتے ہو؟ ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَا تُفِيۡضُوۡنَ فِيۡهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ﴾ ’’وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے۔‘‘ پس اگر میں نے اللہ تعالی پر جھوٹ گھڑا ہوتا تو مجھے اپنی گرفت میں لے کر ایسی سزا دیتا جسے ہر کوئی دیکھتا، کیونکہ اگر میں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو یہ سب سے بڑی افترا پردازی ہوتی۔ پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان کو، حق کے بارے میں ان کے عناد اور مخاصمت کے باوجود توبہ کی طرف بلایا اور فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾ یعنی توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو جاؤ ، اپنے گناہوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالی تمھارے گناہ بخش دے گا، تم پر رحم فرمائے گا، تمھیں بھلائی کی توفیق سے نوازے گا اور تمھیں بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ [9]﴿ قُلۡ مَا كُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ﴾ یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں جو تمھارے پاس آیا ہوں کہ تم میری رسالت کو عجیب و غریب پاؤ اور میری دعوت کا انکار کرو، مجھ سے پہلے بھی انبیاء و رسل آچکے ہیں، میری دعوت اور ان کی دعوت میں موافقت ہے ، پھر تم کس بنا پر میری رسالت کا انکار کر رہے ہو۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرِيۡ مَا يُفۡعَلُ بِيۡ وَلَا بِكُمۡ﴾ ’’میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟‘‘ یعنی میں تو صرف ایک بشر ہوں، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں، میرے اور تمھارے بارے میں صرف اللہ تعالی ہی تصرف کرتا ہے، مجھ پر اور تم پر وہی اپنے فیصلے نافذ کرتا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ پیش نہیں کرتا ﴿ وَمَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور میں تو صرف علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔‘‘ لہٰذا اگر تم میری رسالت کو مانتے ہوئے میری دعوت کو قبول کر لو تو یہ دنیا و آخرت میں تمھاری خوش نصیبی اور تمھارا بہرۂ وافر ہے۔ اور اگر تم اس دعوت کو ٹھکرا دو تو تمھارا حساب اللہ تعالی کے ذمہ ہے۔میں نے تو تمھیں برے انجام سے خبردار کر دیا ہے اور جس نے خبردار کر دیا وہ بریٔ الذمہ ہے۔ [10]﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ وَكَفَرۡتُمۡ بِهٖ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَلٰى مِثۡلِهٖ فَاٰمَنَ وَاسۡتَكۡبَرۡتُمۡ﴾ یعنی مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ تعالی کی طرف سے ہو اور اہل کتاب میں سے ان توفیق یافتہ لوگوں نے بھی اس کی صحت کی شہادت دی ہو، جن کے پاس حق ہے اور وہ پہچانتے ہیں کہ یہ بھی حق ہے، پس وہ اس پر ایمان لے آئے اور ہدایت یافتہ ہوئے، تو انبیاء کرام کی خبر اور ان کی متبعین میں مطابقت ہوگئی۔اے جاہل اور کم عقل لوگو!کیا یہ (تمھارا رویہ)سب سے بڑے ظلم اور شدید ترین کفر کے سوا کچھ اور ہے؟ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ اور یہ ظلم ہے کہ حق قبول کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود تکبر سے اسے ٹھکرا دیا جائے۔
46:10

قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كَانَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ وَكَفَرۡتُم بِهِۦ وَشَهِدَ شَاهِدٞ مِّنۢ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ عَلَىٰ مِثۡلِهِۦ فَـَٔامَنَ وَٱسۡتَكۡبَرۡتُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح ، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر (انکار) کیا حق (قرآن) کا، جب آیا وہ ان کے پاس، یہ جادو ہے ظاہر(7)بلکہ وہ کہتے ہیں کہ (خود) گھڑا ہے اس نے اس کو، کہہ دیجیے: اگر (خود) گھڑا ہے میں نے اس کو تو نہیں اختیار رکھتے تم میرے لیے اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، وہ خوب جانتا ہے ان باتوں کو کہ گفتگو کرتے ہو تم اس(قرآن)کے بارے میں کافی ہے وہ(اللہ)گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، اور وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے(8) کہہ دیجیے: نہیں ہوں میں انوکھا رسولوں میں سے اور نہیں جانتا میں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور نہ تمھارے ساتھ نہیں پیروی کرتا میں مگر اسی کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف، اور نہیں میں مگر ڈرانے والا ظاہر(9) کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ تو! اگر ہو وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے، اور کفر کیا تم نے اس کے ساتھ، اور گواہی دی ایک گواہ نے بنی اسرائیل میں سے اس جیسی (کتاب) پر، پھر ایمان لایا وہ اور تکبر کیا تم نے بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (10) [7] اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں ﴿ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’ہماری واضح آیات‘‘ اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔یہ آیات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’حق کے بارے میں، جب حق ان کے پاس آیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے‘‘یعنی ظاہر جادو ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ان کا یہ قول قلب حقائق کے زمرے میں آتا ہے، جو ضعیف العقل لوگوں میں میں رواج پاسکتا ہے۔ورنہ حق، جسے محمد مصطفیﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور جادو کے مابین بہت بڑا تفاوت اور منافات ہے جو زمین و آسمان کے تفاوت سے بڑھ کر ہے۔ وہ حق، جو غالب اور افلاک کی بلندیوں پر پہنچا ہوا ہے جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بڑھ کر ہے، جس کی حقانیت پر دلائلِ آفاق اور دلائلِ نفس دلالت کرتے ہیں، جس کے سامنے اصحاب بصیرت اور خردمند لوگ سرنگوں ہیں اور اس کا اقرار کرتے ہیں،اسے باطل پر کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے؟ جو جادو ہے، جو ظالم، گمراہ، خبیث النفس اور خبیث العمل شخص کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتا۔ پس جادو ایسے ہی شخص کے لیے مناسب اور اس کے موافق حال ہوتا ہے۔کیا یہ باطل کے سوا کچھ اور ہے؟ [8]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ یعنی کیا وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمدﷺ نے خود اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے نہیں ہے۔ ﴿قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ﴾ ’’اگر میں نے اسے بنایا ہے۔‘‘ پس اللہ مجھ پر قدرت رکھتا ہے اور جس کام میں تم مشغول ہو اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اس نے مجھے اس افترا پردازی کی سزا کیوں کر نہ دی جس کو تم میری طرف منسوب کرتے ہو؟ پس کیا ﴿ فَلَا تَمۡلِكُوۡنَ لِيۡ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ اگر اللہ تعالی مجھے کسی ضرر میں مبتلا کرنے یا رحمت سے نوازنے کا ارادہ کرے تو تم اللہ تعالی کے مقابلے میں میرے لیے کسی بھی چیز کا اختیار رکھتے ہو؟ ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَا تُفِيۡضُوۡنَ فِيۡهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ﴾ ’’وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے۔‘‘ پس اگر میں نے اللہ تعالی پر جھوٹ گھڑا ہوتا تو مجھے اپنی گرفت میں لے کر ایسی سزا دیتا جسے ہر کوئی دیکھتا، کیونکہ اگر میں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو یہ سب سے بڑی افترا پردازی ہوتی۔ پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان کو، حق کے بارے میں ان کے عناد اور مخاصمت کے باوجود توبہ کی طرف بلایا اور فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾ یعنی توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو جاؤ ، اپنے گناہوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالی تمھارے گناہ بخش دے گا، تم پر رحم فرمائے گا، تمھیں بھلائی کی توفیق سے نوازے گا اور تمھیں بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ [9]﴿ قُلۡ مَا كُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ﴾ یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں جو تمھارے پاس آیا ہوں کہ تم میری رسالت کو عجیب و غریب پاؤ اور میری دعوت کا انکار کرو، مجھ سے پہلے بھی انبیاء و رسل آچکے ہیں، میری دعوت اور ان کی دعوت میں موافقت ہے ، پھر تم کس بنا پر میری رسالت کا انکار کر رہے ہو۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرِيۡ مَا يُفۡعَلُ بِيۡ وَلَا بِكُمۡ﴾ ’’میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟‘‘ یعنی میں تو صرف ایک بشر ہوں، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں، میرے اور تمھارے بارے میں صرف اللہ تعالی ہی تصرف کرتا ہے، مجھ پر اور تم پر وہی اپنے فیصلے نافذ کرتا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ پیش نہیں کرتا ﴿ وَمَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور میں تو صرف علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔‘‘ لہٰذا اگر تم میری رسالت کو مانتے ہوئے میری دعوت کو قبول کر لو تو یہ دنیا و آخرت میں تمھاری خوش نصیبی اور تمھارا بہرۂ وافر ہے۔ اور اگر تم اس دعوت کو ٹھکرا دو تو تمھارا حساب اللہ تعالی کے ذمہ ہے۔میں نے تو تمھیں برے انجام سے خبردار کر دیا ہے اور جس نے خبردار کر دیا وہ بریٔ الذمہ ہے۔ [10]﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ وَكَفَرۡتُمۡ بِهٖ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَلٰى مِثۡلِهٖ فَاٰمَنَ وَاسۡتَكۡبَرۡتُمۡ﴾ یعنی مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ تعالی کی طرف سے ہو اور اہل کتاب میں سے ان توفیق یافتہ لوگوں نے بھی اس کی صحت کی شہادت دی ہو، جن کے پاس حق ہے اور وہ پہچانتے ہیں کہ یہ بھی حق ہے، پس وہ اس پر ایمان لے آئے اور ہدایت یافتہ ہوئے، تو انبیاء کرام کی خبر اور ان کی متبعین میں مطابقت ہوگئی۔اے جاہل اور کم عقل لوگو!کیا یہ (تمھارا رویہ)سب سے بڑے ظلم اور شدید ترین کفر کے سوا کچھ اور ہے؟ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ اور یہ ظلم ہے کہ حق قبول کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود تکبر سے اسے ٹھکرا دیا جائے۔
46:11

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوۡ كَانَ خَيۡرٗا مَّا سَبَقُونَآ إِلَيۡهِۚ وَإِذۡ لَمۡ يَهۡتَدُواْ بِهِۦ فَسَيَقُولُونَ هَٰذَآ إِفۡكٞ قَدِيمٞ

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، اگر ہوتا وہ (دین) بہتر نہ پہل کرتے وہ ہم سے اس کی طرف، اور جب نہ ہدایت پائی انھوں نے اس (قرآن) کے ذریعے سے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے قدیم (11) اور اس (قرآن) سے پہلے کتاب تھی موسیٰ کی، پیشوا اور رحمت، اور یہ (قرآن) کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں، تاکہ وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا، اور خوش خبری نیکی کرنے والوں کے لیے (12) [12,11] حق کا انکار کرنے والے، اس سے عناد رکھنے والے اور اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے کفار کہتے ہیں۔ ﴿ لَوۡ كَانَ خَيۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ﴾ ’’اگر یہ بہتر ہوتا تو یہ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔‘‘ یعنی مومنین ہم پر سبقت نہ لے جا سکتے، ہم اس بھلائی کی طرف سب سے پہلے آگے بڑھنے والے اور اس کی طرف سب سے زیادہ سبقت کرنے والے ہوتے۔ ان کا یہ قول ایک لحاظ سے باطل ہے… کون سی دلیل اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حق کی علامت یہ ہے کہ اہل تکذیب اہل ایمان پر سبقت لے جائیں؟ کیا وہ زیادہ پاک نفس اور عقل و خرد میں زیادہ کامل ہیں؟ کیا ہدایت ان کے ہاتھ میں ہے؟ مگر یہ کلام جو ان سے صادر ہوا، جسے وہ اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اس شخص کے کلام کی مانند ہے جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ اس چیز کی مذمت کرنا شروع کر دے۔اسی لیے فرمایا:﴿ وَاِذۡ لَمۡ يَهۡتَدُوۡا بِهٖ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ قَدِيۡمٌ﴾ ’’اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہتے ہیں کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔‘‘ یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر انھوں نے اس قرآن سے راہ نمائی حاصل نہ کی اور یوں وہ عظیم ترین نوازشات اور جلیل ترین عطیات سے محروم ہو گئے۔اسے جھوٹ کہہ کر اس میں جرح و قدح کی، حالانکہ یہ حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔یہ قرآن ان کتب سماویہ کی موافقت بھی کرتا ہے جو اس سے قبل نازل ہو چکی ہیں، خاص طور پر تورات کی جو قرآن کریم کے بعد افضل ترین کتاب ہے۔ ﴿ كِتٰبُ مُوۡسٰۤى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً﴾ ’’موسیٰ(u)کی کتاب جو راہنما اور رحمت ہے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل اس کتاب کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں اور انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہوتی ہے۔﴿ وَهٰؔذَا﴾ یعنی یہ قرآن ﴿ كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ﴾ گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے، ان کی صداقت کی گواہی دیتا ہے اور ان کی موافقت کر کے ان کی تصدیق کرتا ہے ﴿ لِّسَانًا عَرَبِيًّا﴾ اللہ تعالی نے اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ اس کو اخذ کرنا سہل اور اس سے نصیحت حاصل کرنا آسان ہو ﴿ لِّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ تاکہ یہ ان لوگوں کو برے انجام سے خبردار کرے جنھوں نے کفر، فسق اور نافرمانی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اگر وہ اپنے ظلم پر جمے رہیں تو ان کو دردناک عذاب سے ڈرائے۔ اور اپنے خالق کی عبادت میں احسان کرنے اور مخلوق کو نفع پہنچانے والوں کے لیے، دنیا و آخرت میں ثواب جزیل کی خوشخبری دے۔اور ان اعمال کا ذکر کرے جن سے ڈرایا گیاہے اور ان اعمال کا ذکر کرے جن پر خوشخبری دی گئی ہے۔
46:12

وَمِن قَبۡلِهِۦ كِتَٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامٗا وَرَحۡمَةٗۚ وَهَٰذَا كِتَٰبٞ مُّصَدِّقٞ لِّسَانًا عَرَبِيّٗا لِّيُنذِرَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُحۡسِنِينَ

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، اگر ہوتا وہ (دین) بہتر نہ پہل کرتے وہ ہم سے اس کی طرف، اور جب نہ ہدایت پائی انھوں نے اس (قرآن) کے ذریعے سے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے قدیم (11) اور اس (قرآن) سے پہلے کتاب تھی موسیٰ کی، پیشوا اور رحمت، اور یہ (قرآن) کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں، تاکہ وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا، اور خوش خبری نیکی کرنے والوں کے لیے (12) [12,11] حق کا انکار کرنے والے، اس سے عناد رکھنے والے اور اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے کفار کہتے ہیں۔ ﴿ لَوۡ كَانَ خَيۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ﴾ ’’اگر یہ بہتر ہوتا تو یہ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔‘‘ یعنی مومنین ہم پر سبقت نہ لے جا سکتے، ہم اس بھلائی کی طرف سب سے پہلے آگے بڑھنے والے اور اس کی طرف سب سے زیادہ سبقت کرنے والے ہوتے۔ ان کا یہ قول ایک لحاظ سے باطل ہے… کون سی دلیل اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حق کی علامت یہ ہے کہ اہل تکذیب اہل ایمان پر سبقت لے جائیں؟ کیا وہ زیادہ پاک نفس اور عقل و خرد میں زیادہ کامل ہیں؟ کیا ہدایت ان کے ہاتھ میں ہے؟ مگر یہ کلام جو ان سے صادر ہوا، جسے وہ اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اس شخص کے کلام کی مانند ہے جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ اس چیز کی مذمت کرنا شروع کر دے۔اسی لیے فرمایا:﴿ وَاِذۡ لَمۡ يَهۡتَدُوۡا بِهٖ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ قَدِيۡمٌ﴾ ’’اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہتے ہیں کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔‘‘ یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر انھوں نے اس قرآن سے راہ نمائی حاصل نہ کی اور یوں وہ عظیم ترین نوازشات اور جلیل ترین عطیات سے محروم ہو گئے۔اسے جھوٹ کہہ کر اس میں جرح و قدح کی، حالانکہ یہ حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔یہ قرآن ان کتب سماویہ کی موافقت بھی کرتا ہے جو اس سے قبل نازل ہو چکی ہیں، خاص طور پر تورات کی جو قرآن کریم کے بعد افضل ترین کتاب ہے۔ ﴿ كِتٰبُ مُوۡسٰۤى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً﴾ ’’موسیٰ(u)کی کتاب جو راہنما اور رحمت ہے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل اس کتاب کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں اور انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہوتی ہے۔﴿ وَهٰؔذَا﴾ یعنی یہ قرآن ﴿ كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ﴾ گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے، ان کی صداقت کی گواہی دیتا ہے اور ان کی موافقت کر کے ان کی تصدیق کرتا ہے ﴿ لِّسَانًا عَرَبِيًّا﴾ اللہ تعالی نے اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ اس کو اخذ کرنا سہل اور اس سے نصیحت حاصل کرنا آسان ہو ﴿ لِّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ تاکہ یہ ان لوگوں کو برے انجام سے خبردار کرے جنھوں نے کفر، فسق اور نافرمانی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اگر وہ اپنے ظلم پر جمے رہیں تو ان کو دردناک عذاب سے ڈرائے۔ اور اپنے خالق کی عبادت میں احسان کرنے اور مخلوق کو نفع پہنچانے والوں کے لیے، دنیا و آخرت میں ثواب جزیل کی خوشخبری دے۔اور ان اعمال کا ذکر کرے جن سے ڈرایا گیاہے اور ان اعمال کا ذکر کرے جن پر خوشخبری دی گئی ہے۔
46:13

إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَٰمُواْ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ قائم رہے(اس پر)، پس نہیں کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے (13) یہ لوگ ہیں جنتی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، جزا ہے اس کی جو تھے وہ عمل کرتے (14) [13] یعنی وہ لوگ جو اپنے رب کا اقرار کرتے ہیں، اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، اس کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں اور اس پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں ﴿ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا﴾ عمر بھر استقامت سے کام لیتے ہیں ﴿ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو آنے والے کسی شر سے ان کے لیے خوف نہیں ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾ اور نہ انھیں اس چیز پر حزن و غم ہے جو وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ [14]﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّةِ ﴾ یعنی وہ اہل جنت اور اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں جہاں سے وہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا چاہیں گے ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی پر ایمان جو ان اعمال صالحہ کا مقتضی تھا جن پر یہ ہمیشہ قائم رہے۔
46:14

أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ قائم رہے(اس پر)، پس نہیں کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے (13) یہ لوگ ہیں جنتی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، جزا ہے اس کی جو تھے وہ عمل کرتے (14) [13] یعنی وہ لوگ جو اپنے رب کا اقرار کرتے ہیں، اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، اس کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں اور اس پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں ﴿ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا﴾ عمر بھر استقامت سے کام لیتے ہیں ﴿ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو آنے والے کسی شر سے ان کے لیے خوف نہیں ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾ اور نہ انھیں اس چیز پر حزن و غم ہے جو وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ [14]﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّةِ ﴾ یعنی وہ اہل جنت اور اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں جہاں سے وہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا چاہیں گے ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی پر ایمان جو ان اعمال صالحہ کا مقتضی تھا جن پر یہ ہمیشہ قائم رہے۔
46:15

وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ إِحۡسَٰنًاۖ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ كُرۡهٗا وَوَضَعَتۡهُ كُرۡهٗاۖ وَحَمۡلُهُۥ وَفِصَٰلُهُۥ ثَلَٰثُونَ شَهۡرًاۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗ قَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَصۡلِحۡ لِي فِي ذُرِّيَّتِيٓۖ إِنِّي تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَإِنِّي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ

اور وصیت کی ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی اٹھایا اس کو اس کی ماں نے تکلیف سے اور جنا اس نے اسے تکلیف سے اور اس کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہے حتیٰ کہ جب پہنچا وہ اپنی جوانی (کی قوتوں) کو اور پہنچا چالیس برس کو کہا اس نے اے میرے رب! توفیق دے تو مجھے یہ کہ شکر کروں میں تیری (اس) نعمت کا وہ جو تونے کی مجھ پر اور میرے والدین پر، اور یہ کہ عمل کروں میں نیک کہ تو پسند کرے اس کو، اور اصلاح کر تو میرے لیے میری اولاد میں، بلاشبہ میں نے توبہ کی تیری طرف، اور بلاشبہ میں مسلمانوں میں سے ہوں (15) یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم قبول کرتے ہیں ان سے اچھے عمل جو کیے انھوں نے اورہم درگزر کرتے ہیں ان کی برائیوں سے، (وہ ہوں گے)جنتیوں میں، وعدہ ہے سچا جو تھے وہ وعدہ دیے جاتے (16) [15] یہ اللہ تعالی کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور والدین کی قدر و توقیر ہے کہ اس نے اولاد کو حکم دیا اور ان کو اس امر کا پابند کیا کہ وہ نرم و ملائم بات، مال و نفقہ اور دیگر طریقوں سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں، پھر اس کے سبب موجب کی طرف اشارہ کیا، پھر اس مرحلے کا ذکر فرمایا جس میں ماں اپنے بچے کو اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس حمل کے دوران تکالیف برداشت کرتی ہے، پھر ولادت کے وقت بہت بڑی مشقت کا سامنا کرتی ہے،پھر رضاعت اور پرورش کی تکلیف اٹھاتی ہے۔ مذکورہ مشقت تھوڑی سی مدت، گھڑی دو گھڑی کے لیے نہیں بلکہ وہ مدت یعنی ﴿ وَحَمۡلُهٗ وَفِصٰلُهٗ﴾ اس کو پیٹ میں اٹھانے اور اس کی رضاعت کا طویل عرصہ ﴿ ثَلٰثُوۡنَ شَهۡرًا﴾ ’’تیس مہینے ہے۔‘‘ جن میں سے غالب طور پر نو ماہ کے لگ بھگ حمل اور باقی رضاعت کے لیے ہیں۔اس آیت کریمہ کو اللہ تعالی کے ارشاد: ﴿ وَالۡوَالِدٰتُ يُرۡضِعۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِ﴾(البقرۃ:2؍233)’’اور مائیں اپنی اولاد کو کامل دو سال دودھ پلائیں۔‘‘ کے ساتھ ملا کر استدلال کیا جاتا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ رضاعت کی مدت کو، جو کہ دو سال ہے، تیس مہینوں میں سے نکال دیا جائے تو حمل کی مدت چھ ماہ بچتی ہے۔﴿ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ یعنی وہ اپنی قوت و شباب کی انتہا اور اپنی عقل کے کمال کو پہنچ جاتا ہے ﴿ وَبَلَغَ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ ’’اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے توفیق دے۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے الہام کر اور مجھے توفیق عطا کر ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾’’کہ تونے جو احسان مجھ پر اور میرے والدین پر کیے ہیں ان کا شکر گزار رہوں۔‘‘ یعنی دین اور دنیا کی نعمتیں اور اس کا شکر کرنا یہ ہے کہ ان نعمتوں کو، منعم کی اطاعت میں صرف کیا جائے اور اس کے مقابلے میں ان نعمتوں کی شکر گزاری سے عجز کے اعتراف اور ان نعمتوں پر اللہ تعالی کی حمدوثنا میں کوشاں رہا جائے۔والدین کو نعمتوں سے نوازا جانا، ان کی اولاد کو ان نعمتوں کو نوازا جانا ہے کیونکہ ان نعمتوں اور ان کے اسباب و آثار کا اولاد تک پہنچنا لابدی امر ہے، خاص طور پر دین کی نعمت، کیونکہ علم و عمل کے ذریعے سے والدین کا نیک ہونا اولاد کے نیک ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ﴾ ’’اور ایسے نیک کام کروں جن سے تو راضی ہو‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان اعمال کا جامع ہو جو اسے نیک بناتے ہیں اور ان اعمال سے پاک ہو جو اسے خراب کرتے ہیں، یہی وہ اعمال ہیں جو اللہ تعالی کو پسند ہیں اور جن کو اللہ تعالی قبول فرما کر ان پر ثواب عطا کرتا ہے۔﴿ وَاَصۡلِحۡ لِيۡ فِيۡ ذُرِّيَّتِيۡ﴾ ’’اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا۔‘‘ جب اس نے اپنے لیے نیکی کی دعا کی تو اس نے اپنی اولاد کے لیے بھی دعا کی کہ اللہ تعالی ان کے احوال کو درست فرما دے۔نیز ذکر فرمایا کہ اولاد کی نیکی کا فائدہ والدین کی طرف لوٹتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَاَصۡلِحۡ لِيۡ﴾’’اور میرے لیے اصلاح کردے۔‘‘﴿ اِنِّيۡ تُبۡتُ اِلَيۡكَ﴾ میں گناہ اور معاصی سے تیرے پاس توبہ کرتا ہوں اور تیری اطاعت کی طرف لوٹتا ہوں ﴿ وَاِنِّيۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ اور بے شک میں تیرے مطیع بندوں میں سے ہوں۔ [16]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ وہ لوگ جن کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡهُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا﴾ ’’یہی وہ ہیں، جن کے نیک اعمال ہم قبول کریں گے۔‘‘ اس سے مراد نیکیاں ہیں، وہ اس کے علاوہ بھی نیک عمل کرتے ہیں۔ ﴿ وَنَتَجَاوَزُ عَنۡ سَيِّاٰتِهِمۡ فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ الۡجَنَّةِ﴾ ’’اور ان کے گناہوں سے تجاوز فرمائیں گے (یہی) اہل جنت میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جملہ اہل جنت کے ساتھ، سو ان کو بھلائی اور مطلوب محبوب حاصل ہو گا، شر اور ناپسندیدہ امور زائل ہو جائیں گے ﴿ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی یہ وعدہ جو ہم نے ان کے ساتھ کیا تھا، سب سے زیادہ سچی ہستی کا وعدہ ہے، جو کبھی وعدے کے خلاف نہیں کرتی۔
46:16

أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنۡهُمۡ أَحۡسَنَ مَا عَمِلُواْ وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّـَٔاتِهِمۡ فِيٓ أَصۡحَٰبِ ٱلۡجَنَّةِۖ وَعۡدَ ٱلصِّدۡقِ ٱلَّذِي كَانُواْ يُوعَدُونَ

اور وصیت کی ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی اٹھایا اس کو اس کی ماں نے تکلیف سے اور جنا اس نے اسے تکلیف سے اور اس کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہے حتیٰ کہ جب پہنچا وہ اپنی جوانی (کی قوتوں) کو اور پہنچا چالیس برس کو کہا اس نے اے میرے رب! توفیق دے تو مجھے یہ کہ شکر کروں میں تیری (اس) نعمت کا وہ جو تونے کی مجھ پر اور میرے والدین پر، اور یہ کہ عمل کروں میں نیک کہ تو پسند کرے اس کو، اور اصلاح کر تو میرے لیے میری اولاد میں، بلاشبہ میں نے توبہ کی تیری طرف، اور بلاشبہ میں مسلمانوں میں سے ہوں (15) یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم قبول کرتے ہیں ان سے اچھے عمل جو کیے انھوں نے اورہم درگزر کرتے ہیں ان کی برائیوں سے، (وہ ہوں گے)جنتیوں میں، وعدہ ہے سچا جو تھے وہ وعدہ دیے جاتے (16) [15] یہ اللہ تعالی کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور والدین کی قدر و توقیر ہے کہ اس نے اولاد کو حکم دیا اور ان کو اس امر کا پابند کیا کہ وہ نرم و ملائم بات، مال و نفقہ اور دیگر طریقوں سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں، پھر اس کے سبب موجب کی طرف اشارہ کیا، پھر اس مرحلے کا ذکر فرمایا جس میں ماں اپنے بچے کو اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس حمل کے دوران تکالیف برداشت کرتی ہے، پھر ولادت کے وقت بہت بڑی مشقت کا سامنا کرتی ہے،پھر رضاعت اور پرورش کی تکلیف اٹھاتی ہے۔ مذکورہ مشقت تھوڑی سی مدت، گھڑی دو گھڑی کے لیے نہیں بلکہ وہ مدت یعنی ﴿ وَحَمۡلُهٗ وَفِصٰلُهٗ﴾ اس کو پیٹ میں اٹھانے اور اس کی رضاعت کا طویل عرصہ ﴿ ثَلٰثُوۡنَ شَهۡرًا﴾ ’’تیس مہینے ہے۔‘‘ جن میں سے غالب طور پر نو ماہ کے لگ بھگ حمل اور باقی رضاعت کے لیے ہیں۔اس آیت کریمہ کو اللہ تعالی کے ارشاد: ﴿ وَالۡوَالِدٰتُ يُرۡضِعۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِ﴾(البقرۃ:2؍233)’’اور مائیں اپنی اولاد کو کامل دو سال دودھ پلائیں۔‘‘ کے ساتھ ملا کر استدلال کیا جاتا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ رضاعت کی مدت کو، جو کہ دو سال ہے، تیس مہینوں میں سے نکال دیا جائے تو حمل کی مدت چھ ماہ بچتی ہے۔﴿ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ یعنی وہ اپنی قوت و شباب کی انتہا اور اپنی عقل کے کمال کو پہنچ جاتا ہے ﴿ وَبَلَغَ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ ’’اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب! مجھے توفیق دے۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے الہام کر اور مجھے توفیق عطا کر ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾’’کہ تونے جو احسان مجھ پر اور میرے والدین پر کیے ہیں ان کا شکر گزار رہوں۔‘‘ یعنی دین اور دنیا کی نعمتیں اور اس کا شکر کرنا یہ ہے کہ ان نعمتوں کو، منعم کی اطاعت میں صرف کیا جائے اور اس کے مقابلے میں ان نعمتوں کی شکر گزاری سے عجز کے اعتراف اور ان نعمتوں پر اللہ تعالی کی حمدوثنا میں کوشاں رہا جائے۔والدین کو نعمتوں سے نوازا جانا، ان کی اولاد کو ان نعمتوں کو نوازا جانا ہے کیونکہ ان نعمتوں اور ان کے اسباب و آثار کا اولاد تک پہنچنا لابدی امر ہے، خاص طور پر دین کی نعمت، کیونکہ علم و عمل کے ذریعے سے والدین کا نیک ہونا اولاد کے نیک ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ﴾ ’’اور ایسے نیک کام کروں جن سے تو راضی ہو‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان اعمال کا جامع ہو جو اسے نیک بناتے ہیں اور ان اعمال سے پاک ہو جو اسے خراب کرتے ہیں، یہی وہ اعمال ہیں جو اللہ تعالی کو پسند ہیں اور جن کو اللہ تعالی قبول فرما کر ان پر ثواب عطا کرتا ہے۔﴿ وَاَصۡلِحۡ لِيۡ فِيۡ ذُرِّيَّتِيۡ﴾ ’’اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا۔‘‘ جب اس نے اپنے لیے نیکی کی دعا کی تو اس نے اپنی اولاد کے لیے بھی دعا کی کہ اللہ تعالی ان کے احوال کو درست فرما دے۔نیز ذکر فرمایا کہ اولاد کی نیکی کا فائدہ والدین کی طرف لوٹتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَاَصۡلِحۡ لِيۡ﴾’’اور میرے لیے اصلاح کردے۔‘‘﴿ اِنِّيۡ تُبۡتُ اِلَيۡكَ﴾ میں گناہ اور معاصی سے تیرے پاس توبہ کرتا ہوں اور تیری اطاعت کی طرف لوٹتا ہوں ﴿ وَاِنِّيۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ اور بے شک میں تیرے مطیع بندوں میں سے ہوں۔ [16]﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ وہ لوگ جن کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡهُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا﴾ ’’یہی وہ ہیں، جن کے نیک اعمال ہم قبول کریں گے۔‘‘ اس سے مراد نیکیاں ہیں، وہ اس کے علاوہ بھی نیک عمل کرتے ہیں۔ ﴿ وَنَتَجَاوَزُ عَنۡ سَيِّاٰتِهِمۡ فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ الۡجَنَّةِ﴾ ’’اور ان کے گناہوں سے تجاوز فرمائیں گے (یہی) اہل جنت میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جملہ اہل جنت کے ساتھ، سو ان کو بھلائی اور مطلوب محبوب حاصل ہو گا، شر اور ناپسندیدہ امور زائل ہو جائیں گے ﴿ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی یہ وعدہ جو ہم نے ان کے ساتھ کیا تھا، سب سے زیادہ سچی ہستی کا وعدہ ہے، جو کبھی وعدے کے خلاف نہیں کرتی۔
46:17

وَٱلَّذِي قَالَ لِوَٰلِدَيۡهِ أُفّٖ لَّكُمَآ أَتَعِدَانِنِيٓ أَنۡ أُخۡرَجَ وَقَدۡ خَلَتِ ٱلۡقُرُونُ مِن قَبۡلِي وَهُمَا يَسۡتَغِيثَانِ ٱللَّهَ وَيۡلَكَ ءَامِنۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ فَيَقُولُ مَا هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ

اور وہ جس نے کہا اپنے والدین سے اف ہے تم دونوں پر، کیا تم دونوں وعدہ دیتے ہو مجھے یہ کہ نکالا جاؤ ں گا میں(قبر سے)حالانکہ گزر چکی ہیں(بہت سی) امتیں مجھ سے پہلے، جبکہ وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے، ہلاک ہو جائے تو! ایمان لے آ، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، پس وہ کہتا ہے: نہیں ہے یہ مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی (17) یہ وہ لوگ ہیں کہ ثابت ہو گئی ان پر بات (عذاب کی) ، ان امتوں میں جو گزر چکیں پہلے ان سے جنوں اور انسانوں میں سے بے شک وہ تھے خسارہ پانے والے (18) اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں (مطابق) اس کےجو عمل کیے انھوں نے اور تاکہ پورا دے ان کو (اللہ بدلہ) ان کے اعمال کا، اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(19) [17] اللہ تبارک و تعالی نے اس صالح شخص کا حال بیان کرنے کے بعد جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس شخص کا حال بیان کیا ہے جو اپنے والدین کا نافرمان ہے، نیز ذکر فرمایا کہ یہ بدترین حال ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ قَالَ لِوَالِدَيۡهِ﴾ ’’اور جس نے اپنے والدین سے کہا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اس کو اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اسے بداعمالیوں کی سزا سے ڈرایا اور یہ عظیم ترین احسان ہے جو والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے صادر ہوتا ہے کہ وہ انھیں ایسے امور کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں ابدی سعادت اور سرمدی فلاح ہے مگر وہ بدترین طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ پیش آیا، اس نے کہا:﴿ اُفٍّ لَّـكُمَاۤ﴾ یعنی ہلاکت ہو تمھارے لیے اور اس دعوت کے لیے جسے تم پیش کرتے ہو،پھر اس نے اپنے انکار اور اس امر کا ذکر کیا جسے وہ محال سمجھتا تھا، اور کہا:﴿ اَتَعِدٰؔنِنِيۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ﴾ کیا تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ قیامت کے روز مجھے میری قبر سے نکالا جائے گا ﴿ وَقَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِيۡ﴾’’حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ جو تکذیب اور کفر کی راہ پر گامزن تھے، جو ہر کافر، جاہل اور معاندِ حق کے راہ نما اور مقتدیٰ تھے۔﴿ وَهُمَا﴾ یعنی اس کے والدین ﴿ يَسۡتَغِيۡثٰنِ﴾ اس کے بارے میں اللہ تعالی سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿ وَيۡلَكَ اٰمِنۡ﴾ یعنی وہ اس کی ہدایت کے لیے انتہائی جدوجہد اور پوری کوشش کر رہے تھےحتی کہ اس کے ایمان کی سخت حرص کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح مدد مانگ رہے تھے جیسے ڈوبتا ہوا شخص مدد کے لیے پکارتا ہے۔وہ اس طرح اللہ تعالی سے سوال کر رہے تھے، جیسے کوئی اچھو لگا ہوا شخص سوال کرتا ہے۔وہ اپنے بیٹے کو ملامت کرتے تھے، اس کے لیے سخت درمند تھے اور اس کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:﴿ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ پھر اس پر دلائل قائم کر رہے تھے، مگر ان کا بیٹا تھا کہ اس میں سرکشی، نفرت اور حق کے بارے میں تکبر اور جرح و قدح میں اضافہ ہی ہو رہا تھا ﴿ فَيَقُوۡلُ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ یعنی جواب میں کہتا تھا یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ گزشتہ کتابوں میں سے نقل کردہ کہانیاں ہیں، یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں اور نہ اللہ تعالی نے اپنے رسول پر ان کو وحی ہی کیا ہے۔ حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ جناب محمد مصطفیﷺ امی ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ آپ نے کسی سے تعلیم حاصل کی ہے، آپ تعلیم حاصل کرتے بھی کہاں سے اور مخلوق اس جیسا قرآن کہاں سے لاتی، خواہ سب لوگ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوتے؟ [18]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ یعنی اس مذموم حالت کے حاملین ﴿ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ﴾ ان پر کلمۂ عذاب واجب ہوگیا ﴿ فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ﴾ ’’وہ ان جنات اور انسانوں کے گروہ کے ساتھ شامل ہوں گے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ ان جملہ قوموں میں جو کفر اور تکذیب پر جمی رہیں عنقریب وہ اپنے کرتوتوں کے سمندر میں غرق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’یقیناً وہ نقصان پانے والے تھے۔‘‘ اور خسران انسان کے رأس المال کے ضائع ہونے کا نام ہے۔ جب رأس المال ہی مفقود ہو تو منافع سے محرومی تو بدرجہ اولی ہے۔پس وہ ایمان سے محروم ہو گئے ہیں انھیں کوئی نعمت حاصل ہوئی نہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ سکے۔ [19]﴿ وَلِكُلٍّ﴾ یعنی اہل خیر اور اہل شر میں سے ہر ایک ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا﴾ خیر اور شرکے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر اور اپنے اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق آخرت میں اپنے اپنے درجہ پر ہو گا۔بنابریں فرمایا: ﴿وَلِيُوَفِّيَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔
46:18

أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ فِيٓ أُمَمٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ خَٰسِرِينَ

اور وہ جس نے کہا اپنے والدین سے اف ہے تم دونوں پر، کیا تم دونوں وعدہ دیتے ہو مجھے یہ کہ نکالا جاؤ ں گا میں(قبر سے)حالانکہ گزر چکی ہیں(بہت سی) امتیں مجھ سے پہلے، جبکہ وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے، ہلاک ہو جائے تو! ایمان لے آ، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، پس وہ کہتا ہے: نہیں ہے یہ مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی (17) یہ وہ لوگ ہیں کہ ثابت ہو گئی ان پر بات (عذاب کی) ، ان امتوں میں جو گزر چکیں پہلے ان سے جنوں اور انسانوں میں سے بے شک وہ تھے خسارہ پانے والے (18) اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں (مطابق) اس کےجو عمل کیے انھوں نے اور تاکہ پورا دے ان کو (اللہ بدلہ) ان کے اعمال کا، اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(19) [17] اللہ تبارک و تعالی نے اس صالح شخص کا حال بیان کرنے کے بعد جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس شخص کا حال بیان کیا ہے جو اپنے والدین کا نافرمان ہے، نیز ذکر فرمایا کہ یہ بدترین حال ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ قَالَ لِوَالِدَيۡهِ﴾ ’’اور جس نے اپنے والدین سے کہا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اس کو اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اسے بداعمالیوں کی سزا سے ڈرایا اور یہ عظیم ترین احسان ہے جو والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے صادر ہوتا ہے کہ وہ انھیں ایسے امور کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں ابدی سعادت اور سرمدی فلاح ہے مگر وہ بدترین طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ پیش آیا، اس نے کہا:﴿ اُفٍّ لَّـكُمَاۤ﴾ یعنی ہلاکت ہو تمھارے لیے اور اس دعوت کے لیے جسے تم پیش کرتے ہو،پھر اس نے اپنے انکار اور اس امر کا ذکر کیا جسے وہ محال سمجھتا تھا، اور کہا:﴿ اَتَعِدٰؔنِنِيۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ﴾ کیا تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ قیامت کے روز مجھے میری قبر سے نکالا جائے گا ﴿ وَقَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِيۡ﴾’’حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ جو تکذیب اور کفر کی راہ پر گامزن تھے، جو ہر کافر، جاہل اور معاندِ حق کے راہ نما اور مقتدیٰ تھے۔﴿ وَهُمَا﴾ یعنی اس کے والدین ﴿ يَسۡتَغِيۡثٰنِ﴾ اس کے بارے میں اللہ تعالی سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿ وَيۡلَكَ اٰمِنۡ﴾ یعنی وہ اس کی ہدایت کے لیے انتہائی جدوجہد اور پوری کوشش کر رہے تھےحتی کہ اس کے ایمان کی سخت حرص کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح مدد مانگ رہے تھے جیسے ڈوبتا ہوا شخص مدد کے لیے پکارتا ہے۔وہ اس طرح اللہ تعالی سے سوال کر رہے تھے، جیسے کوئی اچھو لگا ہوا شخص سوال کرتا ہے۔وہ اپنے بیٹے کو ملامت کرتے تھے، اس کے لیے سخت درمند تھے اور اس کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:﴿ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ پھر اس پر دلائل قائم کر رہے تھے، مگر ان کا بیٹا تھا کہ اس میں سرکشی، نفرت اور حق کے بارے میں تکبر اور جرح و قدح میں اضافہ ہی ہو رہا تھا ﴿ فَيَقُوۡلُ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ یعنی جواب میں کہتا تھا یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ گزشتہ کتابوں میں سے نقل کردہ کہانیاں ہیں، یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں اور نہ اللہ تعالی نے اپنے رسول پر ان کو وحی ہی کیا ہے۔ حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ جناب محمد مصطفیﷺ امی ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ آپ نے کسی سے تعلیم حاصل کی ہے، آپ تعلیم حاصل کرتے بھی کہاں سے اور مخلوق اس جیسا قرآن کہاں سے لاتی، خواہ سب لوگ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوتے؟ [18]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ یعنی اس مذموم حالت کے حاملین ﴿ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ﴾ ان پر کلمۂ عذاب واجب ہوگیا ﴿ فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ﴾ ’’وہ ان جنات اور انسانوں کے گروہ کے ساتھ شامل ہوں گے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ ان جملہ قوموں میں جو کفر اور تکذیب پر جمی رہیں عنقریب وہ اپنے کرتوتوں کے سمندر میں غرق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’یقیناً وہ نقصان پانے والے تھے۔‘‘ اور خسران انسان کے رأس المال کے ضائع ہونے کا نام ہے۔ جب رأس المال ہی مفقود ہو تو منافع سے محرومی تو بدرجہ اولی ہے۔پس وہ ایمان سے محروم ہو گئے ہیں انھیں کوئی نعمت حاصل ہوئی نہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ سکے۔ [19]﴿ وَلِكُلٍّ﴾ یعنی اہل خیر اور اہل شر میں سے ہر ایک ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا﴾ خیر اور شرکے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر اور اپنے اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق آخرت میں اپنے اپنے درجہ پر ہو گا۔بنابریں فرمایا: ﴿وَلِيُوَفِّيَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔
46:19

وَلِكُلّٖ دَرَجَٰتٞ مِّمَّا عَمِلُواْۖ وَلِيُوَفِّيَهُمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ

اور وہ جس نے کہا اپنے والدین سے اف ہے تم دونوں پر، کیا تم دونوں وعدہ دیتے ہو مجھے یہ کہ نکالا جاؤ ں گا میں(قبر سے)حالانکہ گزر چکی ہیں(بہت سی) امتیں مجھ سے پہلے، جبکہ وہ دونوں فریاد کرتے ہیں اللہ سے، ہلاک ہو جائے تو! ایمان لے آ، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، پس وہ کہتا ہے: نہیں ہے یہ مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی (17) یہ وہ لوگ ہیں کہ ثابت ہو گئی ان پر بات (عذاب کی) ، ان امتوں میں جو گزر چکیں پہلے ان سے جنوں اور انسانوں میں سے بے شک وہ تھے خسارہ پانے والے (18) اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں (مطابق) اس کےجو عمل کیے انھوں نے اور تاکہ پورا دے ان کو (اللہ بدلہ) ان کے اعمال کا، اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(19) [17] اللہ تبارک و تعالی نے اس صالح شخص کا حال بیان کرنے کے بعد جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس شخص کا حال بیان کیا ہے جو اپنے والدین کا نافرمان ہے، نیز ذکر فرمایا کہ یہ بدترین حال ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ قَالَ لِوَالِدَيۡهِ﴾ ’’اور جس نے اپنے والدین سے کہا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اس کو اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اسے بداعمالیوں کی سزا سے ڈرایا اور یہ عظیم ترین احسان ہے جو والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے صادر ہوتا ہے کہ وہ انھیں ایسے امور کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں ابدی سعادت اور سرمدی فلاح ہے مگر وہ بدترین طریقے سے اپنے والدین کے ساتھ پیش آیا، اس نے کہا:﴿ اُفٍّ لَّـكُمَاۤ﴾ یعنی ہلاکت ہو تمھارے لیے اور اس دعوت کے لیے جسے تم پیش کرتے ہو،پھر اس نے اپنے انکار اور اس امر کا ذکر کیا جسے وہ محال سمجھتا تھا، اور کہا:﴿ اَتَعِدٰؔنِنِيۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ﴾ کیا تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ قیامت کے روز مجھے میری قبر سے نکالا جائے گا ﴿ وَقَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِيۡ﴾’’حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ جو تکذیب اور کفر کی راہ پر گامزن تھے، جو ہر کافر، جاہل اور معاندِ حق کے راہ نما اور مقتدیٰ تھے۔﴿ وَهُمَا﴾ یعنی اس کے والدین ﴿ يَسۡتَغِيۡثٰنِ﴾ اس کے بارے میں اللہ تعالی سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿ وَيۡلَكَ اٰمِنۡ﴾ یعنی وہ اس کی ہدایت کے لیے انتہائی جدوجہد اور پوری کوشش کر رہے تھےحتی کہ اس کے ایمان کی سخت حرص کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح مدد مانگ رہے تھے جیسے ڈوبتا ہوا شخص مدد کے لیے پکارتا ہے۔وہ اس طرح اللہ تعالی سے سوال کر رہے تھے، جیسے کوئی اچھو لگا ہوا شخص سوال کرتا ہے۔وہ اپنے بیٹے کو ملامت کرتے تھے، اس کے لیے سخت درمند تھے اور اس کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:﴿ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ پھر اس پر دلائل قائم کر رہے تھے، مگر ان کا بیٹا تھا کہ اس میں سرکشی، نفرت اور حق کے بارے میں تکبر اور جرح و قدح میں اضافہ ہی ہو رہا تھا ﴿ فَيَقُوۡلُ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ یعنی جواب میں کہتا تھا یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ گزشتہ کتابوں میں سے نقل کردہ کہانیاں ہیں، یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں اور نہ اللہ تعالی نے اپنے رسول پر ان کو وحی ہی کیا ہے۔ حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ جناب محمد مصطفیﷺ امی ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ آپ نے کسی سے تعلیم حاصل کی ہے، آپ تعلیم حاصل کرتے بھی کہاں سے اور مخلوق اس جیسا قرآن کہاں سے لاتی، خواہ سب لوگ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوتے؟ [18]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ یعنی اس مذموم حالت کے حاملین ﴿ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ﴾ ان پر کلمۂ عذاب واجب ہوگیا ﴿ فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ﴾ ’’وہ ان جنات اور انسانوں کے گروہ کے ساتھ شامل ہوں گے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ ان جملہ قوموں میں جو کفر اور تکذیب پر جمی رہیں عنقریب وہ اپنے کرتوتوں کے سمندر میں غرق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’یقیناً وہ نقصان پانے والے تھے۔‘‘ اور خسران انسان کے رأس المال کے ضائع ہونے کا نام ہے۔ جب رأس المال ہی مفقود ہو تو منافع سے محرومی تو بدرجہ اولی ہے۔پس وہ ایمان سے محروم ہو گئے ہیں انھیں کوئی نعمت حاصل ہوئی نہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ سکے۔ [19]﴿ وَلِكُلٍّ﴾ یعنی اہل خیر اور اہل شر میں سے ہر ایک ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا﴾ خیر اور شرکے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر اور اپنے اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق آخرت میں اپنے اپنے درجہ پر ہو گا۔بنابریں فرمایا: ﴿وَلِيُوَفِّيَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔
46:20

وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَلَى ٱلنَّارِ أَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبَٰتِكُمۡ فِي حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنۡيَا وَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهَا فَٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَفۡسُقُونَ

اور جس دن پیش کیے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا آگ پر (کہا جائے گا) لے لیا تم نے(پورا حصہ)اپنی لذتوں کا اپنی زندگانی ٔدنیا میں، اور فائدہ اٹھا لیا تم نے ان سے ، پس آج بدلہ دیے جاؤ گے تم عذابِ ذلت کا بہ سبب اس کے کہ تھے تم تکبر کرتے زمین میں ناحق اور بہ سبب اس کے کہ تھے تم نافرمانی کرتے (20) [20] اللہ تبارک و تعالی کفار کا حال بیان کرتا ہے، جب ان کو جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا اور زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے۔‘‘ کیونکہ تم دنیا پر مطمئن ہو گئے، اس کی لذتوں کے دھوکے میں مبتلا ہو گئے، اس کی شہوات کو پسند کر لیا اور اس کی طیبات نے تمھیں آخرت کی کوششوں سے غافل کر دیا ﴿ وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا﴾ ’’اور ان سے متمتع ہوچکے۔‘‘ جیسے چراگاہ میں چرنے کے لیے چھوڑے ہوئے مویشی فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ تمھاری آخرت میں سے تمھارا حصہ ہے ﴿ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ﴾یعنی آج تمھیں سخت عذاب دیا جائے گا جو تمھیں رسوا کر کے رکھ دے گا۔ اور یہ اس سبب سے ہے جو تم اللہ پر ناحق بات کہاکیا کرتے تھے، یعنی گمراہی کی طرف لے جانے والے جس راستے پر تم گامزن تھے تم اسے اللہ تعالی اور اس کے حکم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ حالانکہ تم اس بارے میں جھوٹے تھے۔﴿ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾ یعنی تم تکبر کرتے تھے اور اللہ تعالی کی اطاعت کے دائرہ سے نکل گئے تھے۔پس انھوں نے قول باطل، عمل باطل، اللہ تعالی پر اس کی رضا کے بارے میں جھوٹ، حق کے بارے میں قدح اور حق کے بارے میں تکبر کو جمع کیا، اس لیے ان کو سخت سزا دی گئی۔
46:21

۞وَٱذۡكُرۡ أَخَا عَادٍ إِذۡ أَنذَرَ قَوۡمَهُۥ بِٱلۡأَحۡقَافِ وَقَدۡ خَلَتِ ٱلنُّذُرُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦٓ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ

اور یاد کریں عاد کے بھائی (ہود) کو، جب اس نے ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں اور تحقیق گزر چکے کئی ڈرانے والے اس(ہود)سے پہلے اور اس کےبعد، اس(بات)سے کہ نہ عبادت کرو تم(کسی کی) سوائے اللہ کے، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک عظیم دن کے (21) انھوں نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ پھیر دے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے؟ پس لے آ تو ہمارے پاس وہ جس کا وعدہ دیتا ہے ہمیں، اگر ہے تو سچوں میں سے (22) ہود نے کہا، یقیناً (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں پہنچاتا ہوں تم کو وہ چیزکہ بھیجا گیا ہوں میں اس کےساتھ اور لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ تم جہالت کرتے ہو (23) پس جب انھوں نے دیکھا اس کو کہ ایک بادل سامنے چلا آ رہا ہے ان کی وادیوں کے تو کہا، یہ بادل ہے ہم پر بارش برسانے والا(بادل نہیں)بلکہ یہ وہ عذاب ہے کہ جلدی طلب کرتے تھے تم اس کو (وہ)ہوا ہے، اس میں نہایت درد ناک عذاب ہے (24) وہ تباہ کر دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے، پس وہ (ایسے) ہو گئے کہ نہ دکھائی دیتا تھا (کچھ بھی) سوائے ان کے گھروں کے اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو (25) اور البتہ تحقیق قدرت دی تھی ہم نے ان کو اس چیز کی کہ نہیں قدرت دی ہم نے تمھیں اس کی، اور دیے تھے ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل، پس نہ فائدہ دیا ان کو ان کے کانوں نے اور نہ ان کی آنکھوں نے اور نہ ان کے دلوں نے کچھ بھی جبکہ تھے وہ انکار کرتے اللہ کی آیتوں کا اور گھیر لیا ان کو اس (عذاب) نے کہ تھے وہ جس کا ٹھٹھا کرتے (26) [21]﴿ وَاذۡكُرۡ﴾ یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر ﴿ اَخَا عَادٍ﴾ قوم عاد کے بھائی اس سے مراد ہودu ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالی نے، اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی ﴿ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔‘‘ اور وہ تھے قوم عاد ﴿ بِالۡاَحۡقَافِ ﴾ یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ ’’احقاف‘‘ سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ ﴿وَقَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖۤ ﴾ یعنی حضرت ہود ان میں سے کوئی انوکھے نبی نہ تھے اور نہ گزشتہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے ہدایت کرنے والے گزرے ہیں۔حضرت ہودu نے ان کو یہ کہتے ہوئے ڈرایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ یعنی ان کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا جو راست گوئی اور قابل ستائش عمل کی جامع ہے، انھیں شرک اور خدا سازی سے منع کیا اور انھیں اس بات سے ڈرایا کہ اگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی تو ان پر سخت عذاب نازل ہو گا، مگر اس دعوت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ [22]﴿ قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِكَنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ یعنی تیرے سامنے کوئی مقصد ہے نہ تیرے پاس حق ہے، سوائے اس کے کہ تو ہمارے معبودوں کے ساتھ حسد رکھتا ہے اور تو ہمیں، ہمارے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے ﴿فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لے آؤ ۔‘‘ یہ جہالت اور عناد کی انتہا ہے۔ [23]﴿قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ پس وہی ہے جس کے ہاتھ میں تمام امور کی زمام اختیار اور جس کے قبضہ قدرت میں تمام معاملات کی کنجیاں ہیں اور اگر وہ چاہے تو وہی تم پر عذاب بھیج سکتا ہے ﴿وَاُبَلِّغُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ ﴾ واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا مجھ پر کوئی اور ذمہ داری نہیں ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔‘‘ اسی وجہ سے تمھاری طرف سے اس جرأت کا ارتکاب ہوا ہے۔ [25,24] پس اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ وہ عذاب ایک ایسی ہوا کی شکل میں تھا جس نے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡهُ ﴾ جب انھوں نے اس عذاب کو دیکھا جو ﴿ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِيَتِهِمۡ﴾ بادل کی طرح پھیلتے ہوئے ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں سیلاب کا پانی بہتا تھا جہاں سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے، ان وادیوں کے کنو وں اور تالابوں سے پانی پیتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾(تو) انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا﴾ یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ بَلۡ هُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِهٖ﴾ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم نے خود اپنے لیے چنا ہے کہ تم نے کہا تھا ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’ہمارے پاس وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے۔‘‘ ﴿رِيۡحٌ فِيۡهَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءٍۭ﴾ ’’یہ ایک ایسی ہوا ہے جس کے اندر درد ناک عذاب ہے جوہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔‘‘ یعنی یہ ہوا جس چیز پر سے گزرتی اپنی شدت اور نحوست کی وجہ سے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل رکھا﴿سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ: 7/69) ’’لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن (آپ وہاں ہوتے) تو اس ہوا میں لوگوں کو پچھاڑے اور مرے ہوئے دیکھتے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں‘‘﴿ ؔ بِاَمۡرِ رَبِّهَا﴾ یعنی اپنے رب کے حکم اور اس کی مشیت سے ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمۡ﴾ ’’وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے مکانات کے سوا اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔‘‘ اس ہوا نے ان کے مویشیوں، ان کے مال و متاع اور خود ان کو نیست و نابود کر دیا۔ ﴿ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ ان کے جرم اور ظلم کے سبب سے۔ [26] اس کے باوجود کہ اللہ تعالی نے ان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا، انھوں نے اس کا شکر ادا کیا نہ اس کا ذکر، اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰهُمۡ فِيۡمَاۤ اِنۡ مَّكَّـنّٰكُمۡ فِيۡهِ﴾ ’’اور ہم نے ان کو ایسی قدرت سے نوازا جو کہ تمھیں نہیں عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں زمین میں اقتدار و اختیار عطا کیا، وہ زمین کی نعمتیں استعمال کرتے اور اس کی شہوات سے متمتع ہوتے تھے، ہم نے انھیں ایک عمر تک آباد رکھا اس عرصے کے دوران نصیحت حاصل کرنے والے نے نصیحت حاصل کی اور ہدایت یافتہ نے ہدایت پائی۔اے مخاطبین!ہم نے قوم عاد کو بھی اسی طرح اقتدار و اختیار عطا کیا تھا جیسے تمھیں عطا کیا ہے، اس لیے یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تم کو جو اقتدار عطا کیا ہے وہ صرف تمھارے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اقتدار تم سے اللہ تعالی کے عذاب کو دور کر دے گا۔بلکہ دوسروں کو تم سے بڑھ کر اقتدار حاصل تھا، مگر اللہ تعالی کے مقابلے میں ان کے مال، اولاد اور لشکر کسی کام نہ آئے۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعًا وَّاَبۡصَارًا وَّاَفۡـِٕدَةً﴾’’اور ہم نے انھیں کان، آنکھیں اور دل دیے۔‘‘ یعنی ان کی سماعت، ان کی بصارت اور ان کے اذہان میں کسی قسم کی کمی نہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ انھوں نے کم علمی اور علم پر قدرت نہ رکھنے اور عقل میں کسی خلل کی وجہ سے حق کو ترک کیا… مگر توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُهُمۡ وَلَاۤ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’پس ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل کچھ کام نہ آئے۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت، کسی کام نہ آئے کیونکہ ﴿ اِذۡ كَانُوۡا يَجۡحَدُوۡنَ١ۙ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ وہ اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے تھے‘‘ جو اللہ تعالی کی توحید اور اکیلے عبادت کا مستحق ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا، جس کے وقوع کا وہ انکار اور انبیاء و مرسلین کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے جو ان کو اس عذاب سے ڈراتے تھے۔
46:22

قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا لِتَأۡفِكَنَا عَنۡ ءَالِهَتِنَا فَأۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ

اور یاد کریں عاد کے بھائی (ہود) کو، جب اس نے ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں اور تحقیق گزر چکے کئی ڈرانے والے اس(ہود)سے پہلے اور اس کےبعد، اس(بات)سے کہ نہ عبادت کرو تم(کسی کی) سوائے اللہ کے، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک عظیم دن کے (21) انھوں نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ پھیر دے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے؟ پس لے آ تو ہمارے پاس وہ جس کا وعدہ دیتا ہے ہمیں، اگر ہے تو سچوں میں سے (22) ہود نے کہا، یقیناً (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں پہنچاتا ہوں تم کو وہ چیزکہ بھیجا گیا ہوں میں اس کےساتھ اور لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ تم جہالت کرتے ہو (23) پس جب انھوں نے دیکھا اس کو کہ ایک بادل سامنے چلا آ رہا ہے ان کی وادیوں کے تو کہا، یہ بادل ہے ہم پر بارش برسانے والا(بادل نہیں)بلکہ یہ وہ عذاب ہے کہ جلدی طلب کرتے تھے تم اس کو (وہ)ہوا ہے، اس میں نہایت درد ناک عذاب ہے (24) وہ تباہ کر دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے، پس وہ (ایسے) ہو گئے کہ نہ دکھائی دیتا تھا (کچھ بھی) سوائے ان کے گھروں کے اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو (25) اور البتہ تحقیق قدرت دی تھی ہم نے ان کو اس چیز کی کہ نہیں قدرت دی ہم نے تمھیں اس کی، اور دیے تھے ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل، پس نہ فائدہ دیا ان کو ان کے کانوں نے اور نہ ان کی آنکھوں نے اور نہ ان کے دلوں نے کچھ بھی جبکہ تھے وہ انکار کرتے اللہ کی آیتوں کا اور گھیر لیا ان کو اس (عذاب) نے کہ تھے وہ جس کا ٹھٹھا کرتے (26) [21]﴿ وَاذۡكُرۡ﴾ یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر ﴿ اَخَا عَادٍ﴾ قوم عاد کے بھائی اس سے مراد ہودu ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالی نے، اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی ﴿ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔‘‘ اور وہ تھے قوم عاد ﴿ بِالۡاَحۡقَافِ ﴾ یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ ’’احقاف‘‘ سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ ﴿وَقَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖۤ ﴾ یعنی حضرت ہود ان میں سے کوئی انوکھے نبی نہ تھے اور نہ گزشتہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے ہدایت کرنے والے گزرے ہیں۔حضرت ہودu نے ان کو یہ کہتے ہوئے ڈرایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ یعنی ان کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا جو راست گوئی اور قابل ستائش عمل کی جامع ہے، انھیں شرک اور خدا سازی سے منع کیا اور انھیں اس بات سے ڈرایا کہ اگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی تو ان پر سخت عذاب نازل ہو گا، مگر اس دعوت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ [22]﴿ قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِكَنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ یعنی تیرے سامنے کوئی مقصد ہے نہ تیرے پاس حق ہے، سوائے اس کے کہ تو ہمارے معبودوں کے ساتھ حسد رکھتا ہے اور تو ہمیں، ہمارے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے ﴿فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لے آؤ ۔‘‘ یہ جہالت اور عناد کی انتہا ہے۔ [23]﴿قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ پس وہی ہے جس کے ہاتھ میں تمام امور کی زمام اختیار اور جس کے قبضہ قدرت میں تمام معاملات کی کنجیاں ہیں اور اگر وہ چاہے تو وہی تم پر عذاب بھیج سکتا ہے ﴿وَاُبَلِّغُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ ﴾ واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا مجھ پر کوئی اور ذمہ داری نہیں ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔‘‘ اسی وجہ سے تمھاری طرف سے اس جرأت کا ارتکاب ہوا ہے۔ [25,24] پس اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ وہ عذاب ایک ایسی ہوا کی شکل میں تھا جس نے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡهُ ﴾ جب انھوں نے اس عذاب کو دیکھا جو ﴿ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِيَتِهِمۡ﴾ بادل کی طرح پھیلتے ہوئے ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں سیلاب کا پانی بہتا تھا جہاں سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے، ان وادیوں کے کنو وں اور تالابوں سے پانی پیتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾(تو) انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا﴾ یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ بَلۡ هُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِهٖ﴾ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم نے خود اپنے لیے چنا ہے کہ تم نے کہا تھا ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’ہمارے پاس وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے۔‘‘ ﴿رِيۡحٌ فِيۡهَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءٍۭ﴾ ’’یہ ایک ایسی ہوا ہے جس کے اندر درد ناک عذاب ہے جوہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔‘‘ یعنی یہ ہوا جس چیز پر سے گزرتی اپنی شدت اور نحوست کی وجہ سے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل رکھا﴿سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ: 7/69) ’’لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن (آپ وہاں ہوتے) تو اس ہوا میں لوگوں کو پچھاڑے اور مرے ہوئے دیکھتے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں‘‘﴿ ؔ بِاَمۡرِ رَبِّهَا﴾ یعنی اپنے رب کے حکم اور اس کی مشیت سے ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمۡ﴾ ’’وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے مکانات کے سوا اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔‘‘ اس ہوا نے ان کے مویشیوں، ان کے مال و متاع اور خود ان کو نیست و نابود کر دیا۔ ﴿ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ ان کے جرم اور ظلم کے سبب سے۔ [26] اس کے باوجود کہ اللہ تعالی نے ان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا، انھوں نے اس کا شکر ادا کیا نہ اس کا ذکر، اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰهُمۡ فِيۡمَاۤ اِنۡ مَّكَّـنّٰكُمۡ فِيۡهِ﴾ ’’اور ہم نے ان کو ایسی قدرت سے نوازا جو کہ تمھیں نہیں عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں زمین میں اقتدار و اختیار عطا کیا، وہ زمین کی نعمتیں استعمال کرتے اور اس کی شہوات سے متمتع ہوتے تھے، ہم نے انھیں ایک عمر تک آباد رکھا اس عرصے کے دوران نصیحت حاصل کرنے والے نے نصیحت حاصل کی اور ہدایت یافتہ نے ہدایت پائی۔اے مخاطبین!ہم نے قوم عاد کو بھی اسی طرح اقتدار و اختیار عطا کیا تھا جیسے تمھیں عطا کیا ہے، اس لیے یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تم کو جو اقتدار عطا کیا ہے وہ صرف تمھارے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اقتدار تم سے اللہ تعالی کے عذاب کو دور کر دے گا۔بلکہ دوسروں کو تم سے بڑھ کر اقتدار حاصل تھا، مگر اللہ تعالی کے مقابلے میں ان کے مال، اولاد اور لشکر کسی کام نہ آئے۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعًا وَّاَبۡصَارًا وَّاَفۡـِٕدَةً﴾’’اور ہم نے انھیں کان، آنکھیں اور دل دیے۔‘‘ یعنی ان کی سماعت، ان کی بصارت اور ان کے اذہان میں کسی قسم کی کمی نہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ انھوں نے کم علمی اور علم پر قدرت نہ رکھنے اور عقل میں کسی خلل کی وجہ سے حق کو ترک کیا… مگر توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُهُمۡ وَلَاۤ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’پس ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل کچھ کام نہ آئے۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت، کسی کام نہ آئے کیونکہ ﴿ اِذۡ كَانُوۡا يَجۡحَدُوۡنَ١ۙ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ وہ اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے تھے‘‘ جو اللہ تعالی کی توحید اور اکیلے عبادت کا مستحق ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا، جس کے وقوع کا وہ انکار اور انبیاء و مرسلین کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے جو ان کو اس عذاب سے ڈراتے تھے۔
46:23

قَالَ إِنَّمَا ٱلۡعِلۡمُ عِندَ ٱللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم مَّآ أُرۡسِلۡتُ بِهِۦ وَلَٰكِنِّيٓ أَرَىٰكُمۡ قَوۡمٗا تَجۡهَلُونَ

اور یاد کریں عاد کے بھائی (ہود) کو، جب اس نے ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں اور تحقیق گزر چکے کئی ڈرانے والے اس(ہود)سے پہلے اور اس کےبعد، اس(بات)سے کہ نہ عبادت کرو تم(کسی کی) سوائے اللہ کے، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک عظیم دن کے (21) انھوں نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ پھیر دے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے؟ پس لے آ تو ہمارے پاس وہ جس کا وعدہ دیتا ہے ہمیں، اگر ہے تو سچوں میں سے (22) ہود نے کہا، یقیناً (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں پہنچاتا ہوں تم کو وہ چیزکہ بھیجا گیا ہوں میں اس کےساتھ اور لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ تم جہالت کرتے ہو (23) پس جب انھوں نے دیکھا اس کو کہ ایک بادل سامنے چلا آ رہا ہے ان کی وادیوں کے تو کہا، یہ بادل ہے ہم پر بارش برسانے والا(بادل نہیں)بلکہ یہ وہ عذاب ہے کہ جلدی طلب کرتے تھے تم اس کو (وہ)ہوا ہے، اس میں نہایت درد ناک عذاب ہے (24) وہ تباہ کر دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے، پس وہ (ایسے) ہو گئے کہ نہ دکھائی دیتا تھا (کچھ بھی) سوائے ان کے گھروں کے اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو (25) اور البتہ تحقیق قدرت دی تھی ہم نے ان کو اس چیز کی کہ نہیں قدرت دی ہم نے تمھیں اس کی، اور دیے تھے ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل، پس نہ فائدہ دیا ان کو ان کے کانوں نے اور نہ ان کی آنکھوں نے اور نہ ان کے دلوں نے کچھ بھی جبکہ تھے وہ انکار کرتے اللہ کی آیتوں کا اور گھیر لیا ان کو اس (عذاب) نے کہ تھے وہ جس کا ٹھٹھا کرتے (26) [21]﴿ وَاذۡكُرۡ﴾ یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر ﴿ اَخَا عَادٍ﴾ قوم عاد کے بھائی اس سے مراد ہودu ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالی نے، اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی ﴿ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔‘‘ اور وہ تھے قوم عاد ﴿ بِالۡاَحۡقَافِ ﴾ یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ ’’احقاف‘‘ سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ ﴿وَقَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖۤ ﴾ یعنی حضرت ہود ان میں سے کوئی انوکھے نبی نہ تھے اور نہ گزشتہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے ہدایت کرنے والے گزرے ہیں۔حضرت ہودu نے ان کو یہ کہتے ہوئے ڈرایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ یعنی ان کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا جو راست گوئی اور قابل ستائش عمل کی جامع ہے، انھیں شرک اور خدا سازی سے منع کیا اور انھیں اس بات سے ڈرایا کہ اگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی تو ان پر سخت عذاب نازل ہو گا، مگر اس دعوت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ [22]﴿ قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِكَنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ یعنی تیرے سامنے کوئی مقصد ہے نہ تیرے پاس حق ہے، سوائے اس کے کہ تو ہمارے معبودوں کے ساتھ حسد رکھتا ہے اور تو ہمیں، ہمارے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے ﴿فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لے آؤ ۔‘‘ یہ جہالت اور عناد کی انتہا ہے۔ [23]﴿قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ پس وہی ہے جس کے ہاتھ میں تمام امور کی زمام اختیار اور جس کے قبضہ قدرت میں تمام معاملات کی کنجیاں ہیں اور اگر وہ چاہے تو وہی تم پر عذاب بھیج سکتا ہے ﴿وَاُبَلِّغُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ ﴾ واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا مجھ پر کوئی اور ذمہ داری نہیں ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔‘‘ اسی وجہ سے تمھاری طرف سے اس جرأت کا ارتکاب ہوا ہے۔ [25,24] پس اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ وہ عذاب ایک ایسی ہوا کی شکل میں تھا جس نے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡهُ ﴾ جب انھوں نے اس عذاب کو دیکھا جو ﴿ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِيَتِهِمۡ﴾ بادل کی طرح پھیلتے ہوئے ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں سیلاب کا پانی بہتا تھا جہاں سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے، ان وادیوں کے کنو وں اور تالابوں سے پانی پیتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾(تو) انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا﴾ یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ بَلۡ هُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِهٖ﴾ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم نے خود اپنے لیے چنا ہے کہ تم نے کہا تھا ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’ہمارے پاس وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے۔‘‘ ﴿رِيۡحٌ فِيۡهَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءٍۭ﴾ ’’یہ ایک ایسی ہوا ہے جس کے اندر درد ناک عذاب ہے جوہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔‘‘ یعنی یہ ہوا جس چیز پر سے گزرتی اپنی شدت اور نحوست کی وجہ سے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل رکھا﴿سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ: 7/69) ’’لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن (آپ وہاں ہوتے) تو اس ہوا میں لوگوں کو پچھاڑے اور مرے ہوئے دیکھتے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں‘‘﴿ ؔ بِاَمۡرِ رَبِّهَا﴾ یعنی اپنے رب کے حکم اور اس کی مشیت سے ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمۡ﴾ ’’وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے مکانات کے سوا اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔‘‘ اس ہوا نے ان کے مویشیوں، ان کے مال و متاع اور خود ان کو نیست و نابود کر دیا۔ ﴿ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ ان کے جرم اور ظلم کے سبب سے۔ [26] اس کے باوجود کہ اللہ تعالی نے ان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا، انھوں نے اس کا شکر ادا کیا نہ اس کا ذکر، اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰهُمۡ فِيۡمَاۤ اِنۡ مَّكَّـنّٰكُمۡ فِيۡهِ﴾ ’’اور ہم نے ان کو ایسی قدرت سے نوازا جو کہ تمھیں نہیں عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں زمین میں اقتدار و اختیار عطا کیا، وہ زمین کی نعمتیں استعمال کرتے اور اس کی شہوات سے متمتع ہوتے تھے، ہم نے انھیں ایک عمر تک آباد رکھا اس عرصے کے دوران نصیحت حاصل کرنے والے نے نصیحت حاصل کی اور ہدایت یافتہ نے ہدایت پائی۔اے مخاطبین!ہم نے قوم عاد کو بھی اسی طرح اقتدار و اختیار عطا کیا تھا جیسے تمھیں عطا کیا ہے، اس لیے یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تم کو جو اقتدار عطا کیا ہے وہ صرف تمھارے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اقتدار تم سے اللہ تعالی کے عذاب کو دور کر دے گا۔بلکہ دوسروں کو تم سے بڑھ کر اقتدار حاصل تھا، مگر اللہ تعالی کے مقابلے میں ان کے مال، اولاد اور لشکر کسی کام نہ آئے۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعًا وَّاَبۡصَارًا وَّاَفۡـِٕدَةً﴾’’اور ہم نے انھیں کان، آنکھیں اور دل دیے۔‘‘ یعنی ان کی سماعت، ان کی بصارت اور ان کے اذہان میں کسی قسم کی کمی نہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ انھوں نے کم علمی اور علم پر قدرت نہ رکھنے اور عقل میں کسی خلل کی وجہ سے حق کو ترک کیا… مگر توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُهُمۡ وَلَاۤ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’پس ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل کچھ کام نہ آئے۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت، کسی کام نہ آئے کیونکہ ﴿ اِذۡ كَانُوۡا يَجۡحَدُوۡنَ١ۙ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ وہ اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے تھے‘‘ جو اللہ تعالی کی توحید اور اکیلے عبادت کا مستحق ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا، جس کے وقوع کا وہ انکار اور انبیاء و مرسلین کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے جو ان کو اس عذاب سے ڈراتے تھے۔
46:24

فَلَمَّا رَأَوۡهُ عَارِضٗا مُّسۡتَقۡبِلَ أَوۡدِيَتِهِمۡ قَالُواْ هَٰذَا عَارِضٞ مُّمۡطِرُنَاۚ بَلۡ هُوَ مَا ٱسۡتَعۡجَلۡتُم بِهِۦۖ رِيحٞ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٞ

اور یاد کریں عاد کے بھائی (ہود) کو، جب اس نے ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں اور تحقیق گزر چکے کئی ڈرانے والے اس(ہود)سے پہلے اور اس کےبعد، اس(بات)سے کہ نہ عبادت کرو تم(کسی کی) سوائے اللہ کے، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک عظیم دن کے (21) انھوں نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ پھیر دے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے؟ پس لے آ تو ہمارے پاس وہ جس کا وعدہ دیتا ہے ہمیں، اگر ہے تو سچوں میں سے (22) ہود نے کہا، یقیناً (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں پہنچاتا ہوں تم کو وہ چیزکہ بھیجا گیا ہوں میں اس کےساتھ اور لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ تم جہالت کرتے ہو (23) پس جب انھوں نے دیکھا اس کو کہ ایک بادل سامنے چلا آ رہا ہے ان کی وادیوں کے تو کہا، یہ بادل ہے ہم پر بارش برسانے والا(بادل نہیں)بلکہ یہ وہ عذاب ہے کہ جلدی طلب کرتے تھے تم اس کو (وہ)ہوا ہے، اس میں نہایت درد ناک عذاب ہے (24) وہ تباہ کر دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے، پس وہ (ایسے) ہو گئے کہ نہ دکھائی دیتا تھا (کچھ بھی) سوائے ان کے گھروں کے اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو (25) اور البتہ تحقیق قدرت دی تھی ہم نے ان کو اس چیز کی کہ نہیں قدرت دی ہم نے تمھیں اس کی، اور دیے تھے ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل، پس نہ فائدہ دیا ان کو ان کے کانوں نے اور نہ ان کی آنکھوں نے اور نہ ان کے دلوں نے کچھ بھی جبکہ تھے وہ انکار کرتے اللہ کی آیتوں کا اور گھیر لیا ان کو اس (عذاب) نے کہ تھے وہ جس کا ٹھٹھا کرتے (26) [21]﴿ وَاذۡكُرۡ﴾ یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر ﴿ اَخَا عَادٍ﴾ قوم عاد کے بھائی اس سے مراد ہودu ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالی نے، اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی ﴿ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔‘‘ اور وہ تھے قوم عاد ﴿ بِالۡاَحۡقَافِ ﴾ یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ ’’احقاف‘‘ سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ ﴿وَقَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖۤ ﴾ یعنی حضرت ہود ان میں سے کوئی انوکھے نبی نہ تھے اور نہ گزشتہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے ہدایت کرنے والے گزرے ہیں۔حضرت ہودu نے ان کو یہ کہتے ہوئے ڈرایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ یعنی ان کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا جو راست گوئی اور قابل ستائش عمل کی جامع ہے، انھیں شرک اور خدا سازی سے منع کیا اور انھیں اس بات سے ڈرایا کہ اگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی تو ان پر سخت عذاب نازل ہو گا، مگر اس دعوت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ [22]﴿ قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِكَنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ یعنی تیرے سامنے کوئی مقصد ہے نہ تیرے پاس حق ہے، سوائے اس کے کہ تو ہمارے معبودوں کے ساتھ حسد رکھتا ہے اور تو ہمیں، ہمارے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے ﴿فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لے آؤ ۔‘‘ یہ جہالت اور عناد کی انتہا ہے۔ [23]﴿قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ پس وہی ہے جس کے ہاتھ میں تمام امور کی زمام اختیار اور جس کے قبضہ قدرت میں تمام معاملات کی کنجیاں ہیں اور اگر وہ چاہے تو وہی تم پر عذاب بھیج سکتا ہے ﴿وَاُبَلِّغُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ ﴾ واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا مجھ پر کوئی اور ذمہ داری نہیں ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔‘‘ اسی وجہ سے تمھاری طرف سے اس جرأت کا ارتکاب ہوا ہے۔ [25,24] پس اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ وہ عذاب ایک ایسی ہوا کی شکل میں تھا جس نے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡهُ ﴾ جب انھوں نے اس عذاب کو دیکھا جو ﴿ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِيَتِهِمۡ﴾ بادل کی طرح پھیلتے ہوئے ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں سیلاب کا پانی بہتا تھا جہاں سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے، ان وادیوں کے کنو وں اور تالابوں سے پانی پیتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾(تو) انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا﴾ یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ بَلۡ هُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِهٖ﴾ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم نے خود اپنے لیے چنا ہے کہ تم نے کہا تھا ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’ہمارے پاس وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے۔‘‘ ﴿رِيۡحٌ فِيۡهَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءٍۭ﴾ ’’یہ ایک ایسی ہوا ہے جس کے اندر درد ناک عذاب ہے جوہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔‘‘ یعنی یہ ہوا جس چیز پر سے گزرتی اپنی شدت اور نحوست کی وجہ سے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل رکھا﴿سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ: 7/69) ’’لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن (آپ وہاں ہوتے) تو اس ہوا میں لوگوں کو پچھاڑے اور مرے ہوئے دیکھتے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں‘‘﴿ ؔ بِاَمۡرِ رَبِّهَا﴾ یعنی اپنے رب کے حکم اور اس کی مشیت سے ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمۡ﴾ ’’وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے مکانات کے سوا اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔‘‘ اس ہوا نے ان کے مویشیوں، ان کے مال و متاع اور خود ان کو نیست و نابود کر دیا۔ ﴿ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ ان کے جرم اور ظلم کے سبب سے۔ [26] اس کے باوجود کہ اللہ تعالی نے ان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا، انھوں نے اس کا شکر ادا کیا نہ اس کا ذکر، اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰهُمۡ فِيۡمَاۤ اِنۡ مَّكَّـنّٰكُمۡ فِيۡهِ﴾ ’’اور ہم نے ان کو ایسی قدرت سے نوازا جو کہ تمھیں نہیں عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں زمین میں اقتدار و اختیار عطا کیا، وہ زمین کی نعمتیں استعمال کرتے اور اس کی شہوات سے متمتع ہوتے تھے، ہم نے انھیں ایک عمر تک آباد رکھا اس عرصے کے دوران نصیحت حاصل کرنے والے نے نصیحت حاصل کی اور ہدایت یافتہ نے ہدایت پائی۔اے مخاطبین!ہم نے قوم عاد کو بھی اسی طرح اقتدار و اختیار عطا کیا تھا جیسے تمھیں عطا کیا ہے، اس لیے یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تم کو جو اقتدار عطا کیا ہے وہ صرف تمھارے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اقتدار تم سے اللہ تعالی کے عذاب کو دور کر دے گا۔بلکہ دوسروں کو تم سے بڑھ کر اقتدار حاصل تھا، مگر اللہ تعالی کے مقابلے میں ان کے مال، اولاد اور لشکر کسی کام نہ آئے۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعًا وَّاَبۡصَارًا وَّاَفۡـِٕدَةً﴾’’اور ہم نے انھیں کان، آنکھیں اور دل دیے۔‘‘ یعنی ان کی سماعت، ان کی بصارت اور ان کے اذہان میں کسی قسم کی کمی نہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ انھوں نے کم علمی اور علم پر قدرت نہ رکھنے اور عقل میں کسی خلل کی وجہ سے حق کو ترک کیا… مگر توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُهُمۡ وَلَاۤ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’پس ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل کچھ کام نہ آئے۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت، کسی کام نہ آئے کیونکہ ﴿ اِذۡ كَانُوۡا يَجۡحَدُوۡنَ١ۙ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ وہ اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے تھے‘‘ جو اللہ تعالی کی توحید اور اکیلے عبادت کا مستحق ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا، جس کے وقوع کا وہ انکار اور انبیاء و مرسلین کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے جو ان کو اس عذاب سے ڈراتے تھے۔
46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءِۭ بِأَمۡرِ رَبِّهَا فَأَصۡبَحُواْ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَٰكِنُهُمۡۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡمُجۡرِمِينَ

اور یاد کریں عاد کے بھائی (ہود) کو، جب اس نے ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں اور تحقیق گزر چکے کئی ڈرانے والے اس(ہود)سے پہلے اور اس کےبعد، اس(بات)سے کہ نہ عبادت کرو تم(کسی کی) سوائے اللہ کے، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک عظیم دن کے (21) انھوں نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ پھیر دے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے؟ پس لے آ تو ہمارے پاس وہ جس کا وعدہ دیتا ہے ہمیں، اگر ہے تو سچوں میں سے (22) ہود نے کہا، یقیناً (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں پہنچاتا ہوں تم کو وہ چیزکہ بھیجا گیا ہوں میں اس کےساتھ اور لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ تم جہالت کرتے ہو (23) پس جب انھوں نے دیکھا اس کو کہ ایک بادل سامنے چلا آ رہا ہے ان کی وادیوں کے تو کہا، یہ بادل ہے ہم پر بارش برسانے والا(بادل نہیں)بلکہ یہ وہ عذاب ہے کہ جلدی طلب کرتے تھے تم اس کو (وہ)ہوا ہے، اس میں نہایت درد ناک عذاب ہے (24) وہ تباہ کر دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے، پس وہ (ایسے) ہو گئے کہ نہ دکھائی دیتا تھا (کچھ بھی) سوائے ان کے گھروں کے اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو (25) اور البتہ تحقیق قدرت دی تھی ہم نے ان کو اس چیز کی کہ نہیں قدرت دی ہم نے تمھیں اس کی، اور دیے تھے ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل، پس نہ فائدہ دیا ان کو ان کے کانوں نے اور نہ ان کی آنکھوں نے اور نہ ان کے دلوں نے کچھ بھی جبکہ تھے وہ انکار کرتے اللہ کی آیتوں کا اور گھیر لیا ان کو اس (عذاب) نے کہ تھے وہ جس کا ٹھٹھا کرتے (26) [21]﴿ وَاذۡكُرۡ﴾ یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر ﴿ اَخَا عَادٍ﴾ قوم عاد کے بھائی اس سے مراد ہودu ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالی نے، اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی ﴿ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔‘‘ اور وہ تھے قوم عاد ﴿ بِالۡاَحۡقَافِ ﴾ یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ ’’احقاف‘‘ سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ ﴿وَقَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖۤ ﴾ یعنی حضرت ہود ان میں سے کوئی انوکھے نبی نہ تھے اور نہ گزشتہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے ہدایت کرنے والے گزرے ہیں۔حضرت ہودu نے ان کو یہ کہتے ہوئے ڈرایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ یعنی ان کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا جو راست گوئی اور قابل ستائش عمل کی جامع ہے، انھیں شرک اور خدا سازی سے منع کیا اور انھیں اس بات سے ڈرایا کہ اگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی تو ان پر سخت عذاب نازل ہو گا، مگر اس دعوت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ [22]﴿ قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِكَنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ یعنی تیرے سامنے کوئی مقصد ہے نہ تیرے پاس حق ہے، سوائے اس کے کہ تو ہمارے معبودوں کے ساتھ حسد رکھتا ہے اور تو ہمیں، ہمارے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے ﴿فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لے آؤ ۔‘‘ یہ جہالت اور عناد کی انتہا ہے۔ [23]﴿قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ پس وہی ہے جس کے ہاتھ میں تمام امور کی زمام اختیار اور جس کے قبضہ قدرت میں تمام معاملات کی کنجیاں ہیں اور اگر وہ چاہے تو وہی تم پر عذاب بھیج سکتا ہے ﴿وَاُبَلِّغُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ ﴾ واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا مجھ پر کوئی اور ذمہ داری نہیں ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔‘‘ اسی وجہ سے تمھاری طرف سے اس جرأت کا ارتکاب ہوا ہے۔ [25,24] پس اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ وہ عذاب ایک ایسی ہوا کی شکل میں تھا جس نے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡهُ ﴾ جب انھوں نے اس عذاب کو دیکھا جو ﴿ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِيَتِهِمۡ﴾ بادل کی طرح پھیلتے ہوئے ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں سیلاب کا پانی بہتا تھا جہاں سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے، ان وادیوں کے کنو وں اور تالابوں سے پانی پیتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾(تو) انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا﴾ یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ بَلۡ هُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِهٖ﴾ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم نے خود اپنے لیے چنا ہے کہ تم نے کہا تھا ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’ہمارے پاس وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے۔‘‘ ﴿رِيۡحٌ فِيۡهَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءٍۭ﴾ ’’یہ ایک ایسی ہوا ہے جس کے اندر درد ناک عذاب ہے جوہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔‘‘ یعنی یہ ہوا جس چیز پر سے گزرتی اپنی شدت اور نحوست کی وجہ سے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل رکھا﴿سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ: 7/69) ’’لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن (آپ وہاں ہوتے) تو اس ہوا میں لوگوں کو پچھاڑے اور مرے ہوئے دیکھتے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں‘‘﴿ ؔ بِاَمۡرِ رَبِّهَا﴾ یعنی اپنے رب کے حکم اور اس کی مشیت سے ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمۡ﴾ ’’وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے مکانات کے سوا اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔‘‘ اس ہوا نے ان کے مویشیوں، ان کے مال و متاع اور خود ان کو نیست و نابود کر دیا۔ ﴿ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ ان کے جرم اور ظلم کے سبب سے۔ [26] اس کے باوجود کہ اللہ تعالی نے ان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا، انھوں نے اس کا شکر ادا کیا نہ اس کا ذکر، اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰهُمۡ فِيۡمَاۤ اِنۡ مَّكَّـنّٰكُمۡ فِيۡهِ﴾ ’’اور ہم نے ان کو ایسی قدرت سے نوازا جو کہ تمھیں نہیں عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں زمین میں اقتدار و اختیار عطا کیا، وہ زمین کی نعمتیں استعمال کرتے اور اس کی شہوات سے متمتع ہوتے تھے، ہم نے انھیں ایک عمر تک آباد رکھا اس عرصے کے دوران نصیحت حاصل کرنے والے نے نصیحت حاصل کی اور ہدایت یافتہ نے ہدایت پائی۔اے مخاطبین!ہم نے قوم عاد کو بھی اسی طرح اقتدار و اختیار عطا کیا تھا جیسے تمھیں عطا کیا ہے، اس لیے یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تم کو جو اقتدار عطا کیا ہے وہ صرف تمھارے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اقتدار تم سے اللہ تعالی کے عذاب کو دور کر دے گا۔بلکہ دوسروں کو تم سے بڑھ کر اقتدار حاصل تھا، مگر اللہ تعالی کے مقابلے میں ان کے مال، اولاد اور لشکر کسی کام نہ آئے۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعًا وَّاَبۡصَارًا وَّاَفۡـِٕدَةً﴾’’اور ہم نے انھیں کان، آنکھیں اور دل دیے۔‘‘ یعنی ان کی سماعت، ان کی بصارت اور ان کے اذہان میں کسی قسم کی کمی نہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ انھوں نے کم علمی اور علم پر قدرت نہ رکھنے اور عقل میں کسی خلل کی وجہ سے حق کو ترک کیا… مگر توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُهُمۡ وَلَاۤ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’پس ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل کچھ کام نہ آئے۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت، کسی کام نہ آئے کیونکہ ﴿ اِذۡ كَانُوۡا يَجۡحَدُوۡنَ١ۙ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ وہ اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے تھے‘‘ جو اللہ تعالی کی توحید اور اکیلے عبادت کا مستحق ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا، جس کے وقوع کا وہ انکار اور انبیاء و مرسلین کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے جو ان کو اس عذاب سے ڈراتے تھے۔
46:26

وَلَقَدۡ مَكَّنَّـٰهُمۡ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّـٰكُمۡ فِيهِ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعٗا وَأَبۡصَٰرٗا وَأَفۡـِٔدَةٗ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَآ أَبۡصَٰرُهُمۡ وَلَآ أَفۡـِٔدَتُهُم مِّن شَيۡءٍ إِذۡ كَانُواْ يَجۡحَدُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ

اور یاد کریں عاد کے بھائی (ہود) کو، جب اس نے ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں اور تحقیق گزر چکے کئی ڈرانے والے اس(ہود)سے پہلے اور اس کےبعد، اس(بات)سے کہ نہ عبادت کرو تم(کسی کی) سوائے اللہ کے، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک عظیم دن کے (21) انھوں نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ پھیر دے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے؟ پس لے آ تو ہمارے پاس وہ جس کا وعدہ دیتا ہے ہمیں، اگر ہے تو سچوں میں سے (22) ہود نے کہا، یقیناً (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں پہنچاتا ہوں تم کو وہ چیزکہ بھیجا گیا ہوں میں اس کےساتھ اور لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ تم جہالت کرتے ہو (23) پس جب انھوں نے دیکھا اس کو کہ ایک بادل سامنے چلا آ رہا ہے ان کی وادیوں کے تو کہا، یہ بادل ہے ہم پر بارش برسانے والا(بادل نہیں)بلکہ یہ وہ عذاب ہے کہ جلدی طلب کرتے تھے تم اس کو (وہ)ہوا ہے، اس میں نہایت درد ناک عذاب ہے (24) وہ تباہ کر دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے، پس وہ (ایسے) ہو گئے کہ نہ دکھائی دیتا تھا (کچھ بھی) سوائے ان کے گھروں کے اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو (25) اور البتہ تحقیق قدرت دی تھی ہم نے ان کو اس چیز کی کہ نہیں قدرت دی ہم نے تمھیں اس کی، اور دیے تھے ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل، پس نہ فائدہ دیا ان کو ان کے کانوں نے اور نہ ان کی آنکھوں نے اور نہ ان کے دلوں نے کچھ بھی جبکہ تھے وہ انکار کرتے اللہ کی آیتوں کا اور گھیر لیا ان کو اس (عذاب) نے کہ تھے وہ جس کا ٹھٹھا کرتے (26) [21]﴿ وَاذۡكُرۡ﴾ یعنی ثنائے جمیل کے ساتھ ذکر کر ﴿ اَخَا عَادٍ﴾ قوم عاد کے بھائی اس سے مراد ہودu ہیں کیونکہ ان کا شمار ان مرسلین کرام میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالی نے، اپنے دین کی طرف دعوت اور اس کی طرف مخلوق کی راہ نمائی کی وجہ سے فضیلت دی ﴿ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنی قوم کو ڈرایا۔‘‘ اور وہ تھے قوم عاد ﴿ بِالۡاَحۡقَافِ ﴾ یعنی ان کے وہ گھر جو وادی احقاف میں معروف ہیں۔ ’’احقاف‘‘ سے مراد ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں جو ارض یمن میں واقع ہیں۔ ﴿وَقَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖۤ ﴾ یعنی حضرت ہود ان میں سے کوئی انوکھے نبی نہ تھے اور نہ گزشتہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے ہدایت کرنے والے گزرے ہیں۔حضرت ہودu نے ان کو یہ کہتے ہوئے ڈرایا ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ یعنی ان کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا جو راست گوئی اور قابل ستائش عمل کی جامع ہے، انھیں شرک اور خدا سازی سے منع کیا اور انھیں اس بات سے ڈرایا کہ اگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی تو ان پر سخت عذاب نازل ہو گا، مگر اس دعوت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ [22]﴿ قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَاۡفِكَنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ یعنی تیرے سامنے کوئی مقصد ہے نہ تیرے پاس حق ہے، سوائے اس کے کہ تو ہمارے معبودوں کے ساتھ حسد رکھتا ہے اور تو ہمیں، ہمارے معبودوں سے پھیرنا چاہتا ہے ﴿فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لے آؤ ۔‘‘ یہ جہالت اور عناد کی انتہا ہے۔ [23]﴿قَالَ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ پس وہی ہے جس کے ہاتھ میں تمام امور کی زمام اختیار اور جس کے قبضہ قدرت میں تمام معاملات کی کنجیاں ہیں اور اگر وہ چاہے تو وہی تم پر عذاب بھیج سکتا ہے ﴿وَاُبَلِّغُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ ﴾ واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا مجھ پر کوئی اور ذمہ داری نہیں ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔‘‘ اسی وجہ سے تمھاری طرف سے اس جرأت کا ارتکاب ہوا ہے۔ [25,24] پس اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ وہ عذاب ایک ایسی ہوا کی شکل میں تھا جس نے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡهُ ﴾ جب انھوں نے اس عذاب کو دیکھا جو ﴿ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِيَتِهِمۡ﴾ بادل کی طرح پھیلتے ہوئے ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں سیلاب کا پانی بہتا تھا جہاں سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے، ان وادیوں کے کنو وں اور تالابوں سے پانی پیتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾(تو) انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا﴾ یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ بَلۡ هُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِهٖ﴾ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم نے خود اپنے لیے چنا ہے کہ تم نے کہا تھا ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’ہمارے پاس وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے۔‘‘ ﴿رِيۡحٌ فِيۡهَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءٍۭ﴾ ’’یہ ایک ایسی ہوا ہے جس کے اندر درد ناک عذاب ہے جوہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔‘‘ یعنی یہ ہوا جس چیز پر سے گزرتی اپنی شدت اور نحوست کی وجہ سے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل رکھا﴿سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ: 7/69) ’’لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن (آپ وہاں ہوتے) تو اس ہوا میں لوگوں کو پچھاڑے اور مرے ہوئے دیکھتے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں‘‘﴿ ؔ بِاَمۡرِ رَبِّهَا﴾ یعنی اپنے رب کے حکم اور اس کی مشیت سے ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمۡ﴾ ’’وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے مکانات کے سوا اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔‘‘ اس ہوا نے ان کے مویشیوں، ان کے مال و متاع اور خود ان کو نیست و نابود کر دیا۔ ﴿ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ ان کے جرم اور ظلم کے سبب سے۔ [26] اس کے باوجود کہ اللہ تعالی نے ان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا، انھوں نے اس کا شکر ادا کیا نہ اس کا ذکر، اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰهُمۡ فِيۡمَاۤ اِنۡ مَّكَّـنّٰكُمۡ فِيۡهِ﴾ ’’اور ہم نے ان کو ایسی قدرت سے نوازا جو کہ تمھیں نہیں عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں زمین میں اقتدار و اختیار عطا کیا، وہ زمین کی نعمتیں استعمال کرتے اور اس کی شہوات سے متمتع ہوتے تھے، ہم نے انھیں ایک عمر تک آباد رکھا اس عرصے کے دوران نصیحت حاصل کرنے والے نے نصیحت حاصل کی اور ہدایت یافتہ نے ہدایت پائی۔اے مخاطبین!ہم نے قوم عاد کو بھی اسی طرح اقتدار و اختیار عطا کیا تھا جیسے تمھیں عطا کیا ہے، اس لیے یہ نہ سمجھو کہ ہم نے تم کو جو اقتدار عطا کیا ہے وہ صرف تمھارے ساتھ مخصوص ہے اور یہ اقتدار تم سے اللہ تعالی کے عذاب کو دور کر دے گا۔بلکہ دوسروں کو تم سے بڑھ کر اقتدار حاصل تھا، مگر اللہ تعالی کے مقابلے میں ان کے مال، اولاد اور لشکر کسی کام نہ آئے۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعًا وَّاَبۡصَارًا وَّاَفۡـِٕدَةً﴾’’اور ہم نے انھیں کان، آنکھیں اور دل دیے۔‘‘ یعنی ان کی سماعت، ان کی بصارت اور ان کے اذہان میں کسی قسم کی کمی نہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ انھوں نے کم علمی اور علم پر قدرت نہ رکھنے اور عقل میں کسی خلل کی وجہ سے حق کو ترک کیا… مگر توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُهُمۡ وَلَاۤ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’پس ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل کچھ کام نہ آئے۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت، کسی کام نہ آئے کیونکہ ﴿ اِذۡ كَانُوۡا يَجۡحَدُوۡنَ١ۙ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ وہ اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے تھے‘‘ جو اللہ تعالی کی توحید اور اکیلے عبادت کا مستحق ہونے پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا، جس کے وقوع کا وہ انکار اور انبیاء و مرسلین کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے جو ان کو اس عذاب سے ڈراتے تھے۔
46:27

وَلَقَدۡ أَهۡلَكۡنَا مَا حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡقُرَىٰ وَصَرَّفۡنَا ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ

اور البتہ تحقیق ہلاک (تباہ) کر دیں ہم نے جو تمھارے آس پاس ہیں بستیاں اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیں آیتیں تاکہ وہ (ہماری طرف) رجوع کریں (27) پس کیوں نہ مدد کی ان کی ان لوگوں نے جنھیں ٹھہرایا تھا انھوں نے سوائے اللہ کے قرب حاصل کرنے کے لیے معبود، بلکہ گم ہو گئے وہ (معبود) ان سے، اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو کچھ کہ تھے وہ افترا باندھتے (28) [28,27] اللہ تبارک و تعالی عرب کے مشرکین اور دیگر مشرکین کو ڈراتا ہے کہ اس نے انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو تباہ و برباد کر دیا جو ان مشرکین کے اردگرد آباد تھیں بلکہ ان میں سے بہت سی قومیں تو جزیرۃ العرب میں آباد تھیں، مثلاً: عاد اور ثمود وغیرہ، اللہ تعالی نے ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں ، یعنی انھیں ہر نوع کی نشانیاں پیش کیں۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ اپنے کفر اور تکذیب کے رویے سے باز آجائیں۔ جب وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالی نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح زبردست اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے، ان کے ان خداؤ ں نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا جن کو وہ اللہ کے بغیر پکارا کرتے تھے۔اس لیے یہاں فرمایا:﴿ فَلَوۡلَا نَصَرَهُمُ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ قُرۡبَانًا اٰلِهَةً﴾ ’’لہٰذا ان لوگوں نے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا تقرب کا ذریعہ بنایا گیا، ان کی مدد کیوں نہ کی۔‘‘ یعنی ان کا تقرب حاصل کرتے اور ان سے فائدے کی امید پر ان کی عبادت کرتے تھے ﴿ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡهُمۡ﴾ بلکہ ان کے معبودوں نے ان کی پکار کا کوئی جواب دیا نہ عذاب کو ان سے دور کر سکے۔ ﴿ وَذٰلِكَ اِفۡكُهُمۡ وَمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ جھوٹ گھڑا کرتے تھے، جس کی بنا پر وہ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے اعمال ان کو فائدہ دیں گے، مگر وہ اعمال بے کار اور باطل ہو گئے۔
46:28

فَلَوۡلَا نَصَرَهُمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ قُرۡبَانًا ءَالِهَةَۢۖ بَلۡ ضَلُّواْ عَنۡهُمۡۚ وَذَٰلِكَ إِفۡكُهُمۡ وَمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ

اور البتہ تحقیق ہلاک (تباہ) کر دیں ہم نے جو تمھارے آس پاس ہیں بستیاں اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیں آیتیں تاکہ وہ (ہماری طرف) رجوع کریں (27) پس کیوں نہ مدد کی ان کی ان لوگوں نے جنھیں ٹھہرایا تھا انھوں نے سوائے اللہ کے قرب حاصل کرنے کے لیے معبود، بلکہ گم ہو گئے وہ (معبود) ان سے، اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو کچھ کہ تھے وہ افترا باندھتے (28) [28,27] اللہ تبارک و تعالی عرب کے مشرکین اور دیگر مشرکین کو ڈراتا ہے کہ اس نے انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو تباہ و برباد کر دیا جو ان مشرکین کے اردگرد آباد تھیں بلکہ ان میں سے بہت سی قومیں تو جزیرۃ العرب میں آباد تھیں، مثلاً: عاد اور ثمود وغیرہ، اللہ تعالی نے ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں ، یعنی انھیں ہر نوع کی نشانیاں پیش کیں۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ اپنے کفر اور تکذیب کے رویے سے باز آجائیں۔ جب وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالی نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح زبردست اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے، ان کے ان خداؤ ں نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا جن کو وہ اللہ کے بغیر پکارا کرتے تھے۔اس لیے یہاں فرمایا:﴿ فَلَوۡلَا نَصَرَهُمُ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ قُرۡبَانًا اٰلِهَةً﴾ ’’لہٰذا ان لوگوں نے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا تقرب کا ذریعہ بنایا گیا، ان کی مدد کیوں نہ کی۔‘‘ یعنی ان کا تقرب حاصل کرتے اور ان سے فائدے کی امید پر ان کی عبادت کرتے تھے ﴿ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡهُمۡ﴾ بلکہ ان کے معبودوں نے ان کی پکار کا کوئی جواب دیا نہ عذاب کو ان سے دور کر سکے۔ ﴿ وَذٰلِكَ اِفۡكُهُمۡ وَمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ جھوٹ گھڑا کرتے تھے، جس کی بنا پر وہ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے اعمال ان کو فائدہ دیں گے، مگر وہ اعمال بے کار اور باطل ہو گئے۔
46:29

وَإِذۡ صَرَفۡنَآ إِلَيۡكَ نَفَرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓاْ أَنصِتُواْۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوۡاْ إِلَىٰ قَوۡمِهِم مُّنذِرِينَ

اور(یاد کریں)جب ہم نے پھیر دی آپ کی طرف ایک جماعت جنوں کی، و ہ سنتے تھے قرآن، پس جب وہ حاضر ہوئے اس(کی تلاوت)کو تو انھوں نے کہا خاموش رہو پس جب ختم کی گئی(تلاوت) تو لوٹے وہ(جن)اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے(بن کر)(29) انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے سنی ہے ایک کتاب جو نازل کی گئی ہے بعد موسیٰ کے ، وہ تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے ہیں، وہ رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور راہ مستقیم کی طرف (30) اے ہماری قوم! قبول کر لو اللہ کے داعی(کی بات)کو، اور ایمان لے آؤ اس پر وہ بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور بچائے گا وہ تمھیں نہایت درد ناک عذاب سے (31) اور جو کوئی نہیں قبول کرے گا اللہ کے داعی(کی بات)کو تو نہیں ہے وہ عاجز کرنے والا(اللہ کو) زمین میں اور نہیں ہو گا اس کا، سوائے اس (اللہ) کے، کوئی حمایتی ہی(بلکہ)یہ لوگ ہیں کھلی گمراہی میں (32) [29] اللہ تبارک و تعالی نے جناب محمد مصطفیﷺ کی تمام مخلوق،یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس لیے تمام مخلوق کو نبوت و رسالت کی تبلیغ ضروری ہے۔انسانوں کو دعوت دینا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تو آپ کے لیے ممکن ہے۔رہے جنات تو اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے ان کو آپ کی طرف پھیر دیا، اللہ تعالی نے بھیجی ﴿ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡهُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا﴾ آپ کی طرف ’’جنات کی ایک جماعت تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے خاموش ہو جاؤ ‘‘یعنی انھوں نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ ﴿ فَلَمَّا قُضِيَ﴾ جب قرآن پڑھا جا چکا اور انھوں نے اس کو یاد کر لیا اور قرآن نے ان پر اثر کیا ﴿ وَلَّوۡا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ مُّنۡذِرِيۡنَ﴾ اپنی قوم کی خیرخواہی کرنے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لیے اپنی قوم کے پاس گئے۔اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کی مدد کرنے اور جنات میں آپ کی دعوت کو پھیلانے کے لیے جنات کو مقرر فرمایا۔ [30]﴿ قَالُوۡا يٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا كِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھوں نے کہا: اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے، جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔‘‘ یہاں انجیل کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیاکیونکہ حضرت موسیu کی کتاب انجیل کے لیے اصل اور بنی اسرائیل کے لیے احکام شریعت کی بنیاد ہے۔انجیل تو حضرت موسیu کی کتاب کی تکمیل اور بعض احکام میں ترمیم کرتی ہے۔ ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِيۡۤ﴾ ’’اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب جو ہم نے سنی ہے ﴿ اِلَى الۡحَقِّ﴾ حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، حق سے مراد ہے، ہر مطلوب اور ہر خبر میں راہ صواب۔ ﴿وَاِلٰى طَرِيۡقٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف‘‘ راہ نمائی کرتی ہے جو اللہ تعالی اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔مثلا اللہ تعالی کے بارے میں علم، نیز اس کے احکام دینی اور احکام جزا کا علم۔ [31] جب وہ قرآن کی مدح و توصیف اور اس کا مقام اور مرتبہ بیان کر چکے تو انھوں نے اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا: ﴿يٰقَوۡمَنَاۤ اَجِيۡبُوۡا دَاعِيَ اللّٰهِ﴾ ’’اے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول کرو۔‘‘ یعنی جو صرف اپنے رب کی طرف دعوت دیتا ہے وہ اپنی کسی غرض اور کسی لالچ کے لیے تمھیں دعوت نہیں دیتا وہ تو تمھیں صرف تمھارے رب کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمھارا رب تمھیں ثواب عطا کرے اور تم سے ہر برائی اور شر کو دور کر دے۔ اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُجِرۡؔكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’ اللہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں ددناک عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔‘‘ جب اس نے انھیں درد ناک عذاب سے نجات دے دی تو اس کے بعد نعمتوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔اور یہ اس شخص کے لیے جزا ہے جو اللہ تعالی کے داعی کی دعوت پر لبیک کہتا ہے۔ [32]﴿ وَمَنۡ لَّا يُجِبۡ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے، کوئی بھاگنے والا اس سے بھاگ سکتا ہے نہ کوئی مقابلہ کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے۔ ﴿ وَلَيۡسَ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءُ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہو سکتی ہے، جسے انبیاء و رسل علیہ السلام نے دعوت دی، جس کے پاس برے انجام سے ڈرانے والے واضح دلائل اور متواتر براہین لے کر پہنچے مگر اس نے روگردانی اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔
46:30

قَالُواْ يَٰقَوۡمَنَآ إِنَّا سَمِعۡنَا كِتَٰبًا أُنزِلَ مِنۢ بَعۡدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٖ مُّسۡتَقِيمٖ

اور(یاد کریں)جب ہم نے پھیر دی آپ کی طرف ایک جماعت جنوں کی، و ہ سنتے تھے قرآن، پس جب وہ حاضر ہوئے اس(کی تلاوت)کو تو انھوں نے کہا خاموش رہو پس جب ختم کی گئی(تلاوت) تو لوٹے وہ(جن)اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے(بن کر)(29) انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے سنی ہے ایک کتاب جو نازل کی گئی ہے بعد موسیٰ کے ، وہ تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے ہیں، وہ رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور راہ مستقیم کی طرف (30) اے ہماری قوم! قبول کر لو اللہ کے داعی(کی بات)کو، اور ایمان لے آؤ اس پر وہ بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور بچائے گا وہ تمھیں نہایت درد ناک عذاب سے (31) اور جو کوئی نہیں قبول کرے گا اللہ کے داعی(کی بات)کو تو نہیں ہے وہ عاجز کرنے والا(اللہ کو) زمین میں اور نہیں ہو گا اس کا، سوائے اس (اللہ) کے، کوئی حمایتی ہی(بلکہ)یہ لوگ ہیں کھلی گمراہی میں (32) [29] اللہ تبارک و تعالی نے جناب محمد مصطفیﷺ کی تمام مخلوق،یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس لیے تمام مخلوق کو نبوت و رسالت کی تبلیغ ضروری ہے۔انسانوں کو دعوت دینا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تو آپ کے لیے ممکن ہے۔رہے جنات تو اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے ان کو آپ کی طرف پھیر دیا، اللہ تعالی نے بھیجی ﴿ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡهُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا﴾ آپ کی طرف ’’جنات کی ایک جماعت تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے خاموش ہو جاؤ ‘‘یعنی انھوں نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ ﴿ فَلَمَّا قُضِيَ﴾ جب قرآن پڑھا جا چکا اور انھوں نے اس کو یاد کر لیا اور قرآن نے ان پر اثر کیا ﴿ وَلَّوۡا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ مُّنۡذِرِيۡنَ﴾ اپنی قوم کی خیرخواہی کرنے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لیے اپنی قوم کے پاس گئے۔اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کی مدد کرنے اور جنات میں آپ کی دعوت کو پھیلانے کے لیے جنات کو مقرر فرمایا۔ [30]﴿ قَالُوۡا يٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا كِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھوں نے کہا: اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے، جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔‘‘ یہاں انجیل کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیاکیونکہ حضرت موسیu کی کتاب انجیل کے لیے اصل اور بنی اسرائیل کے لیے احکام شریعت کی بنیاد ہے۔انجیل تو حضرت موسیu کی کتاب کی تکمیل اور بعض احکام میں ترمیم کرتی ہے۔ ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِيۡۤ﴾ ’’اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب جو ہم نے سنی ہے ﴿ اِلَى الۡحَقِّ﴾ حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، حق سے مراد ہے، ہر مطلوب اور ہر خبر میں راہ صواب۔ ﴿وَاِلٰى طَرِيۡقٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف‘‘ راہ نمائی کرتی ہے جو اللہ تعالی اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔مثلا اللہ تعالی کے بارے میں علم، نیز اس کے احکام دینی اور احکام جزا کا علم۔ [31] جب وہ قرآن کی مدح و توصیف اور اس کا مقام اور مرتبہ بیان کر چکے تو انھوں نے اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا: ﴿يٰقَوۡمَنَاۤ اَجِيۡبُوۡا دَاعِيَ اللّٰهِ﴾ ’’اے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول کرو۔‘‘ یعنی جو صرف اپنے رب کی طرف دعوت دیتا ہے وہ اپنی کسی غرض اور کسی لالچ کے لیے تمھیں دعوت نہیں دیتا وہ تو تمھیں صرف تمھارے رب کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمھارا رب تمھیں ثواب عطا کرے اور تم سے ہر برائی اور شر کو دور کر دے۔ اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُجِرۡؔكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’ اللہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں ددناک عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔‘‘ جب اس نے انھیں درد ناک عذاب سے نجات دے دی تو اس کے بعد نعمتوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔اور یہ اس شخص کے لیے جزا ہے جو اللہ تعالی کے داعی کی دعوت پر لبیک کہتا ہے۔ [32]﴿ وَمَنۡ لَّا يُجِبۡ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے، کوئی بھاگنے والا اس سے بھاگ سکتا ہے نہ کوئی مقابلہ کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے۔ ﴿ وَلَيۡسَ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءُ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہو سکتی ہے، جسے انبیاء و رسل علیہ السلام نے دعوت دی، جس کے پاس برے انجام سے ڈرانے والے واضح دلائل اور متواتر براہین لے کر پہنچے مگر اس نے روگردانی اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔
46:31

يَٰقَوۡمَنَآ أَجِيبُواْ دَاعِيَ ٱللَّهِ وَءَامِنُواْ بِهِۦ يَغۡفِرۡ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُجِرۡكُم مِّنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ

اور(یاد کریں)جب ہم نے پھیر دی آپ کی طرف ایک جماعت جنوں کی، و ہ سنتے تھے قرآن، پس جب وہ حاضر ہوئے اس(کی تلاوت)کو تو انھوں نے کہا خاموش رہو پس جب ختم کی گئی(تلاوت) تو لوٹے وہ(جن)اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے(بن کر)(29) انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے سنی ہے ایک کتاب جو نازل کی گئی ہے بعد موسیٰ کے ، وہ تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے ہیں، وہ رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور راہ مستقیم کی طرف (30) اے ہماری قوم! قبول کر لو اللہ کے داعی(کی بات)کو، اور ایمان لے آؤ اس پر وہ بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور بچائے گا وہ تمھیں نہایت درد ناک عذاب سے (31) اور جو کوئی نہیں قبول کرے گا اللہ کے داعی(کی بات)کو تو نہیں ہے وہ عاجز کرنے والا(اللہ کو) زمین میں اور نہیں ہو گا اس کا، سوائے اس (اللہ) کے، کوئی حمایتی ہی(بلکہ)یہ لوگ ہیں کھلی گمراہی میں (32) [29] اللہ تبارک و تعالی نے جناب محمد مصطفیﷺ کی تمام مخلوق،یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس لیے تمام مخلوق کو نبوت و رسالت کی تبلیغ ضروری ہے۔انسانوں کو دعوت دینا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تو آپ کے لیے ممکن ہے۔رہے جنات تو اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے ان کو آپ کی طرف پھیر دیا، اللہ تعالی نے بھیجی ﴿ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡهُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا﴾ آپ کی طرف ’’جنات کی ایک جماعت تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے خاموش ہو جاؤ ‘‘یعنی انھوں نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ ﴿ فَلَمَّا قُضِيَ﴾ جب قرآن پڑھا جا چکا اور انھوں نے اس کو یاد کر لیا اور قرآن نے ان پر اثر کیا ﴿ وَلَّوۡا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ مُّنۡذِرِيۡنَ﴾ اپنی قوم کی خیرخواہی کرنے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لیے اپنی قوم کے پاس گئے۔اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کی مدد کرنے اور جنات میں آپ کی دعوت کو پھیلانے کے لیے جنات کو مقرر فرمایا۔ [30]﴿ قَالُوۡا يٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا كِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھوں نے کہا: اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے، جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔‘‘ یہاں انجیل کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیاکیونکہ حضرت موسیu کی کتاب انجیل کے لیے اصل اور بنی اسرائیل کے لیے احکام شریعت کی بنیاد ہے۔انجیل تو حضرت موسیu کی کتاب کی تکمیل اور بعض احکام میں ترمیم کرتی ہے۔ ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِيۡۤ﴾ ’’اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب جو ہم نے سنی ہے ﴿ اِلَى الۡحَقِّ﴾ حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، حق سے مراد ہے، ہر مطلوب اور ہر خبر میں راہ صواب۔ ﴿وَاِلٰى طَرِيۡقٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف‘‘ راہ نمائی کرتی ہے جو اللہ تعالی اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔مثلا اللہ تعالی کے بارے میں علم، نیز اس کے احکام دینی اور احکام جزا کا علم۔ [31] جب وہ قرآن کی مدح و توصیف اور اس کا مقام اور مرتبہ بیان کر چکے تو انھوں نے اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا: ﴿يٰقَوۡمَنَاۤ اَجِيۡبُوۡا دَاعِيَ اللّٰهِ﴾ ’’اے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول کرو۔‘‘ یعنی جو صرف اپنے رب کی طرف دعوت دیتا ہے وہ اپنی کسی غرض اور کسی لالچ کے لیے تمھیں دعوت نہیں دیتا وہ تو تمھیں صرف تمھارے رب کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمھارا رب تمھیں ثواب عطا کرے اور تم سے ہر برائی اور شر کو دور کر دے۔ اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُجِرۡؔكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’ اللہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں ددناک عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔‘‘ جب اس نے انھیں درد ناک عذاب سے نجات دے دی تو اس کے بعد نعمتوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔اور یہ اس شخص کے لیے جزا ہے جو اللہ تعالی کے داعی کی دعوت پر لبیک کہتا ہے۔ [32]﴿ وَمَنۡ لَّا يُجِبۡ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے، کوئی بھاگنے والا اس سے بھاگ سکتا ہے نہ کوئی مقابلہ کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے۔ ﴿ وَلَيۡسَ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءُ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہو سکتی ہے، جسے انبیاء و رسل علیہ السلام نے دعوت دی، جس کے پاس برے انجام سے ڈرانے والے واضح دلائل اور متواتر براہین لے کر پہنچے مگر اس نے روگردانی اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔
46:32

وَمَن لَّا يُجِبۡ دَاعِيَ ٱللَّهِ فَلَيۡسَ بِمُعۡجِزٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَيۡسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءُۚ أُوْلَـٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ

اور(یاد کریں)جب ہم نے پھیر دی آپ کی طرف ایک جماعت جنوں کی، و ہ سنتے تھے قرآن، پس جب وہ حاضر ہوئے اس(کی تلاوت)کو تو انھوں نے کہا خاموش رہو پس جب ختم کی گئی(تلاوت) تو لوٹے وہ(جن)اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے(بن کر)(29) انھوں نے کہا اے ہماری قوم! بے شک ہم نے سنی ہے ایک کتاب جو نازل کی گئی ہے بعد موسیٰ کے ، وہ تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے ہیں، وہ رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور راہ مستقیم کی طرف (30) اے ہماری قوم! قبول کر لو اللہ کے داعی(کی بات)کو، اور ایمان لے آؤ اس پر وہ بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور بچائے گا وہ تمھیں نہایت درد ناک عذاب سے (31) اور جو کوئی نہیں قبول کرے گا اللہ کے داعی(کی بات)کو تو نہیں ہے وہ عاجز کرنے والا(اللہ کو) زمین میں اور نہیں ہو گا اس کا، سوائے اس (اللہ) کے، کوئی حمایتی ہی(بلکہ)یہ لوگ ہیں کھلی گمراہی میں (32) [29] اللہ تبارک و تعالی نے جناب محمد مصطفیﷺ کی تمام مخلوق،یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس لیے تمام مخلوق کو نبوت و رسالت کی تبلیغ ضروری ہے۔انسانوں کو دعوت دینا اور ان کو برے انجام سے ڈرانا تو آپ کے لیے ممکن ہے۔رہے جنات تو اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے ان کو آپ کی طرف پھیر دیا، اللہ تعالی نے بھیجی ﴿ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡهُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا﴾ آپ کی طرف ’’جنات کی ایک جماعت تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے خاموش ہو جاؤ ‘‘یعنی انھوں نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ ﴿ فَلَمَّا قُضِيَ﴾ جب قرآن پڑھا جا چکا اور انھوں نے اس کو یاد کر لیا اور قرآن نے ان پر اثر کیا ﴿ وَلَّوۡا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ مُّنۡذِرِيۡنَ﴾ اپنی قوم کی خیرخواہی کرنے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لیے اپنی قوم کے پاس گئے۔اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کی مدد کرنے اور جنات میں آپ کی دعوت کو پھیلانے کے لیے جنات کو مقرر فرمایا۔ [30]﴿ قَالُوۡا يٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا كِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھوں نے کہا: اے قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے، جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔‘‘ یہاں انجیل کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیاکیونکہ حضرت موسیu کی کتاب انجیل کے لیے اصل اور بنی اسرائیل کے لیے احکام شریعت کی بنیاد ہے۔انجیل تو حضرت موسیu کی کتاب کی تکمیل اور بعض احکام میں ترمیم کرتی ہے۔ ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِيۡۤ﴾ ’’اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب جو ہم نے سنی ہے ﴿ اِلَى الۡحَقِّ﴾ حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہے، حق سے مراد ہے، ہر مطلوب اور ہر خبر میں راہ صواب۔ ﴿وَاِلٰى طَرِيۡقٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف‘‘ راہ نمائی کرتی ہے جو اللہ تعالی اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔مثلا اللہ تعالی کے بارے میں علم، نیز اس کے احکام دینی اور احکام جزا کا علم۔ [31] جب وہ قرآن کی مدح و توصیف اور اس کا مقام اور مرتبہ بیان کر چکے تو انھوں نے اپنی قوم کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا: ﴿يٰقَوۡمَنَاۤ اَجِيۡبُوۡا دَاعِيَ اللّٰهِ﴾ ’’اے ہماری قوم! اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول کرو۔‘‘ یعنی جو صرف اپنے رب کی طرف دعوت دیتا ہے وہ اپنی کسی غرض اور کسی لالچ کے لیے تمھیں دعوت نہیں دیتا وہ تو تمھیں صرف تمھارے رب کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمھارا رب تمھیں ثواب عطا کرے اور تم سے ہر برائی اور شر کو دور کر دے۔ اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُجِرۡؔكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’ اللہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں ددناک عذاب سے پناہ میں رکھے گا۔‘‘ جب اس نے انھیں درد ناک عذاب سے نجات دے دی تو اس کے بعد نعمتوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔اور یہ اس شخص کے لیے جزا ہے جو اللہ تعالی کے داعی کی دعوت پر لبیک کہتا ہے۔ [32]﴿ وَمَنۡ لَّا يُجِبۡ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے، کوئی بھاگنے والا اس سے بھاگ سکتا ہے نہ کوئی مقابلہ کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے۔ ﴿ وَلَيۡسَ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءُ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہو سکتی ہے، جسے انبیاء و رسل علیہ السلام نے دعوت دی، جس کے پاس برے انجام سے ڈرانے والے واضح دلائل اور متواتر براہین لے کر پہنچے مگر اس نے روگردانی اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔
46:33

أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَلَمۡ يَعۡيَ بِخَلۡقِهِنَّ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحۡـِۧيَ ٱلۡمَوۡتَىٰۚ بَلَىٰٓۚ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ

کیا نہیں دیکھا (جانا) انھوں نے یہ کہ بے شک اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اورزمین کو اور نہ تھکا وہ ان کے پیدا کرنے سے(بے شک وہ)قادر ہے اس پر کہ زندہ کرے مُردوں کو، کیوں نہیں!بلاشبہ وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے (33) [33] یہ اللہ تعالی کی طرف سے مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر ایسے امر کے ذریعے سے استدلال ہے جو اس سے زیادہ بلیغ ہے،یعنی وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کی عظمت ان کی وسعت اور ان کی تخلیق میں مہارت کے باوصف، کسی مشقت کے بغیر تخلیق کیا اور ان کو تخلیق کرتے ہوئے وہ تھکی نہیں، تو تمھارے مرنے کے بعد تمھاری زندگی کا اعادہ اسے کیسے عاجز کر سکتا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
46:34

وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيۡسَ هَٰذَا بِٱلۡحَقِّۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَرَبِّنَاۚ قَالَ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ

اور جس دن پیش کیے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر، (تو کہا جائے گا) کیا نہیں ہے یہ حق؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، قسم ہمارے رب کی!(یہ حق ہے)اللہ فرمائے گا پس چکھو تم (یہ) عذاب بوجہ اس کےکہ تھے تم کفر کرتے (34) پس آپ صبر کریں جس طرح صبر کیا عزم و ہمت والے رسولوں نے، اور نہ جلدی طلب کریں(عذاب) ان کے لیے گویا کہ وہ(کافر)، جس دن دیکھیں گے اس(عذاب)کو جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں (تو سمجھیں گے کہ) نہیں ٹھہرے وہ (دنیا میں) مگر ایک گھڑی ہی دن کی (یہ تو) پہنچا دینا ہے، سو نہیں ہلاک کیا جائے گا (کوئی اور) سوائے نافرمان لوگوں کے (35) [34] جہنم کے سامنے پیش کیے جانے پر، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے، کفار کی جوحالت ہوگی،اللہ تعالی اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ ان کو زجروتوبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا:﴿ اَلَيۡسَ هٰؔذَا بِالۡحَقِّ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا﴾ ’’کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے، کیوں نہیں ہمارے رب!‘‘ پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے اور ان کا جھوٹ واضح ہو جائے گا۔ ﴿ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ ’’اللہ فرمائے گا: اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو‘‘ یعنی ہمیشہ چمٹے رہنے والے عذاب کا مزا چکھو، جس طرح کفر تمھاری دائمی اور لازمی صفت تھی۔ [35]پھر اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ آپ کو جھٹلانے والوں اور آپ سے عداوت رکھنے والوں کی ایذا رسانی پر صبر کریں اور ان کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے رہیں ،نیز یہ کہ وہ اولوالعزم انبیاء و رسل کی پیروی کریں جو تمام مخلوق کے سردار، عزیمتوں کے مالک اور بلندہمت تھے، جن کا صبر بہت عظیم اور جن کا یقین کامل تھا۔ پس تمام مخلوق میں وہی سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو نمونہ بنایا جائے ،ان کے آثار کی پیروی کی جائے اور ان کی روشنی سے راہنمائی حاصل کی جائے۔ چنانچہ رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایسا صبر کیا کہ آپ سے پہلے کسی نبی نے ایسا صبر نہیں کیا۔ آپ کے تمام دشمنوں نے آپ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیے، ان سب نے اللہ تعالی کی طرف دعوت کا راستہ روکا، محاربت اور عداوت میں ان سے جو کچھ ممکن تھا انھوں نے کیا… مگر رسول اللہﷺ اللہ تعالی کے احکام کو بیان کرتے رہے، اللہ تعالی کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتے رہے اور جو اذیتیں آپ کو پہنچتیں، ان پر صبر کرتے رہے… یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو زمین پر اقتدار سے سرفراز فرمایا، اس نے آپ کے دین کو تمام ادیان پر اور آپ کی امت کو تمام امتوں پر غالب کر دیا… صلی اللّٰہ علیہ وسلم تسلیما۔﴿ وَلَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّهُمۡ﴾یعنی عذاب کے لیے جلدی مچانے والے اہل تکذیب کے لیے جلدی نہ کیجیے۔ یہ سب ان کی جہالت اور حماقت کے سبب سے ہے اور ان کی جہالت آپ کو ہلکا اور حقیر نہ سمجھے۔ان کا جلدی مچانا آپ کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ آپ ان کے لیے بددعا کریں، کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَ مَا يُوۡعَدُوۡنَ١ۙ لَمۡ يَلۡبَثُوۡۤا﴾ ’’جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے) گویا وہ نہیں رہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ اِلَّا سَاعَةً مِّنۡ نَّهَارٍ﴾ ’’مگر گھڑی بھر دن کی‘‘ پس نہایت قلیل مدت کے لیے ان کا متمتع ہونا آپ کو غم زدہ نہ کرے۔بالآخر انھیں سخت عذاب کا سامنا ہے۔ ﴿ بَلٰغٌ﴾یہ دنیا، اس کی متاع اور اس کی لذات و شہوات، تھوڑے وقت کے لیے اور ختم ہونے والی چیز ہے۔ اور یہ قرآن عظیم جو ہم نے پوری طرح تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے، تمھارے لیے کافی اور آخرت کے لیے زاد راہ ہے، کتنا اچھا ہے یہ زادراہ! یہ ایسا زادراہ ہے جو نعمتوں بھری جنت تک پہنچاتا اور دردناک عذاب سے بچاتا ہے، یہ افضل ترین زادراہ ہے جسے مخلوق اپنے ساتھ لیتی ہے اور یہ جلیل ترین نعمت ہے جس سے اللہ تعالی نے ان کو نوازا ہے۔﴿ فَهَلۡ يُهۡلَكُ﴾ ’’وہی ہلاک ہوں گے۔‘‘ یعنی عقوبات کے ذریعے سے ﴿ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡفٰسِقُوۡنَ﴾ جن کے اندر کوئی بھلائی نہیں، وہ اپنے رب کی اطاعت کے دائرے سے نکل گئے اور انھوں نے اس حق کو قبول نہ کیا جو ان کے پاس رسول لے کر آئے تھے، ان کی کوتاہی کے باوجود اللہ تعالی نے ان کا عذر قبول کیا، ان کو برے انجام سے ڈرایا، مگر وہ اپنے کفر اور تکذیب پر جمے رہے۔ہم اللہ تعالی سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس رویے سے بچائے۔
46:35

فَٱصۡبِرۡ كَمَا صَبَرَ أُوْلُواْ ٱلۡعَزۡمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِل لَّهُمۡۚ كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَ مَا يُوعَدُونَ لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا سَاعَةٗ مِّن نَّهَارِۭۚ بَلَٰغٞۚ فَهَلۡ يُهۡلَكُ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ

اور جس دن پیش کیے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر، (تو کہا جائے گا) کیا نہیں ہے یہ حق؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، قسم ہمارے رب کی!(یہ حق ہے)اللہ فرمائے گا پس چکھو تم (یہ) عذاب بوجہ اس کےکہ تھے تم کفر کرتے (34) پس آپ صبر کریں جس طرح صبر کیا عزم و ہمت والے رسولوں نے، اور نہ جلدی طلب کریں(عذاب) ان کے لیے گویا کہ وہ(کافر)، جس دن دیکھیں گے اس(عذاب)کو جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں (تو سمجھیں گے کہ) نہیں ٹھہرے وہ (دنیا میں) مگر ایک گھڑی ہی دن کی (یہ تو) پہنچا دینا ہے، سو نہیں ہلاک کیا جائے گا (کوئی اور) سوائے نافرمان لوگوں کے (35) [34] جہنم کے سامنے پیش کیے جانے پر، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے، کفار کی جوحالت ہوگی،اللہ تعالی اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ ان کو زجروتوبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا:﴿ اَلَيۡسَ هٰؔذَا بِالۡحَقِّ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا﴾ ’’کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے، کیوں نہیں ہمارے رب!‘‘ پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے اور ان کا جھوٹ واضح ہو جائے گا۔ ﴿ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ ’’اللہ فرمائے گا: اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو‘‘ یعنی ہمیشہ چمٹے رہنے والے عذاب کا مزا چکھو، جس طرح کفر تمھاری دائمی اور لازمی صفت تھی۔ [35]پھر اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ آپ کو جھٹلانے والوں اور آپ سے عداوت رکھنے والوں کی ایذا رسانی پر صبر کریں اور ان کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے رہیں ،نیز یہ کہ وہ اولوالعزم انبیاء و رسل کی پیروی کریں جو تمام مخلوق کے سردار، عزیمتوں کے مالک اور بلندہمت تھے، جن کا صبر بہت عظیم اور جن کا یقین کامل تھا۔ پس تمام مخلوق میں وہی سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو نمونہ بنایا جائے ،ان کے آثار کی پیروی کی جائے اور ان کی روشنی سے راہنمائی حاصل کی جائے۔ چنانچہ رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایسا صبر کیا کہ آپ سے پہلے کسی نبی نے ایسا صبر نہیں کیا۔ آپ کے تمام دشمنوں نے آپ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیے، ان سب نے اللہ تعالی کی طرف دعوت کا راستہ روکا، محاربت اور عداوت میں ان سے جو کچھ ممکن تھا انھوں نے کیا… مگر رسول اللہﷺ اللہ تعالی کے احکام کو بیان کرتے رہے، اللہ تعالی کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتے رہے اور جو اذیتیں آپ کو پہنچتیں، ان پر صبر کرتے رہے… یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو زمین پر اقتدار سے سرفراز فرمایا، اس نے آپ کے دین کو تمام ادیان پر اور آپ کی امت کو تمام امتوں پر غالب کر دیا… صلی اللّٰہ علیہ وسلم تسلیما۔﴿ وَلَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّهُمۡ﴾یعنی عذاب کے لیے جلدی مچانے والے اہل تکذیب کے لیے جلدی نہ کیجیے۔ یہ سب ان کی جہالت اور حماقت کے سبب سے ہے اور ان کی جہالت آپ کو ہلکا اور حقیر نہ سمجھے۔ان کا جلدی مچانا آپ کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ آپ ان کے لیے بددعا کریں، کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَ مَا يُوۡعَدُوۡنَ١ۙ لَمۡ يَلۡبَثُوۡۤا﴾ ’’جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے) گویا وہ نہیں رہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ اِلَّا سَاعَةً مِّنۡ نَّهَارٍ﴾ ’’مگر گھڑی بھر دن کی‘‘ پس نہایت قلیل مدت کے لیے ان کا متمتع ہونا آپ کو غم زدہ نہ کرے۔بالآخر انھیں سخت عذاب کا سامنا ہے۔ ﴿ بَلٰغٌ﴾یہ دنیا، اس کی متاع اور اس کی لذات و شہوات، تھوڑے وقت کے لیے اور ختم ہونے والی چیز ہے۔ اور یہ قرآن عظیم جو ہم نے پوری طرح تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے، تمھارے لیے کافی اور آخرت کے لیے زاد راہ ہے، کتنا اچھا ہے یہ زادراہ! یہ ایسا زادراہ ہے جو نعمتوں بھری جنت تک پہنچاتا اور دردناک عذاب سے بچاتا ہے، یہ افضل ترین زادراہ ہے جسے مخلوق اپنے ساتھ لیتی ہے اور یہ جلیل ترین نعمت ہے جس سے اللہ تعالی نے ان کو نوازا ہے۔﴿ فَهَلۡ يُهۡلَكُ﴾ ’’وہی ہلاک ہوں گے۔‘‘ یعنی عقوبات کے ذریعے سے ﴿ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡفٰسِقُوۡنَ﴾ جن کے اندر کوئی بھلائی نہیں، وہ اپنے رب کی اطاعت کے دائرے سے نکل گئے اور انھوں نے اس حق کو قبول نہ کیا جو ان کے پاس رسول لے کر آئے تھے، ان کی کوتاہی کے باوجود اللہ تعالی نے ان کا عذر قبول کیا، ان کو برے انجام سے ڈرایا، مگر وہ اپنے کفر اور تکذیب پر جمے رہے۔ہم اللہ تعالی سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس رویے سے بچائے۔