QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Jathiyah

ٱلْجَاثِيَة

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 45 · 37 verses

45:1

حمٓ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:2

تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:3

إِنَّ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:4

وَفِي خَلۡقِكُمۡ وَمَا يَبُثُّ مِن دَآبَّةٍ ءَايَٰتٞ لِّقَوۡمٖ يُوقِنُونَ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:5

وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزۡقٖ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ ءَايَٰتٞ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:6

تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتۡلُوهَا عَلَيۡكَ بِٱلۡحَقِّۖ فَبِأَيِّ حَدِيثِۭ بَعۡدَ ٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ يُؤۡمِنُونَ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:7

وَيۡلٞ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:8

يَسۡمَعُ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسۡتَكۡبِرٗا كَأَن لَّمۡ يَسۡمَعۡهَاۖ فَبَشِّرۡهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٖ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:9

وَإِذَا عَلِمَ مِنۡ ءَايَٰتِنَا شَيۡـًٔا ٱتَّخَذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:10

مِّن وَرَآئِهِمۡ جَهَنَّمُۖ وَلَا يُغۡنِي عَنۡهُم مَّا كَسَبُواْ شَيۡـٔٗا وَلَا مَا ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٌ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:11

هَٰذَا هُدٗىۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٞ مِّن رِّجۡزٍ أَلِيمٌ

حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ [5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔ [10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔ [11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:12

۞ٱللَّهُ ٱلَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡبَحۡرَ لِتَجۡرِيَ ٱلۡفُلۡكُ فِيهِ بِأَمۡرِهِۦ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ

اللہ وہ ہے جس نے مسخر کر دیا تمھارے لیے سمندر کو تاکہ چلیں کشتیاں اس میں اس کے حکم سے اور تاکہ تلاش کرو تم اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو (12) اور مسخر کر دیا اس نے تمھارے لیے جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے سب اپنی طرف سے، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں (13) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے حکم سے آسانی پیدا کر کے جہازوں اور کشتیوں کو چلانے کے لیے سمندر کو مسخر کیا۔ ﴿وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ تاکہ تم مختلف قسم کی تجارتوں اور مکاسب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو۔ ﴿وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور جب تم اس کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اور زیادہ نعمتیں عطا کرے گا اور تمھاری شکر گزاری پر بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔ [13]﴿وَسَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مِّؔنۡهُ﴾ ’’اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو تمھارے لیے مسخر کردیا۔‘‘ یعنی اپنے فضل و احسان سے۔ یہ آیت کریمہ آسمانوں اور زمین کے تمام اجسام اور ہر اس چیز کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ودیعت کی ہے ، مثلاً: سورج، چاند، کواکب، ستارے، سیارے، حیوانات کی مختلف انواع، درختوں اور پھلوں کی مختلف اصناف ، معدنیات کی اقسام اور دیگر چیزیں جن کے اندر بنی آدم کے مصالح اور ان کی ضروریات ہیں۔ یہ چیز اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں پوری کوشش کریں اور اپنے فکر کو اس کی آیات اور حکمتوں میں تدبیر کرنے میں صرف کریں۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک اس میں غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ان آیات میں سے اس کائنات کی تخلیق، اس کی تدبیر اور اس کی تسخیر ہے، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفوذ اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت کرتی ہے۔ اس کائنات میں پائی جانے والی مضبوطی، مہارت، انوکھی صنعت اور حسن تخلیق اس کی حکمت کاملہ اور اس کے علم کی دلیل ہے۔ اس کائنات کی وسعتیں اور اس کی عظمت و کثرت، اللہ تعالیٰ کے وسیع اقتدار و سلطنت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کائنات میں تخصیصات اور متضاد اشیاء کا وجود، اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کائنات میں موجود دینی اور دنیاوی منافع و مصالح اس کی بے پایاں رحمت، لامحدود فضل و احسان اور اس کے گوناگوں لطف و کرم پر دلالت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر چیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ یکتا ہے اور وہی ایک معبود ہے جس کے سوا کوئی اس چیز کا مستحق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کے سامنے تذلل کا اظہار کیا جائے۔ نیز ہر چیز اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو کچھ لے کر آئے ہیں، سب صداقت پر مبنی ہے ۔یہ واضح عقلی دلائل ہیں جو کسی قسم کے شک و ریب کا شائبہ قبول نہیں کرتے۔
45:13

وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا مِّنۡهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ

اللہ وہ ہے جس نے مسخر کر دیا تمھارے لیے سمندر کو تاکہ چلیں کشتیاں اس میں اس کے حکم سے اور تاکہ تلاش کرو تم اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو (12) اور مسخر کر دیا اس نے تمھارے لیے جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے سب اپنی طرف سے، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں (13) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے حکم سے آسانی پیدا کر کے جہازوں اور کشتیوں کو چلانے کے لیے سمندر کو مسخر کیا۔ ﴿وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ تاکہ تم مختلف قسم کی تجارتوں اور مکاسب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو۔ ﴿وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور جب تم اس کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اور زیادہ نعمتیں عطا کرے گا اور تمھاری شکر گزاری پر بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔ [13]﴿وَسَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مِّؔنۡهُ﴾ ’’اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو تمھارے لیے مسخر کردیا۔‘‘ یعنی اپنے فضل و احسان سے۔ یہ آیت کریمہ آسمانوں اور زمین کے تمام اجسام اور ہر اس چیز کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ودیعت کی ہے ، مثلاً: سورج، چاند، کواکب، ستارے، سیارے، حیوانات کی مختلف انواع، درختوں اور پھلوں کی مختلف اصناف ، معدنیات کی اقسام اور دیگر چیزیں جن کے اندر بنی آدم کے مصالح اور ان کی ضروریات ہیں۔ یہ چیز اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں پوری کوشش کریں اور اپنے فکر کو اس کی آیات اور حکمتوں میں تدبیر کرنے میں صرف کریں۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک اس میں غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ان آیات میں سے اس کائنات کی تخلیق، اس کی تدبیر اور اس کی تسخیر ہے، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفوذ اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت کرتی ہے۔ اس کائنات میں پائی جانے والی مضبوطی، مہارت، انوکھی صنعت اور حسن تخلیق اس کی حکمت کاملہ اور اس کے علم کی دلیل ہے۔ اس کائنات کی وسعتیں اور اس کی عظمت و کثرت، اللہ تعالیٰ کے وسیع اقتدار و سلطنت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کائنات میں تخصیصات اور متضاد اشیاء کا وجود، اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کائنات میں موجود دینی اور دنیاوی منافع و مصالح اس کی بے پایاں رحمت، لامحدود فضل و احسان اور اس کے گوناگوں لطف و کرم پر دلالت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر چیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ یکتا ہے اور وہی ایک معبود ہے جس کے سوا کوئی اس چیز کا مستحق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کے سامنے تذلل کا اظہار کیا جائے۔ نیز ہر چیز اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو کچھ لے کر آئے ہیں، سب صداقت پر مبنی ہے ۔یہ واضح عقلی دلائل ہیں جو کسی قسم کے شک و ریب کا شائبہ قبول نہیں کرتے۔
45:14

قُل لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ يَغۡفِرُواْ لِلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ أَيَّامَ ٱللَّهِ لِيَجۡزِيَ قَوۡمَۢا بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ

کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جو ایمان لائے، درگزر کریں وہ ان لوگوں سے جو نہیں امید رکھتے اللہ کے دنوں کی (جن میں وہ گرفت کرتا ہے) تاکہ بدلہ دے وہ کچھ لوگوں کو ساتھ اس کے جو تھے وہ کماتے (14) جس نے عمل کیا نیک تو (اس کا فائدہ) اسی کے لیے ہے اور جس نے کیا برا کام تو اسی پر (اس کا وبال) ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے (15) [14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ حسن اخلاق سے کام لیں اور ان مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کریں جو ایام الٰہی کی امید نہیں رکھتے یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے امیدوار ہیں نہ گناہ گاروں کے بارے میں سنت الٰہی سے خائف ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے گا۔ پس اے مومنوں کے گروہ! اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان، تمھارے درگزر اور تمھارے صبر کی جزا کے طور پر تمھیں ثواب جزیل سے بہرہ مند کرے گا۔ اگر کفار و مشرکین اپنی تکذیب پر جمے رہے تو تم پر رسوا کن وہ سخت عذاب نازل نہیں ہو گا جو ان پر نازل ہوگا۔ بنابریں فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا١ٞ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برا عمل کرتا ہے تو وہی اس کا خمیازہ بھگتے گا، پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
45:15

مَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَسَآءَ فَعَلَيۡهَاۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُونَ

کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جو ایمان لائے، درگزر کریں وہ ان لوگوں سے جو نہیں امید رکھتے اللہ کے دنوں کی (جن میں وہ گرفت کرتا ہے) تاکہ بدلہ دے وہ کچھ لوگوں کو ساتھ اس کے جو تھے وہ کماتے (14) جس نے عمل کیا نیک تو (اس کا فائدہ) اسی کے لیے ہے اور جس نے کیا برا کام تو اسی پر (اس کا وبال) ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے (15) [14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ حسن اخلاق سے کام لیں اور ان مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کریں جو ایام الٰہی کی امید نہیں رکھتے یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے امیدوار ہیں نہ گناہ گاروں کے بارے میں سنت الٰہی سے خائف ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے گا۔ پس اے مومنوں کے گروہ! اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان، تمھارے درگزر اور تمھارے صبر کی جزا کے طور پر تمھیں ثواب جزیل سے بہرہ مند کرے گا۔ اگر کفار و مشرکین اپنی تکذیب پر جمے رہے تو تم پر رسوا کن وہ سخت عذاب نازل نہیں ہو گا جو ان پر نازل ہوگا۔ بنابریں فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا١ٞ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برا عمل کرتا ہے تو وہی اس کا خمیازہ بھگتے گا، پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
45:16

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلۡنَٰهُمۡ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ

اور البتہ تحقیق دی ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت اور رزق دیا ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں سے اور فضیلت دی ہم نے ان کو اوپر جہانوں کے (16) اور دیں ہم نے ان کو واضح دلیلیں دین کی بابت، پس نہیں اختلاف کیا انھوں نے مگر بعد اس کے کہ آ گیا ان کے پاس علم، محض ضد سے آپس کی، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے، ان چیزوں میں کہ تھے وہ ان میں اختلاف کرتے (17) [16] ہم نے بنی اسرائیل کو ایسی ایسی نعمتیں عطا کیں جو دوسروں کو حاصل نہ تھیں۔ ہم نے انھیں ﴿الۡكِتٰبَ﴾یعنی تورات و انجیل سے سرفراز کیا۔ اور ﴿الۡحُكۡمُ﴾ ہم نے انھیں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت اور ﴿النُّبُوَّةَ﴾نبوت عطا کی۔ نبوت کی وجہ سے وہ دنیا میں ممتاز ہوئے۔ ابراہیمu کی اولاد میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کے گھرانے میں نبوت رہی۔﴿وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ اور ہم نے انھیں ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں سے پاکیزہ چیزوں سے نوازا اور ان پر من و سلویٰ نازل کیا۔ ﴿وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اور ان نعمتوں کے ذریعے سے ہم نے انھیں تمام خلائق پر فضیلت دی۔ اس عموم لفظی سے امت محمدیہ خارج ہے کیونکہ امت محمدیہ بہترین امت ہے جو لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ آیت کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ اس سے امت مسلمہ کے سوا دیگر امتوں پر فضیلت مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل پر احسان کیا اور انھیں دیگر قوموں سے ممیز کیا۔نیز وہ فضائل جن کی بنا پر بنی اسرائیل کو فوقیت حاصل ہے ، مثلاً: کتاب کا عطا کیا جانا، حکومت اور نبوت وغیرہ جیسے دیگر اوصاف تو وہ اس امت کو بھی حاصل ہیں ۔اس کے علاوہ اس امت کے بہت سے فضائل ان پر مستزاد ہیں، پھر بنی اسرائیل کی شریعت امت محمدیہ کی شریعت کا ایک جز ہے۔ یہ کتاب عظیم، گزشتہ تمام کتابوں پر نگہبان ہے اور حضرت محمد مصطفیﷺ گزشتہ تمام رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ [17]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے﴿بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’دلائل۔‘‘ جو حق کو باطل سے واضح کرتے ہیں۔ ﴿مِّنَ الۡاَمۡرِ ﴾ یعنی امر قدری سے جو اللہ تعالیٰ نے ان تک پہنچایا ہے۔ یہ آیات وہ معجزات ہیں جن کا انھوں نے موسیٰu کے ذریعے سے مشاہدہ کیا، یہ ان سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ بہترین طریقے سے ان کو قائم رکھیں، حق پر مجتمع رہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے واضح کیا ہے۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس حق کے ساتھ اس سے متضاد معاملہ کیا جو ان پر واجب تھا۔ پس جس معاملے میں ان کو مجتمع رہنے کا حکم دیا گیا تھا اس میں انھوں نے اختلاف کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ ﴾ ’’پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔‘‘ یعنی وہ علم جو عدم اختلاف کا موجب تھا صرف ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی نے انھیں اس اختلاف پر آمادہ کیا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔‘‘ پس وہ حق شعاروں کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دے گا جنھوں نے باطل کو اختیار کیا اور جن کو خواہش نفس نے اختلاف پر آمادہ کیا۔
45:17

وَءَاتَيۡنَٰهُم بَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِۖ فَمَا ٱخۡتَلَفُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ

اور البتہ تحقیق دی ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت اور رزق دیا ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں سے اور فضیلت دی ہم نے ان کو اوپر جہانوں کے (16) اور دیں ہم نے ان کو واضح دلیلیں دین کی بابت، پس نہیں اختلاف کیا انھوں نے مگر بعد اس کے کہ آ گیا ان کے پاس علم، محض ضد سے آپس کی، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے، ان چیزوں میں کہ تھے وہ ان میں اختلاف کرتے (17) [16] ہم نے بنی اسرائیل کو ایسی ایسی نعمتیں عطا کیں جو دوسروں کو حاصل نہ تھیں۔ ہم نے انھیں ﴿الۡكِتٰبَ﴾یعنی تورات و انجیل سے سرفراز کیا۔ اور ﴿الۡحُكۡمُ﴾ ہم نے انھیں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت اور ﴿النُّبُوَّةَ﴾نبوت عطا کی۔ نبوت کی وجہ سے وہ دنیا میں ممتاز ہوئے۔ ابراہیمu کی اولاد میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کے گھرانے میں نبوت رہی۔﴿وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ اور ہم نے انھیں ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں سے پاکیزہ چیزوں سے نوازا اور ان پر من و سلویٰ نازل کیا۔ ﴿وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اور ان نعمتوں کے ذریعے سے ہم نے انھیں تمام خلائق پر فضیلت دی۔ اس عموم لفظی سے امت محمدیہ خارج ہے کیونکہ امت محمدیہ بہترین امت ہے جو لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ آیت کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ اس سے امت مسلمہ کے سوا دیگر امتوں پر فضیلت مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل پر احسان کیا اور انھیں دیگر قوموں سے ممیز کیا۔نیز وہ فضائل جن کی بنا پر بنی اسرائیل کو فوقیت حاصل ہے ، مثلاً: کتاب کا عطا کیا جانا، حکومت اور نبوت وغیرہ جیسے دیگر اوصاف تو وہ اس امت کو بھی حاصل ہیں ۔اس کے علاوہ اس امت کے بہت سے فضائل ان پر مستزاد ہیں، پھر بنی اسرائیل کی شریعت امت محمدیہ کی شریعت کا ایک جز ہے۔ یہ کتاب عظیم، گزشتہ تمام کتابوں پر نگہبان ہے اور حضرت محمد مصطفیﷺ گزشتہ تمام رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ [17]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے﴿بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’دلائل۔‘‘ جو حق کو باطل سے واضح کرتے ہیں۔ ﴿مِّنَ الۡاَمۡرِ ﴾ یعنی امر قدری سے جو اللہ تعالیٰ نے ان تک پہنچایا ہے۔ یہ آیات وہ معجزات ہیں جن کا انھوں نے موسیٰu کے ذریعے سے مشاہدہ کیا، یہ ان سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ بہترین طریقے سے ان کو قائم رکھیں، حق پر مجتمع رہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے واضح کیا ہے۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس حق کے ساتھ اس سے متضاد معاملہ کیا جو ان پر واجب تھا۔ پس جس معاملے میں ان کو مجتمع رہنے کا حکم دیا گیا تھا اس میں انھوں نے اختلاف کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ ﴾ ’’پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔‘‘ یعنی وہ علم جو عدم اختلاف کا موجب تھا صرف ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی نے انھیں اس اختلاف پر آمادہ کیا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔‘‘ پس وہ حق شعاروں کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دے گا جنھوں نے باطل کو اختیار کیا اور جن کو خواہش نفس نے اختلاف پر آمادہ کیا۔
45:18

ثُمَّ جَعَلۡنَٰكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِ فَٱتَّبِعۡهَا وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ

پھر کر دیا ہم نے آپ کو اوپر ایک طریقے کے دین کے، پس آپ پیروی کریں اس کی اور نہ پیروی کریں ان لوگوں کی خواہشات کی جو نہیں علم رکھتے (18) بلاشبہ وہ ہرگز نہیں کام آئیں گے آپ کے اللہ سے کچھ بھی، اور بے شک ظالم لوگ، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے، اور اللہ دوست ہے متقیوں کا(19) [18] یعنی ہم نے آپ کے لیے ایک شریعت کامل کو مشروع کیا جو ہمارے حکم شرعی سے، ہر بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور ہر برائی سے روکتی ہے۔ ﴿فَاتَّبِعۡهَا﴾ ’’پس اس کی اتباع کرو۔‘‘ کیونکہ اس کی اتباع میں ابدی سعادت، صلاح اور فلاح ہے۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور ان لو گوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کی خواہشات علم کے تابع ہیں نہ علم کی پیروی کرتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کی خواہش اور ارادہ شریعتِ رسولﷺ کے خلاف ہے تو ان کی خواہشات ان لوگوں کی خواہشات کے زمرے میں آتی ہیں جو علم سے بے بہرہ ہیں۔ [19]﴿اِنَّهُمۡ لَنۡ يُّغۡنُوۡا عَنۡكَ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی اگر تو ان کی خواہشات نفس کی پیروی کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تجھے کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے کہ تجھے کوئی بھلائی حاصل ہو یا تجھ سے کوئی برائی دور ہو۔ تیرے لیے درست نہیں کہ تو ان کی موافقت کرے اور ان سے موالات رکھے، کیونکہ آپ اور وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ متقیوں کا دوست ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ متقین کو ان کے تقویٰ اور نیک عمل کے سبب سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔
45:19

إِنَّهُمۡ لَن يُغۡنُواْ عَنكَ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗاۚ وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۖ وَٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلۡمُتَّقِينَ

پھر کر دیا ہم نے آپ کو اوپر ایک طریقے کے دین کے، پس آپ پیروی کریں اس کی اور نہ پیروی کریں ان لوگوں کی خواہشات کی جو نہیں علم رکھتے (18) بلاشبہ وہ ہرگز نہیں کام آئیں گے آپ کے اللہ سے کچھ بھی، اور بے شک ظالم لوگ، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے، اور اللہ دوست ہے متقیوں کا(19) [18] یعنی ہم نے آپ کے لیے ایک شریعت کامل کو مشروع کیا جو ہمارے حکم شرعی سے، ہر بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور ہر برائی سے روکتی ہے۔ ﴿فَاتَّبِعۡهَا﴾ ’’پس اس کی اتباع کرو۔‘‘ کیونکہ اس کی اتباع میں ابدی سعادت، صلاح اور فلاح ہے۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور ان لو گوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کی خواہشات علم کے تابع ہیں نہ علم کی پیروی کرتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کی خواہش اور ارادہ شریعتِ رسولﷺ کے خلاف ہے تو ان کی خواہشات ان لوگوں کی خواہشات کے زمرے میں آتی ہیں جو علم سے بے بہرہ ہیں۔ [19]﴿اِنَّهُمۡ لَنۡ يُّغۡنُوۡا عَنۡكَ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی اگر تو ان کی خواہشات نفس کی پیروی کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تجھے کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے کہ تجھے کوئی بھلائی حاصل ہو یا تجھ سے کوئی برائی دور ہو۔ تیرے لیے درست نہیں کہ تو ان کی موافقت کرے اور ان سے موالات رکھے، کیونکہ آپ اور وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ متقیوں کا دوست ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ متقین کو ان کے تقویٰ اور نیک عمل کے سبب سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔
45:20

هَٰذَا بَصَـٰٓئِرُ لِلنَّاسِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّقَوۡمٖ يُوقِنُونَ

یہ (قرآن، اس میں) بصیرت افروز دلائل ہیں لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں (20) [20]﴿هٰؔذَا ﴾ یعنی یہ قرآن کریم اور ذکر حکیم ﴿بَصَآىِٕرُ لِلنَّاسِ ﴾ ’’بصیرتیں ہیں لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اس کے ذریعے سے لوگوں کو تمام امور میں بصیرت حاصل ہوتی ہے اور اہل ایمان اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے﴿ لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’یقین رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ پس وہ اس کے ذریعے سے دین کے اصول و فروع میں صراط مستقیم کی طرف راہ نمائی حاصل کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت میں بھلائی، مسرت اور سعادت سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور یہ رحمت ہے۔پس اس سے ان کے نفس پاک ہوتے ہیں، اس سے ان کی عقل میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے ان کا ایمان و ایقان بڑھتا ہے اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے، جو گمراہی پر اصرار کرتا اور عناد سے کام لیتا ہے۔
45:21

أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ ٱجۡتَرَحُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن نَّجۡعَلَهُمۡ كَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ سَوَآءٗ مَّحۡيَاهُمۡ وَمَمَاتُهُمۡۚ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ

کیا گمان کر لیا ہے ان لوگوں نے جنھوں نے ارتکاب کیا برائیوں کا، یہ کہ کر دیں گے ہم ان کو مانند ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، برابر ہے جینا ان کا اور مرنا ان کا، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (21) [21] یعنی کیا کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والے گناہ گار لوگ اور اپنے رب کے حقوق میں کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں ﴿اَنۡ نَّجۡعَلَهُمۡ كَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’کہ ہم ان کو ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حقوق قائم کیے، اسے ناراض کرنے سے اجتناب کیا اور ہمیشہ اس کی رضا کو اپنی خواہشات نفس پر ترجیح دیتے ہیں۔ یعنی کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ﴿سَوَآءًؔ﴾ وہ دنیا و آخرت میں مساوی ہوں گے؟ ان کا اندازہ اور ان کا یہ گمان بہت برا ہے۔ اور بہت برا ہے وہ فیصلہ جو انھوں نے کیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو احکم الحاکمین، سب سے بڑھ کر عادل ہستی کی حکمت کے خلاف، عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے متناقض اور ان اصولوں کے متضاد ہے جنھیں لے کر کتابیں نازل ہوئیں اور جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے آگاہ کیا۔ فی الواقع قطعی فیصلہ یہ ہے کہ اہل ایمان جو نیک عمل کرتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کی نیکی کے مطابق نصرت، فلاح، سعادت اور دنیا و آخرت کا ثواب ہے اور برائیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ، رسوائی، عذاب اور بدبختی ہے۔
45:22

وَخَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّ وَلِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ

اور پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور تاکہ بدلہ دیا جائے ہر نفس کو ساتھ اس کے جو اس نے کمایا اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (22) [22] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ تخلیق فرمایا تاکہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا محاسبہ کرے گا جن کو اس نے اپنی عبادت کا حکم دیا اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا کہ آیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں یا کفر کا رویہ اختیار کر کے کفار کی سزا کے مستحق بنتے ہیں۔
45:23

أَفَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلۡمٖ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمۡعِهِۦ وَقَلۡبِهِۦ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِۦ غِشَٰوَةٗ فَمَن يَهۡدِيهِ مِنۢ بَعۡدِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

کیا پس دیکھا آپ نے اس کو جس نے بنا لیا اپنا معبود اپنی خواہش کو اور گمراہ کر دیا اس کو اللہ نے علم پر اور مہر لگا دی اس کے کان اور اس کے دل پر اور کر دیا اس کی آنکھ پر پردہ؟ پس کون ہے جو ہدایت دے اسے بعد اللہ کے؟ کیا پس نہیں تم نصیحت پکڑتے (23) اور کہا انھوں نے: نہیں ہے یہ (زندگی) سوائے ہماری زندگانی دنیا کے، ہم مرتے اور زندہ ہوتے ہیں اور نہیں ہلاک کرتا ہمیں مگر زمانہ ہی، اور نہیں ہے ان کے لیے اس کا کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر گمان کرتے (24) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں اس حال میں کہ وہ واضح ہیں تو نہیں ہوتی دلیل ان کی مگر یہی کہ انھوں نے کہا، لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (25) کہہ دیجیے! اللہ ہی زندہ کرتا ہے تم کو ، پھرمارتا ہے تم کو ، پھر وہی جمع کرے گا تمھیں روز قیامت میں، کہ نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (26) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَفَرَءَيۡتَ ﴾ کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ﴿مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾ ’’جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا‘‘ جس راستے پر چاہا، چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ ﴿وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہو سکتا ہے۔ ﴿وَّخَتَمَ عَلٰى سَمۡعِهٖ ﴾ ’’اور اس کے کانوں پر مہر لگادی۔‘‘ اس لیے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لیے فائدہ مند ہو ﴿وَقَلۡبِهٖ﴾ ’’اور اس کے دل پر۔‘‘ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا ﴿وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ﴾ ’’اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔‘‘ جو اسے حق دیکھنے سے روکتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کو اللہ کے بعد ہدایت دے؟‘‘ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دیے اور گمراہی کے دروازے کھول دیے، کوئی شخص اس کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مانع تھے۔ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اس چیز سے) نصیحت نہیں پکڑتے۔‘‘ جو تمھیں فائدہ دے اور تم اسے اختیار کرتے اور جو چیز تمھیں نقصان دے تم اس سے اجتناب کرتے۔ [24]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منکرین آخرت کہتے ہیں: ﴿مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ ﴾ یہ تو سب صرف عادات ہیں اور گردش لیل و نہار کے ساتھ جاری ہیں کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ جنم لیتے ہیں، جو کوئی مر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور نہ اس کو اس کے عمل کی جزا و سزا ہی دی جائے گی۔ ان کا یہ قول بغیر کسی علم کے صادر ہوا ہے۔ ﴿اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ﴾ پس انھوں نے معاد کا انکار کیا اور کسی دلیل و برہان کے بغیر سچے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ محض وہم و گمان اور ایسے استبعادات ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔ [25] بنابریں فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ کہہ دیتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباؤ اجداد کو اٹھالاؤ۔‘‘یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کے آباء و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لایا جائے، انبیاء و رسل ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ رسول ان کا وہ مطالبہ پورا نہیں کرتے جو انھوں نے پیش کیا ہے۔ وہ اپنے قول میں سخت جھوٹے ہیں ان کا مقصد بیان حق نہیں بلکہ صرف رسولوں کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔ [26] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تم کو زندہ کرتا، پھر تم کو مارتا ہے ، پھر تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اگر یوم آخرت کا علم ان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچا ہوتا تو وہ ضرور اس کے لیے تیاری کرتے اور نیک عمل کرتے۔
45:24

وَقَالُواْ مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا نَمُوتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهۡرُۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِنۡ هُمۡ إِلَّا يَظُنُّونَ

کیا پس دیکھا آپ نے اس کو جس نے بنا لیا اپنا معبود اپنی خواہش کو اور گمراہ کر دیا اس کو اللہ نے علم پر اور مہر لگا دی اس کے کان اور اس کے دل پر اور کر دیا اس کی آنکھ پر پردہ؟ پس کون ہے جو ہدایت دے اسے بعد اللہ کے؟ کیا پس نہیں تم نصیحت پکڑتے (23) اور کہا انھوں نے: نہیں ہے یہ (زندگی) سوائے ہماری زندگانی دنیا کے، ہم مرتے اور زندہ ہوتے ہیں اور نہیں ہلاک کرتا ہمیں مگر زمانہ ہی، اور نہیں ہے ان کے لیے اس کا کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر گمان کرتے (24) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں اس حال میں کہ وہ واضح ہیں تو نہیں ہوتی دلیل ان کی مگر یہی کہ انھوں نے کہا، لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (25) کہہ دیجیے! اللہ ہی زندہ کرتا ہے تم کو ، پھرمارتا ہے تم کو ، پھر وہی جمع کرے گا تمھیں روز قیامت میں، کہ نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (26) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَفَرَءَيۡتَ ﴾ کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ﴿مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾ ’’جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا‘‘ جس راستے پر چاہا، چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ ﴿وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہو سکتا ہے۔ ﴿وَّخَتَمَ عَلٰى سَمۡعِهٖ ﴾ ’’اور اس کے کانوں پر مہر لگادی۔‘‘ اس لیے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لیے فائدہ مند ہو ﴿وَقَلۡبِهٖ﴾ ’’اور اس کے دل پر۔‘‘ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا ﴿وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ﴾ ’’اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔‘‘ جو اسے حق دیکھنے سے روکتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کو اللہ کے بعد ہدایت دے؟‘‘ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دیے اور گمراہی کے دروازے کھول دیے، کوئی شخص اس کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مانع تھے۔ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اس چیز سے) نصیحت نہیں پکڑتے۔‘‘ جو تمھیں فائدہ دے اور تم اسے اختیار کرتے اور جو چیز تمھیں نقصان دے تم اس سے اجتناب کرتے۔ [24]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منکرین آخرت کہتے ہیں: ﴿مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ ﴾ یہ تو سب صرف عادات ہیں اور گردش لیل و نہار کے ساتھ جاری ہیں کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ جنم لیتے ہیں، جو کوئی مر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور نہ اس کو اس کے عمل کی جزا و سزا ہی دی جائے گی۔ ان کا یہ قول بغیر کسی علم کے صادر ہوا ہے۔ ﴿اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ﴾ پس انھوں نے معاد کا انکار کیا اور کسی دلیل و برہان کے بغیر سچے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ محض وہم و گمان اور ایسے استبعادات ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔ [25] بنابریں فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ کہہ دیتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباؤ اجداد کو اٹھالاؤ۔‘‘یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کے آباء و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لایا جائے، انبیاء و رسل ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ رسول ان کا وہ مطالبہ پورا نہیں کرتے جو انھوں نے پیش کیا ہے۔ وہ اپنے قول میں سخت جھوٹے ہیں ان کا مقصد بیان حق نہیں بلکہ صرف رسولوں کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔ [26] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تم کو زندہ کرتا، پھر تم کو مارتا ہے ، پھر تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اگر یوم آخرت کا علم ان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچا ہوتا تو وہ ضرور اس کے لیے تیاری کرتے اور نیک عمل کرتے۔
45:25

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ

کیا پس دیکھا آپ نے اس کو جس نے بنا لیا اپنا معبود اپنی خواہش کو اور گمراہ کر دیا اس کو اللہ نے علم پر اور مہر لگا دی اس کے کان اور اس کے دل پر اور کر دیا اس کی آنکھ پر پردہ؟ پس کون ہے جو ہدایت دے اسے بعد اللہ کے؟ کیا پس نہیں تم نصیحت پکڑتے (23) اور کہا انھوں نے: نہیں ہے یہ (زندگی) سوائے ہماری زندگانی دنیا کے، ہم مرتے اور زندہ ہوتے ہیں اور نہیں ہلاک کرتا ہمیں مگر زمانہ ہی، اور نہیں ہے ان کے لیے اس کا کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر گمان کرتے (24) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں اس حال میں کہ وہ واضح ہیں تو نہیں ہوتی دلیل ان کی مگر یہی کہ انھوں نے کہا، لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (25) کہہ دیجیے! اللہ ہی زندہ کرتا ہے تم کو ، پھرمارتا ہے تم کو ، پھر وہی جمع کرے گا تمھیں روز قیامت میں، کہ نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (26) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَفَرَءَيۡتَ ﴾ کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ﴿مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾ ’’جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا‘‘ جس راستے پر چاہا، چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ ﴿وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہو سکتا ہے۔ ﴿وَّخَتَمَ عَلٰى سَمۡعِهٖ ﴾ ’’اور اس کے کانوں پر مہر لگادی۔‘‘ اس لیے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لیے فائدہ مند ہو ﴿وَقَلۡبِهٖ﴾ ’’اور اس کے دل پر۔‘‘ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا ﴿وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ﴾ ’’اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔‘‘ جو اسے حق دیکھنے سے روکتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کو اللہ کے بعد ہدایت دے؟‘‘ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دیے اور گمراہی کے دروازے کھول دیے، کوئی شخص اس کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مانع تھے۔ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اس چیز سے) نصیحت نہیں پکڑتے۔‘‘ جو تمھیں فائدہ دے اور تم اسے اختیار کرتے اور جو چیز تمھیں نقصان دے تم اس سے اجتناب کرتے۔ [24]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منکرین آخرت کہتے ہیں: ﴿مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ ﴾ یہ تو سب صرف عادات ہیں اور گردش لیل و نہار کے ساتھ جاری ہیں کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ جنم لیتے ہیں، جو کوئی مر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور نہ اس کو اس کے عمل کی جزا و سزا ہی دی جائے گی۔ ان کا یہ قول بغیر کسی علم کے صادر ہوا ہے۔ ﴿اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ﴾ پس انھوں نے معاد کا انکار کیا اور کسی دلیل و برہان کے بغیر سچے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ محض وہم و گمان اور ایسے استبعادات ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔ [25] بنابریں فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ کہہ دیتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباؤ اجداد کو اٹھالاؤ۔‘‘یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کے آباء و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لایا جائے، انبیاء و رسل ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ رسول ان کا وہ مطالبہ پورا نہیں کرتے جو انھوں نے پیش کیا ہے۔ وہ اپنے قول میں سخت جھوٹے ہیں ان کا مقصد بیان حق نہیں بلکہ صرف رسولوں کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔ [26] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تم کو زندہ کرتا، پھر تم کو مارتا ہے ، پھر تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اگر یوم آخرت کا علم ان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچا ہوتا تو وہ ضرور اس کے لیے تیاری کرتے اور نیک عمل کرتے۔
45:26

قُلِ ٱللَّهُ يُحۡيِيكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ

کیا پس دیکھا آپ نے اس کو جس نے بنا لیا اپنا معبود اپنی خواہش کو اور گمراہ کر دیا اس کو اللہ نے علم پر اور مہر لگا دی اس کے کان اور اس کے دل پر اور کر دیا اس کی آنکھ پر پردہ؟ پس کون ہے جو ہدایت دے اسے بعد اللہ کے؟ کیا پس نہیں تم نصیحت پکڑتے (23) اور کہا انھوں نے: نہیں ہے یہ (زندگی) سوائے ہماری زندگانی دنیا کے، ہم مرتے اور زندہ ہوتے ہیں اور نہیں ہلاک کرتا ہمیں مگر زمانہ ہی، اور نہیں ہے ان کے لیے اس کا کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر گمان کرتے (24) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں اس حال میں کہ وہ واضح ہیں تو نہیں ہوتی دلیل ان کی مگر یہی کہ انھوں نے کہا، لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (25) کہہ دیجیے! اللہ ہی زندہ کرتا ہے تم کو ، پھرمارتا ہے تم کو ، پھر وہی جمع کرے گا تمھیں روز قیامت میں، کہ نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (26) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَفَرَءَيۡتَ ﴾ کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ﴿مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾ ’’جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا‘‘ جس راستے پر چاہا، چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ ﴿وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہو سکتا ہے۔ ﴿وَّخَتَمَ عَلٰى سَمۡعِهٖ ﴾ ’’اور اس کے کانوں پر مہر لگادی۔‘‘ اس لیے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لیے فائدہ مند ہو ﴿وَقَلۡبِهٖ﴾ ’’اور اس کے دل پر۔‘‘ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا ﴿وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ﴾ ’’اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔‘‘ جو اسے حق دیکھنے سے روکتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کو اللہ کے بعد ہدایت دے؟‘‘ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دیے اور گمراہی کے دروازے کھول دیے، کوئی شخص اس کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مانع تھے۔ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اس چیز سے) نصیحت نہیں پکڑتے۔‘‘ جو تمھیں فائدہ دے اور تم اسے اختیار کرتے اور جو چیز تمھیں نقصان دے تم اس سے اجتناب کرتے۔ [24]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منکرین آخرت کہتے ہیں: ﴿مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ ﴾ یہ تو سب صرف عادات ہیں اور گردش لیل و نہار کے ساتھ جاری ہیں کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ جنم لیتے ہیں، جو کوئی مر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور نہ اس کو اس کے عمل کی جزا و سزا ہی دی جائے گی۔ ان کا یہ قول بغیر کسی علم کے صادر ہوا ہے۔ ﴿اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ﴾ پس انھوں نے معاد کا انکار کیا اور کسی دلیل و برہان کے بغیر سچے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ محض وہم و گمان اور ایسے استبعادات ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔ [25] بنابریں فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ کہہ دیتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباؤ اجداد کو اٹھالاؤ۔‘‘یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کے آباء و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لایا جائے، انبیاء و رسل ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ رسول ان کا وہ مطالبہ پورا نہیں کرتے جو انھوں نے پیش کیا ہے۔ وہ اپنے قول میں سخت جھوٹے ہیں ان کا مقصد بیان حق نہیں بلکہ صرف رسولوں کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔ [26] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تم کو زندہ کرتا، پھر تم کو مارتا ہے ، پھر تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اگر یوم آخرت کا علم ان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچا ہوتا تو وہ ضرور اس کے لیے تیاری کرتے اور نیک عمل کرتے۔
45:27

وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوۡمَئِذٖ يَخۡسَرُ ٱلۡمُبۡطِلُونَ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:28

وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٖ جَاثِيَةٗۚ كُلُّ أُمَّةٖ تُدۡعَىٰٓ إِلَىٰ كِتَٰبِهَا ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:29

هَٰذَا كِتَٰبُنَا يَنطِقُ عَلَيۡكُم بِٱلۡحَقِّۚ إِنَّا كُنَّا نَسۡتَنسِخُ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:30

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡمُبِينُ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:31

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَفَلَمۡ تَكُنۡ ءَايَٰتِي تُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَٱسۡتَكۡبَرۡتُمۡ وَكُنتُمۡ قَوۡمٗا مُّجۡرِمِينَ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:32

وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَٱلسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيهَا قُلۡتُم مَّا نَدۡرِي مَا ٱلسَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنّٗا وَمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِينَ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:33

وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُواْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:34

وَقِيلَ ٱلۡيَوۡمَ نَنسَىٰكُمۡ كَمَا نَسِيتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَا وَمَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّـٰصِرِينَ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:35

ذَٰلِكُم بِأَنَّكُمُ ٱتَّخَذۡتُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوٗا وَغَرَّتۡكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ فَٱلۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُونَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُونَ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:36

فَلِلَّهِ ٱلۡحَمۡدُ رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَرَبِّ ٱلۡأَرۡضِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔
45:37

وَلَهُ ٱلۡكِبۡرِيَآءُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن خسارے میں رہیں گے باطل پرست (27) اور دیکھیں گے آپ ہر اُمت کو گھٹنوں کے بل (گری ہوئی) ہر اُمت بلائی جائے گی اپنے نامۂ اعمال کی طرف، آج تم بدلہ دیے جاؤ گے (اس کا) جو تھے تم عمل کرتے (28) یہ ہماری کتاب ہے، یہ بولتی ہے تمھاری بابت سچ سچ، بلاشبہ ہم لکھواتے تھے جو تھے تم عمل کرتے(29) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، پس داخل کر ے گا ان کو رب ان کا اپنی رحمت میں، یہی ہے کامیابی واضح (30) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا) کیا پس نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تم نے تکبر کیا اور تھے تم لوگ مجرم (31) اور جب کہا گیا (تم سے) کہ بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، اور قیامت نہیں ہے کوئی شک اس (کے آنے) میں، تو تم نے کہا:نہیں جانتے ہم کیا ہے قیامت؟ نہیں خیال کرتے ہم مگر ایک گمان ہی اور نہیں ہم (اس کا) یقین کرنے والے (32)اور ظاہر ہو جائیں گی ان کے سامنے برائیاں ان چیزوں کی جو انھوں نے کیں اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (33) اور کہا جائےگا: آج ہم بھول جائیں گے تمھیں جیسے بھول گئے تھے تم ملاقات کو اپنے اس دن کی اور ٹھکانا تمھارا آگ ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے کوئی مدد گار (34) یہ بسبب اس کے کہ بے شک تم نے بنایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق، اور دھوکے میں ڈال دیا تم کو زندگانی دنیا نے، پس آج نہ نکالے جائیں گے وہ اس (آگ) سے اور نہ ان سے توبہ ہی کا مطالبہ کیا جائے گا (35) پس اللہ ہی کے لیے ہیں سب تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا، رب ہے سارے جہانوں کا (36) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے (37) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’ جس روز قیامت برپا ہوگی۔‘‘ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے دن کی شدت اور اس کی ہولناکی کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگ اس کے لیے تیاری کریں۔ ، چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرٰى ﴾ اے اس دن کو دیکھنے والے! تو دیکھے گا کہ ﴿كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ﴾ ہر امت خوف اور دہشت سے گھٹنوں کے بل گری ہوئی مالک رحمان کے فیصلے کی منتظر ہے۔ ﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ ’’ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔‘‘ یعنی ہر امت کو اس کے نبی کی شریعت کی طرف بلایا جائے گا، جسے لے کر وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا تھا کہ آیا انھوں نے اس شریعت کو قائم کیا تھا کہ ان کو ثواب اور نجات حاصل ہو یا انھوں نے اسے ضائع کر دیا، تب ان کو خسارہ حاصل ہو؟ تو حضرت موسیٰu کی امت کو شریعت موسیٰ، حضرت عیسیٰu کی امت کو شریعت عیسیٰ اور حضرت محمدﷺ کی امت کو شریعت محمدی کی طرف بلایا جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام امتوں کو ان کی اپنی اپنی شریعت کی طرف بلایا جائے گا جس کے وہ مکلف ہیں۔ آیت کریمہ سے ایک تو اسی معنی کا احتمال بھی ہے اور فی نفسہ یہ معنی صحیح ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ کے ارشاد:﴿كُلُّ اُمَّةٍ تُدۡعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا ﴾ سے مراد یہ ہو کہ ہر امت کو اس کے نامۂ اعمال اور خیروشر کی طرف جو ان کے نامہ اعمال میں درج کیا گیا تھا، بلایا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا و سزا دی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔‘‘ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کریمہ سے دونوں معنی مراد ہوں۔ [29] اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس پر دلیل ہے:﴿هٰؔذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ ہماری تحریر ہے جو تمھارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہی ہے۔‘‘ یعنی ہماری یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے وہ تمھارے درمیان حق اور ا نصاف سے فیصلہ کرتی ہے۔ ﴿اِنَّا كُنَّا نَسۡتَنۡسِخُ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔‘‘ اس سے مراد نامۂ اعمال ہے۔ [30] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ دونوں گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ جو لوگ صحیح طور پر ایمان لائے اور اعمال صالح یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی ﴿فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’پس ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ جس کا مقام جنت ہے اور اس میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور تکدر سے پاک زندگی ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یہی واضح کامیابی، نجات، نفع اور فلاح ہے جو بندے کو جب حاصل ہو تو اسے ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے ہر برائی دور ہو جاتی ہے۔ [31]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو انھیں زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿اَفَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟‘‘ ان آیات نے ان امور کی طرف راہنمائی کی جن میں تمھاری بھلائی تھی اور ان امور سے روکا جن میں تمھارے لیے ضرر تھا، یہ سب سے بڑی نعمت تھی جو تم تک پہنچی اگر تم نے ان کی موافقت کی ہوتی لیکن تم نے تکبر کے ساتھ ان سے روگردانی کی اور ان کا انکار کیا، پس اس طرح تم نے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا، لہٰذا آج تمھیں تمھارے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی۔ [32] نیز انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے یہ بھی کہا جائے گا: ﴿وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب کہا جاتاتھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے۔‘‘ اس کا انکار کرتے ہوئے :﴿مَّا نَدۡرِيۡ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ﴾ ’’ہمیں نہیں معلوم کہ قیامت کی گھڑی کیا ہوتی ہے، بس ہمیں تو صرف ایک گمان سا ہے اور ہمیں اس پر یقین نہیں ہے۔‘‘ یہ تو تھا ان کا دنیا میں حال اور قیامت کے احوال کے وہ منکر تھے اور جو حیات بعدالموت کی خبر لایا، انھوں نے اس کے قول کو ٹھکرا دیا ۔ [33] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا ﴾ یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے ان کے اعمال کی سزا ظاہر ہوگی۔ ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ ﴾ اور نازل ہوگا ان پر ﴿مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جس کے واقع ہونے اور اس کے وقوع کی خبر دینے والے کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ [34]﴿وَقِيۡلَ الۡيَوۡمَ نَنۡسٰىكُمۡ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: آج ہم تمھیں بھلا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں عذاب میں چھوڑ دیں گے۔ ﴿كَمَا نَسِيۡتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ﴾ ’’جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا رکھا تھا۔‘‘ کیونکہ جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے۔ ﴿وَمَاۡوٰىكُمُ النَّارُ ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کر سکے اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹا سکے۔ [35]﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ ﴿ اتَّؔخَذۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا﴾ ’’تم نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ۔‘‘حالانکہ یہ جدوجہد کی موجب تھیں نیز اس امر کی موجب تھیں کہ ان کو مسرت، خوش دلی اور فرحت سے قبول کیا جاتا۔ ﴿وَّغَرَّتۡكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا﴾ اور دنیا نے اپنی چکا چوند اور اپنی لذات و شہوات کے ذریعے سے تمھیں دھوکے میں ڈال دیا، پس تم اس سے مطمئن ہو گئے، اس کے لیے عمل کرتے رہے اور ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کے لیے عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يُخۡرَجُوۡنَ مِنۡهَا وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس آج وہ اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘ یعنی انھیں مہلت دی جائے گی نہ انھیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے گا کہ وہ نیک عمل کر لیں۔ [36]﴿فَلِلّٰهِ الۡحَمۡدُ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد ہے۔‘‘ جیسی کہ اس کے جلال اور اس کی عظمت سلطان کے لائق ہے۔ ﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی ربوبیت کے بارے میں وہ لائق حمدوثنا ہے کہ اس نے ان کو تخلیق کیا ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ [37]﴿وَلَهُ الۡكِبۡرِيَآءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے بڑائی ہے۔‘‘ یعنی وہی جلال، عظمت اور مجد کا مالک ہے۔ پس حمد میں صفات کمال کے ذریعے سے اللہ کی ثنا، اس کی محبت اور اس کا اکرام ہے اور کبریائی میں اس کی عظمت اور اس کا جلال ہے۔ عبادت دو ارکان پر مبنی ہے: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے سامنے اظہار تذلل اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کے علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ اس نے جو چیز بھی مشروع کی، وہ حکمت کے تحت مشروع کی ہے اور جو چیز بھی پیدا کی وہ فائدے اور منفعت کے لیے پیدا کی ہے۔