al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 34 · 54 verses
34:1ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ
سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اسی کے لیے ہیں سب تعریفیں آخرت میں (بھی) اور وہ نہایت حکمت والا خوب خبردار ہے(1) وہ جانتا ہے جو داخل ہوتا ہے زمین میں اورجونکلتا ہے اس میں سے اور جو اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں، اور وہ نہایت رحم کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے(2)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد، صفات حمیدہ اور افعال حسنہ کے ذریعے سے، ثنا بیان کرنا ہے پس ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہ اپنے اوصاف کی بنا پر مستحق حمد ہے، اس کے تمام اوصاف، اوصاف کمال ہیں۔ وہ اپنے افعال پرمستحق حمد ہے کیونکہ اس کے افعال، اس کے فضل پرمبنی ہیں جس پر اس کی حمد اور اس کا شکر کیا جاتا ہے اور اس کے عدل پرمبنی ہیں جس کی بنا پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اس میں اس کی حکمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد اس بنا پر بیان کی ہے کہ ﴿لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے‘‘ یعنی ہرچیز کی ملکیت اور اسی کی غلام ہے وہ اپنی حمد وثنا کی بنا پر ان میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿وَلَهُ الۡحَمۡدُ فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔‘‘ اس لیے کہ آخرت میں اس کی وہ حمد وثنا ظاہر ہو گی جو دنیا میں ظاہر نہیں ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کرے گا اور تمام انسان اور تمام مخلوق اس کے فیصلے، اس کے کامل عدل و انصاف اور اس میں اس کی حکمت کو دیکھیں گے تو وہ سب اس پر اس کی حمد وثنا بیان کریں گے حتیٰ کہ ان جہنمیوں کے دل بھی، جن کو عذاب دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہوں گے، نیز ان کو اعتراف ہو گا کہ یہ عذاب ان کے اعمال کی جزا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے کے فیصلے میں عادل ہے۔رہا جنت میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا ظہور، تو اس بارے میں نہایت تواتر سے اخبار وارد ہوئی ہیں، دلائل سمعی اور دلائل عقلی ان کی موافقت کرتے ہیں۔ کیونکہ جنتی لوگ جنت میں، اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں، بے شمار خیروبرکت اور اس کی بے پایاں نوازشات کا مشاہدہ کریں گے۔ اہل جنت کے دل میں کوئی آرزو اور کوئی ارادہ باقی نہیں رہے گا جسے اللہ تعالیٰ نے پورا نہ کر دیا ہو اور ان کی خواہش اور آرزو سے بڑھ کر عطا نہ کیا ہو، بلکہ انھیں اتنی زیادہ بھلائی عطا ہو گی کہ ان کی خواہش اور آرزوئیں وہاں پہنچ ہی نہیں سکتیں اور ان کے دل میں ان کا تصور تک نہیں آ سکتا۔ اس حال میں ان کی حمد وثنا کیسی ہو گی، درآں حالیکہ جنت میں وہ تمام عوارض و قواطع مضمحل ہو جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی حمد وثنا کو منقطع کرتے ہیں۔ اہل ایمان کے لیے یہ حال ہر نعمت سے بڑھ کر محبوب اور ہر لذت سے بڑھ کر لذیذ ہوگا۔ اس لیے جب وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور اس کے خطاب کے وقت اس کے کلام سے محظوظ ہوں گے تو وہ ہر نعمت کو بھلا دیں گے وہ جنت میں ذکر الٰہی میں مشغول رہیں گے اور جنت میں ان کے لیے ذکر کی وہ حیثیت ہو گی جیسے ہر وقت سانس کی۔ جب آپ اس کے ساتھ اس چیز کو شامل کر دیکھیں کہ اہل جنت، ہر وقت جنت کے اندر اپنے رب کی عظمت، اس کے جلال و جمال اور اس کے لامحدود کمال کا نظارہ کریں گے، تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی کامل حمد وثنا کی موجب ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے اقتدار و تدبیر اور اپنے امرونہی میں حکمت والا ہے۔ ﴿الۡخَبِيۡرُ ﴾ وہ تمام امور کے اسرار نہاں کی خبر رکھتا ہے۔
[2] لہٰذا اپنے علم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے‘‘ یعنی بارش، نباتات کے بیج اور حیوانات وغیرہ ﴿وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا ﴾ ’’اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے۔‘‘ یعنی مختلف اقسام کی نباتات اور مختلف انواع کے حیوانات وغیرہ۔ ﴿وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے‘‘ یعنی آسمان سے جو فرشتے نازل ہوتے ہیں، رزق نازل ہوتا ہے اور تقدیر اترتی ہے۔ ﴿وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ یعنی آسمان کی طرف جو فرشتے اور ارواح وغیرہ بلند ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو بخوبی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے اندر اپنی حکمت اور ان کے احوال کے بارے میں اپنے علم کا ذکر کرنے کے بعد اپنی بخشش اور مخلوقات کے لیے اپنی بے پایاں رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَهُوَ الرَّحِيۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا، معاف کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی رحمت اور مغفرت جس کا وصف ہے اس کے بندے رحمت اور مغفرت کے تقاضوں کو جس قدر پورا کرتے ہیں، اس کے مطابق ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت کے آثار نازل ہوتے رہتے ہیں۔
34:2يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيهَاۚ وَهُوَ ٱلرَّحِيمُ ٱلۡغَفُورُ
سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اسی کے لیے ہیں سب تعریفیں آخرت میں (بھی) اور وہ نہایت حکمت والا خوب خبردار ہے(1) وہ جانتا ہے جو داخل ہوتا ہے زمین میں اورجونکلتا ہے اس میں سے اور جو اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں، اور وہ نہایت رحم کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے(2)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد، صفات حمیدہ اور افعال حسنہ کے ذریعے سے، ثنا بیان کرنا ہے پس ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے کیونکہ وہ اپنے اوصاف کی بنا پر مستحق حمد ہے، اس کے تمام اوصاف، اوصاف کمال ہیں۔ وہ اپنے افعال پرمستحق حمد ہے کیونکہ اس کے افعال، اس کے فضل پرمبنی ہیں جس پر اس کی حمد اور اس کا شکر کیا جاتا ہے اور اس کے عدل پرمبنی ہیں جس کی بنا پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اس میں اس کی حکمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد اس بنا پر بیان کی ہے کہ ﴿لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے‘‘ یعنی ہرچیز کی ملکیت اور اسی کی غلام ہے وہ اپنی حمد وثنا کی بنا پر ان میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿وَلَهُ الۡحَمۡدُ فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔‘‘ اس لیے کہ آخرت میں اس کی وہ حمد وثنا ظاہر ہو گی جو دنیا میں ظاہر نہیں ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کرے گا اور تمام انسان اور تمام مخلوق اس کے فیصلے، اس کے کامل عدل و انصاف اور اس میں اس کی حکمت کو دیکھیں گے تو وہ سب اس پر اس کی حمد وثنا بیان کریں گے حتیٰ کہ ان جہنمیوں کے دل بھی، جن کو عذاب دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہوں گے، نیز ان کو اعتراف ہو گا کہ یہ عذاب ان کے اعمال کی جزا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے کے فیصلے میں عادل ہے۔رہا جنت میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا ظہور، تو اس بارے میں نہایت تواتر سے اخبار وارد ہوئی ہیں، دلائل سمعی اور دلائل عقلی ان کی موافقت کرتے ہیں۔ کیونکہ جنتی لوگ جنت میں، اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں، بے شمار خیروبرکت اور اس کی بے پایاں نوازشات کا مشاہدہ کریں گے۔ اہل جنت کے دل میں کوئی آرزو اور کوئی ارادہ باقی نہیں رہے گا جسے اللہ تعالیٰ نے پورا نہ کر دیا ہو اور ان کی خواہش اور آرزو سے بڑھ کر عطا نہ کیا ہو، بلکہ انھیں اتنی زیادہ بھلائی عطا ہو گی کہ ان کی خواہش اور آرزوئیں وہاں پہنچ ہی نہیں سکتیں اور ان کے دل میں ان کا تصور تک نہیں آ سکتا۔ اس حال میں ان کی حمد وثنا کیسی ہو گی، درآں حالیکہ جنت میں وہ تمام عوارض و قواطع مضمحل ہو جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی حمد وثنا کو منقطع کرتے ہیں۔ اہل ایمان کے لیے یہ حال ہر نعمت سے بڑھ کر محبوب اور ہر لذت سے بڑھ کر لذیذ ہوگا۔ اس لیے جب وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور اس کے خطاب کے وقت اس کے کلام سے محظوظ ہوں گے تو وہ ہر نعمت کو بھلا دیں گے وہ جنت میں ذکر الٰہی میں مشغول رہیں گے اور جنت میں ان کے لیے ذکر کی وہ حیثیت ہو گی جیسے ہر وقت سانس کی۔ جب آپ اس کے ساتھ اس چیز کو شامل کر دیکھیں کہ اہل جنت، ہر وقت جنت کے اندر اپنے رب کی عظمت، اس کے جلال و جمال اور اس کے لامحدود کمال کا نظارہ کریں گے، تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی کامل حمد وثنا کی موجب ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے اقتدار و تدبیر اور اپنے امرونہی میں حکمت والا ہے۔ ﴿الۡخَبِيۡرُ ﴾ وہ تمام امور کے اسرار نہاں کی خبر رکھتا ہے۔
[2] لہٰذا اپنے علم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے‘‘ یعنی بارش، نباتات کے بیج اور حیوانات وغیرہ ﴿وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا ﴾ ’’اور جو کچھ اس میں سے نکلتا ہے۔‘‘ یعنی مختلف اقسام کی نباتات اور مختلف انواع کے حیوانات وغیرہ۔ ﴿وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے‘‘ یعنی آسمان سے جو فرشتے نازل ہوتے ہیں، رزق نازل ہوتا ہے اور تقدیر اترتی ہے۔ ﴿وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ یعنی آسمان کی طرف جو فرشتے اور ارواح وغیرہ بلند ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو بخوبی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے اندر اپنی حکمت اور ان کے احوال کے بارے میں اپنے علم کا ذکر کرنے کے بعد اپنی بخشش اور مخلوقات کے لیے اپنی بے پایاں رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَهُوَ الرَّحِيۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا، معاف کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی رحمت اور مغفرت جس کا وصف ہے اس کے بندے رحمت اور مغفرت کے تقاضوں کو جس قدر پورا کرتے ہیں، اس کے مطابق ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت کے آثار نازل ہوتے رہتے ہیں۔
34:3وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَأۡتِينَا ٱلسَّاعَةُۖ قُلۡ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأۡتِيَنَّكُمۡ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِۖ لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ مِثۡقَالُ ذَرَّةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَآ أَصۡغَرُ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡبَرُ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں آئے گی ہم پر قیامت ، کہہ دیجیے!کیوں نہیں، قسم ہے میرے رب کی! وہ ضرور آئے گی تم پر، جو جاننے والا ہے غیب کا نہیں پوشیدہ رہتی اس سے (کوئی چیز) برابر ایک ذرے کے، آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں (کوئی چیز) چھوٹی اس سے اور نہ بڑی، مگر وہ (درج ہے) کتاب واضح (لوح محفوظ) میں(3)تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہ لوگ، ان کے لیے ہےمغفرت اور روزی اچھی(4)اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، یہی لوگ، ان کے لیے ہے عذاب، سزا کے طور پر، درد ناک(5)
[3] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انھوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا:﴿لَا تَاۡتِيۡنَا السَّاعَةُ ﴾ ’’ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔‘‘ یہاں اس دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہاں ہم زندہ رہتے ہیں اور ، پھر مر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس نظریے کی تردید اور اس کا ابطال کریں اور تاکیداً ان کو قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت برحق ہے اور وہ ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا ہے کہ جو کوئی اس دلیل کا اقرار کرتا ہے وہ ضرور موت کے بعد زندگی ہونے کا اقرار کرے گا۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا لامحدود علم، چنانچہ فرمایا:﴿عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور کا علم رکھتا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہمارے احاطۂ علم میں نہیں ہیں، تب وہ ان امور کا علم کیونکر نہیں رکھتا جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے بارے میں تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا:﴿لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ ﴾ یعنی اس کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ﴿مِثۡقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام اشیاء اپنی ذات و اجزاء سمیت، حتی کہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے اوجھل نہیں۔ ﴿وَلَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرُ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور نہیں کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی مگر وہ کتاب واضح میں درج ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کا قلم اس پر چل چکا ہے اور وہ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں درج ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ ہستی جس سے ذرہ بھر یا اس سے بھی چھوٹی چیز کسی بھی وقت چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ہستی جانتی ہے کہ زمین میں موت کے ذریعے سے کتنے افراد کی کمی واقع ہو رہی ہے اور کتنے زندہ باقی ہیں اور وہ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر بالاولی قادر ہے۔ اس کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے علم محیط سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے‘‘ اپنے دلوں سے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح تصدیق کی۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ اپنے ایمان کی تصدیق کے لیے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے بخشش ہے ان کے ایمان اور اعمال کے باعث ان سے ہر برائی اور تمام عذاب دور ہو جائیں گے۔ ﴿وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی‘‘ ان کے احسان کے سبب سے انھیں ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہو گا اور ان کی ہر آرزو پوری ہو گی۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کرنے اور ان کو لانے والے انبیاء و مرسلین اور ان کو نازل کرنے والے کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا جیسے انھوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو نیچا دکھانے کے لیے پوری کوشش کی ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ﴾ ان کے لیے ان کے دل و جان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔
34:4لِّيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں آئے گی ہم پر قیامت ، کہہ دیجیے!کیوں نہیں، قسم ہے میرے رب کی! وہ ضرور آئے گی تم پر، جو جاننے والا ہے غیب کا نہیں پوشیدہ رہتی اس سے (کوئی چیز) برابر ایک ذرے کے، آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں (کوئی چیز) چھوٹی اس سے اور نہ بڑی، مگر وہ (درج ہے) کتاب واضح (لوح محفوظ) میں(3)تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہ لوگ، ان کے لیے ہےمغفرت اور روزی اچھی(4)اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، یہی لوگ، ان کے لیے ہے عذاب، سزا کے طور پر، درد ناک(5)
[3] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انھوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا:﴿لَا تَاۡتِيۡنَا السَّاعَةُ ﴾ ’’ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔‘‘ یہاں اس دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہاں ہم زندہ رہتے ہیں اور ، پھر مر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس نظریے کی تردید اور اس کا ابطال کریں اور تاکیداً ان کو قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت برحق ہے اور وہ ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا ہے کہ جو کوئی اس دلیل کا اقرار کرتا ہے وہ ضرور موت کے بعد زندگی ہونے کا اقرار کرے گا۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا لامحدود علم، چنانچہ فرمایا:﴿عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور کا علم رکھتا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہمارے احاطۂ علم میں نہیں ہیں، تب وہ ان امور کا علم کیونکر نہیں رکھتا جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے بارے میں تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا:﴿لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ ﴾ یعنی اس کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ﴿مِثۡقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام اشیاء اپنی ذات و اجزاء سمیت، حتی کہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے اوجھل نہیں۔ ﴿وَلَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرُ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور نہیں کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی مگر وہ کتاب واضح میں درج ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کا قلم اس پر چل چکا ہے اور وہ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں درج ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ ہستی جس سے ذرہ بھر یا اس سے بھی چھوٹی چیز کسی بھی وقت چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ہستی جانتی ہے کہ زمین میں موت کے ذریعے سے کتنے افراد کی کمی واقع ہو رہی ہے اور کتنے زندہ باقی ہیں اور وہ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر بالاولی قادر ہے۔ اس کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے علم محیط سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے‘‘ اپنے دلوں سے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح تصدیق کی۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ اپنے ایمان کی تصدیق کے لیے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے بخشش ہے ان کے ایمان اور اعمال کے باعث ان سے ہر برائی اور تمام عذاب دور ہو جائیں گے۔ ﴿وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی‘‘ ان کے احسان کے سبب سے انھیں ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہو گا اور ان کی ہر آرزو پوری ہو گی۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کرنے اور ان کو لانے والے انبیاء و مرسلین اور ان کو نازل کرنے والے کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا جیسے انھوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو نیچا دکھانے کے لیے پوری کوشش کی ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ﴾ ان کے لیے ان کے دل و جان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔
34:5وَٱلَّذِينَ سَعَوۡ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مِّن رِّجۡزٍ أَلِيمٞ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں آئے گی ہم پر قیامت ، کہہ دیجیے!کیوں نہیں، قسم ہے میرے رب کی! وہ ضرور آئے گی تم پر، جو جاننے والا ہے غیب کا نہیں پوشیدہ رہتی اس سے (کوئی چیز) برابر ایک ذرے کے، آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں (کوئی چیز) چھوٹی اس سے اور نہ بڑی، مگر وہ (درج ہے) کتاب واضح (لوح محفوظ) میں(3)تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہ لوگ، ان کے لیے ہےمغفرت اور روزی اچھی(4)اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، یہی لوگ، ان کے لیے ہے عذاب، سزا کے طور پر، درد ناک(5)
[3] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انھوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا:﴿لَا تَاۡتِيۡنَا السَّاعَةُ ﴾ ’’ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔‘‘ یہاں اس دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہاں ہم زندہ رہتے ہیں اور ، پھر مر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس نظریے کی تردید اور اس کا ابطال کریں اور تاکیداً ان کو قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت برحق ہے اور وہ ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا ہے کہ جو کوئی اس دلیل کا اقرار کرتا ہے وہ ضرور موت کے بعد زندگی ہونے کا اقرار کرے گا۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا لامحدود علم، چنانچہ فرمایا:﴿عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور کا علم رکھتا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہمارے احاطۂ علم میں نہیں ہیں، تب وہ ان امور کا علم کیونکر نہیں رکھتا جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے بارے میں تاکید کے طور پر ارشاد فرمایا:﴿لَا يَعۡزُبُ عَنۡهُ ﴾ یعنی اس کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ﴿مِثۡقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام اشیاء اپنی ذات و اجزاء سمیت، حتی کہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے اوجھل نہیں۔ ﴿وَلَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرُ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور نہیں کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی مگر وہ کتاب واضح میں درج ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کا قلم اس پر چل چکا ہے اور وہ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں درج ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ ہستی جس سے ذرہ بھر یا اس سے بھی چھوٹی چیز کسی بھی وقت چھپی ہوئی نہیں ہے اور وہ ہستی جانتی ہے کہ زمین میں موت کے ذریعے سے کتنے افراد کی کمی واقع ہو رہی ہے اور کتنے زندہ باقی ہیں اور وہ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر بالاولی قادر ہے۔ اس کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے علم محیط سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے‘‘ اپنے دلوں سے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی پوری طرح تصدیق کی۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ اپنے ایمان کی تصدیق کے لیے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ان کے لیے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے بخشش ہے ان کے ایمان اور اعمال کے باعث ان سے ہر برائی اور تمام عذاب دور ہو جائیں گے۔ ﴿وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی‘‘ ان کے احسان کے سبب سے انھیں ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہو گا اور ان کی ہر آرزو پوری ہو گی۔
[5]﴿وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کرنے اور ان کو لانے والے انبیاء و مرسلین اور ان کو نازل کرنے والے کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا جیسے انھوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کو نیچا دکھانے کے لیے پوری کوشش کی ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ﴾ ان کے لیے ان کے دل و جان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔
34:6وَيَرَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ ٱلۡحَقَّ وَيَهۡدِيٓ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیارہنمائی کریں ہم تمھاری اوپر ایسے آدمی کے جو خبر دیتا ہے تمھیں کہ جب پارہ پارہ کر دیے جاؤ گے تم ہر طرح پارہ پارہ کیے جانا تو بے شک ہو گے تم البتہ ایک نئی پیدائش میں(7) کیا باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون(لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، (وہ) عذاب میں اور دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں(8)کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے طرف اس کی جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین سے، اگر ہم چاہیں تودھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے آسمان سے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے واسطے ہر رجوع کرنے والے بندے کے(9)
[7]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّـكُمۡ لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔‘‘ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ’’جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے ، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘
[8] یہ شخص جو بات کہتا ہے کیا ﴿اَفۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے ﴿اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا اسے جنون ہے؟‘‘ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انھوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انھوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کر دیا۔گندے ذہن کے لوگو! اگر آپﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے، تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخوراعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمھارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمھارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی ﴿فِي الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ ﴾ وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔
[9] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو زندگی بعد موت کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کر دیتے ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ زندگی بعد موت کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ہاں! زندگی بعد موت، اب تک خبر غیبی ہے جس کا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔‘‘ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کر سکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں سخت سزا دیں گے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کی تخلیق میں ﴿لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ ﴾ ’’ البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے، جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اس کی اطاعت کرتا ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ، انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔بندۂ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بے فائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکروعبرت کی نظر ہوتی ہے۔
34:7وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلَىٰ رَجُلٖ يُنَبِّئُكُمۡ إِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمۡ لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدٍ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیارہنمائی کریں ہم تمھاری اوپر ایسے آدمی کے جو خبر دیتا ہے تمھیں کہ جب پارہ پارہ کر دیے جاؤ گے تم ہر طرح پارہ پارہ کیے جانا تو بے شک ہو گے تم البتہ ایک نئی پیدائش میں(7) کیا باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون(لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، (وہ) عذاب میں اور دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں(8)کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے طرف اس کی جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین سے، اگر ہم چاہیں تودھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے آسمان سے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے واسطے ہر رجوع کرنے والے بندے کے(9)
[7]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّـكُمۡ لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔‘‘ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ’’جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے ، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘
[8] یہ شخص جو بات کہتا ہے کیا ﴿اَفۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے ﴿اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا اسے جنون ہے؟‘‘ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انھوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انھوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کر دیا۔گندے ذہن کے لوگو! اگر آپﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے، تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخوراعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمھارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمھارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی ﴿فِي الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ ﴾ وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔
[9] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو زندگی بعد موت کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کر دیتے ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ زندگی بعد موت کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ہاں! زندگی بعد موت، اب تک خبر غیبی ہے جس کا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔‘‘ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کر سکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں سخت سزا دیں گے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کی تخلیق میں ﴿لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ ﴾ ’’ البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے، جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اس کی اطاعت کرتا ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ، انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔بندۂ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بے فائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکروعبرت کی نظر ہوتی ہے۔
34:8أَفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةُۢۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ فِي ٱلۡعَذَابِ وَٱلضَّلَٰلِ ٱلۡبَعِيدِ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیارہنمائی کریں ہم تمھاری اوپر ایسے آدمی کے جو خبر دیتا ہے تمھیں کہ جب پارہ پارہ کر دیے جاؤ گے تم ہر طرح پارہ پارہ کیے جانا تو بے شک ہو گے تم البتہ ایک نئی پیدائش میں(7) کیا باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون(لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، (وہ) عذاب میں اور دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں(8)کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے طرف اس کی جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین سے، اگر ہم چاہیں تودھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے آسمان سے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے واسطے ہر رجوع کرنے والے بندے کے(9)
[7]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّـكُمۡ لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔‘‘ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ’’جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے ، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘
[8] یہ شخص جو بات کہتا ہے کیا ﴿اَفۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے ﴿اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا اسے جنون ہے؟‘‘ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انھوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انھوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کر دیا۔گندے ذہن کے لوگو! اگر آپﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے، تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخوراعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمھارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمھارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی ﴿فِي الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ ﴾ وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔
[9] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو زندگی بعد موت کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کر دیتے ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ زندگی بعد موت کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ہاں! زندگی بعد موت، اب تک خبر غیبی ہے جس کا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔‘‘ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کر سکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں سخت سزا دیں گے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کی تخلیق میں ﴿لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ ﴾ ’’ البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے، جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اس کی اطاعت کرتا ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ، انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔بندۂ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بے فائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکروعبرت کی نظر ہوتی ہے۔
34:9أَفَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَىٰ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِن نَّشَأۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّكُلِّ عَبۡدٖ مُّنِيبٖ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیارہنمائی کریں ہم تمھاری اوپر ایسے آدمی کے جو خبر دیتا ہے تمھیں کہ جب پارہ پارہ کر دیے جاؤ گے تم ہر طرح پارہ پارہ کیے جانا تو بے شک ہو گے تم البتہ ایک نئی پیدائش میں(7) کیا باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ یا اسے جنون(لاحق) ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر، (وہ) عذاب میں اور دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں(8)کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے طرف اس کی جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین سے، اگر ہم چاہیں تودھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ہم ان پر ٹکڑے آسمان سے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے واسطے ہر رجوع کرنے والے بندے کے(9)
[7]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یعنی کفار تکذیب اور استہزا کے طور پر اور معاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّـكُمۡ لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا ہم تمھاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمھیں یہ خبر پہنچارہاہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔‘‘ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں ان کی نظر میں آپ ان کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجوبہ ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں: ’’جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تمھارا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا اور تمھارے اعضاء بکھر کر نیست و نابود ہو جائیں گے ، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘
[8] یہ شخص جو بات کہتا ہے کیا ﴿اَفۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کی ہے ﴿اَمۡ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا اسے جنون ہے؟‘‘ اور یہ اس سے کوئی بعید بھی نہیں کیونکہ جنون کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ظلم اور عناد کی وجہ سے کہتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ مخلوق میں سب سے سچے اور سب سے عقل مند انسان ہیں۔ ان کا علم بس یہی ہے کہ انھوں نے آپ سے عداوت شروع کی اور بار بار عداوت کا اظہار کیا اور انھوں نے لوگوں کو آپ سے دور رکھنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کر دیا۔گندے ذہن کے لوگو! اگر آپﷺ جھوٹے یا پاگل ہوتے، تو یہ مناسب ہی نہ تھا کہ تم ان کی بات پر دھیان دیتے یا تم ان کی دعوت کو درخوراعتنا سمجھتے کیونکہ ایک عقل مند شخص کے لائق نہیں کہ وہ ایک پاگل شخص کی طرف التفات کرے یا اس کی بات کو کوئی اہمیت دے۔ اگر تمھارے دل میں عناد نہ ہوتا اور تمھارا رویہ ظلم پر مبنی نہ ہوتا تو تم آگے بڑھ کر آپ کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے، نشانیاں اور ڈراوے ان کے کسی کام نہیں آتے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلِ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’بلکہ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے مذکورہ بالا بات کہی تھی ﴿فِي الۡعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الۡبَعِيۡدِ ﴾ وہ بہت بڑی بدبختی اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور منزل صواب کے ذرا بھی قریب نہیں۔ کون سی بدبختی اور گمراہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس چیز پر قادر ہونے کے انکار سے بڑھ کر ہو کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور کون سی بدبختی اور گمراہی ان کی رسولوں کی تکذیب، ان کے ساتھ استہزا اور ان کے اس دعوے سے بڑھ کر ہو کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ پس وہ حق کو باطل اور باطل و ضلالت کو حق اور ہدایت سمجھتے ہیں۔
[9] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عقلی دلیل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی ہے جو زندگی بعد موت کے بعید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر وہ اپنے آگے پیچھے زمین اور آسمان کی طرف دیکھیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مناظر نظر آئیں گے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں، وہ اس کی عظمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو بڑے بڑے علماء کو حواس باختہ کر دیتے ہیں اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ زمین و آسمان کی تخلیق، ان کی عظمت اور زمین و آسمان کے اندر موجود مخلوقات کی تخلیق قبروں میں مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم ہے۔ پس کس چیز نے ان کو اس پر آمادہ کیا ہے کہ وہ زندگی بعد موت کی تکذیب کرتے رہیں حالانکہ وہ اس سے مشکل تر چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ہاں! زندگی بعد موت، اب تک خبر غیبی ہے جس کا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔‘‘ یعنی عذاب کا کوئی ٹکڑا کیونکہ زمین اور آسمان ہمارے دست تدبیر کے تحت ہیں اگر ہم ان کو حکم دیں تو وہ حکم عدولی نہیں کر سکتے، لہٰذا تم اپنی تکذیب پر مصر رہنے سے باز آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں سخت سزا دیں گے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام مخلوقات کی تخلیق میں ﴿لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ ﴾ ’’ البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے، جو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے‘‘ اس کی اطاعت کرتا ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ، انسانوں کی موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔بندۂ مومن جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا، اسی قدر زیادہ وہ آیات الٰہی سے مستفید ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کا ارادہ اور ہمت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ بندہ ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے رب کی رضا میں مشغولیت کے سوا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مخلوقات پر اس کی نظر بے فائدہ اور غفلت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ فکروعبرت کی نظر ہوتی ہے۔
34:10۞وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضۡلٗاۖ يَٰجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُۥ وَٱلطَّيۡرَۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلۡحَدِيدَ
اور تحقیق دی ہم نے داؤ د کو اپنی طرف سے فضیلت ، (ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو! تسبیح دہراؤ اس کےساتھ اور پرندوں کو (بھی کہا) اور نرم کر دیا ہم نے اس کے لیے لوہا(10) یہ کہ بنا (زرہیں)کامل کشادہ اور (مناسب) اندازہ رکھ کڑیاں جوڑنے میں اور تم (سب) عمل کرو نیک، بے شک میں، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہوں(11)
[10، 11] یعنی ہم نے اپنے بندے اور رسول داؤ دu پر احسان کیا اور ہم نے انھیں علم نافع اور عمل صالح میں فضیلت بخشی اور انھیں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے کہ اس نے پہاڑوں، حیوانات اور پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤ دu کی حمدوتسبیح کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں۔ یہ ایسی نعمت ہے جو آپ کے خصائص میں شمار ہوتی ہے اور یہ خصوصیت آپ سے پہلے کسی کو عطا کی گئی نہ آپ کے بعد۔ یہ آواز آپ کو اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح پر آمادہ کرتی تھی۔ جب وہ دیکھتے کہ یہ جمادات، پہاڑ اور حیوانات حضرت داؤ دu کی آواز کا جواب دیتے ہوئے اپنے رب کی تسبیح و تکبیر اور تمجیدوتحمید کرتے ہیں تو یہ چیز ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر پر آمادہ کرتی۔بہت سے علماء کہتے ہیں کہ یہ نعمت داؤ دu کی آواز کی طرب خیزی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت خوبصورت آواز سے سرفراز فرمایا تھا اور انھیں اس میدان میں سب پر فوقیت حاصل تھی۔ جب آپ تسبیح و تہلیل اور تمجید وتحمید میں اپنی طرب انگیز آواز بلند کرتے تو جن وانس، پرندے اور پہاڑ آپ کی آواز پر جھوم اٹھتے اور اپنے رب کی تحمید وتسبیح بیان کرنے لگتے ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی کہ آپ کی آواز پر طرب میں آکر تسبیح و تحمید بیان کرنے والے جمادات و حیوانات کی تسبیح کا اجر بھی آپ کو حاصل ہوتا تھا کیونکہ آپ ان کی تسبیح و تحمید کا سبب تھے۔اللہ تعالیٰ کا یہ بھی آپ پر فضل و کرم تھا کہ اس نے لوہے کو آپ کے لیے نرم کر دیا تاکہ وہ زر ہیں تیار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرہ کی صنعت کی تعلیم دی اور ان کو زرہ کے حلقوں کو اندازے پر رکھنا سکھایا یعنی وہ اندازے کے ساتھ زرہ کا حلقہ بناتے تھے ، پھر وہ ان کو ایک دوسرے میں داخل کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ١ۚ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾(الانبیاء:21؍80) ’’اور ہم نے تمھارے لیے ان کو زرہ بنانا سکھا دیا تاکہ یہ زرہیں تمھیں ایک دوسرے کی ضرب سے محفوظ رکھیں، تو پھر کیا تم شکر گزار ہو گے؟‘‘ حضرت داؤ دu اور آل داؤ د پر اپنے احسان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر کرنے کا حکم دیا، نیز انھیں یہ حکم بھی دیا کہ وہ نیک عمل کریں، وہ اپنے عمل کی اصلاح اور مفسدات سے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے ڈریں کیونکہ وہ ان اعمال کو دیکھتا ہے، ان کی اطلاع رکھتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔
34:11أَنِ ٱعۡمَلۡ سَٰبِغَٰتٖ وَقَدِّرۡ فِي ٱلسَّرۡدِۖ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
اور تحقیق دی ہم نے داؤ د کو اپنی طرف سے فضیلت ، (ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو! تسبیح دہراؤ اس کےساتھ اور پرندوں کو (بھی کہا) اور نرم کر دیا ہم نے اس کے لیے لوہا(10) یہ کہ بنا (زرہیں)کامل کشادہ اور (مناسب) اندازہ رکھ کڑیاں جوڑنے میں اور تم (سب) عمل کرو نیک، بے شک میں، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہوں(11)
[10، 11] یعنی ہم نے اپنے بندے اور رسول داؤ دu پر احسان کیا اور ہم نے انھیں علم نافع اور عمل صالح میں فضیلت بخشی اور انھیں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے کہ اس نے پہاڑوں، حیوانات اور پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤ دu کی حمدوتسبیح کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں۔ یہ ایسی نعمت ہے جو آپ کے خصائص میں شمار ہوتی ہے اور یہ خصوصیت آپ سے پہلے کسی کو عطا کی گئی نہ آپ کے بعد۔ یہ آواز آپ کو اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح پر آمادہ کرتی تھی۔ جب وہ دیکھتے کہ یہ جمادات، پہاڑ اور حیوانات حضرت داؤ دu کی آواز کا جواب دیتے ہوئے اپنے رب کی تسبیح و تکبیر اور تمجیدوتحمید کرتے ہیں تو یہ چیز ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر پر آمادہ کرتی۔بہت سے علماء کہتے ہیں کہ یہ نعمت داؤ دu کی آواز کی طرب خیزی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت خوبصورت آواز سے سرفراز فرمایا تھا اور انھیں اس میدان میں سب پر فوقیت حاصل تھی۔ جب آپ تسبیح و تہلیل اور تمجید وتحمید میں اپنی طرب انگیز آواز بلند کرتے تو جن وانس، پرندے اور پہاڑ آپ کی آواز پر جھوم اٹھتے اور اپنے رب کی تحمید وتسبیح بیان کرنے لگتے ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی کہ آپ کی آواز پر طرب میں آکر تسبیح و تحمید بیان کرنے والے جمادات و حیوانات کی تسبیح کا اجر بھی آپ کو حاصل ہوتا تھا کیونکہ آپ ان کی تسبیح و تحمید کا سبب تھے۔اللہ تعالیٰ کا یہ بھی آپ پر فضل و کرم تھا کہ اس نے لوہے کو آپ کے لیے نرم کر دیا تاکہ وہ زر ہیں تیار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرہ کی صنعت کی تعلیم دی اور ان کو زرہ کے حلقوں کو اندازے پر رکھنا سکھایا یعنی وہ اندازے کے ساتھ زرہ کا حلقہ بناتے تھے ، پھر وہ ان کو ایک دوسرے میں داخل کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ١ۚ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾(الانبیاء:21؍80) ’’اور ہم نے تمھارے لیے ان کو زرہ بنانا سکھا دیا تاکہ یہ زرہیں تمھیں ایک دوسرے کی ضرب سے محفوظ رکھیں، تو پھر کیا تم شکر گزار ہو گے؟‘‘ حضرت داؤ دu اور آل داؤ د پر اپنے احسان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر کرنے کا حکم دیا، نیز انھیں یہ حکم بھی دیا کہ وہ نیک عمل کریں، وہ اپنے عمل کی اصلاح اور مفسدات سے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے ڈریں کیونکہ وہ ان اعمال کو دیکھتا ہے، ان کی اطلاع رکھتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔
34:12وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهۡرٞ وَرَوَاحُهَا شَهۡرٞۖ وَأَسَلۡنَا لَهُۥ عَيۡنَ ٱلۡقِطۡرِۖ وَمِنَ ٱلۡجِنِّ مَن يَعۡمَلُ بَيۡنَ يَدَيۡهِ بِإِذۡنِ رَبِّهِۦۖ وَمَن يَزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ أَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ
اور (تابع کیا) سلیمان کے ہوا کو، اس کا صبح کا چلنا، ایک ماہ (کی مسافت) تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ تھا اور بہا دیا ہم نے اس کے لیے چشمہ تانبے کا، اور کچھ جن تھے جو کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو پھر جاتاان میں سے ہمارے حکم سے تو چکھاتے ہم اس کو خوب عذاب بھڑکتی آگ کا (12) وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا ، عالیشان عمارتیں اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے حوض اور دیگیں جمی ہوئیں، عمل کرو تم اے آل داؤد! (ہمارا) شکر کرنے کے لیے، اور بہت ہی تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے شکر گزار(13) پس جب ہم نے فیصلہ (نافذ) کر دیا اس (سلیمان) پر موت کا ، تو نہیں بتلایا ان (جنوں) کو اس (سلیمان) کی موت کا، مگر گھن کے کیڑے نے جو کھا رہا تھا اس کی لاٹھی کو، پس جب گر گیا سلیمان، تو جان لیا جنوں نے کہ اگر ہوتے وہ جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے وہ اس عذاب میں جو ذلیل کرنے والا ہے(14)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمانu پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لیے مسخر کر دیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کر لیتی تھی۔ فرمایا: ﴿غُدُوُّهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔‘‘ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک ﴿وَّرَوَاحُهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی ۔‘‘ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک۔ ﴿وَاَسَلۡنَا لَهٗ عَيۡنَ الۡقِطۡرِ﴾ اورہم نے حضرت سلیمانu کے لیے تانبے کا چشمہ مسخر کر دیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیاء اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لیے آسان کر دیا۔نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کر دیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يَّزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘
[13] یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمانu ان کو حکم دیتے تھے ﴿مِنۡ مَّحَارِيۡبَ ﴾ ’’قلعے‘‘ اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے ﴿وَتَمَاثِيۡلَ ﴾ ’’اور مجسمے‘‘ یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت ، قدرت اور ان کا سلیمان u کے لیے کام کرنے پر دلالت کرنا ہے۔ ﴿وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ ﴾ ’’اور لگن جیسے تالاب‘‘ وہ حضرت سلیمانu کے لیے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمانu ایسی چیزوں کے محتاج تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لیے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انھیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ ﴾ ’’اے آل داود! نیک عمل کرو۔‘‘ اس سے مراد داؤ دu، ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سب ہی مستفید ہوتے تھے۔ ﴿شُكۡرًا ﴾ یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾ اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ’’شکر‘‘ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔
[14] شیاطین اور جن حضرت سلیمانu کے لیے عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ انھوں نے انسانوں کو بہکایا اور ان پر ظاہر کیا کہ وہ غیب کا علم جانتے ہیں اور چھپی ہوئی چیزوں کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں پر ان کا جھوٹ واضح کرے، لہٰذا وہ اپنا کام کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کی وفات کا فیصلہ کر دیا، حضرت سلیمانu اپنے عصا کا سہارا لیے کھڑے تھے (اور اسی حالت میں وفات پاگئے) تو جن جب وہاں سے گزرتے تو دیکھتے کہ وہ سہارا لیے کھڑے ہیں۔ وہ انھیں زندہ سمجھتے ہوئے ان سے ڈرتے رہے۔ ایک قول کے مطابق جن سال بھر اسی طرح کام کرتے رہے حتیٰ کہ دیمک نے ان کا عصا کھانا شروع کر دیا یہاں تک کہ عصا بالکل ختم ہو کر گر گیا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمانu کا جسد بھی زمین پر آرہا۔ یہ دیکھ کر شیاطین آزاد ہو کر بھاگ گئے اس طرح انسانوں پر واضح ہو گیا ﴿اَنۡ لَّوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ الۡغَيۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِي الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’کہ اگر جنوں کے پاس علم غیب ہوتا تو وہ اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘ یعنی اس انتہائی سخت کام میں مصروف نہ رہتے۔ اگر ان کے پاس غیب کا علم ہوتا تو انھیں حضرت سلیمانu کے وفات پاجانے کا علم ہوتا، جو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی تاکہ اس مشقت سے نجات پائیں۔
34:13يَعۡمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٖ كَٱلۡجَوَابِ وَقُدُورٖ رَّاسِيَٰتٍۚ ٱعۡمَلُوٓاْ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرٗاۚ وَقَلِيلٞ مِّنۡ عِبَادِيَ ٱلشَّكُورُ
اور (تابع کیا) سلیمان کے ہوا کو، اس کا صبح کا چلنا، ایک ماہ (کی مسافت) تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ تھا اور بہا دیا ہم نے اس کے لیے چشمہ تانبے کا، اور کچھ جن تھے جو کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو پھر جاتاان میں سے ہمارے حکم سے تو چکھاتے ہم اس کو خوب عذاب بھڑکتی آگ کا (12) وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا ، عالیشان عمارتیں اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے حوض اور دیگیں جمی ہوئیں، عمل کرو تم اے آل داؤد! (ہمارا) شکر کرنے کے لیے، اور بہت ہی تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے شکر گزار(13) پس جب ہم نے فیصلہ (نافذ) کر دیا اس (سلیمان) پر موت کا ، تو نہیں بتلایا ان (جنوں) کو اس (سلیمان) کی موت کا، مگر گھن کے کیڑے نے جو کھا رہا تھا اس کی لاٹھی کو، پس جب گر گیا سلیمان، تو جان لیا جنوں نے کہ اگر ہوتے وہ جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے وہ اس عذاب میں جو ذلیل کرنے والا ہے(14)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمانu پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لیے مسخر کر دیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کر لیتی تھی۔ فرمایا: ﴿غُدُوُّهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔‘‘ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک ﴿وَّرَوَاحُهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی ۔‘‘ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک۔ ﴿وَاَسَلۡنَا لَهٗ عَيۡنَ الۡقِطۡرِ﴾ اورہم نے حضرت سلیمانu کے لیے تانبے کا چشمہ مسخر کر دیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیاء اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لیے آسان کر دیا۔نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کر دیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يَّزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘
[13] یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمانu ان کو حکم دیتے تھے ﴿مِنۡ مَّحَارِيۡبَ ﴾ ’’قلعے‘‘ اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے ﴿وَتَمَاثِيۡلَ ﴾ ’’اور مجسمے‘‘ یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت ، قدرت اور ان کا سلیمان u کے لیے کام کرنے پر دلالت کرنا ہے۔ ﴿وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ ﴾ ’’اور لگن جیسے تالاب‘‘ وہ حضرت سلیمانu کے لیے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمانu ایسی چیزوں کے محتاج تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لیے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انھیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ ﴾ ’’اے آل داود! نیک عمل کرو۔‘‘ اس سے مراد داؤ دu، ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سب ہی مستفید ہوتے تھے۔ ﴿شُكۡرًا ﴾ یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾ اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ’’شکر‘‘ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔
[14] شیاطین اور جن حضرت سلیمانu کے لیے عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ انھوں نے انسانوں کو بہکایا اور ان پر ظاہر کیا کہ وہ غیب کا علم جانتے ہیں اور چھپی ہوئی چیزوں کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں پر ان کا جھوٹ واضح کرے، لہٰذا وہ اپنا کام کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کی وفات کا فیصلہ کر دیا، حضرت سلیمانu اپنے عصا کا سہارا لیے کھڑے تھے (اور اسی حالت میں وفات پاگئے) تو جن جب وہاں سے گزرتے تو دیکھتے کہ وہ سہارا لیے کھڑے ہیں۔ وہ انھیں زندہ سمجھتے ہوئے ان سے ڈرتے رہے۔ ایک قول کے مطابق جن سال بھر اسی طرح کام کرتے رہے حتیٰ کہ دیمک نے ان کا عصا کھانا شروع کر دیا یہاں تک کہ عصا بالکل ختم ہو کر گر گیا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمانu کا جسد بھی زمین پر آرہا۔ یہ دیکھ کر شیاطین آزاد ہو کر بھاگ گئے اس طرح انسانوں پر واضح ہو گیا ﴿اَنۡ لَّوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ الۡغَيۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِي الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’کہ اگر جنوں کے پاس علم غیب ہوتا تو وہ اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘ یعنی اس انتہائی سخت کام میں مصروف نہ رہتے۔ اگر ان کے پاس غیب کا علم ہوتا تو انھیں حضرت سلیمانu کے وفات پاجانے کا علم ہوتا، جو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی تاکہ اس مشقت سے نجات پائیں۔
34:14فَلَمَّا قَضَيۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَوۡتَ مَا دَلَّهُمۡ عَلَىٰ مَوۡتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلۡأَرۡضِ تَأۡكُلُ مِنسَأَتَهُۥۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلۡجِنُّ أَن لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٱلۡغَيۡبَ مَا لَبِثُواْ فِي ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ
اور (تابع کیا) سلیمان کے ہوا کو، اس کا صبح کا چلنا، ایک ماہ (کی مسافت) تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ تھا اور بہا دیا ہم نے اس کے لیے چشمہ تانبے کا، اور کچھ جن تھے جو کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو پھر جاتاان میں سے ہمارے حکم سے تو چکھاتے ہم اس کو خوب عذاب بھڑکتی آگ کا (12) وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا ، عالیشان عمارتیں اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے حوض اور دیگیں جمی ہوئیں، عمل کرو تم اے آل داؤد! (ہمارا) شکر کرنے کے لیے، اور بہت ہی تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے شکر گزار(13) پس جب ہم نے فیصلہ (نافذ) کر دیا اس (سلیمان) پر موت کا ، تو نہیں بتلایا ان (جنوں) کو اس (سلیمان) کی موت کا، مگر گھن کے کیڑے نے جو کھا رہا تھا اس کی لاٹھی کو، پس جب گر گیا سلیمان، تو جان لیا جنوں نے کہ اگر ہوتے وہ جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے وہ اس عذاب میں جو ذلیل کرنے والا ہے(14)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمانu پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لیے مسخر کر دیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کر لیتی تھی۔ فرمایا: ﴿غُدُوُّهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔‘‘ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک ﴿وَّرَوَاحُهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی ۔‘‘ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک۔ ﴿وَاَسَلۡنَا لَهٗ عَيۡنَ الۡقِطۡرِ﴾ اورہم نے حضرت سلیمانu کے لیے تانبے کا چشمہ مسخر کر دیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیاء اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لیے آسان کر دیا۔نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کر دیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يَّزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘
[13] یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمانu ان کو حکم دیتے تھے ﴿مِنۡ مَّحَارِيۡبَ ﴾ ’’قلعے‘‘ اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے ﴿وَتَمَاثِيۡلَ ﴾ ’’اور مجسمے‘‘ یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت ، قدرت اور ان کا سلیمان u کے لیے کام کرنے پر دلالت کرنا ہے۔ ﴿وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ ﴾ ’’اور لگن جیسے تالاب‘‘ وہ حضرت سلیمانu کے لیے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمانu ایسی چیزوں کے محتاج تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لیے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انھیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ ﴾ ’’اے آل داود! نیک عمل کرو۔‘‘ اس سے مراد داؤ دu، ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سب ہی مستفید ہوتے تھے۔ ﴿شُكۡرًا ﴾ یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾ اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ’’شکر‘‘ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔
[14] شیاطین اور جن حضرت سلیمانu کے لیے عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ انھوں نے انسانوں کو بہکایا اور ان پر ظاہر کیا کہ وہ غیب کا علم جانتے ہیں اور چھپی ہوئی چیزوں کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں پر ان کا جھوٹ واضح کرے، لہٰذا وہ اپنا کام کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کی وفات کا فیصلہ کر دیا، حضرت سلیمانu اپنے عصا کا سہارا لیے کھڑے تھے (اور اسی حالت میں وفات پاگئے) تو جن جب وہاں سے گزرتے تو دیکھتے کہ وہ سہارا لیے کھڑے ہیں۔ وہ انھیں زندہ سمجھتے ہوئے ان سے ڈرتے رہے۔ ایک قول کے مطابق جن سال بھر اسی طرح کام کرتے رہے حتیٰ کہ دیمک نے ان کا عصا کھانا شروع کر دیا یہاں تک کہ عصا بالکل ختم ہو کر گر گیا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمانu کا جسد بھی زمین پر آرہا۔ یہ دیکھ کر شیاطین آزاد ہو کر بھاگ گئے اس طرح انسانوں پر واضح ہو گیا ﴿اَنۡ لَّوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ الۡغَيۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِي الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’کہ اگر جنوں کے پاس علم غیب ہوتا تو وہ اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘ یعنی اس انتہائی سخت کام میں مصروف نہ رہتے۔ اگر ان کے پاس غیب کا علم ہوتا تو انھیں حضرت سلیمانu کے وفات پاجانے کا علم ہوتا، جو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی تاکہ اس مشقت سے نجات پائیں۔
34:15لَقَدۡ كَانَ لِسَبَإٖ فِي مَسۡكَنِهِمۡ ءَايَةٞۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٖ وَشِمَالٖۖ كُلُواْ مِن رِّزۡقِ رَبِّكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لَهُۥۚ بَلۡدَةٞ طَيِّبَةٞ وَرَبٌّ غَفُورٞ
البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21)
[19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
[20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔
34:16فَأَعۡرَضُواْ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ وَبَدَّلۡنَٰهُم بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ أُكُلٍ خَمۡطٖ وَأَثۡلٖ وَشَيۡءٖ مِّن سِدۡرٖ قَلِيلٖ
البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21)
[19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
[20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔
34:17ذَٰلِكَ جَزَيۡنَٰهُم بِمَا كَفَرُواْۖ وَهَلۡ نُجَٰزِيٓ إِلَّا ٱلۡكَفُورَ
البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21)
[19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
[20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔
34:18وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ ٱلۡقُرَى ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَا قُرٗى ظَٰهِرَةٗ وَقَدَّرۡنَا فِيهَا ٱلسَّيۡرَۖ سِيرُواْ فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا ءَامِنِينَ
البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21)
[19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
[20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔
34:19فَقَالُواْ رَبَّنَا بَٰعِدۡ بَيۡنَ أَسۡفَارِنَا وَظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَحَادِيثَ وَمَزَّقۡنَٰهُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ
البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21)
[19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
[20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔
34:20وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ إِبۡلِيسُ ظَنَّهُۥ فَٱتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقٗا مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21)
[19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
[20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔
34:21وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيۡهِم مِّن سُلۡطَٰنٍ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يُؤۡمِنُ بِٱلۡأٓخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِي شَكّٖۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيظٞ
البتہ تحقیق تھی سبا (قوم) کے لیے ان کی بستی میں ایک (عظیم ) نشانی، دو باغ، دائیں اور بائیں طرف ، کھاؤ تم رزق میں سے اپنے رب کے اور شکر کرو تم اس کا (یہ) شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے بڑا بخشنے والا(15)پس انھوں نے اعراض کیا تو بھیج دیا ہم نے ان پر سیلاب بند کا، اور بدل دیے ہم نے ان کو ان کے دو باغوں کے عوض، دو باغ کسیلے میوے والے اور (جس میں تھے) کچھ جھاؤ اور کچھ درخت بیری کے تھوڑے سے(16) یہ سزا دی ہم نے ان کو اس کی جو انھوں نے کفر کیا، اور نہیں ہم سزا دیتے مگر ناشکروں ہی کو(17) اور (قائم) کر دی تھیں ہم نے درمیان ان کے اور درمیان ان بستیوں کے، جن میں برکت رکھی تھی ہم نے ، کچھ بستیاں جومتصل تھیں اور مقررکیں ہم نے اس میں (منزلیں) ، (اور کہا) چلو تم ان میں راتوں اور دنوں کوبے خوفی سے(18) پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! دوری کر دے درمیان ہمارے سفروں کے، اور ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر، پس بنا دیا ہم نے ان کو افسانے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہم نے ان کو مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر و شاکر کے(19) اور تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنا خیال، پس پیروی کی انھوں نے اس کی، سوائے ایک فریق کے مومنوں میں سے(20) اور نہیں تھا اس کا اوپر ان کے کوئی زور، مگر تاکہ ہم جان لیں کون ایمان رکھتا ہے آخرت پر، (الگ) اس سے جو اس کے بارے میں شک میں ہے، اور آپ کا رب اوپر ہر چیز کے نگران ہے(21)
[19-15] ’’سبا‘‘ ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے ’’مَأرِب‘‘ کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔ ﴿لَقَدۡ كَانَ لِسَبَاٍ فِيۡ مَسۡكَنِهِمۡ ﴾ ’’سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں‘‘ یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰيَةٌ ﴾ ’’ایک نشانی ‘‘ اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿جَنَّتٰنِ عَنۡ يَّمِيۡنٍ وَّشِمَالٍ ﴾ ’’ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔‘‘ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا ، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے ۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:(۱)یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔(۲)اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلۡدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴾’’پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔‘‘(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے ’’صنعاء‘‘ کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ الۡقُرَى الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرۡنَا فِيۡهَا السَّيۡرَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔‘‘ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔ ﴿وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا:﴿وَبَدَّلۡنٰهُمۡ بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ اُكُلٍ ﴾ ’’اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے‘‘ یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَيۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِيۡلٍ ﴾ ’’بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِمَا كَفَرُوۡا١ؕ وَهَلۡ نُجٰؔزِيۡۤ اِلَّا الۡكَفُوۡرَ﴾ ’’یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔ ، چنانچہ کہا جاتا ہے:( تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) ’’وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔‘‘ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾’’بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔(۱)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ ’’شکر‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔(۲)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
[20] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ سبا ایسی قوم ہے جس کی وجہ سے شیطان نے اپنا یہ دعویٰ سچ کر دکھایا جیسا کہ اس نے کہا تھا:﴿قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ۰۰ قَالَ فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾(صٓ:38؍82، 83) ’’تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بدراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔‘‘ یہ شیطان کا گمان تھا جو یقین پر مبنی نہ تھا کیونکہ شیطان غیب کا علم جانتا ہے نہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر ہی آئی ہے کہ وہ ان سب کو بدراہ کرے گا سوائے ان مستثنیٰ لوگوں کے۔ پس یہ لوگ اور ان جیسے دیگر لوگ، جن کے بارے میں شیطان کا گمان سچا ثابت ہوا، اس نے ان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دی اور ان کو بہکایا، ﴿فَاتَّبَعُوۡهُ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری نہیں کی تو یہ لوگ ابلیس کے گمان میں داخل نہیں ہیں۔یہ بھی احتمال ہے کہ قوم سبا کا قصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم ہو گیا ہو: ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ اور پھر اس آیت کریمہ سے کلام کی ابتدا کی ہو ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تحقیق شیطان نے ان کے بارے میں (اپنا گمان) سچ کر دکھایا‘‘ یعنی تمام انسانوں کی جنس کے بارے میں۔ تب یہ آیت کریمہ، ان تمام لوگوں کے بارے میں عام ہے جنھوں نے شیطان کی پیروی کی۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لَهٗ﴾ ’’اورنہیں ہے اس کو۔‘‘ یعنی ابلیس کو ﴿عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ’’ان پر کوئی غلبہ۔‘‘ یعنی شیطان کو کوئی تسلط اور غلبہ حاصل ہے نہ وہ کسی کو اپنے ارادے کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو شیطان کے تسلط اور بنی آدم کو گمراہ کرنے میں اس کی فریب کاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِيۡ شَكٍّ ﴾ ’’تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔‘‘ تاکہ امتحان کا بازار گرم رہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز واقع ہو جائے، وہ شخص پہچانا جائے جس کا ایمان صحیح ہے جو امتحان، آزمائش اور شیطانی شبہات کے وقت ثابت قدم رہا اور وہ شخص بھی پہچان لیا جائے جس کا ایمان صحیح نہیں جو ادنیٰ سے شبہے پر متزلزل ہو جاتا ہے اور اس سے متضاد تھوڑی سی دعوت پر اپنے موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور پاک لوگوں میں سے ناپاک کو ظاہر کر دیتا ہے ﴿وَرَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴾ ’’اور آپ کا رب ہر چیز پر محافظ ہے۔‘‘ وہ بندوں کی حفاظت کرتا ہے، ان کے اعمال اور اعمال کی جزا کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری جزا دے گا۔
34:22قُلِ ٱدۡعُواْ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمۡلِكُونَ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا لَهُمۡ فِيهِمَا مِن شِرۡكٖ وَمَا لَهُۥ مِنۡهُم مِّن ظَهِيرٖ
کہہ دیجیے! پکارو ان کو جنھیں گمان کیا تھا تم نے اللہ کے سوا ( معبود)، نہیں اختیار رکھتے وہ برابر ایک ذرے کے آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں ہے ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت اور نہیں ہے اس کے لیے ان میں سے کوئی مددگار(22) اور نہیں نفع دے گی سفارش اس کےپاس، سوائے اس شخص کے کہ اجازت دے گا اللہ اسے، یہاں تک کہ جب دور کر دی جاتی گھبراہٹ ان کے دلوں سے توکہتے ہیں، کیا کہا تمھارے رب نے؟ وہ کہتے ہیں: حق (کہا)، اور وہ بہت بلند اور بڑا ہے(23)
[22، 23]﴿قُلِ ﴾ اے رسول! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انھیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جنھیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمھارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انھیں پکار دیکھو ان کی بے بسی اور تمھاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔بلاشبہ وہ کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ زمین وآسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں‘‘ یعنی وہ مستقل طور پر کسی چیز کے مالک ہیں نہ کسی چیز کی ملکیت میں اشتراک رکھتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے نہیں ہے‘‘ یعنی جن کو تم نے معبود سمجھ رکھا ہے ﴿فِيۡهِمَا ﴾ آسمانوں اور زمین میں ﴿مِنۡ شِرۡكٍ ﴾ ’’کوئی شراکت‘‘ یعنی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، ان کا اس میں کوئی بھی حصہ نہیں ہے۔ پس وہ کسی چیز کے مالک ہیں نہ ملکیت میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ، ان کے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ملکیت میں شریک نہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ مالک کے اعوان و انصار اور اس کے وزراء ہیں ، لہٰذا ان کو پکارنا نفع مند ہے، کیونکہ بادشاہ ان کا محتاج ہوتا ہے اور وہ اپنے متعلقین کی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مرتبہ ومقام کی بھی نفی فرما دی، چنانچہ فرمایا:﴿وَّمَا لَهٗ﴾ ’’اور نہیں ہے اس کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ واحد قہار کے ﴿مِنۡهُمۡ ﴾ ان خود ساختہ معبودوں میں سے ﴿مِّنۡ ظَهِيۡرٍ ﴾ کوئی معاون اور وزیر، جو کاروبار، اقتدار اور تدبیر مملکت میں اس کی مدد کرے۔باقی رہی شفاعت تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی نفی فرما دی، فرمایا:﴿وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾ ’’اور اس کے ہاں سفارش فائدہ نہیں دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔‘‘ یہ وہ تعلقات اور امیدیں ہیں جو مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں، بتوں، انسانوں اور شجر وحجر سے وابستہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام امیدوں کو منقطع کر دیا اور ان کے بطلان کو اچھی طرح واضح کر کے شرک کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ چونکہ مشرک غیراللہ کی عبادت صرف اس لیے کرتا ہے کہ اسے غیر اللہ سے کسی نفع کی امید ہوتی ہے اور یہی امید شرک کی موجب ہوتی ہے تو جب یہ معلوم ہو جائے کہ وہ ہستی، جسے یہ اللہ کے سوا پکارتا ہے، کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ مالک کی ملکیت میں شریک ہے، نہ اس کی معاون اور مددگار ہے اور نہ وہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتی ہے تو اس کا یہ پکارنا اور اس کی یہ عبادت عقل کے مطابق گمراہی اور شرع کے مطابق باطل ہے۔اس کے برعکس مشرک کو اس سے جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ اس کے مقصود ومطلوب کے بالکل الٹ ہوتی ہے۔ مشرک ان خود ساختہ معبودوں کے ذریعے سے نفع چاہتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس نفع کا بطلان اور اس کا معدوم ہونا واضح کر دیا ہے اور بعض دیگر آیات میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنے والے کے لیے ان کے ضرر کو بیان کر دیا ہے۔ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قیامت کے روز یہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾(الاحقاف:46/6)’’اور جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ اپنی عبادت کرنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘ بڑی عجیب بات ہے کہ مشرک آدمی تکبرواستکبار کی وجہ سے رسولوں کی اطاعت اس گمان سے نہیں کرتا کہ وہ بشر ہیں اور اس کا حال یہ ہے کہ وہ شجروحجر کو پکارتاہے اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے، محض تکبر کی بنا پر رحمان کے لیے اخلاص نہیں رکھتا مگر اپنے بدترین دشمن شیطان کی اطاعت کرتے ہوئے ان ہستیوں کی عبادت پر راضی ہو جاتا ہے جن کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔﴿حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِهِمۡ قَالُوۡا مَاذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمۡ١ؕ قَالُوا الۡحَقَّ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيُّ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’حتی کہ جب ان کے دلوں سے گبھراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمھارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ بلند وبالا اور بہت بڑا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہ احتمال موجود ہے کہ اس مقام پر ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ آیت کریمہ میں لفظاً وہی مذکور ہیں اور ضمائر کے بارے میں قاعدہ بھی یہی ہے کہ یہ اپنے قریب ترین مذکور کی طرف لوٹتی ہیں تب اس صورت میں معنیٰ یہ ہو گا کہ قیامت کے روز جب مشرکین کی گھبراہٹ دور ہو گی، اور انھیں ہوش آئے گا، ان سے دنیا میں ان کے احوال کے بارے میں سوال کیا جائے گا، حق لانے والے رسولوں کی تکذیب کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا تو وہ اقرار کریں گے کہ کفر اور شرک پر مبنی ان کا موقف باطل تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور انبیاء و مرسلین نے اس کے بارے میں خبر دی تھی وہی حق تھا۔ تو اس سے پہلے جو کچھ وہ چھپایا کرتے تھے سب ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ حق تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَلِيُّ ﴾ وہ بذاتہ تمام مخلوقات کے اوپر ہے، وہ ان پر غالب ہے اور وہ اپنی عظیم اور جلیل القدر صفات کی بنا پر عالی قدر ہے۔ ﴿الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات میں بہت بڑا ہے۔ یہ اس کی بلندی ہے کہ اس کا حکم سب پر غالب ہے نفوس اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں حتیٰ کہ مشرکین و متکبرین کے نفوس بھی سرافگندہ ہیں۔ یہ معنیٰ زیادہ واضح ہے اور یہی وہ معنیٰ ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے۔اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر ملائکہ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے کلام فرماتے ہیں اور فرشتے اسے سنتے ہیں تو وہ غش کھا کر سجدے میں گر جاتے ہیں، پھر سب سے پہلے جبریلu سر اٹھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ جو ارادہ فرماتے ہیں اس کے بارے میں ان سے وحی کے ذریعے سے کلام کرتے ہیں۔ جب فرشتوں کی مدہوشی دور اور ان کی گھبراہٹ زائل ہو جاتی ہے تو وہ کلام الٰہی کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں جس کی بنا پر ان پر غشی طاری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حق ارشاد فرمایا: یہ بات وہ یا تو اجمالی طور پر کہتے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے یا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں بات ارشاد فرمائی، یہ اس کلام کی وجہ سے کہتے ہیں جو انھوں نے اس سے سنا ہے اور یہ سب حق ہے۔تب اس احتمال کے مطابق معنیٰ یہ ہو گا کہ مشرکین جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی جن کے عجز اور نقص کے بارے میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کو کوئی نفع نہیں دے سکتے تو ان کفار نے رب عظیم کی عبادت میں اخلاص سے کیسے انحراف کیا، جو بلند اور بہت بڑا ہے جس کی عظمت و جلال کا یہ حال ہے کہ بڑے بڑے مکرم اور مقرب فرشتے، اس کا کلام سن کر خشوع و خضوع کی بنا پر غش کھا کر گر پڑتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ان مشرکین کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ تکبر سے اس ہستی کی عبادت سے انکار کرتے ہیں جس کی عظمت، اقتدار، تسلط اور شان کا یہ حال ہے۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ مشرکین کے شرک اور ان کے کذب و بہتان طرازی سے بلندوبالا ہے۔
34:23وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنۡ أَذِنَ لَهُۥۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمۡ قَالُواْ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمۡۖ قَالُواْ ٱلۡحَقَّۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ
کہہ دیجیے! پکارو ان کو جنھیں گمان کیا تھا تم نے اللہ کے سوا ( معبود)، نہیں اختیار رکھتے وہ برابر ایک ذرے کے آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہیں ہے ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت اور نہیں ہے اس کے لیے ان میں سے کوئی مددگار(22) اور نہیں نفع دے گی سفارش اس کےپاس، سوائے اس شخص کے کہ اجازت دے گا اللہ اسے، یہاں تک کہ جب دور کر دی جاتی گھبراہٹ ان کے دلوں سے توکہتے ہیں، کیا کہا تمھارے رب نے؟ وہ کہتے ہیں: حق (کہا)، اور وہ بہت بلند اور بڑا ہے(23)
[22، 23]﴿قُلِ ﴾ اے رسول! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انھیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جنھیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمھارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انھیں پکار دیکھو ان کی بے بسی اور تمھاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔بلاشبہ وہ کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ زمین وآسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں‘‘ یعنی وہ مستقل طور پر کسی چیز کے مالک ہیں نہ کسی چیز کی ملکیت میں اشتراک رکھتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے نہیں ہے‘‘ یعنی جن کو تم نے معبود سمجھ رکھا ہے ﴿فِيۡهِمَا ﴾ آسمانوں اور زمین میں ﴿مِنۡ شِرۡكٍ ﴾ ’’کوئی شراکت‘‘ یعنی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، ان کا اس میں کوئی بھی حصہ نہیں ہے۔ پس وہ کسی چیز کے مالک ہیں نہ ملکیت میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ، ان کے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ملکیت میں شریک نہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ مالک کے اعوان و انصار اور اس کے وزراء ہیں ، لہٰذا ان کو پکارنا نفع مند ہے، کیونکہ بادشاہ ان کا محتاج ہوتا ہے اور وہ اپنے متعلقین کی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مرتبہ ومقام کی بھی نفی فرما دی، چنانچہ فرمایا:﴿وَّمَا لَهٗ﴾ ’’اور نہیں ہے اس کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ واحد قہار کے ﴿مِنۡهُمۡ ﴾ ان خود ساختہ معبودوں میں سے ﴿مِّنۡ ظَهِيۡرٍ ﴾ کوئی معاون اور وزیر، جو کاروبار، اقتدار اور تدبیر مملکت میں اس کی مدد کرے۔باقی رہی شفاعت تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی نفی فرما دی، فرمایا:﴿وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾ ’’اور اس کے ہاں سفارش فائدہ نہیں دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔‘‘ یہ وہ تعلقات اور امیدیں ہیں جو مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں، بتوں، انسانوں اور شجر وحجر سے وابستہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام امیدوں کو منقطع کر دیا اور ان کے بطلان کو اچھی طرح واضح کر کے شرک کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ چونکہ مشرک غیراللہ کی عبادت صرف اس لیے کرتا ہے کہ اسے غیر اللہ سے کسی نفع کی امید ہوتی ہے اور یہی امید شرک کی موجب ہوتی ہے تو جب یہ معلوم ہو جائے کہ وہ ہستی، جسے یہ اللہ کے سوا پکارتا ہے، کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ مالک کی ملکیت میں شریک ہے، نہ اس کی معاون اور مددگار ہے اور نہ وہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتی ہے تو اس کا یہ پکارنا اور اس کی یہ عبادت عقل کے مطابق گمراہی اور شرع کے مطابق باطل ہے۔اس کے برعکس مشرک کو اس سے جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ اس کے مقصود ومطلوب کے بالکل الٹ ہوتی ہے۔ مشرک ان خود ساختہ معبودوں کے ذریعے سے نفع چاہتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس نفع کا بطلان اور اس کا معدوم ہونا واضح کر دیا ہے اور بعض دیگر آیات میں ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنے والے کے لیے ان کے ضرر کو بیان کر دیا ہے۔ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قیامت کے روز یہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾(الاحقاف:46/6)’’اور جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ اپنی عبادت کرنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘ بڑی عجیب بات ہے کہ مشرک آدمی تکبرواستکبار کی وجہ سے رسولوں کی اطاعت اس گمان سے نہیں کرتا کہ وہ بشر ہیں اور اس کا حال یہ ہے کہ وہ شجروحجر کو پکارتاہے اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے، محض تکبر کی بنا پر رحمان کے لیے اخلاص نہیں رکھتا مگر اپنے بدترین دشمن شیطان کی اطاعت کرتے ہوئے ان ہستیوں کی عبادت پر راضی ہو جاتا ہے جن کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔﴿حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِهِمۡ قَالُوۡا مَاذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمۡ١ؕ قَالُوا الۡحَقَّ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيُّ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’حتی کہ جب ان کے دلوں سے گبھراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمھارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ بلند وبالا اور بہت بڑا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہ احتمال موجود ہے کہ اس مقام پر ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہو کیونکہ آیت کریمہ میں لفظاً وہی مذکور ہیں اور ضمائر کے بارے میں قاعدہ بھی یہی ہے کہ یہ اپنے قریب ترین مذکور کی طرف لوٹتی ہیں تب اس صورت میں معنیٰ یہ ہو گا کہ قیامت کے روز جب مشرکین کی گھبراہٹ دور ہو گی، اور انھیں ہوش آئے گا، ان سے دنیا میں ان کے احوال کے بارے میں سوال کیا جائے گا، حق لانے والے رسولوں کی تکذیب کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا تو وہ اقرار کریں گے کہ کفر اور شرک پر مبنی ان کا موقف باطل تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور انبیاء و مرسلین نے اس کے بارے میں خبر دی تھی وہی حق تھا۔ تو اس سے پہلے جو کچھ وہ چھپایا کرتے تھے سب ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ حق تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَلِيُّ ﴾ وہ بذاتہ تمام مخلوقات کے اوپر ہے، وہ ان پر غالب ہے اور وہ اپنی عظیم اور جلیل القدر صفات کی بنا پر عالی قدر ہے۔ ﴿الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات میں بہت بڑا ہے۔ یہ اس کی بلندی ہے کہ اس کا حکم سب پر غالب ہے نفوس اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں حتیٰ کہ مشرکین و متکبرین کے نفوس بھی سرافگندہ ہیں۔ یہ معنیٰ زیادہ واضح ہے اور یہی وہ معنیٰ ہے جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے۔اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر ملائکہ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے کلام فرماتے ہیں اور فرشتے اسے سنتے ہیں تو وہ غش کھا کر سجدے میں گر جاتے ہیں، پھر سب سے پہلے جبریلu سر اٹھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ جو ارادہ فرماتے ہیں اس کے بارے میں ان سے وحی کے ذریعے سے کلام کرتے ہیں۔ جب فرشتوں کی مدہوشی دور اور ان کی گھبراہٹ زائل ہو جاتی ہے تو وہ کلام الٰہی کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں جس کی بنا پر ان پر غشی طاری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حق ارشاد فرمایا: یہ بات وہ یا تو اجمالی طور پر کہتے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے یا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں بات ارشاد فرمائی، یہ اس کلام کی وجہ سے کہتے ہیں جو انھوں نے اس سے سنا ہے اور یہ سب حق ہے۔تب اس احتمال کے مطابق معنیٰ یہ ہو گا کہ مشرکین جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی جن کے عجز اور نقص کے بارے میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کو کوئی نفع نہیں دے سکتے تو ان کفار نے رب عظیم کی عبادت میں اخلاص سے کیسے انحراف کیا، جو بلند اور بہت بڑا ہے جس کی عظمت و جلال کا یہ حال ہے کہ بڑے بڑے مکرم اور مقرب فرشتے، اس کا کلام سن کر خشوع و خضوع کی بنا پر غش کھا کر گر پڑتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ان مشرکین کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ تکبر سے اس ہستی کی عبادت سے انکار کرتے ہیں جس کی عظمت، اقتدار، تسلط اور شان کا یہ حال ہے۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ مشرکین کے شرک اور ان کے کذب و بہتان طرازی سے بلندوبالا ہے۔
34:24۞قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُلِ ٱللَّهُۖ وَإِنَّآ أَوۡ إِيَّاكُمۡ لَعَلَىٰ هُدًى أَوۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
کہہ دیجیے!کون رزق دیتا ہے تم کو آسمانوں اور زمین سے؟ کہہ دیجیے: اللہ ہی، اور بلاشبہ ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں(24) کہہ دیجیے! نہیں پوچھے جاؤ گے تم اس کی بابت جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم پوچھے جائیں گے اس کی بابت جو تم عمل کرتے ہو(25) کہہ دیجیے: جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور وہی ہے فیصلہ کرنے والا، جاننے والا(26) کہہ دیجیے: دکھاؤ تم مجھے، وہ (معبود) جن کو ملا دیا تھا تم نے اس (اللہ) کے ساتھ شریک (ٹھہرا کر)، ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی ہے اللہ غالب حکمت والا (27)
[24] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین سے تمھیں رزق کون فراہم کرتا ہے؟‘‘ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انھیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔‘‘ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کر سکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمھیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمھارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمھارے لیے نباتات اگاتا ہے، وہ تمھارے لیے دریاؤ ں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمھارے لیے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانات کو تمھارے رزق اور تمھاری دیگر منفعتوں کے لیے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمھیں رزق عطا کر سکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاِنَّـاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔ ہم نے وہ تمام دلائل واضح کر دیے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ہو جاتی ہےجس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ اس شخص کے درمیان... جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد وثنا اسی کے لیے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں، اپنے اوصاف و افعال میں، بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد وثنا کا مستحق ہے ، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لیے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روکتا ہے... اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خودساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لیے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا یہ وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں... تو آپ پر واضح ہو جائے گاکہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لیے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبانِ حال زبانِ مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔
[25]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ انھیں ﴿لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔
[26] بنا بریں فرمایا: ﴿قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا ، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔
[27]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں:﴿اَرُوۡنِيَ الَّذِيۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِهٖ شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔‘‘ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس وجود کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾(یونس:10؍18) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے: تم اللہ کو اس بات سے آگاہ کرتے ہو جسے وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾(یونس:10؍66) ’’اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء و مرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ﴿شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’شریک ‘‘ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مد مقابل نہیں۔ ﴿بَلۡ هُوَ اللّٰهُ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ ہے‘‘ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلیق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اوراسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے... تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لیے یہی دلیل کافی ہے... تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرونواہی حکمت پر مشتمل ہیں؟
34:25قُل لَّا تُسۡـَٔلُونَ عَمَّآ أَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
کہہ دیجیے!کون رزق دیتا ہے تم کو آسمانوں اور زمین سے؟ کہہ دیجیے: اللہ ہی، اور بلاشبہ ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں(24) کہہ دیجیے! نہیں پوچھے جاؤ گے تم اس کی بابت جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم پوچھے جائیں گے اس کی بابت جو تم عمل کرتے ہو(25) کہہ دیجیے: جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور وہی ہے فیصلہ کرنے والا، جاننے والا(26) کہہ دیجیے: دکھاؤ تم مجھے، وہ (معبود) جن کو ملا دیا تھا تم نے اس (اللہ) کے ساتھ شریک (ٹھہرا کر)، ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی ہے اللہ غالب حکمت والا (27)
[24] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین سے تمھیں رزق کون فراہم کرتا ہے؟‘‘ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انھیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔‘‘ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کر سکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمھیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمھارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمھارے لیے نباتات اگاتا ہے، وہ تمھارے لیے دریاؤ ں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمھارے لیے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانات کو تمھارے رزق اور تمھاری دیگر منفعتوں کے لیے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمھیں رزق عطا کر سکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاِنَّـاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔ ہم نے وہ تمام دلائل واضح کر دیے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ہو جاتی ہےجس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ اس شخص کے درمیان... جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد وثنا اسی کے لیے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں، اپنے اوصاف و افعال میں، بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد وثنا کا مستحق ہے ، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لیے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روکتا ہے... اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خودساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لیے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا یہ وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں... تو آپ پر واضح ہو جائے گاکہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لیے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبانِ حال زبانِ مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔
[25]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ انھیں ﴿لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔
[26] بنا بریں فرمایا: ﴿قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا ، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔
[27]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں:﴿اَرُوۡنِيَ الَّذِيۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِهٖ شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔‘‘ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس وجود کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾(یونس:10؍18) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے: تم اللہ کو اس بات سے آگاہ کرتے ہو جسے وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾(یونس:10؍66) ’’اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء و مرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ﴿شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’شریک ‘‘ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مد مقابل نہیں۔ ﴿بَلۡ هُوَ اللّٰهُ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ ہے‘‘ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلیق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اوراسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے... تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لیے یہی دلیل کافی ہے... تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرونواہی حکمت پر مشتمل ہیں؟
34:26قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا بِٱلۡحَقِّ وَهُوَ ٱلۡفَتَّاحُ ٱلۡعَلِيمُ
کہہ دیجیے!کون رزق دیتا ہے تم کو آسمانوں اور زمین سے؟ کہہ دیجیے: اللہ ہی، اور بلاشبہ ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں(24) کہہ دیجیے! نہیں پوچھے جاؤ گے تم اس کی بابت جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم پوچھے جائیں گے اس کی بابت جو تم عمل کرتے ہو(25) کہہ دیجیے: جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور وہی ہے فیصلہ کرنے والا، جاننے والا(26) کہہ دیجیے: دکھاؤ تم مجھے، وہ (معبود) جن کو ملا دیا تھا تم نے اس (اللہ) کے ساتھ شریک (ٹھہرا کر)، ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی ہے اللہ غالب حکمت والا (27)
[24] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین سے تمھیں رزق کون فراہم کرتا ہے؟‘‘ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انھیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔‘‘ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کر سکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمھیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمھارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمھارے لیے نباتات اگاتا ہے، وہ تمھارے لیے دریاؤ ں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمھارے لیے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانات کو تمھارے رزق اور تمھاری دیگر منفعتوں کے لیے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمھیں رزق عطا کر سکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاِنَّـاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔ ہم نے وہ تمام دلائل واضح کر دیے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ہو جاتی ہےجس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ اس شخص کے درمیان... جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد وثنا اسی کے لیے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں، اپنے اوصاف و افعال میں، بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد وثنا کا مستحق ہے ، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لیے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روکتا ہے... اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خودساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لیے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا یہ وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں... تو آپ پر واضح ہو جائے گاکہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لیے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبانِ حال زبانِ مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔
[25]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ انھیں ﴿لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔
[26] بنا بریں فرمایا: ﴿قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا ، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔
[27]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں:﴿اَرُوۡنِيَ الَّذِيۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِهٖ شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔‘‘ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس وجود کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾(یونس:10؍18) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے: تم اللہ کو اس بات سے آگاہ کرتے ہو جسے وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾(یونس:10؍66) ’’اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء و مرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ﴿شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’شریک ‘‘ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مد مقابل نہیں۔ ﴿بَلۡ هُوَ اللّٰهُ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ ہے‘‘ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلیق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اوراسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے... تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لیے یہی دلیل کافی ہے... تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرونواہی حکمت پر مشتمل ہیں؟
34:27قُلۡ أَرُونِيَ ٱلَّذِينَ أَلۡحَقۡتُم بِهِۦ شُرَكَآءَۖ كَلَّاۚ بَلۡ هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
کہہ دیجیے!کون رزق دیتا ہے تم کو آسمانوں اور زمین سے؟ کہہ دیجیے: اللہ ہی، اور بلاشبہ ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں(24) کہہ دیجیے! نہیں پوچھے جاؤ گے تم اس کی بابت جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم پوچھے جائیں گے اس کی بابت جو تم عمل کرتے ہو(25) کہہ دیجیے: جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا رب، پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور وہی ہے فیصلہ کرنے والا، جاننے والا(26) کہہ دیجیے: دکھاؤ تم مجھے، وہ (معبود) جن کو ملا دیا تھا تم نے اس (اللہ) کے ساتھ شریک (ٹھہرا کر)، ہرگز ایسا نہیں بلکہ وہی ہے اللہ غالب حکمت والا (27)
[24] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے ان کے شرک کی صحت کی دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین سے تمھیں رزق کون فراہم کرتا ہے؟‘‘ تو وہ لازمی طور پر اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ انھیں رزق مہیا کرتا ہے اگر وہ اس حقیقت کا اقرار نہ کریں تو ﴿قُلِ اللّٰهُ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔‘‘ آپ ایک بھی ایسا شخص نہ پائیں گے جو اس بات کو رد کر سکے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زمین و آسمان سے تمھیں رزق عطا کرتا ہے، وہ تمھارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے، وہ تمھارے لیے نباتات اگاتا ہے، وہ تمھارے لیے دریاؤ ں کو جاری کرتا ہے، وہ درختوں پر تمھارے لیے پھل اگاتا ہے، اس نے تمام حیوانات کو تمھارے رزق اور تمھاری دیگر منفعتوں کے لیے تخلیق فرمایا۔ پھر تم اس کے ساتھ ان ہستیوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمھیں رزق عطا کر سکتی ہیں نہ کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاِنَّـاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی ہم دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں غرق ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس پر حق ظاہر اور صواب واضح ہو، جسے اپنے موقف کے حق ہونے اور اپنے مخالف کے موقف کے بطلان کا یقین ہو۔ ہم نے وہ تمام دلائل واضح کر دیے ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں اور جو تم پیش کرتے ہو۔ جن سے کسی شک کے بغیر یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ؟ حتی کہ اس کے بعد تعیین ہو جاتی ہےجس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ اس شخص کے درمیان... جو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، جو ان میں ہر قسم کا تصرف کرتا ہے، جو ہر قسم کی نعمت عطا کرتا ہے، جس نے ان کو رزق مہیا کیا، ان تک ہر قسم کی نعمت پہنچائی، ان سے ہر برائی کو دور کیا۔ تمام حمد وثنا اسی کے لیے ہے، تمام فرشتے اور ان سے کم تر مخلوق اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں اور اس کی عظمت کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے ہیں، تمام سفارشی اس سے خائف ہیں، ان میں سے کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا جو اپنی ذات میں، اپنے اوصاف و افعال میں، بہت بلند اور بہت بڑا ہے، جو ہر قسم کے کمال، جلال اور جمال کا مالک ہے، جو ہر قسم کی مجد اور حمد وثنا کا مستحق ہے ، وہ اس ہستی کے تقرب کے حصول کی دعوت دیتا ہے جس کی یہ شان ہے، اس کے لیے اخلاص عمل کا حکم دیتا ہے، اس کے سوا دیگر ہستیوں کی عبادت سے روکتا ہے... اور اس شخص کے درمیان موازنہ کریں جو خودساختہ معبودوں، بتوں اور قبروں کے تقرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے، جو کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کے لیے، بلکہ یہ تو جمادات اور پتھر ہیں جو عقل رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی پکار کو سنتے ہیں، اگر سن بھی لیں تو ان کو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے روز یہ ان کے شرک کا انکار اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ شراکت اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ان کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ شخص اس ہستی کو پکارتا ہے، جس کا یہ وصف ہے، امکان بھر اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس شخص کے ساتھ عداوت رکھتا اور اس کے ساتھ جنگ کرتا ہے جو دین میں اخلاص کا حامل ہے اور وہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں... تو آپ پر واضح ہو جائے گاکہ فریقین میں سے کون ہدایت یافتہ اور کون گمراہ ہے، کون نیک بخت اور کون بدبخت ہے۔ اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کو بیان کرنے کے لیے آپ کی کوئی مدد کرے کیونکہ زبانِ حال زبانِ مقال سے زیادہ واضح اور زیادہ فصیح ہے۔
[25]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ انھیں ﴿لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَلَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم میں سے اور تم میں سے ہر شخص کا اپنا اپنا عمل ہے۔ ہمارے جرائم اور گناہوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور نہ تمھارے اعمال کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔ ہمارا اور تمھارا مقصد صرف طلبِ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا ہونا چاہیے اور چھوڑو اس بات کو کہ ہم کیا کرتے ہیں، نیز یہ بات تمھارے لیے اتباع حق سے مانع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے احکام ظواہر پر جاری ہوتے ہیں، ان میں حق کی پیروی کی جاتی ہے اور باطل سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ رہے اعمال، تو ان کے فیصلے کے لیے آخرت کا گھر ہے، ان کے بارے میں احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ عادل ہستی فیصلہ کرے گی۔
[26] بنا بریں فرمایا: ﴿قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا ، پھر ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس سے سچے اور جھوٹے، ثواب کے مستحق اور عذاب کے مستحق کے درمیان امتیاز واضح ہو جائے گا اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔
[27]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! آپ اور وہ، جو آپ کا قائم مقام ہو، ان سے کہہ دیں:﴿اَرُوۡنِيَ الَّذِيۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِهٖ شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔‘‘ یعنی مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ ان کی معرفت کا کیا طریقہ ہے؟ وہ زمین میں ہیں یا آسمان میں؟ کیونکہ غیب اور شہادت کو جاننے والی ہستی نے ہمیں آگاہ فرمایا ہے کہ اس وجود کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾(یونس:10؍18) ’’اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، آپ کہہ دیجیے: تم اللہ کو اس بات سے آگاہ کرتے ہو جسے وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘ ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ﴾(یونس:10؍66) ’’اور جو یہ لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں، یہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض اندازے لگاتے ہیں۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی خاص مخلوق، یعنی انبیاء و مرسلین کے علم میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہے، تو اے مشرکو! مجھے دکھاؤ جن کو تم نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ﴿شُرَؔكَآءَ ﴾ ’’شریک ‘‘ ٹھہرا دیا ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان سے ممکن نہیں، اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، کوئی ہمسر اور کوئی مد مقابل نہیں۔ ﴿بَلۡ هُوَ اللّٰهُ ﴾ ’’بلکہ وہ اللہ ہے‘‘ جس کے سوا کوئی الوہیت اور عبادت کا مستحق نہیں۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب ہے، اس کے سوا ہر چیز مقہور اور اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ اس نے جو چیز بھی تخلیق کی نہایت مہارت سے تخلیق کی۔ اس نے جو شریعت بنائی، بہترین شریعت بنائی۔اگر اس کی شریعت میں صرف یہی حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنی توحید اور اخلاص فی الدین کا حکم دیا، اسی کو پسند فرمایا اوراسی کو نجات کی راہ قرار دیا ہے، اس نے شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنانے سے روکا اور اس کو ہلاکت اور بدبختی کا راستہ قرار دیا ہے... تو اس کے کمال حکمت کے اثبات کے لیے یہی دلیل کافی ہے... تب اس شریعت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے تمام اوامرونواہی حکمت پر مشتمل ہیں؟
34:28وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا (بنا کر) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(28) اور وہ کہتے ہیں، کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟(29) کہہ دیجیے! تمھارے لیے وعدہ ہے ایک ایسے دن کا کہ نہ تم پیچھے رہ سکو گے اس سے ایک گھڑی اور نہ تم آگے بڑھ سکو گے(30)
[28] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوشخبری دے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔
[29] انھوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انھیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہو گا؟‘‘ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیرخواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار اور اس کے لیے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آ کر کہتا ہے: ’’میں تمھارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہو چکا ہے وہ تمھیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں: ’’اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہمارے پاس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے؟‘‘ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا؟خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کر سکتے ہوں۔ تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنے والے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لیے رد کرنا کہ اس عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی حماقت نہیں!
[30]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں ﴿لَّكُمۡ مِّؔيۡعَادُ يَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ عَنۡهُ سَاعَةً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔‘‘ پس اس دن سے ڈرو اور اس کے لیے تیاری کرو۔
34:29وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا (بنا کر) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(28) اور وہ کہتے ہیں، کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟(29) کہہ دیجیے! تمھارے لیے وعدہ ہے ایک ایسے دن کا کہ نہ تم پیچھے رہ سکو گے اس سے ایک گھڑی اور نہ تم آگے بڑھ سکو گے(30)
[28] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوشخبری دے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔
[29] انھوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انھیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہو گا؟‘‘ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیرخواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار اور اس کے لیے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آ کر کہتا ہے: ’’میں تمھارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہو چکا ہے وہ تمھیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں: ’’اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہمارے پاس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے؟‘‘ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا؟خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کر سکتے ہوں۔ تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنے والے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لیے رد کرنا کہ اس عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی حماقت نہیں!
[30]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں ﴿لَّكُمۡ مِّؔيۡعَادُ يَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ عَنۡهُ سَاعَةً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔‘‘ پس اس دن سے ڈرو اور اس کے لیے تیاری کرو۔
34:30قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوۡمٖ لَّا تَسۡتَـٔۡخِرُونَ عَنۡهُ سَاعَةٗ وَلَا تَسۡتَقۡدِمُونَ
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا (بنا کر) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(28) اور وہ کہتے ہیں، کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟(29) کہہ دیجیے! تمھارے لیے وعدہ ہے ایک ایسے دن کا کہ نہ تم پیچھے رہ سکو گے اس سے ایک گھڑی اور نہ تم آگے بڑھ سکو گے(30)
[28] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوشخبری دے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔
[29] انھوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انھیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہو گا؟‘‘ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیرخواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار اور اس کے لیے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آ کر کہتا ہے: ’’میں تمھارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہو چکا ہے وہ تمھیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں: ’’اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہمارے پاس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے؟‘‘ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا؟خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کر سکتے ہوں۔ تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنے والے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لیے رد کرنا کہ اس عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی حماقت نہیں!
[30]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں ﴿لَّكُمۡ مِّؔيۡعَادُ يَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ عَنۡهُ سَاعَةً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔‘‘ پس اس دن سے ڈرو اور اس کے لیے تیاری کرو۔
34:31وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ بِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَلَا بِٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّـٰلِمُونَ مَوۡقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمۡ يَرۡجِعُ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ ٱلۡقَوۡلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لَوۡلَآ أَنتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِينَ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم ا س قرآن پر او ر نہ ان (کتابوں) پرجو اس سے پہلے تھیں اور آپ اگر دیکھیں جب ظالم لوگ کھڑے کیے جائیں گے سامنے اپنے رب کے، جبکہ رد کر رہا ہوگا بعض ان کا بعض کی بات کا، (تو آپ کو تعجب ہو گا)کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان لوگوں سے جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے اگر نہ ہوتے تم تو یقیناً ہوتے ہم مومن(31)کہیں گے وہ لوگ جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے، ان سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے، کیا ہم نے روک دیا تھا تمھیں ہدایت(اختیار کرنے) سے بعد اس کے جب وہ آ گئی تھی تمھارے پاس؟بلکہ تھے تم (خود ہی) مجرم(32)اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جو بڑے بنتے تھے، (نہیں)بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چالوں ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب حکم دیتے تھے تم ہمیں یہ کہ کفر کریں ہم ساتھ اللہ کے اور ٹھہرائیں اس کے لیے شریک، اور چھپائیں گے وہ ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب، اور ہم کر (ڈال) دیں گے طوق گردنوں میں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ، مگر(اسی کا) جو تھے وہ عمل کرتے(33)
[31] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے لیے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفروضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ ﴿يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کمزور کیے گئے تھے وہ کہیں گے‘‘ یعنی متبعین ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ ’’ان سے جنھوں نے تکبر کیا۔‘‘ اس سے مراد قائدین کفر ہیں ﴿لَوۡلَاۤ اَنۡتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔‘‘ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہو گئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمھاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہو گا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔
[32]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا ﴾ ’’جنھوں نے تکبر کیا وہ کمزور بنائے ہوئے لوگوں سے کہیں گے۔‘‘ یہ سردار استفہامی انداز میں ان کو خبر دیں گے کہ سب اس عذاب کو بھگتیں گے۔ ﴿اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰؔى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ ﴾ ’’کیا ہم نے تمھیں ہدایت آجانے کے بعد اس سے روکا تھا؟، ، یعنی کیا ہم نے تمھیں اپنی قوت اور غلبے کی وجہ سے ایمان لانے سے روکا تھا؟ ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم مجرم تھے۔‘‘ یعنی تم مقہور ومغلوب نہ تھے، تم سے جبراً کفر کا ارتکاب نہیں کرایا گیا تھا بلکہ تم نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگرچہ ہم نے تمھارے سامنے کفر کو مزین کیا تھا، تاہم تم پر ہمیں کوئی تسلط اور اختیار تو حاصل نہ تھا۔
[33]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا بَلۡ مَكۡرُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ۠ اَنۡ نَّـكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجۡعَلَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے، بلکہ تم رات دن مکر وفریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لیے شریک ٹھرائیں۔‘‘ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکروفریب کیا اور اس مکروفریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے ، پھر اس کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دوسرے سے بیزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لیے فرمایا:﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ ’’اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔‘‘ یعنی اس حجت کا تاروپود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہو گا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کر لینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔قیامت کے بعض مواقف پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ بآواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25/27-28) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ۰۰ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۢۡبِهِمۡ١ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ ﴾(الملک : 67 ؍10۔11)’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘﴿وَجَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِيۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ وَالسَّلٰسِلُ١ؕ يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾(المؤمن:40؍71۔72) ’’جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انھیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ﴿هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ یہ عذاب اور یہ سزا جو انھیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انھیں پہنائے گئے ہیں ﴿اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کرکے ارتکاب کیا کرتے تھے۔
34:32قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُوٓاْ أَنَحۡنُ صَدَدۡنَٰكُمۡ عَنِ ٱلۡهُدَىٰ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَكُمۖ بَلۡ كُنتُم مُّجۡرِمِينَ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم ا س قرآن پر او ر نہ ان (کتابوں) پرجو اس سے پہلے تھیں اور آپ اگر دیکھیں جب ظالم لوگ کھڑے کیے جائیں گے سامنے اپنے رب کے، جبکہ رد کر رہا ہوگا بعض ان کا بعض کی بات کا، (تو آپ کو تعجب ہو گا)کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان لوگوں سے جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے اگر نہ ہوتے تم تو یقیناً ہوتے ہم مومن(31)کہیں گے وہ لوگ جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے، ان سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے، کیا ہم نے روک دیا تھا تمھیں ہدایت(اختیار کرنے) سے بعد اس کے جب وہ آ گئی تھی تمھارے پاس؟بلکہ تھے تم (خود ہی) مجرم(32)اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جو بڑے بنتے تھے، (نہیں)بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چالوں ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب حکم دیتے تھے تم ہمیں یہ کہ کفر کریں ہم ساتھ اللہ کے اور ٹھہرائیں اس کے لیے شریک، اور چھپائیں گے وہ ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب، اور ہم کر (ڈال) دیں گے طوق گردنوں میں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ، مگر(اسی کا) جو تھے وہ عمل کرتے(33)
[31] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے لیے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفروضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ ﴿يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کمزور کیے گئے تھے وہ کہیں گے‘‘ یعنی متبعین ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ ’’ان سے جنھوں نے تکبر کیا۔‘‘ اس سے مراد قائدین کفر ہیں ﴿لَوۡلَاۤ اَنۡتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔‘‘ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہو گئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمھاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہو گا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔
[32]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا ﴾ ’’جنھوں نے تکبر کیا وہ کمزور بنائے ہوئے لوگوں سے کہیں گے۔‘‘ یہ سردار استفہامی انداز میں ان کو خبر دیں گے کہ سب اس عذاب کو بھگتیں گے۔ ﴿اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰؔى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ ﴾ ’’کیا ہم نے تمھیں ہدایت آجانے کے بعد اس سے روکا تھا؟، ، یعنی کیا ہم نے تمھیں اپنی قوت اور غلبے کی وجہ سے ایمان لانے سے روکا تھا؟ ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم مجرم تھے۔‘‘ یعنی تم مقہور ومغلوب نہ تھے، تم سے جبراً کفر کا ارتکاب نہیں کرایا گیا تھا بلکہ تم نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگرچہ ہم نے تمھارے سامنے کفر کو مزین کیا تھا، تاہم تم پر ہمیں کوئی تسلط اور اختیار تو حاصل نہ تھا۔
[33]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا بَلۡ مَكۡرُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ۠ اَنۡ نَّـكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجۡعَلَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے، بلکہ تم رات دن مکر وفریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لیے شریک ٹھرائیں۔‘‘ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکروفریب کیا اور اس مکروفریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے ، پھر اس کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دوسرے سے بیزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لیے فرمایا:﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ ’’اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔‘‘ یعنی اس حجت کا تاروپود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہو گا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کر لینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔قیامت کے بعض مواقف پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ بآواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25/27-28) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ۰۰ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۢۡبِهِمۡ١ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ ﴾(الملک : 67 ؍10۔11)’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘﴿وَجَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِيۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ وَالسَّلٰسِلُ١ؕ يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾(المؤمن:40؍71۔72) ’’جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انھیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ﴿هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ یہ عذاب اور یہ سزا جو انھیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انھیں پہنائے گئے ہیں ﴿اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کرکے ارتکاب کیا کرتے تھے۔
34:33وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ بَلۡ مَكۡرُ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ إِذۡ تَأۡمُرُونَنَآ أَن نَّكۡفُرَ بِٱللَّهِ وَنَجۡعَلَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَغۡلَٰلَ فِيٓ أَعۡنَاقِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم ا س قرآن پر او ر نہ ان (کتابوں) پرجو اس سے پہلے تھیں اور آپ اگر دیکھیں جب ظالم لوگ کھڑے کیے جائیں گے سامنے اپنے رب کے، جبکہ رد کر رہا ہوگا بعض ان کا بعض کی بات کا، (تو آپ کو تعجب ہو گا)کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان لوگوں سے جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے اگر نہ ہوتے تم تو یقیناً ہوتے ہم مومن(31)کہیں گے وہ لوگ جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے، ان سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے، کیا ہم نے روک دیا تھا تمھیں ہدایت(اختیار کرنے) سے بعد اس کے جب وہ آ گئی تھی تمھارے پاس؟بلکہ تھے تم (خود ہی) مجرم(32)اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جو بڑے بنتے تھے، (نہیں)بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چالوں ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب حکم دیتے تھے تم ہمیں یہ کہ کفر کریں ہم ساتھ اللہ کے اور ٹھہرائیں اس کے لیے شریک، اور چھپائیں گے وہ ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب، اور ہم کر (ڈال) دیں گے طوق گردنوں میں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ، مگر(اسی کا) جو تھے وہ عمل کرتے(33)
[31] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے لیے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفروضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ ﴿يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کمزور کیے گئے تھے وہ کہیں گے‘‘ یعنی متبعین ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ ’’ان سے جنھوں نے تکبر کیا۔‘‘ اس سے مراد قائدین کفر ہیں ﴿لَوۡلَاۤ اَنۡتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔‘‘ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہو گئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمھاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہو گا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔
[32]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا ﴾ ’’جنھوں نے تکبر کیا وہ کمزور بنائے ہوئے لوگوں سے کہیں گے۔‘‘ یہ سردار استفہامی انداز میں ان کو خبر دیں گے کہ سب اس عذاب کو بھگتیں گے۔ ﴿اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰؔى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ ﴾ ’’کیا ہم نے تمھیں ہدایت آجانے کے بعد اس سے روکا تھا؟، ، یعنی کیا ہم نے تمھیں اپنی قوت اور غلبے کی وجہ سے ایمان لانے سے روکا تھا؟ ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم مجرم تھے۔‘‘ یعنی تم مقہور ومغلوب نہ تھے، تم سے جبراً کفر کا ارتکاب نہیں کرایا گیا تھا بلکہ تم نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگرچہ ہم نے تمھارے سامنے کفر کو مزین کیا تھا، تاہم تم پر ہمیں کوئی تسلط اور اختیار تو حاصل نہ تھا۔
[33]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا بَلۡ مَكۡرُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ۠ اَنۡ نَّـكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجۡعَلَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے، بلکہ تم رات دن مکر وفریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لیے شریک ٹھرائیں۔‘‘ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکروفریب کیا اور اس مکروفریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے ، پھر اس کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دوسرے سے بیزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لیے فرمایا:﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ ’’اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔‘‘ یعنی اس حجت کا تاروپود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہو گا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کر لینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔قیامت کے بعض مواقف پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ بآواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25/27-28) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ۰۰ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۢۡبِهِمۡ١ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ ﴾(الملک : 67 ؍10۔11)’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘﴿وَجَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِيۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ وَالسَّلٰسِلُ١ؕ يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾(المؤمن:40؍71۔72) ’’جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انھیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ﴿هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ یہ عذاب اور یہ سزا جو انھیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انھیں پہنائے گئے ہیں ﴿اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کرکے ارتکاب کیا کرتے تھے۔
34:34وَمَآ أَرۡسَلۡنَا فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوهَآ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39)
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔
[35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
[37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
[38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔
34:35وَقَالُواْ نَحۡنُ أَكۡثَرُ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39)
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔
[35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
[37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
[38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔
34:36قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39)
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔
[35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
[37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
[38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔
34:37وَمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُم بِٱلَّتِي تُقَرِّبُكُمۡ عِندَنَا زُلۡفَىٰٓ إِلَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ جَزَآءُ ٱلضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُواْ وَهُمۡ فِي ٱلۡغُرُفَٰتِ ءَامِنُونَ
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39)
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔
[35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
[37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
[38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔
34:38وَٱلَّذِينَ يَسۡعَوۡنَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُوْلَـٰٓئِكَ فِي ٱلۡعَذَابِ مُحۡضَرُونَ
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39)
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔
[35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
[37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
[38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔
34:39قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُ لَهُۥۚ وَمَآ أَنفَقۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَهُوَ يُخۡلِفُهُۥۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰزِقِينَ
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39)
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔
[35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
[37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
[38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔
34:40وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ يَقُولُ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ أَهَـٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ
اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب (مشرکوں) کو ، پھر کہے گا وہ فرشتوں سے، کیا یہی لوگ ہیں(وہ جو) تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟(40) وہ کہیں گے، پاک ہے تو، تو ہی ہے ہمارا کارساز، ان کے ماسوا، بلکہ وہ تو تھے عبادت کرتے جنوں کی، اکثر ان میں سے انھی پر ایمان رکھتے تھے(41) پس آج نہیں اختیار رکھتا کوئی تمھارا واسطے کسی کے، کسی نفع کا اور نہ نقصان کا، اور ہم کہیں گے ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا: چکھو عذاب آگ کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے (42)
[40، 41]﴿وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور وہ جس دن ان سب کو جمع کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیر اللہ یعنی فرشتوں وغیرہ کی عبادت کرنے والے مشرکین اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا‘‘ مشرکین کو زجروبیخ کرتے ہوئے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیاکرتے تھے۔‘‘ اور وہ جواب میں ان مشرکین کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’وہ کہیں گے تو پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس چیز سے تنزیہ و تقدیس کرتے ہوئے کہ اس کا کوئی شریک یا ہمسر ہو، کہیں گے:﴿اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾ ’’ہمارا سرپرست اور والی تو ہی ہے نہ کہ یہ مشرک۔‘‘ ہم تو خود تیری سرپرستی کے محتاج اور ضرورت مند ہیں ہم دوسروں کو اپنی عبادت کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں؟ یا یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو اپنا سرپرست اور شریک بنائیں؟ بلکہ یہ مشرکین ﴿بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ﴾ ’’ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔‘‘ شیاطین انھیں حکم دیتے تھے کہ وہ ہماری اور دیگر خودساختہ معبودوں کی عبادت کریں اور یہ ان کے حکم کی اطاعت کرتے تھے۔ ان کی اطاعت ہی درحقیقت ان کی عبادت تھی کیونکہ اطاعت، عبادت ہی کا دوسرا نام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو بھی معبود بنا رکھا تھا:﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ وَّاَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ١ؔؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾(یٰسٓ:36؍60-61) ’’اے بنی آدم! کیا میں نے تمھیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے اور میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘ ﴿اَكۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ان میں سے اکثر لوگ ان پر ایمان لاتے تھے‘‘ جنوں کو سچا جانتے اور ان کی اطاعت کرتے ہیں کیونکہ ایمان ایسی تصدیق کا نام ہے جو اطاعت کی موجب ہو۔
[42] جب فرشتے ان کے شرک اور عبادت سے بیزاری کا اعلان کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا: ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’پس آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تمھارے درمیان تمام تعلقات منقطع ہو گئے ہیں اور تم ایک دوسرے سے کٹ گئے ہو۔ ﴿وَنَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا، ہم انھیں جہنم میں داخل کرنے کے بعد ان سے کہیں گے:﴿ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ ’’دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔‘‘ آج تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور تم اپنی تکذیب کی پاداش میں اس جہنم میں داخل ہو چکے، نیز اس کی وجہ یہ تھی کہ تم نے ان اسباب سے اجتناب نہ کیا جو جہنم میں داخلے کے موجب تھے۔
34:41قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمۖ بَلۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٱلۡجِنَّۖ أَكۡثَرُهُم بِهِم مُّؤۡمِنُونَ
اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب (مشرکوں) کو ، پھر کہے گا وہ فرشتوں سے، کیا یہی لوگ ہیں(وہ جو) تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟(40) وہ کہیں گے، پاک ہے تو، تو ہی ہے ہمارا کارساز، ان کے ماسوا، بلکہ وہ تو تھے عبادت کرتے جنوں کی، اکثر ان میں سے انھی پر ایمان رکھتے تھے(41) پس آج نہیں اختیار رکھتا کوئی تمھارا واسطے کسی کے، کسی نفع کا اور نہ نقصان کا، اور ہم کہیں گے ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا: چکھو عذاب آگ کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے (42)
[40، 41]﴿وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور وہ جس دن ان سب کو جمع کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیر اللہ یعنی فرشتوں وغیرہ کی عبادت کرنے والے مشرکین اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا‘‘ مشرکین کو زجروبیخ کرتے ہوئے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیاکرتے تھے۔‘‘ اور وہ جواب میں ان مشرکین کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’وہ کہیں گے تو پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس چیز سے تنزیہ و تقدیس کرتے ہوئے کہ اس کا کوئی شریک یا ہمسر ہو، کہیں گے:﴿اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾ ’’ہمارا سرپرست اور والی تو ہی ہے نہ کہ یہ مشرک۔‘‘ ہم تو خود تیری سرپرستی کے محتاج اور ضرورت مند ہیں ہم دوسروں کو اپنی عبادت کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں؟ یا یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو اپنا سرپرست اور شریک بنائیں؟ بلکہ یہ مشرکین ﴿بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ﴾ ’’ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔‘‘ شیاطین انھیں حکم دیتے تھے کہ وہ ہماری اور دیگر خودساختہ معبودوں کی عبادت کریں اور یہ ان کے حکم کی اطاعت کرتے تھے۔ ان کی اطاعت ہی درحقیقت ان کی عبادت تھی کیونکہ اطاعت، عبادت ہی کا دوسرا نام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو بھی معبود بنا رکھا تھا:﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ وَّاَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ١ؔؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾(یٰسٓ:36؍60-61) ’’اے بنی آدم! کیا میں نے تمھیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے اور میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘ ﴿اَكۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ان میں سے اکثر لوگ ان پر ایمان لاتے تھے‘‘ جنوں کو سچا جانتے اور ان کی اطاعت کرتے ہیں کیونکہ ایمان ایسی تصدیق کا نام ہے جو اطاعت کی موجب ہو۔
[42] جب فرشتے ان کے شرک اور عبادت سے بیزاری کا اعلان کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا: ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’پس آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تمھارے درمیان تمام تعلقات منقطع ہو گئے ہیں اور تم ایک دوسرے سے کٹ گئے ہو۔ ﴿وَنَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا، ہم انھیں جہنم میں داخل کرنے کے بعد ان سے کہیں گے:﴿ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ ’’دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔‘‘ آج تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور تم اپنی تکذیب کی پاداش میں اس جہنم میں داخل ہو چکے، نیز اس کی وجہ یہ تھی کہ تم نے ان اسباب سے اجتناب نہ کیا جو جہنم میں داخلے کے موجب تھے۔
34:42فَٱلۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٖ نَّفۡعٗا وَلَا ضَرّٗا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب (مشرکوں) کو ، پھر کہے گا وہ فرشتوں سے، کیا یہی لوگ ہیں(وہ جو) تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟(40) وہ کہیں گے، پاک ہے تو، تو ہی ہے ہمارا کارساز، ان کے ماسوا، بلکہ وہ تو تھے عبادت کرتے جنوں کی، اکثر ان میں سے انھی پر ایمان رکھتے تھے(41) پس آج نہیں اختیار رکھتا کوئی تمھارا واسطے کسی کے، کسی نفع کا اور نہ نقصان کا، اور ہم کہیں گے ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا: چکھو عذاب آگ کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے (42)
[40، 41]﴿وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور وہ جس دن ان سب کو جمع کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیر اللہ یعنی فرشتوں وغیرہ کی عبادت کرنے والے مشرکین اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا‘‘ مشرکین کو زجروبیخ کرتے ہوئے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیاکرتے تھے۔‘‘ اور وہ جواب میں ان مشرکین کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’وہ کہیں گے تو پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس چیز سے تنزیہ و تقدیس کرتے ہوئے کہ اس کا کوئی شریک یا ہمسر ہو، کہیں گے:﴿اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾ ’’ہمارا سرپرست اور والی تو ہی ہے نہ کہ یہ مشرک۔‘‘ ہم تو خود تیری سرپرستی کے محتاج اور ضرورت مند ہیں ہم دوسروں کو اپنی عبادت کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں؟ یا یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو اپنا سرپرست اور شریک بنائیں؟ بلکہ یہ مشرکین ﴿بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ﴾ ’’ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔‘‘ شیاطین انھیں حکم دیتے تھے کہ وہ ہماری اور دیگر خودساختہ معبودوں کی عبادت کریں اور یہ ان کے حکم کی اطاعت کرتے تھے۔ ان کی اطاعت ہی درحقیقت ان کی عبادت تھی کیونکہ اطاعت، عبادت ہی کا دوسرا نام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو بھی معبود بنا رکھا تھا:﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ وَّاَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ١ؔؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾(یٰسٓ:36؍60-61) ’’اے بنی آدم! کیا میں نے تمھیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے اور میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘ ﴿اَكۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ان میں سے اکثر لوگ ان پر ایمان لاتے تھے‘‘ جنوں کو سچا جانتے اور ان کی اطاعت کرتے ہیں کیونکہ ایمان ایسی تصدیق کا نام ہے جو اطاعت کی موجب ہو۔
[42] جب فرشتے ان کے شرک اور عبادت سے بیزاری کا اعلان کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا: ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’پس آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تمھارے درمیان تمام تعلقات منقطع ہو گئے ہیں اور تم ایک دوسرے سے کٹ گئے ہو۔ ﴿وَنَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا، ہم انھیں جہنم میں داخل کرنے کے بعد ان سے کہیں گے:﴿ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ ’’دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔‘‘ آج تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور تم اپنی تکذیب کی پاداش میں اس جہنم میں داخل ہو چکے، نیز اس کی وجہ یہ تھی کہ تم نے ان اسباب سے اجتناب نہ کیا جو جہنم میں داخلے کے موجب تھے۔
34:43وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا رَجُلٞ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُكُمۡ وَقَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّآ إِفۡكٞ مُّفۡتَرٗىۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پرہماری آیتیں واضح تو وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ مگر ایک ایسا آدمی جو چاہتا ہے کہ روک دے تمھیں ان (معبودوں) سے کہ تھے (جن کی) عبادت کرتے تمھارے باپ دادااور وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر ایک جھوٹ گھڑا ہوا، اور کہا انھوں نے جنھوں نے کفر کیا: حق کی بابت، جب وہ آیا ان کے پاس، نہیں ہے یہ مگرجادو بالکل واضح(43) اور نہیں دیں ہم نے ان (عربوں) کو کچھ کتابیں کہ وہ پڑھتے ہوں انھیں اور نہیں بھیجا ہم نے ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا(44) اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے، جبکہ نہیں پہنچتے یہ دسویں حصے کو اس کےجو دیا تھا ہم نے ان (پہلوں) کو، پس جھٹلایا انھوں نے میرے رسولوں کو توکیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب؟(45)
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیش کیے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے، یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیاکرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے اور کہا کرتے تھے:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمھارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے ان سے تم کو رو ک دے۔‘‘ یعنی جب وہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیا کرتا تھا تو اس وقت اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ تم اپنے باپ دادا کی عادات کو ترک کر دو، جن کی تم تعظیم اور ان کی پیروی کرتے ہو۔ پس انھوں نے گمراہوں کے کہنے پر حق کو ٹھکرا دیا اور اس کو ٹھکراتے وقت انھوں نے کوئی دلیل اور برہان پیش کی نہ کوئی شبہ وارد کیا اور یہ کون سا شبہ ہے کہ جب رسول بعض گمراہ لوگوں کو اتباع حق کی دعوت دیں تو یہ لوگ دعویٰ کریں کہ گزشتہ زمانے میں ان کے بھائی بند بھی، جن کے یہ پیروکار ہیں، اسی طریقہ پر کاربند تھے۔اگر آپ ان کی اس سفاہت، حماقت اور گمراہ لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ان کے حق کو ٹھکرانے پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی حماقت کے ڈانڈے مشرکوں، دہریوں، فلسفیوں، صابیوں، ملحدوں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے نکل بھاگنے والوں کے گمراہ نظریات سے جا ملتے ہیں۔ قیامت تک ہر شخص کے لیے یہی اسوہ رہے گا جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کے افعال کو دلیل بنا کر انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرایا اور اس کے بعد حق کو مطعون کیا ﴿وَقَالُوۡا مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡكٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن صرف اور صرف گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔‘‘ یعنی یہ اس شخص کا گھڑا ہوا جھوٹ ہے جو اسے لے کر آیا ہے ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور ان کافروں کے پاس جب حق آگیا تو انھوں نے کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔‘‘ یعنی یہ کھلا جادو ہے جو ہر ایک پر ظاہر ہے۔ وہ یہ بات حق کی تکذیب اور بے عقل لوگوں کو فریب میں مبتلا کرنے کے لیے کہتے تھے۔
[44] جب وہ تمام اعتراضات واضح ہو گئے جن کی بنیاد پر وہ حق کو ٹھکراتے تھے کہ ان کا دلیل ہونا تو کجا ان کی بنیاد پر تو شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا، تو ذکر فرمایا کہ کوئی شخص ان کی تائید میں دلیل لانے کی کوشش کرے تو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ كُتُبٍ يَّدۡرُسُوۡنَهَا۠﴾ ’’اور ہم نے نہ تو انھیں کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں۔‘‘ کہ وہ کتاب ان کے لیے کوئی دلیل ہوتی ﴿وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِنۡ نَّذِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا بھیجا ہے۔‘‘ کہ ان کے پاس اس کے اقوال و احوال ہوں جن کی بنیاد پر یہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہوں۔ ان کے پاس علم ہے نہ علم کا کوئی نشان۔
[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں، ان سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَؔكَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۙ وَمَا بَلَغُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے تھے انھوں نے (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ لوگ نہیں پہنچے‘‘ یعنی یہ مخاطبین نہیں پہنچتے ﴿مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ فَكَذَّبُوۡا ﴾ ’’اس سازو سامان کے عشر عشیر کو بھی جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو عطا کیا تھا تو انھوں نے جھٹلایا‘‘ یعنی ان سے پہلے امتوں نے ﴿رُسُلِيۡ١۫ فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ ’’میرے رسولوں کو تو پھر میرا عذاب کیسا ہوا۔‘‘ یعنی میری ان پر گرفت اور میرا ان پر عذاب کیسا تھا؟ہم اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ گزشتہ قوموں کو کیا کیا سزائیں دی گئیں ان میں سے کچھ قوموں کو سمندر میں غرق کر دیا، کچھ لوگوں کو سخت طوفانی ہوا کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا، کچھ قوموں کو ایک سخت چنگھاڑ کے ذریعے سے، کچھ کو زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کیا اور کچھ قوموں کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض قوموں پر ہم نے ہوا کے ذریعے سے آسمان سے پتھر برسائے۔ انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے لوگو! تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، ورنہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے تھے اور تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جیسے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوا تھا۔
34:44وَمَآ ءَاتَيۡنَٰهُم مِّن كُتُبٖ يَدۡرُسُونَهَاۖ وَمَآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِن نَّذِيرٖ
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پرہماری آیتیں واضح تو وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ مگر ایک ایسا آدمی جو چاہتا ہے کہ روک دے تمھیں ان (معبودوں) سے کہ تھے (جن کی) عبادت کرتے تمھارے باپ دادااور وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر ایک جھوٹ گھڑا ہوا، اور کہا انھوں نے جنھوں نے کفر کیا: حق کی بابت، جب وہ آیا ان کے پاس، نہیں ہے یہ مگرجادو بالکل واضح(43) اور نہیں دیں ہم نے ان (عربوں) کو کچھ کتابیں کہ وہ پڑھتے ہوں انھیں اور نہیں بھیجا ہم نے ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا(44) اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے، جبکہ نہیں پہنچتے یہ دسویں حصے کو اس کےجو دیا تھا ہم نے ان (پہلوں) کو، پس جھٹلایا انھوں نے میرے رسولوں کو توکیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب؟(45)
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیش کیے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے، یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیاکرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے اور کہا کرتے تھے:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمھارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے ان سے تم کو رو ک دے۔‘‘ یعنی جب وہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیا کرتا تھا تو اس وقت اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ تم اپنے باپ دادا کی عادات کو ترک کر دو، جن کی تم تعظیم اور ان کی پیروی کرتے ہو۔ پس انھوں نے گمراہوں کے کہنے پر حق کو ٹھکرا دیا اور اس کو ٹھکراتے وقت انھوں نے کوئی دلیل اور برہان پیش کی نہ کوئی شبہ وارد کیا اور یہ کون سا شبہ ہے کہ جب رسول بعض گمراہ لوگوں کو اتباع حق کی دعوت دیں تو یہ لوگ دعویٰ کریں کہ گزشتہ زمانے میں ان کے بھائی بند بھی، جن کے یہ پیروکار ہیں، اسی طریقہ پر کاربند تھے۔اگر آپ ان کی اس سفاہت، حماقت اور گمراہ لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ان کے حق کو ٹھکرانے پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی حماقت کے ڈانڈے مشرکوں، دہریوں، فلسفیوں، صابیوں، ملحدوں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے نکل بھاگنے والوں کے گمراہ نظریات سے جا ملتے ہیں۔ قیامت تک ہر شخص کے لیے یہی اسوہ رہے گا جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کے افعال کو دلیل بنا کر انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرایا اور اس کے بعد حق کو مطعون کیا ﴿وَقَالُوۡا مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡكٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن صرف اور صرف گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔‘‘ یعنی یہ اس شخص کا گھڑا ہوا جھوٹ ہے جو اسے لے کر آیا ہے ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور ان کافروں کے پاس جب حق آگیا تو انھوں نے کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔‘‘ یعنی یہ کھلا جادو ہے جو ہر ایک پر ظاہر ہے۔ وہ یہ بات حق کی تکذیب اور بے عقل لوگوں کو فریب میں مبتلا کرنے کے لیے کہتے تھے۔
[44] جب وہ تمام اعتراضات واضح ہو گئے جن کی بنیاد پر وہ حق کو ٹھکراتے تھے کہ ان کا دلیل ہونا تو کجا ان کی بنیاد پر تو شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا، تو ذکر فرمایا کہ کوئی شخص ان کی تائید میں دلیل لانے کی کوشش کرے تو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ كُتُبٍ يَّدۡرُسُوۡنَهَا۠﴾ ’’اور ہم نے نہ تو انھیں کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں۔‘‘ کہ وہ کتاب ان کے لیے کوئی دلیل ہوتی ﴿وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِنۡ نَّذِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا بھیجا ہے۔‘‘ کہ ان کے پاس اس کے اقوال و احوال ہوں جن کی بنیاد پر یہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہوں۔ ان کے پاس علم ہے نہ علم کا کوئی نشان۔
[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں، ان سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَؔكَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۙ وَمَا بَلَغُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے تھے انھوں نے (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ لوگ نہیں پہنچے‘‘ یعنی یہ مخاطبین نہیں پہنچتے ﴿مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ فَكَذَّبُوۡا ﴾ ’’اس سازو سامان کے عشر عشیر کو بھی جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو عطا کیا تھا تو انھوں نے جھٹلایا‘‘ یعنی ان سے پہلے امتوں نے ﴿رُسُلِيۡ١۫ فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ ’’میرے رسولوں کو تو پھر میرا عذاب کیسا ہوا۔‘‘ یعنی میری ان پر گرفت اور میرا ان پر عذاب کیسا تھا؟ہم اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ گزشتہ قوموں کو کیا کیا سزائیں دی گئیں ان میں سے کچھ قوموں کو سمندر میں غرق کر دیا، کچھ لوگوں کو سخت طوفانی ہوا کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا، کچھ قوموں کو ایک سخت چنگھاڑ کے ذریعے سے، کچھ کو زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کیا اور کچھ قوموں کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض قوموں پر ہم نے ہوا کے ذریعے سے آسمان سے پتھر برسائے۔ انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے لوگو! تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، ورنہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے تھے اور تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جیسے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوا تھا۔
34:45وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَمَا بَلَغُواْ مِعۡشَارَ مَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ فَكَذَّبُواْ رُسُلِيۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پرہماری آیتیں واضح تو وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ مگر ایک ایسا آدمی جو چاہتا ہے کہ روک دے تمھیں ان (معبودوں) سے کہ تھے (جن کی) عبادت کرتے تمھارے باپ دادااور وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر ایک جھوٹ گھڑا ہوا، اور کہا انھوں نے جنھوں نے کفر کیا: حق کی بابت، جب وہ آیا ان کے پاس، نہیں ہے یہ مگرجادو بالکل واضح(43) اور نہیں دیں ہم نے ان (عربوں) کو کچھ کتابیں کہ وہ پڑھتے ہوں انھیں اور نہیں بھیجا ہم نے ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا(44) اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے، جبکہ نہیں پہنچتے یہ دسویں حصے کو اس کےجو دیا تھا ہم نے ان (پہلوں) کو، پس جھٹلایا انھوں نے میرے رسولوں کو توکیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب؟(45)
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیش کیے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے، یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیاکرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے اور کہا کرتے تھے:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمھارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے ان سے تم کو رو ک دے۔‘‘ یعنی جب وہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیا کرتا تھا تو اس وقت اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ تم اپنے باپ دادا کی عادات کو ترک کر دو، جن کی تم تعظیم اور ان کی پیروی کرتے ہو۔ پس انھوں نے گمراہوں کے کہنے پر حق کو ٹھکرا دیا اور اس کو ٹھکراتے وقت انھوں نے کوئی دلیل اور برہان پیش کی نہ کوئی شبہ وارد کیا اور یہ کون سا شبہ ہے کہ جب رسول بعض گمراہ لوگوں کو اتباع حق کی دعوت دیں تو یہ لوگ دعویٰ کریں کہ گزشتہ زمانے میں ان کے بھائی بند بھی، جن کے یہ پیروکار ہیں، اسی طریقہ پر کاربند تھے۔اگر آپ ان کی اس سفاہت، حماقت اور گمراہ لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ان کے حق کو ٹھکرانے پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی حماقت کے ڈانڈے مشرکوں، دہریوں، فلسفیوں، صابیوں، ملحدوں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے نکل بھاگنے والوں کے گمراہ نظریات سے جا ملتے ہیں۔ قیامت تک ہر شخص کے لیے یہی اسوہ رہے گا جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کے افعال کو دلیل بنا کر انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرایا اور اس کے بعد حق کو مطعون کیا ﴿وَقَالُوۡا مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡكٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن صرف اور صرف گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔‘‘ یعنی یہ اس شخص کا گھڑا ہوا جھوٹ ہے جو اسے لے کر آیا ہے ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور ان کافروں کے پاس جب حق آگیا تو انھوں نے کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔‘‘ یعنی یہ کھلا جادو ہے جو ہر ایک پر ظاہر ہے۔ وہ یہ بات حق کی تکذیب اور بے عقل لوگوں کو فریب میں مبتلا کرنے کے لیے کہتے تھے۔
[44] جب وہ تمام اعتراضات واضح ہو گئے جن کی بنیاد پر وہ حق کو ٹھکراتے تھے کہ ان کا دلیل ہونا تو کجا ان کی بنیاد پر تو شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا، تو ذکر فرمایا کہ کوئی شخص ان کی تائید میں دلیل لانے کی کوشش کرے تو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ كُتُبٍ يَّدۡرُسُوۡنَهَا۠﴾ ’’اور ہم نے نہ تو انھیں کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں۔‘‘ کہ وہ کتاب ان کے لیے کوئی دلیل ہوتی ﴿وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِنۡ نَّذِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا بھیجا ہے۔‘‘ کہ ان کے پاس اس کے اقوال و احوال ہوں جن کی بنیاد پر یہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہوں۔ ان کے پاس علم ہے نہ علم کا کوئی نشان۔
[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں، ان سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَؔكَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۙ وَمَا بَلَغُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے تھے انھوں نے (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ لوگ نہیں پہنچے‘‘ یعنی یہ مخاطبین نہیں پہنچتے ﴿مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ فَكَذَّبُوۡا ﴾ ’’اس سازو سامان کے عشر عشیر کو بھی جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو عطا کیا تھا تو انھوں نے جھٹلایا‘‘ یعنی ان سے پہلے امتوں نے ﴿رُسُلِيۡ١۫ فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ ’’میرے رسولوں کو تو پھر میرا عذاب کیسا ہوا۔‘‘ یعنی میری ان پر گرفت اور میرا ان پر عذاب کیسا تھا؟ہم اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ گزشتہ قوموں کو کیا کیا سزائیں دی گئیں ان میں سے کچھ قوموں کو سمندر میں غرق کر دیا، کچھ لوگوں کو سخت طوفانی ہوا کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا، کچھ قوموں کو ایک سخت چنگھاڑ کے ذریعے سے، کچھ کو زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کیا اور کچھ قوموں کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض قوموں پر ہم نے ہوا کے ذریعے سے آسمان سے پتھر برسائے۔ انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے لوگو! تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، ورنہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے تھے اور تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جیسے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوا تھا۔
34:46۞قُلۡ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍۖ أَن تَقُومُواْ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُواْۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ لَّكُم بَيۡنَ يَدَيۡ عَذَابٖ شَدِيدٖ
کہہ دیجیے! بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تمھیں ایک بات کی، یہ کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک، پھر غوروفکرکرو تم، نہیں ہے تمھارے ساتھی (پیغمبر) میں کوئی دیوانگی، نہیں ہے وہ مگر صرف ایک ڈرانے والا تمھیں، پہلے ایک سخت عذاب کے (آنے سے)(46) کہہ دیجیے! جو مانگا ہو میں نے تم سے کوئی صلہ تو وہ تمھارے لیے ہی ہے، نہیں ہے میرا صلہ مگر ذمے اللہ ہی کے، اور وہ ہے اوپر ہرچیز کے شاہد(47)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی القا کرتا ہے (پیغمبر پر) حق بات(وہ)خوب جانتا ہے پوشیدہ باتوں کو(48)کہہ دیجیے! آ گیا حق، اور نہیں ابتدا کرتا باطل اور نہ اعادہ کرتا ہے(49) کہہ دیجیے! اگرمیں بہکا ہوا ہوں تو بلاشبہ میرے بہکنے کا (وبال) مجھی پر ہو گا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس کے ہے جو وحی کرتا ہے میری طرف میرا رب، بے شک وہ خوب سننے والانہایت قریب ہے(50)
[46]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان مکذبین و معاندین، تکذیب حق میں بھاگ دوڑ کرنے اور حق لانے والے کے بارے میں جرح وقدح کے درپے رہنے والوں سے کہہ دیجیے:﴿اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍ ﴾ ’’میں تمھیں صرف ایک بات کی وصیت کرتا ہوں‘‘ تمھیں اس کا مشورہ دیتا ہوں اور اس بارے میں تمھارے ساتھ خیرخواہی کرتا ہوں۔ یہی انصاف پر مبنی طریقہ ہے، میں تمھیں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات مانو نہ یہ کہتا ہوں کہ تم بغیر کسی موجب کے اپنی بات چھوڑ دو، میں تم لوگوں سے صرف یہ کہتا ہوں:﴿اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ﴾ ’’ کہ تم اللہ کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ یعنی ہمت ، نشاط، اتباع صواب کے قصد اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ، تحقیق و جستجو کی خاطر اکٹھے ہو کر اور اکیلے اکیلے، کھڑے ہو جاؤ اور تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو مخاطب کرے۔ تم اکیلے اکیلے اور دو دو کھڑے ہو کر اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو، اپنے رسول کے احوال میں غوروفکر کرو، کہ کیا وہ مجنون ہے؟ کیا اس کے کلام اور ہیئت و اوصاف میں مجانین کی صفات پائی جاتی ہیں؟ یا وہ سچا نبی ہے اور آنے والے سخت عذاب کے ضرر سے تمھیں ڈراتا ہے؟ اگر وہ اس نصیحت کو قبول کر کے اس پر عمل کریں، تو دوسروں سے زیادہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ مجنون نہیں ہیں، اس لیے کہ آپ کی ہیئت مجانین کی ہیئت کی مانند نہیں ہے۔اس کے برعکس آپ کی ہیئت بہترین، آپ کی حرکات و سکنات جلیل ترین، ادب، سکینت، تواضع اور وقار کے اعتبار سے آپ کی تخلیق کامل ترین تھی۔ یہ صفات جلیلہ کسی نہایت عقل مند اور باوقار شخص ہی میں ہو سکتی ہیں، پھر وہ آپ کے فصیح و بلیغ کلام، آپ کے خوبصورت الفاظ اور آپ کے ان کلمات پر غور کریں جو دلوں کو امن و ایمان سے لبریز کر دیتے ہیں، نفوس کا تزکیہ اور قلوب کی تطہیر کرتے ہیں، جو انسان کو مکارم اخلاق اور اچھی عادات کو اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کے برعکس برے اخلاق اور رذیل عادات سے روکتے ہیں۔ آپ ﷺ جب گفتگو فرماتے ہیں تو ہیبت، اجلال اور تعظیم کی بنا پر آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں مجانین کی بکواس اور ان کی اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں اور ان کے اس کلام سے مشابہت رکھتی ہیں، جو ان کے احوال سے مطابقت رکھتا ہے؟ہر وہ شخص جو آپ کے احوال میں غوروفکر کرتا ہے اور یہ معلوم کرنے کا قصد رکھتا ہے کہ آیا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں یا نہیں، خواہ وہ اکیلا غوروفکر کرے یا کسی اور کے ساتھ مل کر، وہ یقین جازم کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق اور نبی صادق ہیں، خاص طور پر یہ مخاطبین، کیونکہ آپ ان کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ لوگ آپ کو شروع سے لے کر آخر تک اچھی طرح جانتے ہیں۔
[47] البتہ ایک اور مانع ہے جو نفوس کو داعی ٔ حق کی آواز پر لبیک کہنے سے روکتا ہے اور وہ مانع یہ ہے کہ داعی، اپنی آواز پر لبیک کہنے والوں سے، اپنی دعوت کی اجرت کے طور پر مال اینٹھ لیتا ہو، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپنے رسول کی براء ت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قُلۡ مَا سَاَلۡتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھارے حق کی اتباع کرنے پر ﴿فَهُوَ لَكُمۡ ﴾ یعنی میں تمھیں گواہ کر کے کہتا ہوں کہ بفرض محال، اگر دعوت حق کی کوئی اجرت ہے، تو وہ اجرت تمھارے لیے ہے۔ ﴿اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’میرا اجر اللہ ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی اس کا علم اس چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔ اگر میں جھوٹا ہوتا تو وہ عذاب کے ذریعے سے میری گرفت کرتا، نیز وہ تمھارے اعمال کو بھی دیکھتا ہے، وہ ان کو محفوظ رکھے گا اور تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
[48] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دلائل و براہین کا ذکر کرنے کے بعد، جو حق کی صحت اور باطل کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں، آگاہ فرمایا کہ یہ اس کی سنت اور عادت ہے۔ ﴿يَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں‘‘ باطل پر جو اس کا سرتوڑ دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حق کو واضح اور اہل تکذیب کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے، جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے تو آپ نے دیکھا کہ اہل تکذیب کے اقوال کیسے مضمحل ہو گئے، ان کا جھوٹ اور عناد کیسے عیاں ہو گیا، حق روشن ہو کر ظاہر ہو گیا اور باطل کا قلع قمع ہو گیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کو ﴿عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’سب سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والے‘‘ نے بیان کیا ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور شبہات کو جانتا ہے، جو ان دلائل کو بھی جانتا ہے جو ان شبہات کے مقابلے میں جنم لیتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں۔پس وہ اپنے بندوں کو ان دلائل کا علم عطا کر کے ان کو ان کے سامنے خوب واضح کر دیتا ہے۔
[49] اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ ﴾ ’’کہہ دیجیے: حق آگیا ہے‘‘ یعنی وہ ظاہر، واضح اور سورج کی مانند روشن ہو گیا اور اس کی دلیل غالب آ گئی ہے۔ ﴿وَ مَا يُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَمَا يُعِيۡدُ ﴾ ’’اور باطل نہ تو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے نہ دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اس کے ہتھکنڈے مضمحل ہو کر باطل اور اس کے دلائل سرنگوں ہو گئے۔ باطل ( یعنی کوئی خود ساختہ معبود) کسی کو پیدا کر سکتا ہے نہ مرنے کے بعد زندگی کا اعادہ کر سکتا ہے۔
[50] جب حق واضح ہو گیا، جس کی طرف رسول مصطفیٰ ﷺ نے دعوت دی تھی اور آپ کو جھٹلانے والے آپ پر گمراہی کا بہتان لگاتے تھے، تو آپ نے ان کو حق سے آگاہ کر کے حق کو ان کے سامنے واضح کر دیا اور ان پر ثابت کر دیا کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ نے ان کو یہ بھی بتا دیا کہ ان کا آپ کو گمراہ کہنا حق کو کوئی نقصان دے سکتا ہے نہ دعوت حق کسی کے روکے رکی ہے۔ اگر آپ ﷺ (مَعَاذَ اللہِ) گمراہ ہیں ، حالانکہ آپ اس سے پاک اور منزہ ہیں، تاہم اگر بحث میں برسبیل تنزل تمھاری بات کو صحیح مان لیں تو آپ کی گمراہی آپ کے لیے ہے یعنی آپ کی گمراہی کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے، دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ ﴿وَاِنِ اهۡتَدَيۡتُ ﴾ ’’اور اگر میں راہ راست پر ہوں‘‘ تو یہ میرے نفس اور میری قوت و اختیار کا کارنامہ نہیں۔ میری ہدایت کا سبب تو صرف یہ ہے کہ ﴿يُوۡحِيۡۤ اِلَيَّ رَبِّيۡ ﴾ ’’میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے‘‘ اور وہی میری ہدایت کا منبع ہے اور میرے سوا دیگر لوگوں کی ہدایت کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ بے شک میرا رب ﴿سَمِيۡعٌ ﴾ ’’سنتا ہے‘‘ تمام باتوں اور تمام آوازوں کو اور ﴿قَرِيۡبٌ ﴾ ’’قریب ہے‘‘ ہر اس شخص کے جو اسے پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
34:47قُلۡ مَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٖ فَهُوَ لَكُمۡۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٞ
کہہ دیجیے! بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تمھیں ایک بات کی، یہ کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک، پھر غوروفکرکرو تم، نہیں ہے تمھارے ساتھی (پیغمبر) میں کوئی دیوانگی، نہیں ہے وہ مگر صرف ایک ڈرانے والا تمھیں، پہلے ایک سخت عذاب کے (آنے سے)(46) کہہ دیجیے! جو مانگا ہو میں نے تم سے کوئی صلہ تو وہ تمھارے لیے ہی ہے، نہیں ہے میرا صلہ مگر ذمے اللہ ہی کے، اور وہ ہے اوپر ہرچیز کے شاہد(47)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی القا کرتا ہے (پیغمبر پر) حق بات(وہ)خوب جانتا ہے پوشیدہ باتوں کو(48)کہہ دیجیے! آ گیا حق، اور نہیں ابتدا کرتا باطل اور نہ اعادہ کرتا ہے(49) کہہ دیجیے! اگرمیں بہکا ہوا ہوں تو بلاشبہ میرے بہکنے کا (وبال) مجھی پر ہو گا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس کے ہے جو وحی کرتا ہے میری طرف میرا رب، بے شک وہ خوب سننے والانہایت قریب ہے(50)
[46]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان مکذبین و معاندین، تکذیب حق میں بھاگ دوڑ کرنے اور حق لانے والے کے بارے میں جرح وقدح کے درپے رہنے والوں سے کہہ دیجیے:﴿اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍ ﴾ ’’میں تمھیں صرف ایک بات کی وصیت کرتا ہوں‘‘ تمھیں اس کا مشورہ دیتا ہوں اور اس بارے میں تمھارے ساتھ خیرخواہی کرتا ہوں۔ یہی انصاف پر مبنی طریقہ ہے، میں تمھیں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات مانو نہ یہ کہتا ہوں کہ تم بغیر کسی موجب کے اپنی بات چھوڑ دو، میں تم لوگوں سے صرف یہ کہتا ہوں:﴿اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ﴾ ’’ کہ تم اللہ کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ یعنی ہمت ، نشاط، اتباع صواب کے قصد اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ، تحقیق و جستجو کی خاطر اکٹھے ہو کر اور اکیلے اکیلے، کھڑے ہو جاؤ اور تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو مخاطب کرے۔ تم اکیلے اکیلے اور دو دو کھڑے ہو کر اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو، اپنے رسول کے احوال میں غوروفکر کرو، کہ کیا وہ مجنون ہے؟ کیا اس کے کلام اور ہیئت و اوصاف میں مجانین کی صفات پائی جاتی ہیں؟ یا وہ سچا نبی ہے اور آنے والے سخت عذاب کے ضرر سے تمھیں ڈراتا ہے؟ اگر وہ اس نصیحت کو قبول کر کے اس پر عمل کریں، تو دوسروں سے زیادہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ مجنون نہیں ہیں، اس لیے کہ آپ کی ہیئت مجانین کی ہیئت کی مانند نہیں ہے۔اس کے برعکس آپ کی ہیئت بہترین، آپ کی حرکات و سکنات جلیل ترین، ادب، سکینت، تواضع اور وقار کے اعتبار سے آپ کی تخلیق کامل ترین تھی۔ یہ صفات جلیلہ کسی نہایت عقل مند اور باوقار شخص ہی میں ہو سکتی ہیں، پھر وہ آپ کے فصیح و بلیغ کلام، آپ کے خوبصورت الفاظ اور آپ کے ان کلمات پر غور کریں جو دلوں کو امن و ایمان سے لبریز کر دیتے ہیں، نفوس کا تزکیہ اور قلوب کی تطہیر کرتے ہیں، جو انسان کو مکارم اخلاق اور اچھی عادات کو اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کے برعکس برے اخلاق اور رذیل عادات سے روکتے ہیں۔ آپ ﷺ جب گفتگو فرماتے ہیں تو ہیبت، اجلال اور تعظیم کی بنا پر آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں مجانین کی بکواس اور ان کی اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں اور ان کے اس کلام سے مشابہت رکھتی ہیں، جو ان کے احوال سے مطابقت رکھتا ہے؟ہر وہ شخص جو آپ کے احوال میں غوروفکر کرتا ہے اور یہ معلوم کرنے کا قصد رکھتا ہے کہ آیا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں یا نہیں، خواہ وہ اکیلا غوروفکر کرے یا کسی اور کے ساتھ مل کر، وہ یقین جازم کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق اور نبی صادق ہیں، خاص طور پر یہ مخاطبین، کیونکہ آپ ان کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ لوگ آپ کو شروع سے لے کر آخر تک اچھی طرح جانتے ہیں۔
[47] البتہ ایک اور مانع ہے جو نفوس کو داعی ٔ حق کی آواز پر لبیک کہنے سے روکتا ہے اور وہ مانع یہ ہے کہ داعی، اپنی آواز پر لبیک کہنے والوں سے، اپنی دعوت کی اجرت کے طور پر مال اینٹھ لیتا ہو، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپنے رسول کی براء ت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قُلۡ مَا سَاَلۡتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھارے حق کی اتباع کرنے پر ﴿فَهُوَ لَكُمۡ ﴾ یعنی میں تمھیں گواہ کر کے کہتا ہوں کہ بفرض محال، اگر دعوت حق کی کوئی اجرت ہے، تو وہ اجرت تمھارے لیے ہے۔ ﴿اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’میرا اجر اللہ ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی اس کا علم اس چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔ اگر میں جھوٹا ہوتا تو وہ عذاب کے ذریعے سے میری گرفت کرتا، نیز وہ تمھارے اعمال کو بھی دیکھتا ہے، وہ ان کو محفوظ رکھے گا اور تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
[48] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دلائل و براہین کا ذکر کرنے کے بعد، جو حق کی صحت اور باطل کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں، آگاہ فرمایا کہ یہ اس کی سنت اور عادت ہے۔ ﴿يَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں‘‘ باطل پر جو اس کا سرتوڑ دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حق کو واضح اور اہل تکذیب کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے، جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے تو آپ نے دیکھا کہ اہل تکذیب کے اقوال کیسے مضمحل ہو گئے، ان کا جھوٹ اور عناد کیسے عیاں ہو گیا، حق روشن ہو کر ظاہر ہو گیا اور باطل کا قلع قمع ہو گیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کو ﴿عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’سب سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والے‘‘ نے بیان کیا ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور شبہات کو جانتا ہے، جو ان دلائل کو بھی جانتا ہے جو ان شبہات کے مقابلے میں جنم لیتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں۔پس وہ اپنے بندوں کو ان دلائل کا علم عطا کر کے ان کو ان کے سامنے خوب واضح کر دیتا ہے۔
[49] اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ ﴾ ’’کہہ دیجیے: حق آگیا ہے‘‘ یعنی وہ ظاہر، واضح اور سورج کی مانند روشن ہو گیا اور اس کی دلیل غالب آ گئی ہے۔ ﴿وَ مَا يُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَمَا يُعِيۡدُ ﴾ ’’اور باطل نہ تو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے نہ دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اس کے ہتھکنڈے مضمحل ہو کر باطل اور اس کے دلائل سرنگوں ہو گئے۔ باطل ( یعنی کوئی خود ساختہ معبود) کسی کو پیدا کر سکتا ہے نہ مرنے کے بعد زندگی کا اعادہ کر سکتا ہے۔
[50] جب حق واضح ہو گیا، جس کی طرف رسول مصطفیٰ ﷺ نے دعوت دی تھی اور آپ کو جھٹلانے والے آپ پر گمراہی کا بہتان لگاتے تھے، تو آپ نے ان کو حق سے آگاہ کر کے حق کو ان کے سامنے واضح کر دیا اور ان پر ثابت کر دیا کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ نے ان کو یہ بھی بتا دیا کہ ان کا آپ کو گمراہ کہنا حق کو کوئی نقصان دے سکتا ہے نہ دعوت حق کسی کے روکے رکی ہے۔ اگر آپ ﷺ (مَعَاذَ اللہِ) گمراہ ہیں ، حالانکہ آپ اس سے پاک اور منزہ ہیں، تاہم اگر بحث میں برسبیل تنزل تمھاری بات کو صحیح مان لیں تو آپ کی گمراہی آپ کے لیے ہے یعنی آپ کی گمراہی کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے، دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ ﴿وَاِنِ اهۡتَدَيۡتُ ﴾ ’’اور اگر میں راہ راست پر ہوں‘‘ تو یہ میرے نفس اور میری قوت و اختیار کا کارنامہ نہیں۔ میری ہدایت کا سبب تو صرف یہ ہے کہ ﴿يُوۡحِيۡۤ اِلَيَّ رَبِّيۡ ﴾ ’’میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے‘‘ اور وہی میری ہدایت کا منبع ہے اور میرے سوا دیگر لوگوں کی ہدایت کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ بے شک میرا رب ﴿سَمِيۡعٌ ﴾ ’’سنتا ہے‘‘ تمام باتوں اور تمام آوازوں کو اور ﴿قَرِيۡبٌ ﴾ ’’قریب ہے‘‘ ہر اس شخص کے جو اسے پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
34:48قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ
کہہ دیجیے! بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تمھیں ایک بات کی، یہ کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک، پھر غوروفکرکرو تم، نہیں ہے تمھارے ساتھی (پیغمبر) میں کوئی دیوانگی، نہیں ہے وہ مگر صرف ایک ڈرانے والا تمھیں، پہلے ایک سخت عذاب کے (آنے سے)(46) کہہ دیجیے! جو مانگا ہو میں نے تم سے کوئی صلہ تو وہ تمھارے لیے ہی ہے، نہیں ہے میرا صلہ مگر ذمے اللہ ہی کے، اور وہ ہے اوپر ہرچیز کے شاہد(47)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی القا کرتا ہے (پیغمبر پر) حق بات(وہ)خوب جانتا ہے پوشیدہ باتوں کو(48)کہہ دیجیے! آ گیا حق، اور نہیں ابتدا کرتا باطل اور نہ اعادہ کرتا ہے(49) کہہ دیجیے! اگرمیں بہکا ہوا ہوں تو بلاشبہ میرے بہکنے کا (وبال) مجھی پر ہو گا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس کے ہے جو وحی کرتا ہے میری طرف میرا رب، بے شک وہ خوب سننے والانہایت قریب ہے(50)
[46]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان مکذبین و معاندین، تکذیب حق میں بھاگ دوڑ کرنے اور حق لانے والے کے بارے میں جرح وقدح کے درپے رہنے والوں سے کہہ دیجیے:﴿اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍ ﴾ ’’میں تمھیں صرف ایک بات کی وصیت کرتا ہوں‘‘ تمھیں اس کا مشورہ دیتا ہوں اور اس بارے میں تمھارے ساتھ خیرخواہی کرتا ہوں۔ یہی انصاف پر مبنی طریقہ ہے، میں تمھیں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات مانو نہ یہ کہتا ہوں کہ تم بغیر کسی موجب کے اپنی بات چھوڑ دو، میں تم لوگوں سے صرف یہ کہتا ہوں:﴿اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ﴾ ’’ کہ تم اللہ کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ یعنی ہمت ، نشاط، اتباع صواب کے قصد اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ، تحقیق و جستجو کی خاطر اکٹھے ہو کر اور اکیلے اکیلے، کھڑے ہو جاؤ اور تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو مخاطب کرے۔ تم اکیلے اکیلے اور دو دو کھڑے ہو کر اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو، اپنے رسول کے احوال میں غوروفکر کرو، کہ کیا وہ مجنون ہے؟ کیا اس کے کلام اور ہیئت و اوصاف میں مجانین کی صفات پائی جاتی ہیں؟ یا وہ سچا نبی ہے اور آنے والے سخت عذاب کے ضرر سے تمھیں ڈراتا ہے؟ اگر وہ اس نصیحت کو قبول کر کے اس پر عمل کریں، تو دوسروں سے زیادہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ مجنون نہیں ہیں، اس لیے کہ آپ کی ہیئت مجانین کی ہیئت کی مانند نہیں ہے۔اس کے برعکس آپ کی ہیئت بہترین، آپ کی حرکات و سکنات جلیل ترین، ادب، سکینت، تواضع اور وقار کے اعتبار سے آپ کی تخلیق کامل ترین تھی۔ یہ صفات جلیلہ کسی نہایت عقل مند اور باوقار شخص ہی میں ہو سکتی ہیں، پھر وہ آپ کے فصیح و بلیغ کلام، آپ کے خوبصورت الفاظ اور آپ کے ان کلمات پر غور کریں جو دلوں کو امن و ایمان سے لبریز کر دیتے ہیں، نفوس کا تزکیہ اور قلوب کی تطہیر کرتے ہیں، جو انسان کو مکارم اخلاق اور اچھی عادات کو اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کے برعکس برے اخلاق اور رذیل عادات سے روکتے ہیں۔ آپ ﷺ جب گفتگو فرماتے ہیں تو ہیبت، اجلال اور تعظیم کی بنا پر آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں مجانین کی بکواس اور ان کی اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں اور ان کے اس کلام سے مشابہت رکھتی ہیں، جو ان کے احوال سے مطابقت رکھتا ہے؟ہر وہ شخص جو آپ کے احوال میں غوروفکر کرتا ہے اور یہ معلوم کرنے کا قصد رکھتا ہے کہ آیا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں یا نہیں، خواہ وہ اکیلا غوروفکر کرے یا کسی اور کے ساتھ مل کر، وہ یقین جازم کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق اور نبی صادق ہیں، خاص طور پر یہ مخاطبین، کیونکہ آپ ان کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ لوگ آپ کو شروع سے لے کر آخر تک اچھی طرح جانتے ہیں۔
[47] البتہ ایک اور مانع ہے جو نفوس کو داعی ٔ حق کی آواز پر لبیک کہنے سے روکتا ہے اور وہ مانع یہ ہے کہ داعی، اپنی آواز پر لبیک کہنے والوں سے، اپنی دعوت کی اجرت کے طور پر مال اینٹھ لیتا ہو، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپنے رسول کی براء ت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قُلۡ مَا سَاَلۡتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھارے حق کی اتباع کرنے پر ﴿فَهُوَ لَكُمۡ ﴾ یعنی میں تمھیں گواہ کر کے کہتا ہوں کہ بفرض محال، اگر دعوت حق کی کوئی اجرت ہے، تو وہ اجرت تمھارے لیے ہے۔ ﴿اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’میرا اجر اللہ ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی اس کا علم اس چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔ اگر میں جھوٹا ہوتا تو وہ عذاب کے ذریعے سے میری گرفت کرتا، نیز وہ تمھارے اعمال کو بھی دیکھتا ہے، وہ ان کو محفوظ رکھے گا اور تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
[48] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دلائل و براہین کا ذکر کرنے کے بعد، جو حق کی صحت اور باطل کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں، آگاہ فرمایا کہ یہ اس کی سنت اور عادت ہے۔ ﴿يَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں‘‘ باطل پر جو اس کا سرتوڑ دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حق کو واضح اور اہل تکذیب کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے، جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے تو آپ نے دیکھا کہ اہل تکذیب کے اقوال کیسے مضمحل ہو گئے، ان کا جھوٹ اور عناد کیسے عیاں ہو گیا، حق روشن ہو کر ظاہر ہو گیا اور باطل کا قلع قمع ہو گیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کو ﴿عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’سب سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والے‘‘ نے بیان کیا ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور شبہات کو جانتا ہے، جو ان دلائل کو بھی جانتا ہے جو ان شبہات کے مقابلے میں جنم لیتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں۔پس وہ اپنے بندوں کو ان دلائل کا علم عطا کر کے ان کو ان کے سامنے خوب واضح کر دیتا ہے۔
[49] اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ ﴾ ’’کہہ دیجیے: حق آگیا ہے‘‘ یعنی وہ ظاہر، واضح اور سورج کی مانند روشن ہو گیا اور اس کی دلیل غالب آ گئی ہے۔ ﴿وَ مَا يُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَمَا يُعِيۡدُ ﴾ ’’اور باطل نہ تو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے نہ دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اس کے ہتھکنڈے مضمحل ہو کر باطل اور اس کے دلائل سرنگوں ہو گئے۔ باطل ( یعنی کوئی خود ساختہ معبود) کسی کو پیدا کر سکتا ہے نہ مرنے کے بعد زندگی کا اعادہ کر سکتا ہے۔
[50] جب حق واضح ہو گیا، جس کی طرف رسول مصطفیٰ ﷺ نے دعوت دی تھی اور آپ کو جھٹلانے والے آپ پر گمراہی کا بہتان لگاتے تھے، تو آپ نے ان کو حق سے آگاہ کر کے حق کو ان کے سامنے واضح کر دیا اور ان پر ثابت کر دیا کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ نے ان کو یہ بھی بتا دیا کہ ان کا آپ کو گمراہ کہنا حق کو کوئی نقصان دے سکتا ہے نہ دعوت حق کسی کے روکے رکی ہے۔ اگر آپ ﷺ (مَعَاذَ اللہِ) گمراہ ہیں ، حالانکہ آپ اس سے پاک اور منزہ ہیں، تاہم اگر بحث میں برسبیل تنزل تمھاری بات کو صحیح مان لیں تو آپ کی گمراہی آپ کے لیے ہے یعنی آپ کی گمراہی کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے، دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ ﴿وَاِنِ اهۡتَدَيۡتُ ﴾ ’’اور اگر میں راہ راست پر ہوں‘‘ تو یہ میرے نفس اور میری قوت و اختیار کا کارنامہ نہیں۔ میری ہدایت کا سبب تو صرف یہ ہے کہ ﴿يُوۡحِيۡۤ اِلَيَّ رَبِّيۡ ﴾ ’’میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے‘‘ اور وہی میری ہدایت کا منبع ہے اور میرے سوا دیگر لوگوں کی ہدایت کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ بے شک میرا رب ﴿سَمِيۡعٌ ﴾ ’’سنتا ہے‘‘ تمام باتوں اور تمام آوازوں کو اور ﴿قَرِيۡبٌ ﴾ ’’قریب ہے‘‘ ہر اس شخص کے جو اسے پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
34:49قُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَمَا يُبۡدِئُ ٱلۡبَٰطِلُ وَمَا يُعِيدُ
کہہ دیجیے! بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تمھیں ایک بات کی، یہ کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک، پھر غوروفکرکرو تم، نہیں ہے تمھارے ساتھی (پیغمبر) میں کوئی دیوانگی، نہیں ہے وہ مگر صرف ایک ڈرانے والا تمھیں، پہلے ایک سخت عذاب کے (آنے سے)(46) کہہ دیجیے! جو مانگا ہو میں نے تم سے کوئی صلہ تو وہ تمھارے لیے ہی ہے، نہیں ہے میرا صلہ مگر ذمے اللہ ہی کے، اور وہ ہے اوپر ہرچیز کے شاہد(47)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی القا کرتا ہے (پیغمبر پر) حق بات(وہ)خوب جانتا ہے پوشیدہ باتوں کو(48)کہہ دیجیے! آ گیا حق، اور نہیں ابتدا کرتا باطل اور نہ اعادہ کرتا ہے(49) کہہ دیجیے! اگرمیں بہکا ہوا ہوں تو بلاشبہ میرے بہکنے کا (وبال) مجھی پر ہو گا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس کے ہے جو وحی کرتا ہے میری طرف میرا رب، بے شک وہ خوب سننے والانہایت قریب ہے(50)
[46]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان مکذبین و معاندین، تکذیب حق میں بھاگ دوڑ کرنے اور حق لانے والے کے بارے میں جرح وقدح کے درپے رہنے والوں سے کہہ دیجیے:﴿اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍ ﴾ ’’میں تمھیں صرف ایک بات کی وصیت کرتا ہوں‘‘ تمھیں اس کا مشورہ دیتا ہوں اور اس بارے میں تمھارے ساتھ خیرخواہی کرتا ہوں۔ یہی انصاف پر مبنی طریقہ ہے، میں تمھیں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات مانو نہ یہ کہتا ہوں کہ تم بغیر کسی موجب کے اپنی بات چھوڑ دو، میں تم لوگوں سے صرف یہ کہتا ہوں:﴿اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ﴾ ’’ کہ تم اللہ کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ یعنی ہمت ، نشاط، اتباع صواب کے قصد اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ، تحقیق و جستجو کی خاطر اکٹھے ہو کر اور اکیلے اکیلے، کھڑے ہو جاؤ اور تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو مخاطب کرے۔ تم اکیلے اکیلے اور دو دو کھڑے ہو کر اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو، اپنے رسول کے احوال میں غوروفکر کرو، کہ کیا وہ مجنون ہے؟ کیا اس کے کلام اور ہیئت و اوصاف میں مجانین کی صفات پائی جاتی ہیں؟ یا وہ سچا نبی ہے اور آنے والے سخت عذاب کے ضرر سے تمھیں ڈراتا ہے؟ اگر وہ اس نصیحت کو قبول کر کے اس پر عمل کریں، تو دوسروں سے زیادہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ مجنون نہیں ہیں، اس لیے کہ آپ کی ہیئت مجانین کی ہیئت کی مانند نہیں ہے۔اس کے برعکس آپ کی ہیئت بہترین، آپ کی حرکات و سکنات جلیل ترین، ادب، سکینت، تواضع اور وقار کے اعتبار سے آپ کی تخلیق کامل ترین تھی۔ یہ صفات جلیلہ کسی نہایت عقل مند اور باوقار شخص ہی میں ہو سکتی ہیں، پھر وہ آپ کے فصیح و بلیغ کلام، آپ کے خوبصورت الفاظ اور آپ کے ان کلمات پر غور کریں جو دلوں کو امن و ایمان سے لبریز کر دیتے ہیں، نفوس کا تزکیہ اور قلوب کی تطہیر کرتے ہیں، جو انسان کو مکارم اخلاق اور اچھی عادات کو اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کے برعکس برے اخلاق اور رذیل عادات سے روکتے ہیں۔ آپ ﷺ جب گفتگو فرماتے ہیں تو ہیبت، اجلال اور تعظیم کی بنا پر آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں مجانین کی بکواس اور ان کی اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں اور ان کے اس کلام سے مشابہت رکھتی ہیں، جو ان کے احوال سے مطابقت رکھتا ہے؟ہر وہ شخص جو آپ کے احوال میں غوروفکر کرتا ہے اور یہ معلوم کرنے کا قصد رکھتا ہے کہ آیا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں یا نہیں، خواہ وہ اکیلا غوروفکر کرے یا کسی اور کے ساتھ مل کر، وہ یقین جازم کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق اور نبی صادق ہیں، خاص طور پر یہ مخاطبین، کیونکہ آپ ان کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ لوگ آپ کو شروع سے لے کر آخر تک اچھی طرح جانتے ہیں۔
[47] البتہ ایک اور مانع ہے جو نفوس کو داعی ٔ حق کی آواز پر لبیک کہنے سے روکتا ہے اور وہ مانع یہ ہے کہ داعی، اپنی آواز پر لبیک کہنے والوں سے، اپنی دعوت کی اجرت کے طور پر مال اینٹھ لیتا ہو، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپنے رسول کی براء ت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قُلۡ مَا سَاَلۡتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھارے حق کی اتباع کرنے پر ﴿فَهُوَ لَكُمۡ ﴾ یعنی میں تمھیں گواہ کر کے کہتا ہوں کہ بفرض محال، اگر دعوت حق کی کوئی اجرت ہے، تو وہ اجرت تمھارے لیے ہے۔ ﴿اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’میرا اجر اللہ ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی اس کا علم اس چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔ اگر میں جھوٹا ہوتا تو وہ عذاب کے ذریعے سے میری گرفت کرتا، نیز وہ تمھارے اعمال کو بھی دیکھتا ہے، وہ ان کو محفوظ رکھے گا اور تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
[48] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دلائل و براہین کا ذکر کرنے کے بعد، جو حق کی صحت اور باطل کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں، آگاہ فرمایا کہ یہ اس کی سنت اور عادت ہے۔ ﴿يَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں‘‘ باطل پر جو اس کا سرتوڑ دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حق کو واضح اور اہل تکذیب کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے، جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے تو آپ نے دیکھا کہ اہل تکذیب کے اقوال کیسے مضمحل ہو گئے، ان کا جھوٹ اور عناد کیسے عیاں ہو گیا، حق روشن ہو کر ظاہر ہو گیا اور باطل کا قلع قمع ہو گیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کو ﴿عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’سب سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والے‘‘ نے بیان کیا ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور شبہات کو جانتا ہے، جو ان دلائل کو بھی جانتا ہے جو ان شبہات کے مقابلے میں جنم لیتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں۔پس وہ اپنے بندوں کو ان دلائل کا علم عطا کر کے ان کو ان کے سامنے خوب واضح کر دیتا ہے۔
[49] اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ ﴾ ’’کہہ دیجیے: حق آگیا ہے‘‘ یعنی وہ ظاہر، واضح اور سورج کی مانند روشن ہو گیا اور اس کی دلیل غالب آ گئی ہے۔ ﴿وَ مَا يُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَمَا يُعِيۡدُ ﴾ ’’اور باطل نہ تو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے نہ دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اس کے ہتھکنڈے مضمحل ہو کر باطل اور اس کے دلائل سرنگوں ہو گئے۔ باطل ( یعنی کوئی خود ساختہ معبود) کسی کو پیدا کر سکتا ہے نہ مرنے کے بعد زندگی کا اعادہ کر سکتا ہے۔
[50] جب حق واضح ہو گیا، جس کی طرف رسول مصطفیٰ ﷺ نے دعوت دی تھی اور آپ کو جھٹلانے والے آپ پر گمراہی کا بہتان لگاتے تھے، تو آپ نے ان کو حق سے آگاہ کر کے حق کو ان کے سامنے واضح کر دیا اور ان پر ثابت کر دیا کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ نے ان کو یہ بھی بتا دیا کہ ان کا آپ کو گمراہ کہنا حق کو کوئی نقصان دے سکتا ہے نہ دعوت حق کسی کے روکے رکی ہے۔ اگر آپ ﷺ (مَعَاذَ اللہِ) گمراہ ہیں ، حالانکہ آپ اس سے پاک اور منزہ ہیں، تاہم اگر بحث میں برسبیل تنزل تمھاری بات کو صحیح مان لیں تو آپ کی گمراہی آپ کے لیے ہے یعنی آپ کی گمراہی کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے، دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ ﴿وَاِنِ اهۡتَدَيۡتُ ﴾ ’’اور اگر میں راہ راست پر ہوں‘‘ تو یہ میرے نفس اور میری قوت و اختیار کا کارنامہ نہیں۔ میری ہدایت کا سبب تو صرف یہ ہے کہ ﴿يُوۡحِيۡۤ اِلَيَّ رَبِّيۡ ﴾ ’’میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے‘‘ اور وہی میری ہدایت کا منبع ہے اور میرے سوا دیگر لوگوں کی ہدایت کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ بے شک میرا رب ﴿سَمِيۡعٌ ﴾ ’’سنتا ہے‘‘ تمام باتوں اور تمام آوازوں کو اور ﴿قَرِيۡبٌ ﴾ ’’قریب ہے‘‘ ہر اس شخص کے جو اسے پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
34:50قُلۡ إِن ضَلَلۡتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَىٰ نَفۡسِيۖ وَإِنِ ٱهۡتَدَيۡتُ فَبِمَا يُوحِيٓ إِلَيَّ رَبِّيٓۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٞ قَرِيبٞ
کہہ دیجیے! بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تمھیں ایک بات کی، یہ کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک، پھر غوروفکرکرو تم، نہیں ہے تمھارے ساتھی (پیغمبر) میں کوئی دیوانگی، نہیں ہے وہ مگر صرف ایک ڈرانے والا تمھیں، پہلے ایک سخت عذاب کے (آنے سے)(46) کہہ دیجیے! جو مانگا ہو میں نے تم سے کوئی صلہ تو وہ تمھارے لیے ہی ہے، نہیں ہے میرا صلہ مگر ذمے اللہ ہی کے، اور وہ ہے اوپر ہرچیز کے شاہد(47)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی القا کرتا ہے (پیغمبر پر) حق بات(وہ)خوب جانتا ہے پوشیدہ باتوں کو(48)کہہ دیجیے! آ گیا حق، اور نہیں ابتدا کرتا باطل اور نہ اعادہ کرتا ہے(49) کہہ دیجیے! اگرمیں بہکا ہوا ہوں تو بلاشبہ میرے بہکنے کا (وبال) مجھی پر ہو گا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس کے ہے جو وحی کرتا ہے میری طرف میرا رب، بے شک وہ خوب سننے والانہایت قریب ہے(50)
[46]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان مکذبین و معاندین، تکذیب حق میں بھاگ دوڑ کرنے اور حق لانے والے کے بارے میں جرح وقدح کے درپے رہنے والوں سے کہہ دیجیے:﴿اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍ ﴾ ’’میں تمھیں صرف ایک بات کی وصیت کرتا ہوں‘‘ تمھیں اس کا مشورہ دیتا ہوں اور اس بارے میں تمھارے ساتھ خیرخواہی کرتا ہوں۔ یہی انصاف پر مبنی طریقہ ہے، میں تمھیں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات مانو نہ یہ کہتا ہوں کہ تم بغیر کسی موجب کے اپنی بات چھوڑ دو، میں تم لوگوں سے صرف یہ کہتا ہوں:﴿اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ﴾ ’’ کہ تم اللہ کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ یعنی ہمت ، نشاط، اتباع صواب کے قصد اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ، تحقیق و جستجو کی خاطر اکٹھے ہو کر اور اکیلے اکیلے، کھڑے ہو جاؤ اور تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو مخاطب کرے۔ تم اکیلے اکیلے اور دو دو کھڑے ہو کر اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو، اپنے رسول کے احوال میں غوروفکر کرو، کہ کیا وہ مجنون ہے؟ کیا اس کے کلام اور ہیئت و اوصاف میں مجانین کی صفات پائی جاتی ہیں؟ یا وہ سچا نبی ہے اور آنے والے سخت عذاب کے ضرر سے تمھیں ڈراتا ہے؟ اگر وہ اس نصیحت کو قبول کر کے اس پر عمل کریں، تو دوسروں سے زیادہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ مجنون نہیں ہیں، اس لیے کہ آپ کی ہیئت مجانین کی ہیئت کی مانند نہیں ہے۔اس کے برعکس آپ کی ہیئت بہترین، آپ کی حرکات و سکنات جلیل ترین، ادب، سکینت، تواضع اور وقار کے اعتبار سے آپ کی تخلیق کامل ترین تھی۔ یہ صفات جلیلہ کسی نہایت عقل مند اور باوقار شخص ہی میں ہو سکتی ہیں، پھر وہ آپ کے فصیح و بلیغ کلام، آپ کے خوبصورت الفاظ اور آپ کے ان کلمات پر غور کریں جو دلوں کو امن و ایمان سے لبریز کر دیتے ہیں، نفوس کا تزکیہ اور قلوب کی تطہیر کرتے ہیں، جو انسان کو مکارم اخلاق اور اچھی عادات کو اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کے برعکس برے اخلاق اور رذیل عادات سے روکتے ہیں۔ آپ ﷺ جب گفتگو فرماتے ہیں تو ہیبت، اجلال اور تعظیم کی بنا پر آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں مجانین کی بکواس اور ان کی اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں اور ان کے اس کلام سے مشابہت رکھتی ہیں، جو ان کے احوال سے مطابقت رکھتا ہے؟ہر وہ شخص جو آپ کے احوال میں غوروفکر کرتا ہے اور یہ معلوم کرنے کا قصد رکھتا ہے کہ آیا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں یا نہیں، خواہ وہ اکیلا غوروفکر کرے یا کسی اور کے ساتھ مل کر، وہ یقین جازم کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق اور نبی صادق ہیں، خاص طور پر یہ مخاطبین، کیونکہ آپ ان کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ لوگ آپ کو شروع سے لے کر آخر تک اچھی طرح جانتے ہیں۔
[47] البتہ ایک اور مانع ہے جو نفوس کو داعی ٔ حق کی آواز پر لبیک کہنے سے روکتا ہے اور وہ مانع یہ ہے کہ داعی، اپنی آواز پر لبیک کہنے والوں سے، اپنی دعوت کی اجرت کے طور پر مال اینٹھ لیتا ہو، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپنے رسول کی براء ت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قُلۡ مَا سَاَلۡتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھارے حق کی اتباع کرنے پر ﴿فَهُوَ لَكُمۡ ﴾ یعنی میں تمھیں گواہ کر کے کہتا ہوں کہ بفرض محال، اگر دعوت حق کی کوئی اجرت ہے، تو وہ اجرت تمھارے لیے ہے۔ ﴿اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’میرا اجر اللہ ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی اس کا علم اس چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔ اگر میں جھوٹا ہوتا تو وہ عذاب کے ذریعے سے میری گرفت کرتا، نیز وہ تمھارے اعمال کو بھی دیکھتا ہے، وہ ان کو محفوظ رکھے گا اور تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
[48] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دلائل و براہین کا ذکر کرنے کے بعد، جو حق کی صحت اور باطل کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں، آگاہ فرمایا کہ یہ اس کی سنت اور عادت ہے۔ ﴿يَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں‘‘ باطل پر جو اس کا سرتوڑ دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حق کو واضح اور اہل تکذیب کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے، جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے تو آپ نے دیکھا کہ اہل تکذیب کے اقوال کیسے مضمحل ہو گئے، ان کا جھوٹ اور عناد کیسے عیاں ہو گیا، حق روشن ہو کر ظاہر ہو گیا اور باطل کا قلع قمع ہو گیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کو ﴿عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’سب سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والے‘‘ نے بیان کیا ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور شبہات کو جانتا ہے، جو ان دلائل کو بھی جانتا ہے جو ان شبہات کے مقابلے میں جنم لیتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں۔پس وہ اپنے بندوں کو ان دلائل کا علم عطا کر کے ان کو ان کے سامنے خوب واضح کر دیتا ہے۔
[49] اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ ﴾ ’’کہہ دیجیے: حق آگیا ہے‘‘ یعنی وہ ظاہر، واضح اور سورج کی مانند روشن ہو گیا اور اس کی دلیل غالب آ گئی ہے۔ ﴿وَ مَا يُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَمَا يُعِيۡدُ ﴾ ’’اور باطل نہ تو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے نہ دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اس کے ہتھکنڈے مضمحل ہو کر باطل اور اس کے دلائل سرنگوں ہو گئے۔ باطل ( یعنی کوئی خود ساختہ معبود) کسی کو پیدا کر سکتا ہے نہ مرنے کے بعد زندگی کا اعادہ کر سکتا ہے۔
[50] جب حق واضح ہو گیا، جس کی طرف رسول مصطفیٰ ﷺ نے دعوت دی تھی اور آپ کو جھٹلانے والے آپ پر گمراہی کا بہتان لگاتے تھے، تو آپ نے ان کو حق سے آگاہ کر کے حق کو ان کے سامنے واضح کر دیا اور ان پر ثابت کر دیا کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ نے ان کو یہ بھی بتا دیا کہ ان کا آپ کو گمراہ کہنا حق کو کوئی نقصان دے سکتا ہے نہ دعوت حق کسی کے روکے رکی ہے۔ اگر آپ ﷺ (مَعَاذَ اللہِ) گمراہ ہیں ، حالانکہ آپ اس سے پاک اور منزہ ہیں، تاہم اگر بحث میں برسبیل تنزل تمھاری بات کو صحیح مان لیں تو آپ کی گمراہی آپ کے لیے ہے یعنی آپ کی گمراہی کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے، دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ ﴿وَاِنِ اهۡتَدَيۡتُ ﴾ ’’اور اگر میں راہ راست پر ہوں‘‘ تو یہ میرے نفس اور میری قوت و اختیار کا کارنامہ نہیں۔ میری ہدایت کا سبب تو صرف یہ ہے کہ ﴿يُوۡحِيۡۤ اِلَيَّ رَبِّيۡ ﴾ ’’میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے‘‘ اور وہی میری ہدایت کا منبع ہے اور میرے سوا دیگر لوگوں کی ہدایت کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ بے شک میرا رب ﴿سَمِيۡعٌ ﴾ ’’سنتا ہے‘‘ تمام باتوں اور تمام آوازوں کو اور ﴿قَرِيۡبٌ ﴾ ’’قریب ہے‘‘ ہر اس شخص کے جو اسے پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
34:51وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ فَزِعُواْ فَلَا فَوۡتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٖ قَرِيبٖ
اور کاش کہ آپ دیکھیں! جب وہ پریشان ہوں گے، تو نہ بچ سکیں گے، اور پکڑ لیے جائیں گے وہ نزدیک جگہ ہی سے (51) اور وہ کہیں گے، ہم ایمان لے آئے ہیں اس پر، اور کہا ں ان کے لیے ہوگا حاصل کرنا (ایمان کا اتنی) دور جگہ سے(52) حالانکہ انکار کیا تھا انھوں نے ساتھ اس کےاس سے پہلے (دنیا میں) اور پھینکتے رہے بن دیکھے (نشانے پر) دور جگہ سے ہی(53) اور آڑ کر دی جائے گی ان کے درمیان اور درمیان ان چیزوں کے جو وہ چاہیں گے، جیسے کیا گیاان جیسے کام کرنے والوں کے ساتھ اس سے پہلے، بلاشبہ وہ تھے ایسے شک میں (جو) اضطراب میں ڈالنے والا تھا(54)
[51] اللہ تبارک فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں‘‘ اے رسول! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال ﴿اِذۡ فَزِعُوۡا﴾ ’’جب وہ گبھرائے ہوئے ہوں گے‘‘ عذاب اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انھوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب ان کے لیے عذاب کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ تو ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ ہو گی نہ وہ بچ ہی سکیں گے ﴿وَاُخِذُوۡا مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اور وہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے بلکہ ان کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
[52]﴿وَّقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ پکار اٹھیں گے‘‘ اسی حالت میں، کہ ﴿اٰمَنَّا ﴾ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ ﴾ ’’اب انھیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا‘‘ ﴿مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ ’’اتنے دور کے مقام سے‘‘ اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہو گئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہو گیا ہے۔
[53] اگر یہ لوگ بروقت ایمان لائے ہوتے تو ان کا ایمان مقبول تھا، لیکن ﴿كَفَرُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ۚ وَيَقۡذِفُوۡنَ ﴾ ’’اس سے پہلے تو انھوں نے اس سے کفر کیا تھا اور وہ پھینکتے تھے (تیر تکے)‘‘ ﴿بِالۡغَيۡبِ مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’دور دراز سے بن دیکھے ہی‘‘ اپنے باطل اندازوں کے ذریعے سے تاکہ اس طرح وہ حق کو سرنگوں کریں۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیر اندازی کرنے والے کا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑ سکتا اسی طرح یہ بہت محال ہے کہ باطل حق کو مغلوب کر سکے یا اس کو روک سکے۔ حق کی غفلت کے وقت باطل ایک مرتبہ حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آکر باطل کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے۔
[54]﴿وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے درمیان اور ان کی لذات و شہوات، مال و اولاد، ان کی فوجوں اور خدم و حشم کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی جائیں گی۔ وہ اکیلے اکیلے اپنے اعمال کے ساتھ اسی طرح حاضر ہوں گے جس طرح انھیں اکیلے پیدا کیا گیا تھا اور جن چیزوں کے وہ مالک تھے انھیں اپنے پیچھے چھوڑ آئیں گے۔ ﴿كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ ﴾ ’’جیسے ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا تھا‘‘ گزشتہ قوموں میں سے۔ جب ان پر ہلاکت خیز عذاب نازل ہوا تو ان کے اور ان کی دل پسند چیزوں کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی گئیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِيۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ ﴾ ’’بے شک وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ جو انھیں بدگمانی اور دلی قلق میں مبتلا کرتا تھا ، اس لیے وہ ایمان نہ لائے اور جب ان سے توبہ کے لیے کہا گیا تو انھوں نے توبہ نہ کی۔
34:52وَقَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ
اور کاش کہ آپ دیکھیں! جب وہ پریشان ہوں گے، تو نہ بچ سکیں گے، اور پکڑ لیے جائیں گے وہ نزدیک جگہ ہی سے (51) اور وہ کہیں گے، ہم ایمان لے آئے ہیں اس پر، اور کہا ں ان کے لیے ہوگا حاصل کرنا (ایمان کا اتنی) دور جگہ سے(52) حالانکہ انکار کیا تھا انھوں نے ساتھ اس کےاس سے پہلے (دنیا میں) اور پھینکتے رہے بن دیکھے (نشانے پر) دور جگہ سے ہی(53) اور آڑ کر دی جائے گی ان کے درمیان اور درمیان ان چیزوں کے جو وہ چاہیں گے، جیسے کیا گیاان جیسے کام کرنے والوں کے ساتھ اس سے پہلے، بلاشبہ وہ تھے ایسے شک میں (جو) اضطراب میں ڈالنے والا تھا(54)
[51] اللہ تبارک فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں‘‘ اے رسول! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال ﴿اِذۡ فَزِعُوۡا﴾ ’’جب وہ گبھرائے ہوئے ہوں گے‘‘ عذاب اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انھوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب ان کے لیے عذاب کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ تو ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ ہو گی نہ وہ بچ ہی سکیں گے ﴿وَاُخِذُوۡا مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اور وہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے بلکہ ان کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
[52]﴿وَّقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ پکار اٹھیں گے‘‘ اسی حالت میں، کہ ﴿اٰمَنَّا ﴾ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ ﴾ ’’اب انھیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا‘‘ ﴿مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ ’’اتنے دور کے مقام سے‘‘ اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہو گئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہو گیا ہے۔
[53] اگر یہ لوگ بروقت ایمان لائے ہوتے تو ان کا ایمان مقبول تھا، لیکن ﴿كَفَرُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ۚ وَيَقۡذِفُوۡنَ ﴾ ’’اس سے پہلے تو انھوں نے اس سے کفر کیا تھا اور وہ پھینکتے تھے (تیر تکے)‘‘ ﴿بِالۡغَيۡبِ مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’دور دراز سے بن دیکھے ہی‘‘ اپنے باطل اندازوں کے ذریعے سے تاکہ اس طرح وہ حق کو سرنگوں کریں۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیر اندازی کرنے والے کا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑ سکتا اسی طرح یہ بہت محال ہے کہ باطل حق کو مغلوب کر سکے یا اس کو روک سکے۔ حق کی غفلت کے وقت باطل ایک مرتبہ حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آکر باطل کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے۔
[54]﴿وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے درمیان اور ان کی لذات و شہوات، مال و اولاد، ان کی فوجوں اور خدم و حشم کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی جائیں گی۔ وہ اکیلے اکیلے اپنے اعمال کے ساتھ اسی طرح حاضر ہوں گے جس طرح انھیں اکیلے پیدا کیا گیا تھا اور جن چیزوں کے وہ مالک تھے انھیں اپنے پیچھے چھوڑ آئیں گے۔ ﴿كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ ﴾ ’’جیسے ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا تھا‘‘ گزشتہ قوموں میں سے۔ جب ان پر ہلاکت خیز عذاب نازل ہوا تو ان کے اور ان کی دل پسند چیزوں کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی گئیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِيۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ ﴾ ’’بے شک وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ جو انھیں بدگمانی اور دلی قلق میں مبتلا کرتا تھا ، اس لیے وہ ایمان نہ لائے اور جب ان سے توبہ کے لیے کہا گیا تو انھوں نے توبہ نہ کی۔
34:53وَقَدۡ كَفَرُواْ بِهِۦ مِن قَبۡلُۖ وَيَقۡذِفُونَ بِٱلۡغَيۡبِ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ
اور کاش کہ آپ دیکھیں! جب وہ پریشان ہوں گے، تو نہ بچ سکیں گے، اور پکڑ لیے جائیں گے وہ نزدیک جگہ ہی سے (51) اور وہ کہیں گے، ہم ایمان لے آئے ہیں اس پر، اور کہا ں ان کے لیے ہوگا حاصل کرنا (ایمان کا اتنی) دور جگہ سے(52) حالانکہ انکار کیا تھا انھوں نے ساتھ اس کےاس سے پہلے (دنیا میں) اور پھینکتے رہے بن دیکھے (نشانے پر) دور جگہ سے ہی(53) اور آڑ کر دی جائے گی ان کے درمیان اور درمیان ان چیزوں کے جو وہ چاہیں گے، جیسے کیا گیاان جیسے کام کرنے والوں کے ساتھ اس سے پہلے، بلاشبہ وہ تھے ایسے شک میں (جو) اضطراب میں ڈالنے والا تھا(54)
[51] اللہ تبارک فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں‘‘ اے رسول! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال ﴿اِذۡ فَزِعُوۡا﴾ ’’جب وہ گبھرائے ہوئے ہوں گے‘‘ عذاب اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انھوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب ان کے لیے عذاب کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ تو ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ ہو گی نہ وہ بچ ہی سکیں گے ﴿وَاُخِذُوۡا مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اور وہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے بلکہ ان کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
[52]﴿وَّقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ پکار اٹھیں گے‘‘ اسی حالت میں، کہ ﴿اٰمَنَّا ﴾ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ ﴾ ’’اب انھیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا‘‘ ﴿مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ ’’اتنے دور کے مقام سے‘‘ اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہو گئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہو گیا ہے۔
[53] اگر یہ لوگ بروقت ایمان لائے ہوتے تو ان کا ایمان مقبول تھا، لیکن ﴿كَفَرُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ۚ وَيَقۡذِفُوۡنَ ﴾ ’’اس سے پہلے تو انھوں نے اس سے کفر کیا تھا اور وہ پھینکتے تھے (تیر تکے)‘‘ ﴿بِالۡغَيۡبِ مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’دور دراز سے بن دیکھے ہی‘‘ اپنے باطل اندازوں کے ذریعے سے تاکہ اس طرح وہ حق کو سرنگوں کریں۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیر اندازی کرنے والے کا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑ سکتا اسی طرح یہ بہت محال ہے کہ باطل حق کو مغلوب کر سکے یا اس کو روک سکے۔ حق کی غفلت کے وقت باطل ایک مرتبہ حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آکر باطل کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے۔
[54]﴿وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے درمیان اور ان کی لذات و شہوات، مال و اولاد، ان کی فوجوں اور خدم و حشم کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی جائیں گی۔ وہ اکیلے اکیلے اپنے اعمال کے ساتھ اسی طرح حاضر ہوں گے جس طرح انھیں اکیلے پیدا کیا گیا تھا اور جن چیزوں کے وہ مالک تھے انھیں اپنے پیچھے چھوڑ آئیں گے۔ ﴿كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ ﴾ ’’جیسے ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا تھا‘‘ گزشتہ قوموں میں سے۔ جب ان پر ہلاکت خیز عذاب نازل ہوا تو ان کے اور ان کی دل پسند چیزوں کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی گئیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِيۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ ﴾ ’’بے شک وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ جو انھیں بدگمانی اور دلی قلق میں مبتلا کرتا تھا ، اس لیے وہ ایمان نہ لائے اور جب ان سے توبہ کے لیے کہا گیا تو انھوں نے توبہ نہ کی۔
34:54وَحِيلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡيَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ فِي شَكّٖ مُّرِيبِۭ
اور کاش کہ آپ دیکھیں! جب وہ پریشان ہوں گے، تو نہ بچ سکیں گے، اور پکڑ لیے جائیں گے وہ نزدیک جگہ ہی سے (51) اور وہ کہیں گے، ہم ایمان لے آئے ہیں اس پر، اور کہا ں ان کے لیے ہوگا حاصل کرنا (ایمان کا اتنی) دور جگہ سے(52) حالانکہ انکار کیا تھا انھوں نے ساتھ اس کےاس سے پہلے (دنیا میں) اور پھینکتے رہے بن دیکھے (نشانے پر) دور جگہ سے ہی(53) اور آڑ کر دی جائے گی ان کے درمیان اور درمیان ان چیزوں کے جو وہ چاہیں گے، جیسے کیا گیاان جیسے کام کرنے والوں کے ساتھ اس سے پہلے، بلاشبہ وہ تھے ایسے شک میں (جو) اضطراب میں ڈالنے والا تھا(54)
[51] اللہ تبارک فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں‘‘ اے رسول! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال ﴿اِذۡ فَزِعُوۡا﴾ ’’جب وہ گبھرائے ہوئے ہوں گے‘‘ عذاب اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انھوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب ان کے لیے عذاب کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ تو ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ ہو گی نہ وہ بچ ہی سکیں گے ﴿وَاُخِذُوۡا مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اور وہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے بلکہ ان کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
[52]﴿وَّقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ پکار اٹھیں گے‘‘ اسی حالت میں، کہ ﴿اٰمَنَّا ﴾ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ ﴾ ’’اب انھیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا‘‘ ﴿مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ ’’اتنے دور کے مقام سے‘‘ اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہو گئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہو گیا ہے۔
[53] اگر یہ لوگ بروقت ایمان لائے ہوتے تو ان کا ایمان مقبول تھا، لیکن ﴿كَفَرُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ۚ وَيَقۡذِفُوۡنَ ﴾ ’’اس سے پہلے تو انھوں نے اس سے کفر کیا تھا اور وہ پھینکتے تھے (تیر تکے)‘‘ ﴿بِالۡغَيۡبِ مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’دور دراز سے بن دیکھے ہی‘‘ اپنے باطل اندازوں کے ذریعے سے تاکہ اس طرح وہ حق کو سرنگوں کریں۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیر اندازی کرنے والے کا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑ سکتا اسی طرح یہ بہت محال ہے کہ باطل حق کو مغلوب کر سکے یا اس کو روک سکے۔ حق کی غفلت کے وقت باطل ایک مرتبہ حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آکر باطل کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے۔
[54]﴿وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے درمیان اور ان کی لذات و شہوات، مال و اولاد، ان کی فوجوں اور خدم و حشم کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی جائیں گی۔ وہ اکیلے اکیلے اپنے اعمال کے ساتھ اسی طرح حاضر ہوں گے جس طرح انھیں اکیلے پیدا کیا گیا تھا اور جن چیزوں کے وہ مالک تھے انھیں اپنے پیچھے چھوڑ آئیں گے۔ ﴿كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ ﴾ ’’جیسے ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا تھا‘‘ گزشتہ قوموں میں سے۔ جب ان پر ہلاکت خیز عذاب نازل ہوا تو ان کے اور ان کی دل پسند چیزوں کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی گئیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِيۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ ﴾ ’’بے شک وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ جو انھیں بدگمانی اور دلی قلق میں مبتلا کرتا تھا ، اس لیے وہ ایمان نہ لائے اور جب ان سے توبہ کے لیے کہا گیا تو انھوں نے توبہ نہ کی۔