QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Ya-Sin

يٰسٓ

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 36 · 83 verses

36:1

يسٓ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:2

وَٱلۡقُرۡءَانِ ٱلۡحَكِيمِ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:3

إِنَّكَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:4

عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:5

تَنزِيلَ ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:6

لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غَٰفِلُونَ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:7

لَقَدۡ حَقَّ ٱلۡقَوۡلُ عَلَىٰٓ أَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:8

إِنَّا جَعَلۡنَا فِيٓ أَعۡنَٰقِهِمۡ أَغۡلَٰلٗا فَهِيَ إِلَى ٱلۡأَذۡقَانِ فَهُم مُّقۡمَحُونَ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:9

وَجَعَلۡنَا مِنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ سَدّٗا وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدّٗا فَأَغۡشَيۡنَٰهُمۡ فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُونَ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:10

وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَأَنذَرۡتَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تُنذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:11

إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلذِّكۡرَ وَخَشِيَ ٱلرَّحۡمَٰنَ بِٱلۡغَيۡبِۖ فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٖ وَأَجۡرٖ كَرِيمٍ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:12

إِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُواْ وَءَاثَٰرَهُمۡۚ وَكُلَّ شَيۡءٍ أَحۡصَيۡنَٰهُ فِيٓ إِمَامٖ مُّبِينٖ

یٰسٓ(1) قسم ہے قرآن حکمت والے کی(2)بلاشبہ آپ البتہ رسولوں میں سے ہیں(3)اوپر راہ راست کے(4)(یہ) اتارا ہوا ہے نہایت غالب خوب رحم کرنے والے کا (5) تاکہ ڈرائیں آپ اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے باپ دادا ان کے، پس وہ غافل ہیں(6) البتہ تحقیق ثابت ہو گئی بات(اللہ کی) ان کی اکثریت پر، سو وہ نہیں ایمان لائیں گے(7) بے شک ڈال دیے ہم نے ان کی گردنوں میں طوق، سو وہ (پہنچ رہے ہیں ان کی)ٹھوڑیوں تک، پس وہ سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہیں(8) اور بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار، پھر ڈھانک دیا ہم نے ان(کی آنکھوں)کو، پس وہ نہیں دیکھتے(9) اور برابر ہے اوپر ان کے، کیا آپ ڈرائیں ان کو یا نہ ڈرائیں، وہ نہیں ایمان لائیں گے (10)بے شک آپ تو ڈراتے ہیں(صرف)اس شخص کو جو پیروی کرے نصیحت کی اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے، پس خوشخبری دے دیجیے اس کو مغفرت کی اور عزت والے اجر کی (11) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں مُردوں کو اور لکھتے ہیں ہم جو (عمل) وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے آثار بھی، اور ہرچیز، ہم نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کتاب واضح میں(12) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [2] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی قسم ہے، جس کا وصف حکمت ہے اور حکمت سے مراد ہے ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنا اور امرونہی کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے اور خیر و شر کی جزا کو اس مقام پر رکھنا جو ان کے لائق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام احکام شرعی اور جزائی بے انتہا حکمت پر مبنی ہیں۔ اس قرآن کی حکمت یہ ہے کہ اس نے ’’حکم‘‘ اور ’’حکمت‘‘ کے تذکرے کو یکجا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ عقول انسانی کو ان مناسبات اور اوصاف سے متنبہ کرتا ہے جو ترتیب حکم کا تقاضا کرتی ہیں۔ [3]﴿اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفیﷺ کی رسالت۔ اے محمد! (ﷺ)آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمدﷺ کی رسالت ، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمدﷺ کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہﷺ کی رسالت کے دلائل ہیں۔ [4] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ کا سب سے بڑا وصف بیان فرمایا جو آپ کی رسالت پر دلالت کرتا ہے کہ آپ ﴿عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’سیدھے راستے پر گامزن ہیں‘‘ جو معتدل ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ یہ راہ راست ایسے اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں، جو اخلاق فاضلہ، تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور ازدیاد اجر کے حامل ہیں۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کا وصف ہے۔ قرآن حکیم کی جلالت شان پر غور کیجیے کہ اس نے افضل ترین قسم اور جلیل ترین مقسم علیہ کو کیسے یکجا کر دیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہی کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے رسول ﷺ کی رسالت کی حقانیت پر واضح دلائل اور روشن براہین قائم کیے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہم کچھ لطیف نکات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ [5] یہ صراط مستقیم ﴿تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ وہ راستہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے اپنے بندوں کے لیے لائحہ عمل کے طور پر نازل فرمایا جو انھیں اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی قدرت کاملہ سے تغیروتبدل سے محفوظ فرمایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں لے لیا جو انھیں اس کے دار رحمت میں پہنچاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو اپنے دو کریم ناموں ﴿ الۡعَزِيۡزِ ﴾ اور ﴿ الرَّحِيۡمِ﴾ پر ختم فرمایا۔ [6] اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی رسالت پر قرآن حکیم کی قسم کھانے کے بعد، اس پر دلائل قائم کیے اور ذکر فرمایا کہ ان کی طرف رسول مبعوث کیے جانے کی سخت ضرورت تھی، ارشاد فرمایا:﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ اس سے مراد وہ ’’اُمّی‘‘ عرب ہیں جن میں کتابیں نازل ہوئی تھیں نہ رسول مبعوث ہوئے تھے گمراہی ان پر چھاگئی تھی، جہالت نے ان کو اندھاکر دیا تھا۔ اور وہ اپنے اوپر اور اپنی بے وقوفی پر جگ ہنسائی کاباعث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان کی طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، تاکہ ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے، وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور تاکہ وہ ’’اُمّی‘‘ عربوں اور ان کے بعد آنے والے ہر اُمّی کو گمراہی کے انجام سے ڈرائے۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو ان کتابوں کی یاد دہانی کراتا ہے جو ان کے پاس ہیں۔ یہ کتاب حکیم تمام لوگوں کے لیے عام طور پر اور عربوں کے لیے خاص طور پر نعمت ہے مگر یہ لوگ جن کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے آ پ کو مبعوث کیا گیا ہے، آپ کی دعوت اور انذار کے بعد وہ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے ہیں۔ [7] پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤى اَكۡثَرِهِمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ [8] اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ اَغۡلٰلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔‘‘ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔ [9]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِهِمۡ سَدًّا ﴾ ’’اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے‘‘ جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہ دیکھ سکتے۔‘‘ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔ [10]﴿وَسَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ انھیں نصیحت کریں یا نہ کریں، ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ وہ شخص کیسے ایمان لا سکتا ہے جس کے دل پر مہر لگا دی گئی ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہو۔ [11] دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے انذار کو قبول کر لیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّمَا تُنۡذِرُ ﴾ یعنی آپ کا انذار اور آپ کی نصیحت صرف اسی شخص کو فائدہ دے گی ﴿مَنِ اتَّبَعَ الذِّكۡرَ ﴾ ’’جس نے نصیحت کی پیروی کی۔‘‘ جو اتباع حق کا قصد رکھتا ہے ﴿وَخَشِيَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَيۡبِ ﴾ ’’اور رحمٰن سے بن دیکھے ڈرے‘‘ جو ان دو اوصاف سے متصف ہے یعنی طلب حق میں قصد حسن اور خشیت الٰہی تو یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کی رسالت سے فیض یاب اور آپ کی تعلیم سے تزکیۂ نفس کر سکتے ہیں، جسے ان دو امور کی توفیق بخش دی گئی ﴿فَبَشِّرۡهُ بِمَغۡفِرَةٍ ﴾ اسے اس کے گناہوں کی بخشش کی خوشخبری دے دیجیے ﴿وَّاَجۡرٍ كَرِيۡمٍ ﴾ اور اس کے نیک اعمال اور اچھی نیت کے باوقار اجر کی خوشخبری دے دیجیے۔ [12]﴿اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ یعنی ہم انہیں، ان کے مر جانے کے بعد، دوبارہ زندہ کریں گے تاکہ ہم انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔ ﴿وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا﴾ ’’اور ہم لکھتے ہیں وہ اعمال جن کو وہ آگے بھیجتے ہیں‘‘ اچھے اور برے اعمال میں سے۔ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو وہ اپنی زندگی کے دوران کرتے رہے ہیں۔ ﴿وَاٰثَارَهُمۡ ﴾ اس سے مراد وہ آثار خیر اور آثار شر ہیں جنھیں وہ اپنی زندگی میں اور مرنے کے بعد وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ان اعمال نے ان کے اقوال، افعال اور احوال سے جنم لیا۔ بھلائی کا ہر وہ کام آثار خیر میں شمار ہوتا ہے جو بندے کے علم، اس کی تعلیم، خیر خواہی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے سبب سے وجود میں آتا ہے یا وہ علم جسے وہ اپنے متعلمین میں ودیعت کرتا ہے یا اس کی تحریر کے سبب سے وجود میں آتا ہے جس سے اس کی زندگی میں یا اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھایا جاتا ہے یا کوئی نیک عمل جسے بندہ سرانجام دیتا ہے ، مثلاً: نماز، صدقہ، یا کوئی بھلی بات جس کی دوسرے لوگ پیروی کریں، یا کسی مسجد کی تعمیر، یا کسی ایسی جگہ کی تعمیر جس سے لوگ استفادہ کرتے ہوں یا اس قسم کے دیگر کام، سب آثار خیر میں شمار ہوتے ہیں جن کو اس کے لیے لکھ لیا جاتا ہے اور اسی طرح آثار شر ہیں، جن کو لکھ لیا جاتا ہے۔بنا بریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَيْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ، مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔، ’’جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اسے عطا ہو گا اور اس کے بعد جو کوئی بھی اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ان کے اجروںمیں کمی کرنے کے بغیر اسے ملے گا جس کسی نے دین اسلام میں کسی برائی کو رواج دیا اس کا گناہ اس کو ملے گا اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہر طریقے اور ذریعے سے اس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرنے کی عظمت واضح ہو جاتی ہے برائی کی طرف دعوت دینے اور اس کو رائج کرنے والا سب سے گھٹیا مخلوق، سب سے بڑا مجرم اور سب سے زیادہ گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ ﴿وَكُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کو‘‘ یعنی اعمال اور نیتوں وغیرہ کو ﴿اَحۡصَيۡنٰهُ فِيۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے‘‘ اس سے مراد (اُمُّ الْکُتُبْ) ہے اور وہ تمام کتابیں، جو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں، اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور وہ لوح محفوظ ہے۔
36:13

وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلًا أَصۡحَٰبَ ٱلۡقَرۡيَةِ إِذۡ جَآءَهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:14

إِذۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهِمُ ٱثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٖ فَقَالُوٓاْ إِنَّآ إِلَيۡكُم مُّرۡسَلُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:15

قَالُواْ مَآ أَنتُمۡ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَمَآ أَنزَلَ ٱلرَّحۡمَٰنُ مِن شَيۡءٍ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا تَكۡذِبُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:16

قَالُواْ رَبُّنَا يَعۡلَمُ إِنَّآ إِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:17

وَمَا عَلَيۡنَآ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:18

قَالُوٓاْ إِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡۖ لَئِن لَّمۡ تَنتَهُواْ لَنَرۡجُمَنَّكُمۡ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٞ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:19

قَالُواْ طَـٰٓئِرُكُم مَّعَكُمۡ أَئِن ذُكِّرۡتُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:20

وَجَآءَ مِنۡ أَقۡصَا ٱلۡمَدِينَةِ رَجُلٞ يَسۡعَىٰ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱتَّبِعُواْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:21

ٱتَّبِعُواْ مَن لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ أَجۡرٗا وَهُم مُّهۡتَدُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:22

وَمَالِيَ لَآ أَعۡبُدُ ٱلَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:23

ءَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً إِن يُرِدۡنِ ٱلرَّحۡمَٰنُ بِضُرّٖ لَّا تُغۡنِ عَنِّي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا يُنقِذُونِ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:24

إِنِّيٓ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:25

إِنِّيٓ ءَامَنتُ بِرَبِّكُمۡ فَٱسۡمَعُونِ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:26

قِيلَ ٱدۡخُلِ ٱلۡجَنَّةَۖ قَالَ يَٰلَيۡتَ قَوۡمِي يَعۡلَمُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:27

بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:28

۞وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنۢ بَعۡدِهِۦ مِن جُندٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:29

إِن كَانَتۡ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَإِذَا هُمۡ خَٰمِدُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:30

يَٰحَسۡرَةً عَلَى ٱلۡعِبَادِۚ مَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:31

أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ أَنَّهُمۡ إِلَيۡهِمۡ لَا يَرۡجِعُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:32

وَإِن كُلّٞ لَّمَّا جَمِيعٞ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُونَ

اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32) [13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔ [14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘ [15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ [16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔ [17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ [18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘ [19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ [20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔ [21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔ [25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘ [26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔ [28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔ [29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ [30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔ [31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:33

وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبّٗا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ

اور ایک نشانی ہے ان کے لیے زمین مردہ، زندہ کیا ہم نے اسے (بارش سے) اور نکالا ہم نے اس سے (اناج کا) دانہ، پس اسی (دانۂ اناج) سے وہ کھاتے ہیں (33) اور بنائے ہم نے (زمین) میں باغات کھجوروں اور انگوروں کے، اور جاری کیے ہم نے ان (باغوں ) میں چشمے (34) تاکہ کھائیں وہ اس کےپھلوں سے، اور نہیں بنایا اس کو ان کے ہاتھوں نے، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (35) پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے، سب کے ان چیزوں کے (بھی) جن کو اگاتی ہے زمین اور خود ان (انسانوں) کے اپنے بھی اور ان کے (بھی) جنھیں وہ نہیں جانتے (36) [33]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’ان کے لیے ایک نشانی ہے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر ونشر، حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزاوسزا پر دلیل ہے ﴿الۡاَرۡضُ الۡمَيۡتَةُ ﴾ ’’مردہ زمین‘‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ ﴿وَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں۔ [34]﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡهَا ﴾ یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے ﴿جَنّٰتٍ ﴾ باغات جن میں بے شمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں۔ ﴿وَّفَجَّرۡنَا فِيۡهَا ﴾ اور ہم نے اس میں جاری کیے یعنی زمین میں ﴿مِنَ الۡعُيُوۡنِ﴾ ’’چشمے‘‘ ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے۔ [35]﴿لِيَاۡكُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖ﴾ تاکہ یہ انھیں بطور خوراک، پھل، سالن اور لذت استعمال کریں۔ ﴿وَ﴾ حالانکہ ان پھلوں کو ﴿مَا عَمِلَتۡهُ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے ہاتھوں نے تخلیق نہیں کیا‘‘ ان میں ان کی کوئی صنعت کاری ہے نہ ان کی کسی کاری گری کا عمل دخل یہ تو اللہ، احکم الحاکمین اور خیرالرازقین کی تخلیق کا کمال ہے، نیز ان پھلوں کو ان لوگوں یا کسی اور نے آگ پر نہیں پکایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پھلوں کو اس طرح وجود بخشا ہے کہ ان کو آگ پر پکائے جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان پھلوں کو درختوں سے توڑ کر اسی وقت اور اسی حال میں کھایا جا سکتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ جس ہستی نے ان تک یہ نعمتیں پہنچائی، جس نے اپنے بے پایاں فضل و کرم کی بنا پر ان کو ایسے امور سے نوازا جن میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ تو یہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے زندہ کیا، اس میں کھیتیاں اور درخت اگائے، ان میں نہایت لذیذ اقسام کے پھل ودیعت کیے، ان پھلوں کو ان درختوں کی شاخوں پر نمایاں کیا اور خشک زمین پر پانی کے چشمے جاری کیے… مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [36]﴿سُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس (زمین) کی ہر چیز کے جوڑے بنائے۔‘‘ یعنی تمام اصناف کو تخلیق فرمایا ﴿مِمَّا تُنۢۡبِتُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’زمین کی نباتات سے‘‘ اس نے زمین میں ایسی ایسی اصناف تخلیق فرمائیں جن کو شمار کرنا بہت مشکل ہے۔ ﴿وَمِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ یعنی خود ان کو مرد اور عورت کی اصناف میں پیدا کیا، ان کی تخلیق، فطرت اور ان کے اوصاف ظاہرہ و باطنہ میں تفاوت پیدا کیا۔ ﴿وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور ان مخلوقات کی اصناف کو پیدا کیا جو ہمارے علم کی گرفت سے باہر ہیں اور وہ مخلوقات جو اس کے بعد پیدا ہی نہ کی گئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک، مددگار، معاون، وزیر، بیوی یا کوئی بیٹا ہو، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی صفات کمال اور نعوت جلال میں اس کا ہم سر، مثیل یا کوئی مشابہت کرنے والا ہو یا اسے کوئی اپنے ارادے سے باز رکھ سکے۔
36:34

وَجَعَلۡنَا فِيهَا جَنَّـٰتٖ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَٰبٖ وَفَجَّرۡنَا فِيهَا مِنَ ٱلۡعُيُونِ

اور ایک نشانی ہے ان کے لیے زمین مردہ، زندہ کیا ہم نے اسے (بارش سے) اور نکالا ہم نے اس سے (اناج کا) دانہ، پس اسی (دانۂ اناج) سے وہ کھاتے ہیں (33) اور بنائے ہم نے (زمین) میں باغات کھجوروں اور انگوروں کے، اور جاری کیے ہم نے ان (باغوں ) میں چشمے (34) تاکہ کھائیں وہ اس کےپھلوں سے، اور نہیں بنایا اس کو ان کے ہاتھوں نے، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (35) پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے، سب کے ان چیزوں کے (بھی) جن کو اگاتی ہے زمین اور خود ان (انسانوں) کے اپنے بھی اور ان کے (بھی) جنھیں وہ نہیں جانتے (36) [33]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’ان کے لیے ایک نشانی ہے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر ونشر، حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزاوسزا پر دلیل ہے ﴿الۡاَرۡضُ الۡمَيۡتَةُ ﴾ ’’مردہ زمین‘‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ ﴿وَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں۔ [34]﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡهَا ﴾ یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے ﴿جَنّٰتٍ ﴾ باغات جن میں بے شمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں۔ ﴿وَّفَجَّرۡنَا فِيۡهَا ﴾ اور ہم نے اس میں جاری کیے یعنی زمین میں ﴿مِنَ الۡعُيُوۡنِ﴾ ’’چشمے‘‘ ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے۔ [35]﴿لِيَاۡكُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖ﴾ تاکہ یہ انھیں بطور خوراک، پھل، سالن اور لذت استعمال کریں۔ ﴿وَ﴾ حالانکہ ان پھلوں کو ﴿مَا عَمِلَتۡهُ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے ہاتھوں نے تخلیق نہیں کیا‘‘ ان میں ان کی کوئی صنعت کاری ہے نہ ان کی کسی کاری گری کا عمل دخل یہ تو اللہ، احکم الحاکمین اور خیرالرازقین کی تخلیق کا کمال ہے، نیز ان پھلوں کو ان لوگوں یا کسی اور نے آگ پر نہیں پکایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پھلوں کو اس طرح وجود بخشا ہے کہ ان کو آگ پر پکائے جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان پھلوں کو درختوں سے توڑ کر اسی وقت اور اسی حال میں کھایا جا سکتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ جس ہستی نے ان تک یہ نعمتیں پہنچائی، جس نے اپنے بے پایاں فضل و کرم کی بنا پر ان کو ایسے امور سے نوازا جن میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ تو یہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے زندہ کیا، اس میں کھیتیاں اور درخت اگائے، ان میں نہایت لذیذ اقسام کے پھل ودیعت کیے، ان پھلوں کو ان درختوں کی شاخوں پر نمایاں کیا اور خشک زمین پر پانی کے چشمے جاری کیے… مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [36]﴿سُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس (زمین) کی ہر چیز کے جوڑے بنائے۔‘‘ یعنی تمام اصناف کو تخلیق فرمایا ﴿مِمَّا تُنۢۡبِتُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’زمین کی نباتات سے‘‘ اس نے زمین میں ایسی ایسی اصناف تخلیق فرمائیں جن کو شمار کرنا بہت مشکل ہے۔ ﴿وَمِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ یعنی خود ان کو مرد اور عورت کی اصناف میں پیدا کیا، ان کی تخلیق، فطرت اور ان کے اوصاف ظاہرہ و باطنہ میں تفاوت پیدا کیا۔ ﴿وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور ان مخلوقات کی اصناف کو پیدا کیا جو ہمارے علم کی گرفت سے باہر ہیں اور وہ مخلوقات جو اس کے بعد پیدا ہی نہ کی گئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک، مددگار، معاون، وزیر، بیوی یا کوئی بیٹا ہو، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی صفات کمال اور نعوت جلال میں اس کا ہم سر، مثیل یا کوئی مشابہت کرنے والا ہو یا اسے کوئی اپنے ارادے سے باز رکھ سکے۔
36:35

لِيَأۡكُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتۡهُ أَيۡدِيهِمۡۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ

اور ایک نشانی ہے ان کے لیے زمین مردہ، زندہ کیا ہم نے اسے (بارش سے) اور نکالا ہم نے اس سے (اناج کا) دانہ، پس اسی (دانۂ اناج) سے وہ کھاتے ہیں (33) اور بنائے ہم نے (زمین) میں باغات کھجوروں اور انگوروں کے، اور جاری کیے ہم نے ان (باغوں ) میں چشمے (34) تاکہ کھائیں وہ اس کےپھلوں سے، اور نہیں بنایا اس کو ان کے ہاتھوں نے، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (35) پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے، سب کے ان چیزوں کے (بھی) جن کو اگاتی ہے زمین اور خود ان (انسانوں) کے اپنے بھی اور ان کے (بھی) جنھیں وہ نہیں جانتے (36) [33]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’ان کے لیے ایک نشانی ہے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر ونشر، حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزاوسزا پر دلیل ہے ﴿الۡاَرۡضُ الۡمَيۡتَةُ ﴾ ’’مردہ زمین‘‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ ﴿وَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں۔ [34]﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡهَا ﴾ یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے ﴿جَنّٰتٍ ﴾ باغات جن میں بے شمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں۔ ﴿وَّفَجَّرۡنَا فِيۡهَا ﴾ اور ہم نے اس میں جاری کیے یعنی زمین میں ﴿مِنَ الۡعُيُوۡنِ﴾ ’’چشمے‘‘ ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے۔ [35]﴿لِيَاۡكُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖ﴾ تاکہ یہ انھیں بطور خوراک، پھل، سالن اور لذت استعمال کریں۔ ﴿وَ﴾ حالانکہ ان پھلوں کو ﴿مَا عَمِلَتۡهُ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے ہاتھوں نے تخلیق نہیں کیا‘‘ ان میں ان کی کوئی صنعت کاری ہے نہ ان کی کسی کاری گری کا عمل دخل یہ تو اللہ، احکم الحاکمین اور خیرالرازقین کی تخلیق کا کمال ہے، نیز ان پھلوں کو ان لوگوں یا کسی اور نے آگ پر نہیں پکایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پھلوں کو اس طرح وجود بخشا ہے کہ ان کو آگ پر پکائے جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان پھلوں کو درختوں سے توڑ کر اسی وقت اور اسی حال میں کھایا جا سکتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ جس ہستی نے ان تک یہ نعمتیں پہنچائی، جس نے اپنے بے پایاں فضل و کرم کی بنا پر ان کو ایسے امور سے نوازا جن میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ تو یہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے زندہ کیا، اس میں کھیتیاں اور درخت اگائے، ان میں نہایت لذیذ اقسام کے پھل ودیعت کیے، ان پھلوں کو ان درختوں کی شاخوں پر نمایاں کیا اور خشک زمین پر پانی کے چشمے جاری کیے… مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [36]﴿سُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس (زمین) کی ہر چیز کے جوڑے بنائے۔‘‘ یعنی تمام اصناف کو تخلیق فرمایا ﴿مِمَّا تُنۢۡبِتُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’زمین کی نباتات سے‘‘ اس نے زمین میں ایسی ایسی اصناف تخلیق فرمائیں جن کو شمار کرنا بہت مشکل ہے۔ ﴿وَمِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ یعنی خود ان کو مرد اور عورت کی اصناف میں پیدا کیا، ان کی تخلیق، فطرت اور ان کے اوصاف ظاہرہ و باطنہ میں تفاوت پیدا کیا۔ ﴿وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور ان مخلوقات کی اصناف کو پیدا کیا جو ہمارے علم کی گرفت سے باہر ہیں اور وہ مخلوقات جو اس کے بعد پیدا ہی نہ کی گئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک، مددگار، معاون، وزیر، بیوی یا کوئی بیٹا ہو، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی صفات کمال اور نعوت جلال میں اس کا ہم سر، مثیل یا کوئی مشابہت کرنے والا ہو یا اسے کوئی اپنے ارادے سے باز رکھ سکے۔
36:36

سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَزۡوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلۡأَرۡضُ وَمِنۡ أَنفُسِهِمۡ وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُونَ

اور ایک نشانی ہے ان کے لیے زمین مردہ، زندہ کیا ہم نے اسے (بارش سے) اور نکالا ہم نے اس سے (اناج کا) دانہ، پس اسی (دانۂ اناج) سے وہ کھاتے ہیں (33) اور بنائے ہم نے (زمین) میں باغات کھجوروں اور انگوروں کے، اور جاری کیے ہم نے ان (باغوں ) میں چشمے (34) تاکہ کھائیں وہ اس کےپھلوں سے، اور نہیں بنایا اس کو ان کے ہاتھوں نے، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (35) پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے، سب کے ان چیزوں کے (بھی) جن کو اگاتی ہے زمین اور خود ان (انسانوں) کے اپنے بھی اور ان کے (بھی) جنھیں وہ نہیں جانتے (36) [33]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’ان کے لیے ایک نشانی ہے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر ونشر، حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزاوسزا پر دلیل ہے ﴿الۡاَرۡضُ الۡمَيۡتَةُ ﴾ ’’مردہ زمین‘‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ ﴿وَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں۔ [34]﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡهَا ﴾ یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے ﴿جَنّٰتٍ ﴾ باغات جن میں بے شمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں۔ ﴿وَّفَجَّرۡنَا فِيۡهَا ﴾ اور ہم نے اس میں جاری کیے یعنی زمین میں ﴿مِنَ الۡعُيُوۡنِ﴾ ’’چشمے‘‘ ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے۔ [35]﴿لِيَاۡكُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖ﴾ تاکہ یہ انھیں بطور خوراک، پھل، سالن اور لذت استعمال کریں۔ ﴿وَ﴾ حالانکہ ان پھلوں کو ﴿مَا عَمِلَتۡهُ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے ہاتھوں نے تخلیق نہیں کیا‘‘ ان میں ان کی کوئی صنعت کاری ہے نہ ان کی کسی کاری گری کا عمل دخل یہ تو اللہ، احکم الحاکمین اور خیرالرازقین کی تخلیق کا کمال ہے، نیز ان پھلوں کو ان لوگوں یا کسی اور نے آگ پر نہیں پکایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پھلوں کو اس طرح وجود بخشا ہے کہ ان کو آگ پر پکائے جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان پھلوں کو درختوں سے توڑ کر اسی وقت اور اسی حال میں کھایا جا سکتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ جس ہستی نے ان تک یہ نعمتیں پہنچائی، جس نے اپنے بے پایاں فضل و کرم کی بنا پر ان کو ایسے امور سے نوازا جن میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ تو یہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے زندہ کیا، اس میں کھیتیاں اور درخت اگائے، ان میں نہایت لذیذ اقسام کے پھل ودیعت کیے، ان پھلوں کو ان درختوں کی شاخوں پر نمایاں کیا اور خشک زمین پر پانی کے چشمے جاری کیے… مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [36]﴿سُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس (زمین) کی ہر چیز کے جوڑے بنائے۔‘‘ یعنی تمام اصناف کو تخلیق فرمایا ﴿مِمَّا تُنۢۡبِتُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’زمین کی نباتات سے‘‘ اس نے زمین میں ایسی ایسی اصناف تخلیق فرمائیں جن کو شمار کرنا بہت مشکل ہے۔ ﴿وَمِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ یعنی خود ان کو مرد اور عورت کی اصناف میں پیدا کیا، ان کی تخلیق، فطرت اور ان کے اوصاف ظاہرہ و باطنہ میں تفاوت پیدا کیا۔ ﴿وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور ان مخلوقات کی اصناف کو پیدا کیا جو ہمارے علم کی گرفت سے باہر ہیں اور وہ مخلوقات جو اس کے بعد پیدا ہی نہ کی گئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک، مددگار، معاون، وزیر، بیوی یا کوئی بیٹا ہو، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی صفات کمال اور نعوت جلال میں اس کا ہم سر، مثیل یا کوئی مشابہت کرنے والا ہو یا اسے کوئی اپنے ارادے سے باز رکھ سکے۔
36:37

وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلَّيۡلُ نَسۡلَخُ مِنۡهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظۡلِمُونَ

اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، کھینچ لیتے ہیں ہم اس (رات) سے دن کو، پس یکایک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں (37) اور سورج رواں دواں رہتا ہے اپنے ٹھکانے کے لیے ، یہ اندازہ ہے نہایت غالب خوب جاننے والے کا (38) اور چاند، مقرر کر دی ہیں ہم نے اس کی منزلیں، یہاں تک کہ ہو جاتا ہے وہ(ایسے) جیسے کھجور کے خوشے کی پرانی ٹیڑھی ڈنڈی (39) نہ سورج کو لائق ہے یہ کہ پکڑ لے وہ چاند کو اور نہ رات ہی پہل کرنے والی ہے دن سے، اور ہر ایک (ان میں سے اپنے اپنے) مدار میں تیرتے پھرتے ہیں (40) [37]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل ﴿الَّيۡلُ١ۖ ۚ نَسۡلَخُ مِنۡهُ النَّهَارَ ﴾ ’’رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین کو منور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا هُمۡ مُّظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘ [38] اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلوع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لیے روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَالشَّمۡسُ تَجۡرِيۡ لِمُسۡتَقَرٍّؔ لَّهَا﴾ سورج دائمی طور پر اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اس سے تجاوز کرتا ہے نہ کوتاہی اور نہ وہ اپنے آپ پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دم مار سکتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’یہ غالب ہستی کا اندازہ ہے۔‘‘ جس نے اپنے غلبہ و عزت کی بنا پر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی کامل ترین طریقے سے تدبیر اور بہترین طریقے سے انتظام کیا ﴿الۡعَلِيۡمِ﴾ جس نے اپنے علم کی بنا پر اپنے بندوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں مصالح مقرر فرمائے۔ [39]﴿وَالۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰهُ مَنَازِلَ ﴾ ’’اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔‘‘ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے ﴿حَتّٰى ﴾ یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے ﴿كَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِيۡمِ ﴾ ’’پرانی ٹہنی کی طرح‘‘ یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہو جاتی ہے۔ [40]﴿وَ كُلٌّ ﴾ ’’ اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے کوئی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کے لیے وقت مقرر ہے جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہو جاتا ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَا الشَّمۡسُ يَنۢۡبـَغِيۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ ﴾ ’’سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے‘‘ یعنی اس کی بادشاہی میں جو کہ رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہو۔ ﴿وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ ﴾’’اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی‘‘ کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔﴿وَكُلٌّ ﴾’’اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند اور ستارے ﴿فِيۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ ﴾ ’’سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آ جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔
36:38

وَٱلشَّمۡسُ تَجۡرِي لِمُسۡتَقَرّٖ لَّهَاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ

اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، کھینچ لیتے ہیں ہم اس (رات) سے دن کو، پس یکایک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں (37) اور سورج رواں دواں رہتا ہے اپنے ٹھکانے کے لیے ، یہ اندازہ ہے نہایت غالب خوب جاننے والے کا (38) اور چاند، مقرر کر دی ہیں ہم نے اس کی منزلیں، یہاں تک کہ ہو جاتا ہے وہ(ایسے) جیسے کھجور کے خوشے کی پرانی ٹیڑھی ڈنڈی (39) نہ سورج کو لائق ہے یہ کہ پکڑ لے وہ چاند کو اور نہ رات ہی پہل کرنے والی ہے دن سے، اور ہر ایک (ان میں سے اپنے اپنے) مدار میں تیرتے پھرتے ہیں (40) [37]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل ﴿الَّيۡلُ١ۖ ۚ نَسۡلَخُ مِنۡهُ النَّهَارَ ﴾ ’’رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین کو منور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا هُمۡ مُّظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘ [38] اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلوع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لیے روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَالشَّمۡسُ تَجۡرِيۡ لِمُسۡتَقَرٍّؔ لَّهَا﴾ سورج دائمی طور پر اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اس سے تجاوز کرتا ہے نہ کوتاہی اور نہ وہ اپنے آپ پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دم مار سکتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’یہ غالب ہستی کا اندازہ ہے۔‘‘ جس نے اپنے غلبہ و عزت کی بنا پر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی کامل ترین طریقے سے تدبیر اور بہترین طریقے سے انتظام کیا ﴿الۡعَلِيۡمِ﴾ جس نے اپنے علم کی بنا پر اپنے بندوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں مصالح مقرر فرمائے۔ [39]﴿وَالۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰهُ مَنَازِلَ ﴾ ’’اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔‘‘ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے ﴿حَتّٰى ﴾ یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے ﴿كَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِيۡمِ ﴾ ’’پرانی ٹہنی کی طرح‘‘ یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہو جاتی ہے۔ [40]﴿وَ كُلٌّ ﴾ ’’ اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے کوئی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کے لیے وقت مقرر ہے جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہو جاتا ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَا الشَّمۡسُ يَنۢۡبـَغِيۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ ﴾ ’’سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے‘‘ یعنی اس کی بادشاہی میں جو کہ رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہو۔ ﴿وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ ﴾’’اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی‘‘ کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔﴿وَكُلٌّ ﴾’’اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند اور ستارے ﴿فِيۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ ﴾ ’’سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آ جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔
36:39

وَٱلۡقَمَرَ قَدَّرۡنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلۡعُرۡجُونِ ٱلۡقَدِيمِ

اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، کھینچ لیتے ہیں ہم اس (رات) سے دن کو، پس یکایک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں (37) اور سورج رواں دواں رہتا ہے اپنے ٹھکانے کے لیے ، یہ اندازہ ہے نہایت غالب خوب جاننے والے کا (38) اور چاند، مقرر کر دی ہیں ہم نے اس کی منزلیں، یہاں تک کہ ہو جاتا ہے وہ(ایسے) جیسے کھجور کے خوشے کی پرانی ٹیڑھی ڈنڈی (39) نہ سورج کو لائق ہے یہ کہ پکڑ لے وہ چاند کو اور نہ رات ہی پہل کرنے والی ہے دن سے، اور ہر ایک (ان میں سے اپنے اپنے) مدار میں تیرتے پھرتے ہیں (40) [37]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل ﴿الَّيۡلُ١ۖ ۚ نَسۡلَخُ مِنۡهُ النَّهَارَ ﴾ ’’رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین کو منور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا هُمۡ مُّظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘ [38] اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلوع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لیے روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَالشَّمۡسُ تَجۡرِيۡ لِمُسۡتَقَرٍّؔ لَّهَا﴾ سورج دائمی طور پر اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اس سے تجاوز کرتا ہے نہ کوتاہی اور نہ وہ اپنے آپ پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دم مار سکتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’یہ غالب ہستی کا اندازہ ہے۔‘‘ جس نے اپنے غلبہ و عزت کی بنا پر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی کامل ترین طریقے سے تدبیر اور بہترین طریقے سے انتظام کیا ﴿الۡعَلِيۡمِ﴾ جس نے اپنے علم کی بنا پر اپنے بندوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں مصالح مقرر فرمائے۔ [39]﴿وَالۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰهُ مَنَازِلَ ﴾ ’’اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔‘‘ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے ﴿حَتّٰى ﴾ یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے ﴿كَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِيۡمِ ﴾ ’’پرانی ٹہنی کی طرح‘‘ یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہو جاتی ہے۔ [40]﴿وَ كُلٌّ ﴾ ’’ اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے کوئی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کے لیے وقت مقرر ہے جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہو جاتا ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَا الشَّمۡسُ يَنۢۡبـَغِيۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ ﴾ ’’سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے‘‘ یعنی اس کی بادشاہی میں جو کہ رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہو۔ ﴿وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ ﴾’’اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی‘‘ کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔﴿وَكُلٌّ ﴾’’اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند اور ستارے ﴿فِيۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ ﴾ ’’سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آ جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔
36:40

لَا ٱلشَّمۡسُ يَنۢبَغِي لَهَآ أَن تُدۡرِكَ ٱلۡقَمَرَ وَلَا ٱلَّيۡلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِۚ وَكُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ

اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، کھینچ لیتے ہیں ہم اس (رات) سے دن کو، پس یکایک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں (37) اور سورج رواں دواں رہتا ہے اپنے ٹھکانے کے لیے ، یہ اندازہ ہے نہایت غالب خوب جاننے والے کا (38) اور چاند، مقرر کر دی ہیں ہم نے اس کی منزلیں، یہاں تک کہ ہو جاتا ہے وہ(ایسے) جیسے کھجور کے خوشے کی پرانی ٹیڑھی ڈنڈی (39) نہ سورج کو لائق ہے یہ کہ پکڑ لے وہ چاند کو اور نہ رات ہی پہل کرنے والی ہے دن سے، اور ہر ایک (ان میں سے اپنے اپنے) مدار میں تیرتے پھرتے ہیں (40) [37]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل ﴿الَّيۡلُ١ۖ ۚ نَسۡلَخُ مِنۡهُ النَّهَارَ ﴾ ’’رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین کو منور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا هُمۡ مُّظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘ [38] اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلوع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لیے روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَالشَّمۡسُ تَجۡرِيۡ لِمُسۡتَقَرٍّؔ لَّهَا﴾ سورج دائمی طور پر اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اس سے تجاوز کرتا ہے نہ کوتاہی اور نہ وہ اپنے آپ پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دم مار سکتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’یہ غالب ہستی کا اندازہ ہے۔‘‘ جس نے اپنے غلبہ و عزت کی بنا پر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی کامل ترین طریقے سے تدبیر اور بہترین طریقے سے انتظام کیا ﴿الۡعَلِيۡمِ﴾ جس نے اپنے علم کی بنا پر اپنے بندوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں مصالح مقرر فرمائے۔ [39]﴿وَالۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰهُ مَنَازِلَ ﴾ ’’اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔‘‘ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے ﴿حَتّٰى ﴾ یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے ﴿كَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِيۡمِ ﴾ ’’پرانی ٹہنی کی طرح‘‘ یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہو جاتی ہے۔ [40]﴿وَ كُلٌّ ﴾ ’’ اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے کوئی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کے لیے وقت مقرر ہے جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہو جاتا ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَا الشَّمۡسُ يَنۢۡبـَغِيۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ ﴾ ’’سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے‘‘ یعنی اس کی بادشاہی میں جو کہ رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہو۔ ﴿وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ ﴾’’اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی‘‘ کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔﴿وَكُلٌّ ﴾’’اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند اور ستارے ﴿فِيۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ ﴾ ’’سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آ جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔
36:41

وَءَايَةٞ لَّهُمۡ أَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:42

وَخَلَقۡنَا لَهُم مِّن مِّثۡلِهِۦ مَا يَرۡكَبُونَ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:43

وَإِن نَّشَأۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيخَ لَهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنقَذُونَ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:44

إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّنَّا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٖ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:45

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّقُواْ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:46

وَمَا تَأۡتِيهِم مِّنۡ ءَايَةٖ مِّنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِمۡ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:47

وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنُطۡعِمُ مَن لَّوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطۡعَمَهُۥٓ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:48

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:49

مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ تَأۡخُذُهُمۡ وَهُمۡ يَخِصِّمُونَ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:50

فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ تَوۡصِيَةٗ وَلَآ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُونَ

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50) [41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔ [42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔ [43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ [44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔ [45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ [47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔ [48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ [50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:51

وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يَنسِلُونَ

اور پھونکا جائے گا صور، تو یکایک وہ اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑیں گے (51) کہیں گے، ہائے افسوس! کس نے اٹھایا ہمیں ہماری خواب گاہ سے؟ یہی ہے وہ جو وعدہ کیا تھا رحمٰن نے اور سچ کہا تھا رسولوں نے (52) نہیں ہو گی وہ مگر زور کی ایک آواز، پس یکایک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (53) پس آج نہیں ظلم کیا جائے گا کسی جان پر کچھ بھی اور نہ بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر وہی جو تھے تم عمل کرتے (54) [51] صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہو گی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لیے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کر سکیں گے۔ [52] اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿يٰوَيۡلَنَا مَنۢۡ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ﴾ ’’ہائے افسوس ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟‘‘ یعنی ہمیں ہماری قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا:﴿هٰؔذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمھارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمھاری آنکھوں کے سامنے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہو گا، مثلاً: فرمایا: ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِنِ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(الفرقان: 25؍26) ’’اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمان کا ہو گا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(طٰہٰ: 20؍108) ’’اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔‘‘ اور اس طرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر فرمایا ہے۔ [53]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ ’’نہیں ہوگا‘‘ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ۔‘‘ اسرافیلu صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے ﴿فَاِذَا هُمۡ جَمِيۡعٌ لَّـدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔ [54]﴿فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برائیوں میں اضافہ۔ ﴿وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی جس خیروشر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمھیں جزا و سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔
36:52

قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرۡقَدِنَاۜۗ هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلۡمُرۡسَلُونَ

اور پھونکا جائے گا صور، تو یکایک وہ اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑیں گے (51) کہیں گے، ہائے افسوس! کس نے اٹھایا ہمیں ہماری خواب گاہ سے؟ یہی ہے وہ جو وعدہ کیا تھا رحمٰن نے اور سچ کہا تھا رسولوں نے (52) نہیں ہو گی وہ مگر زور کی ایک آواز، پس یکایک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (53) پس آج نہیں ظلم کیا جائے گا کسی جان پر کچھ بھی اور نہ بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر وہی جو تھے تم عمل کرتے (54) [51] صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہو گی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لیے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کر سکیں گے۔ [52] اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿يٰوَيۡلَنَا مَنۢۡ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ﴾ ’’ہائے افسوس ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟‘‘ یعنی ہمیں ہماری قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا:﴿هٰؔذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمھارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمھاری آنکھوں کے سامنے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہو گا، مثلاً: فرمایا: ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِنِ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(الفرقان: 25؍26) ’’اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمان کا ہو گا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(طٰہٰ: 20؍108) ’’اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔‘‘ اور اس طرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر فرمایا ہے۔ [53]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ ’’نہیں ہوگا‘‘ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ۔‘‘ اسرافیلu صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے ﴿فَاِذَا هُمۡ جَمِيۡعٌ لَّـدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔ [54]﴿فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برائیوں میں اضافہ۔ ﴿وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی جس خیروشر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمھیں جزا و سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔
36:53

إِن كَانَتۡ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَإِذَا هُمۡ جَمِيعٞ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُونَ

اور پھونکا جائے گا صور، تو یکایک وہ اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑیں گے (51) کہیں گے، ہائے افسوس! کس نے اٹھایا ہمیں ہماری خواب گاہ سے؟ یہی ہے وہ جو وعدہ کیا تھا رحمٰن نے اور سچ کہا تھا رسولوں نے (52) نہیں ہو گی وہ مگر زور کی ایک آواز، پس یکایک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (53) پس آج نہیں ظلم کیا جائے گا کسی جان پر کچھ بھی اور نہ بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر وہی جو تھے تم عمل کرتے (54) [51] صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہو گی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لیے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کر سکیں گے۔ [52] اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿يٰوَيۡلَنَا مَنۢۡ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ﴾ ’’ہائے افسوس ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟‘‘ یعنی ہمیں ہماری قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا:﴿هٰؔذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمھارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمھاری آنکھوں کے سامنے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہو گا، مثلاً: فرمایا: ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِنِ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(الفرقان: 25؍26) ’’اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمان کا ہو گا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(طٰہٰ: 20؍108) ’’اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔‘‘ اور اس طرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر فرمایا ہے۔ [53]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ ’’نہیں ہوگا‘‘ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ۔‘‘ اسرافیلu صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے ﴿فَاِذَا هُمۡ جَمِيۡعٌ لَّـدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔ [54]﴿فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برائیوں میں اضافہ۔ ﴿وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی جس خیروشر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمھیں جزا و سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔
36:54

فَٱلۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٞ شَيۡـٔٗا وَلَا تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

اور پھونکا جائے گا صور، تو یکایک وہ اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑیں گے (51) کہیں گے، ہائے افسوس! کس نے اٹھایا ہمیں ہماری خواب گاہ سے؟ یہی ہے وہ جو وعدہ کیا تھا رحمٰن نے اور سچ کہا تھا رسولوں نے (52) نہیں ہو گی وہ مگر زور کی ایک آواز، پس یکایک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (53) پس آج نہیں ظلم کیا جائے گا کسی جان پر کچھ بھی اور نہ بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر وہی جو تھے تم عمل کرتے (54) [51] صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہو گی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لیے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کر سکیں گے۔ [52] اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿يٰوَيۡلَنَا مَنۢۡ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ﴾ ’’ہائے افسوس ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟‘‘ یعنی ہمیں ہماری قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا:﴿هٰؔذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمھارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمھاری آنکھوں کے سامنے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہو گا، مثلاً: فرمایا: ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِنِ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(الفرقان: 25؍26) ’’اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمان کا ہو گا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(طٰہٰ: 20؍108) ’’اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔‘‘ اور اس طرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر فرمایا ہے۔ [53]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ ’’نہیں ہوگا‘‘ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ۔‘‘ اسرافیلu صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے ﴿فَاِذَا هُمۡ جَمِيۡعٌ لَّـدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔ [54]﴿فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برائیوں میں اضافہ۔ ﴿وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی جس خیروشر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمھیں جزا و سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔
36:55

إِنَّ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ ٱلۡيَوۡمَ فِي شُغُلٖ فَٰكِهُونَ

بے شک جنتی آج (اپنے) شغل میں خوش ہوں گے (55) وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے (56) ان کے لیے اس میں میوہ ہو گا(ہر قسم کا) اور ان کے لیے وہ ہو گا جو وہ مانگیں گے (57) سلام کہا جائے گا (انھیں) نہایت مہربان رب کی طرف سے (58) [55، 56] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعمال کی جزا ملے گی تو دونوں فریقوں کی جزا و سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز ﴿فِيۡ شُغُلٍ فٰكِهُوۡنَ﴾ ’’لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے۔‘‘ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہو گی، ہر وہ چیز جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دوشیزاؤ ں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا:﴿هُمۡ وَاَزۡوَاجُهُمۡ ﴾ ’’وہ اور ان کی بیویاں‘‘ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ خوب سیرت بھی ہوں گی۔ ﴿فِيۡ ظِلٰلٍ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’سایوںمیں مسہریوں میں ہوں گے‘‘ یعنی وہ ایسی مسندوں پر بیٹھیں گے جو خوبصورت لباس سے مزین ہوں گی۔ ﴿مُتَّـكِــُٔوۡنَ ﴾ مسند پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ان کا تکیہ لگانا، کمال راحت، طمانیت اور لذت پر دلالت کرتا ہے۔ [57]﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ ﴾ اس میں ان کے لیے تمام قسم کے لذیذ پھل اور میوے بکثرت ہوں گے ، مثلاً: انگور، انجیر اور انار وغیرہ۔ ﴿وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ بھی وہ طلب کریں گے اور تمنا کریں گے، پا لیں گے۔ [58] نیز ان کو ﴿سَلٰمٌ ﴾ ’’سلام‘‘ حاصل ہوگا ﴿مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’مہربان رب کی طرف سے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے ساتھ کلام فرمائے گا اور ان پر اس کا سلام ہو گا اور اسے اپنے ارشاد ﴿قَوۡلًا ﴾ کے ذریعے سے مؤکد کیا اور جب رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام بھیجا جائے گا تو انھیں ہر لحاظ سے مکمل سلامتی حاصل ہو گی۔ انھیں سلام کہا جائے گا جس سے بڑھ کر کوئی سلام نہیں اور اس جیسی کوئی نعمت نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے بادشاہوں کے بادشاہ، رب عظیم اور رؤ ف و رحیم کی طرف سے اکرام و تکریم کے گھر میں رہنے والے ان لوگوں کو بھیجا گیا سلام کیسا ہو گا، جن پر اس کی رضا سایہ کناں اور ناراضی ہمیشہ کے لیے دور ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے موت مقدر کی ہوتی یا فرحت و سرور کی وجہ سے حرکت قلب کا بند ہو جانا مقرر کیا ہوتا تو وہ خوشی سے ضرور مر جاتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہیں کرے گا اور ہمیں اپنے چہرۂ اقدس کا دیدار کرائے گا۔
36:56

هُمۡ وَأَزۡوَٰجُهُمۡ فِي ظِلَٰلٍ عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ مُتَّكِـُٔونَ

بے شک جنتی آج (اپنے) شغل میں خوش ہوں گے (55) وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے (56) ان کے لیے اس میں میوہ ہو گا(ہر قسم کا) اور ان کے لیے وہ ہو گا جو وہ مانگیں گے (57) سلام کہا جائے گا (انھیں) نہایت مہربان رب کی طرف سے (58) [55، 56] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعمال کی جزا ملے گی تو دونوں فریقوں کی جزا و سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز ﴿فِيۡ شُغُلٍ فٰكِهُوۡنَ﴾ ’’لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے۔‘‘ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہو گی، ہر وہ چیز جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دوشیزاؤ ں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا:﴿هُمۡ وَاَزۡوَاجُهُمۡ ﴾ ’’وہ اور ان کی بیویاں‘‘ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ خوب سیرت بھی ہوں گی۔ ﴿فِيۡ ظِلٰلٍ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’سایوںمیں مسہریوں میں ہوں گے‘‘ یعنی وہ ایسی مسندوں پر بیٹھیں گے جو خوبصورت لباس سے مزین ہوں گی۔ ﴿مُتَّـكِــُٔوۡنَ ﴾ مسند پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ان کا تکیہ لگانا، کمال راحت، طمانیت اور لذت پر دلالت کرتا ہے۔ [57]﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ ﴾ اس میں ان کے لیے تمام قسم کے لذیذ پھل اور میوے بکثرت ہوں گے ، مثلاً: انگور، انجیر اور انار وغیرہ۔ ﴿وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ بھی وہ طلب کریں گے اور تمنا کریں گے، پا لیں گے۔ [58] نیز ان کو ﴿سَلٰمٌ ﴾ ’’سلام‘‘ حاصل ہوگا ﴿مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’مہربان رب کی طرف سے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے ساتھ کلام فرمائے گا اور ان پر اس کا سلام ہو گا اور اسے اپنے ارشاد ﴿قَوۡلًا ﴾ کے ذریعے سے مؤکد کیا اور جب رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام بھیجا جائے گا تو انھیں ہر لحاظ سے مکمل سلامتی حاصل ہو گی۔ انھیں سلام کہا جائے گا جس سے بڑھ کر کوئی سلام نہیں اور اس جیسی کوئی نعمت نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے بادشاہوں کے بادشاہ، رب عظیم اور رؤ ف و رحیم کی طرف سے اکرام و تکریم کے گھر میں رہنے والے ان لوگوں کو بھیجا گیا سلام کیسا ہو گا، جن پر اس کی رضا سایہ کناں اور ناراضی ہمیشہ کے لیے دور ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے موت مقدر کی ہوتی یا فرحت و سرور کی وجہ سے حرکت قلب کا بند ہو جانا مقرر کیا ہوتا تو وہ خوشی سے ضرور مر جاتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہیں کرے گا اور ہمیں اپنے چہرۂ اقدس کا دیدار کرائے گا۔
36:57

لَهُمۡ فِيهَا فَٰكِهَةٞ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ

بے شک جنتی آج (اپنے) شغل میں خوش ہوں گے (55) وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے (56) ان کے لیے اس میں میوہ ہو گا(ہر قسم کا) اور ان کے لیے وہ ہو گا جو وہ مانگیں گے (57) سلام کہا جائے گا (انھیں) نہایت مہربان رب کی طرف سے (58) [55، 56] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعمال کی جزا ملے گی تو دونوں فریقوں کی جزا و سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز ﴿فِيۡ شُغُلٍ فٰكِهُوۡنَ﴾ ’’لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے۔‘‘ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہو گی، ہر وہ چیز جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دوشیزاؤ ں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا:﴿هُمۡ وَاَزۡوَاجُهُمۡ ﴾ ’’وہ اور ان کی بیویاں‘‘ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ خوب سیرت بھی ہوں گی۔ ﴿فِيۡ ظِلٰلٍ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’سایوںمیں مسہریوں میں ہوں گے‘‘ یعنی وہ ایسی مسندوں پر بیٹھیں گے جو خوبصورت لباس سے مزین ہوں گی۔ ﴿مُتَّـكِــُٔوۡنَ ﴾ مسند پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ان کا تکیہ لگانا، کمال راحت، طمانیت اور لذت پر دلالت کرتا ہے۔ [57]﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ ﴾ اس میں ان کے لیے تمام قسم کے لذیذ پھل اور میوے بکثرت ہوں گے ، مثلاً: انگور، انجیر اور انار وغیرہ۔ ﴿وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ بھی وہ طلب کریں گے اور تمنا کریں گے، پا لیں گے۔ [58] نیز ان کو ﴿سَلٰمٌ ﴾ ’’سلام‘‘ حاصل ہوگا ﴿مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’مہربان رب کی طرف سے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے ساتھ کلام فرمائے گا اور ان پر اس کا سلام ہو گا اور اسے اپنے ارشاد ﴿قَوۡلًا ﴾ کے ذریعے سے مؤکد کیا اور جب رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام بھیجا جائے گا تو انھیں ہر لحاظ سے مکمل سلامتی حاصل ہو گی۔ انھیں سلام کہا جائے گا جس سے بڑھ کر کوئی سلام نہیں اور اس جیسی کوئی نعمت نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے بادشاہوں کے بادشاہ، رب عظیم اور رؤ ف و رحیم کی طرف سے اکرام و تکریم کے گھر میں رہنے والے ان لوگوں کو بھیجا گیا سلام کیسا ہو گا، جن پر اس کی رضا سایہ کناں اور ناراضی ہمیشہ کے لیے دور ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے موت مقدر کی ہوتی یا فرحت و سرور کی وجہ سے حرکت قلب کا بند ہو جانا مقرر کیا ہوتا تو وہ خوشی سے ضرور مر جاتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہیں کرے گا اور ہمیں اپنے چہرۂ اقدس کا دیدار کرائے گا۔
36:58

سَلَٰمٞ قَوۡلٗا مِّن رَّبّٖ رَّحِيمٖ

بے شک جنتی آج (اپنے) شغل میں خوش ہوں گے (55) وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے (56) ان کے لیے اس میں میوہ ہو گا(ہر قسم کا) اور ان کے لیے وہ ہو گا جو وہ مانگیں گے (57) سلام کہا جائے گا (انھیں) نہایت مہربان رب کی طرف سے (58) [55، 56] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعمال کی جزا ملے گی تو دونوں فریقوں کی جزا و سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز ﴿فِيۡ شُغُلٍ فٰكِهُوۡنَ﴾ ’’لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے۔‘‘ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہو گی، ہر وہ چیز جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دوشیزاؤ ں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا:﴿هُمۡ وَاَزۡوَاجُهُمۡ ﴾ ’’وہ اور ان کی بیویاں‘‘ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ خوب سیرت بھی ہوں گی۔ ﴿فِيۡ ظِلٰلٍ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’سایوںمیں مسہریوں میں ہوں گے‘‘ یعنی وہ ایسی مسندوں پر بیٹھیں گے جو خوبصورت لباس سے مزین ہوں گی۔ ﴿مُتَّـكِــُٔوۡنَ ﴾ مسند پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ان کا تکیہ لگانا، کمال راحت، طمانیت اور لذت پر دلالت کرتا ہے۔ [57]﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ ﴾ اس میں ان کے لیے تمام قسم کے لذیذ پھل اور میوے بکثرت ہوں گے ، مثلاً: انگور، انجیر اور انار وغیرہ۔ ﴿وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ بھی وہ طلب کریں گے اور تمنا کریں گے، پا لیں گے۔ [58] نیز ان کو ﴿سَلٰمٌ ﴾ ’’سلام‘‘ حاصل ہوگا ﴿مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’مہربان رب کی طرف سے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے ساتھ کلام فرمائے گا اور ان پر اس کا سلام ہو گا اور اسے اپنے ارشاد ﴿قَوۡلًا ﴾ کے ذریعے سے مؤکد کیا اور جب رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام بھیجا جائے گا تو انھیں ہر لحاظ سے مکمل سلامتی حاصل ہو گی۔ انھیں سلام کہا جائے گا جس سے بڑھ کر کوئی سلام نہیں اور اس جیسی کوئی نعمت نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے بادشاہوں کے بادشاہ، رب عظیم اور رؤ ف و رحیم کی طرف سے اکرام و تکریم کے گھر میں رہنے والے ان لوگوں کو بھیجا گیا سلام کیسا ہو گا، جن پر اس کی رضا سایہ کناں اور ناراضی ہمیشہ کے لیے دور ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے موت مقدر کی ہوتی یا فرحت و سرور کی وجہ سے حرکت قلب کا بند ہو جانا مقرر کیا ہوتا تو وہ خوشی سے ضرور مر جاتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہیں کرے گا اور ہمیں اپنے چہرۂ اقدس کا دیدار کرائے گا۔
36:59

وَٱمۡتَٰزُواْ ٱلۡيَوۡمَ أَيُّهَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67) [59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے: [60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔ [61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔ [62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ [63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔ [64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ [65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ [66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔ [67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:60

۞أَلَمۡ أَعۡهَدۡ إِلَيۡكُمۡ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعۡبُدُواْ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67) [59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے: [60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔ [61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔ [62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ [63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔ [64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ [65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ [66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔ [67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:61

وَأَنِ ٱعۡبُدُونِيۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67) [59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے: [60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔ [61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔ [62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ [63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔ [64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ [65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ [66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔ [67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:62

وَلَقَدۡ أَضَلَّ مِنكُمۡ جِبِلّٗا كَثِيرًاۖ أَفَلَمۡ تَكُونُواْ تَعۡقِلُونَ

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67) [59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے: [60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔ [61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔ [62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ [63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔ [64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ [65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ [66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔ [67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:63

هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67) [59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے: [60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔ [61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔ [62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ [63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔ [64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ [65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ [66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔ [67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:64

ٱصۡلَوۡهَا ٱلۡيَوۡمَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67) [59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے: [60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔ [61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔ [62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ [63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔ [64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ [65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ [66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔ [67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:65

ٱلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلَىٰٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَتُكَلِّمُنَآ أَيۡدِيهِمۡ وَتَشۡهَدُ أَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67) [59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے: [60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔ [61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔ [62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ [63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔ [64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ [65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ [66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔ [67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:66

وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلَىٰٓ أَعۡيُنِهِمۡ فَٱسۡتَبَقُواْ ٱلصِّرَٰطَ فَأَنَّىٰ يُبۡصِرُونَ

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67) [59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے: [60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔ [61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔ [62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ [63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔ [64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ [65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ [66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔ [67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:67

وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمۡ فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مُضِيّٗا وَلَا يَرۡجِعُونَ

الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67) [59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے: [60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔ [61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔ [62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔ [63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔ [64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔ [65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ [66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔ [67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:68

وَمَن نُّعَمِّرۡهُ نُنَكِّسۡهُ فِي ٱلۡخَلۡقِۚ أَفَلَا يَعۡقِلُونَ

اور جو شخص کہ عمر دیں ہم اس کو (زیادہ) تو الٹا دیتے ہیں ہم اس کو پیدائش میں، کیا پس نہیں وہ عقل رکھتے؟ (68) [68]﴿وَمَنۡ نُّعَمِّرۡهُ ﴾ ’’اور ہم جس کو بڑی عمر دیتے ہیں۔‘‘ یعنی بنی آدم میں سے ﴿نُنَكِّسۡهُ فِي الۡخَلۡقِ ﴾ یعنی وہ اسی حالت کی طرف لوٹ آتا ہے جس سے ابتدا کی تھی، یعنی ضعف عقل اور ضعف قوت کی طرف۔ ﴿اَفَلَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا وہ سمجھتے نہیں۔‘‘ آدمی ہر لحاظ سے ناقص ہے۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنی قوت اور عقل کا تدارک کریں اور انھیں اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں۔
36:69

وَمَا عَلَّمۡنَٰهُ ٱلشِّعۡرَ وَمَا يَنۢبَغِي لَهُۥٓۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ وَقُرۡءَانٞ مُّبِينٞ

اور نہیں سکھایا ہم نے اس (رسول) کو شعر کہنا اور نہ(یہ) لائق ہی تھا اس کے، نہیں ہے وہ (کلام الٰہی) مگر ایک نصیحت اور قرآن واضح(69) تاکہ ڈرائے وہ اس کو جو ہے زندہ اور ثابت ہو جائے بات (اللہ کی) اوپر کافروں کے (70) [69] مشرکین نبی مصطفی ﷺ پر شاعر ہونے کا بہتان لگایا کرتے تھے نیز یہ کہ جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں وہ شاعری ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو شاعری سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾ یعنی آپ کے لیے مناسب نہیں ہے کہ آپ شاعری کریں۔ یعنی آپ کا شاعر ہونا جنس محال میں سے ہے۔ آپ تو ہدایت یافتہ ہیں جبکہ شعراء گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ لوگ ہی ان شعراء کی پیروی کرتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے تمام شبہات کو دور کر دیا جن کا یہ گمراہ لوگ سہارا لیا کرتے ہیں ، چنانچہ اس شبہ کو بھی ختم کر دیا کہ آپ لکھ سکتے ہیں یا پڑھ سکتے ہیں اور آگاہ فرمایا کہ اس نے آپ کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ شاعری آپ کے شایان شان ہے:﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾یعنی یہ چیز جو محمد رسول ﷺ لے کر آئے ہیں ’’ذکر‘‘ ہے جس سے عقل مند لوگ تمام دینی مطالب میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں، وہ تمام دینی مطالب پر کامل ترین طریقے سے مشتمل ہے اور وہ عقلوں کو اس چیز کی یاددہانی کرواتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اچھے کام کرنے کے حکم اور برے کاموں سے ممانعت کے طور پر انسانی فطرت میں ودیعت کر دیا ہے۔﴿وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور واضح قرآن ہے‘‘ یعنی جن امور کی تبیین مطلوب ہے ان سب کو بیان کرتا ہے۔ اس لیے معمول کو حذف کر دیا تاکہ وہ اس حقیقت پر دلالت کرے کہ وہ پورے حق کو اور باطل کے بطلان کو اجمالی اور تفصیلی دلائل کے ذریعے سے بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے رسول ﷺ پر اسی طرح نازل فرمایا۔ [70]﴿لِّيُنۡذِرَ مَنۡ كَانَ حَيًّا ﴾ ’’تاکہ اس شخص کو، جو زندہ ہو، متنبہ کرے۔‘‘ یعنی جو شخص دل زندہ رکھتا ہے وہی اس قرآن کے لائق ہے، اسی شخص کے علم و عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن اس کے دل کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو نہایت عمدہ اور زرخیز زمین کے لیے بارش کی حیثیت ہوتی ہے۔ ﴿وَّيَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں پر بات پوری ہوجائے۔‘‘ کیونکہ ان پر حجت الٰہی قائم ہو گئی اور ان کی حجت منقطع ہو گئی اور ان کے پاس ایک ادنیٰ سا عذر اور شبہ باقی نہیں رہا جس کا وہ سہارا لے سکیں۔
36:70

لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّٗا وَيَحِقَّ ٱلۡقَوۡلُ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ

اور نہیں سکھایا ہم نے اس (رسول) کو شعر کہنا اور نہ(یہ) لائق ہی تھا اس کے، نہیں ہے وہ (کلام الٰہی) مگر ایک نصیحت اور قرآن واضح(69) تاکہ ڈرائے وہ اس کو جو ہے زندہ اور ثابت ہو جائے بات (اللہ کی) اوپر کافروں کے (70) [69] مشرکین نبی مصطفی ﷺ پر شاعر ہونے کا بہتان لگایا کرتے تھے نیز یہ کہ جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں وہ شاعری ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو شاعری سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾ یعنی آپ کے لیے مناسب نہیں ہے کہ آپ شاعری کریں۔ یعنی آپ کا شاعر ہونا جنس محال میں سے ہے۔ آپ تو ہدایت یافتہ ہیں جبکہ شعراء گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ لوگ ہی ان شعراء کی پیروی کرتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے تمام شبہات کو دور کر دیا جن کا یہ گمراہ لوگ سہارا لیا کرتے ہیں ، چنانچہ اس شبہ کو بھی ختم کر دیا کہ آپ لکھ سکتے ہیں یا پڑھ سکتے ہیں اور آگاہ فرمایا کہ اس نے آپ کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ شاعری آپ کے شایان شان ہے:﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾یعنی یہ چیز جو محمد رسول ﷺ لے کر آئے ہیں ’’ذکر‘‘ ہے جس سے عقل مند لوگ تمام دینی مطالب میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں، وہ تمام دینی مطالب پر کامل ترین طریقے سے مشتمل ہے اور وہ عقلوں کو اس چیز کی یاددہانی کرواتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اچھے کام کرنے کے حکم اور برے کاموں سے ممانعت کے طور پر انسانی فطرت میں ودیعت کر دیا ہے۔﴿وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور واضح قرآن ہے‘‘ یعنی جن امور کی تبیین مطلوب ہے ان سب کو بیان کرتا ہے۔ اس لیے معمول کو حذف کر دیا تاکہ وہ اس حقیقت پر دلالت کرے کہ وہ پورے حق کو اور باطل کے بطلان کو اجمالی اور تفصیلی دلائل کے ذریعے سے بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے رسول ﷺ پر اسی طرح نازل فرمایا۔ [70]﴿لِّيُنۡذِرَ مَنۡ كَانَ حَيًّا ﴾ ’’تاکہ اس شخص کو، جو زندہ ہو، متنبہ کرے۔‘‘ یعنی جو شخص دل زندہ رکھتا ہے وہی اس قرآن کے لائق ہے، اسی شخص کے علم و عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن اس کے دل کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو نہایت عمدہ اور زرخیز زمین کے لیے بارش کی حیثیت ہوتی ہے۔ ﴿وَّيَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں پر بات پوری ہوجائے۔‘‘ کیونکہ ان پر حجت الٰہی قائم ہو گئی اور ان کی حجت منقطع ہو گئی اور ان کے پاس ایک ادنیٰ سا عذر اور شبہ باقی نہیں رہا جس کا وہ سہارا لے سکیں۔
36:71

أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا خَلَقۡنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتۡ أَيۡدِينَآ أَنۡعَٰمٗا فَهُمۡ لَهَا مَٰلِكُونَ

کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم نے پیدا کیے ان کے لیے، ان میں سے جن کو بنایا ہمارے ہاتھوں نے، چار پائے۔ پس وہ ان کے مالک ہیں (71) اور تابع کر دیا ہم نے ان کو ان کے لیے، پس کچھ ان میں سے سواریاں ہیں ان کی اور کچھ کو ان میں سے وہ کھاتے ہیں (72) اور ان کے لیے ان میں فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (73) [73-71] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کریں کہ اس نے مویشیوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا اور ان کو ان مویشیوں کا مالک بنایا، ان مویشیوں کے اندر ان کے لیے بے شمار فوائد رکھے، چنانچہ وہ ان پر سواری کرتے ہیں، ان پر بوجھ لادتے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں، ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں، ان کی اون، ان کی پشم اور ان کے بالوں میں ایک مدت تک ان کے لیے اثاثہ اور فائدہ ہے، نیز ان مویشیوں میں ان کے لیے زینت و جمال اور دیگر فوائد ہیں جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے‘‘ اس اللہ تعالیٰ کا جس نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا ہے؟ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خالص کریں اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح فائدہ نہ اٹھائیں کہ وہ عبرت اور غوروفکر سے خالی ہو۔
36:72

وَذَلَّلۡنَٰهَا لَهُمۡ فَمِنۡهَا رَكُوبُهُمۡ وَمِنۡهَا يَأۡكُلُونَ

کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم نے پیدا کیے ان کے لیے، ان میں سے جن کو بنایا ہمارے ہاتھوں نے، چار پائے۔ پس وہ ان کے مالک ہیں (71) اور تابع کر دیا ہم نے ان کو ان کے لیے، پس کچھ ان میں سے سواریاں ہیں ان کی اور کچھ کو ان میں سے وہ کھاتے ہیں (72) اور ان کے لیے ان میں فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (73) [73-71] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کریں کہ اس نے مویشیوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا اور ان کو ان مویشیوں کا مالک بنایا، ان مویشیوں کے اندر ان کے لیے بے شمار فوائد رکھے، چنانچہ وہ ان پر سواری کرتے ہیں، ان پر بوجھ لادتے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں، ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں، ان کی اون، ان کی پشم اور ان کے بالوں میں ایک مدت تک ان کے لیے اثاثہ اور فائدہ ہے، نیز ان مویشیوں میں ان کے لیے زینت و جمال اور دیگر فوائد ہیں جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے‘‘ اس اللہ تعالیٰ کا جس نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا ہے؟ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خالص کریں اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح فائدہ نہ اٹھائیں کہ وہ عبرت اور غوروفکر سے خالی ہو۔
36:73

وَلَهُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَمَشَارِبُۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ

کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم نے پیدا کیے ان کے لیے، ان میں سے جن کو بنایا ہمارے ہاتھوں نے، چار پائے۔ پس وہ ان کے مالک ہیں (71) اور تابع کر دیا ہم نے ان کو ان کے لیے، پس کچھ ان میں سے سواریاں ہیں ان کی اور کچھ کو ان میں سے وہ کھاتے ہیں (72) اور ان کے لیے ان میں فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (73) [73-71] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کریں کہ اس نے مویشیوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا اور ان کو ان مویشیوں کا مالک بنایا، ان مویشیوں کے اندر ان کے لیے بے شمار فوائد رکھے، چنانچہ وہ ان پر سواری کرتے ہیں، ان پر بوجھ لادتے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں، ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں، ان کی اون، ان کی پشم اور ان کے بالوں میں ایک مدت تک ان کے لیے اثاثہ اور فائدہ ہے، نیز ان مویشیوں میں ان کے لیے زینت و جمال اور دیگر فوائد ہیں جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے‘‘ اس اللہ تعالیٰ کا جس نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا ہے؟ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو خالص کریں اور وہ ان نعمتوں سے اس طرح فائدہ نہ اٹھائیں کہ وہ عبرت اور غوروفکر سے خالی ہو۔
36:74

وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِهَةٗ لَّعَلَّهُمۡ يُنصَرُونَ

اور بنالیے انھوں نے سوائے اللہ کے، کئی معبود، تاکہ وہ مدد کیے جائیں (74) نہیں طاقت رکھتے وہ (معبود) ان کی مدد کرنے کی اور وہ (مشرکین) تو خود ان (بتوں) کے (حمایتی) لشکر ہیں، حاضر کیے گئے (75) [74، 75] یہ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا بیان ہے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے مدد اور سفارش کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ وہ انتہائی عاجز ہیں ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ ﴾ ’’نہ وہ ان کی مدد کر سکتے ہیں‘‘ اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔ جب وہ اپنی مدد نہیں کر سکتے تو وہ ان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ مدد کرنا دو امور سے مشروط ہے، استطاعت اور ارادہ۔ جب کوئی مدد کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو ایک چیز باقی رہ جاتی ہے کہ آیا وہ اپنے عبادت گزار بندے کی مدد کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ استطاعت کی نفی سے دونوں امور کی نفی ہو جاتی ہے۔ ﴿وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ان کی فوج ہوکر حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ان کے حاضر باش لشکر ہوں گے۔ وہ سب عذاب میں ڈالے جائیں گے اور ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کریں گے۔ انھوں نے دنیا میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے براء ت کا اظہار کر کے اپنی عبادت کو اسی ہستی کے لیے خالص کیوں نہیں کیا جس کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، عطا کرنا اور محروم کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور وہی والی اور مددگار ہے۔
36:75

لَا يَسۡتَطِيعُونَ نَصۡرَهُمۡ وَهُمۡ لَهُمۡ جُندٞ مُّحۡضَرُونَ

اور بنالیے انھوں نے سوائے اللہ کے، کئی معبود، تاکہ وہ مدد کیے جائیں (74) نہیں طاقت رکھتے وہ (معبود) ان کی مدد کرنے کی اور وہ (مشرکین) تو خود ان (بتوں) کے (حمایتی) لشکر ہیں، حاضر کیے گئے (75) [74، 75] یہ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کے بطلان کا بیان ہے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے مدد اور سفارش کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ وہ انتہائی عاجز ہیں ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ ﴾ ’’نہ وہ ان کی مدد کر سکتے ہیں‘‘ اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔ جب وہ اپنی مدد نہیں کر سکتے تو وہ ان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ مدد کرنا دو امور سے مشروط ہے، استطاعت اور ارادہ۔ جب کوئی مدد کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو ایک چیز باقی رہ جاتی ہے کہ آیا وہ اپنے عبادت گزار بندے کی مدد کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ استطاعت کی نفی سے دونوں امور کی نفی ہو جاتی ہے۔ ﴿وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ان کی فوج ہوکر حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ان کے حاضر باش لشکر ہوں گے۔ وہ سب عذاب میں ڈالے جائیں گے اور ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کریں گے۔ انھوں نے دنیا میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے براء ت کا اظہار کر کے اپنی عبادت کو اسی ہستی کے لیے خالص کیوں نہیں کیا جس کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، عطا کرنا اور محروم کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور وہی والی اور مددگار ہے۔
36:76

فَلَا يَحۡزُنكَ قَوۡلُهُمۡۘ إِنَّا نَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَ

پس نہ غم میں ڈالیں آپ کو ان کی باتیں، بلاشبہ ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں (76) [76] اے رسول! جھٹلانے والوں کی باتیں آپ کو غم زدہ نہ کریں یہاں ’’باتوں‘‘ سے مراد وہ باتیں ہے جن پر سیاق آیت دلالت کرتا ہے، یعنی ہر وہ بات جو رسول اور اس کی لائی ہوئی کتاب میں عیب لگاتی ہو۔ یعنی آپ کا دل ان کے غم میں مشغول نہ ہو ﴿اِنَّا نَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہم سب جانتے ہیں۔‘‘ اس لیے ہم ان کو اپنے علم کے مطابق جزاوسزا دیں گے۔ ان کی باتیں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ ان آیات کریمہ میں، منکرین قیامت کے شبہات اور ان کے مکمل، بہترین اور واضح جواب کا ذکر کیا گیا ہے۔
36:77

أَوَلَمۡ يَرَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقۡنَٰهُ مِن نُّطۡفَةٖ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٞ مُّبِينٞ

کیا نہیں دیکھا انسان نے، بے شک پیدا کیا ہم نے اس کو قطرۂ منی سے پس ناگہاں (ہوگیا) وہ جھگڑنے والا ظاہر (77) اور بیان کی اس نے ہمارے لیے مثال اور وہ بھول گیا اپنی پیدائش کو، اس نے کہا: کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ (78)کہہ دیجیے: زندہ کرے گا ان کو وہی (اللہ) جس نے پیدا کیا ان کو پہلی مرتبہ، اور وہ ہر طرح کے پیدا کرنے کو خوب جانتا ہے(79) وہ (اللہ) جس نے بنا دی تمھارے لیے سبز درخت سے آگ، پھر یکایک تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو(80)کیا نہیں وہ (اللہ) جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قدرت رکھنے والا اس بات پر کہ پیدا کر ے وہ ان کی مثل؟ کیوں نہیں! وہی تو ہے پیدا کرنے والا، جاننے والا (81) یقیناً اس کا حکم، جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا یہ (ہوتا ہے) کہ وہ کہتا ہے اس کو، ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے (82) پس پاک ہے وہ (اللہ) کہ جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (83) [77] چنانچہ فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے میں غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے ﴿مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’نطفے سے‘‘ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر جوان ہو جاتا ہے اور اس کی عقل کامل اور درست ہو جاتی ہے ﴿فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھتا ہے‘‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتدا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت میں غور کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی جو اسے عدم سے وجود میں لائی ہے زیادہ قدرت رکھتی ہے کہ اس کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے۔ [78]﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا ﴾ ’’اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی۔‘‘ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس قسم کی مثال بیان کرے اور وہ ہے خالق کی قدرت کا مخلوق کی قدرت کے ساتھ قیاس کرنا، نیز یہ قیاس کرنا کہ جو چیز مخلوق کی قدرت سے بعید ہے وہ خالق کی قدرت سے بھی بعید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قَالَ ﴾ یعنی اس انسان نے کہا: ﴿مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ ﴾ یعنی کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو ان ہڈیوں کو زندہ کرے گی؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان ہڈیوں کے بوسیدہ اور معدوم ہو جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ شبہ اور مثال کا یہی پہلو ہے کہ یہ معاملہ بشر کی قدرت سے بہت بعید ہے۔ یہ قول جو انسان سے صادر ہوا ہے اس کی غفلت پر مبنی ہے، نیز وہ اپنی تخلیق کی ابتدا کو بھول گیا ہے۔ اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا کہ کیسے اس کو پیدا کیا گیا جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا تو وہ اعادۂ تخلیق کو عیاں پاتا اور یہ مثال بیان نہ کرتا۔ [79] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے اعادۂ تخلیق کے محال ہونے کے شبے کا کافی اور شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی وہ مجرد اپنے تصور ہی سے کسی شبے کے بغیر، یقینی طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ ہستی جس نے اسے پہلی مرتبہ وجود بخشا، وہ دوسری مرتبہ اس کے اعادہ پر قادر ہے۔ جب تصور کرنے والا تصور کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ اعادۂ تخلیق بہت معمولی نظر آتا ہے۔ ﴿وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے دوسری دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی تمام مخلوقات کا، ان کے تمام احوال کا تمام اوقات میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مردوں کے اجساد خاکی میں سے کیا چیز کم ہو رہی ہے اور کیا چیز باقی ہے۔ وہ غائب اور شاہد ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم علم کا اقرار کر لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو مُردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل ہے۔ [80] پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّؔنۡهُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴾ جب وہ سرسبز درخت سے جو مکمل طور پر گیلا ہوتا ہے خشک آگ نکال سکتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں سخت تضاد اور تخالف ہے، تو وہ اسی طرح مردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ [81] پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَيۡسَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ یعنی کیا جس ہستی نے آسمانوں اور زمین کی وسعت اور عظمت کے باوجود، ان کو تخلیق فرمایا۔ ﴿بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ کیا وہ ان کو بعینہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ﴿بَلٰى ﴾ ’’کیوں نہیں‘‘ وہ ان کو دوبارہ وجود بخشے پر قادر ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل اور زیادہ بڑی ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یہ پانچویں دلیل خاص ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تمام مخلوقات خواہ پہلے گزر چکی ہوں یاآنے والی ، چھوٹی ہوں یا بڑی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور قدرت کے آثار ہیں۔ جب وہ کسی مخلوق کو تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کی تخلیق کے آثار کا ایک حصہ ہے۔ [82] اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنۡ يَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔‘‘ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔ [83]﴿فَسُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔
36:78

وَضَرَبَ لَنَا مَثَلٗا وَنَسِيَ خَلۡقَهُۥۖ قَالَ مَن يُحۡيِ ٱلۡعِظَٰمَ وَهِيَ رَمِيمٞ

کیا نہیں دیکھا انسان نے، بے شک پیدا کیا ہم نے اس کو قطرۂ منی سے پس ناگہاں (ہوگیا) وہ جھگڑنے والا ظاہر (77) اور بیان کی اس نے ہمارے لیے مثال اور وہ بھول گیا اپنی پیدائش کو، اس نے کہا: کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ (78)کہہ دیجیے: زندہ کرے گا ان کو وہی (اللہ) جس نے پیدا کیا ان کو پہلی مرتبہ، اور وہ ہر طرح کے پیدا کرنے کو خوب جانتا ہے(79) وہ (اللہ) جس نے بنا دی تمھارے لیے سبز درخت سے آگ، پھر یکایک تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو(80)کیا نہیں وہ (اللہ) جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قدرت رکھنے والا اس بات پر کہ پیدا کر ے وہ ان کی مثل؟ کیوں نہیں! وہی تو ہے پیدا کرنے والا، جاننے والا (81) یقیناً اس کا حکم، جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا یہ (ہوتا ہے) کہ وہ کہتا ہے اس کو، ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے (82) پس پاک ہے وہ (اللہ) کہ جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (83) [77] چنانچہ فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے میں غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے ﴿مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’نطفے سے‘‘ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر جوان ہو جاتا ہے اور اس کی عقل کامل اور درست ہو جاتی ہے ﴿فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھتا ہے‘‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتدا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت میں غور کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی جو اسے عدم سے وجود میں لائی ہے زیادہ قدرت رکھتی ہے کہ اس کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے۔ [78]﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا ﴾ ’’اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی۔‘‘ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس قسم کی مثال بیان کرے اور وہ ہے خالق کی قدرت کا مخلوق کی قدرت کے ساتھ قیاس کرنا، نیز یہ قیاس کرنا کہ جو چیز مخلوق کی قدرت سے بعید ہے وہ خالق کی قدرت سے بھی بعید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قَالَ ﴾ یعنی اس انسان نے کہا: ﴿مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ ﴾ یعنی کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو ان ہڈیوں کو زندہ کرے گی؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان ہڈیوں کے بوسیدہ اور معدوم ہو جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ شبہ اور مثال کا یہی پہلو ہے کہ یہ معاملہ بشر کی قدرت سے بہت بعید ہے۔ یہ قول جو انسان سے صادر ہوا ہے اس کی غفلت پر مبنی ہے، نیز وہ اپنی تخلیق کی ابتدا کو بھول گیا ہے۔ اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا کہ کیسے اس کو پیدا کیا گیا جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا تو وہ اعادۂ تخلیق کو عیاں پاتا اور یہ مثال بیان نہ کرتا۔ [79] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے اعادۂ تخلیق کے محال ہونے کے شبے کا کافی اور شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی وہ مجرد اپنے تصور ہی سے کسی شبے کے بغیر، یقینی طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ ہستی جس نے اسے پہلی مرتبہ وجود بخشا، وہ دوسری مرتبہ اس کے اعادہ پر قادر ہے۔ جب تصور کرنے والا تصور کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ اعادۂ تخلیق بہت معمولی نظر آتا ہے۔ ﴿وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے دوسری دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی تمام مخلوقات کا، ان کے تمام احوال کا تمام اوقات میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مردوں کے اجساد خاکی میں سے کیا چیز کم ہو رہی ہے اور کیا چیز باقی ہے۔ وہ غائب اور شاہد ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم علم کا اقرار کر لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو مُردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل ہے۔ [80] پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّؔنۡهُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴾ جب وہ سرسبز درخت سے جو مکمل طور پر گیلا ہوتا ہے خشک آگ نکال سکتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں سخت تضاد اور تخالف ہے، تو وہ اسی طرح مردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ [81] پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَيۡسَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ یعنی کیا جس ہستی نے آسمانوں اور زمین کی وسعت اور عظمت کے باوجود، ان کو تخلیق فرمایا۔ ﴿بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ کیا وہ ان کو بعینہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ﴿بَلٰى ﴾ ’’کیوں نہیں‘‘ وہ ان کو دوبارہ وجود بخشے پر قادر ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل اور زیادہ بڑی ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یہ پانچویں دلیل خاص ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تمام مخلوقات خواہ پہلے گزر چکی ہوں یاآنے والی ، چھوٹی ہوں یا بڑی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور قدرت کے آثار ہیں۔ جب وہ کسی مخلوق کو تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کی تخلیق کے آثار کا ایک حصہ ہے۔ [82] اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنۡ يَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔‘‘ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔ [83]﴿فَسُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔
36:79

قُلۡ يُحۡيِيهَا ٱلَّذِيٓ أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيمٌ

کیا نہیں دیکھا انسان نے، بے شک پیدا کیا ہم نے اس کو قطرۂ منی سے پس ناگہاں (ہوگیا) وہ جھگڑنے والا ظاہر (77) اور بیان کی اس نے ہمارے لیے مثال اور وہ بھول گیا اپنی پیدائش کو، اس نے کہا: کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ (78)کہہ دیجیے: زندہ کرے گا ان کو وہی (اللہ) جس نے پیدا کیا ان کو پہلی مرتبہ، اور وہ ہر طرح کے پیدا کرنے کو خوب جانتا ہے(79) وہ (اللہ) جس نے بنا دی تمھارے لیے سبز درخت سے آگ، پھر یکایک تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو(80)کیا نہیں وہ (اللہ) جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قدرت رکھنے والا اس بات پر کہ پیدا کر ے وہ ان کی مثل؟ کیوں نہیں! وہی تو ہے پیدا کرنے والا، جاننے والا (81) یقیناً اس کا حکم، جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا یہ (ہوتا ہے) کہ وہ کہتا ہے اس کو، ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے (82) پس پاک ہے وہ (اللہ) کہ جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (83) [77] چنانچہ فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے میں غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے ﴿مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’نطفے سے‘‘ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر جوان ہو جاتا ہے اور اس کی عقل کامل اور درست ہو جاتی ہے ﴿فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھتا ہے‘‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتدا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت میں غور کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی جو اسے عدم سے وجود میں لائی ہے زیادہ قدرت رکھتی ہے کہ اس کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے۔ [78]﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا ﴾ ’’اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی۔‘‘ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس قسم کی مثال بیان کرے اور وہ ہے خالق کی قدرت کا مخلوق کی قدرت کے ساتھ قیاس کرنا، نیز یہ قیاس کرنا کہ جو چیز مخلوق کی قدرت سے بعید ہے وہ خالق کی قدرت سے بھی بعید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قَالَ ﴾ یعنی اس انسان نے کہا: ﴿مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ ﴾ یعنی کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو ان ہڈیوں کو زندہ کرے گی؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان ہڈیوں کے بوسیدہ اور معدوم ہو جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ شبہ اور مثال کا یہی پہلو ہے کہ یہ معاملہ بشر کی قدرت سے بہت بعید ہے۔ یہ قول جو انسان سے صادر ہوا ہے اس کی غفلت پر مبنی ہے، نیز وہ اپنی تخلیق کی ابتدا کو بھول گیا ہے۔ اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا کہ کیسے اس کو پیدا کیا گیا جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا تو وہ اعادۂ تخلیق کو عیاں پاتا اور یہ مثال بیان نہ کرتا۔ [79] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے اعادۂ تخلیق کے محال ہونے کے شبے کا کافی اور شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی وہ مجرد اپنے تصور ہی سے کسی شبے کے بغیر، یقینی طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ ہستی جس نے اسے پہلی مرتبہ وجود بخشا، وہ دوسری مرتبہ اس کے اعادہ پر قادر ہے۔ جب تصور کرنے والا تصور کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ اعادۂ تخلیق بہت معمولی نظر آتا ہے۔ ﴿وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے دوسری دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی تمام مخلوقات کا، ان کے تمام احوال کا تمام اوقات میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مردوں کے اجساد خاکی میں سے کیا چیز کم ہو رہی ہے اور کیا چیز باقی ہے۔ وہ غائب اور شاہد ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم علم کا اقرار کر لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو مُردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل ہے۔ [80] پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّؔنۡهُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴾ جب وہ سرسبز درخت سے جو مکمل طور پر گیلا ہوتا ہے خشک آگ نکال سکتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں سخت تضاد اور تخالف ہے، تو وہ اسی طرح مردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ [81] پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَيۡسَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ یعنی کیا جس ہستی نے آسمانوں اور زمین کی وسعت اور عظمت کے باوجود، ان کو تخلیق فرمایا۔ ﴿بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ کیا وہ ان کو بعینہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ﴿بَلٰى ﴾ ’’کیوں نہیں‘‘ وہ ان کو دوبارہ وجود بخشے پر قادر ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل اور زیادہ بڑی ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یہ پانچویں دلیل خاص ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تمام مخلوقات خواہ پہلے گزر چکی ہوں یاآنے والی ، چھوٹی ہوں یا بڑی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور قدرت کے آثار ہیں۔ جب وہ کسی مخلوق کو تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کی تخلیق کے آثار کا ایک حصہ ہے۔ [82] اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنۡ يَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔‘‘ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔ [83]﴿فَسُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔
36:80

ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلشَّجَرِ ٱلۡأَخۡضَرِ نَارٗا فَإِذَآ أَنتُم مِّنۡهُ تُوقِدُونَ

کیا نہیں دیکھا انسان نے، بے شک پیدا کیا ہم نے اس کو قطرۂ منی سے پس ناگہاں (ہوگیا) وہ جھگڑنے والا ظاہر (77) اور بیان کی اس نے ہمارے لیے مثال اور وہ بھول گیا اپنی پیدائش کو، اس نے کہا: کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ (78)کہہ دیجیے: زندہ کرے گا ان کو وہی (اللہ) جس نے پیدا کیا ان کو پہلی مرتبہ، اور وہ ہر طرح کے پیدا کرنے کو خوب جانتا ہے(79) وہ (اللہ) جس نے بنا دی تمھارے لیے سبز درخت سے آگ، پھر یکایک تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو(80)کیا نہیں وہ (اللہ) جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قدرت رکھنے والا اس بات پر کہ پیدا کر ے وہ ان کی مثل؟ کیوں نہیں! وہی تو ہے پیدا کرنے والا، جاننے والا (81) یقیناً اس کا حکم، جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا یہ (ہوتا ہے) کہ وہ کہتا ہے اس کو، ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے (82) پس پاک ہے وہ (اللہ) کہ جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (83) [77] چنانچہ فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے میں غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے ﴿مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’نطفے سے‘‘ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر جوان ہو جاتا ہے اور اس کی عقل کامل اور درست ہو جاتی ہے ﴿فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھتا ہے‘‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتدا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت میں غور کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی جو اسے عدم سے وجود میں لائی ہے زیادہ قدرت رکھتی ہے کہ اس کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے۔ [78]﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا ﴾ ’’اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی۔‘‘ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس قسم کی مثال بیان کرے اور وہ ہے خالق کی قدرت کا مخلوق کی قدرت کے ساتھ قیاس کرنا، نیز یہ قیاس کرنا کہ جو چیز مخلوق کی قدرت سے بعید ہے وہ خالق کی قدرت سے بھی بعید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قَالَ ﴾ یعنی اس انسان نے کہا: ﴿مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ ﴾ یعنی کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو ان ہڈیوں کو زندہ کرے گی؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان ہڈیوں کے بوسیدہ اور معدوم ہو جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ شبہ اور مثال کا یہی پہلو ہے کہ یہ معاملہ بشر کی قدرت سے بہت بعید ہے۔ یہ قول جو انسان سے صادر ہوا ہے اس کی غفلت پر مبنی ہے، نیز وہ اپنی تخلیق کی ابتدا کو بھول گیا ہے۔ اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا کہ کیسے اس کو پیدا کیا گیا جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا تو وہ اعادۂ تخلیق کو عیاں پاتا اور یہ مثال بیان نہ کرتا۔ [79] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے اعادۂ تخلیق کے محال ہونے کے شبے کا کافی اور شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی وہ مجرد اپنے تصور ہی سے کسی شبے کے بغیر، یقینی طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ ہستی جس نے اسے پہلی مرتبہ وجود بخشا، وہ دوسری مرتبہ اس کے اعادہ پر قادر ہے۔ جب تصور کرنے والا تصور کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ اعادۂ تخلیق بہت معمولی نظر آتا ہے۔ ﴿وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے دوسری دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی تمام مخلوقات کا، ان کے تمام احوال کا تمام اوقات میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مردوں کے اجساد خاکی میں سے کیا چیز کم ہو رہی ہے اور کیا چیز باقی ہے۔ وہ غائب اور شاہد ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم علم کا اقرار کر لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو مُردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل ہے۔ [80] پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّؔنۡهُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴾ جب وہ سرسبز درخت سے جو مکمل طور پر گیلا ہوتا ہے خشک آگ نکال سکتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں سخت تضاد اور تخالف ہے، تو وہ اسی طرح مردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ [81] پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَيۡسَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ یعنی کیا جس ہستی نے آسمانوں اور زمین کی وسعت اور عظمت کے باوجود، ان کو تخلیق فرمایا۔ ﴿بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ کیا وہ ان کو بعینہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ﴿بَلٰى ﴾ ’’کیوں نہیں‘‘ وہ ان کو دوبارہ وجود بخشے پر قادر ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل اور زیادہ بڑی ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یہ پانچویں دلیل خاص ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تمام مخلوقات خواہ پہلے گزر چکی ہوں یاآنے والی ، چھوٹی ہوں یا بڑی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور قدرت کے آثار ہیں۔ جب وہ کسی مخلوق کو تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کی تخلیق کے آثار کا ایک حصہ ہے۔ [82] اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنۡ يَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔‘‘ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔ [83]﴿فَسُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔
36:81

أَوَلَيۡسَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يَخۡلُقَ مِثۡلَهُمۚ بَلَىٰ وَهُوَ ٱلۡخَلَّـٰقُ ٱلۡعَلِيمُ

کیا نہیں دیکھا انسان نے، بے شک پیدا کیا ہم نے اس کو قطرۂ منی سے پس ناگہاں (ہوگیا) وہ جھگڑنے والا ظاہر (77) اور بیان کی اس نے ہمارے لیے مثال اور وہ بھول گیا اپنی پیدائش کو، اس نے کہا: کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ (78)کہہ دیجیے: زندہ کرے گا ان کو وہی (اللہ) جس نے پیدا کیا ان کو پہلی مرتبہ، اور وہ ہر طرح کے پیدا کرنے کو خوب جانتا ہے(79) وہ (اللہ) جس نے بنا دی تمھارے لیے سبز درخت سے آگ، پھر یکایک تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو(80)کیا نہیں وہ (اللہ) جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قدرت رکھنے والا اس بات پر کہ پیدا کر ے وہ ان کی مثل؟ کیوں نہیں! وہی تو ہے پیدا کرنے والا، جاننے والا (81) یقیناً اس کا حکم، جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا یہ (ہوتا ہے) کہ وہ کہتا ہے اس کو، ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے (82) پس پاک ہے وہ (اللہ) کہ جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (83) [77] چنانچہ فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے میں غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے ﴿مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’نطفے سے‘‘ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر جوان ہو جاتا ہے اور اس کی عقل کامل اور درست ہو جاتی ہے ﴿فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھتا ہے‘‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتدا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت میں غور کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی جو اسے عدم سے وجود میں لائی ہے زیادہ قدرت رکھتی ہے کہ اس کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے۔ [78]﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا ﴾ ’’اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی۔‘‘ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس قسم کی مثال بیان کرے اور وہ ہے خالق کی قدرت کا مخلوق کی قدرت کے ساتھ قیاس کرنا، نیز یہ قیاس کرنا کہ جو چیز مخلوق کی قدرت سے بعید ہے وہ خالق کی قدرت سے بھی بعید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قَالَ ﴾ یعنی اس انسان نے کہا: ﴿مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ ﴾ یعنی کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو ان ہڈیوں کو زندہ کرے گی؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان ہڈیوں کے بوسیدہ اور معدوم ہو جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ شبہ اور مثال کا یہی پہلو ہے کہ یہ معاملہ بشر کی قدرت سے بہت بعید ہے۔ یہ قول جو انسان سے صادر ہوا ہے اس کی غفلت پر مبنی ہے، نیز وہ اپنی تخلیق کی ابتدا کو بھول گیا ہے۔ اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا کہ کیسے اس کو پیدا کیا گیا جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا تو وہ اعادۂ تخلیق کو عیاں پاتا اور یہ مثال بیان نہ کرتا۔ [79] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے اعادۂ تخلیق کے محال ہونے کے شبے کا کافی اور شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی وہ مجرد اپنے تصور ہی سے کسی شبے کے بغیر، یقینی طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ ہستی جس نے اسے پہلی مرتبہ وجود بخشا، وہ دوسری مرتبہ اس کے اعادہ پر قادر ہے۔ جب تصور کرنے والا تصور کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ اعادۂ تخلیق بہت معمولی نظر آتا ہے۔ ﴿وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے دوسری دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی تمام مخلوقات کا، ان کے تمام احوال کا تمام اوقات میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مردوں کے اجساد خاکی میں سے کیا چیز کم ہو رہی ہے اور کیا چیز باقی ہے۔ وہ غائب اور شاہد ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم علم کا اقرار کر لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو مُردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل ہے۔ [80] پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّؔنۡهُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴾ جب وہ سرسبز درخت سے جو مکمل طور پر گیلا ہوتا ہے خشک آگ نکال سکتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں سخت تضاد اور تخالف ہے، تو وہ اسی طرح مردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ [81] پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَيۡسَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ یعنی کیا جس ہستی نے آسمانوں اور زمین کی وسعت اور عظمت کے باوجود، ان کو تخلیق فرمایا۔ ﴿بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ کیا وہ ان کو بعینہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ﴿بَلٰى ﴾ ’’کیوں نہیں‘‘ وہ ان کو دوبارہ وجود بخشے پر قادر ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل اور زیادہ بڑی ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یہ پانچویں دلیل خاص ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تمام مخلوقات خواہ پہلے گزر چکی ہوں یاآنے والی ، چھوٹی ہوں یا بڑی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور قدرت کے آثار ہیں۔ جب وہ کسی مخلوق کو تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کی تخلیق کے آثار کا ایک حصہ ہے۔ [82] اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنۡ يَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔‘‘ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔ [83]﴿فَسُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔
36:82

إِنَّمَآ أَمۡرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيۡـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

کیا نہیں دیکھا انسان نے، بے شک پیدا کیا ہم نے اس کو قطرۂ منی سے پس ناگہاں (ہوگیا) وہ جھگڑنے والا ظاہر (77) اور بیان کی اس نے ہمارے لیے مثال اور وہ بھول گیا اپنی پیدائش کو، اس نے کہا: کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ (78)کہہ دیجیے: زندہ کرے گا ان کو وہی (اللہ) جس نے پیدا کیا ان کو پہلی مرتبہ، اور وہ ہر طرح کے پیدا کرنے کو خوب جانتا ہے(79) وہ (اللہ) جس نے بنا دی تمھارے لیے سبز درخت سے آگ، پھر یکایک تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو(80)کیا نہیں وہ (اللہ) جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قدرت رکھنے والا اس بات پر کہ پیدا کر ے وہ ان کی مثل؟ کیوں نہیں! وہی تو ہے پیدا کرنے والا، جاننے والا (81) یقیناً اس کا حکم، جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا یہ (ہوتا ہے) کہ وہ کہتا ہے اس کو، ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے (82) پس پاک ہے وہ (اللہ) کہ جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (83) [77] چنانچہ فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے میں غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے ﴿مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’نطفے سے‘‘ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر جوان ہو جاتا ہے اور اس کی عقل کامل اور درست ہو جاتی ہے ﴿فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھتا ہے‘‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتدا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت میں غور کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی جو اسے عدم سے وجود میں لائی ہے زیادہ قدرت رکھتی ہے کہ اس کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے۔ [78]﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا ﴾ ’’اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی۔‘‘ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس قسم کی مثال بیان کرے اور وہ ہے خالق کی قدرت کا مخلوق کی قدرت کے ساتھ قیاس کرنا، نیز یہ قیاس کرنا کہ جو چیز مخلوق کی قدرت سے بعید ہے وہ خالق کی قدرت سے بھی بعید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قَالَ ﴾ یعنی اس انسان نے کہا: ﴿مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ ﴾ یعنی کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو ان ہڈیوں کو زندہ کرے گی؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان ہڈیوں کے بوسیدہ اور معدوم ہو جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ شبہ اور مثال کا یہی پہلو ہے کہ یہ معاملہ بشر کی قدرت سے بہت بعید ہے۔ یہ قول جو انسان سے صادر ہوا ہے اس کی غفلت پر مبنی ہے، نیز وہ اپنی تخلیق کی ابتدا کو بھول گیا ہے۔ اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا کہ کیسے اس کو پیدا کیا گیا جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا تو وہ اعادۂ تخلیق کو عیاں پاتا اور یہ مثال بیان نہ کرتا۔ [79] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے اعادۂ تخلیق کے محال ہونے کے شبے کا کافی اور شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی وہ مجرد اپنے تصور ہی سے کسی شبے کے بغیر، یقینی طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ ہستی جس نے اسے پہلی مرتبہ وجود بخشا، وہ دوسری مرتبہ اس کے اعادہ پر قادر ہے۔ جب تصور کرنے والا تصور کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ اعادۂ تخلیق بہت معمولی نظر آتا ہے۔ ﴿وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے دوسری دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی تمام مخلوقات کا، ان کے تمام احوال کا تمام اوقات میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مردوں کے اجساد خاکی میں سے کیا چیز کم ہو رہی ہے اور کیا چیز باقی ہے۔ وہ غائب اور شاہد ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم علم کا اقرار کر لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو مُردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل ہے۔ [80] پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّؔنۡهُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴾ جب وہ سرسبز درخت سے جو مکمل طور پر گیلا ہوتا ہے خشک آگ نکال سکتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں سخت تضاد اور تخالف ہے، تو وہ اسی طرح مردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ [81] پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَيۡسَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ یعنی کیا جس ہستی نے آسمانوں اور زمین کی وسعت اور عظمت کے باوجود، ان کو تخلیق فرمایا۔ ﴿بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ کیا وہ ان کو بعینہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ﴿بَلٰى ﴾ ’’کیوں نہیں‘‘ وہ ان کو دوبارہ وجود بخشے پر قادر ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل اور زیادہ بڑی ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یہ پانچویں دلیل خاص ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تمام مخلوقات خواہ پہلے گزر چکی ہوں یاآنے والی ، چھوٹی ہوں یا بڑی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور قدرت کے آثار ہیں۔ جب وہ کسی مخلوق کو تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کی تخلیق کے آثار کا ایک حصہ ہے۔ [82] اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنۡ يَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔‘‘ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔ [83]﴿فَسُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔
36:83

فَسُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيۡءٖ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ

کیا نہیں دیکھا انسان نے، بے شک پیدا کیا ہم نے اس کو قطرۂ منی سے پس ناگہاں (ہوگیا) وہ جھگڑنے والا ظاہر (77) اور بیان کی اس نے ہمارے لیے مثال اور وہ بھول گیا اپنی پیدائش کو، اس نے کہا: کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ (78)کہہ دیجیے: زندہ کرے گا ان کو وہی (اللہ) جس نے پیدا کیا ان کو پہلی مرتبہ، اور وہ ہر طرح کے پیدا کرنے کو خوب جانتا ہے(79) وہ (اللہ) جس نے بنا دی تمھارے لیے سبز درخت سے آگ، پھر یکایک تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو(80)کیا نہیں وہ (اللہ) جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قدرت رکھنے والا اس بات پر کہ پیدا کر ے وہ ان کی مثل؟ کیوں نہیں! وہی تو ہے پیدا کرنے والا، جاننے والا (81) یقیناً اس کا حکم، جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا یہ (ہوتا ہے) کہ وہ کہتا ہے اس کو، ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے (82) پس پاک ہے وہ (اللہ) کہ جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (83) [77] چنانچہ فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے میں غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے ﴿مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’نطفے سے‘‘ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر جوان ہو جاتا ہے اور اس کی عقل کامل اور درست ہو جاتی ہے ﴿فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھتا ہے‘‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتدا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت میں غور کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی جو اسے عدم سے وجود میں لائی ہے زیادہ قدرت رکھتی ہے کہ اس کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے۔ [78]﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا ﴾ ’’اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی۔‘‘ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس قسم کی مثال بیان کرے اور وہ ہے خالق کی قدرت کا مخلوق کی قدرت کے ساتھ قیاس کرنا، نیز یہ قیاس کرنا کہ جو چیز مخلوق کی قدرت سے بعید ہے وہ خالق کی قدرت سے بھی بعید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قَالَ ﴾ یعنی اس انسان نے کہا: ﴿مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ ﴾ یعنی کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو ان ہڈیوں کو زندہ کرے گی؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان ہڈیوں کے بوسیدہ اور معدوم ہو جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ شبہ اور مثال کا یہی پہلو ہے کہ یہ معاملہ بشر کی قدرت سے بہت بعید ہے۔ یہ قول جو انسان سے صادر ہوا ہے اس کی غفلت پر مبنی ہے، نیز وہ اپنی تخلیق کی ابتدا کو بھول گیا ہے۔ اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا کہ کیسے اس کو پیدا کیا گیا جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا تو وہ اعادۂ تخلیق کو عیاں پاتا اور یہ مثال بیان نہ کرتا۔ [79] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے اعادۂ تخلیق کے محال ہونے کے شبے کا کافی اور شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی وہ مجرد اپنے تصور ہی سے کسی شبے کے بغیر، یقینی طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ ہستی جس نے اسے پہلی مرتبہ وجود بخشا، وہ دوسری مرتبہ اس کے اعادہ پر قادر ہے۔ جب تصور کرنے والا تصور کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ اعادۂ تخلیق بہت معمولی نظر آتا ہے۔ ﴿وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے دوسری دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی تمام مخلوقات کا، ان کے تمام احوال کا تمام اوقات میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مردوں کے اجساد خاکی میں سے کیا چیز کم ہو رہی ہے اور کیا چیز باقی ہے۔ وہ غائب اور شاہد ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم علم کا اقرار کر لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو مُردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل ہے۔ [80] پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّؔنۡهُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴾ جب وہ سرسبز درخت سے جو مکمل طور پر گیلا ہوتا ہے خشک آگ نکال سکتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں سخت تضاد اور تخالف ہے، تو وہ اسی طرح مردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ [81] پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَيۡسَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ یعنی کیا جس ہستی نے آسمانوں اور زمین کی وسعت اور عظمت کے باوجود، ان کو تخلیق فرمایا۔ ﴿بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ کیا وہ ان کو بعینہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ﴿بَلٰى ﴾ ’’کیوں نہیں‘‘ وہ ان کو دوبارہ وجود بخشے پر قادر ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل اور زیادہ بڑی ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یہ پانچویں دلیل خاص ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تمام مخلوقات خواہ پہلے گزر چکی ہوں یاآنے والی ، چھوٹی ہوں یا بڑی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور قدرت کے آثار ہیں۔ جب وہ کسی مخلوق کو تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کی تخلیق کے آثار کا ایک حصہ ہے۔ [82] اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنۡ يَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔‘‘ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔ [83]﴿فَسُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔