al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 44 · 59 verses
44:1حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:2حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:3إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:4فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:5أَمۡرٗا مِّنۡ عِندِنَآۚ إِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:6رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:7رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:8لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ رَبُّكُمۡ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:9بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ يَلۡعَبُونَ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:10فَٱرۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَأۡتِي ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٖ مُّبِينٖ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:11يَغۡشَى ٱلنَّاسَۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٞ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:12رَّبَّنَا ٱكۡشِفۡ عَنَّا ٱلۡعَذَابَ إِنَّا مُؤۡمِنُونَ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:13أَنَّىٰ لَهُمُ ٱلذِّكۡرَىٰ وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مُّبِينٞ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:14ثُمَّ تَوَلَّوۡاْ عَنۡهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٞ مَّجۡنُونٌ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:15إِنَّا كَاشِفُواْ ٱلۡعَذَابِ قَلِيلًاۚ إِنَّكُمۡ عَآئِدُونَ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:16يَوۡمَ نَبۡطِشُ ٱلۡبَطۡشَةَ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ إِنَّا مُنتَقِمُونَ
حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔
44:17۞وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَجَآءَهُمۡ رَسُولٞ كَرِيمٌ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:18أَنۡ أَدُّوٓاْ إِلَيَّ عِبَادَ ٱللَّهِۖ إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:19وَأَن لَّا تَعۡلُواْ عَلَى ٱللَّهِۖ إِنِّيٓ ءَاتِيكُم بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:20وَإِنِّي عُذۡتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمۡ أَن تَرۡجُمُونِ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:21وَإِن لَّمۡ تُؤۡمِنُواْ لِي فَٱعۡتَزِلُونِ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:22فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ قَوۡمٞ مُّجۡرِمُونَ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:23فَأَسۡرِ بِعِبَادِي لَيۡلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:24وَٱتۡرُكِ ٱلۡبَحۡرَ رَهۡوًاۖ إِنَّهُمۡ جُندٞ مُّغۡرَقُونَ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:25كَمۡ تَرَكُواْ مِن جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:26وَزُرُوعٖ وَمَقَامٖ كَرِيمٖ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:27وَنَعۡمَةٖ كَانُواْ فِيهَا فَٰكِهِينَ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:28كَذَٰلِكَۖ وَأَوۡرَثۡنَٰهَا قَوۡمًا ءَاخَرِينَ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:29فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:30وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:31مِن فِرۡعَوۡنَۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيٗا مِّنَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:32وَلَقَدِ ٱخۡتَرۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ عِلۡمٍ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:33وَءَاتَيۡنَٰهُم مِّنَ ٱلۡأٓيَٰتِ مَا فِيهِ بَلَـٰٓؤٞاْ مُّبِينٌ
اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)
[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔
[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔
[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘
[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔
[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔
44:34إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ
بلاشبہ یہ لوگ البتہ کہتے ہیں (34) نہیں ہے یہ مگر مرنا ہمارا پہلا ہی، اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (35) پس لے آؤ تم ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (36) کیا وہ بہتر ہیں یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے؟ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو، بلاشبہ تھے وہ مجرم لوگ (37)
[34، 35] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ بے شک یہ جھٹلانے والے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِيۡنَ ﴾ ’’یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔
[36] پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا: ﴿فَاۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرلاؤ ۔‘‘ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا، جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بھلا! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء و واجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لانے میں کون سا تلازم ہے؟ آپ کی دعوت کی صداقت پر، آیات و دلائل، ہر لحاظ سے نہایت تواتر سے دلالت کرتے ہیں۔
[37] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَهُمۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’کیا یہ بہتر ہیں؟‘‘ یعنی یہ مخاطبین ﴿اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ اَهۡلَكۡنٰهُمۡ١ٞ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انھیں ہلاک کردیا بے شک وہ مجرم تھے۔‘‘ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلاکت کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔
44:35إِنۡ هِيَ إِلَّا مَوۡتَتُنَا ٱلۡأُولَىٰ وَمَا نَحۡنُ بِمُنشَرِينَ
بلاشبہ یہ لوگ البتہ کہتے ہیں (34) نہیں ہے یہ مگر مرنا ہمارا پہلا ہی، اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (35) پس لے آؤ تم ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (36) کیا وہ بہتر ہیں یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے؟ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو، بلاشبہ تھے وہ مجرم لوگ (37)
[34، 35] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ بے شک یہ جھٹلانے والے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِيۡنَ ﴾ ’’یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔
[36] پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا: ﴿فَاۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرلاؤ ۔‘‘ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا، جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بھلا! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء و واجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لانے میں کون سا تلازم ہے؟ آپ کی دعوت کی صداقت پر، آیات و دلائل، ہر لحاظ سے نہایت تواتر سے دلالت کرتے ہیں۔
[37] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَهُمۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’کیا یہ بہتر ہیں؟‘‘ یعنی یہ مخاطبین ﴿اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ اَهۡلَكۡنٰهُمۡ١ٞ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انھیں ہلاک کردیا بے شک وہ مجرم تھے۔‘‘ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلاکت کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔
44:36فَأۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
بلاشبہ یہ لوگ البتہ کہتے ہیں (34) نہیں ہے یہ مگر مرنا ہمارا پہلا ہی، اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (35) پس لے آؤ تم ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (36) کیا وہ بہتر ہیں یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے؟ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو، بلاشبہ تھے وہ مجرم لوگ (37)
[34، 35] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ بے شک یہ جھٹلانے والے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِيۡنَ ﴾ ’’یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔
[36] پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا: ﴿فَاۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرلاؤ ۔‘‘ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا، جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بھلا! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء و واجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لانے میں کون سا تلازم ہے؟ آپ کی دعوت کی صداقت پر، آیات و دلائل، ہر لحاظ سے نہایت تواتر سے دلالت کرتے ہیں۔
[37] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَهُمۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’کیا یہ بہتر ہیں؟‘‘ یعنی یہ مخاطبین ﴿اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ اَهۡلَكۡنٰهُمۡ١ٞ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انھیں ہلاک کردیا بے شک وہ مجرم تھے۔‘‘ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلاکت کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔
44:37أَهُمۡ خَيۡرٌ أَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٖ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ
بلاشبہ یہ لوگ البتہ کہتے ہیں (34) نہیں ہے یہ مگر مرنا ہمارا پہلا ہی، اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (35) پس لے آؤ تم ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (36) کیا وہ بہتر ہیں یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے؟ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو، بلاشبہ تھے وہ مجرم لوگ (37)
[34، 35] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ بے شک یہ جھٹلانے والے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِيۡنَ ﴾ ’’یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔
[36] پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا: ﴿فَاۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرلاؤ ۔‘‘ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا، جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بھلا! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء و واجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لانے میں کون سا تلازم ہے؟ آپ کی دعوت کی صداقت پر، آیات و دلائل، ہر لحاظ سے نہایت تواتر سے دلالت کرتے ہیں۔
[37] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَهُمۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’کیا یہ بہتر ہیں؟‘‘ یعنی یہ مخاطبین ﴿اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ اَهۡلَكۡنٰهُمۡ١ٞ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انھیں ہلاک کردیا بے شک وہ مجرم تھے۔‘‘ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلاکت کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔
44:38وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان میں ہے، کھیلتے ہوئے (38) نہیں پیدا کیا ہم نے ان دونوں کو مگر ساتھ حق (ایک مقصد) کے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(39) بلاشبہ دن فیصلے کا، ٹھہرایا ہوا وقت ہے ان کا سب کا (40) اس دن نہیں کام آئے گا کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے (41) مگر جس پر رحم کیا اللہ نے، بلاشبہ وہ بڑا زبردست، بہت رحم کرنے والا ہے (42)
[38، 39] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غوروفکر نہیں کیا۔
[40]﴿اِنَّ يَوۡمَ الۡفَصۡلِ ﴾ ’’بے شک فیصلے کا دن۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے، جب اللہ اولین و آخرین اور اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ﴿مِيۡقَاتُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ یعنی تمام خلائق کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس وقت میں اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، ان کو اور ان کے اعمال کو اپنے سامنے حاضر کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
[41] اس دن کوئی رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار کے کام آئے گا اور نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام آئے گا﴿وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ انھیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی۔‘‘ نہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچایا جا سکے گا کیونکہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی۔
[42]﴿اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مگر جس پر اللہ مہربانی کرے۔ وہ تو غالب، مہربان ہے۔‘‘ پس یہی لوگ ہوں گے جو فائدہ اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بلند مراتب پر فائز ہوں گے جس کو انھوں نے دنیا کے اندر مراتب کے حصول کا سبب بنایا اور اس کے لیے پوری کوشش کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
44:39مَا خَلَقۡنَٰهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان میں ہے، کھیلتے ہوئے (38) نہیں پیدا کیا ہم نے ان دونوں کو مگر ساتھ حق (ایک مقصد) کے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(39) بلاشبہ دن فیصلے کا، ٹھہرایا ہوا وقت ہے ان کا سب کا (40) اس دن نہیں کام آئے گا کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے (41) مگر جس پر رحم کیا اللہ نے، بلاشبہ وہ بڑا زبردست، بہت رحم کرنے والا ہے (42)
[38، 39] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غوروفکر نہیں کیا۔
[40]﴿اِنَّ يَوۡمَ الۡفَصۡلِ ﴾ ’’بے شک فیصلے کا دن۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے، جب اللہ اولین و آخرین اور اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ﴿مِيۡقَاتُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ یعنی تمام خلائق کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس وقت میں اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، ان کو اور ان کے اعمال کو اپنے سامنے حاضر کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
[41] اس دن کوئی رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار کے کام آئے گا اور نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام آئے گا﴿وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ انھیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی۔‘‘ نہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچایا جا سکے گا کیونکہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی۔
[42]﴿اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مگر جس پر اللہ مہربانی کرے۔ وہ تو غالب، مہربان ہے۔‘‘ پس یہی لوگ ہوں گے جو فائدہ اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بلند مراتب پر فائز ہوں گے جس کو انھوں نے دنیا کے اندر مراتب کے حصول کا سبب بنایا اور اس کے لیے پوری کوشش کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
44:40إِنَّ يَوۡمَ ٱلۡفَصۡلِ مِيقَٰتُهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان میں ہے، کھیلتے ہوئے (38) نہیں پیدا کیا ہم نے ان دونوں کو مگر ساتھ حق (ایک مقصد) کے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(39) بلاشبہ دن فیصلے کا، ٹھہرایا ہوا وقت ہے ان کا سب کا (40) اس دن نہیں کام آئے گا کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے (41) مگر جس پر رحم کیا اللہ نے، بلاشبہ وہ بڑا زبردست، بہت رحم کرنے والا ہے (42)
[38، 39] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غوروفکر نہیں کیا۔
[40]﴿اِنَّ يَوۡمَ الۡفَصۡلِ ﴾ ’’بے شک فیصلے کا دن۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے، جب اللہ اولین و آخرین اور اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ﴿مِيۡقَاتُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ یعنی تمام خلائق کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس وقت میں اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، ان کو اور ان کے اعمال کو اپنے سامنے حاضر کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
[41] اس دن کوئی رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار کے کام آئے گا اور نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام آئے گا﴿وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ انھیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی۔‘‘ نہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچایا جا سکے گا کیونکہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی۔
[42]﴿اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مگر جس پر اللہ مہربانی کرے۔ وہ تو غالب، مہربان ہے۔‘‘ پس یہی لوگ ہوں گے جو فائدہ اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بلند مراتب پر فائز ہوں گے جس کو انھوں نے دنیا کے اندر مراتب کے حصول کا سبب بنایا اور اس کے لیے پوری کوشش کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
44:41يَوۡمَ لَا يُغۡنِي مَوۡلًى عَن مَّوۡلٗى شَيۡـٔٗا وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان میں ہے، کھیلتے ہوئے (38) نہیں پیدا کیا ہم نے ان دونوں کو مگر ساتھ حق (ایک مقصد) کے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(39) بلاشبہ دن فیصلے کا، ٹھہرایا ہوا وقت ہے ان کا سب کا (40) اس دن نہیں کام آئے گا کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے (41) مگر جس پر رحم کیا اللہ نے، بلاشبہ وہ بڑا زبردست، بہت رحم کرنے والا ہے (42)
[38، 39] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غوروفکر نہیں کیا۔
[40]﴿اِنَّ يَوۡمَ الۡفَصۡلِ ﴾ ’’بے شک فیصلے کا دن۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے، جب اللہ اولین و آخرین اور اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ﴿مِيۡقَاتُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ یعنی تمام خلائق کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس وقت میں اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، ان کو اور ان کے اعمال کو اپنے سامنے حاضر کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
[41] اس دن کوئی رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار کے کام آئے گا اور نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام آئے گا﴿وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ انھیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی۔‘‘ نہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچایا جا سکے گا کیونکہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی۔
[42]﴿اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مگر جس پر اللہ مہربانی کرے۔ وہ تو غالب، مہربان ہے۔‘‘ پس یہی لوگ ہوں گے جو فائدہ اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بلند مراتب پر فائز ہوں گے جس کو انھوں نے دنیا کے اندر مراتب کے حصول کا سبب بنایا اور اس کے لیے پوری کوشش کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
44:42إِلَّا مَن رَّحِمَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان میں ہے، کھیلتے ہوئے (38) نہیں پیدا کیا ہم نے ان دونوں کو مگر ساتھ حق (ایک مقصد) کے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(39) بلاشبہ دن فیصلے کا، ٹھہرایا ہوا وقت ہے ان کا سب کا (40) اس دن نہیں کام آئے گا کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے (41) مگر جس پر رحم کیا اللہ نے، بلاشبہ وہ بڑا زبردست، بہت رحم کرنے والا ہے (42)
[38، 39] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غوروفکر نہیں کیا۔
[40]﴿اِنَّ يَوۡمَ الۡفَصۡلِ ﴾ ’’بے شک فیصلے کا دن۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے، جب اللہ اولین و آخرین اور اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ﴿مِيۡقَاتُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ یعنی تمام خلائق کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس وقت میں اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، ان کو اور ان کے اعمال کو اپنے سامنے حاضر کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
[41] اس دن کوئی رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار کے کام آئے گا اور نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام آئے گا﴿وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ انھیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی۔‘‘ نہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچایا جا سکے گا کیونکہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی۔
[42]﴿اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مگر جس پر اللہ مہربانی کرے۔ وہ تو غالب، مہربان ہے۔‘‘ پس یہی لوگ ہوں گے جو فائدہ اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بلند مراتب پر فائز ہوں گے جس کو انھوں نے دنیا کے اندر مراتب کے حصول کا سبب بنایا اور اس کے لیے پوری کوشش کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
44:43إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ
بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)
[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
44:44بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)
[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
44:45كَٱلۡمُهۡلِ يَغۡلِي فِي ٱلۡبُطُونِ
بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)
[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
44:46بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)
[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
44:47خُذُوهُ فَٱعۡتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلۡجَحِيمِ
بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)
[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
44:48ثُمَّ صُبُّواْ فَوۡقَ رَأۡسِهِۦ مِنۡ عَذَابِ ٱلۡحَمِيمِ
بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)
[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
44:49ذُقۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡكَرِيمُ
بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)
[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
44:50إِنَّ هَٰذَا مَا كُنتُم بِهِۦ تَمۡتَرُونَ
بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)
[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
44:51إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٖ
بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
44:52بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
44:53يَلۡبَسُونَ مِن سُندُسٖ وَإِسۡتَبۡرَقٖ مُّتَقَٰبِلِينَ
بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
44:54كَذَٰلِكَ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ
بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
44:55يَدۡعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَٰكِهَةٍ ءَامِنِينَ
بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
44:56لَا يَذُوقُونَ فِيهَا ٱلۡمَوۡتَ إِلَّا ٱلۡمَوۡتَةَ ٱلۡأُولَىٰۖ وَوَقَىٰهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ
بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
44:57فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكَۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
44:58فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ
بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
44:59فَٱرۡتَقِبۡ إِنَّهُم مُّرۡتَقِبُونَ
بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔