al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 35 · 45 verses
35:1ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ جَاعِلِ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ رُسُلًا أُوْلِيٓ أَجۡنِحَةٖ مَّثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۚ يَزِيدُ فِي ٱلۡخَلۡقِ مَا يَشَآءُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا، بنانے والا فرشتوں کو قاصد پروں والے، دو دو تین تین اورچار چار، وہ (اللہ) زیادہ کرتا ہے پیدائش میں جو چاہتا ہے ، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1)جو کھول دے اللہ واسطے لوگوں کے (اپنی) رحمت سے تو نہیں کوئی بند کرنے والا اسے، اور جو وہ بند کر دے تو نہیں ہے کوئی بھیجنے والا اسے، اس کے بعد، اور وہ غالب، خوب حکمت والا ہے(2)
[1] اللہ تبارک وتعالیٰ خود اپنی ذات مقدس کی مدح و ثنا کرتا ہے کہ اس نے زمین و آسمان اور ان کے اندر موجود تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ یہ اس کے کمال قدرت، وسعت اقتدار، بے پایاں رحمت، انوکھی حکمت اور احاطۂ علم کی دلیل ہے۔ تخلیق کائنات کا ذکر کرنے کے بعد اس چیز کاتذکرہ کیا کہ بے شک وہی ﴿جَاعِلِ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا﴾ ’’فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے‘‘ اس نے اپنے حکم قدری کی تدبیر اور اپنے حکم دینی کی تبلیغ کے لیے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان واسطے کے لیے، فرشتوں کو پیغام رساں بنایا۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیغام رساں بنانے کا ذکر فرمایا اور ان میں سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا، یہ ان کی اپنے رب کے لیے کامل اطاعت اور اس کے حکم کے سامنے ان کے سرتسلیم خم کرنے کی دلیل ہے جیسا کہ فرمایا:﴿لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ﴾(التحریم : 66؍6) ’’وہ اللہ کی حکم عدولی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔‘‘ چونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے، کائنات کی تدبیر کرتے ہیں اور تدبیر کائنات کا معاملہ ان کے سپرد کر رکھا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت اور ان کی سرعت رفتار کا ذکر کیا، نیز آگاہ فرمایا کہ اس نے ان فرشتوں کو ﴿اُولِيۡۤ اَجۡنِحَةٍ ﴾ ’’پروں والے‘‘ بنایا ہے، جن کے ذریعے سے یہ فرشتے پرواز کرتے ہیں تاکہ نہایت سرعت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کر سکیں۔ ﴿مَّثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ﴾ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ان فرشتوں کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں ﴿يَزِيۡدُ فِي الۡخَلۡقِ مَا يَشَآءُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تخلیق کی بعض صفات ، مثلاً: قوت میں، حسن میں، اعضاء میں، حسن آواز اور لذت ترنّم میں ایک دوسرے پر فضیلت اور اضافہ بخشا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنی قدرت کو نافذ کرتا ہے، اس کی قدرت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ مخلوقات میں ایک دوسرے پر تخلیق میں اضافہ بھی اس کی قدرت کے تحت ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ تدبیر کائنات، عطا کرنے اور محروم کرنے میں وہی اکیلا اختیار کا مالک ہے، چنانچہ فرمایا:﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اپنی رحمت لوگوں کے لیے کھول دے تو کوئی اسے بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے۔‘‘ یعنی اگر وہ ان کو اپنی رحمت سے محروم کر دے ﴿فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’تو اس کے بعد کوئی اسے کھولنے والا نہیں۔‘‘ اس لیے یہ چیز اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنے کی موجب ہے، نیز یہ اس چیز کی بھی موجب ہے کہ صرف اسی کو پکارا جائے، صرف اسی سے ڈرا جائے اور صرف اسی سے امید رکھی جائے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ اور وہ تمام چیزوں پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہر چیزکو اس کے مناسب حال منزل و مقام پر نازل کرتا ہے۔
35:2مَّا يَفۡتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحۡمَةٖ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَاۖ وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا، بنانے والا فرشتوں کو قاصد پروں والے، دو دو تین تین اورچار چار، وہ (اللہ) زیادہ کرتا ہے پیدائش میں جو چاہتا ہے ، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1)جو کھول دے اللہ واسطے لوگوں کے (اپنی) رحمت سے تو نہیں کوئی بند کرنے والا اسے، اور جو وہ بند کر دے تو نہیں ہے کوئی بھیجنے والا اسے، اس کے بعد، اور وہ غالب، خوب حکمت والا ہے(2)
[1] اللہ تبارک وتعالیٰ خود اپنی ذات مقدس کی مدح و ثنا کرتا ہے کہ اس نے زمین و آسمان اور ان کے اندر موجود تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ یہ اس کے کمال قدرت، وسعت اقتدار، بے پایاں رحمت، انوکھی حکمت اور احاطۂ علم کی دلیل ہے۔ تخلیق کائنات کا ذکر کرنے کے بعد اس چیز کاتذکرہ کیا کہ بے شک وہی ﴿جَاعِلِ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا﴾ ’’فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے‘‘ اس نے اپنے حکم قدری کی تدبیر اور اپنے حکم دینی کی تبلیغ کے لیے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان واسطے کے لیے، فرشتوں کو پیغام رساں بنایا۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیغام رساں بنانے کا ذکر فرمایا اور ان میں سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا، یہ ان کی اپنے رب کے لیے کامل اطاعت اور اس کے حکم کے سامنے ان کے سرتسلیم خم کرنے کی دلیل ہے جیسا کہ فرمایا:﴿لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ﴾(التحریم : 66؍6) ’’وہ اللہ کی حکم عدولی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔‘‘ چونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے، کائنات کی تدبیر کرتے ہیں اور تدبیر کائنات کا معاملہ ان کے سپرد کر رکھا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت اور ان کی سرعت رفتار کا ذکر کیا، نیز آگاہ فرمایا کہ اس نے ان فرشتوں کو ﴿اُولِيۡۤ اَجۡنِحَةٍ ﴾ ’’پروں والے‘‘ بنایا ہے، جن کے ذریعے سے یہ فرشتے پرواز کرتے ہیں تاکہ نہایت سرعت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کر سکیں۔ ﴿مَّثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ﴾ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ان فرشتوں کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں ﴿يَزِيۡدُ فِي الۡخَلۡقِ مَا يَشَآءُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تخلیق کی بعض صفات ، مثلاً: قوت میں، حسن میں، اعضاء میں، حسن آواز اور لذت ترنّم میں ایک دوسرے پر فضیلت اور اضافہ بخشا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنی قدرت کو نافذ کرتا ہے، اس کی قدرت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ مخلوقات میں ایک دوسرے پر تخلیق میں اضافہ بھی اس کی قدرت کے تحت ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ تدبیر کائنات، عطا کرنے اور محروم کرنے میں وہی اکیلا اختیار کا مالک ہے، چنانچہ فرمایا:﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اپنی رحمت لوگوں کے لیے کھول دے تو کوئی اسے بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے۔‘‘ یعنی اگر وہ ان کو اپنی رحمت سے محروم کر دے ﴿فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’تو اس کے بعد کوئی اسے کھولنے والا نہیں۔‘‘ اس لیے یہ چیز اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنے کی موجب ہے، نیز یہ اس چیز کی بھی موجب ہے کہ صرف اسی کو پکارا جائے، صرف اسی سے ڈرا جائے اور صرف اسی سے امید رکھی جائے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ اور وہ تمام چیزوں پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہر چیزکو اس کے مناسب حال منزل و مقام پر نازل کرتا ہے۔
35:3يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ
اے لوگو! یاد کرو نعمت اللہ کی اوپر اپنے، کیا کوئی اور خالق ہے سوائے اللہ کے، جو رزق دے تمھیں آسمان اور زمین سے؟ نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے(بہکائے)جاتے ہو؟(3)اوراگر وہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب معاملات(4)
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی نعمت کو یاد کریں جس سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ یاد کرنا دل میں اللہ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو یاد رکھنے، زبان سے اس کی حمد وثنا کرنے اور جوارح سے اس کی اطاعت کرنے کو شامل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرنا، اس کے شکر کی دعوت دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی نعمتوں کی طرف اشارہ فرمایا اور وہ پیدا کرنا اور رزق عطا کرنا ہیں۔ فرمایا:﴿هَلۡ مِنۡ خَالِـقٍ غَيۡرُ اللّٰهِ يَرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق دے؟‘‘ چونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پیدا کرتا ہے نہ رزق عطا کرتا ہے اس لیے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ چیز اس کی الوہیت اور عبودیت پر دلیل ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖٞ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔‘‘ یعنی خالق و رازق کی عبادت کو چھوڑ کر، مخلوق کی عبادت کرتے ہو، جو خود رزق کی محتاج ہے۔
[4]﴿وَاِنۡ يُّكَذِّبُوۡكَ ﴾ ’’(اے رسول!) اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں‘‘ تو آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین میں آپ کے لیے نمونہ ہے ﴿فَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے گئے۔‘‘ تو جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ ’’تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔‘‘
35:4وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
اے لوگو! یاد کرو نعمت اللہ کی اوپر اپنے، کیا کوئی اور خالق ہے سوائے اللہ کے، جو رزق دے تمھیں آسمان اور زمین سے؟ نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے(بہکائے)جاتے ہو؟(3)اوراگر وہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب معاملات(4)
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی نعمت کو یاد کریں جس سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ یاد کرنا دل میں اللہ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو یاد رکھنے، زبان سے اس کی حمد وثنا کرنے اور جوارح سے اس کی اطاعت کرنے کو شامل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرنا، اس کے شکر کی دعوت دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی نعمتوں کی طرف اشارہ فرمایا اور وہ پیدا کرنا اور رزق عطا کرنا ہیں۔ فرمایا:﴿هَلۡ مِنۡ خَالِـقٍ غَيۡرُ اللّٰهِ يَرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق دے؟‘‘ چونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پیدا کرتا ہے نہ رزق عطا کرتا ہے اس لیے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ چیز اس کی الوہیت اور عبودیت پر دلیل ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖٞ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔‘‘ یعنی خالق و رازق کی عبادت کو چھوڑ کر، مخلوق کی عبادت کرتے ہو، جو خود رزق کی محتاج ہے۔
[4]﴿وَاِنۡ يُّكَذِّبُوۡكَ ﴾ ’’(اے رسول!) اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں‘‘ تو آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین میں آپ کے لیے نمونہ ہے ﴿فَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے گئے۔‘‘ تو جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ ’’تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔‘‘
35:5يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ
اے لوگو! بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے، پس نہ دھوکے میں ڈالے تم کو زندگی دنیا کی اور نہ دھوکے میں ڈالے تمھیں اللہ کی بابت بڑا دھوکے باز (شیطان)(5) بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے، پس بناؤ تم اس کو دشمن ہی (اطاعت الٰہی کر کے) بلاشبہ وہ بلاتا ہے اپنے گروہ کو، تاکہ ہوں وہ اہل جہنم سے(6) وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے ہے عذاب سخت، اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہے مغفرت اور اجر بہت بڑا(7)
[5، 6]﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ ﴿حَقٌّ ﴾ ’’حق ہے۔‘‘ یعنی اس میں شک و شبہ اور کوئی تردد نہیں، اس پر تمام دلائلِ نقلیہ اور براہین عقلیہ دلالت کرتے ہیں۔ جب اس کا وعدہ سچا ہے تو اس کے لیے تیاری کرو اپنے اچھے اوقات میں نیک اعمال کی طرف سبقت کرو کوئی راہزن تمھاری راہ کو کھوٹی نہ کرنے پائے۔ ﴿فَلَا تَغُرَّنَّـكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’لہٰذا دنیاوی زندگی تمھیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے‘‘ اپنی لذات و شہوات اور اپنے نفسانی مطالبات کے ذریعے سے تمھیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لیے تمھیں تخلیق کیا گیا ہے۔ ﴿وَلَا يَغُرَّنَّـكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾ ’’اور نہ فریب دینے والا تمھیں فریب دے۔‘‘ جو کہ ﴿الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’شیطان ہے۔‘‘ وہ حقیقت میں تمھارا دشمن ہے ﴿فَاتَّؔخِذُوۡهُ عَدُوًّا ﴾ ’’لہٰذا تم بھی اُسے دشمن جانو‘‘ یعنی تمھاری طرف سے اس کے لیے دشمنی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ جنگ میں کسی بھی وقت ڈھیلے نہ پڑو۔ وہ تمھیں دیکھتا ہے، تم اسے نہیں دیکھ سکتے، وہ ہمیشہ تمھاری گھات میں رہتا ہے۔ ﴿اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بلاشبہ وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں ہوں۔‘‘ یہی اس کی غرض و غایت اور مطلوب و مقصود ہے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کی سخت عذاب کے ذریعے سے رسوائی ہو۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوگ شیطان کی اطاعت اور عدم اطاعت کے اعتبار سے دو گروہوں میں منقسم ہیں، پھر ہر گروہ کی سزا وجزا کا تذکرہ کیا، فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے رسولوں کی دعوت اور ان چیزوں کا انکار کیا جن پر کتب الٰہیہ دلالت کرتی تھیں ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب ہے۔ یہ عذاب اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے نہایت سخت عذاب ہو گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ اور جو اپنے دل سے ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا ﴾ پھر انھوں نے اس ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیے ﴿الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’نیک تو ان کے لیے (ان کے گناہوں کی) مغفرت ہے‘‘ اس مغفرت کی بنا پر ان سے ہر قسم کا شر اور برائی دور ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے۔‘‘ جس کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب ومقصود حاصل ہو گا۔
35:6إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لَكُمۡ عَدُوّٞ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّاۚ إِنَّمَا يَدۡعُواْ حِزۡبَهُۥ لِيَكُونُواْ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ
اے لوگو! بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے، پس نہ دھوکے میں ڈالے تم کو زندگی دنیا کی اور نہ دھوکے میں ڈالے تمھیں اللہ کی بابت بڑا دھوکے باز (شیطان)(5) بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے، پس بناؤ تم اس کو دشمن ہی (اطاعت الٰہی کر کے) بلاشبہ وہ بلاتا ہے اپنے گروہ کو، تاکہ ہوں وہ اہل جہنم سے(6) وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے ہے عذاب سخت، اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہے مغفرت اور اجر بہت بڑا(7)
[5، 6]﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ ﴿حَقٌّ ﴾ ’’حق ہے۔‘‘ یعنی اس میں شک و شبہ اور کوئی تردد نہیں، اس پر تمام دلائلِ نقلیہ اور براہین عقلیہ دلالت کرتے ہیں۔ جب اس کا وعدہ سچا ہے تو اس کے لیے تیاری کرو اپنے اچھے اوقات میں نیک اعمال کی طرف سبقت کرو کوئی راہزن تمھاری راہ کو کھوٹی نہ کرنے پائے۔ ﴿فَلَا تَغُرَّنَّـكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’لہٰذا دنیاوی زندگی تمھیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے‘‘ اپنی لذات و شہوات اور اپنے نفسانی مطالبات کے ذریعے سے تمھیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لیے تمھیں تخلیق کیا گیا ہے۔ ﴿وَلَا يَغُرَّنَّـكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾ ’’اور نہ فریب دینے والا تمھیں فریب دے۔‘‘ جو کہ ﴿الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’شیطان ہے۔‘‘ وہ حقیقت میں تمھارا دشمن ہے ﴿فَاتَّؔخِذُوۡهُ عَدُوًّا ﴾ ’’لہٰذا تم بھی اُسے دشمن جانو‘‘ یعنی تمھاری طرف سے اس کے لیے دشمنی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ جنگ میں کسی بھی وقت ڈھیلے نہ پڑو۔ وہ تمھیں دیکھتا ہے، تم اسے نہیں دیکھ سکتے، وہ ہمیشہ تمھاری گھات میں رہتا ہے۔ ﴿اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بلاشبہ وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں ہوں۔‘‘ یہی اس کی غرض و غایت اور مطلوب و مقصود ہے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کی سخت عذاب کے ذریعے سے رسوائی ہو۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوگ شیطان کی اطاعت اور عدم اطاعت کے اعتبار سے دو گروہوں میں منقسم ہیں، پھر ہر گروہ کی سزا وجزا کا تذکرہ کیا، فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے رسولوں کی دعوت اور ان چیزوں کا انکار کیا جن پر کتب الٰہیہ دلالت کرتی تھیں ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب ہے۔ یہ عذاب اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے نہایت سخت عذاب ہو گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ اور جو اپنے دل سے ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا ﴾ پھر انھوں نے اس ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیے ﴿الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’نیک تو ان کے لیے (ان کے گناہوں کی) مغفرت ہے‘‘ اس مغفرت کی بنا پر ان سے ہر قسم کا شر اور برائی دور ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے۔‘‘ جس کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب ومقصود حاصل ہو گا۔
35:7ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٌ
اے لوگو! بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے، پس نہ دھوکے میں ڈالے تم کو زندگی دنیا کی اور نہ دھوکے میں ڈالے تمھیں اللہ کی بابت بڑا دھوکے باز (شیطان)(5) بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے، پس بناؤ تم اس کو دشمن ہی (اطاعت الٰہی کر کے) بلاشبہ وہ بلاتا ہے اپنے گروہ کو، تاکہ ہوں وہ اہل جہنم سے(6) وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے ہے عذاب سخت، اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے ہے مغفرت اور اجر بہت بڑا(7)
[5، 6]﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ ﴿حَقٌّ ﴾ ’’حق ہے۔‘‘ یعنی اس میں شک و شبہ اور کوئی تردد نہیں، اس پر تمام دلائلِ نقلیہ اور براہین عقلیہ دلالت کرتے ہیں۔ جب اس کا وعدہ سچا ہے تو اس کے لیے تیاری کرو اپنے اچھے اوقات میں نیک اعمال کی طرف سبقت کرو کوئی راہزن تمھاری راہ کو کھوٹی نہ کرنے پائے۔ ﴿فَلَا تَغُرَّنَّـكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’لہٰذا دنیاوی زندگی تمھیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے‘‘ اپنی لذات و شہوات اور اپنے نفسانی مطالبات کے ذریعے سے تمھیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لیے تمھیں تخلیق کیا گیا ہے۔ ﴿وَلَا يَغُرَّنَّـكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾ ’’اور نہ فریب دینے والا تمھیں فریب دے۔‘‘ جو کہ ﴿الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’شیطان ہے۔‘‘ وہ حقیقت میں تمھارا دشمن ہے ﴿فَاتَّؔخِذُوۡهُ عَدُوًّا ﴾ ’’لہٰذا تم بھی اُسے دشمن جانو‘‘ یعنی تمھاری طرف سے اس کے لیے دشمنی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ جنگ میں کسی بھی وقت ڈھیلے نہ پڑو۔ وہ تمھیں دیکھتا ہے، تم اسے نہیں دیکھ سکتے، وہ ہمیشہ تمھاری گھات میں رہتا ہے۔ ﴿اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بلاشبہ وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں ہوں۔‘‘ یہی اس کی غرض و غایت اور مطلوب و مقصود ہے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کی سخت عذاب کے ذریعے سے رسوائی ہو۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوگ شیطان کی اطاعت اور عدم اطاعت کے اعتبار سے دو گروہوں میں منقسم ہیں، پھر ہر گروہ کی سزا وجزا کا تذکرہ کیا، فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے رسولوں کی دعوت اور ان چیزوں کا انکار کیا جن پر کتب الٰہیہ دلالت کرتی تھیں ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب ہے۔ یہ عذاب اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے نہایت سخت عذاب ہو گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ اور جو اپنے دل سے ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا ﴾ پھر انھوں نے اس ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیے ﴿الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’نیک تو ان کے لیے (ان کے گناہوں کی) مغفرت ہے‘‘ اس مغفرت کی بنا پر ان سے ہر قسم کا شر اور برائی دور ہو جائے گی۔ ﴿وَّاَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور بڑا اجر ہے۔‘‘ جس کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب ومقصود حاصل ہو گا۔
35:8أَفَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ فَرَءَاهُ حَسَنٗاۖ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۖ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرَٰتٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا يَصۡنَعُونَ
کیا پس(ہدایت یافتہ شخص کی مانندہے) وہ شخص کہ مزین کر دیا گیا اس کے لیے اس کا برا عمل، سو وہ دیکھتا ہے اس کواچھا ؟پس بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسکو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، پس نہ جاتی رہے آپ کی جان، ان پر افسوس کرتے ہوئے، بلاشبہ اللہ جانتا ہے اس کو جو وہ کرتے ہیں(8)
[8]﴿اَفَمَنۡ زُيِّنَ لَهٗ﴾ ’’کیا پس جس شخص کو مزین کر کے دکھائے جائیں‘‘ اس کے برے اعمال۔ شیطان نے اس کے برے عمل کو آراستہ کر کے اس کی نگاہ میں خوبصورت بنا دیا ہے ﴿فَرَاٰهُ حَسَنًا ﴾ ’’اور وہ ان کو اچھا سمجھنے لگا ہو۔‘‘ یعنی اس شخص کی مانند ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے راہ راست اور دین قویم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے؟ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟پہلا شخص وہ ہے جو بدعمل ہے، جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جو نیک کام کرتا ہے، جو حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتا ہے... مگر حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اور گمراہی صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ﴿فَاِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ١ۖٞ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’بلاشبہ اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے، لہٰذا آپ اپنے آپ کو ان کے بارے میں ہلکان نہ کریں‘‘ یعنی ان گمراہ لوگوں کے بارے میں جن کے بر ے اعمال ان کے لیے آراستہ ہوگئے اور شیطان نے ان کو حق سے روک دیا۔ ﴿حَسَرٰتٍ ﴾ یعنی گمراہ لوگوں پر حسرت و غم سے آپ اپنے آپ کو ہلاک نہ کریں۔ ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے آپ کا فرض تو صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَصۡنَعُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں بے شک اللہ اس سے واقف ہے۔‘‘
35:9وَٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ ٱلرِّيَٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابٗا فَسُقۡنَٰهُ إِلَىٰ بَلَدٖ مَّيِّتٖ فَأَحۡيَيۡنَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ كَذَٰلِكَ ٱلنُّشُورُ
اور اللہ وہ ہے جس نے بھیجی ہوائیں، پس وہ اٹھاتی ہیں بادل کو، تو ہانک لے جاتے ہیں ہم اس کو شہر مردہ کی طرف، پس زندہ کرتے ہیں ہم اس کے ذریعے سے زمین کو بعد اس کے مردہ ہو جانے کے، اسی طرح ہو گا دوبارہ اٹھایا جانا(9)
[9] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے کمال اقتدار اور وسعت سخاوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿اَرۡسَلَ الرِّيٰحَ فَتُثِيۡرُ سَحَابًا فَسُقۡنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّؔيِّتٍ ﴾ ’’جو ہواؤ ں کو بھیجتا ہے وہ بادل اٹھاتی ہیں ، پھر ہم اسے مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ اس مردہ زمین پر بارش برساتا ہے ﴿فَاَحۡيَيۡنَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ ’’، پھر ہم اس زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے زندہ کردیتے ہیں۔‘‘ پس مردہ زمین اور بندے زندگی حاصل کرتے ہیں، حیوانات کو رزق ملتا ہے، اس سرسبز زمین پر وہ چرتے پھرتے ہیں۔ ﴿كَذٰلِكَ ﴾ ’’اسی طرح‘‘ جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے زندگی بخشی وہ مردوں کے بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد انھیں ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر ان پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے گا، جیسے وہ مردہ زمین پر اپنی رحمت کی بارش برساتا ہے۔ پس وہ بارش ان کے بوسیدہ اجسام پر برسے گی، تمام اجسام اور ارواح اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے اور وہ عدل پر مبنی فیصلہ کرے گا۔
35:10مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡعِزَّةَ فَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ جَمِيعًاۚ إِلَيۡهِ يَصۡعَدُ ٱلۡكَلِمُ ٱلطَّيِّبُ وَٱلۡعَمَلُ ٱلصَّـٰلِحُ يَرۡفَعُهُۥۚ وَٱلَّذِينَ يَمۡكُرُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞۖ وَمَكۡرُ أُوْلَـٰٓئِكَ هُوَ يَبُورُ
جو شخص ہے چاہتا عزت تو اللہ ہی کے لیے ہے عزت سب، اسی کی طرف چڑھتی ہیں باتیں پاکیزہ، اورعمل صالح، وہی اوپر اٹھاتا ہے اسے (بھی) اور وہ لوگ جو چالیں چلتے ہیں بری، ان کے لیے ہے عذاب سخت اورچال انھی لوگوں کی، وہی نابود ہوگی(10)
[10] یعنی اے وہ شخص جو عزت کا طلب گار ہے، عزت اس ہستی سے مانگ جس کے ہاتھ میں عزت ہے، بے شک عزت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جو اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی، نیز فرمایا:﴿اِلَيۡهِ يَصۡعَدُ الۡكَلِمُ الطَّيِّبُ ﴾ ’’اس کی طرف پاک کلمات بلند ہوتے ہیں‘‘ مثلاً: قراء ت قرآن، تسبیح اور تہلیل و تحمید وغیرہ۔ ہر کلام جو اچھا اور پاک ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوتا ہے، اس کے حضور پیش کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ صاحب کلام کی ملأاعلیٰ میں مدح و ثنا کرتا ہے۔ ﴿وَالۡعَمَلُ الصَّالِحُ ﴾ ’’اور نیک عمل‘‘ یعنی اعمال قلوب اور اعمال جوارح۔ ﴿يَرۡفَعُهٗ﴾ ’’اس کو بلند کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کلماتِ طیبہ کی مانند عمل صالح کو بھی اپنی طرف بلند کرتا ہے۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے ’’کلمات طیبہ کو عمل صالح بلند کرتا ہے‘‘ تب پاک کلمات، بندے کے نیک اعمال کے مطابق بلند ہوتے ہیں، نیک اعمال ہی بندے کے پاک کلمات کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلند کرتے ہیں۔ اگر بندے کے پاس کوئی عمل صالح نہ ہو تو اس کی کوئی بات اللہ تعالیٰ کی طرف بلند نہیں ہوتی۔ یہ بندے کے اعمال ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صاحب اعمال کو بلند درجات اور عزت عطا کرتا ہے۔ باقی رہی برائیاں، تو اس کا معاملہ اس کے برعکس ہے، برے اعمال کا ارتکاب کرنے والا اپنے اعمال کے ذریعے سے، بلند ہونا چاہتا ہے، وہ سازشیں کرتا اور چالیں چلتا ہے، مگر اس کے تمام مکروفریب اسی پر الٹ جاتے ہیں اسے رسوائی اور پستی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَالۡعَمَلُ الصَّالِحُ يَرۡفَعُهٗ١ؕ وَالَّذِيۡنَ يَمۡؔكُرُوۡنَ السَّيِّاٰتِ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’اور نیک عمل اسے بلند کرتے ہیں اور جو لوگ بری بری تدبیریں کرتے ہیں ان کے لیے شدید عذاب ہے۔‘‘ اور اس عذاب میں اسے بے انتہا رسوا کیا جائے گا۔ ﴿وَمَكۡرُ اُولٰٓىِٕكَ هُوَ يَبُوۡرُ ﴾ یعنی ان کی فریب کاریوں کا تاروپود بوسیدہ ہو کر بکھر جائے گا اور ان کی فریب کاریاں اور سازشیں انھیں کوئی فائدہ نہ دیں گی کیونکہ یہ باطل کے لیے باطل پر مبنی چالیں ہیں۔
35:11وَٱللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ جَعَلَكُمۡ أَزۡوَٰجٗاۚ وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلۡمِهِۦۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٖ وَلَا يُنقَصُ مِنۡ عُمُرِهِۦٓ إِلَّا فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ
اور اللہ ہی نے پیدا کیا تم کو مٹی سے، پھر نطفے (قطرۂ منی) سے، پھر بنایا تم کو جوڑے جوڑے اور نہیں بوجھ اٹھاتی(پیٹ میں) کوئی مادہ اور نہ وہ جنتی ہے، مگر ساتھ اس کے علم کے اور نہیں عمر دیا جاتا کوئی عمر دیا جانے والا اور نہ کم کی جاتی ہے اس کی عمر سے، مگر (وہ درج) ہے ایک کتاب (لوح محفوظ) میں، بلاشبہ یہ بات اللہ پر نہایت آسان ہے(11)
[11] اللہ تبارک وتعالیٰ آدمی کی تخلیق یعنی مٹی سے لے کر نطفے اور بعد کے مراحل میں اس کے منتقل ہونے کا تذکرہ فرماتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ جَعَلَكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتا رہا حتیٰ کہ تم مرد اور عورت نکاح کے مرحلے میں داخل ہو گئے یہاں نکاح اور ازدواج سے مراد اولاد اور ذریت ہے۔ نکاح اگرچہ حصول اولاد کا سبب ہے، تاہم یہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کے علم سے مقرون ہے۔ ﴿وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِهٖ﴾ ’’جو بھی مادہ حاملہ ہوتی ہے یا بچہ جنتی ہے تو اللہ کو اس کاعلم ہوتا ہے۔‘‘ اسی طرح آدمی کی تخلیق کے مختلف ادوار اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قضا وقدر سے مقرون ہیں۔ ﴿وَمَا يُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِهٖۤ﴾ ’’اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی جس شخص کو طویل عمر عطا کی گئی ہو تو اس کی عمر میں کمی نہیں کی جاتی ﴿اِلَّا ﴾ ’’مگر‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے یا کسی ایسے یا انسان کی عمر میں جو کمی کی گئی ہو جو اس کی طوالت کے درپے رہتا اگر وہ کوتاہ عمری کے اسباب کو اختیار نہ کرتا، مثلاً: زنا، والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی وغیرہ، جن کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ عمر کے کم ہونے کے اسباب ہیں اور معنی یہ ہے کہ عمر کا طویل یا کم ہونا، کسی سبب کی بنا پر ہو یا کسی سبب کے بغیر سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ﴿فِيۡؔ كِتٰبٍ ﴾ ’’ایک کتاب میں‘‘ درج کر رکھا ہے۔ بندے کے تمام ایام حیات اور اس کے تمام اوقات میں اس کے ساتھ جو کچھ گزرتا ہے، سب اس کتاب میں درج ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾’’بلاشبہ یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔‘‘ یعنی ان بے شمار معلومات اور اس بارے میں کتاب کا احاطہ بہت آسان ہے۔یہ تین دلائل جو زندگی بعد موت پر دلالت کرتے ہیں، سب عقلی دلائل ہیں، جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اشارہ کیا ہے۔(۱)زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنا۔(۲)وہ ہستی جس نے زمین کو حیات نو بخشی، وہ مردوں کو بھی زندہ کرے گی۔(۳) انسان کا ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہونا۔وہ اللہ جو اسے وجود میں لایا، جس نے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں اور ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل کیا یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچ گیا جو اس کے لیے مقدر تھا، اس اللہ کے لیے اس کی زندگی کا اعادہ کرنا اور دوسری تخلیق عطا کرنا آسان تر ہے۔ اس کے علم نے تمام عالم علوی اور عالم سفلی کا، ہر چھوٹی یا بڑی چیز کا جو دلوں میں چھپی ہوئی ہے، ان بچوں کا جو ماؤ ں کے پیٹ میں ہیں اور عمروں کے زیادہ ہونے یا کم ہونے کا احاطہ کر رکھا ہے اور یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ پس وہ اللہ جس کے لیے یہ سب کچھ اتنا آسان ہے اس کے لیے مردوں کو دوبارہ زندگی بخشنا آسان سے آسان تر ہے۔ پس نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کی بھلائیاں ان گنت ہیں۔ اس نے اپنے بندوں کے لیے ان تمام امور کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ان کی معاش و معاد کی بھلائی ہے۔
35:12وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡبَحۡرَانِ هَٰذَا عَذۡبٞ فُرَاتٞ سَآئِغٞ شَرَابُهُۥ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٞۖ وَمِن كُلّٖ تَأۡكُلُونَ لَحۡمٗا طَرِيّٗا وَتَسۡتَخۡرِجُونَ حِلۡيَةٗ تَلۡبَسُونَهَاۖ وَتَرَى ٱلۡفُلۡكَ فِيهِ مَوَاخِرَ لِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
اور نہیں برابر دو دریا، یہ ایک میٹھا خوب میٹھا آسان ہے اس کا پینا اور یہ ایک (دوسرا) کھارا سخت کڑوا، اور ہر ایک میں سے کھاتے ہو تم گوشت تازہ اورنکالتے ہو تم زیور کہ پہنتے ہو تم انھیں اور دیکھیں گے آپ کشتیوں کو اس (دریا) میں پھاڑتی ہوئی (چلتی ہیں) پانی کو، تاکہ تلاش کرو تم اس کے فضل سے اور تاکہ تم شکر کرو(12) داخل کرتا ہے وہ (اللہ) رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور کام میں لگا دیا ہے اس نے سورج اور چاند کو، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک، یہ ہے اللہ، تمھارا رب ، اسی کی ہے بادشاہی، اور وہ جن کو تم پکارتے ہو اس (اللہ) کے سوا، نہیں اختیار رکھتے وہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر والے چھلکے کا بھی(13) اگر پکارو تم ان کو تو نہیں سنیں گے وہ تمھاری پکار کو، اوراگر وہ سن بھی لیں تو نہیں جواب دیں گے وہ تمھیں، اور دن قیامت کے وہ انکار کر دیں گے تمھارے (اس) شرک کا، اور نہیں خبر دے گا آپ کو (کوئی) مانند (اللہ) خوب خبر دار کے(14)
[12] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے پایاں رحمت کا بیان ہے کہ اس نے عالم ارضی کے لیے پانی کے مختلف ذخیرے تخلیق فرمائے، ان کو ایک سا نہیں بنایا، کیونکہ مصلحت تقاضا کرتی ہے کہ دریاؤ ں کا پانی میٹھا، پیاس بجھانے والا اور پینے میں خوشگوار ہو، تاکہ اسے پینے والے، باغوں اور کھیتیوں کو سیراب کرنے والے اپنے کام میں لائیں اور سمندروں کا پانی نمکین اور سخت کھاری ہو، تاکہ ان سمندروں کے اندر مرنے والے حیوانات کی بدبو سے ہوا خراب نہ ہو کیونکہ سمندر کا پانی چلتا نہیں بلکہ ساکن ہوتا ہے تاکہ اس کا کھاری پن اسے تغیر سے بچائے رکھے اور اس کے حیوانات خوبصورت اور زیادہ لذیذ ہوں، بنا بریں فرمایا:﴿وَمِنۡ كُلٍّ ﴾ یعنی کھاری پانی اور میٹھے پانی کے ذخیرے میں سے ﴿تَاۡكُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِيًّا ﴾ ’’تم تازہ گوشت کھاتے ہو‘‘ اس سے مراد مچھلی ہے، جس کا شکار سمندر میں بہت آسان ہے۔ ﴿وَّتَسۡتَخۡرِجُوۡنَ۠ حِلۡيَةً تَلۡبَسُوۡنَهَا ﴾ ’’اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو۔‘‘ یعنی موتی اور مونگے وغیرہ، جو سمندر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بندوں کے لیے عظیم مصالح ہیں۔سمندر کے فوائد اور مصالح میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کشتیوں کے لیے مسخر کیا۔ تم انھیں دیکھتے ہو کہ وہ سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے ایک ملک سے دوسرے ملک تک اور ایک جگہ سے دوسری جگہ تک چلتی ہیں، مسافر ان کشتیوں اور جہازوں پر بھاری بوجھ اور اپنا سامان تجارت لادتے ہیں۔ پس اس طرح انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم اس کا فضل (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔‘‘
[13] ان جملہ نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے جب ان میں سے کوئی ایک آتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے کبھی ایک میں کمی واقع ہو جاتی ہے تو دوسرے میں اضافہ اور کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں اور اس سے بندوں کے اجسام، ان کے حیوانات، ان کے باغات اور ان کی کھیتیوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں۔اسی طرح سورج اور چاند کی تسخیر میں روشنی اور نور، حرکت اور سکون کے مصالح حاصل ہوتے ہیں، سورج کی روشنی میں بندے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ سورج کی روشنی میں پھل پکتے ہیں اور دیگر ضروری فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کے فقدان سے لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے۔ ﴿كُلٌّ يَّجۡرِيۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور ہر ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔‘‘ یعنی چاند اور سورج دونوں اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں اور اس وقت تک چلتے رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو گی۔ جب وقت مقررہ آ جائے گا اور دنیا کی مدت پوری ہونے کا وقت قریب آ پہنچے گا تو ان کی طاقت سلب کر لی جائے گی، چاند بے نور ہو جائے گا، سورج کو روشنی سے محروم کر دیا جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ان عظیم مخلوقات میں جو عبرتیں اللہ تعالیٰ کے کمال اور احسان پر دلالت کرتی ہیں، ان کو بیان کرنے کے بعد فرمایا:﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ لَهُ الۡمُلۡكُ ﴾ ’’یہ ہے اللہ، تمھارا رب، اسی کے لیے بادشاہی ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو ان بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق اور تسخیر میں متفرد ہے وہی رب، الٰہ اور مستحق عبادت ہے، جو تمام اقدار کا مالک ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’اور اس کے سوا جنھیں تم پکارتے ہو۔‘‘ یعنی تم جن بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو پوجتے ہو ﴿مَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِيۡرٍ﴾ وہ قلیل یا کثیر کسی چیز کے مالک نہیں حتی کہ وہ اس معمولی چھلکے کے بھی مالک نہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے جو حقیر ترین چیز ہے۔ یہ (ان کی الوہیت کی) نفی اور اس کے عموم کی تصریح ہے۔ ان خود ساختہ معبودوں کو کیسے پکارا جاسکتا ہے حالانکہ وہ زمین و آسمان کی بادشاہی میں کسی چیز کے بھی مالک نہیں؟
[14] اس کے ساتھ ساتھ ﴿اِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ ﴾ ’’اگر تم ان کو پکارو‘‘ تو وہ تمھاری پکار نہیں سنتے کیونکہ وہ پتھر ہیں یا مرے ہوئے انسان یا فرشتے جو ہر وقت اپنے رب کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ سَمِعُوۡا ﴾ بفرض محال اگر وہ سن بھی لیں ﴿مَا اسۡتَجَابُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تمھاری بات قبول نہیں کریں گے۔‘‘ کیونکہ وہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ان میں سے اکثر ان لوگوں کی عبادت پر راضی ہی ہیں جو ان کی عبادت کرتے ہیں بنابریں فرمایا: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾ ’’اور قیامت کے دن وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے‘‘ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾(سبا:34؍41) ’’تو پاک ہے، تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ۔‘‘ ﴿وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيۡرٍ ﴾ یعنی آپ کو آگاہ کرنے والی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو اللہ، علیم و خبیر سے زیادہ سچی ہو۔ پس آپ کو قطعی طور پر یقین ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے ایک عینی مشاہدہ ہے، اس لیے آپ کو اس بارے میں قطعی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ آیات کریمہ روشن اور واضح دلائل پر مشتمل ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی ہستی ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں۔ اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل اور باطل سے متعلق ہے اور وہ اپنی عبادت کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
35:13يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِي لِأَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۚ وَٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ مَا يَمۡلِكُونَ مِن قِطۡمِيرٍ
اور نہیں برابر دو دریا، یہ ایک میٹھا خوب میٹھا آسان ہے اس کا پینا اور یہ ایک (دوسرا) کھارا سخت کڑوا، اور ہر ایک میں سے کھاتے ہو تم گوشت تازہ اورنکالتے ہو تم زیور کہ پہنتے ہو تم انھیں اور دیکھیں گے آپ کشتیوں کو اس (دریا) میں پھاڑتی ہوئی (چلتی ہیں) پانی کو، تاکہ تلاش کرو تم اس کے فضل سے اور تاکہ تم شکر کرو(12) داخل کرتا ہے وہ (اللہ) رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور کام میں لگا دیا ہے اس نے سورج اور چاند کو، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک، یہ ہے اللہ، تمھارا رب ، اسی کی ہے بادشاہی، اور وہ جن کو تم پکارتے ہو اس (اللہ) کے سوا، نہیں اختیار رکھتے وہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر والے چھلکے کا بھی(13) اگر پکارو تم ان کو تو نہیں سنیں گے وہ تمھاری پکار کو، اوراگر وہ سن بھی لیں تو نہیں جواب دیں گے وہ تمھیں، اور دن قیامت کے وہ انکار کر دیں گے تمھارے (اس) شرک کا، اور نہیں خبر دے گا آپ کو (کوئی) مانند (اللہ) خوب خبر دار کے(14)
[12] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے پایاں رحمت کا بیان ہے کہ اس نے عالم ارضی کے لیے پانی کے مختلف ذخیرے تخلیق فرمائے، ان کو ایک سا نہیں بنایا، کیونکہ مصلحت تقاضا کرتی ہے کہ دریاؤ ں کا پانی میٹھا، پیاس بجھانے والا اور پینے میں خوشگوار ہو، تاکہ اسے پینے والے، باغوں اور کھیتیوں کو سیراب کرنے والے اپنے کام میں لائیں اور سمندروں کا پانی نمکین اور سخت کھاری ہو، تاکہ ان سمندروں کے اندر مرنے والے حیوانات کی بدبو سے ہوا خراب نہ ہو کیونکہ سمندر کا پانی چلتا نہیں بلکہ ساکن ہوتا ہے تاکہ اس کا کھاری پن اسے تغیر سے بچائے رکھے اور اس کے حیوانات خوبصورت اور زیادہ لذیذ ہوں، بنا بریں فرمایا:﴿وَمِنۡ كُلٍّ ﴾ یعنی کھاری پانی اور میٹھے پانی کے ذخیرے میں سے ﴿تَاۡكُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِيًّا ﴾ ’’تم تازہ گوشت کھاتے ہو‘‘ اس سے مراد مچھلی ہے، جس کا شکار سمندر میں بہت آسان ہے۔ ﴿وَّتَسۡتَخۡرِجُوۡنَ۠ حِلۡيَةً تَلۡبَسُوۡنَهَا ﴾ ’’اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو۔‘‘ یعنی موتی اور مونگے وغیرہ، جو سمندر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بندوں کے لیے عظیم مصالح ہیں۔سمندر کے فوائد اور مصالح میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کشتیوں کے لیے مسخر کیا۔ تم انھیں دیکھتے ہو کہ وہ سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے ایک ملک سے دوسرے ملک تک اور ایک جگہ سے دوسری جگہ تک چلتی ہیں، مسافر ان کشتیوں اور جہازوں پر بھاری بوجھ اور اپنا سامان تجارت لادتے ہیں۔ پس اس طرح انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم اس کا فضل (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔‘‘
[13] ان جملہ نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے جب ان میں سے کوئی ایک آتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے کبھی ایک میں کمی واقع ہو جاتی ہے تو دوسرے میں اضافہ اور کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں اور اس سے بندوں کے اجسام، ان کے حیوانات، ان کے باغات اور ان کی کھیتیوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں۔اسی طرح سورج اور چاند کی تسخیر میں روشنی اور نور، حرکت اور سکون کے مصالح حاصل ہوتے ہیں، سورج کی روشنی میں بندے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ سورج کی روشنی میں پھل پکتے ہیں اور دیگر ضروری فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کے فقدان سے لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے۔ ﴿كُلٌّ يَّجۡرِيۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور ہر ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔‘‘ یعنی چاند اور سورج دونوں اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں اور اس وقت تک چلتے رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو گی۔ جب وقت مقررہ آ جائے گا اور دنیا کی مدت پوری ہونے کا وقت قریب آ پہنچے گا تو ان کی طاقت سلب کر لی جائے گی، چاند بے نور ہو جائے گا، سورج کو روشنی سے محروم کر دیا جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ان عظیم مخلوقات میں جو عبرتیں اللہ تعالیٰ کے کمال اور احسان پر دلالت کرتی ہیں، ان کو بیان کرنے کے بعد فرمایا:﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ لَهُ الۡمُلۡكُ ﴾ ’’یہ ہے اللہ، تمھارا رب، اسی کے لیے بادشاہی ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو ان بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق اور تسخیر میں متفرد ہے وہی رب، الٰہ اور مستحق عبادت ہے، جو تمام اقدار کا مالک ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’اور اس کے سوا جنھیں تم پکارتے ہو۔‘‘ یعنی تم جن بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو پوجتے ہو ﴿مَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِيۡرٍ﴾ وہ قلیل یا کثیر کسی چیز کے مالک نہیں حتی کہ وہ اس معمولی چھلکے کے بھی مالک نہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے جو حقیر ترین چیز ہے۔ یہ (ان کی الوہیت کی) نفی اور اس کے عموم کی تصریح ہے۔ ان خود ساختہ معبودوں کو کیسے پکارا جاسکتا ہے حالانکہ وہ زمین و آسمان کی بادشاہی میں کسی چیز کے بھی مالک نہیں؟
[14] اس کے ساتھ ساتھ ﴿اِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ ﴾ ’’اگر تم ان کو پکارو‘‘ تو وہ تمھاری پکار نہیں سنتے کیونکہ وہ پتھر ہیں یا مرے ہوئے انسان یا فرشتے جو ہر وقت اپنے رب کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ سَمِعُوۡا ﴾ بفرض محال اگر وہ سن بھی لیں ﴿مَا اسۡتَجَابُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تمھاری بات قبول نہیں کریں گے۔‘‘ کیونکہ وہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ان میں سے اکثر ان لوگوں کی عبادت پر راضی ہی ہیں جو ان کی عبادت کرتے ہیں بنابریں فرمایا: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾ ’’اور قیامت کے دن وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے‘‘ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾(سبا:34؍41) ’’تو پاک ہے، تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ۔‘‘ ﴿وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيۡرٍ ﴾ یعنی آپ کو آگاہ کرنے والی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو اللہ، علیم و خبیر سے زیادہ سچی ہو۔ پس آپ کو قطعی طور پر یقین ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے ایک عینی مشاہدہ ہے، اس لیے آپ کو اس بارے میں قطعی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ آیات کریمہ روشن اور واضح دلائل پر مشتمل ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی ہستی ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں۔ اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل اور باطل سے متعلق ہے اور وہ اپنی عبادت کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
35:14إِن تَدۡعُوهُمۡ لَا يَسۡمَعُواْ دُعَآءَكُمۡ وَلَوۡ سَمِعُواْ مَا ٱسۡتَجَابُواْ لَكُمۡۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُونَ بِشِرۡكِكُمۡۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيرٖ
اور نہیں برابر دو دریا، یہ ایک میٹھا خوب میٹھا آسان ہے اس کا پینا اور یہ ایک (دوسرا) کھارا سخت کڑوا، اور ہر ایک میں سے کھاتے ہو تم گوشت تازہ اورنکالتے ہو تم زیور کہ پہنتے ہو تم انھیں اور دیکھیں گے آپ کشتیوں کو اس (دریا) میں پھاڑتی ہوئی (چلتی ہیں) پانی کو، تاکہ تلاش کرو تم اس کے فضل سے اور تاکہ تم شکر کرو(12) داخل کرتا ہے وہ (اللہ) رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور کام میں لگا دیا ہے اس نے سورج اور چاند کو، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک، یہ ہے اللہ، تمھارا رب ، اسی کی ہے بادشاہی، اور وہ جن کو تم پکارتے ہو اس (اللہ) کے سوا، نہیں اختیار رکھتے وہ کھجور کی گٹھلی کے اوپر والے چھلکے کا بھی(13) اگر پکارو تم ان کو تو نہیں سنیں گے وہ تمھاری پکار کو، اوراگر وہ سن بھی لیں تو نہیں جواب دیں گے وہ تمھیں، اور دن قیامت کے وہ انکار کر دیں گے تمھارے (اس) شرک کا، اور نہیں خبر دے گا آپ کو (کوئی) مانند (اللہ) خوب خبر دار کے(14)
[12] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے پایاں رحمت کا بیان ہے کہ اس نے عالم ارضی کے لیے پانی کے مختلف ذخیرے تخلیق فرمائے، ان کو ایک سا نہیں بنایا، کیونکہ مصلحت تقاضا کرتی ہے کہ دریاؤ ں کا پانی میٹھا، پیاس بجھانے والا اور پینے میں خوشگوار ہو، تاکہ اسے پینے والے، باغوں اور کھیتیوں کو سیراب کرنے والے اپنے کام میں لائیں اور سمندروں کا پانی نمکین اور سخت کھاری ہو، تاکہ ان سمندروں کے اندر مرنے والے حیوانات کی بدبو سے ہوا خراب نہ ہو کیونکہ سمندر کا پانی چلتا نہیں بلکہ ساکن ہوتا ہے تاکہ اس کا کھاری پن اسے تغیر سے بچائے رکھے اور اس کے حیوانات خوبصورت اور زیادہ لذیذ ہوں، بنا بریں فرمایا:﴿وَمِنۡ كُلٍّ ﴾ یعنی کھاری پانی اور میٹھے پانی کے ذخیرے میں سے ﴿تَاۡكُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِيًّا ﴾ ’’تم تازہ گوشت کھاتے ہو‘‘ اس سے مراد مچھلی ہے، جس کا شکار سمندر میں بہت آسان ہے۔ ﴿وَّتَسۡتَخۡرِجُوۡنَ۠ حِلۡيَةً تَلۡبَسُوۡنَهَا ﴾ ’’اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو۔‘‘ یعنی موتی اور مونگے وغیرہ، جو سمندر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بندوں کے لیے عظیم مصالح ہیں۔سمندر کے فوائد اور مصالح میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کشتیوں کے لیے مسخر کیا۔ تم انھیں دیکھتے ہو کہ وہ سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے ایک ملک سے دوسرے ملک تک اور ایک جگہ سے دوسری جگہ تک چلتی ہیں، مسافر ان کشتیوں اور جہازوں پر بھاری بوجھ اور اپنا سامان تجارت لادتے ہیں۔ پس اس طرح انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم اس کا فضل (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔‘‘
[13] ان جملہ نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے جب ان میں سے کوئی ایک آتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے کبھی ایک میں کمی واقع ہو جاتی ہے تو دوسرے میں اضافہ اور کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں اور اس سے بندوں کے اجسام، ان کے حیوانات، ان کے باغات اور ان کی کھیتیوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں۔اسی طرح سورج اور چاند کی تسخیر میں روشنی اور نور، حرکت اور سکون کے مصالح حاصل ہوتے ہیں، سورج کی روشنی میں بندے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ سورج کی روشنی میں پھل پکتے ہیں اور دیگر ضروری فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کے فقدان سے لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے۔ ﴿كُلٌّ يَّجۡرِيۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور ہر ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔‘‘ یعنی چاند اور سورج دونوں اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں اور اس وقت تک چلتے رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو گی۔ جب وقت مقررہ آ جائے گا اور دنیا کی مدت پوری ہونے کا وقت قریب آ پہنچے گا تو ان کی طاقت سلب کر لی جائے گی، چاند بے نور ہو جائے گا، سورج کو روشنی سے محروم کر دیا جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ان عظیم مخلوقات میں جو عبرتیں اللہ تعالیٰ کے کمال اور احسان پر دلالت کرتی ہیں، ان کو بیان کرنے کے بعد فرمایا:﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ لَهُ الۡمُلۡكُ ﴾ ’’یہ ہے اللہ، تمھارا رب، اسی کے لیے بادشاہی ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو ان بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق اور تسخیر میں متفرد ہے وہی رب، الٰہ اور مستحق عبادت ہے، جو تمام اقدار کا مالک ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’اور اس کے سوا جنھیں تم پکارتے ہو۔‘‘ یعنی تم جن بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو پوجتے ہو ﴿مَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِيۡرٍ﴾ وہ قلیل یا کثیر کسی چیز کے مالک نہیں حتی کہ وہ اس معمولی چھلکے کے بھی مالک نہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے جو حقیر ترین چیز ہے۔ یہ (ان کی الوہیت کی) نفی اور اس کے عموم کی تصریح ہے۔ ان خود ساختہ معبودوں کو کیسے پکارا جاسکتا ہے حالانکہ وہ زمین و آسمان کی بادشاہی میں کسی چیز کے بھی مالک نہیں؟
[14] اس کے ساتھ ساتھ ﴿اِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ ﴾ ’’اگر تم ان کو پکارو‘‘ تو وہ تمھاری پکار نہیں سنتے کیونکہ وہ پتھر ہیں یا مرے ہوئے انسان یا فرشتے جو ہر وقت اپنے رب کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ سَمِعُوۡا ﴾ بفرض محال اگر وہ سن بھی لیں ﴿مَا اسۡتَجَابُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تمھاری بات قبول نہیں کریں گے۔‘‘ کیونکہ وہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ان میں سے اکثر ان لوگوں کی عبادت پر راضی ہی ہیں جو ان کی عبادت کرتے ہیں بنابریں فرمایا: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾ ’’اور قیامت کے دن وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے‘‘ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾(سبا:34؍41) ’’تو پاک ہے، تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ۔‘‘ ﴿وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيۡرٍ ﴾ یعنی آپ کو آگاہ کرنے والی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو اللہ، علیم و خبیر سے زیادہ سچی ہو۔ پس آپ کو قطعی طور پر یقین ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے ایک عینی مشاہدہ ہے، اس لیے آپ کو اس بارے میں قطعی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ آیات کریمہ روشن اور واضح دلائل پر مشتمل ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی ہستی ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں۔ اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل اور باطل سے متعلق ہے اور وہ اپنی عبادت کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
35:15۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ
اے لوگو! تم (سب) محتاج ہو اللہ کے ۔ اور اللہ ہی ہے بے نیاز لائق حمد و ثنا(15)اگر وہ چاہے تو لے جائے(ہلاک کر دے) تمھیں اور لے آئے ایک مخلوق نئی(16)اور نہیں ہے یہ بات اللہ پرکچھ مشکل (17) اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا، اور اگربلائے گا کوئی بوجھ لدا شخص اپنے بوجھ (اٹھانے) کو تو نہ اٹھایا جائے گا اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی، اگرچہ ہو وہ رشتے دار ہی، بلاشبہ آپ تو ڈراتے ہیں صرف انھی لوگوں کو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم کرتے ہیں نماز اور جو پاک ہو گیا تو بلاشبہ وہ پاک ہوتا ہے اپنے ہی لیے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے(18)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انھیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں:(۱)وہ وجود میں آنے کے لیے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آ سکتے۔(۲)وہ اپنے مختلف قویٰ، اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قویٰ عطا نہ کرے تو کسی کام کے لیے ان میں کوئی استعداد نہیں۔(۳)وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری وباطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔(۴)وہ اپنے مصائب وتکالیف ، کرب و غم اور شدائد کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں اور کرب و غم کو دور اور ان کی عسرت کا ازالہ نہ کرے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ مصائب و شدائد میں گھرے رہیں۔(۵)وہ اپنی مختلف انواع کی تربیت و تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔(۶)وہ اسے الٰہ بنانے، اس سے محبت کرنے، اس کو معبود بنانے اور خالص اسی کی عبادت کرنے میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو ان امور کی توفیق عطا نہ کرے تو یہ ہلاک ہو جائیں، ان کی ارواح، قلوب اور احوال فاسد ہو جائیں۔(۷) وہ ان چیزوں کے علم کے حصول میں جنھیں وہ نہیں جانتے اور ان کی اصلاح کرنے والے عمل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو علم عطا نہ کرے تو وہ کبھی بھی علم سے بہرہ ور نہ ہو سکیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو عمل کی توفیق سے نہ نوازے تو وہ کبھی نیکی نہ کر سکیں... وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے بالذات اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں خواہ انھیں اپنی کسی حاجت کا شعور ہو یا نہ ہو۔مگر لوگوں میں سے توفیق سے بہرہ ور وہی ہے جو دینی اور دنیاوی امور سے متعلق اپنے تمام احوال میں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) اپنے فقرواحتیاج کا مشاہدہ کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور فروتنی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہے کہ وہ اسے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہ کرے، اس کے تمام امور میں اس کی مدد فرمائے اور وہ اس معنیٰ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اس رب اور معبود کی کامل اعانت کا مستحق ہے جو ماں کے اپنے بچوں پر مہربان ہونے سے کہیں بڑھ کر اس پر مہربان اور رحیم ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل کی مالک ہے۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کی محتاج نہیں جن کی مخلوق محتاج اور ضرورت مند ہوتی ہے کیونکہ اس کی صفات تمام ترصفات کمال اور جلال ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غنائے تام ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو دنیا وآخرت میں غنا سے نوازا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ اپنی ذات اور اپنے ناموں میں قابل حمدوستائش ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے، اس کے تمام اوصاف عالی شان اور اس کے تمام افعال سراسر فضل و احسان، عدل و حکمت اور رحمت پر مبنی ہیں۔وہ اپنے اوامرونواہی میں قابل تعریف ہے کیونکہ وہ اپنی صفات، فضل و اکرام اور جزاوسزا میں عدل و انصاف کے لیے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے غنا میں قابل تعریف ہے اور وہ اپنی حمد وثنا سے مستغنی اور بے نیاز ہے۔
[16]﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اے لوگو! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی وعید اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں۔ اس میں زندگی بعد موت کے اثبات کا احتمال بھی ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہر چیز پر نافذ ہے۔ اس کی مشیّت اس چیز پر بھی قادر ہے کہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ نئے سرے سے زندہ کرے، مگر اس زندگی کے لیے ایک وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، اس وقت مقرر سے تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔
[17]﴿وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ ﴾ ’’اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں۔‘‘ یعنی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت سے باہر نہیں اور کوئی ہستی اسے عاجز نہیں کر سکتی۔
[18] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ آخری معنیٰ پر دلالت کرتی ہے، یعنی ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ ﴾ اگر کوئی نفس جس نے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہو گا اور وہ کسی سے بوجھ اٹھانے کے لیے التماس کرے گا۔ ﴿لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٌ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾’’تو کوئی شخص بھی خواہ اس کارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ کیونکہ آخرت کے احوال دنیا کے احوال کی مانند نہیں ہیں جہاں دوست، دوست کی مدد کرتا ہے، بلکہ قیامت کے روز تو بندہ تمنا کرے گا کہ اس کا کسی کے ذمے حق ہو، خواہ اس کے والدین اور اقارب کے ذمے ہی کیوں نہ ہو۔﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’آپ تو صرف انھی لوگوں کو نصیحت کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو انذار کو قبول کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کھلے چھپے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کی تمام حدود و شرائط، ارکان و واجبات اور پورے خشوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں کیونکہ خشیت الٰہی بندے سے اس عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے ضیاع پر سزا کا خوف ہو اور ایسے عمل سے دور رہنے کا تقاضا کرتی ہے جس کے ارتکاب پر عذاب کا خوف ہو۔ نماز بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ﴿وَمَنۡ تَزَؔكّٰى فَاِنَّـمَا يَتَزَؔكّٰى لِنَفۡسِهٖ﴾ یعنی جس کسی نے اپنے نفس کو عیوب ، مثلاً: ریاء، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب، نفاق اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک کیا اور اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا ، مثلاً: صدق، اخلاص، تواضع و انکسار، بندوں کی خیر خواہی اور دل کو بغض حسد، کینے اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک رکھا، تو اس کے تزکیۂ نفس کا فائدہ اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے عمل میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ پس وہ تمام خلائق کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان کے اعمال کا حساب لے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل شمار کرنے سے نہیں چھوڑے گا۔
35:16إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَأۡتِ بِخَلۡقٖ جَدِيدٖ
اے لوگو! تم (سب) محتاج ہو اللہ کے ۔ اور اللہ ہی ہے بے نیاز لائق حمد و ثنا(15)اگر وہ چاہے تو لے جائے(ہلاک کر دے) تمھیں اور لے آئے ایک مخلوق نئی(16)اور نہیں ہے یہ بات اللہ پرکچھ مشکل (17) اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا، اور اگربلائے گا کوئی بوجھ لدا شخص اپنے بوجھ (اٹھانے) کو تو نہ اٹھایا جائے گا اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی، اگرچہ ہو وہ رشتے دار ہی، بلاشبہ آپ تو ڈراتے ہیں صرف انھی لوگوں کو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم کرتے ہیں نماز اور جو پاک ہو گیا تو بلاشبہ وہ پاک ہوتا ہے اپنے ہی لیے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے(18)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انھیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں:(۱)وہ وجود میں آنے کے لیے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آ سکتے۔(۲)وہ اپنے مختلف قویٰ، اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قویٰ عطا نہ کرے تو کسی کام کے لیے ان میں کوئی استعداد نہیں۔(۳)وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری وباطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔(۴)وہ اپنے مصائب وتکالیف ، کرب و غم اور شدائد کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں اور کرب و غم کو دور اور ان کی عسرت کا ازالہ نہ کرے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ مصائب و شدائد میں گھرے رہیں۔(۵)وہ اپنی مختلف انواع کی تربیت و تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔(۶)وہ اسے الٰہ بنانے، اس سے محبت کرنے، اس کو معبود بنانے اور خالص اسی کی عبادت کرنے میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو ان امور کی توفیق عطا نہ کرے تو یہ ہلاک ہو جائیں، ان کی ارواح، قلوب اور احوال فاسد ہو جائیں۔(۷) وہ ان چیزوں کے علم کے حصول میں جنھیں وہ نہیں جانتے اور ان کی اصلاح کرنے والے عمل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو علم عطا نہ کرے تو وہ کبھی بھی علم سے بہرہ ور نہ ہو سکیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو عمل کی توفیق سے نہ نوازے تو وہ کبھی نیکی نہ کر سکیں... وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے بالذات اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں خواہ انھیں اپنی کسی حاجت کا شعور ہو یا نہ ہو۔مگر لوگوں میں سے توفیق سے بہرہ ور وہی ہے جو دینی اور دنیاوی امور سے متعلق اپنے تمام احوال میں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) اپنے فقرواحتیاج کا مشاہدہ کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور فروتنی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہے کہ وہ اسے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہ کرے، اس کے تمام امور میں اس کی مدد فرمائے اور وہ اس معنیٰ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اس رب اور معبود کی کامل اعانت کا مستحق ہے جو ماں کے اپنے بچوں پر مہربان ہونے سے کہیں بڑھ کر اس پر مہربان اور رحیم ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل کی مالک ہے۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کی محتاج نہیں جن کی مخلوق محتاج اور ضرورت مند ہوتی ہے کیونکہ اس کی صفات تمام ترصفات کمال اور جلال ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غنائے تام ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو دنیا وآخرت میں غنا سے نوازا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ اپنی ذات اور اپنے ناموں میں قابل حمدوستائش ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے، اس کے تمام اوصاف عالی شان اور اس کے تمام افعال سراسر فضل و احسان، عدل و حکمت اور رحمت پر مبنی ہیں۔وہ اپنے اوامرونواہی میں قابل تعریف ہے کیونکہ وہ اپنی صفات، فضل و اکرام اور جزاوسزا میں عدل و انصاف کے لیے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے غنا میں قابل تعریف ہے اور وہ اپنی حمد وثنا سے مستغنی اور بے نیاز ہے۔
[16]﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اے لوگو! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی وعید اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں۔ اس میں زندگی بعد موت کے اثبات کا احتمال بھی ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہر چیز پر نافذ ہے۔ اس کی مشیّت اس چیز پر بھی قادر ہے کہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ نئے سرے سے زندہ کرے، مگر اس زندگی کے لیے ایک وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، اس وقت مقرر سے تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔
[17]﴿وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ ﴾ ’’اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں۔‘‘ یعنی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت سے باہر نہیں اور کوئی ہستی اسے عاجز نہیں کر سکتی۔
[18] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ آخری معنیٰ پر دلالت کرتی ہے، یعنی ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ ﴾ اگر کوئی نفس جس نے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہو گا اور وہ کسی سے بوجھ اٹھانے کے لیے التماس کرے گا۔ ﴿لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٌ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾’’تو کوئی شخص بھی خواہ اس کارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ کیونکہ آخرت کے احوال دنیا کے احوال کی مانند نہیں ہیں جہاں دوست، دوست کی مدد کرتا ہے، بلکہ قیامت کے روز تو بندہ تمنا کرے گا کہ اس کا کسی کے ذمے حق ہو، خواہ اس کے والدین اور اقارب کے ذمے ہی کیوں نہ ہو۔﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’آپ تو صرف انھی لوگوں کو نصیحت کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو انذار کو قبول کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کھلے چھپے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کی تمام حدود و شرائط، ارکان و واجبات اور پورے خشوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں کیونکہ خشیت الٰہی بندے سے اس عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے ضیاع پر سزا کا خوف ہو اور ایسے عمل سے دور رہنے کا تقاضا کرتی ہے جس کے ارتکاب پر عذاب کا خوف ہو۔ نماز بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ﴿وَمَنۡ تَزَؔكّٰى فَاِنَّـمَا يَتَزَؔكّٰى لِنَفۡسِهٖ﴾ یعنی جس کسی نے اپنے نفس کو عیوب ، مثلاً: ریاء، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب، نفاق اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک کیا اور اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا ، مثلاً: صدق، اخلاص، تواضع و انکسار، بندوں کی خیر خواہی اور دل کو بغض حسد، کینے اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک رکھا، تو اس کے تزکیۂ نفس کا فائدہ اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے عمل میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ پس وہ تمام خلائق کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان کے اعمال کا حساب لے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل شمار کرنے سے نہیں چھوڑے گا۔
35:17وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٖ
اے لوگو! تم (سب) محتاج ہو اللہ کے ۔ اور اللہ ہی ہے بے نیاز لائق حمد و ثنا(15)اگر وہ چاہے تو لے جائے(ہلاک کر دے) تمھیں اور لے آئے ایک مخلوق نئی(16)اور نہیں ہے یہ بات اللہ پرکچھ مشکل (17) اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا، اور اگربلائے گا کوئی بوجھ لدا شخص اپنے بوجھ (اٹھانے) کو تو نہ اٹھایا جائے گا اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی، اگرچہ ہو وہ رشتے دار ہی، بلاشبہ آپ تو ڈراتے ہیں صرف انھی لوگوں کو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم کرتے ہیں نماز اور جو پاک ہو گیا تو بلاشبہ وہ پاک ہوتا ہے اپنے ہی لیے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے(18)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انھیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں:(۱)وہ وجود میں آنے کے لیے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آ سکتے۔(۲)وہ اپنے مختلف قویٰ، اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قویٰ عطا نہ کرے تو کسی کام کے لیے ان میں کوئی استعداد نہیں۔(۳)وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری وباطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔(۴)وہ اپنے مصائب وتکالیف ، کرب و غم اور شدائد کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں اور کرب و غم کو دور اور ان کی عسرت کا ازالہ نہ کرے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ مصائب و شدائد میں گھرے رہیں۔(۵)وہ اپنی مختلف انواع کی تربیت و تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔(۶)وہ اسے الٰہ بنانے، اس سے محبت کرنے، اس کو معبود بنانے اور خالص اسی کی عبادت کرنے میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو ان امور کی توفیق عطا نہ کرے تو یہ ہلاک ہو جائیں، ان کی ارواح، قلوب اور احوال فاسد ہو جائیں۔(۷) وہ ان چیزوں کے علم کے حصول میں جنھیں وہ نہیں جانتے اور ان کی اصلاح کرنے والے عمل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو علم عطا نہ کرے تو وہ کبھی بھی علم سے بہرہ ور نہ ہو سکیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو عمل کی توفیق سے نہ نوازے تو وہ کبھی نیکی نہ کر سکیں... وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے بالذات اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں خواہ انھیں اپنی کسی حاجت کا شعور ہو یا نہ ہو۔مگر لوگوں میں سے توفیق سے بہرہ ور وہی ہے جو دینی اور دنیاوی امور سے متعلق اپنے تمام احوال میں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) اپنے فقرواحتیاج کا مشاہدہ کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور فروتنی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہے کہ وہ اسے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہ کرے، اس کے تمام امور میں اس کی مدد فرمائے اور وہ اس معنیٰ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اس رب اور معبود کی کامل اعانت کا مستحق ہے جو ماں کے اپنے بچوں پر مہربان ہونے سے کہیں بڑھ کر اس پر مہربان اور رحیم ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل کی مالک ہے۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کی محتاج نہیں جن کی مخلوق محتاج اور ضرورت مند ہوتی ہے کیونکہ اس کی صفات تمام ترصفات کمال اور جلال ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غنائے تام ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو دنیا وآخرت میں غنا سے نوازا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ اپنی ذات اور اپنے ناموں میں قابل حمدوستائش ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے، اس کے تمام اوصاف عالی شان اور اس کے تمام افعال سراسر فضل و احسان، عدل و حکمت اور رحمت پر مبنی ہیں۔وہ اپنے اوامرونواہی میں قابل تعریف ہے کیونکہ وہ اپنی صفات، فضل و اکرام اور جزاوسزا میں عدل و انصاف کے لیے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے غنا میں قابل تعریف ہے اور وہ اپنی حمد وثنا سے مستغنی اور بے نیاز ہے۔
[16]﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اے لوگو! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی وعید اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں۔ اس میں زندگی بعد موت کے اثبات کا احتمال بھی ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہر چیز پر نافذ ہے۔ اس کی مشیّت اس چیز پر بھی قادر ہے کہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ نئے سرے سے زندہ کرے، مگر اس زندگی کے لیے ایک وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، اس وقت مقرر سے تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔
[17]﴿وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ ﴾ ’’اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں۔‘‘ یعنی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت سے باہر نہیں اور کوئی ہستی اسے عاجز نہیں کر سکتی۔
[18] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ آخری معنیٰ پر دلالت کرتی ہے، یعنی ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ ﴾ اگر کوئی نفس جس نے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہو گا اور وہ کسی سے بوجھ اٹھانے کے لیے التماس کرے گا۔ ﴿لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٌ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾’’تو کوئی شخص بھی خواہ اس کارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ کیونکہ آخرت کے احوال دنیا کے احوال کی مانند نہیں ہیں جہاں دوست، دوست کی مدد کرتا ہے، بلکہ قیامت کے روز تو بندہ تمنا کرے گا کہ اس کا کسی کے ذمے حق ہو، خواہ اس کے والدین اور اقارب کے ذمے ہی کیوں نہ ہو۔﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’آپ تو صرف انھی لوگوں کو نصیحت کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو انذار کو قبول کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کھلے چھپے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کی تمام حدود و شرائط، ارکان و واجبات اور پورے خشوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں کیونکہ خشیت الٰہی بندے سے اس عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے ضیاع پر سزا کا خوف ہو اور ایسے عمل سے دور رہنے کا تقاضا کرتی ہے جس کے ارتکاب پر عذاب کا خوف ہو۔ نماز بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ﴿وَمَنۡ تَزَؔكّٰى فَاِنَّـمَا يَتَزَؔكّٰى لِنَفۡسِهٖ﴾ یعنی جس کسی نے اپنے نفس کو عیوب ، مثلاً: ریاء، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب، نفاق اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک کیا اور اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا ، مثلاً: صدق، اخلاص، تواضع و انکسار، بندوں کی خیر خواہی اور دل کو بغض حسد، کینے اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک رکھا، تو اس کے تزکیۂ نفس کا فائدہ اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے عمل میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ پس وہ تمام خلائق کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان کے اعمال کا حساب لے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل شمار کرنے سے نہیں چھوڑے گا۔
35:18وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ وَإِن تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ إِلَىٰ حِمۡلِهَا لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٞ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰٓۗ إِنَّمَا تُنذِرُ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفۡسِهِۦۚ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ
اے لوگو! تم (سب) محتاج ہو اللہ کے ۔ اور اللہ ہی ہے بے نیاز لائق حمد و ثنا(15)اگر وہ چاہے تو لے جائے(ہلاک کر دے) تمھیں اور لے آئے ایک مخلوق نئی(16)اور نہیں ہے یہ بات اللہ پرکچھ مشکل (17) اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا، اور اگربلائے گا کوئی بوجھ لدا شخص اپنے بوجھ (اٹھانے) کو تو نہ اٹھایا جائے گا اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی، اگرچہ ہو وہ رشتے دار ہی، بلاشبہ آپ تو ڈراتے ہیں صرف انھی لوگوں کو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم کرتے ہیں نماز اور جو پاک ہو گیا تو بلاشبہ وہ پاک ہوتا ہے اپنے ہی لیے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے(18)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انھیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں:(۱)وہ وجود میں آنے کے لیے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آ سکتے۔(۲)وہ اپنے مختلف قویٰ، اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قویٰ عطا نہ کرے تو کسی کام کے لیے ان میں کوئی استعداد نہیں۔(۳)وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری وباطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔(۴)وہ اپنے مصائب وتکالیف ، کرب و غم اور شدائد کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں اور کرب و غم کو دور اور ان کی عسرت کا ازالہ نہ کرے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ مصائب و شدائد میں گھرے رہیں۔(۵)وہ اپنی مختلف انواع کی تربیت و تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔(۶)وہ اسے الٰہ بنانے، اس سے محبت کرنے، اس کو معبود بنانے اور خالص اسی کی عبادت کرنے میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو ان امور کی توفیق عطا نہ کرے تو یہ ہلاک ہو جائیں، ان کی ارواح، قلوب اور احوال فاسد ہو جائیں۔(۷) وہ ان چیزوں کے علم کے حصول میں جنھیں وہ نہیں جانتے اور ان کی اصلاح کرنے والے عمل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو علم عطا نہ کرے تو وہ کبھی بھی علم سے بہرہ ور نہ ہو سکیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو عمل کی توفیق سے نہ نوازے تو وہ کبھی نیکی نہ کر سکیں... وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے بالذات اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں خواہ انھیں اپنی کسی حاجت کا شعور ہو یا نہ ہو۔مگر لوگوں میں سے توفیق سے بہرہ ور وہی ہے جو دینی اور دنیاوی امور سے متعلق اپنے تمام احوال میں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) اپنے فقرواحتیاج کا مشاہدہ کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور فروتنی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہے کہ وہ اسے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہ کرے، اس کے تمام امور میں اس کی مدد فرمائے اور وہ اس معنیٰ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اس رب اور معبود کی کامل اعانت کا مستحق ہے جو ماں کے اپنے بچوں پر مہربان ہونے سے کہیں بڑھ کر اس پر مہربان اور رحیم ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل کی مالک ہے۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کی محتاج نہیں جن کی مخلوق محتاج اور ضرورت مند ہوتی ہے کیونکہ اس کی صفات تمام ترصفات کمال اور جلال ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غنائے تام ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو دنیا وآخرت میں غنا سے نوازا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ اپنی ذات اور اپنے ناموں میں قابل حمدوستائش ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے، اس کے تمام اوصاف عالی شان اور اس کے تمام افعال سراسر فضل و احسان، عدل و حکمت اور رحمت پر مبنی ہیں۔وہ اپنے اوامرونواہی میں قابل تعریف ہے کیونکہ وہ اپنی صفات، فضل و اکرام اور جزاوسزا میں عدل و انصاف کے لیے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے غنا میں قابل تعریف ہے اور وہ اپنی حمد وثنا سے مستغنی اور بے نیاز ہے۔
[16]﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اے لوگو! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ یہ ان کے لیے ہلاکت کی وعید اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں۔ اس میں زندگی بعد موت کے اثبات کا احتمال بھی ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہر چیز پر نافذ ہے۔ اس کی مشیّت اس چیز پر بھی قادر ہے کہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ نئے سرے سے زندہ کرے، مگر اس زندگی کے لیے ایک وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، اس وقت مقرر سے تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔
[17]﴿وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ ﴾ ’’اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں۔‘‘ یعنی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہء قدرت سے باہر نہیں اور کوئی ہستی اسے عاجز نہیں کر سکتی۔
[18] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ آخری معنیٰ پر دلالت کرتی ہے، یعنی ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ ﴾ اگر کوئی نفس جس نے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہو گا اور وہ کسی سے بوجھ اٹھانے کے لیے التماس کرے گا۔ ﴿لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٌ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾’’تو کوئی شخص بھی خواہ اس کارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘ کیونکہ آخرت کے احوال دنیا کے احوال کی مانند نہیں ہیں جہاں دوست، دوست کی مدد کرتا ہے، بلکہ قیامت کے روز تو بندہ تمنا کرے گا کہ اس کا کسی کے ذمے حق ہو، خواہ اس کے والدین اور اقارب کے ذمے ہی کیوں نہ ہو۔﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’آپ تو صرف انھی لوگوں کو نصیحت کر سکتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو انذار کو قبول کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کھلے چھپے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کی تمام حدود و شرائط، ارکان و واجبات اور پورے خشوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں کیونکہ خشیت الٰہی بندے سے اس عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے ضیاع پر سزا کا خوف ہو اور ایسے عمل سے دور رہنے کا تقاضا کرتی ہے جس کے ارتکاب پر عذاب کا خوف ہو۔ نماز بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ﴿وَمَنۡ تَزَؔكّٰى فَاِنَّـمَا يَتَزَؔكّٰى لِنَفۡسِهٖ﴾ یعنی جس کسی نے اپنے نفس کو عیوب ، مثلاً: ریاء، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، مکر وفریب، نفاق اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک کیا اور اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا ، مثلاً: صدق، اخلاص، تواضع و انکسار، بندوں کی خیر خواہی اور دل کو بغض حسد، کینے اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک رکھا، تو اس کے تزکیۂ نفس کا فائدہ اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے عمل میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ پس وہ تمام خلائق کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان کے اعمال کا حساب لے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل شمار کرنے سے نہیں چھوڑے گا۔
35:19وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ
اور نہیں برابر (ہو سکتا) اندھا اور دیکھنے والا(19) اور نہ اندھیر ے اور نہ روشنی(20) اور نہ سایہ اور نہ دھوپ(21) اورنہیں برابر (ہو سکتے) زندے اور نہ مردے، بے شک اللہ سنوا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں آپ سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں(22) نہیں ہیں آپ مگر صرف ڈرانے والے(23) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو حق کے ساتھ، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا، اور نہیں ہوئی کوئی امت، مگر ضرور گزرا ہے اس میں ایک ڈرانے والا(24)
[23-19] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا:﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى ﴾ ’’اور نہیں ہے برابر اندھا‘‘ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالۡبَصِيۡرُۙ۰۰ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوۡرُۙ۰۰ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الۡحَرُوۡرُۚ۰۰ وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَحۡيَآءُ وَلَا الۡاَمۡوَاتُ﴾ ’’اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُسۡمِعُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ﴾’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ ‘‘
[24]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾’’بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔ ﴿بَشِيۡرًا ﴾ آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِيۡرًا ﴾ اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کوئی بھی امت‘‘ سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِيۡهَا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے‘‘ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔‘‘
35:20وَلَا ٱلظُّلُمَٰتُ وَلَا ٱلنُّورُ
اور نہیں برابر (ہو سکتا) اندھا اور دیکھنے والا(19) اور نہ اندھیر ے اور نہ روشنی(20) اور نہ سایہ اور نہ دھوپ(21) اورنہیں برابر (ہو سکتے) زندے اور نہ مردے، بے شک اللہ سنوا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں آپ سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں(22) نہیں ہیں آپ مگر صرف ڈرانے والے(23) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو حق کے ساتھ، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا، اور نہیں ہوئی کوئی امت، مگر ضرور گزرا ہے اس میں ایک ڈرانے والا(24)
[23-19] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا:﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى ﴾ ’’اور نہیں ہے برابر اندھا‘‘ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالۡبَصِيۡرُۙ۰۰ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوۡرُۙ۰۰ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الۡحَرُوۡرُۚ۰۰ وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَحۡيَآءُ وَلَا الۡاَمۡوَاتُ﴾ ’’اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُسۡمِعُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ﴾’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ ‘‘
[24]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾’’بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔ ﴿بَشِيۡرًا ﴾ آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِيۡرًا ﴾ اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کوئی بھی امت‘‘ سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِيۡهَا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے‘‘ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔‘‘
35:21وَلَا ٱلظِّلُّ وَلَا ٱلۡحَرُورُ
اور نہیں برابر (ہو سکتا) اندھا اور دیکھنے والا(19) اور نہ اندھیر ے اور نہ روشنی(20) اور نہ سایہ اور نہ دھوپ(21) اورنہیں برابر (ہو سکتے) زندے اور نہ مردے، بے شک اللہ سنوا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں آپ سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں(22) نہیں ہیں آپ مگر صرف ڈرانے والے(23) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو حق کے ساتھ، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا، اور نہیں ہوئی کوئی امت، مگر ضرور گزرا ہے اس میں ایک ڈرانے والا(24)
[23-19] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا:﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى ﴾ ’’اور نہیں ہے برابر اندھا‘‘ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالۡبَصِيۡرُۙ۰۰ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوۡرُۙ۰۰ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الۡحَرُوۡرُۚ۰۰ وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَحۡيَآءُ وَلَا الۡاَمۡوَاتُ﴾ ’’اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُسۡمِعُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ﴾’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ ‘‘
[24]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾’’بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔ ﴿بَشِيۡرًا ﴾ آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِيۡرًا ﴾ اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کوئی بھی امت‘‘ سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِيۡهَا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے‘‘ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔‘‘
35:22وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡأَحۡيَآءُ وَلَا ٱلۡأَمۡوَٰتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُسۡمِعُ مَن يَشَآءُۖ وَمَآ أَنتَ بِمُسۡمِعٖ مَّن فِي ٱلۡقُبُورِ
اور نہیں برابر (ہو سکتا) اندھا اور دیکھنے والا(19) اور نہ اندھیر ے اور نہ روشنی(20) اور نہ سایہ اور نہ دھوپ(21) اورنہیں برابر (ہو سکتے) زندے اور نہ مردے، بے شک اللہ سنوا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں آپ سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں(22) نہیں ہیں آپ مگر صرف ڈرانے والے(23) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو حق کے ساتھ، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا، اور نہیں ہوئی کوئی امت، مگر ضرور گزرا ہے اس میں ایک ڈرانے والا(24)
[23-19] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا:﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى ﴾ ’’اور نہیں ہے برابر اندھا‘‘ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالۡبَصِيۡرُۙ۰۰ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوۡرُۙ۰۰ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الۡحَرُوۡرُۚ۰۰ وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَحۡيَآءُ وَلَا الۡاَمۡوَاتُ﴾ ’’اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُسۡمِعُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ﴾’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ ‘‘
[24]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾’’بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔ ﴿بَشِيۡرًا ﴾ آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِيۡرًا ﴾ اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کوئی بھی امت‘‘ سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِيۡهَا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے‘‘ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔‘‘
35:23إِنۡ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ
اور نہیں برابر (ہو سکتا) اندھا اور دیکھنے والا(19) اور نہ اندھیر ے اور نہ روشنی(20) اور نہ سایہ اور نہ دھوپ(21) اورنہیں برابر (ہو سکتے) زندے اور نہ مردے، بے شک اللہ سنوا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں آپ سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں(22) نہیں ہیں آپ مگر صرف ڈرانے والے(23) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو حق کے ساتھ، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا، اور نہیں ہوئی کوئی امت، مگر ضرور گزرا ہے اس میں ایک ڈرانے والا(24)
[23-19] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا:﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى ﴾ ’’اور نہیں ہے برابر اندھا‘‘ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالۡبَصِيۡرُۙ۰۰ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوۡرُۙ۰۰ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الۡحَرُوۡرُۚ۰۰ وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَحۡيَآءُ وَلَا الۡاَمۡوَاتُ﴾ ’’اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُسۡمِعُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ﴾’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ ‘‘
[24]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾’’بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔ ﴿بَشِيۡرًا ﴾ آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِيۡرًا ﴾ اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کوئی بھی امت‘‘ سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِيۡهَا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے‘‘ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔‘‘
35:24إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗاۚ وَإِن مِّنۡ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٞ
اور نہیں برابر (ہو سکتا) اندھا اور دیکھنے والا(19) اور نہ اندھیر ے اور نہ روشنی(20) اور نہ سایہ اور نہ دھوپ(21) اورنہیں برابر (ہو سکتے) زندے اور نہ مردے، بے شک اللہ سنوا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں آپ سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں(22) نہیں ہیں آپ مگر صرف ڈرانے والے(23) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو حق کے ساتھ، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا، اور نہیں ہوئی کوئی امت، مگر ضرور گزرا ہے اس میں ایک ڈرانے والا(24)
[23-19] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو جو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا:﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى ﴾ ’’اور نہیں ہے برابر اندھا‘‘ جس کی بینائی نہیں ﴿وَالۡبَصِيۡرُۙ۰۰ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوۡرُۙ۰۰ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الۡحَرُوۡرُۚ۰۰ وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَحۡيَآءُ وَلَا الۡاَمۡوَاتُ﴾ ’’اور دیکھنے والا، نہ اندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ تمھارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شبہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمھیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیاء میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیاء کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جب تمام اشیاء کے مراتب معلوم ہو گئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہو گیا اور وہ اشیاء اپنی اضداد میں سے واضح ہو گئیں جن کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تو ایک دوراندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لیے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُسۡمِعُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے سنوادیتا ہے۔‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘ یعنی جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کا بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانااور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔ ﴿اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ﴾’’آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ ‘‘
[24]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾’’بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہو چکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔ ﴿بَشِيۡرًا ﴾ آپ کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ ﴿وَّنَذِيۡرًا ﴾ اور ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے۔ ﴿مِّنۡ اُمَّةٍ﴾ ’’کوئی بھی امت‘‘ سابقہ امتوں اور گذشتہ ادوار میں سے ﴿اِلَّا خَلَا فِيۡهَا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے‘‘ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ ﴿لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔‘‘
35:25وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدۡ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَبِٱلزُّبُرِ وَبِٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُنِيرِ
اوراگر وہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو(نئی بات نہیں) تحقیق جھٹلایا تھا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے ہوئے، آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ، اور صحیفوں کے ساتھ اور کتا ب روشن کے ساتھ(25) پھر پکڑ لیا میں نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، پس (دیکھو) کیسے (نازل) ہوا ان پر میرا عذاب (26)
[25] اے رسول! اگر یہ مشرکین آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو ﴿فَقَدۡ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۚ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’پس جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کر چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ آئے جو حق اور ان رسولوں کی خبر کی صداقت پر دلالت کرتے تھے ﴿وَبِالزُّبُرِ ﴾ یعنی لکھی ہوئی کتابوں کے ساتھ آئے جن میں بہت سے احکام جمع تھے ﴿وَبِالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ ﴾ یعنی جو اپنی سچی خبروں اور عدل پر مبنی احکام میں پوری طرح روشن ہے۔ ان کا اپنے رسولوں کو جھٹلانا، کسی اشتباہ اور رسولوں کی دعوت میں کسی کمی پر مبنی نہ تھا بلکہ اسکا سبب محض ان کا ظلم اور عناد تھا۔
[26]﴿ثُمَّ اَخَذۡتُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’، پھر میں نے (مختلف انواع کے عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑا جنھوں نے کفر کیا تھا۔‘‘ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ ﴾ ’’پس میرا عذاب کیسا سخت تھا۔‘‘ ان پر؟ ان کے لیے نہایت سخت سزا تھی۔ اس لیے تم رسول کریم (ﷺ)کی تکذیب سے بچو ورنہ تم پر بھی وہی دردناک اور رسوا کن عذاب نازل ہو جائے گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے کائنات میں متضاد اشیاء کو تخلیق کیا جن کی اصل اور مادہ ایک ہے، مگر اس کے باوجود ان میں فرق اور تفاوت ہے جو معروف اور سب پر عیاں ہے تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ پر استدلال کریں۔
35:26ثُمَّ أَخَذۡتُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ
اوراگر وہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو(نئی بات نہیں) تحقیق جھٹلایا تھا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے ہوئے، آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ، اور صحیفوں کے ساتھ اور کتا ب روشن کے ساتھ(25) پھر پکڑ لیا میں نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، پس (دیکھو) کیسے (نازل) ہوا ان پر میرا عذاب (26)
[25] اے رسول! اگر یہ مشرکین آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو ﴿فَقَدۡ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۚ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’پس جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کر چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ آئے جو حق اور ان رسولوں کی خبر کی صداقت پر دلالت کرتے تھے ﴿وَبِالزُّبُرِ ﴾ یعنی لکھی ہوئی کتابوں کے ساتھ آئے جن میں بہت سے احکام جمع تھے ﴿وَبِالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ ﴾ یعنی جو اپنی سچی خبروں اور عدل پر مبنی احکام میں پوری طرح روشن ہے۔ ان کا اپنے رسولوں کو جھٹلانا، کسی اشتباہ اور رسولوں کی دعوت میں کسی کمی پر مبنی نہ تھا بلکہ اسکا سبب محض ان کا ظلم اور عناد تھا۔
[26]﴿ثُمَّ اَخَذۡتُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’، پھر میں نے (مختلف انواع کے عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑا جنھوں نے کفر کیا تھا۔‘‘ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ ﴾ ’’پس میرا عذاب کیسا سخت تھا۔‘‘ ان پر؟ ان کے لیے نہایت سخت سزا تھی۔ اس لیے تم رسول کریم (ﷺ)کی تکذیب سے بچو ورنہ تم پر بھی وہی دردناک اور رسوا کن عذاب نازل ہو جائے گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے کائنات میں متضاد اشیاء کو تخلیق کیا جن کی اصل اور مادہ ایک ہے، مگر اس کے باوجود ان میں فرق اور تفاوت ہے جو معروف اور سب پر عیاں ہے تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ پر استدلال کریں۔
35:27أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ ثَمَرَٰتٖ مُّخۡتَلِفًا أَلۡوَٰنُهَاۚ وَمِنَ ٱلۡجِبَالِ جُدَدُۢ بِيضٞ وَحُمۡرٞ مُّخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٞ
کیا نہیں دیکھا آپ نے، بلاشبہ اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالے ہم نے اس کے ذریعے سے ایسے پھل کہ مختلف ہیں ان کے رنگ، اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ، مختلف ہیں ان کے رنگ اور بہت گہرے کالے سیاہ(27) اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں سے بھی، مختلف ہیں ان کے رنگ اسی طرح بلاشبہ ڈرتے ہیں اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی، بلاشبہ اللہ خوب غالب ہے بہت بخشنے والا(28)
[27] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کے پھل پیدا کیے اور مختلف انواع کی نباتات اگائیں، دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں حالانکہ ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک اور ان کو اگانے والی زمین ایک ہے۔اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لیے میخیں بنایا، آپ دیکھیں کہ پہاڑ گویا ایک دوسرے سے ملے ہوئے بلکہ وہ ایک ہی پہاڑ نظر آئیں گے، ان پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، ان کے اندر سفید، زرد، سرخ اور گہرے سیاہ رنگ کی دھاریاں ہیں۔
[28] اللہ تعالیٰ نے انسانوں، چوپایوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ان کو مختلف رنگ، اوصاف، آوازیں اور مختلف صورتیں عطا کیں جو آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں اور دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ان تمام چیزوں کی اصل اور ان کا مادہ ایک ہے۔ان کے درمیان تفاوت اللہ کی مشیّت پر عقلی دلیل ہے، جس نے ہر ایک کو مخصوص رنگ اور وصف سے مختص کیا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے کہ اس نے ان کو وجود بخشا، یہ اس کی حکمت اور رحمت ہے کہ ان کو اس اختلاف اور تفاوت سے نوازا۔ اس تفاوت میں بے شمار فوائد اور منافع پنہاں ہیں اس تفاوت کے سبب سے راستوں کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ۔نیز یہ اللہ تعالیٰ کے وسعت علم کی دلیل ہے، نیز اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا، مگر غافل شخص ان تمام اشیاء کو غفلت کی نظر سے دیکھتا ہے ان چیزوں کو دیکھ کر اسے نصیحت حاصل نہیں ہوتی ان چیزوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اپنے فکر راست کی بنا پر ان میں پنہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت کو جانتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا:﴿اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔‘‘ جو شخص سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ خشیت الٰہی اسے گناہوں سے باز رہنے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری کرنے کی موجب بنتی ہے۔یہ آیت کریمہ علم کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ علم انسان کو خشیت الٰہی کی طرف دعوت دیتا ہے۔ خشیت الٰہی کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے اہل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾(البینۃ:98؍8) ’’اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔‘‘ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ (کامل) غلبے کا مالک ہے‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے متضاد انواع واقسام کی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿غَفُوۡرٌ ﴾ ’’بخشنے والا ہے‘‘ توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو۔
35:28وَمِنَ ٱلنَّاسِ وَٱلدَّوَآبِّ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ مُخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهُۥ كَذَٰلِكَۗ إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَـٰٓؤُاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ
کیا نہیں دیکھا آپ نے، بلاشبہ اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالے ہم نے اس کے ذریعے سے ایسے پھل کہ مختلف ہیں ان کے رنگ، اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ، مختلف ہیں ان کے رنگ اور بہت گہرے کالے سیاہ(27) اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں سے بھی، مختلف ہیں ان کے رنگ اسی طرح بلاشبہ ڈرتے ہیں اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی، بلاشبہ اللہ خوب غالب ہے بہت بخشنے والا(28)
[27] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کے پھل پیدا کیے اور مختلف انواع کی نباتات اگائیں، دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں حالانکہ ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک اور ان کو اگانے والی زمین ایک ہے۔اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لیے میخیں بنایا، آپ دیکھیں کہ پہاڑ گویا ایک دوسرے سے ملے ہوئے بلکہ وہ ایک ہی پہاڑ نظر آئیں گے، ان پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، ان کے اندر سفید، زرد، سرخ اور گہرے سیاہ رنگ کی دھاریاں ہیں۔
[28] اللہ تعالیٰ نے انسانوں، چوپایوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ان کو مختلف رنگ، اوصاف، آوازیں اور مختلف صورتیں عطا کیں جو آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں اور دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ان تمام چیزوں کی اصل اور ان کا مادہ ایک ہے۔ان کے درمیان تفاوت اللہ کی مشیّت پر عقلی دلیل ہے، جس نے ہر ایک کو مخصوص رنگ اور وصف سے مختص کیا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے کہ اس نے ان کو وجود بخشا، یہ اس کی حکمت اور رحمت ہے کہ ان کو اس اختلاف اور تفاوت سے نوازا۔ اس تفاوت میں بے شمار فوائد اور منافع پنہاں ہیں اس تفاوت کے سبب سے راستوں کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ۔نیز یہ اللہ تعالیٰ کے وسعت علم کی دلیل ہے، نیز اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا، مگر غافل شخص ان تمام اشیاء کو غفلت کی نظر سے دیکھتا ہے ان چیزوں کو دیکھ کر اسے نصیحت حاصل نہیں ہوتی ان چیزوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اپنے فکر راست کی بنا پر ان میں پنہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت کو جانتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا:﴿اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔‘‘ جو شخص سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ خشیت الٰہی اسے گناہوں سے باز رہنے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری کرنے کی موجب بنتی ہے۔یہ آیت کریمہ علم کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ علم انسان کو خشیت الٰہی کی طرف دعوت دیتا ہے۔ خشیت الٰہی کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے اہل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾(البینۃ:98؍8) ’’اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔‘‘ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ (کامل) غلبے کا مالک ہے‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے متضاد انواع واقسام کی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿غَفُوۡرٌ ﴾ ’’بخشنے والا ہے‘‘ توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو۔
35:29إِنَّ ٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ يَرۡجُونَ تِجَٰرَةٗ لَّن تَبُورَ
بلاشبہ وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں کتاب اللہ کی اور قائم کرتے ہیں نماز اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو دیا ہم نے ان کو، پوشیدہ اور علانیہ، امید کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کی، جو ہرگز نہیں نقصان والی(29)تاکہ پورے دے وہ (اللہ) ان کو اجر ان کے اور زیادہ دے ان کو اپنے فضل سے، بے شک وہ بہت بخشنے والا، ازحد قدردان ہے(30)
[29]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ كِتٰبَ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں۔‘‘ یعنی اس کے اوامر میں اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے نواہی کو ترک کرتے ہیں، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کر کے انھیں اپنا عقیدہ بناتے ہیں اور ان اقوال کو پسند نہیں کرتے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کے معانی میں غوروخوض اور ان کے فہم کے حصول کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے ہیں، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب اللہ کی تلاوت کے عموم کو بیان کرنے کے بعد نماز کو مخصوص فرمایا، جو دین کا ستون، مسلمانوں کے لیے روشنی، ایمان کی میزان اور دعوی ٔ اسلام کی صداقت کی علامت ہے نیز اقارب، مساکین اور یتیموں پر زکاۃ، کفارات، نذر اور صدقات کے مال کو خرچ کرنے کو مخصوص فرمایا۔ ﴿سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’کھلے چھپے‘‘ تمام اوقات میں۔ ﴿يَّرۡجُوۡنَ ﴾ اس کے ذریعے سے وہ امید کرتے ہیں ﴿تِجَارَةً لَّنۡ تَبُوۡرَ﴾ ایسی تجارت کی، جو کبھی کساد کا شکار ہو گی نہ فساد کا، بلکہ وہ سب سے بڑی، عالی شان اور افضل ترین تجارت ہے، آگاہ رہو کہ وہ تجارت ان کے رب کی رضا، اس کے بے پایاں ثواب کا حصول، اس کی ناراضی اور عذاب سے نجات ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان اہل ایمان کے اعمال میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے، نیز اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان اعمال میں ان کے مقاصد برے اور نیت فاسد نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جس چیز کی امید کرتے تھے وہ ان کو حاصل ہو گئی۔
[30]﴿لِيُوَفِّيَهُمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ دے ان کو ان کا پورا پورا اجر‘‘ یعنی ان کے اعمال کی قلت و کثرت ان کے حسن و قبح کے اعتبار سے ان کا اجر۔ ﴿وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اجر سے بڑھ کر نوازے گا۔ ﴿اِنَّهٗ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ بخشنے والا قدر دان ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کی تھوڑی سی نیکی کو بھی قبولیت کا شرف بخشے گا۔
35:30لِيُوَفِّيَهُمۡ أُجُورَهُمۡ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ غَفُورٞ شَكُورٞ
بلاشبہ وہ لوگ جو تلاوت کرتے ہیں کتاب اللہ کی اور قائم کرتے ہیں نماز اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو دیا ہم نے ان کو، پوشیدہ اور علانیہ، امید کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کی، جو ہرگز نہیں نقصان والی(29)تاکہ پورے دے وہ (اللہ) ان کو اجر ان کے اور زیادہ دے ان کو اپنے فضل سے، بے شک وہ بہت بخشنے والا، ازحد قدردان ہے(30)
[29]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ كِتٰبَ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں۔‘‘ یعنی اس کے اوامر میں اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے نواہی کو ترک کرتے ہیں، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کر کے انھیں اپنا عقیدہ بناتے ہیں اور ان اقوال کو پسند نہیں کرتے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کے معانی میں غوروخوض اور ان کے فہم کے حصول کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے ہیں، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب اللہ کی تلاوت کے عموم کو بیان کرنے کے بعد نماز کو مخصوص فرمایا، جو دین کا ستون، مسلمانوں کے لیے روشنی، ایمان کی میزان اور دعوی ٔ اسلام کی صداقت کی علامت ہے نیز اقارب، مساکین اور یتیموں پر زکاۃ، کفارات، نذر اور صدقات کے مال کو خرچ کرنے کو مخصوص فرمایا۔ ﴿سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’کھلے چھپے‘‘ تمام اوقات میں۔ ﴿يَّرۡجُوۡنَ ﴾ اس کے ذریعے سے وہ امید کرتے ہیں ﴿تِجَارَةً لَّنۡ تَبُوۡرَ﴾ ایسی تجارت کی، جو کبھی کساد کا شکار ہو گی نہ فساد کا، بلکہ وہ سب سے بڑی، عالی شان اور افضل ترین تجارت ہے، آگاہ رہو کہ وہ تجارت ان کے رب کی رضا، اس کے بے پایاں ثواب کا حصول، اس کی ناراضی اور عذاب سے نجات ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان اہل ایمان کے اعمال میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے، نیز اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان اعمال میں ان کے مقاصد برے اور نیت فاسد نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جس چیز کی امید کرتے تھے وہ ان کو حاصل ہو گئی۔
[30]﴿لِيُوَفِّيَهُمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ دے ان کو ان کا پورا پورا اجر‘‘ یعنی ان کے اعمال کی قلت و کثرت ان کے حسن و قبح کے اعتبار سے ان کا اجر۔ ﴿وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اجر سے بڑھ کر نوازے گا۔ ﴿اِنَّهٗ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ بخشنے والا قدر دان ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کی تھوڑی سی نیکی کو بھی قبولیت کا شرف بخشے گا۔
35:31وَٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ هُوَ ٱلۡحَقُّ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِعِبَادِهِۦ لَخَبِيرُۢ بَصِيرٞ
اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف کتاب سے، وہ حق ہے ، تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے، بے شک اللہ ساتھ اپنے بندوں کے البتہ خوب خبردار، دیکھنے والا ہے(31) پھر وارث کیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے، پس بعض تو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر اور بعض ان میں میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے سبقت کرنے والے ہیں نیکیوں میں، اللہ کے حکم سے یہی ہے وہ فضل بہت بڑا(32) باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، داخل ہوں گے وہ ان میں پہنائے جائیں گے وہ ان میں کنگن سونے اور موتی کے اور ان کا لباس ہو گا اس میں ریشم کا(33)اور وہ کہیں گے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس نے دور کر دیا ہم سے غم، بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا قدر دان ہے (34)وہ جس نے اتارا ہمیں ہمیشہ رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تکلیف، اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ(35)
[31] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اس نے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی ﴿هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ حق ہے۔‘‘ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لیے تمھارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسائل الٰہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ یعنی گزشتہ کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ ان کتابوں اور رسولوں نے اس کتاب کے بارے میں پیش گوئی کی تھی اس لیے جب یہ کتاب آ گئی تو اس سے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی اور چونکہ گزشتہ کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے خوشخبری دی اور یہ اس پیشین گوئی کی تصدیق کرتی ہے، اس لیے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کتب سابقہ پر ایمان لائے اور قرآن کا انکار کرے کیونکہ اس کا قرآن کو نہ ماننا، ان کتابوں پر اس کے ایمان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان کی جملہ خبروں میں سے ایک خبر قرآن کے بارے میں بھی ہے، نیز ان کی خبریں قرآن کی دی ہوئی خبروں کے مطابق ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے بندوں سے خبردار اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ اس لیے وہ ہر قوم اور ہر فرد کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہے۔ سابقہ شریعتیں اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے زمانے کے لائق تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ رسول کے بعد رسول بھیجتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر سلسلۂ رسالت کو ختم کر دیا… پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یہ شریعت لے کر تشریف لائے جو قیامت تک کے لیے مخلوق کے تمام مصالح کے مطابق ہے اور ہر وقت ہر بھلائی کی ضامن ہے۔چونکہ یہ امت کامل ترین عقل، بہترین افکار، نرم ترین قلوب اور پاک ترین نفوس کی حامل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دین اسلام اور دین اسلام کو اس کے لیے چن لیا۔
[32] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے چن لیا۔‘‘ اور ان لوگوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں، ، ایسے گناہوں کے ارتکاب سے جو کفر سے کم تر ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ﴾ ’’اور کچھ میانہ رو ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو محرمات کو ترک کرتے ہوئے صرف واجبات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ ﴾ یعنی کچھ نیکیوں میں سبقت اور جدوجہد کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرتے ہیں، نہایت کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور محرمات و مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کی وراثت کے لیے ان تمام لوگوں کو چن لیا ہے، اگرچہ ان کے مراتب میں تفاوت اور ان کے احوال میں فرق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے اس وراثت میں حصہ ہے حتیٰ کہ اس کے لیے بھی اس وراثت میں حصہ ہے جس نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا کیونکہ اس کے پاس اصل ایمان، علوم ایمان اور اعمال میں سے جو کچھ ہے وہ کتاب کی وراثت ہے۔ کتاب کی وراثت سے مراد، اس کا علم، اس پر عمل، اس کے الفاظ کا پڑھنا اور اس کے معانی کا استنباط ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کی طرف راجع ہے تاکہ وہ اپنے عمل کے بارے میں کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائے کیونکہ اس نے نیکیوں کی طرف سبقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کی ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ﴾ یعنی ان لوگوں کے لیے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے، اس جلیل القدر کتاب کی وراثت بہت بڑا فضل ہے جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ مطلق طور پر سب سے زیادہ جلیل القدر نعمت اور سب سے بڑا فضل اس عظیم کتاب کی وراثت ہے۔
[33] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا جن کو اس نے یہ وراثت عطا کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠﴾ ’’وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ایسے باغات ہوں گے جو درختوں، گہرے سایوں، خوبصورت پھلواریوں، اچھلتی ہوئی ندیوں، عالی شان محلات اور آراستہ کیے ہوئے گھروں پر مشتمل ہوں گے، جو ہمیشہ رہیں گے اور کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ وہاں ایک ایسی خوبصورت زندگی ہو گی جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ (عَدْنٌ) سے مراد ’’اقامت‘‘ (قیام کرنا) ہے تو (جنَّاتُ عَدْنٍ) کا معنی باغاتِ اقامت ہے۔ باغات کی اقامت کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ دائمی اقامت اور ہمیشگی ان باغات اور ان کے رہنے والوں کا وصف ہے۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’وہاں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ یہ وہ زیور ہے جو ہاتھوں میں پہنا جاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں گے انھیں پہنیں گے اور یہ زیور انھیں دیگر تمام زیوروں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔ جنت میں زیور پہننے میں مرد اور عورتیں برابر ہوں گے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ وہ جنت میں پہنائے جائیں گے ﴿لُؤۡلُؤًا ﴾ ’’موتی‘‘ جو ان کے لباس اور جسم پر آراستہ ہوں گے۔ ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا‘‘ یعنی باریک اور موٹا سبز ریشم۔
[34]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب ان پر نعمتوں کا اتمام اور لذتوں کی تکمیل ہو جائے گی تو ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ﴾ ’’وہ کہیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے دور کر دیا۔‘‘ یہ ہر قسم کے حزن و غم کو شامل ہے، لہٰذا انھیں حسن و جمال اور جسم میں کسی نقص کی بنا پر کوئی حزن و غم پیش آئے گا نہ ماکولات و مشروبات اور لذات میں کمی کی وجہ سے اور نہ جنت میں عدم دوام ہی کی وجہ سے کوئی غم لاحق ہوگا۔ اہل جنت ایسی نعمتوں میں رہیں گے جن سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہ ہو گی اور ابد الآباد تک ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک ہمارا رب بخشنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری تمام لغزشوں کو بخش دیا ہے ﴿شَكُوۡرٌ﴾ ’’قدر دان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری نیکیوں کو قبول فرما کر ہماری نیکیوں کی قدر کی، ان نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کیا اور ہمیں اپنے فضل سے ہمارے اعمال اور ہماری امیدوں سے بڑھ کر بہرہ ور کیا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے ذریعے سے ہر مکروہ امر سے نجات پائی۔ اس کے فضل و کرم اور اس کی قدر دانی کی بنا پر جنت میں ہر مرغوب و محبوب چیز حاصل کی۔
[35]﴿الَّذِيۡۤ اَحَلَّنَا ﴾ ’’جس نے ہمیں اتارا۔‘‘ یعنی اس نے ہمیں جنت میں عبوری اور عارضی طور پر نازل نہیں فرمایا بلکہ مستقل طور پر نازل فرمایا ﴿دَارَ الۡمُقَامَةِ ﴾ ایسے گھر میں جہاں دائمی قیام ہے، جہاں بے شمار بھلائیوں، کبھی نہ ختم ہونے والی مسرتوں اور کسی قسم کے تکدر کے عدم وجود کی وجہ سے قیام کی خواہش کی جاتی ہے اور اس کا ہمیں جنتوں میں نازل کرنا ﴿مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ اس کے فضل و کرم سے ہمیں جنت عطا ہوئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم کبھی اس مقام پر نہ پہنچ سکتے۔ ﴿لَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا لُغُوۡبٌ ﴾ ’’یہاں ہم کو کوئی رنج پہنچے گا نہ تھکان۔‘‘ یعنی بدن، قلب اور دیگر قویٰ میں کثرت تمتع کی وجہ سے کوئی تھکاوٹ نہ ہو گی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اہل جنت کے بدن کو کامل زندگی عطا کرے گا اور انھیں دائمی طور پر راحت کے اسباب مہیا کرے گا۔ ان کے یہ اوصاف ہوں گے کہ ان کو کوئی کمزوری لاحق ہو گی نہ تھکن اور نہ کسی قسم کا حزن و غم... اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں نیند نہیں آئے گی کیونکہ نیند تو صرف تھکن دور کرنے اور راحت حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے... اور اہل جنت کو تو تھکن لاحق نہیں ہو گی... اور نیند گویا ایک چھوٹی موت ہے اور اہل جنت کو کبھی موت نہیں آئے گی... اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل جنت میں شامل کرے (آمین)
35:32ثُمَّ أَوۡرَثۡنَا ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَاۖ فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ وَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞ وَمِنۡهُمۡ سَابِقُۢ بِٱلۡخَيۡرَٰتِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ
اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف کتاب سے، وہ حق ہے ، تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے، بے شک اللہ ساتھ اپنے بندوں کے البتہ خوب خبردار، دیکھنے والا ہے(31) پھر وارث کیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے، پس بعض تو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر اور بعض ان میں میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے سبقت کرنے والے ہیں نیکیوں میں، اللہ کے حکم سے یہی ہے وہ فضل بہت بڑا(32) باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، داخل ہوں گے وہ ان میں پہنائے جائیں گے وہ ان میں کنگن سونے اور موتی کے اور ان کا لباس ہو گا اس میں ریشم کا(33)اور وہ کہیں گے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس نے دور کر دیا ہم سے غم، بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا قدر دان ہے (34)وہ جس نے اتارا ہمیں ہمیشہ رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تکلیف، اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ(35)
[31] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اس نے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی ﴿هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ حق ہے۔‘‘ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لیے تمھارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسائل الٰہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ یعنی گزشتہ کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ ان کتابوں اور رسولوں نے اس کتاب کے بارے میں پیش گوئی کی تھی اس لیے جب یہ کتاب آ گئی تو اس سے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی اور چونکہ گزشتہ کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے خوشخبری دی اور یہ اس پیشین گوئی کی تصدیق کرتی ہے، اس لیے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کتب سابقہ پر ایمان لائے اور قرآن کا انکار کرے کیونکہ اس کا قرآن کو نہ ماننا، ان کتابوں پر اس کے ایمان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان کی جملہ خبروں میں سے ایک خبر قرآن کے بارے میں بھی ہے، نیز ان کی خبریں قرآن کی دی ہوئی خبروں کے مطابق ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے بندوں سے خبردار اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ اس لیے وہ ہر قوم اور ہر فرد کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہے۔ سابقہ شریعتیں اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے زمانے کے لائق تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ رسول کے بعد رسول بھیجتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر سلسلۂ رسالت کو ختم کر دیا… پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یہ شریعت لے کر تشریف لائے جو قیامت تک کے لیے مخلوق کے تمام مصالح کے مطابق ہے اور ہر وقت ہر بھلائی کی ضامن ہے۔چونکہ یہ امت کامل ترین عقل، بہترین افکار، نرم ترین قلوب اور پاک ترین نفوس کی حامل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دین اسلام اور دین اسلام کو اس کے لیے چن لیا۔
[32] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے چن لیا۔‘‘ اور ان لوگوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں، ، ایسے گناہوں کے ارتکاب سے جو کفر سے کم تر ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ﴾ ’’اور کچھ میانہ رو ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو محرمات کو ترک کرتے ہوئے صرف واجبات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ ﴾ یعنی کچھ نیکیوں میں سبقت اور جدوجہد کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرتے ہیں، نہایت کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور محرمات و مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کی وراثت کے لیے ان تمام لوگوں کو چن لیا ہے، اگرچہ ان کے مراتب میں تفاوت اور ان کے احوال میں فرق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے اس وراثت میں حصہ ہے حتیٰ کہ اس کے لیے بھی اس وراثت میں حصہ ہے جس نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا کیونکہ اس کے پاس اصل ایمان، علوم ایمان اور اعمال میں سے جو کچھ ہے وہ کتاب کی وراثت ہے۔ کتاب کی وراثت سے مراد، اس کا علم، اس پر عمل، اس کے الفاظ کا پڑھنا اور اس کے معانی کا استنباط ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کی طرف راجع ہے تاکہ وہ اپنے عمل کے بارے میں کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائے کیونکہ اس نے نیکیوں کی طرف سبقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کی ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ﴾ یعنی ان لوگوں کے لیے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے، اس جلیل القدر کتاب کی وراثت بہت بڑا فضل ہے جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ مطلق طور پر سب سے زیادہ جلیل القدر نعمت اور سب سے بڑا فضل اس عظیم کتاب کی وراثت ہے۔
[33] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا جن کو اس نے یہ وراثت عطا کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠﴾ ’’وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ایسے باغات ہوں گے جو درختوں، گہرے سایوں، خوبصورت پھلواریوں، اچھلتی ہوئی ندیوں، عالی شان محلات اور آراستہ کیے ہوئے گھروں پر مشتمل ہوں گے، جو ہمیشہ رہیں گے اور کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ وہاں ایک ایسی خوبصورت زندگی ہو گی جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ (عَدْنٌ) سے مراد ’’اقامت‘‘ (قیام کرنا) ہے تو (جنَّاتُ عَدْنٍ) کا معنی باغاتِ اقامت ہے۔ باغات کی اقامت کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ دائمی اقامت اور ہمیشگی ان باغات اور ان کے رہنے والوں کا وصف ہے۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’وہاں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ یہ وہ زیور ہے جو ہاتھوں میں پہنا جاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں گے انھیں پہنیں گے اور یہ زیور انھیں دیگر تمام زیوروں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔ جنت میں زیور پہننے میں مرد اور عورتیں برابر ہوں گے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ وہ جنت میں پہنائے جائیں گے ﴿لُؤۡلُؤًا ﴾ ’’موتی‘‘ جو ان کے لباس اور جسم پر آراستہ ہوں گے۔ ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا‘‘ یعنی باریک اور موٹا سبز ریشم۔
[34]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب ان پر نعمتوں کا اتمام اور لذتوں کی تکمیل ہو جائے گی تو ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ﴾ ’’وہ کہیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے دور کر دیا۔‘‘ یہ ہر قسم کے حزن و غم کو شامل ہے، لہٰذا انھیں حسن و جمال اور جسم میں کسی نقص کی بنا پر کوئی حزن و غم پیش آئے گا نہ ماکولات و مشروبات اور لذات میں کمی کی وجہ سے اور نہ جنت میں عدم دوام ہی کی وجہ سے کوئی غم لاحق ہوگا۔ اہل جنت ایسی نعمتوں میں رہیں گے جن سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہ ہو گی اور ابد الآباد تک ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک ہمارا رب بخشنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری تمام لغزشوں کو بخش دیا ہے ﴿شَكُوۡرٌ﴾ ’’قدر دان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری نیکیوں کو قبول فرما کر ہماری نیکیوں کی قدر کی، ان نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کیا اور ہمیں اپنے فضل سے ہمارے اعمال اور ہماری امیدوں سے بڑھ کر بہرہ ور کیا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے ذریعے سے ہر مکروہ امر سے نجات پائی۔ اس کے فضل و کرم اور اس کی قدر دانی کی بنا پر جنت میں ہر مرغوب و محبوب چیز حاصل کی۔
[35]﴿الَّذِيۡۤ اَحَلَّنَا ﴾ ’’جس نے ہمیں اتارا۔‘‘ یعنی اس نے ہمیں جنت میں عبوری اور عارضی طور پر نازل نہیں فرمایا بلکہ مستقل طور پر نازل فرمایا ﴿دَارَ الۡمُقَامَةِ ﴾ ایسے گھر میں جہاں دائمی قیام ہے، جہاں بے شمار بھلائیوں، کبھی نہ ختم ہونے والی مسرتوں اور کسی قسم کے تکدر کے عدم وجود کی وجہ سے قیام کی خواہش کی جاتی ہے اور اس کا ہمیں جنتوں میں نازل کرنا ﴿مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ اس کے فضل و کرم سے ہمیں جنت عطا ہوئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم کبھی اس مقام پر نہ پہنچ سکتے۔ ﴿لَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا لُغُوۡبٌ ﴾ ’’یہاں ہم کو کوئی رنج پہنچے گا نہ تھکان۔‘‘ یعنی بدن، قلب اور دیگر قویٰ میں کثرت تمتع کی وجہ سے کوئی تھکاوٹ نہ ہو گی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اہل جنت کے بدن کو کامل زندگی عطا کرے گا اور انھیں دائمی طور پر راحت کے اسباب مہیا کرے گا۔ ان کے یہ اوصاف ہوں گے کہ ان کو کوئی کمزوری لاحق ہو گی نہ تھکن اور نہ کسی قسم کا حزن و غم... اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں نیند نہیں آئے گی کیونکہ نیند تو صرف تھکن دور کرنے اور راحت حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے... اور اہل جنت کو تو تھکن لاحق نہیں ہو گی... اور نیند گویا ایک چھوٹی موت ہے اور اہل جنت کو کبھی موت نہیں آئے گی... اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل جنت میں شامل کرے (آمین)
35:33جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا يُحَلَّوۡنَ فِيهَا مِنۡ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٖ وَلُؤۡلُؤٗاۖ وَلِبَاسُهُمۡ فِيهَا حَرِيرٞ
اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف کتاب سے، وہ حق ہے ، تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے، بے شک اللہ ساتھ اپنے بندوں کے البتہ خوب خبردار، دیکھنے والا ہے(31) پھر وارث کیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے، پس بعض تو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر اور بعض ان میں میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے سبقت کرنے والے ہیں نیکیوں میں، اللہ کے حکم سے یہی ہے وہ فضل بہت بڑا(32) باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، داخل ہوں گے وہ ان میں پہنائے جائیں گے وہ ان میں کنگن سونے اور موتی کے اور ان کا لباس ہو گا اس میں ریشم کا(33)اور وہ کہیں گے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس نے دور کر دیا ہم سے غم، بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا قدر دان ہے (34)وہ جس نے اتارا ہمیں ہمیشہ رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تکلیف، اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ(35)
[31] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اس نے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی ﴿هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ حق ہے۔‘‘ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لیے تمھارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسائل الٰہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ یعنی گزشتہ کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ ان کتابوں اور رسولوں نے اس کتاب کے بارے میں پیش گوئی کی تھی اس لیے جب یہ کتاب آ گئی تو اس سے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی اور چونکہ گزشتہ کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے خوشخبری دی اور یہ اس پیشین گوئی کی تصدیق کرتی ہے، اس لیے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کتب سابقہ پر ایمان لائے اور قرآن کا انکار کرے کیونکہ اس کا قرآن کو نہ ماننا، ان کتابوں پر اس کے ایمان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان کی جملہ خبروں میں سے ایک خبر قرآن کے بارے میں بھی ہے، نیز ان کی خبریں قرآن کی دی ہوئی خبروں کے مطابق ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے بندوں سے خبردار اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ اس لیے وہ ہر قوم اور ہر فرد کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہے۔ سابقہ شریعتیں اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے زمانے کے لائق تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ رسول کے بعد رسول بھیجتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر سلسلۂ رسالت کو ختم کر دیا… پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یہ شریعت لے کر تشریف لائے جو قیامت تک کے لیے مخلوق کے تمام مصالح کے مطابق ہے اور ہر وقت ہر بھلائی کی ضامن ہے۔چونکہ یہ امت کامل ترین عقل، بہترین افکار، نرم ترین قلوب اور پاک ترین نفوس کی حامل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دین اسلام اور دین اسلام کو اس کے لیے چن لیا۔
[32] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے چن لیا۔‘‘ اور ان لوگوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں، ، ایسے گناہوں کے ارتکاب سے جو کفر سے کم تر ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ﴾ ’’اور کچھ میانہ رو ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو محرمات کو ترک کرتے ہوئے صرف واجبات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ ﴾ یعنی کچھ نیکیوں میں سبقت اور جدوجہد کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرتے ہیں، نہایت کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور محرمات و مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کی وراثت کے لیے ان تمام لوگوں کو چن لیا ہے، اگرچہ ان کے مراتب میں تفاوت اور ان کے احوال میں فرق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے اس وراثت میں حصہ ہے حتیٰ کہ اس کے لیے بھی اس وراثت میں حصہ ہے جس نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا کیونکہ اس کے پاس اصل ایمان، علوم ایمان اور اعمال میں سے جو کچھ ہے وہ کتاب کی وراثت ہے۔ کتاب کی وراثت سے مراد، اس کا علم، اس پر عمل، اس کے الفاظ کا پڑھنا اور اس کے معانی کا استنباط ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کی طرف راجع ہے تاکہ وہ اپنے عمل کے بارے میں کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائے کیونکہ اس نے نیکیوں کی طرف سبقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کی ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ﴾ یعنی ان لوگوں کے لیے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے، اس جلیل القدر کتاب کی وراثت بہت بڑا فضل ہے جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ مطلق طور پر سب سے زیادہ جلیل القدر نعمت اور سب سے بڑا فضل اس عظیم کتاب کی وراثت ہے۔
[33] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا جن کو اس نے یہ وراثت عطا کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠﴾ ’’وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ایسے باغات ہوں گے جو درختوں، گہرے سایوں، خوبصورت پھلواریوں، اچھلتی ہوئی ندیوں، عالی شان محلات اور آراستہ کیے ہوئے گھروں پر مشتمل ہوں گے، جو ہمیشہ رہیں گے اور کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ وہاں ایک ایسی خوبصورت زندگی ہو گی جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ (عَدْنٌ) سے مراد ’’اقامت‘‘ (قیام کرنا) ہے تو (جنَّاتُ عَدْنٍ) کا معنی باغاتِ اقامت ہے۔ باغات کی اقامت کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ دائمی اقامت اور ہمیشگی ان باغات اور ان کے رہنے والوں کا وصف ہے۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’وہاں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ یہ وہ زیور ہے جو ہاتھوں میں پہنا جاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں گے انھیں پہنیں گے اور یہ زیور انھیں دیگر تمام زیوروں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔ جنت میں زیور پہننے میں مرد اور عورتیں برابر ہوں گے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ وہ جنت میں پہنائے جائیں گے ﴿لُؤۡلُؤًا ﴾ ’’موتی‘‘ جو ان کے لباس اور جسم پر آراستہ ہوں گے۔ ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا‘‘ یعنی باریک اور موٹا سبز ریشم۔
[34]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب ان پر نعمتوں کا اتمام اور لذتوں کی تکمیل ہو جائے گی تو ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ﴾ ’’وہ کہیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے دور کر دیا۔‘‘ یہ ہر قسم کے حزن و غم کو شامل ہے، لہٰذا انھیں حسن و جمال اور جسم میں کسی نقص کی بنا پر کوئی حزن و غم پیش آئے گا نہ ماکولات و مشروبات اور لذات میں کمی کی وجہ سے اور نہ جنت میں عدم دوام ہی کی وجہ سے کوئی غم لاحق ہوگا۔ اہل جنت ایسی نعمتوں میں رہیں گے جن سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہ ہو گی اور ابد الآباد تک ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک ہمارا رب بخشنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری تمام لغزشوں کو بخش دیا ہے ﴿شَكُوۡرٌ﴾ ’’قدر دان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری نیکیوں کو قبول فرما کر ہماری نیکیوں کی قدر کی، ان نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کیا اور ہمیں اپنے فضل سے ہمارے اعمال اور ہماری امیدوں سے بڑھ کر بہرہ ور کیا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے ذریعے سے ہر مکروہ امر سے نجات پائی۔ اس کے فضل و کرم اور اس کی قدر دانی کی بنا پر جنت میں ہر مرغوب و محبوب چیز حاصل کی۔
[35]﴿الَّذِيۡۤ اَحَلَّنَا ﴾ ’’جس نے ہمیں اتارا۔‘‘ یعنی اس نے ہمیں جنت میں عبوری اور عارضی طور پر نازل نہیں فرمایا بلکہ مستقل طور پر نازل فرمایا ﴿دَارَ الۡمُقَامَةِ ﴾ ایسے گھر میں جہاں دائمی قیام ہے، جہاں بے شمار بھلائیوں، کبھی نہ ختم ہونے والی مسرتوں اور کسی قسم کے تکدر کے عدم وجود کی وجہ سے قیام کی خواہش کی جاتی ہے اور اس کا ہمیں جنتوں میں نازل کرنا ﴿مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ اس کے فضل و کرم سے ہمیں جنت عطا ہوئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم کبھی اس مقام پر نہ پہنچ سکتے۔ ﴿لَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا لُغُوۡبٌ ﴾ ’’یہاں ہم کو کوئی رنج پہنچے گا نہ تھکان۔‘‘ یعنی بدن، قلب اور دیگر قویٰ میں کثرت تمتع کی وجہ سے کوئی تھکاوٹ نہ ہو گی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اہل جنت کے بدن کو کامل زندگی عطا کرے گا اور انھیں دائمی طور پر راحت کے اسباب مہیا کرے گا۔ ان کے یہ اوصاف ہوں گے کہ ان کو کوئی کمزوری لاحق ہو گی نہ تھکن اور نہ کسی قسم کا حزن و غم... اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں نیند نہیں آئے گی کیونکہ نیند تو صرف تھکن دور کرنے اور راحت حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے... اور اہل جنت کو تو تھکن لاحق نہیں ہو گی... اور نیند گویا ایک چھوٹی موت ہے اور اہل جنت کو کبھی موت نہیں آئے گی... اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل جنت میں شامل کرے (آمین)
35:34وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَذۡهَبَ عَنَّا ٱلۡحَزَنَۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٞ شَكُورٌ
اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف کتاب سے، وہ حق ہے ، تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے، بے شک اللہ ساتھ اپنے بندوں کے البتہ خوب خبردار، دیکھنے والا ہے(31) پھر وارث کیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے، پس بعض تو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر اور بعض ان میں میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے سبقت کرنے والے ہیں نیکیوں میں، اللہ کے حکم سے یہی ہے وہ فضل بہت بڑا(32) باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، داخل ہوں گے وہ ان میں پہنائے جائیں گے وہ ان میں کنگن سونے اور موتی کے اور ان کا لباس ہو گا اس میں ریشم کا(33)اور وہ کہیں گے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس نے دور کر دیا ہم سے غم، بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا قدر دان ہے (34)وہ جس نے اتارا ہمیں ہمیشہ رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تکلیف، اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ(35)
[31] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اس نے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی ﴿هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ حق ہے۔‘‘ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لیے تمھارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسائل الٰہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ یعنی گزشتہ کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ ان کتابوں اور رسولوں نے اس کتاب کے بارے میں پیش گوئی کی تھی اس لیے جب یہ کتاب آ گئی تو اس سے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی اور چونکہ گزشتہ کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے خوشخبری دی اور یہ اس پیشین گوئی کی تصدیق کرتی ہے، اس لیے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کتب سابقہ پر ایمان لائے اور قرآن کا انکار کرے کیونکہ اس کا قرآن کو نہ ماننا، ان کتابوں پر اس کے ایمان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان کی جملہ خبروں میں سے ایک خبر قرآن کے بارے میں بھی ہے، نیز ان کی خبریں قرآن کی دی ہوئی خبروں کے مطابق ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے بندوں سے خبردار اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ اس لیے وہ ہر قوم اور ہر فرد کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہے۔ سابقہ شریعتیں اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے زمانے کے لائق تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ رسول کے بعد رسول بھیجتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر سلسلۂ رسالت کو ختم کر دیا… پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یہ شریعت لے کر تشریف لائے جو قیامت تک کے لیے مخلوق کے تمام مصالح کے مطابق ہے اور ہر وقت ہر بھلائی کی ضامن ہے۔چونکہ یہ امت کامل ترین عقل، بہترین افکار، نرم ترین قلوب اور پاک ترین نفوس کی حامل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دین اسلام اور دین اسلام کو اس کے لیے چن لیا۔
[32] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے چن لیا۔‘‘ اور ان لوگوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں، ، ایسے گناہوں کے ارتکاب سے جو کفر سے کم تر ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ﴾ ’’اور کچھ میانہ رو ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو محرمات کو ترک کرتے ہوئے صرف واجبات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ ﴾ یعنی کچھ نیکیوں میں سبقت اور جدوجہد کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرتے ہیں، نہایت کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور محرمات و مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کی وراثت کے لیے ان تمام لوگوں کو چن لیا ہے، اگرچہ ان کے مراتب میں تفاوت اور ان کے احوال میں فرق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے اس وراثت میں حصہ ہے حتیٰ کہ اس کے لیے بھی اس وراثت میں حصہ ہے جس نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا کیونکہ اس کے پاس اصل ایمان، علوم ایمان اور اعمال میں سے جو کچھ ہے وہ کتاب کی وراثت ہے۔ کتاب کی وراثت سے مراد، اس کا علم، اس پر عمل، اس کے الفاظ کا پڑھنا اور اس کے معانی کا استنباط ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کی طرف راجع ہے تاکہ وہ اپنے عمل کے بارے میں کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائے کیونکہ اس نے نیکیوں کی طرف سبقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کی ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ﴾ یعنی ان لوگوں کے لیے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے، اس جلیل القدر کتاب کی وراثت بہت بڑا فضل ہے جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ مطلق طور پر سب سے زیادہ جلیل القدر نعمت اور سب سے بڑا فضل اس عظیم کتاب کی وراثت ہے۔
[33] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا جن کو اس نے یہ وراثت عطا کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠﴾ ’’وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ایسے باغات ہوں گے جو درختوں، گہرے سایوں، خوبصورت پھلواریوں، اچھلتی ہوئی ندیوں، عالی شان محلات اور آراستہ کیے ہوئے گھروں پر مشتمل ہوں گے، جو ہمیشہ رہیں گے اور کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ وہاں ایک ایسی خوبصورت زندگی ہو گی جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ (عَدْنٌ) سے مراد ’’اقامت‘‘ (قیام کرنا) ہے تو (جنَّاتُ عَدْنٍ) کا معنی باغاتِ اقامت ہے۔ باغات کی اقامت کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ دائمی اقامت اور ہمیشگی ان باغات اور ان کے رہنے والوں کا وصف ہے۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’وہاں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ یہ وہ زیور ہے جو ہاتھوں میں پہنا جاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں گے انھیں پہنیں گے اور یہ زیور انھیں دیگر تمام زیوروں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔ جنت میں زیور پہننے میں مرد اور عورتیں برابر ہوں گے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ وہ جنت میں پہنائے جائیں گے ﴿لُؤۡلُؤًا ﴾ ’’موتی‘‘ جو ان کے لباس اور جسم پر آراستہ ہوں گے۔ ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا‘‘ یعنی باریک اور موٹا سبز ریشم۔
[34]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب ان پر نعمتوں کا اتمام اور لذتوں کی تکمیل ہو جائے گی تو ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ﴾ ’’وہ کہیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے دور کر دیا۔‘‘ یہ ہر قسم کے حزن و غم کو شامل ہے، لہٰذا انھیں حسن و جمال اور جسم میں کسی نقص کی بنا پر کوئی حزن و غم پیش آئے گا نہ ماکولات و مشروبات اور لذات میں کمی کی وجہ سے اور نہ جنت میں عدم دوام ہی کی وجہ سے کوئی غم لاحق ہوگا۔ اہل جنت ایسی نعمتوں میں رہیں گے جن سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہ ہو گی اور ابد الآباد تک ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک ہمارا رب بخشنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری تمام لغزشوں کو بخش دیا ہے ﴿شَكُوۡرٌ﴾ ’’قدر دان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری نیکیوں کو قبول فرما کر ہماری نیکیوں کی قدر کی، ان نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کیا اور ہمیں اپنے فضل سے ہمارے اعمال اور ہماری امیدوں سے بڑھ کر بہرہ ور کیا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے ذریعے سے ہر مکروہ امر سے نجات پائی۔ اس کے فضل و کرم اور اس کی قدر دانی کی بنا پر جنت میں ہر مرغوب و محبوب چیز حاصل کی۔
[35]﴿الَّذِيۡۤ اَحَلَّنَا ﴾ ’’جس نے ہمیں اتارا۔‘‘ یعنی اس نے ہمیں جنت میں عبوری اور عارضی طور پر نازل نہیں فرمایا بلکہ مستقل طور پر نازل فرمایا ﴿دَارَ الۡمُقَامَةِ ﴾ ایسے گھر میں جہاں دائمی قیام ہے، جہاں بے شمار بھلائیوں، کبھی نہ ختم ہونے والی مسرتوں اور کسی قسم کے تکدر کے عدم وجود کی وجہ سے قیام کی خواہش کی جاتی ہے اور اس کا ہمیں جنتوں میں نازل کرنا ﴿مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ اس کے فضل و کرم سے ہمیں جنت عطا ہوئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم کبھی اس مقام پر نہ پہنچ سکتے۔ ﴿لَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا لُغُوۡبٌ ﴾ ’’یہاں ہم کو کوئی رنج پہنچے گا نہ تھکان۔‘‘ یعنی بدن، قلب اور دیگر قویٰ میں کثرت تمتع کی وجہ سے کوئی تھکاوٹ نہ ہو گی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اہل جنت کے بدن کو کامل زندگی عطا کرے گا اور انھیں دائمی طور پر راحت کے اسباب مہیا کرے گا۔ ان کے یہ اوصاف ہوں گے کہ ان کو کوئی کمزوری لاحق ہو گی نہ تھکن اور نہ کسی قسم کا حزن و غم... اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں نیند نہیں آئے گی کیونکہ نیند تو صرف تھکن دور کرنے اور راحت حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے... اور اہل جنت کو تو تھکن لاحق نہیں ہو گی... اور نیند گویا ایک چھوٹی موت ہے اور اہل جنت کو کبھی موت نہیں آئے گی... اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل جنت میں شامل کرے (آمین)
35:35ٱلَّذِيٓ أَحَلَّنَا دَارَ ٱلۡمُقَامَةِ مِن فَضۡلِهِۦ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٞ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٞ
اور وہ جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف کتاب سے، وہ حق ہے ، تصدیق کرنے والی ہے اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے، بے شک اللہ ساتھ اپنے بندوں کے البتہ خوب خبردار، دیکھنے والا ہے(31) پھر وارث کیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کو ہم نے چن لیا اپنے بندوں میں سے، پس بعض تو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر اور بعض ان میں میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے سبقت کرنے والے ہیں نیکیوں میں، اللہ کے حکم سے یہی ہے وہ فضل بہت بڑا(32) باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، داخل ہوں گے وہ ان میں پہنائے جائیں گے وہ ان میں کنگن سونے اور موتی کے اور ان کا لباس ہو گا اس میں ریشم کا(33)اور وہ کہیں گے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس نے دور کر دیا ہم سے غم، بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا قدر دان ہے (34)وہ جس نے اتارا ہمیں ہمیشہ رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تکلیف، اور نہیں پہنچتی ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ(35)
[31] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اس نے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی ﴿هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ حق ہے۔‘‘ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لیے تمھارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسائل الٰہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ یعنی گزشتہ کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ ان کتابوں اور رسولوں نے اس کتاب کے بارے میں پیش گوئی کی تھی اس لیے جب یہ کتاب آ گئی تو اس سے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی اور چونکہ گزشتہ کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے خوشخبری دی اور یہ اس پیشین گوئی کی تصدیق کرتی ہے، اس لیے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کتب سابقہ پر ایمان لائے اور قرآن کا انکار کرے کیونکہ اس کا قرآن کو نہ ماننا، ان کتابوں پر اس کے ایمان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان کی جملہ خبروں میں سے ایک خبر قرآن کے بارے میں بھی ہے، نیز ان کی خبریں قرآن کی دی ہوئی خبروں کے مطابق ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے بندوں سے خبردار اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ اس لیے وہ ہر قوم اور ہر فرد کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہے۔ سابقہ شریعتیں اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے زمانے کے لائق تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ رسول کے بعد رسول بھیجتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر سلسلۂ رسالت کو ختم کر دیا… پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یہ شریعت لے کر تشریف لائے جو قیامت تک کے لیے مخلوق کے تمام مصالح کے مطابق ہے اور ہر وقت ہر بھلائی کی ضامن ہے۔چونکہ یہ امت کامل ترین عقل، بہترین افکار، نرم ترین قلوب اور پاک ترین نفوس کی حامل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دین اسلام اور دین اسلام کو اس کے لیے چن لیا۔
[32] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے چن لیا۔‘‘ اور ان لوگوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں، ، ایسے گناہوں کے ارتکاب سے جو کفر سے کم تر ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ﴾ ’’اور کچھ میانہ رو ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو محرمات کو ترک کرتے ہوئے صرف واجبات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ ﴾ یعنی کچھ نیکیوں میں سبقت اور جدوجہد کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرتے ہیں، نہایت کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور محرمات و مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کی وراثت کے لیے ان تمام لوگوں کو چن لیا ہے، اگرچہ ان کے مراتب میں تفاوت اور ان کے احوال میں فرق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے اس وراثت میں حصہ ہے حتیٰ کہ اس کے لیے بھی اس وراثت میں حصہ ہے جس نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا کیونکہ اس کے پاس اصل ایمان، علوم ایمان اور اعمال میں سے جو کچھ ہے وہ کتاب کی وراثت ہے۔ کتاب کی وراثت سے مراد، اس کا علم، اس پر عمل، اس کے الفاظ کا پڑھنا اور اس کے معانی کا استنباط ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کی طرف راجع ہے تاکہ وہ اپنے عمل کے بارے میں کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائے کیونکہ اس نے نیکیوں کی طرف سبقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کی ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ﴾ یعنی ان لوگوں کے لیے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے، اس جلیل القدر کتاب کی وراثت بہت بڑا فضل ہے جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ مطلق طور پر سب سے زیادہ جلیل القدر نعمت اور سب سے بڑا فضل اس عظیم کتاب کی وراثت ہے۔
[33] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا جن کو اس نے یہ وراثت عطا کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا۠﴾ ’’وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ایسے باغات ہوں گے جو درختوں، گہرے سایوں، خوبصورت پھلواریوں، اچھلتی ہوئی ندیوں، عالی شان محلات اور آراستہ کیے ہوئے گھروں پر مشتمل ہوں گے، جو ہمیشہ رہیں گے اور کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ وہاں ایک ایسی خوبصورت زندگی ہو گی جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ (عَدْنٌ) سے مراد ’’اقامت‘‘ (قیام کرنا) ہے تو (جنَّاتُ عَدْنٍ) کا معنی باغاتِ اقامت ہے۔ باغات کی اقامت کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ دائمی اقامت اور ہمیشگی ان باغات اور ان کے رہنے والوں کا وصف ہے۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’وہاں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ یہ وہ زیور ہے جو ہاتھوں میں پہنا جاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں گے انھیں پہنیں گے اور یہ زیور انھیں دیگر تمام زیوروں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔ جنت میں زیور پہننے میں مرد اور عورتیں برابر ہوں گے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ وہ جنت میں پہنائے جائیں گے ﴿لُؤۡلُؤًا ﴾ ’’موتی‘‘ جو ان کے لباس اور جسم پر آراستہ ہوں گے۔ ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا‘‘ یعنی باریک اور موٹا سبز ریشم۔
[34]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب ان پر نعمتوں کا اتمام اور لذتوں کی تکمیل ہو جائے گی تو ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ ﴾ ’’وہ کہیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے دور کر دیا۔‘‘ یہ ہر قسم کے حزن و غم کو شامل ہے، لہٰذا انھیں حسن و جمال اور جسم میں کسی نقص کی بنا پر کوئی حزن و غم پیش آئے گا نہ ماکولات و مشروبات اور لذات میں کمی کی وجہ سے اور نہ جنت میں عدم دوام ہی کی وجہ سے کوئی غم لاحق ہوگا۔ اہل جنت ایسی نعمتوں میں رہیں گے جن سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہ ہو گی اور ابد الآباد تک ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک ہمارا رب بخشنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری تمام لغزشوں کو بخش دیا ہے ﴿شَكُوۡرٌ﴾ ’’قدر دان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہماری نیکیوں کو قبول فرما کر ہماری نیکیوں کی قدر کی، ان نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کیا اور ہمیں اپنے فضل سے ہمارے اعمال اور ہماری امیدوں سے بڑھ کر بہرہ ور کیا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے ذریعے سے ہر مکروہ امر سے نجات پائی۔ اس کے فضل و کرم اور اس کی قدر دانی کی بنا پر جنت میں ہر مرغوب و محبوب چیز حاصل کی۔
[35]﴿الَّذِيۡۤ اَحَلَّنَا ﴾ ’’جس نے ہمیں اتارا۔‘‘ یعنی اس نے ہمیں جنت میں عبوری اور عارضی طور پر نازل نہیں فرمایا بلکہ مستقل طور پر نازل فرمایا ﴿دَارَ الۡمُقَامَةِ ﴾ ایسے گھر میں جہاں دائمی قیام ہے، جہاں بے شمار بھلائیوں، کبھی نہ ختم ہونے والی مسرتوں اور کسی قسم کے تکدر کے عدم وجود کی وجہ سے قیام کی خواہش کی جاتی ہے اور اس کا ہمیں جنتوں میں نازل کرنا ﴿مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ اس کے فضل و کرم سے ہمیں جنت عطا ہوئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم کبھی اس مقام پر نہ پہنچ سکتے۔ ﴿لَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيۡهَا لُغُوۡبٌ ﴾ ’’یہاں ہم کو کوئی رنج پہنچے گا نہ تھکان۔‘‘ یعنی بدن، قلب اور دیگر قویٰ میں کثرت تمتع کی وجہ سے کوئی تھکاوٹ نہ ہو گی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اہل جنت کے بدن کو کامل زندگی عطا کرے گا اور انھیں دائمی طور پر راحت کے اسباب مہیا کرے گا۔ ان کے یہ اوصاف ہوں گے کہ ان کو کوئی کمزوری لاحق ہو گی نہ تھکن اور نہ کسی قسم کا حزن و غم... اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں نیند نہیں آئے گی کیونکہ نیند تو صرف تھکن دور کرنے اور راحت حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے... اور اہل جنت کو تو تھکن لاحق نہیں ہو گی... اور نیند گویا ایک چھوٹی موت ہے اور اہل جنت کو کبھی موت نہیں آئے گی... اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل جنت میں شامل کرے (آمین)
35:36وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمۡ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقۡضَىٰ عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوتُواْ وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُم مِّنۡ عَذَابِهَاۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي كُلَّ كَفُورٖ
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے آتش جہنم ہے، نہیں فیصلہ کیا جائے گا ان پر (موت کا) کہ وہ مر جائیں اور نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اس (جہنم) کا ، اسی طرح بدلہ (سزا) دیتے ہیں ہم ہر ناشکرے کو(36)اور وہ چلّائیں گے اس میں (اور کہیں گے) اے ہمارے رب! تو نکال ہم کو، (اب) ہم عمل کریں گے نیک، نہ کہ وہ جو تھے ہم عمل کرتے (پہلے)۔ (اللہ فرمائے گا) کیا نہیں عمر دی تھی ہم نے تمھیں اتنی کہ نصیحت پکڑ لیتا اس میں وہ شخص جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا اور آیا تمھارے پاس ڈرانے والا(بھی) پس(اب)چکھو تم (عذاب) کہ نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(37)
[36] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل جنت اور ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کا حال بیان کرنے کے بعد اہل جہنم اور ان کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ جنھوں نے آیات الٰہی کا جو رسول لے کر آئے تھے اور اپنے رب سے ملاقات کا انکار کیا۔ ﴿لَهُمۡ نَارُ جَهَنَّمَ ﴾ ’’ان کے لیے جہنم کی آگ ہے‘‘ جہاں انھیں نہایت سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ﴿لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’نہ تو ان کا قصہ پاک کیا جائے گا‘‘ موت کے ساتھ ﴿فَيَمُوۡتُوۡا﴾ ’’کہ وہ مر جائیں‘‘ اور آرام پا لیں ﴿وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾ ’’اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے کم کیا جائے گا۔‘‘ پس ہر وقت اور ہر آن ان کے عذاب میں دائمی شدت رہے گی۔ ﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِيۡ كُلَّ كَفُوۡرٍ﴾’’ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔‘‘
[37]﴿وَهُمۡ يَصۡطَرِخُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’ اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے‘‘ یعنی وہ جہنم میں چیخ و پکار کریں گے مدد کو پکاریں گے اور کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا غَيۡرَ الَّذِيۡ كُنَّا نَعۡمَلُ ﴾ ’’ہمارے رب ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کیا کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے۔‘‘ پس وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انصاف کیا ہے۔ وہ واپس لوٹنے کی خواہش کریں گے مگر اب وقت گزر گیا۔ان سے کہا جائے گا: ﴿اَوَلَمۡ نُعَمِّرۡؔكُمۡ مَّا ﴾ یعنی کیا ہم نے تمھیں ایک طویل عمر عطا نہیں کی تھی؟ ﴿ يَتَذَكَّـرُ فِيۡهِ مَنۡ تَذَكَّـرَ ﴾ جو کوئی اس طویل عرصہ میں نصیحت پکڑنا چاہتا وہ نصیحت پکڑ سکتا تھا۔ ہم نے تمھیں دنیا میں اسباب دنیا سے بہرہ ور کیا، تمھیں رزق عطا کیا، تمھارے لیے اسباب راحت مہیا کیے، تمھیں لمبی عمر عطا کی، تمھارے سامنے پے در پے اپنی نشانیاں ظاہر کیں، اور تمھارے پاس ڈرانے والے بھیجے اور تمھیں سختی اور نرمی کے ذریعے سے آزمایا گیا تاکہ تم ہماری طرف رجوع کرو اور ہماری طرف لوٹو۔مگر تمھیں کسی نصیحت اور انذار نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ہم نے تم سے عذاب کو مؤخر کر دیا حتی کہ تمھیں دی گئی مہلت پوری ہو گئی تمھاری عمریں اپنے اتمام کو پہنچیں، تم بدترین احوال کے ساتھ، دارالعمل سے نکل کر دارلجزا میں منتقل ہوئے، اب تم دنیا میں واپس لوٹنے کی درخواست کر رہے ہو۔ یہ بہت بعید ہے! اب عمل کا وقت گزر چکا، اب تو رحیم و رحمان کی ناراضی کا سامنا کرنا ہو گا، تم پر جہنم کی آگ بھڑکے گی اور اہل جنت نے تمھیں بھلا دیا۔ اب ہمیشہ کے لیے تم جہنم میں رہو اور ذلت اور رسوائی کے ساتھ عذاب بھگتو، اس لیے فرمایا:﴿فَذُوۡقُوۡا فَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ نَّصِيۡرٍ ﴾ ’’پس اب چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور ان کو اس عذاب سے نکال سکے یا اس عذاب میں تخفیف کر سکے۔
35:37وَهُمۡ يَصۡطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا غَيۡرَ ٱلَّذِي كُنَّا نَعۡمَلُۚ أَوَلَمۡ نُعَمِّرۡكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ ٱلنَّذِيرُۖ فَذُوقُواْ فَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے آتش جہنم ہے، نہیں فیصلہ کیا جائے گا ان پر (موت کا) کہ وہ مر جائیں اور نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اس (جہنم) کا ، اسی طرح بدلہ (سزا) دیتے ہیں ہم ہر ناشکرے کو(36)اور وہ چلّائیں گے اس میں (اور کہیں گے) اے ہمارے رب! تو نکال ہم کو، (اب) ہم عمل کریں گے نیک، نہ کہ وہ جو تھے ہم عمل کرتے (پہلے)۔ (اللہ فرمائے گا) کیا نہیں عمر دی تھی ہم نے تمھیں اتنی کہ نصیحت پکڑ لیتا اس میں وہ شخص جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا اور آیا تمھارے پاس ڈرانے والا(بھی) پس(اب)چکھو تم (عذاب) کہ نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(37)
[36] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل جنت اور ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کا حال بیان کرنے کے بعد اہل جہنم اور ان کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ جنھوں نے آیات الٰہی کا جو رسول لے کر آئے تھے اور اپنے رب سے ملاقات کا انکار کیا۔ ﴿لَهُمۡ نَارُ جَهَنَّمَ ﴾ ’’ان کے لیے جہنم کی آگ ہے‘‘ جہاں انھیں نہایت سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ﴿لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’نہ تو ان کا قصہ پاک کیا جائے گا‘‘ موت کے ساتھ ﴿فَيَمُوۡتُوۡا﴾ ’’کہ وہ مر جائیں‘‘ اور آرام پا لیں ﴿وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾ ’’اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے کم کیا جائے گا۔‘‘ پس ہر وقت اور ہر آن ان کے عذاب میں دائمی شدت رہے گی۔ ﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِيۡ كُلَّ كَفُوۡرٍ﴾’’ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔‘‘
[37]﴿وَهُمۡ يَصۡطَرِخُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’ اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے‘‘ یعنی وہ جہنم میں چیخ و پکار کریں گے مدد کو پکاریں گے اور کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا غَيۡرَ الَّذِيۡ كُنَّا نَعۡمَلُ ﴾ ’’ہمارے رب ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کیا کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے۔‘‘ پس وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انصاف کیا ہے۔ وہ واپس لوٹنے کی خواہش کریں گے مگر اب وقت گزر گیا۔ان سے کہا جائے گا: ﴿اَوَلَمۡ نُعَمِّرۡؔكُمۡ مَّا ﴾ یعنی کیا ہم نے تمھیں ایک طویل عمر عطا نہیں کی تھی؟ ﴿ يَتَذَكَّـرُ فِيۡهِ مَنۡ تَذَكَّـرَ ﴾ جو کوئی اس طویل عرصہ میں نصیحت پکڑنا چاہتا وہ نصیحت پکڑ سکتا تھا۔ ہم نے تمھیں دنیا میں اسباب دنیا سے بہرہ ور کیا، تمھیں رزق عطا کیا، تمھارے لیے اسباب راحت مہیا کیے، تمھیں لمبی عمر عطا کی، تمھارے سامنے پے در پے اپنی نشانیاں ظاہر کیں، اور تمھارے پاس ڈرانے والے بھیجے اور تمھیں سختی اور نرمی کے ذریعے سے آزمایا گیا تاکہ تم ہماری طرف رجوع کرو اور ہماری طرف لوٹو۔مگر تمھیں کسی نصیحت اور انذار نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ہم نے تم سے عذاب کو مؤخر کر دیا حتی کہ تمھیں دی گئی مہلت پوری ہو گئی تمھاری عمریں اپنے اتمام کو پہنچیں، تم بدترین احوال کے ساتھ، دارالعمل سے نکل کر دارلجزا میں منتقل ہوئے، اب تم دنیا میں واپس لوٹنے کی درخواست کر رہے ہو۔ یہ بہت بعید ہے! اب عمل کا وقت گزر چکا، اب تو رحیم و رحمان کی ناراضی کا سامنا کرنا ہو گا، تم پر جہنم کی آگ بھڑکے گی اور اہل جنت نے تمھیں بھلا دیا۔ اب ہمیشہ کے لیے تم جہنم میں رہو اور ذلت اور رسوائی کے ساتھ عذاب بھگتو، اس لیے فرمایا:﴿فَذُوۡقُوۡا فَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ نَّصِيۡرٍ ﴾ ’’پس اب چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور ان کو اس عذاب سے نکال سکے یا اس عذاب میں تخفیف کر سکے۔
35:38إِنَّ ٱللَّهَ عَٰلِمُ غَيۡبِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
بلاشبہ اللہ جانتا ہے پوشیدہ چیزیں آسمانوں اور زمین کی، بے شک وہ خوب جانتا ہے بھید (راز) سینوں کے(38)
[38] اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کی جزاوسزا اور ان کے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد اپنی وسعت علم سے آگاہ فرمایا، نیز یہ کہ وہ آسمانوں اور زمین کے غیب سے مطلع ہے۔ ان امور غیبیہ کا علم رکھتا ہے جو مخلوق کے علم اور اس کی نظروں سے اوجھل ہیں وہ تمام بھیدوں کو جانتا ہے۔ سینوں میں جو اچھی یا بری باتیں چھپی ہوئی ہیں سب اس کے علم میں ہیں۔ وہ ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا اور ہر ایک کے ساتھ اس کی قدر ومنزلت کے مطابق سلوک کرے گا۔
35:39هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَكُمۡ خَلَـٰٓئِفَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهُۥۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ كُفۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ إِلَّا مَقۡتٗاۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ كُفۡرُهُمۡ إِلَّا خَسَارٗا
وہی ہے جس نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں، پس جس نے کفر کیا تو اسی پر (وبال) ہو گا اس کےکفر کا، اور نہیں زیادہ کرتا کافروں کو ان کا کفر نزدیک ان کے رب کے مگر ناراضی ہی میں اور نہیں زیادہ کرتا کافروں کو ان کا کفر مگر نقصان ہی میں(39)
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی حکمت کاملہ اور بندوں پر اپنی رحمت سے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قضا و قدر سے ان کو زمین کے اندر ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ہر قوم میں ڈرانے والے مبعوث کیے تاکہ وہ دیکھے کہ ان کے اعمال کیسے ہیں۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی دعوت کا انکار کیا تو اس کے کفر اور گناہ کی سزا اسی کو ملے گی کوئی دوسرا اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ کافر اپنے کفر سے اپنے رب کی ناراضی اور غضب میں اضافہ کرتا ہے۔ رب کریم کی ناراضی سے بڑھ کر اور کون سی سزا ہو سکتی ہے؟ ﴿وَلَا يَزِيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ كُفۡرُهُمۡ اِلَّا خَسَارًا ﴾ ’’اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی میں زیادہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے گھر والوں، اپنے اعمال اور جنت میں اپنی منازل کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔ کفار ہمیشہ بدترین بدبختی، گھاٹے، اللہ تعالیٰ کے ہاں رسوائی اور اس کی مخلوق کے ہاں محرومیوں میں مبتلا رہیں گے۔
35:40قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ شُرَكَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُواْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٞ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَمۡ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ كِتَٰبٗا فَهُمۡ عَلَىٰ بَيِّنَتٖ مِّنۡهُۚ بَلۡ إِن يَعِدُ ٱلظَّـٰلِمُونَ بَعۡضُهُم بَعۡضًا إِلَّا غُرُورًا
کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اپنے ان شریکوں(معبودوں) کی، وہ جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کے، دکھاؤ مجھے! کیا کچھ پیدا کیا انھوں نے زمین سے ، یا ان کا کوئی حصہ ہے آسمانوں (کی پیدائش) میں؟ یا دی ہے ہم نے ان کو کوئی کتاب، پس وہ اوپر کسی واضح دلیل کے ہیں اس میں سے؟بلکہ نہیں وعدہ دیتے ظالم، ( یعنی ) ان کے بعض بعض کو مگر دھوکے ہی کا (40)
[40] اللہ تبارک وتعالیٰ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی، ان کے نقص اور ہر لحاظ سے ان کے شرک کے بطلان کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اَرَءَيۡتُمۡ ﴾ مجھے اپنے شریکوں کے بارے میں آگاہ کرو ﴿شُرَؔكَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔‘‘ کیا وہ دعا اور عبادت کے مستحق ہیں؟ ﴿اَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے؟‘‘ آیا انھوں نے سمندروں کو پیدا کیا ہے یا پہاڑوں کو؟ انھوں نے حیوانات کو پیدا کیا ہے یا جمادات کو؟ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کیا تمھارے خود ساختہ شریکوں کے لیے ﴿فِي السَّمٰوٰتِ ﴾ آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں کوئی حصہ ہے؟ وہ یہی جواب دیں گے کہ تخلیق و تدبیر کائنات میں ان کا کوئی حصہ نہیں… جب ان خود ساختہ معبودوں نے کوئی چیز پیدا کی ہے نہ خالق کی تخلیق میں یہ شریک ہیں تو پھر تم ان کی بے بسی کا اقرار کرنے کے باوجود ان کو کیوں پکارتے اور ان کی کیوں عبادت کرتے ہو؟ پس ان کی عبادت کے جواز کی دلیل ختم ہو گئی اور ان کی عبادت کا بطلان ثابت ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کے جواز کی سمعی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے اس کا بھی ابطال فرمایا:﴿اَمۡ اٰتَيۡنٰهُمۡ كِتٰبًا ﴾ ’’کیا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے‘‘ جو ان کے شرک کو جائز قرار دیتی ہو یا انھیں شرک اور بتوں کی عبادت کا حکم دیتی ہو ﴿فَهُمۡ ﴾ اور وہ اپنے شرک کے بارے میں ﴿عَلٰى بَيِّنَتٍ ﴾ کسی دلیل پر ہوں یعنی اس نازل شدہ کتاب میں کوئی ایسی چیز ہو جو شرک کے جواز اور اس کے صحیح ہونے کو ثابت کرتی ہو؟معاملہ ایسے نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی اور نہ محمد مصطفیٰ ﷺ سے قبل ان کی طرف کوئی رسول ہی مبعوث کیا گیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ان پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہے اور ان کی طرف کوئی رسول مبعوث کیا گیا ہے جس نے ان کے زعم کے مطابق، انھیں شرک کا حکم دیا ہے، تب بھی ہمیں قطعی یقین ہے کہ یہ جھوٹ کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾(الانبیاء:21؍25) ’’اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا ہم نے اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس صرف میری عبادت کرو۔‘‘ لہذا تمام انبیاء و مرسلین اور تمام آسمانی کتابیں اس امر پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں اخلاص کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ﴾(البینۃ:98؍5) ’’اور انھیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر اور دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔‘‘ اگر یہ کہا جائے کہ جب عقلی اور نقلی دلائل شرک کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں تب وہ کون سی چیز ہے جو مشرکین کو شرک پر آمادہ کرتی ہے حالانکہ ان کے اندر عقل مند اور ذہین و فطین لوگ بھی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا: ﴿بَلۡ اِنۡ يَّعِدُ الظّٰلِمُوۡنَ بَعۡضُهُمۡ بَعۡضًا اِلَّا غُرُوۡرًا ﴾ ’’بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعدہ کرتے ہیں‘‘ یعنی یہ وہ مسلک ہے جس پر گامزن ہونے والے لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں، محض ایک دوسرے کو اس کی تلقین کرتے ہیں، ایک دوسرے کی باتوں کو آراستہ کرتے ہیں، متاخرین گمراہ متقدمین کی اقتدا کرتے ہیں، یہ جھوٹی آرزوئیں ہیں جو شیاطین انھیں دلاتے ہیں اور ان کے برے اعمال ان کے سامنے سجاتے ہیں۔ یہ برے اعمال ان کے قلوب میں جڑ پکڑ لیتے ہیں اور ان کی صفت بن جاتے ہیں تب ان کو زائل اور ختم کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور کفر اور شرک پر جمے رہنے سے وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں جو سامنے ہیں۔
35:41۞إِنَّ ٱللَّهَ يُمۡسِكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ أَن تَزُولَاۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنۡ أَمۡسَكَهُمَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورٗا
بلاشبہ اللہ ہی تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو اس بات سے کہ وہ ٹل جائیں (اپنی جگہ سے) اور البتہ اگر وہ دونوں ٹل جائیں تو نہیں روک سکے گا ان کو کوئی بھی اس کے بعد، بلاشبہ وہ ہے بڑا بردبار، بہت بخشنے والا(41)
[41] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے کمال قدرت، بے پایاں رحمت اور وسعت حلم و مغفرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روک رکھا ہے، اگر وہ ٹل جائیں تو اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی ایسی نہیں جو انھیں روک سکے۔ ان کی طاقت اور ان کے قویٰ ان کے بارے میں عاجز آ جائیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ زمین و آسمان ویسے ہی رہیں جیسے وجود میں لائے گئے تاکہ مخلوق کو استقرار، فائدہ اور عبرت حاصل ہو، نیز وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت سلطان، قوت اور قدرت کو جان لیں اور ان کے دل اللہ کے جلال و تعظیم اور محبت و تکریم سے لبریز ہوں اور تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہ گاروں کو مہلت عطا ہونے اور نافرمانوں کو سزا دینے میں عدم عجلت کی بنا پر جان لیں کہ وہ کامل حلم و حکمت کا مالک ہے حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ آسمان کو حکم دے تو ان پر پتھروں کی بارش برسا دے اور اگر اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دے تو وہ ان کو نگل جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں مغفرت اور اس کا حلم و کرم ان پر سایہ کناں ہے ﴿اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا ﴾ ’’بے شک وہ بہت بردبار معاف کرنے والا ہے۔‘‘
35:42وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِن جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ لَّيَكُونُنَّ أَهۡدَىٰ مِنۡ إِحۡدَى ٱلۡأُمَمِۖ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ مَّا زَادَهُمۡ إِلَّا نُفُورًا
اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں اپنی، البتہ اگر آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا تو ضرور ہوں گے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہر ایک امت سے پس جب آیا ان کے پاس ڈرانے والا تو نہیں زیادہ کیا(اس نے) ان کو مگر نفرت ہی میں(42)تکبر کی وجہ سے زمین میں اور بری تدبیر (کی وجہ سے) اور نہیں گھیرتی بری تدبیر مگر ا س کے کرنے والے ہی کو، پس وہ نہیں انتظار کرتے مگر (اللہ کے) طریقے کا پہلے لوگوں کے (بارے میں)پس ہرگزنہ پائیں گے آپ اللہ کے طریقے کا بدلنا اور ہرگز نہ پائیں گے آپ طریقۂ الٰہی کا ٹلنا(43)
[42] اے اللہ کے رسول! آپ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے تھے کہ ﴿لَىِٕنۡ جَآءَهُمۡ نَذِيۡرٌ لَّـيَكُوۡنُنَّ اَهۡدٰؔى مِنۡ اِحۡدَى الۡاُمَمِ ﴾ ’’اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہونگے۔‘‘ یعنی وہ یہودونصاریٰ (اہل کتاب) سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے مگر انھوں نے اپنی قسموں اور عہد کو پورا نہ کیا ﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ ﴾ ’’ چنانچہ جب ڈرانے والا ان کے پاس آ گیا‘‘ تو ان امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے بلکہ وہ اپنی گمراہی پر جمے رہے بلکہ ﴿مَّا زَادَهُمۡ ﴾ ’’نہیں زیادہ کیا ان کو‘‘ اس گمراہی نے ﴿اِلَّا نُفُوۡرَاِۨ﴾ ’’مگر نفرت ہی میں‘‘ ان کے اس رویے نے ان کی گمراہی، بغاوت اور عناد کو اور بڑھا دیا۔
[43] ان کا یہ قسمیں اٹھانا کسی اچھے مقصد اور طلب حق کے لیے نہ تھا، اگر ایسا ہوتا تو ان کو ضرور اس کی توفیق عطا کر دی جاتی لیکن ان کا قسمیں اٹھانا تومخلوق اور حق کے مقابلے میں زمین پر تکبر کرنے اور اپنی بات میں مکر وفریب کرنے سے صادر ہوا تھا۔ ان کا مقصد محض فریب کاری تھا اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ تو اہل حق اور حق کے متلاشی ہیں تو سادہ لوح لوگ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر ان کے پیچھے چل پڑے۔ ﴿وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ ﴾ ’’اور نہیں پڑتا وبال بری چال کا‘‘ جس کا مقصد برا مقصد اور جس کا انجام برا اور باطل ہے ﴿اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾ ’’مگر بری چال چلنے والوں ہی پر‘‘ ان کا مکروفریب انھی کی طرف لوٹے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں اور ان قسموں کے بارے میں اپنے بندوں کے سامنے واضح کر دیا ہے کہ وہ جھوٹے اور فریب کار ہیں پس اس سے ان کی رسوائی واضح، ان کی فضیحت نمایاں اور ان کا برا مقصد ظاہر ہو گیا۔ ان کا مکروفریب ان ہی کی طرف لوٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے مکروفریب کو ان کے سینوں کی طرف لوٹا دیا۔ ان کے لیے کوئی حیلہ باقی نہ رہا سوائے اس کے کہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں۔ جو کوئی ظلم، عناد اور مخلوق کے ساتھ تکبر کے راستے پر گامزن ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے گا اور اس کی نعمتوں سے محروم ہو جائے گا، لہٰذا ان قوموں کے ساتھ جو کچھ ہوا، ان کو اس پر نظر رکھنی چاہیے۔
35:43ٱسۡتِكۡبَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَكۡرَ ٱلسَّيِّيِٕۚ وَلَا يَحِيقُ ٱلۡمَكۡرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهۡلِهِۦۚ فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلۡأَوَّلِينَۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗاۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِيلًا
اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں اپنی، البتہ اگر آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا تو ضرور ہوں گے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہر ایک امت سے پس جب آیا ان کے پاس ڈرانے والا تو نہیں زیادہ کیا(اس نے) ان کو مگر نفرت ہی میں(42)تکبر کی وجہ سے زمین میں اور بری تدبیر (کی وجہ سے) اور نہیں گھیرتی بری تدبیر مگر ا س کے کرنے والے ہی کو، پس وہ نہیں انتظار کرتے مگر (اللہ کے) طریقے کا پہلے لوگوں کے (بارے میں)پس ہرگزنہ پائیں گے آپ اللہ کے طریقے کا بدلنا اور ہرگز نہ پائیں گے آپ طریقۂ الٰہی کا ٹلنا(43)
[42] اے اللہ کے رسول! آپ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے تھے کہ ﴿لَىِٕنۡ جَآءَهُمۡ نَذِيۡرٌ لَّـيَكُوۡنُنَّ اَهۡدٰؔى مِنۡ اِحۡدَى الۡاُمَمِ ﴾ ’’اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہونگے۔‘‘ یعنی وہ یہودونصاریٰ (اہل کتاب) سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے مگر انھوں نے اپنی قسموں اور عہد کو پورا نہ کیا ﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ ﴾ ’’ چنانچہ جب ڈرانے والا ان کے پاس آ گیا‘‘ تو ان امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے بلکہ وہ اپنی گمراہی پر جمے رہے بلکہ ﴿مَّا زَادَهُمۡ ﴾ ’’نہیں زیادہ کیا ان کو‘‘ اس گمراہی نے ﴿اِلَّا نُفُوۡرَاِۨ﴾ ’’مگر نفرت ہی میں‘‘ ان کے اس رویے نے ان کی گمراہی، بغاوت اور عناد کو اور بڑھا دیا۔
[43] ان کا یہ قسمیں اٹھانا کسی اچھے مقصد اور طلب حق کے لیے نہ تھا، اگر ایسا ہوتا تو ان کو ضرور اس کی توفیق عطا کر دی جاتی لیکن ان کا قسمیں اٹھانا تومخلوق اور حق کے مقابلے میں زمین پر تکبر کرنے اور اپنی بات میں مکر وفریب کرنے سے صادر ہوا تھا۔ ان کا مقصد محض فریب کاری تھا اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ تو اہل حق اور حق کے متلاشی ہیں تو سادہ لوح لوگ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر ان کے پیچھے چل پڑے۔ ﴿وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ ﴾ ’’اور نہیں پڑتا وبال بری چال کا‘‘ جس کا مقصد برا مقصد اور جس کا انجام برا اور باطل ہے ﴿اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾ ’’مگر بری چال چلنے والوں ہی پر‘‘ ان کا مکروفریب انھی کی طرف لوٹے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں اور ان قسموں کے بارے میں اپنے بندوں کے سامنے واضح کر دیا ہے کہ وہ جھوٹے اور فریب کار ہیں پس اس سے ان کی رسوائی واضح، ان کی فضیحت نمایاں اور ان کا برا مقصد ظاہر ہو گیا۔ ان کا مکروفریب ان ہی کی طرف لوٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے مکروفریب کو ان کے سینوں کی طرف لوٹا دیا۔ ان کے لیے کوئی حیلہ باقی نہ رہا سوائے اس کے کہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں۔ جو کوئی ظلم، عناد اور مخلوق کے ساتھ تکبر کے راستے پر گامزن ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے گا اور اس کی نعمتوں سے محروم ہو جائے گا، لہٰذا ان قوموں کے ساتھ جو کچھ ہوا، ان کو اس پر نظر رکھنی چاہیے۔
35:44أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَكَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعۡجِزَهُۥ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمٗا قَدِيرٗا
کیا نہیں چلے پھرے وہ زمین میں کہ دیکھتے وہ، کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، اور تھے وہ زیادہ سخت ان سے قوت میں اور نہیں ہے اللہ کہ عاجز کر دے اس کو کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ (کوئی چیز) زمین میں، بلاشبہ ہے وہ خوب جاننے والا، خوب قدرت والا(44) اور اگر مؤاخذہ کرے اللہ لوگوں کا بہ سبب اس کے جو انھوں نے کمایا تو نہ چھوڑے وہ اس (زمین) کی پشت پر کوئی چلنے والا جاندار، اور لیکن وہ ڈھیل دیتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک، پس جب آ جائے گا ان کا وقت مقرر تو بلاشبہ اللہ ہے اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا(45)
[44] اللہ تعالیٰ لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ محض غفلت کے ساتھ نہیں بلکہ عبرت حاصل کرنے کے لیے اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلیں پھریں اور دیکھیں کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا کیا انجام ہوا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی، جو ان سے زیادہ مال اور اولاد رکھنے والے اور ان سے زیادہ طاقتور تھے، جنھوں نے ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا، جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو ان کی قوت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کا مال اور اولاد کسی کام نہ آئے، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ان میں نافذ ہو کر رہی۔ ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعۡجِزَهٗ مِنۡ شَيۡءٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اسے عاجز کر سکے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل علم اور کامل قدرت کا مالک ہے۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَلِيۡمًا قَدِيۡرًا ﴾ ’’بے شک وہ جاننے والا قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے کامل حلم اور گناہ گاروں اور ارباب جرائم کو دی ہوئی ڈھیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا﴾ ’’اور لوگوں نے جو گناہ کیے اگر اللہ تعالیٰ ان پر ان کا مواخذہ کرتا‘‘ ﴿مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾ ’’تو روئے زمین پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو پوری سزا دیتا اور اس سزا کی سختی کا یہ حال ہوتا کہ غیر مکلف حیوانات بھی اس سے نہ بچتے۔ ﴿وَّلٰكِنۡ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ان کو ایک وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے ، پھر جب ان کا وقت آ جائے گا تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ پس اللہ اپنے علم کے مطابق ان کے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
35:45وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِمَا كَسَبُواْ مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهۡرِهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِۦ بَصِيرَۢا
کیا نہیں چلے پھرے وہ زمین میں کہ دیکھتے وہ، کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، اور تھے وہ زیادہ سخت ان سے قوت میں اور نہیں ہے اللہ کہ عاجز کر دے اس کو کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ (کوئی چیز) زمین میں، بلاشبہ ہے وہ خوب جاننے والا، خوب قدرت والا(44) اور اگر مؤاخذہ کرے اللہ لوگوں کا بہ سبب اس کے جو انھوں نے کمایا تو نہ چھوڑے وہ اس (زمین) کی پشت پر کوئی چلنے والا جاندار، اور لیکن وہ ڈھیل دیتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک، پس جب آ جائے گا ان کا وقت مقرر تو بلاشبہ اللہ ہے اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا(45)
[44] اللہ تعالیٰ لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ محض غفلت کے ساتھ نہیں بلکہ عبرت حاصل کرنے کے لیے اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلیں پھریں اور دیکھیں کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا کیا انجام ہوا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی، جو ان سے زیادہ مال اور اولاد رکھنے والے اور ان سے زیادہ طاقتور تھے، جنھوں نے ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا، جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو ان کی قوت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کا مال اور اولاد کسی کام نہ آئے، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ان میں نافذ ہو کر رہی۔ ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعۡجِزَهٗ مِنۡ شَيۡءٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اسے عاجز کر سکے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل علم اور کامل قدرت کا مالک ہے۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَلِيۡمًا قَدِيۡرًا ﴾ ’’بے شک وہ جاننے والا قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے کامل حلم اور گناہ گاروں اور ارباب جرائم کو دی ہوئی ڈھیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا﴾ ’’اور لوگوں نے جو گناہ کیے اگر اللہ تعالیٰ ان پر ان کا مواخذہ کرتا‘‘ ﴿مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾ ’’تو روئے زمین پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو پوری سزا دیتا اور اس سزا کی سختی کا یہ حال ہوتا کہ غیر مکلف حیوانات بھی اس سے نہ بچتے۔ ﴿وَّلٰكِنۡ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ان کو ایک وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے ، پھر جب ان کا وقت آ جائے گا تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ پس اللہ اپنے علم کے مطابق ان کے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔