al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 27 · 93 verses
27:1طسٓۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡقُرۡءَانِ وَكِتَابٖ مُّبِينٍ
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
27:2هُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
27:3ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
27:4إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُونَ
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
27:5أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡعَذَابِ وَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡأَخۡسَرُونَ
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
27:6وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلۡقُرۡءَانَ مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔
[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔
[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔
[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
27:7إِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهۡلِهِۦٓ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا سَـَٔاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ أَوۡ ءَاتِيكُم بِشِهَابٖ قَبَسٖ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
27:8فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِيَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِي ٱلنَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
27:9يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
27:10وَأَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰ لَا تَخَفۡ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
27:11إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنَۢا بَعۡدَ سُوٓءٖ فَإِنِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
27:12وَأَدۡخِلۡ يَدَكَ فِي جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٖۖ فِي تِسۡعِ ءَايَٰتٍ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
27:13فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ ءَايَٰتُنَا مُبۡصِرَةٗ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
27:14وَجَحَدُواْ بِهَا وَٱسۡتَيۡقَنَتۡهَآ أَنفُسُهُمۡ ظُلۡمٗا وَعُلُوّٗاۚ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)
[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔
[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔
[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔
[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔
[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔
[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔
[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔
[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔
27:15وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ عِلۡمٗاۖ وَقَالَا ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٖ مِّنۡ عِبَادِهِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:16وَوَرِثَ سُلَيۡمَٰنُ دَاوُۥدَۖ وَقَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنطِقَ ٱلطَّيۡرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيۡءٍۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡمُبِينُ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:17وَحُشِرَ لِسُلَيۡمَٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ وَٱلطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:18حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوۡاْ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٞ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمۡلُ ٱدۡخُلُواْ مَسَٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمَٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:19فَتَبَسَّمَ ضَاحِكٗا مِّن قَوۡلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَدۡخِلۡنِي بِرَحۡمَتِكَ فِي عِبَادِكَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:20وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيۡرَ فَقَالَ مَالِيَ لَآ أَرَى ٱلۡهُدۡهُدَ أَمۡ كَانَ مِنَ ٱلۡغَآئِبِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:21لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٗا شَدِيدًا أَوۡ لَأَاْذۡبَحَنَّهُۥٓ أَوۡ لَيَأۡتِيَنِّي بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:22فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيدٖ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهِۦ وَجِئۡتُكَ مِن سَبَإِۭ بِنَبَإٖ يَقِينٍ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:23إِنِّي وَجَدتُّ ٱمۡرَأَةٗ تَمۡلِكُهُمۡ وَأُوتِيَتۡ مِن كُلِّ شَيۡءٖ وَلَهَا عَرۡشٌ عَظِيمٞ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:24وَجَدتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُونَ لِلشَّمۡسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:25أَلَّاۤ يَسۡجُدُواْۤ لِلَّهِ ٱلَّذِي يُخۡرِجُ ٱلۡخَبۡءَ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُونَ وَمَا تُعۡلِنُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:26ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ۩
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:27۞قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقۡتَ أَمۡ كُنتَ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:28ٱذۡهَب بِّكِتَٰبِي هَٰذَا فَأَلۡقِهۡ إِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَٱنظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:29قَالَتۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ إِنِّيٓ أُلۡقِيَ إِلَيَّ كِتَٰبٞ كَرِيمٌ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:30إِنَّهُۥ مِن سُلَيۡمَٰنَ وَإِنَّهُۥ بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:31أَلَّا تَعۡلُواْ عَلَيَّ وَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:32قَالَتۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ أَفۡتُونِي فِيٓ أَمۡرِي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمۡرًا حَتَّىٰ تَشۡهَدُونِ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:33قَالُواْ نَحۡنُ أُوْلُواْ قُوَّةٖ وَأُوْلُواْ بَأۡسٖ شَدِيدٖ وَٱلۡأَمۡرُ إِلَيۡكِ فَٱنظُرِي مَاذَا تَأۡمُرِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:34قَالَتۡ إِنَّ ٱلۡمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرۡيَةً أَفۡسَدُوهَا وَجَعَلُوٓاْ أَعِزَّةَ أَهۡلِهَآ أَذِلَّةٗۚ وَكَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:35وَإِنِّي مُرۡسِلَةٌ إِلَيۡهِم بِهَدِيَّةٖ فَنَاظِرَةُۢ بِمَ يَرۡجِعُ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:36فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمَٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٖ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيۡرٞ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُمۚ بَلۡ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:37ٱرۡجِعۡ إِلَيۡهِمۡ فَلَنَأۡتِيَنَّهُم بِجُنُودٖ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخۡرِجَنَّهُم مِّنۡهَآ أَذِلَّةٗ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:38قَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ أَيُّكُمۡ يَأۡتِينِي بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ أَن يَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:39قَالَ عِفۡرِيتٞ مِّنَ ٱلۡجِنِّ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبۡلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَۖ وَإِنِّي عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٞ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:40قَالَ ٱلَّذِي عِندَهُۥ عِلۡمٞ مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبۡلَ أَن يَرۡتَدَّ إِلَيۡكَ طَرۡفُكَۚ فَلَمَّا رَءَاهُ مُسۡتَقِرًّا عِندَهُۥ قَالَ هَٰذَا مِن فَضۡلِ رَبِّي لِيَبۡلُوَنِيٓ ءَأَشۡكُرُ أَمۡ أَكۡفُرُۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيّٞ كَرِيمٞ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:41قَالَ نَكِّرُواْ لَهَا عَرۡشَهَا نَنظُرۡ أَتَهۡتَدِيٓ أَمۡ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَهۡتَدُونَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:42فَلَمَّا جَآءَتۡ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرۡشُكِۖ قَالَتۡ كَأَنَّهُۥ هُوَۚ وَأُوتِينَا ٱلۡعِلۡمَ مِن قَبۡلِهَا وَكُنَّا مُسۡلِمِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:43وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعۡبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ إِنَّهَا كَانَتۡ مِن قَوۡمٖ كَٰفِرِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:44قِيلَ لَهَا ٱدۡخُلِي ٱلصَّرۡحَۖ فَلَمَّا رَأَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةٗ وَكَشَفَتۡ عَن سَاقَيۡهَاۚ قَالَ إِنَّهُۥ صَرۡحٞ مُّمَرَّدٞ مِّن قَوَارِيرَۗ قَالَتۡ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي وَأَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمَٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور البتہ تحقیق دیا تھا ہم نے داؤد اور سلیمان کو (ایک خاص) علم اور (ان) دونوں نے کہا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے فضیلت دی ہمیں اوپر بہتوں کے اپنے مؤمن بندوں میں سے (15) اور وارث بنا سلیمان داؤد کا اور اس نے کہا، اے لوگوک! سکھلائے گئے ہیں ہم بولی پرندوں کی اوردیے گئے ہیں ہم ہر چیز، بلاشبہ یہ البتہ (اللہ کا) فضل ہے ظاہر (16) اور اکٹھے کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اورانسانوں اور پرندوں سے پس وہ (صف بندی کے لیے) الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے (17) حتی کہ جب وہ آئے وادی پرچیونٹیوں کی تو کہا ایک چیونٹی نے، اے چیونٹیو! داخل ہو جاؤ تم اپنے بلوں میں ، نہ کچل ڈالیں تمھیں سلیمان اور اس کے لشکر درآنحالیکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں (18) پس وہ مسکرایا ہنستے ہوئے اس (چیونٹی) کی بات سے، کہا اے میرے رب! تو فیق دے تو مجھ کو یہ کہ شکر کروں میں تیری نعمت کا وہ جو تونے انعام کیا مجھ پر اور میرے والدین پراور یہ کہ میں عمل کروں نیک کہ تو پسند کرے اس کواور داخل کر تو مجھے ساتھ اپنی رحمت کے اپنے نیک بندوں میں (19) اور تفتیش کی اس نے پرندوں کی تو کہا، کیا ہے مجھے کہ نہیں دیکھتا میں ہدہدکو؟ یا ہے وہ غائب ہونے والوں میں سے؟ (20) البتہ ضرور سزا دوں گا میں اسے سزا سخت یا ضرور ذبح کر دوں گا میں اسے یا وہ لائے میرے پاس واضح دلیل (21) پس ٹھہرا وہ تھوڑی ہی دیر، (کہ وہ آگیا) اور اس نے کہا، میں نے معلوم کیا ہے وہ بات کہ نہیں معلوم کیا آپ نے اسے اور لایا ہوں آپ کے پاس سَبَا سے ایک خبر یقینی (22) بلاشبہ میں نے پایا ایک عورت کو جو حکومت کرتی ہے ان پر اور دی گئی ہے وہ (ضرورت کی) ہر چیزاور اس کا تخت ہے عظیم الشان (23) پایا میں نے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ کےاور مزین کر دیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس روک دیا ہے اس نے ان کو راہ (حق) سے پس وہ نہیں ہدایت پاتے (24) یہ کہ سجدہ کریں وہ اللہ کو وہ جو نکالتا ہے (ان) چھپی چیزوں کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اورجو تم ظاہر کرتے ہو (25) اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رب ہے عرش عظیم کا (26) سلیمان نے کہا، یقینا ہم دیکھیں گے آیا سچ کہا تو نے یا ہے تو جھوٹوں میں سے؟ (27) لے جا تو میرا خط یہ، پس ڈال تو اس کو ان کی طرف، پھر تو ہٹ جانا ان سے، پس دیکھ تو کیا جواب دیتے ہیں وہ؟ (28) بلقیس نے کہا اے درباریو! بلاشبہ، ڈالا گیا ہے میری طرف خط عزت والا (29) یقینا ہے وہ سلیمان کی طرف سے اور وہ ہے اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے (30) یہ کہ نہ سرکشی کرو تم میرے خلاف اور آجاؤ میرے پاس فرماں بردار بن کر (31) بلقیس نے کہا، اے درباریو! تم مشورہ دو مجھے میرے (اس) معاملے میں نہیں ہوں میں فیصلہ کرتی کسی کام کا حتی کہ تم میرے پاس حاضر ہو (32) انھوں نے کہا، ہم قوت والے ہیں اور جنگجو ہیں سخت اور (لیکن) تمام اختیار تیرے پاس ہے،پس دیکھ لے تو کیا حکم دیتی ہے (ہمیں )(33) اس نے کہا ، بلاشبہ بادشاہ، جب داخل ہوتے ہیں وہ کسی بستی میں تو خراب کر دیتے ہیں اس کو اور کر دیتے ہیں وہ اس کے معزز لوگوں کو ذلیل اور اسی طرح یہ (بھی)کریں گے (34) اور بے شک میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ ہدیہ، پھر دیکھتی ہوں ، کس چیز (جواب) کے ساتھ لوٹتے ہیں قاصد؟ (35) پس جب آیا قاصد سلیمان کے پاس تو سلیمان نے کہا، کیا بڑھاتے ہو تم مجھے ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھے اللہ نے، بہت بہتر ہے اس سے جو اس نے تمھیں دیا ہےبلکہ تم خودہی اپنے ہدیے سے خوش ہوتے ہو گے (36) لوٹ جا تو ان کی طرف پس ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس ایسے لشکر کہ نہیں طاقت ہوگی ان کو ان سے (لڑنے کی) اور ضرور نکال دیں گے ہم انھیں اس جگہ سے ذلیل کر کے اس حال میں کہ وہ خوار ہوں گے (37) سلیمان نے کہا، اے اہل دربار! کون تم میں سے لائے گا میرے پاس تخت اس (بلقیس) کا پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس مسلمان ہو کر؟ (38) کہا ایک دیو نے جنوں میں سے، میں لے آؤں گا وہ آپ کے پاس پہلے اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی (اس)جگہ سے اوربلاشبہ میں البتہ نہایت طاقت ور، امین ہوں (39) کہا اس شخص نے جس کے پاس تھا علم کتاب کا، میں لے آتا ہوں آپ کے پاس وہ (تخت) پہلے اس سے کہ جھپکے آپ کی آنکھ پس جب سلیمان نے دیکھا اسے رکھا ہوا اپنے سامنے تو کہا، یہ ہے فضل سے میرے رب کے تاکہ وہ آزمائے مجھے آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو یقینا شکر کرتا ہے وہ اپنی ذات ہی کے لیے، جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو بلاشبہ میرارب بڑا بے پروا ہے، نہایت کرم والا (40)سلیمان نے کہا، بدل دو تم اس کے لیے اس کا تخت ہم دیکھیں گے آیا راہ پاتی ہے وہ یا ہے وہ ان لوگوں میں سے جو نہیں راہ پاتے (41) پس جب آئی وہ (ملکہ) تو کہا (پوچھا) گا (اس سے) کیا اسی طرح ہے تیر اتخت؟اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے اوردیے گئے تھے ہم علم اس سے پہلے ہی اور تھے ہم مسلمان (42) اور روکا ہوا تھا اسے (اللہ کی عبادت سے) اس چیز نے جس کی تھی وہ عبادت کرتی سوائے اللہ کے، اس لیے کہ تھی وہ کافروں کی قوم میں سے (43) کہا گیا اسے، داخل ہو تو (اس) محل میں ، پس جب دیکھا اس نے اسے تو گمان کیا اسے گہرا پانی اور کھول دیں اس نے اپنی دنوں پنڈلیاں ، سلیمان نے کہا، بلاشبہ یہ تو محل ہے جڑا ہوا شیشوں سے، اس نے کہا، اے میرے رب! بے شک (اب تک) میں نے ظلم کیا اپنی جان پراور (اب) میں مطیع ہو گئی ساتھ سلیمان کے واسطے اللہ رب العالمین کے (44)
[15] اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمانi پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے انھیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ’’علم‘‘ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ١ۚ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَۗۙ۰۰فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾(الانبیاء:21؍78، 79) ’’اور یاد کیجیے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم سے ہم نے دونوں ہی کو سرفراز کیا تھا۔‘‘ ﴿ وَقَالَا ﴾ ان دونوں نے اس احسان پر کہ اللہ نے ان کو تعلیم دی، اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے کہا:﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّنۡ عِبَادِهِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔‘‘ پس ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے انھیں ایمان سے بہرہ مند کیا اور انھیں سعادت مند لوگوں میں شامل کیا اور وہ ان کے خواص میں شمار ہوتے ہیں … اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے چار درجے ہیں ۔ صالحین، ان سے اوپر شہداء، ان سے اوپر صدیقین اور سب سے اوپر انبیاء۔ داؤد اور سلیمانi اللہ تعالیٰ کے خاص رسولوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا درجہ پانچ اولوالعزم رسولوں کے درجے سے کم تر ہے۔ تاہم وہ جملہ اصحاب فضیلت انبیاء ورسل میں شمار ہوتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت تعظیم کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کی بہت زیادہ مدح و توصیف بیان کی ہے۔ پس انھوں نے اس منزلت کے عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ یہ بندے کی سعادت کا عنوان ہے کہ وہ تمام دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور یہ ایمان رکھے کہ تمام نعمتیں صرف اس کے رب کی طرف سے عطا ہوتی ہیں ۔ وہ ان نعمتوں پر فخر کرے نہ ان پر تکبر کرے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ نعمتیں اس پر یہ لازم کرتی ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کیا جائے۔
[16] پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمانi کی مشترک مدح کی پھر سلیمانu کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤدu سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ ﴾ ’’اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔‘‘ یعنی وہ حضرت داؤدu کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾(الانبیاء:21؍79) ’’پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمانu نے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ ﴾ ’’لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔‘‘ سلیمانu پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمانu کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں ، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی:﴿ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ ﴾(صٓ:38؍35) ’’اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا﴾ ’’بے شک یہ۔‘‘ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’البتہ وہ صریح فضل ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
[17]﴿ وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’اور سلیمان (u) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں ، جنوں ، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمانu کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هٰؔذَا عَطَآؤُنَا فَامۡنُنۡ اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾(صٓ:38؍39) ’’یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں ۔‘‘ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں ۔
[18] پس سلیمانu یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔‘‘ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان (u) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں ۔ یہ چیونٹی سلیمانu، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
[19] حضرت سلیمانu نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنۡ قَوۡلِهَا ﴾ ’’پس وہ ( سلیمانu) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔‘‘ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں ۔ سلیمانu نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ اَوۡزِعۡنِيۡۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ ﴾ ’’کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ، ان کا شکر کروں ۔‘‘ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمانu نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا:﴿ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىهُ ﴾ ’’اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔‘‘ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔ ﴿وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ ﴾ ’’اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔‘‘ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اپنے جملہ نیک بندوں میں ‘‘ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمانu کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمانu کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّيۡرَ ﴾ ’’اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔‘‘ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمانu نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ’’سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا…‘‘ یا عبارت اس طرح ہوتی ’’سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ’’ہدہد کے بارے میں تحقیق کی‘‘ اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمانu پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں ، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں ۔ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں ۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں ۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمانu کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا:﴿ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الۡهُدۡهُدَ اَمۡ كَانَ مِنَ الۡغَآىِٕبِيۡنَ۠﴾ ’’کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟‘‘ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
[21] تب سلیمانu ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيۡدًا ﴾ ’’میں اسے سخت سزا دوں گا۔‘‘ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّهٗۤ اَوۡ لَيَاۡتِيَنِّيۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔‘‘ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
[22]﴿فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی‘‘ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمانu کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمانu کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ ﴾ ’’میں کچھ علم رکھتا ہوں ، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔‘‘ ﴿ وَجِئۡتُكَ مِنۡ سَبَاٍ﴾ ’’اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں ۔‘‘ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍ يَّقِيۡنٍ ﴾ ’’ایک یقینی خبر۔‘‘ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں ۔
[23] پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّيۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَةً تَمۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔‘‘ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے‘‘ جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرۡشٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے‘‘ جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
[24]﴿ وَجَدۡتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لوگ مشرک ہیں اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر دیا ہے‘‘ انھیں اپنے اعمال حق نظر آتے ہیں ﴿ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔‘‘ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف حق ہے اس کی ہدایت کی توقع نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس کا یہ عقیدہ بدل نہ جائے۔
[25]﴿ اَلَّا يَسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ يُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو آسمان کے کناروں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی مخلوقات، نباتات کے بیج اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان میں چھپی ہوئی چیزوں کو بارش برسا کر اور نباتات اگا کر ظاہر کرتا ہے۔ وہ زمین میں پوشیدہ اشیاء کو اس وقت بھی ظاہر کرے گا جب وہ صور پھونکے گا اور مردوں کو زمین سے اٹھا کھڑا کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزا یا سزا دے ﴿ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔‘‘
[26]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔‘‘ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں ۔ ﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔‘‘ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
[28,27] جب ہدہد نے سلیمانu کو یہ عظیم خبر سنائی تو وہ سزا سے بچ گیا اور حضرت سلیمانu حیران ہوئے کہ یہ بات ان سے کیسے چھپی رہ گئی۔ آپ نے ہدہد کی عقل اور دانائی کا اثبات کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَ سَنَنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۰۰ اِذۡهَبۡ بِّكِتٰبِيۡ هٰؔذَا﴾ ’’اچھا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے، یہ میرا خط لے جا۔‘‘ اس خط کے مندرجات کا عنقریب ذکر آئے گا۔ ﴿ فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ۔‘‘ یعنی ذرا دور ہٹ جا ﴿ فَانۡظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی تجھے کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں ۔
[31-29] ہدہد یہ خط لے گیا اور ملکہ کے سامنے پھینک دیا، اس نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اُلۡقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’میری طرف ایک نامۂ گرامی ڈالا گیا ہے۔‘‘ یعنی روئے زمین کے سب سے بڑے بادشاہ کی طرف سے ایک جلیل القدر خط بھیجا گیا ہے، پھر اس نے خط کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ۰۰ اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَيَّ وَاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔‘‘ یعنی مجھ سے بڑے بننے کی کوشش نہ کرو بلکہ مطیع ہو کر میری حکمرانی کو قبول کر لو میرے احکام کو تسلیم کر کے فرماں برداری کے ساتھ میرے پاس آؤ۔ یہ خط مکمل طور پر واضح ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مختصر تھا کیونکہ یہ خط ان کو اپنی سرکشی، اپنے اس حال پر باقی رہنے سے روکنے، سلیمانu کے حکم کی اطاعت، ان کی حکمرانی قبول کرنے، مطیع ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کو متضمن تھا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کی ابتدا میں پوری بسم اللہ لکھنا اور خط کے عنوان وغیرہ میں اپنے نام سے ابتدا کرنا مستحب ہے۔
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:45وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمۡ فَرِيقَانِ يَخۡتَصِمُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:46قَالَ يَٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِۖ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُونَ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:47قَالُواْ ٱطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ قَالَ طَـٰٓئِرُكُمۡ عِندَ ٱللَّهِۖ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تُفۡتَنُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:48وَكَانَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٖ يُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:49قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهۡلَهُۥ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ أَهۡلِهِۦ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:50وَمَكَرُواْ مَكۡرٗا وَمَكَرۡنَا مَكۡرٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:51فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ أَنَّا دَمَّرۡنَٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ أَجۡمَعِينَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:52فَتِلۡكَ بُيُوتُهُمۡ خَاوِيَةَۢ بِمَا ظَلَمُوٓاْۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:53وَأَنجَيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:54وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ
اور (یاد کریں ) لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا آتے ہو تم بے حیائی (بدفعلی) کو اس حال میں کہ تم دیکھتے ہو (54) کیا بے شک تم البتہ آتے ہو مردوں کے پاس جنسی خواہش کی تسکین کے لیے چھوڑ کر (اپنی) عورتوں کوبلکہ تم لوگ جہالت کا ارتکاب کرتے ہو (55) پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ انھوں نے کہا، نکال دو تم لوط کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے، بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف بنتے ہیں (56) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سوائے اس کی بیوی کے، فیصلہ کیا تھا ہم نے اس کے بابت (کہ ہو گی وہ) پیچھے رہنے والوں میں سے (57) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش پس بری تھی بارش ڈرائے گئے لوگوں کی (58)
[54] ہمارے بندے اور رسول لوط (u) کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے۔ جب انھوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ﴾ ’’کیا تم بے حیائی کرتے ہو؟‘‘ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور تم دیکھتے ہو‘‘ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو۔ تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا۔
[55]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَىِٕنَّكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ﴾ ’’کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔‘‘ یعنی تم اس حالت کو کیسے پہنچ گئے کہ تمھاری شہوت مردوں اور ان کی پیٹھوں ، جو کہ غلاظت و خباثت کا مقام ہیں ، کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور اللہ نے تمھارے لیے جو عورتیں اور ان کی پاکیزہ چیزیں پیدا کیں ، تم نے ان کو چھوڑ دیا جن کی طرف میلان نفوس کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ تمھارا معاملہ بالکل الٹ ہو گیا تم نے برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا دیا ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ تم جاہل لوگ ہو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے اور اس کے محارم کو توڑنے کی جسارت کرنے والے ہو۔
[56]﴿ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’آپ کی قوم کا جواب صرف یہ تھا۔‘‘ ان کا جواب قبولیت پر مبنی تھا نہ وہ گناہوں سے باز آئے اور نہ انھوں نے کوئی نصیحت ہی پکڑی۔ اس کے برعکس ان کا جواب تو عناد، مخالفت، اپنے نبی اور اپنے امانت دار رسول کو اس کے وطن اور شہر سے جلاوطن کرنے کی دھمکی پر مبنی تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو۔‘‘ گویا ان سے پوچھا گیا کہ تم لوطu کے گھرانے سے کیوں ناراض ہو ان کا وہ کون سا گناہ ہے جو ان کو بستی سے نکالنے کا موجب ہے۔ تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ مردوں کے ساتھ بدفعلی سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … انھوں نے بہترین نیکی کو بدترین برائی بنا دیا۔ انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ ان کے نبی نے ان کو جو نصیحت کی انھوں نے اس کی نافرمانی کی بلکہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ اسے اپنی بستی سے نکالنے کا ارادہ کر لیا، مصیبت کا دارومدار زبان پر ہوتا ہے، اس لیے کہنے لگے ﴿اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍82) ’’انھیں اپنی بستی سے نکال باہر کرو وہ بڑے پاکباز لوگ بنتے ہیں ‘‘ اور اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ تم خباثت اور گندگی میں لتھڑے ہوئے ہو۔ جو تمھاری بستی پر نزول عذاب اور جو اس بستی سے نکل جائے اس کی نجات کا تقاضا کرتی ہے۔
[58,57]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ٞ قَدَّرۡنٰهَا مِنَ الۡغٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔‘‘ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مہمانوں کی شکل میں فرشتے لوطu کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی قوم کو ان (خوبصورت) مہمانوں کی آمد کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ برائی کے ارادے سے لوطu کے پاس آئے۔ لوطu نے دروازہ بند کر لیا اور ان پر معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا، پھر فرشتوں نے لوطu کو صورت حال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ انھیں ان سے بچانے اور ان بدکاروں کو ہلاک کرنے آئے ہیں اور ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کی بیوی پر بھی وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو بستی والوں پر نازل ہو گا۔ لوطu اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل گئے اور بچ گئے اور صبح ہوتے ہی یک دم عذاب نے بستی کو آ لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور اوندھا کر کے اوپر کے حصے کو نیچے کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تابڑ توڑ کھنگر کے پتھر برسائے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا:﴿وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پس (جو) مینہ ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر برسایا گیا وہ بہت برا تھا۔‘‘ یعنی بہت بری تھی وہ بارش جو ان پر برسائی گئی اور بہت برا تھا وہ عذاب جو ان پر نازل کیا گیا۔ ان کو ڈرایا گیا اور خوف دلایا گیا مگر وہ بدکاری سے رکے نہ باز آئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر انتہائی سخت عذاب نازل کر دیا۔
27:55أَئِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تَجۡهَلُونَ
اور (یاد کریں ) لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا آتے ہو تم بے حیائی (بدفعلی) کو اس حال میں کہ تم دیکھتے ہو (54) کیا بے شک تم البتہ آتے ہو مردوں کے پاس جنسی خواہش کی تسکین کے لیے چھوڑ کر (اپنی) عورتوں کوبلکہ تم لوگ جہالت کا ارتکاب کرتے ہو (55) پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ انھوں نے کہا، نکال دو تم لوط کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے، بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف بنتے ہیں (56) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سوائے اس کی بیوی کے، فیصلہ کیا تھا ہم نے اس کے بابت (کہ ہو گی وہ) پیچھے رہنے والوں میں سے (57) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش پس بری تھی بارش ڈرائے گئے لوگوں کی (58)
[54] ہمارے بندے اور رسول لوط (u) کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے۔ جب انھوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ﴾ ’’کیا تم بے حیائی کرتے ہو؟‘‘ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور تم دیکھتے ہو‘‘ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو۔ تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا۔
[55]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَىِٕنَّكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ﴾ ’’کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔‘‘ یعنی تم اس حالت کو کیسے پہنچ گئے کہ تمھاری شہوت مردوں اور ان کی پیٹھوں ، جو کہ غلاظت و خباثت کا مقام ہیں ، کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور اللہ نے تمھارے لیے جو عورتیں اور ان کی پاکیزہ چیزیں پیدا کیں ، تم نے ان کو چھوڑ دیا جن کی طرف میلان نفوس کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ تمھارا معاملہ بالکل الٹ ہو گیا تم نے برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا دیا ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ تم جاہل لوگ ہو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے اور اس کے محارم کو توڑنے کی جسارت کرنے والے ہو۔
[56]﴿ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’آپ کی قوم کا جواب صرف یہ تھا۔‘‘ ان کا جواب قبولیت پر مبنی تھا نہ وہ گناہوں سے باز آئے اور نہ انھوں نے کوئی نصیحت ہی پکڑی۔ اس کے برعکس ان کا جواب تو عناد، مخالفت، اپنے نبی اور اپنے امانت دار رسول کو اس کے وطن اور شہر سے جلاوطن کرنے کی دھمکی پر مبنی تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو۔‘‘ گویا ان سے پوچھا گیا کہ تم لوطu کے گھرانے سے کیوں ناراض ہو ان کا وہ کون سا گناہ ہے جو ان کو بستی سے نکالنے کا موجب ہے۔ تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ مردوں کے ساتھ بدفعلی سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … انھوں نے بہترین نیکی کو بدترین برائی بنا دیا۔ انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ ان کے نبی نے ان کو جو نصیحت کی انھوں نے اس کی نافرمانی کی بلکہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ اسے اپنی بستی سے نکالنے کا ارادہ کر لیا، مصیبت کا دارومدار زبان پر ہوتا ہے، اس لیے کہنے لگے ﴿اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍82) ’’انھیں اپنی بستی سے نکال باہر کرو وہ بڑے پاکباز لوگ بنتے ہیں ‘‘ اور اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ تم خباثت اور گندگی میں لتھڑے ہوئے ہو۔ جو تمھاری بستی پر نزول عذاب اور جو اس بستی سے نکل جائے اس کی نجات کا تقاضا کرتی ہے۔
[58,57]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ٞ قَدَّرۡنٰهَا مِنَ الۡغٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔‘‘ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مہمانوں کی شکل میں فرشتے لوطu کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی قوم کو ان (خوبصورت) مہمانوں کی آمد کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ برائی کے ارادے سے لوطu کے پاس آئے۔ لوطu نے دروازہ بند کر لیا اور ان پر معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا، پھر فرشتوں نے لوطu کو صورت حال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ انھیں ان سے بچانے اور ان بدکاروں کو ہلاک کرنے آئے ہیں اور ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کی بیوی پر بھی وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو بستی والوں پر نازل ہو گا۔ لوطu اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل گئے اور بچ گئے اور صبح ہوتے ہی یک دم عذاب نے بستی کو آ لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور اوندھا کر کے اوپر کے حصے کو نیچے کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تابڑ توڑ کھنگر کے پتھر برسائے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا:﴿وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پس (جو) مینہ ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر برسایا گیا وہ بہت برا تھا۔‘‘ یعنی بہت بری تھی وہ بارش جو ان پر برسائی گئی اور بہت برا تھا وہ عذاب جو ان پر نازل کیا گیا۔ ان کو ڈرایا گیا اور خوف دلایا گیا مگر وہ بدکاری سے رکے نہ باز آئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر انتہائی سخت عذاب نازل کر دیا۔
27:56۞فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوٓاْ ءَالَ لُوطٖ مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ
اور (یاد کریں ) لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا آتے ہو تم بے حیائی (بدفعلی) کو اس حال میں کہ تم دیکھتے ہو (54) کیا بے شک تم البتہ آتے ہو مردوں کے پاس جنسی خواہش کی تسکین کے لیے چھوڑ کر (اپنی) عورتوں کوبلکہ تم لوگ جہالت کا ارتکاب کرتے ہو (55) پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ انھوں نے کہا، نکال دو تم لوط کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے، بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف بنتے ہیں (56) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سوائے اس کی بیوی کے، فیصلہ کیا تھا ہم نے اس کے بابت (کہ ہو گی وہ) پیچھے رہنے والوں میں سے (57) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش پس بری تھی بارش ڈرائے گئے لوگوں کی (58)
[54] ہمارے بندے اور رسول لوط (u) کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے۔ جب انھوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ﴾ ’’کیا تم بے حیائی کرتے ہو؟‘‘ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور تم دیکھتے ہو‘‘ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو۔ تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا۔
[55]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَىِٕنَّكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ﴾ ’’کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔‘‘ یعنی تم اس حالت کو کیسے پہنچ گئے کہ تمھاری شہوت مردوں اور ان کی پیٹھوں ، جو کہ غلاظت و خباثت کا مقام ہیں ، کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور اللہ نے تمھارے لیے جو عورتیں اور ان کی پاکیزہ چیزیں پیدا کیں ، تم نے ان کو چھوڑ دیا جن کی طرف میلان نفوس کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ تمھارا معاملہ بالکل الٹ ہو گیا تم نے برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا دیا ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ تم جاہل لوگ ہو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے اور اس کے محارم کو توڑنے کی جسارت کرنے والے ہو۔
[56]﴿ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’آپ کی قوم کا جواب صرف یہ تھا۔‘‘ ان کا جواب قبولیت پر مبنی تھا نہ وہ گناہوں سے باز آئے اور نہ انھوں نے کوئی نصیحت ہی پکڑی۔ اس کے برعکس ان کا جواب تو عناد، مخالفت، اپنے نبی اور اپنے امانت دار رسول کو اس کے وطن اور شہر سے جلاوطن کرنے کی دھمکی پر مبنی تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو۔‘‘ گویا ان سے پوچھا گیا کہ تم لوطu کے گھرانے سے کیوں ناراض ہو ان کا وہ کون سا گناہ ہے جو ان کو بستی سے نکالنے کا موجب ہے۔ تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ مردوں کے ساتھ بدفعلی سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … انھوں نے بہترین نیکی کو بدترین برائی بنا دیا۔ انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ ان کے نبی نے ان کو جو نصیحت کی انھوں نے اس کی نافرمانی کی بلکہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ اسے اپنی بستی سے نکالنے کا ارادہ کر لیا، مصیبت کا دارومدار زبان پر ہوتا ہے، اس لیے کہنے لگے ﴿اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍82) ’’انھیں اپنی بستی سے نکال باہر کرو وہ بڑے پاکباز لوگ بنتے ہیں ‘‘ اور اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ تم خباثت اور گندگی میں لتھڑے ہوئے ہو۔ جو تمھاری بستی پر نزول عذاب اور جو اس بستی سے نکل جائے اس کی نجات کا تقاضا کرتی ہے۔
[58,57]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ٞ قَدَّرۡنٰهَا مِنَ الۡغٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔‘‘ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مہمانوں کی شکل میں فرشتے لوطu کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی قوم کو ان (خوبصورت) مہمانوں کی آمد کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ برائی کے ارادے سے لوطu کے پاس آئے۔ لوطu نے دروازہ بند کر لیا اور ان پر معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا، پھر فرشتوں نے لوطu کو صورت حال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ انھیں ان سے بچانے اور ان بدکاروں کو ہلاک کرنے آئے ہیں اور ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کی بیوی پر بھی وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو بستی والوں پر نازل ہو گا۔ لوطu اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل گئے اور بچ گئے اور صبح ہوتے ہی یک دم عذاب نے بستی کو آ لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور اوندھا کر کے اوپر کے حصے کو نیچے کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تابڑ توڑ کھنگر کے پتھر برسائے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا:﴿وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پس (جو) مینہ ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر برسایا گیا وہ بہت برا تھا۔‘‘ یعنی بہت بری تھی وہ بارش جو ان پر برسائی گئی اور بہت برا تھا وہ عذاب جو ان پر نازل کیا گیا۔ ان کو ڈرایا گیا اور خوف دلایا گیا مگر وہ بدکاری سے رکے نہ باز آئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر انتہائی سخت عذاب نازل کر دیا۔
27:57فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ قَدَّرۡنَٰهَا مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ
اور (یاد کریں ) لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا آتے ہو تم بے حیائی (بدفعلی) کو اس حال میں کہ تم دیکھتے ہو (54) کیا بے شک تم البتہ آتے ہو مردوں کے پاس جنسی خواہش کی تسکین کے لیے چھوڑ کر (اپنی) عورتوں کوبلکہ تم لوگ جہالت کا ارتکاب کرتے ہو (55) پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ انھوں نے کہا، نکال دو تم لوط کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے، بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف بنتے ہیں (56) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سوائے اس کی بیوی کے، فیصلہ کیا تھا ہم نے اس کے بابت (کہ ہو گی وہ) پیچھے رہنے والوں میں سے (57) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش پس بری تھی بارش ڈرائے گئے لوگوں کی (58)
[54] ہمارے بندے اور رسول لوط (u) کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے۔ جب انھوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ﴾ ’’کیا تم بے حیائی کرتے ہو؟‘‘ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور تم دیکھتے ہو‘‘ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو۔ تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا۔
[55]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَىِٕنَّكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ﴾ ’’کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔‘‘ یعنی تم اس حالت کو کیسے پہنچ گئے کہ تمھاری شہوت مردوں اور ان کی پیٹھوں ، جو کہ غلاظت و خباثت کا مقام ہیں ، کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور اللہ نے تمھارے لیے جو عورتیں اور ان کی پاکیزہ چیزیں پیدا کیں ، تم نے ان کو چھوڑ دیا جن کی طرف میلان نفوس کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ تمھارا معاملہ بالکل الٹ ہو گیا تم نے برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا دیا ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ تم جاہل لوگ ہو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے اور اس کے محارم کو توڑنے کی جسارت کرنے والے ہو۔
[56]﴿ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’آپ کی قوم کا جواب صرف یہ تھا۔‘‘ ان کا جواب قبولیت پر مبنی تھا نہ وہ گناہوں سے باز آئے اور نہ انھوں نے کوئی نصیحت ہی پکڑی۔ اس کے برعکس ان کا جواب تو عناد، مخالفت، اپنے نبی اور اپنے امانت دار رسول کو اس کے وطن اور شہر سے جلاوطن کرنے کی دھمکی پر مبنی تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو۔‘‘ گویا ان سے پوچھا گیا کہ تم لوطu کے گھرانے سے کیوں ناراض ہو ان کا وہ کون سا گناہ ہے جو ان کو بستی سے نکالنے کا موجب ہے۔ تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ مردوں کے ساتھ بدفعلی سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … انھوں نے بہترین نیکی کو بدترین برائی بنا دیا۔ انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ ان کے نبی نے ان کو جو نصیحت کی انھوں نے اس کی نافرمانی کی بلکہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ اسے اپنی بستی سے نکالنے کا ارادہ کر لیا، مصیبت کا دارومدار زبان پر ہوتا ہے، اس لیے کہنے لگے ﴿اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍82) ’’انھیں اپنی بستی سے نکال باہر کرو وہ بڑے پاکباز لوگ بنتے ہیں ‘‘ اور اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ تم خباثت اور گندگی میں لتھڑے ہوئے ہو۔ جو تمھاری بستی پر نزول عذاب اور جو اس بستی سے نکل جائے اس کی نجات کا تقاضا کرتی ہے۔
[58,57]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ٞ قَدَّرۡنٰهَا مِنَ الۡغٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔‘‘ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مہمانوں کی شکل میں فرشتے لوطu کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی قوم کو ان (خوبصورت) مہمانوں کی آمد کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ برائی کے ارادے سے لوطu کے پاس آئے۔ لوطu نے دروازہ بند کر لیا اور ان پر معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا، پھر فرشتوں نے لوطu کو صورت حال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ انھیں ان سے بچانے اور ان بدکاروں کو ہلاک کرنے آئے ہیں اور ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کی بیوی پر بھی وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو بستی والوں پر نازل ہو گا۔ لوطu اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل گئے اور بچ گئے اور صبح ہوتے ہی یک دم عذاب نے بستی کو آ لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور اوندھا کر کے اوپر کے حصے کو نیچے کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تابڑ توڑ کھنگر کے پتھر برسائے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا:﴿وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پس (جو) مینہ ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر برسایا گیا وہ بہت برا تھا۔‘‘ یعنی بہت بری تھی وہ بارش جو ان پر برسائی گئی اور بہت برا تھا وہ عذاب جو ان پر نازل کیا گیا۔ ان کو ڈرایا گیا اور خوف دلایا گیا مگر وہ بدکاری سے رکے نہ باز آئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر انتہائی سخت عذاب نازل کر دیا۔
27:58وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلۡمُنذَرِينَ
اور (یاد کریں ) لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا آتے ہو تم بے حیائی (بدفعلی) کو اس حال میں کہ تم دیکھتے ہو (54) کیا بے شک تم البتہ آتے ہو مردوں کے پاس جنسی خواہش کی تسکین کے لیے چھوڑ کر (اپنی) عورتوں کوبلکہ تم لوگ جہالت کا ارتکاب کرتے ہو (55) پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ انھوں نے کہا، نکال دو تم لوط کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے، بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف بنتے ہیں (56) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سوائے اس کی بیوی کے، فیصلہ کیا تھا ہم نے اس کے بابت (کہ ہو گی وہ) پیچھے رہنے والوں میں سے (57) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش پس بری تھی بارش ڈرائے گئے لوگوں کی (58)
[54] ہمارے بندے اور رسول لوط (u) کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے۔ جب انھوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ﴾ ’’کیا تم بے حیائی کرتے ہو؟‘‘ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور تم دیکھتے ہو‘‘ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو۔ تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا۔
[55]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَىِٕنَّكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ﴾ ’’کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔‘‘ یعنی تم اس حالت کو کیسے پہنچ گئے کہ تمھاری شہوت مردوں اور ان کی پیٹھوں ، جو کہ غلاظت و خباثت کا مقام ہیں ، کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور اللہ نے تمھارے لیے جو عورتیں اور ان کی پاکیزہ چیزیں پیدا کیں ، تم نے ان کو چھوڑ دیا جن کی طرف میلان نفوس کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ تمھارا معاملہ بالکل الٹ ہو گیا تم نے برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا دیا ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ تم جاہل لوگ ہو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے اور اس کے محارم کو توڑنے کی جسارت کرنے والے ہو۔
[56]﴿ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’آپ کی قوم کا جواب صرف یہ تھا۔‘‘ ان کا جواب قبولیت پر مبنی تھا نہ وہ گناہوں سے باز آئے اور نہ انھوں نے کوئی نصیحت ہی پکڑی۔ اس کے برعکس ان کا جواب تو عناد، مخالفت، اپنے نبی اور اپنے امانت دار رسول کو اس کے وطن اور شہر سے جلاوطن کرنے کی دھمکی پر مبنی تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو۔‘‘ گویا ان سے پوچھا گیا کہ تم لوطu کے گھرانے سے کیوں ناراض ہو ان کا وہ کون سا گناہ ہے جو ان کو بستی سے نکالنے کا موجب ہے۔ تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ مردوں کے ساتھ بدفعلی سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … انھوں نے بہترین نیکی کو بدترین برائی بنا دیا۔ انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ ان کے نبی نے ان کو جو نصیحت کی انھوں نے اس کی نافرمانی کی بلکہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ اسے اپنی بستی سے نکالنے کا ارادہ کر لیا، مصیبت کا دارومدار زبان پر ہوتا ہے، اس لیے کہنے لگے ﴿اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍82) ’’انھیں اپنی بستی سے نکال باہر کرو وہ بڑے پاکباز لوگ بنتے ہیں ‘‘ اور اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ تم خباثت اور گندگی میں لتھڑے ہوئے ہو۔ جو تمھاری بستی پر نزول عذاب اور جو اس بستی سے نکل جائے اس کی نجات کا تقاضا کرتی ہے۔
[58,57]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ٞ قَدَّرۡنٰهَا مِنَ الۡغٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔‘‘ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مہمانوں کی شکل میں فرشتے لوطu کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی قوم کو ان (خوبصورت) مہمانوں کی آمد کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ برائی کے ارادے سے لوطu کے پاس آئے۔ لوطu نے دروازہ بند کر لیا اور ان پر معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا، پھر فرشتوں نے لوطu کو صورت حال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ انھیں ان سے بچانے اور ان بدکاروں کو ہلاک کرنے آئے ہیں اور ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کی بیوی پر بھی وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو بستی والوں پر نازل ہو گا۔ لوطu اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل گئے اور بچ گئے اور صبح ہوتے ہی یک دم عذاب نے بستی کو آ لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور اوندھا کر کے اوپر کے حصے کو نیچے کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تابڑ توڑ کھنگر کے پتھر برسائے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا:﴿وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پس (جو) مینہ ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر برسایا گیا وہ بہت برا تھا۔‘‘ یعنی بہت بری تھی وہ بارش جو ان پر برسائی گئی اور بہت برا تھا وہ عذاب جو ان پر نازل کیا گیا۔ ان کو ڈرایا گیا اور خوف دلایا گیا مگر وہ بدکاری سے رکے نہ باز آئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر انتہائی سخت عذاب نازل کر دیا۔
27:59قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ وَسَلَٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَىٰٓۗ ءَآللَّهُ خَيۡرٌ أَمَّا يُشۡرِكُونَ
کہہ دیجیے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنھیں وہ (لوگ) شریک ٹھہراتے ہیں ؟ (59)
[59] یعنی کہہ دیجیے ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’حمدوستائش اللہ ہی کے لیے ہے‘‘ جو اپنے کمال اوصاف، اپنے جمال عطا و بخشش، اہل تکذیب کو سزا دینے اور ظالموں کو عذاب دینے میں عدل و حکمت کی بنا پر کامل حمدوستائش اور مدح و ثنا کا مستحق ہے۔ نیز اس کے بندوں انبیاء و مرسلین پر سلام بھیجئے جن کو اس نے تمام جہانوں میں سے منتخب فرمایا جو رب کائنات کے چنے ہوئے اور محبوب بندے تھے اور یہ اس لیے ہے تاکہ ان کا ذکر اور ان کی تعظیم اور زیادہ ہو نیز اس لیے بھی کہ وہ شر اور گندگی سے پاک ہیں ، اپنے رب کے بارے میں جو کہتے ہیں وہ نقائص و عیوب سے محفوظ ہے۔ ﴿آٰللّٰهُ خَيۡرٌ اَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’بھلا اللہ بہتر ہے یا جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں ؟‘‘ یہ استفہام متحقق اور معروف ہے، یعنی اللہ، رب عظیم، جو کامل اوصاف اور عظیم الطاف کا مالک ہے، بہتر ہے یا یہ اصنام و اوثان بہتر ہیں ، جن کی یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کرتے ہیں ، جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جو خود اپنے لیے اور اپنے عبادت گزاروں کے لیے ذرہ بھر بھلائی کے مالک نہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ ان ہستیوں سے بہتر ہے جن کو یہ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔
27:60أَمَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهۡجَةٖ مَّا كَانَ لَكُمۡ أَن تُنۢبِتُواْ شَجَرَهَآۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٞ يَعۡدِلُونَ
(یہ بت بہتر ہیں ) یا وہ (اللہ) جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کواور اتارا تمھارے لیے آسمان سے پانی، پس اگائے ہم نے اس سے باغات پر رونق؟ نہیں تھی (قدرت) تمھیں یہ کہ اگاتے تم ان کے درخت، کیا ہے کوئی (اور) معبود ساتھ اللہ کے ؟بلکہ (یہ) وہ لوگ ہیں جو (اللہ کے ) برابر(ہمسر) ٹھہراتے ہیں (60)
[60] اللہ تعالیٰ نے ان تمام تفاصیل کا ذکر کیا ہے جن سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ وہی الٰہ معبود ہے، صرف اسی کی عبادت حق اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت باطل ہے، چنانچہ فرمایا:یعنی، بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں کو اور ان کے اندر سورج، چاند، ستاروں اورفرشتوں کو، نیز زمین کو اور اس کے اندر پہاڑوں ، سمندروں ، دریاؤں اور درختوں وغیرہ کو پیدا کیا؟﴿وَاَنۡزَلَ لَكُمۡ ﴾ ’’اور نازل کیا تمھارے لیے‘‘ یعنی تمھاری خاطر ﴿ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنۢۡبـَتۡنَا بِهٖ حَدَآىِٕقَ ﴾ ’’آسمان سے پانی، پھر ہم ہی نے اس سے باغات اگائے۔‘‘ ﴿ ذَاتَ بَهۡجَةٍ﴾ ’’رونق والے۔‘‘ یعنی وہ درختوں کی کثرت، ان کے تنوع اور اچھے پھلوں کی وجہ سے خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں ۔ ﴿ مَا كَانَ لَكُمۡ اَنۡ تُنۢۡبِتُوۡا شَجَرَهَا﴾ اگر بارش نازل کر کے تم پر اللہ تعالیٰ نے احسان نہ کیا ہوتا تو تم ان درختوں کو کبھی اگانہ سکتے۔ ﴿ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے‘‘ جو یہ افعال سرانجام دیتا ہو اور اس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی بھی عبادت کی جائے؟ ﴿ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ يَّعۡدِلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ یہ لوگ (تو اللہ تعالیٰ کے) ہمسر ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ اس حقیقت کا علم رکھنے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عالم علوی اور عالم سفلی کا خالق اور رزق نازل کرنے والا ہے، وہ غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں ۔
27:61أَمَّن جَعَلَ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنۡهَٰرٗا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِيَ وَجَعَلَ بَيۡنَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ حَاجِزًاۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
(یہ بت بہتر ہیں ) یا وہ (اللہ) جس نے بنایا زمین کو ٹھہرنے کے لائق اور بنا دیں اس کے درمیان نہریں اور بنائے اس کے لیے مضبوط پہاڑ اور بنا دی درمیان دو سمندروں کے آڑ؟ کیا ہے کوئی (اور) معبود ساتھ اللہ کے؟(نہیں !)بلکہ اکثر ان کے نہیں علم رکھتے l
[61] یعنی کیا یہ بت اور اصنام جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں ، جن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوتا، جو رزق دینے پر قادر ہیں نہ کوئی نفع پہچانے کی قدرت رکھتے ہیں ، وہ بہتر ہیں یا اللہ تعالیٰ؟ جس نے ﴿ اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا ﴾ ’’زمین کو قرار گاہ بنایا۔‘‘ جہاں بندے گھر اور ٹھکانا بناتے ہیں ، کھیتی باڑی کرتے ہیں ، عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اور ادھر ادھر آتے جاتے ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنۡهٰرًا ﴾ یعنی ا س نے زمین کے اندر دریا جاری كيے جن سے اس کے بندے اپنے کھیتیوں اور باغات میں فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان سے خود پانی پیتے ہیں اور اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور رکھ دیے اس کے اندر بوجھ۔‘‘ یعنی زمین کے اندر پہاڑ جما دیے جو اسے مضبوط رکھتے ہیں تاکہ یہ کہیں ڈھلک نہ جائے اور پہاڑ میخوں کا کام دیں تاکہ زمین نہ ہلے۔ ﴿ وَجَعَلَ بَيۡنَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’دو دریاؤں کے مابین بنائی۔‘‘ یعنی نمکین اور کھاری سمندر اور میٹھے سمندر کے درمیان ﴿حَاجِزًا﴾’’رکاوٹ۔‘‘ جو ان دونوں کو خلط ملط ہونے سے روکے ہوئے ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دونوں پانیوں کی منفعت مقصود ضائع ہو جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کی رکاوٹ حائل کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے دریاؤں کی گزر گاہوں کو سمندر سے بہت دور رکھا ہے تاکہ دریاؤں سے مصالح اور مقاصد کا حصول ممکن ہو۔﴿ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ﴾ ’’کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے‘‘ جو یہ تمام افعال سرانجام دیتا ہو اور یوں اسے اللہ تعالیٰ کا ہمسر قرار دے کر اسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا جائے؟ ﴿ بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اس لیے وہ اپنے سرداروں کی تقلید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ورنہ اگر انھیں پوری طرح علم ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کبھی شرک نہ کرتے۔
27:62أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ
(یہ بت بہتر ہیں ) یا وہ(اللہ) جو قبول کرتا ہے (دعا) لاچارکی جب وہ پکارتا ہے اسے اور وہ دور کر دیتا ہے برائی کو اور وہ بناتا ہے تمھیں جانشین زمین میں ؟ کیا ہے کوئی (اور) معبود ساتھ اللہ کے؟ بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو تم (62)
[62] یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ہستی ہے جو مضطرب و مجبور کی دعاؤں کا جواب دیتی ہو کہ جسے کرب و غم نے بے قرار کر رکھا ہو، جس کے لیے مطلوب کا حصول مشکل ہو اور جس مصیبت میں وہ مبتلا ہے اس سے گلو خلاصی پر مجبور ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا برائی، مصیبت، شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو کون دور کرتا ہے؟ کون ہے جو تمھیں زمین میں خلیفہ بناتا ہے، زمین میں تمھیں تمکن عطا کرتا ہے، تمھیں رزق سے نوازتا ہے اور تمھیں اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کرتاہے؟ اور تم گزرے ہوئے لوگوں کے خلیفہ بنتے ہو جس طرح عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں موت سے ہمکنار کرے گا اور تمھارے بعد کچھ اور لوگوں کو لے آئے گا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے جو یہ تمام افعال سرانجام دیتا ہو؟کوئی ایسی ہستی نہیں جس سے تمام افعال صادر ہوتے ہوں حتیٰ کہ، اے مشرکو! تمھیں خود بھی اس کا اقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی تھی تو دین کو خالص کر کے صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے کیونکہ انھیں علم تھا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس تکلیف کو دور کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ یعنی تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو اور بہت کم تدبر کرتے ہو حالانکہ یہ معاملات ایسے ہیں کہ اگر تم ان سے نصیحت پکڑو تو تمھیں نصیحت آ جائے اورتم ہدایت کی طرف لوٹ آؤ۔ مگر غفلت اور اعراض تم پر مسلط ہے بنابریں تم جہالت سے باز آتے ہو نہ راہ راست پر چلتے ہو۔
27:63أَمَّن يَهۡدِيكُمۡ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ وَمَن يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦٓۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ تَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
(یہ بت بہتر ہیں ) یا وہ (اللہ) جو راہ دکھاتا ہے تمھیں اندھیروں میں خشکی اور تری کے اور وہ جو بھیجتا ہے ہوائیں خوشخبری دینے والی پہلے اپنی رحمت(بارش) کے کیا ہے کوئی (اور) معبود ساتھ اللہ کے؟ برتر ہے اللہ اس سے جووہ شریک ٹھہراتے ہیں (63)
[63] وہ کون ہے جو تمھیں اس وقت راہ دکھاتا ہے جب تم بحروبر کی تاریکیوں میں سفر کر رہے ہوتے ہو جہاں تمھارے پاس کوئی راہنمائی کرنے والا ہوتا ہے نہ کوئی علامت دکھائی دیتی ہے اور نہ کوئی ایسا وسیلہ ہوتا ہے جس کے ذریعے سے تم نجات حاصل کر سکو، البتہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی تمھارے کام آتی ہے، وہ تمھارے لیے راستے کو آسان کرتا ہے وہ تمھیں اسباب مہیا کرتا ہے جن کے ذریعے سے تم صحیح راستہ پا لیتے ہو۔ ﴿ وَمَنۡ يُّرۡسِلُ الرِّيٰحَ بُشۡرًۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهٖ﴾’’اور کون ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔‘‘ یعنی بارش ہونے سے پہلے۔ پس اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کو بھیجتا ہے وہ بادل اٹھاتی ہیں ، ان کو اکٹھا کرتی ہیں پھر ان کو بارآور کرتی ہیں اور بارش برسنے سے پہلے ہی بندے ان ہواؤں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔﴿ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے‘‘ جس نے یہ تمام افعال سرانجام دیے ہیں یا صرف اکیلے اللہ تعالیٰ سے یہ افعال صادر ہوئے ہیں ؟ پھرتم اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو کیوں شریک ٹھہراتے ہو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ ﴿ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ اللہ بہت بڑا اور ان کے شرک اور ہمسر قرار دینے سے منزہ اور پاک ہے۔
27:64أَمَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
(یہ بت بہتر ہیں ) یا وہ (اللہ) جو پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر لوٹائے گا اسے اور وہ جو رزق دیتا ہے تمھیں آسمان اور زمین سے؟ کیاہے کوئی (اور) معبود ساتھ اللہ کے؟ کہہ دیجیے! لے آؤ تم اپنی دلیل اگر ہو تم سچے (64)
[64] وہ کون ہے جو تخلیق کا آغاز کرتا ہے، جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتا ہے اور ان مخلوقات کی تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر قیامت کے روز مخلوق کا اعادہ کرے گا؟ وہ کون ہے جو تمھیں بارش اور نباتات کے ذریعے سے آسمان اور زمین سے رزق مہیا کرتا ہے؟ ﴿ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ﴾ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور ہستی ہے جو یہ سب کچھ کرنے کی قدرت رکھتی ہو؟ ﴿ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ ﴾ یعنی اپنے دعوے پر کوئی حجت اور دلیل لاؤ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ ورنہ تمھارا یہ قول کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں ، مجرد دعویٰ ہے۔ اس کی توثیق و تصدیق کسی دلیل کے ساتھ کرو ورنہ اس حقیقت کا اعتراف کر لو کہ تمھارا موقف باطل ہے اور تمھارے پاس کوئی دلیل نہیں ۔ پس تم یقینی اور قطعی دلائل اور براہین کی طرف رجوع کرو جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ اللہ جو تمام تصرفات کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ عبادت کی تمام انواع کو صرف اسی کے ساتھ مختص کیا جائے۔
27:65قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ
کہہ دیجیے! نہیں جانتا کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں غیب کی بات سوائے اللہ کے اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے؟ (65)بلکہ ختم ہو گیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں بلکہ وہ شک میں ہیں ان سےبلکہ وہ اس سے اندھے ہیں (66) اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیا جب ہو جائیں گے ہم مٹی اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا ہم (پھر زمین سے) نکالے جائیں گے؟ (67) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے اس بات کا ہم اور باپ دادا ہمارے اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر افسانے پہلے لوگوں کے (68) کہہ دیجیے! سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو تم کیسا ہوا انجام مجرموں کا؟ (69)
[65] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَعِنۡدَهٗ مَفَاتِحُ الۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ١ؕ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام: 6؍59) ’’اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں ، اس کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ١ۚ وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ١ۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡاَرۡحَامِ١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌۢ بِاَيِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ﴾(لقمان: 31؍34) ’’قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں جانتا کہ اسے کس سرزمین میں موت آئے گی بے شک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اس قسم کے تمام غیوب کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مختص کیا ہے۔ پس کوئی مقرب فرشتہ یا نبی بھی ان کو نہیں جانتا اور چونکہ وہ اکیلا غیب کا علم رکھتا ہے، اس کا علم تمام بھیدوں ، باطنی اور خفیہ امور کا احاطہ كيے ہوئے ہے اس لیے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے ضعف علم کے بارے میں ایک کمتر چیز سے برتر چیز کی طرف منتقل کرتے ہوئے آگاہ کیا اور فرمایا:﴿وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نہیں جانتے ﴿ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’وہ کب اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے کب کھڑا کیا جائے گا، یعنی پس اسی لیے انھوں نے تیاری نہیں کی۔
[66]﴿ بَلِ ادّٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں ختم ہوگیا ہے۔‘‘ یعنی بلکہ ان کا علم کمزور ہے، ان کا علم یقینی نہیں ہے اور وہ ایسا علم نہیں جو قلب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔ یہ علم کا قلیل ترین اور ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی قوی علم ہے نہ کمزور ﴿ بَلۡ هُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهَا﴾ ’’بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں ۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ۔ شک علم کو زائل کر دیتا ہے کیونکہ علم اپنے تمام مراتب میں کبھی شک کے ساتھ یکجا نہیں ہوتا۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’بلکہ وہ اس سے۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ﴿ عَمُوۡنَ ﴾ ’’اندھے ہیں ۔‘‘ ان کی بصیرتیں ختم ہو گئیں ۔ ان کے دلوں میں آخرت کے وقوع کے بارے میں کوئی علم ہے نہ اس کا کوئی احتمال بلکہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بہت بعید سمجھتے ہیں ۔
[67] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور کافروں نے کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ بہت بعید اور ناممکن ہے۔ انھوں نے کامل قدرت والی ہستی کی قدرت کو اپنی کمزور قدرت پر قیاس کیا۔
[68]﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا هٰؔذَا ﴾ ’’تحقیق وعدہ کیا گیا ہے ہم سے اس کا۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا۔ ﴿ نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ہم سے بھی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے۔‘‘ لیکن یہ وعدہ ہمارے سامنے پورا ہوا نہ ہم نے اس کی بابت کچھ دیکھا۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی، یہ تو محض پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وقت گزاری کی جاتی ہے۔ اس کی کوئی اصل ہے نہ ان میں کوئی سچائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کے بارے میں ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی خبر دی کہ وہ کوئی علم نہیں رکھتے کہ قیامت کب آئے گی، پھر اس بارے میں ان کے ضعف علم کی خبر دی، پھر آگاہ فرمایا کہ وہ شک میں مبتلا ہیں پھر فرمایا کہ وہ اندھے ہیں پھر خبر دی کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے بعید سمجھتے ہیں … یعنی ان احوال کے سبب سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف نکل گیا اس لیے انھوں نے گناہ اور معاصی کا ارتکاب کیا، ان کے لیے تکذیب حق اور تصدیق باطل آسان ہو گئی اور عبادت کے مقابلے میں انھوں نے شہوات کو حلال ٹھہرا لیا۔ پس وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ گئے۔
[69] اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔
27:66بَلِ ٱدَّـٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ مِّنۡهَاۖ بَلۡ هُم مِّنۡهَا عَمُونَ
کہہ دیجیے! نہیں جانتا کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں غیب کی بات سوائے اللہ کے اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے؟ (65)بلکہ ختم ہو گیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں بلکہ وہ شک میں ہیں ان سےبلکہ وہ اس سے اندھے ہیں (66) اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیا جب ہو جائیں گے ہم مٹی اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا ہم (پھر زمین سے) نکالے جائیں گے؟ (67) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے اس بات کا ہم اور باپ دادا ہمارے اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر افسانے پہلے لوگوں کے (68) کہہ دیجیے! سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو تم کیسا ہوا انجام مجرموں کا؟ (69)
[65] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَعِنۡدَهٗ مَفَاتِحُ الۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ١ؕ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام: 6؍59) ’’اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں ، اس کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ١ۚ وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ١ۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡاَرۡحَامِ١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌۢ بِاَيِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ﴾(لقمان: 31؍34) ’’قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں جانتا کہ اسے کس سرزمین میں موت آئے گی بے شک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اس قسم کے تمام غیوب کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مختص کیا ہے۔ پس کوئی مقرب فرشتہ یا نبی بھی ان کو نہیں جانتا اور چونکہ وہ اکیلا غیب کا علم رکھتا ہے، اس کا علم تمام بھیدوں ، باطنی اور خفیہ امور کا احاطہ كيے ہوئے ہے اس لیے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے ضعف علم کے بارے میں ایک کمتر چیز سے برتر چیز کی طرف منتقل کرتے ہوئے آگاہ کیا اور فرمایا:﴿وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نہیں جانتے ﴿ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’وہ کب اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے کب کھڑا کیا جائے گا، یعنی پس اسی لیے انھوں نے تیاری نہیں کی۔
[66]﴿ بَلِ ادّٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں ختم ہوگیا ہے۔‘‘ یعنی بلکہ ان کا علم کمزور ہے، ان کا علم یقینی نہیں ہے اور وہ ایسا علم نہیں جو قلب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔ یہ علم کا قلیل ترین اور ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی قوی علم ہے نہ کمزور ﴿ بَلۡ هُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهَا﴾ ’’بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں ۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ۔ شک علم کو زائل کر دیتا ہے کیونکہ علم اپنے تمام مراتب میں کبھی شک کے ساتھ یکجا نہیں ہوتا۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’بلکہ وہ اس سے۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ﴿ عَمُوۡنَ ﴾ ’’اندھے ہیں ۔‘‘ ان کی بصیرتیں ختم ہو گئیں ۔ ان کے دلوں میں آخرت کے وقوع کے بارے میں کوئی علم ہے نہ اس کا کوئی احتمال بلکہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بہت بعید سمجھتے ہیں ۔
[67] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور کافروں نے کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ بہت بعید اور ناممکن ہے۔ انھوں نے کامل قدرت والی ہستی کی قدرت کو اپنی کمزور قدرت پر قیاس کیا۔
[68]﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا هٰؔذَا ﴾ ’’تحقیق وعدہ کیا گیا ہے ہم سے اس کا۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا۔ ﴿ نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ہم سے بھی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے۔‘‘ لیکن یہ وعدہ ہمارے سامنے پورا ہوا نہ ہم نے اس کی بابت کچھ دیکھا۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی، یہ تو محض پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وقت گزاری کی جاتی ہے۔ اس کی کوئی اصل ہے نہ ان میں کوئی سچائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کے بارے میں ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی خبر دی کہ وہ کوئی علم نہیں رکھتے کہ قیامت کب آئے گی، پھر اس بارے میں ان کے ضعف علم کی خبر دی، پھر آگاہ فرمایا کہ وہ شک میں مبتلا ہیں پھر فرمایا کہ وہ اندھے ہیں پھر خبر دی کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے بعید سمجھتے ہیں … یعنی ان احوال کے سبب سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف نکل گیا اس لیے انھوں نے گناہ اور معاصی کا ارتکاب کیا، ان کے لیے تکذیب حق اور تصدیق باطل آسان ہو گئی اور عبادت کے مقابلے میں انھوں نے شہوات کو حلال ٹھہرا لیا۔ پس وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ گئے۔
[69] اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔
27:67وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبٗا وَءَابَآؤُنَآ أَئِنَّا لَمُخۡرَجُونَ
کہہ دیجیے! نہیں جانتا کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں غیب کی بات سوائے اللہ کے اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے؟ (65)بلکہ ختم ہو گیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں بلکہ وہ شک میں ہیں ان سےبلکہ وہ اس سے اندھے ہیں (66) اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیا جب ہو جائیں گے ہم مٹی اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا ہم (پھر زمین سے) نکالے جائیں گے؟ (67) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے اس بات کا ہم اور باپ دادا ہمارے اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر افسانے پہلے لوگوں کے (68) کہہ دیجیے! سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو تم کیسا ہوا انجام مجرموں کا؟ (69)
[65] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَعِنۡدَهٗ مَفَاتِحُ الۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ١ؕ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام: 6؍59) ’’اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں ، اس کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ١ۚ وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ١ۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡاَرۡحَامِ١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌۢ بِاَيِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ﴾(لقمان: 31؍34) ’’قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں جانتا کہ اسے کس سرزمین میں موت آئے گی بے شک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اس قسم کے تمام غیوب کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مختص کیا ہے۔ پس کوئی مقرب فرشتہ یا نبی بھی ان کو نہیں جانتا اور چونکہ وہ اکیلا غیب کا علم رکھتا ہے، اس کا علم تمام بھیدوں ، باطنی اور خفیہ امور کا احاطہ كيے ہوئے ہے اس لیے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے ضعف علم کے بارے میں ایک کمتر چیز سے برتر چیز کی طرف منتقل کرتے ہوئے آگاہ کیا اور فرمایا:﴿وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نہیں جانتے ﴿ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’وہ کب اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے کب کھڑا کیا جائے گا، یعنی پس اسی لیے انھوں نے تیاری نہیں کی۔
[66]﴿ بَلِ ادّٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں ختم ہوگیا ہے۔‘‘ یعنی بلکہ ان کا علم کمزور ہے، ان کا علم یقینی نہیں ہے اور وہ ایسا علم نہیں جو قلب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔ یہ علم کا قلیل ترین اور ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی قوی علم ہے نہ کمزور ﴿ بَلۡ هُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهَا﴾ ’’بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں ۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ۔ شک علم کو زائل کر دیتا ہے کیونکہ علم اپنے تمام مراتب میں کبھی شک کے ساتھ یکجا نہیں ہوتا۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’بلکہ وہ اس سے۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ﴿ عَمُوۡنَ ﴾ ’’اندھے ہیں ۔‘‘ ان کی بصیرتیں ختم ہو گئیں ۔ ان کے دلوں میں آخرت کے وقوع کے بارے میں کوئی علم ہے نہ اس کا کوئی احتمال بلکہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بہت بعید سمجھتے ہیں ۔
[67] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور کافروں نے کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ بہت بعید اور ناممکن ہے۔ انھوں نے کامل قدرت والی ہستی کی قدرت کو اپنی کمزور قدرت پر قیاس کیا۔
[68]﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا هٰؔذَا ﴾ ’’تحقیق وعدہ کیا گیا ہے ہم سے اس کا۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا۔ ﴿ نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ہم سے بھی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے۔‘‘ لیکن یہ وعدہ ہمارے سامنے پورا ہوا نہ ہم نے اس کی بابت کچھ دیکھا۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی، یہ تو محض پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وقت گزاری کی جاتی ہے۔ اس کی کوئی اصل ہے نہ ان میں کوئی سچائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کے بارے میں ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی خبر دی کہ وہ کوئی علم نہیں رکھتے کہ قیامت کب آئے گی، پھر اس بارے میں ان کے ضعف علم کی خبر دی، پھر آگاہ فرمایا کہ وہ شک میں مبتلا ہیں پھر فرمایا کہ وہ اندھے ہیں پھر خبر دی کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے بعید سمجھتے ہیں … یعنی ان احوال کے سبب سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف نکل گیا اس لیے انھوں نے گناہ اور معاصی کا ارتکاب کیا، ان کے لیے تکذیب حق اور تصدیق باطل آسان ہو گئی اور عبادت کے مقابلے میں انھوں نے شہوات کو حلال ٹھہرا لیا۔ پس وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ گئے۔
[69] اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔
27:68لَقَدۡ وُعِدۡنَا هَٰذَا نَحۡنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبۡلُ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
کہہ دیجیے! نہیں جانتا کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں غیب کی بات سوائے اللہ کے اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے؟ (65)بلکہ ختم ہو گیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں بلکہ وہ شک میں ہیں ان سےبلکہ وہ اس سے اندھے ہیں (66) اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیا جب ہو جائیں گے ہم مٹی اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا ہم (پھر زمین سے) نکالے جائیں گے؟ (67) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے اس بات کا ہم اور باپ دادا ہمارے اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر افسانے پہلے لوگوں کے (68) کہہ دیجیے! سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو تم کیسا ہوا انجام مجرموں کا؟ (69)
[65] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَعِنۡدَهٗ مَفَاتِحُ الۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ١ؕ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام: 6؍59) ’’اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں ، اس کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ١ۚ وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ١ۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡاَرۡحَامِ١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌۢ بِاَيِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ﴾(لقمان: 31؍34) ’’قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں جانتا کہ اسے کس سرزمین میں موت آئے گی بے شک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اس قسم کے تمام غیوب کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مختص کیا ہے۔ پس کوئی مقرب فرشتہ یا نبی بھی ان کو نہیں جانتا اور چونکہ وہ اکیلا غیب کا علم رکھتا ہے، اس کا علم تمام بھیدوں ، باطنی اور خفیہ امور کا احاطہ كيے ہوئے ہے اس لیے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے ضعف علم کے بارے میں ایک کمتر چیز سے برتر چیز کی طرف منتقل کرتے ہوئے آگاہ کیا اور فرمایا:﴿وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نہیں جانتے ﴿ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’وہ کب اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے کب کھڑا کیا جائے گا، یعنی پس اسی لیے انھوں نے تیاری نہیں کی۔
[66]﴿ بَلِ ادّٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں ختم ہوگیا ہے۔‘‘ یعنی بلکہ ان کا علم کمزور ہے، ان کا علم یقینی نہیں ہے اور وہ ایسا علم نہیں جو قلب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔ یہ علم کا قلیل ترین اور ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی قوی علم ہے نہ کمزور ﴿ بَلۡ هُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهَا﴾ ’’بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں ۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ۔ شک علم کو زائل کر دیتا ہے کیونکہ علم اپنے تمام مراتب میں کبھی شک کے ساتھ یکجا نہیں ہوتا۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’بلکہ وہ اس سے۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ﴿ عَمُوۡنَ ﴾ ’’اندھے ہیں ۔‘‘ ان کی بصیرتیں ختم ہو گئیں ۔ ان کے دلوں میں آخرت کے وقوع کے بارے میں کوئی علم ہے نہ اس کا کوئی احتمال بلکہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بہت بعید سمجھتے ہیں ۔
[67] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور کافروں نے کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ بہت بعید اور ناممکن ہے۔ انھوں نے کامل قدرت والی ہستی کی قدرت کو اپنی کمزور قدرت پر قیاس کیا۔
[68]﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا هٰؔذَا ﴾ ’’تحقیق وعدہ کیا گیا ہے ہم سے اس کا۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا۔ ﴿ نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ہم سے بھی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے۔‘‘ لیکن یہ وعدہ ہمارے سامنے پورا ہوا نہ ہم نے اس کی بابت کچھ دیکھا۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی، یہ تو محض پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وقت گزاری کی جاتی ہے۔ اس کی کوئی اصل ہے نہ ان میں کوئی سچائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کے بارے میں ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی خبر دی کہ وہ کوئی علم نہیں رکھتے کہ قیامت کب آئے گی، پھر اس بارے میں ان کے ضعف علم کی خبر دی، پھر آگاہ فرمایا کہ وہ شک میں مبتلا ہیں پھر فرمایا کہ وہ اندھے ہیں پھر خبر دی کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے بعید سمجھتے ہیں … یعنی ان احوال کے سبب سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف نکل گیا اس لیے انھوں نے گناہ اور معاصی کا ارتکاب کیا، ان کے لیے تکذیب حق اور تصدیق باطل آسان ہو گئی اور عبادت کے مقابلے میں انھوں نے شہوات کو حلال ٹھہرا لیا۔ پس وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ گئے۔
[69] اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔
27:69قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
کہہ دیجیے! نہیں جانتا کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں غیب کی بات سوائے اللہ کے اور نہیں شعور رکھتے وہ کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے؟ (65)بلکہ ختم ہو گیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں بلکہ وہ شک میں ہیں ان سےبلکہ وہ اس سے اندھے ہیں (66) اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیا جب ہو جائیں گے ہم مٹی اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا ہم (پھر زمین سے) نکالے جائیں گے؟ (67) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے اس بات کا ہم اور باپ دادا ہمارے اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر افسانے پہلے لوگوں کے (68) کہہ دیجیے! سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو تم کیسا ہوا انجام مجرموں کا؟ (69)
[65] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَعِنۡدَهٗ مَفَاتِحُ الۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ١ؕ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾(الانعام: 6؍59) ’’اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں ، اس کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ١ۚ وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ١ۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡاَرۡحَامِ١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا١ؕ وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌۢ بِاَيِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ﴾(لقمان: 31؍34) ’’قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں جانتا کہ اسے کس سرزمین میں موت آئے گی بے شک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اس قسم کے تمام غیوب کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مختص کیا ہے۔ پس کوئی مقرب فرشتہ یا نبی بھی ان کو نہیں جانتا اور چونکہ وہ اکیلا غیب کا علم رکھتا ہے، اس کا علم تمام بھیدوں ، باطنی اور خفیہ امور کا احاطہ كيے ہوئے ہے اس لیے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے ضعف علم کے بارے میں ایک کمتر چیز سے برتر چیز کی طرف منتقل کرتے ہوئے آگاہ کیا اور فرمایا:﴿وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نہیں جانتے ﴿ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’وہ کب اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے کب کھڑا کیا جائے گا، یعنی پس اسی لیے انھوں نے تیاری نہیں کی۔
[66]﴿ بَلِ ادّٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں ختم ہوگیا ہے۔‘‘ یعنی بلکہ ان کا علم کمزور ہے، ان کا علم یقینی نہیں ہے اور وہ ایسا علم نہیں جو قلب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔ یہ علم کا قلیل ترین اور ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی قوی علم ہے نہ کمزور ﴿ بَلۡ هُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهَا﴾ ’’بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں ۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ۔ شک علم کو زائل کر دیتا ہے کیونکہ علم اپنے تمام مراتب میں کبھی شک کے ساتھ یکجا نہیں ہوتا۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’بلکہ وہ اس سے۔‘‘ یعنی آخرت کے بارے میں ﴿ عَمُوۡنَ ﴾ ’’اندھے ہیں ۔‘‘ ان کی بصیرتیں ختم ہو گئیں ۔ ان کے دلوں میں آخرت کے وقوع کے بارے میں کوئی علم ہے نہ اس کا کوئی احتمال بلکہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بہت بعید سمجھتے ہیں ۔
[67] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور کافروں نے کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ بہت بعید اور ناممکن ہے۔ انھوں نے کامل قدرت والی ہستی کی قدرت کو اپنی کمزور قدرت پر قیاس کیا۔
[68]﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا هٰؔذَا ﴾ ’’تحقیق وعدہ کیا گیا ہے ہم سے اس کا۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا۔ ﴿ نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ہم سے بھی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے۔‘‘ لیکن یہ وعدہ ہمارے سامنے پورا ہوا نہ ہم نے اس کی بابت کچھ دیکھا۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی، یہ تو محض پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وقت گزاری کی جاتی ہے۔ اس کی کوئی اصل ہے نہ ان میں کوئی سچائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کے بارے میں ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی خبر دی کہ وہ کوئی علم نہیں رکھتے کہ قیامت کب آئے گی، پھر اس بارے میں ان کے ضعف علم کی خبر دی، پھر آگاہ فرمایا کہ وہ شک میں مبتلا ہیں پھر فرمایا کہ وہ اندھے ہیں پھر خبر دی کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے بعید سمجھتے ہیں … یعنی ان احوال کے سبب سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف نکل گیا اس لیے انھوں نے گناہ اور معاصی کا ارتکاب کیا، ان کے لیے تکذیب حق اور تصدیق باطل آسان ہو گئی اور عبادت کے مقابلے میں انھوں نے شہوات کو حلال ٹھہرا لیا۔ پس وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ گئے۔
[69] اللہ تعالیٰ نے ان امور کی صداقت، جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو، مجرمین کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ پس آپ کوئی ایسا مجرم نہیں پائیں گے جو اپنے جرائم پر ڈٹا رہا ہو اور اس کا بدترین انجام نہ ہوا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ایسی سزا دیتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہوتی ہے۔
27:70وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُن فِي ضَيۡقٖ مِّمَّا يَمۡكُرُونَ
اور نہ غم کریں آپ ان پراورنہ ہوں آپ تنگی میں ان سے جو وہ (آپ کے خلاف) مکر کرتے ہیں (70) اور وہ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (71) کہہ دیجیے! امید ہے کہ قریب آ لگا ہو تمھارے، بعض وہ (عذاب) جسے تم جلدی طلب کر رہے ہو (72)
[70] یعنی اے محمد! (ﷺ)آپ ان جھٹلانے والوں اور ان کے عدم ایمان کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں ۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان میں کتنی برائی ہے اور وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے تو آپ کبھی غمگین ہوں گے نہ آپ تنگدل ہوں گے اور نہ آپ کا دل ان کے مکروفریب پر کوئی قلق محسوس کرے گا۔ ان کے مکروفریب کا برا انجام آخر کار انھی کی طرف لوٹے گا۔ ﴿ وَيَمۡؔكُرُوۡنَ وَيَمۡؔكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ ﴾(الانفال:8؍30)’’وہ چال چلتے ہیں ، اللہ بھی ان کے مقابلے میں چال چلتا ہے اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔‘‘
[71] آخرت اور اس حق کو جھٹلانے والے جسے لے کر رسول مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے ہیں ، عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟‘‘ یہ ان کی جہالت اور حماقت پر مبنی رائے ہے کیونکہ اس وعدے کا وقوع اور اس کا وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر کے مطابق مقرر کر رکھا ہے۔ اس کا جلدی نہ آنا ان کے کسی مطلوب و مقصود پر دلالت نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ جس بارے میں وہ جلدی مچاتے ہیں اس کے بارے میں ڈراتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
[72]﴿ قُلۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ رَدِفَ لَكُمۡ ﴾ یعنی ہو سکتا ہے وہ وقت مقرر قریب آ گیا ہو اور ہو سکتا ہے وہ تم پر واقع ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ بَعۡضُ الَّذِيۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی وہ عذاب جس کے لیے تم جلدی مچاتے ہو۔
27:71وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
اور نہ غم کریں آپ ان پراورنہ ہوں آپ تنگی میں ان سے جو وہ (آپ کے خلاف) مکر کرتے ہیں (70) اور وہ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (71) کہہ دیجیے! امید ہے کہ قریب آ لگا ہو تمھارے، بعض وہ (عذاب) جسے تم جلدی طلب کر رہے ہو (72)
[70] یعنی اے محمد! (ﷺ)آپ ان جھٹلانے والوں اور ان کے عدم ایمان کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں ۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان میں کتنی برائی ہے اور وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے تو آپ کبھی غمگین ہوں گے نہ آپ تنگدل ہوں گے اور نہ آپ کا دل ان کے مکروفریب پر کوئی قلق محسوس کرے گا۔ ان کے مکروفریب کا برا انجام آخر کار انھی کی طرف لوٹے گا۔ ﴿ وَيَمۡؔكُرُوۡنَ وَيَمۡؔكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ ﴾(الانفال:8؍30)’’وہ چال چلتے ہیں ، اللہ بھی ان کے مقابلے میں چال چلتا ہے اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔‘‘
[71] آخرت اور اس حق کو جھٹلانے والے جسے لے کر رسول مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے ہیں ، عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟‘‘ یہ ان کی جہالت اور حماقت پر مبنی رائے ہے کیونکہ اس وعدے کا وقوع اور اس کا وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر کے مطابق مقرر کر رکھا ہے۔ اس کا جلدی نہ آنا ان کے کسی مطلوب و مقصود پر دلالت نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ جس بارے میں وہ جلدی مچاتے ہیں اس کے بارے میں ڈراتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
[72]﴿ قُلۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ رَدِفَ لَكُمۡ ﴾ یعنی ہو سکتا ہے وہ وقت مقرر قریب آ گیا ہو اور ہو سکتا ہے وہ تم پر واقع ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ بَعۡضُ الَّذِيۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی وہ عذاب جس کے لیے تم جلدی مچاتے ہو۔
27:72قُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعۡضُ ٱلَّذِي تَسۡتَعۡجِلُونَ
اور نہ غم کریں آپ ان پراورنہ ہوں آپ تنگی میں ان سے جو وہ (آپ کے خلاف) مکر کرتے ہیں (70) اور وہ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (71) کہہ دیجیے! امید ہے کہ قریب آ لگا ہو تمھارے، بعض وہ (عذاب) جسے تم جلدی طلب کر رہے ہو (72)
[70] یعنی اے محمد! (ﷺ)آپ ان جھٹلانے والوں اور ان کے عدم ایمان کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں ۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان میں کتنی برائی ہے اور وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے تو آپ کبھی غمگین ہوں گے نہ آپ تنگدل ہوں گے اور نہ آپ کا دل ان کے مکروفریب پر کوئی قلق محسوس کرے گا۔ ان کے مکروفریب کا برا انجام آخر کار انھی کی طرف لوٹے گا۔ ﴿ وَيَمۡؔكُرُوۡنَ وَيَمۡؔكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰؔكِرِيۡنَ ﴾(الانفال:8؍30)’’وہ چال چلتے ہیں ، اللہ بھی ان کے مقابلے میں چال چلتا ہے اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔‘‘
[71] آخرت اور اس حق کو جھٹلانے والے جسے لے کر رسول مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے ہیں ، عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟‘‘ یہ ان کی جہالت اور حماقت پر مبنی رائے ہے کیونکہ اس وعدے کا وقوع اور اس کا وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر کے مطابق مقرر کر رکھا ہے۔ اس کا جلدی نہ آنا ان کے کسی مطلوب و مقصود پر دلالت نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ جس بارے میں وہ جلدی مچاتے ہیں اس کے بارے میں ڈراتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
[72]﴿ قُلۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ رَدِفَ لَكُمۡ ﴾ یعنی ہو سکتا ہے وہ وقت مقرر قریب آ گیا ہو اور ہو سکتا ہے وہ تم پر واقع ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ بَعۡضُ الَّذِيۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی وہ عذاب جس کے لیے تم جلدی مچاتے ہو۔
27:73وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُونَ
اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر ان کے نہیں شکر کرتے (73) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں ان کے سینے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (74) اور نہیں کوئی پوشیدہ چیز آسمان او رزمین میں مگر وہ ہے کتاب واضح میں (75)
[73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وسعت جود وسخا اور کثرت فضل و کرم کے بارے میں اپنے بندوں کو آگاہ کرتا ہے اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگ شکر ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں اور نعمتوں میں مشغول ہو کر نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش کر دیتے ہیں ۔
[74]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور بلاشبہ جو باتیں ان کے سینے چھپاتے ہیں ، تمھارا رب ان کو جانتا ہے۔‘‘ یعنی جو ان کے سینوں میں جمع ہے ﴿ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ۔‘‘ اس لیے انھیں اس ہستی سے ڈرنا چاہیے جو ظاہر و باطن کا علم رکھتی ہے اور اس سے خوف کھانا چاہیے۔
[75]﴿وَمَا مِنۡ غَآىِٕبَةٍ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی آسمان و زمین کی کوئی چھپی ہوئی چیز اور عالم علوی اور عالم سفلی کا کوئی بھید ایسا نہیں جو ﴿ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’واضح کتاب میں نہ ہو۔‘‘ اس کتاب نے ان تمام امور و حوادث کا احاطہ کر رکھا ہے جو اب تک وقوع میں آ چکے ہیں اور جو قیامت تک واقع ہوں گے۔ پس جو بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ وقوع میں آتا ہے وہ اس کے مطابق ہوتا ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے۔
27:74وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُونَ
اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر ان کے نہیں شکر کرتے (73) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں ان کے سینے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (74) اور نہیں کوئی پوشیدہ چیز آسمان او رزمین میں مگر وہ ہے کتاب واضح میں (75)
[73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وسعت جود وسخا اور کثرت فضل و کرم کے بارے میں اپنے بندوں کو آگاہ کرتا ہے اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگ شکر ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں اور نعمتوں میں مشغول ہو کر نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش کر دیتے ہیں ۔
[74]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور بلاشبہ جو باتیں ان کے سینے چھپاتے ہیں ، تمھارا رب ان کو جانتا ہے۔‘‘ یعنی جو ان کے سینوں میں جمع ہے ﴿ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ۔‘‘ اس لیے انھیں اس ہستی سے ڈرنا چاہیے جو ظاہر و باطن کا علم رکھتی ہے اور اس سے خوف کھانا چاہیے۔
[75]﴿وَمَا مِنۡ غَآىِٕبَةٍ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی آسمان و زمین کی کوئی چھپی ہوئی چیز اور عالم علوی اور عالم سفلی کا کوئی بھید ایسا نہیں جو ﴿ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’واضح کتاب میں نہ ہو۔‘‘ اس کتاب نے ان تمام امور و حوادث کا احاطہ کر رکھا ہے جو اب تک وقوع میں آ چکے ہیں اور جو قیامت تک واقع ہوں گے۔ پس جو بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ وقوع میں آتا ہے وہ اس کے مطابق ہوتا ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے۔
27:75وَمَا مِنۡ غَآئِبَةٖ فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٍ
اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر ان کے نہیں شکر کرتے (73) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں ان کے سینے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (74) اور نہیں کوئی پوشیدہ چیز آسمان او رزمین میں مگر وہ ہے کتاب واضح میں (75)
[73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وسعت جود وسخا اور کثرت فضل و کرم کے بارے میں اپنے بندوں کو آگاہ کرتا ہے اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ بایں ہمہ اکثر لوگ شکر ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں اور نعمتوں میں مشغول ہو کر نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش کر دیتے ہیں ۔
[74]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور بلاشبہ جو باتیں ان کے سینے چھپاتے ہیں ، تمھارا رب ان کو جانتا ہے۔‘‘ یعنی جو ان کے سینوں میں جمع ہے ﴿ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ۔‘‘ اس لیے انھیں اس ہستی سے ڈرنا چاہیے جو ظاہر و باطن کا علم رکھتی ہے اور اس سے خوف کھانا چاہیے۔
[75]﴿وَمَا مِنۡ غَآىِٕبَةٍ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی آسمان و زمین کی کوئی چھپی ہوئی چیز اور عالم علوی اور عالم سفلی کا کوئی بھید ایسا نہیں جو ﴿ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’واضح کتاب میں نہ ہو۔‘‘ اس کتاب نے ان تمام امور و حوادث کا احاطہ کر رکھا ہے جو اب تک وقوع میں آ چکے ہیں اور جو قیامت تک واقع ہوں گے۔ پس جو بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ وقوع میں آتا ہے وہ اس کے مطابق ہوتا ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے۔
27:76إِنَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَكۡثَرَ ٱلَّذِي هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
بلاشبہ یہ قرآن بیان کرتا ہے بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں کہ وہ جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں (76) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ ہدایت اور رحمت ہے مومنوں کے لیے(77)
[76] یہ آیت کریمہ اس بارے میں خبر دیتی ہے کہ قرآن کتب سابقہ کی تصدیق و توضیح اور ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ چونکہ کتب سابقہ کے بارے میں بنی اسرائیل میں اشتباہ و اختلاف واقع ہوا ہے اس لیے قرآن کریم نے ایسی توضیحات بیان کی ہیں جن سے اشکال دور ہو جاتا ہے اور مختلف فیہ مسائل میں راہ صواب واضح ہو جاتی ہے۔
[77] اور جب اس میں جلالت و وضاحت، ہر اختلاف کا ازالہ اور ہر اشکال کی تفصیل جمع ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے مگر سب بندے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے، اس لیے واضح فرما دیا کہ قرآن کا فائدہ، اس کی روشنی اور راہنمائی صرف اہل ایمان کے لیے مختص ہے۔ پس فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَهُدًى ﴾ ’’اور بے شک یہ ہدایت ہے۔‘‘ یعنی ضلالت، شبہات اور گمراہی کے جھاڑ جھنکار کے درمیان راہ ہدایت ہے ﴿وَّرَحۡمَةٌ﴾ ’’اور رحمت ہے۔‘‘ اس سے ان کے سینے ٹھنڈے اور ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ﴿ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یہ ان لوگوں کے لیے رحمت ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ، اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس کو قبول کرتے ہیں ، اس میں تدبر اور اس کے معانی میں غور وفکر کرتے ہیں ۔ پس انھی لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اور رحمت سے سرفراز کیا جائے گا جو سعادت اور فوز وفلاح کو متضمن ہے۔
27:77وَإِنَّهُۥ لَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ
بلاشبہ یہ قرآن بیان کرتا ہے بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں کہ وہ جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں (76) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ ہدایت اور رحمت ہے مومنوں کے لیے(77)
[76] یہ آیت کریمہ اس بارے میں خبر دیتی ہے کہ قرآن کتب سابقہ کی تصدیق و توضیح اور ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ چونکہ کتب سابقہ کے بارے میں بنی اسرائیل میں اشتباہ و اختلاف واقع ہوا ہے اس لیے قرآن کریم نے ایسی توضیحات بیان کی ہیں جن سے اشکال دور ہو جاتا ہے اور مختلف فیہ مسائل میں راہ صواب واضح ہو جاتی ہے۔
[77] اور جب اس میں جلالت و وضاحت، ہر اختلاف کا ازالہ اور ہر اشکال کی تفصیل جمع ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے مگر سب بندے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے، اس لیے واضح فرما دیا کہ قرآن کا فائدہ، اس کی روشنی اور راہنمائی صرف اہل ایمان کے لیے مختص ہے۔ پس فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَهُدًى ﴾ ’’اور بے شک یہ ہدایت ہے۔‘‘ یعنی ضلالت، شبہات اور گمراہی کے جھاڑ جھنکار کے درمیان راہ ہدایت ہے ﴿وَّرَحۡمَةٌ﴾ ’’اور رحمت ہے۔‘‘ اس سے ان کے سینے ٹھنڈے اور ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ﴿ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یہ ان لوگوں کے لیے رحمت ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ، اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس کو قبول کرتے ہیں ، اس میں تدبر اور اس کے معانی میں غور وفکر کرتے ہیں ۔ پس انھی لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اور رحمت سے سرفراز کیا جائے گا جو سعادت اور فوز وفلاح کو متضمن ہے۔
27:78إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُم بِحُكۡمِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡعَلِيمُ
بے شک آپ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے درمیان اپنے حکم سے اور وہی ہے نہایت غالب، خوب جاننے والا(78)
[78] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ان اختلاف کرنے اور جھگڑنے والوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اگرچہ دنیا میں معاملات کے بارے میں دلیل کے مخفی رہ جانے اور بعض دیگر مقاصد کی بنا پر اختلاف کرنے والوں کے درمیان اشتباہ واقع ہو جاتا ہے مگر جب ان معاملات کے بارے میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا تو حق واقع کے مطابق واضح اور روشن ہو کر سامنے آجائے گا ﴿ وَ هَوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ تمام خلائق پر غالب ہے پس اس کے سامنے سراطاعت خم کر دو ﴿ الۡعَلِيۡمُ﴾ وہ تمام اشیاء کا علم رکھتا ہے ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ اختلاف کرنے والوں کے اقوال سے آگاہ ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ اقوال کس لیے صادر ہوئے ہیں ، ان کے مقاصد اور ان کی غرض و غایت کیا ہے، ان اختلاف کرنے والوں کو وہ اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
27:79فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۖ إِنَّكَ عَلَى ٱلۡحَقِّ ٱلۡمُبِينِ
پس آپ توکل کریں اللہ پر، بلاشبہ آپ ہیں اوپر حق صریح کے (79) یقینا آپ نہیں سنا سکتے مردوں کواور نہیں سنا سکتے آپ بہروں کو (اپنی)پکار جب وہ ، پھر جائیں پیٹھ پھیر کر (80) اور نہیں آپ راہ پر لانے والے اندھوں کو ان کی گمراہی سے ، نہیں سنا سکتے آپ مگر اسی شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ ہماری آیتوں کے، پس وہی ہیں فرماں بردار(81)
[79] یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجیے! ﴿ اِنَّكَ عَلَى الۡحَقِّ الۡمُبِيۡنِ ﴾ ’’بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہو، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لیے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس میں کوئی اشتباہ ہے۔
[80] جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا اور ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو پکارتے اور ندا دیتے ہیں اور خاص طور پر ﴿ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’اس وقت جبکہ وہ منہ پھیر کر جا رہے ہوں ‘‘ تب یہ عدم سماع کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں ۔
[81]﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰؔدِي الۡعُمۡيِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ﴾ ’’اور نہ آپ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾(القصص:28؍56) ’’آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’آپ تو ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مطیع ہوجاتے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ جو آپ کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اپنے اعمال اور اپنی اطاعت کے ذریعے سے ان آیات کی اتباع کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ يَسۡمَعُوۡنَ١ؔؕ وَالۡمَوۡتٰى يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ﴾(الانعام:6؍36) ’’حق کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز زندہ کرے گا پھر وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔‘‘
27:80إِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوۡاْ مُدۡبِرِينَ
پس آپ توکل کریں اللہ پر، بلاشبہ آپ ہیں اوپر حق صریح کے (79) یقینا آپ نہیں سنا سکتے مردوں کواور نہیں سنا سکتے آپ بہروں کو (اپنی)پکار جب وہ ، پھر جائیں پیٹھ پھیر کر (80) اور نہیں آپ راہ پر لانے والے اندھوں کو ان کی گمراہی سے ، نہیں سنا سکتے آپ مگر اسی شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ ہماری آیتوں کے، پس وہی ہیں فرماں بردار(81)
[79] یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجیے! ﴿ اِنَّكَ عَلَى الۡحَقِّ الۡمُبِيۡنِ ﴾ ’’بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہو، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لیے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس میں کوئی اشتباہ ہے۔
[80] جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا اور ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو پکارتے اور ندا دیتے ہیں اور خاص طور پر ﴿ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’اس وقت جبکہ وہ منہ پھیر کر جا رہے ہوں ‘‘ تب یہ عدم سماع کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں ۔
[81]﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰؔدِي الۡعُمۡيِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ﴾ ’’اور نہ آپ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾(القصص:28؍56) ’’آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’آپ تو ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مطیع ہوجاتے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ جو آپ کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اپنے اعمال اور اپنی اطاعت کے ذریعے سے ان آیات کی اتباع کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ يَسۡمَعُوۡنَ١ؔؕ وَالۡمَوۡتٰى يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ﴾(الانعام:6؍36) ’’حق کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز زندہ کرے گا پھر وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔‘‘
27:81وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِي ٱلۡعُمۡيِ عَن ضَلَٰلَتِهِمۡۖ إِن تُسۡمِعُ إِلَّا مَن يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسۡلِمُونَ
پس آپ توکل کریں اللہ پر، بلاشبہ آپ ہیں اوپر حق صریح کے (79) یقینا آپ نہیں سنا سکتے مردوں کواور نہیں سنا سکتے آپ بہروں کو (اپنی)پکار جب وہ ، پھر جائیں پیٹھ پھیر کر (80) اور نہیں آپ راہ پر لانے والے اندھوں کو ان کی گمراہی سے ، نہیں سنا سکتے آپ مگر اسی شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ ہماری آیتوں کے، پس وہی ہیں فرماں بردار(81)
[79] یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجیے! ﴿ اِنَّكَ عَلَى الۡحَقِّ الۡمُبِيۡنِ ﴾ ’’بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہو، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لیے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس میں کوئی اشتباہ ہے۔
[80] جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا اور ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰى وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو پکارتے اور ندا دیتے ہیں اور خاص طور پر ﴿ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’اس وقت جبکہ وہ منہ پھیر کر جا رہے ہوں ‘‘ تب یہ عدم سماع کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں ۔
[81]﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰؔدِي الۡعُمۡيِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ﴾ ’’اور نہ آپ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾(القصص:28؍56) ’’آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’آپ تو ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مطیع ہوجاتے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ جو آپ کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اپنے اعمال اور اپنی اطاعت کے ذریعے سے ان آیات کی اتباع کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ يَسۡمَعُوۡنَ١ؔؕ وَالۡمَوۡتٰى يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ﴾(الانعام:6؍36) ’’حق کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز زندہ کرے گا پھر وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔‘‘
27:82۞وَإِذَا وَقَعَ ٱلۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ أَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ تُكَلِّمُهُمۡ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ
اورجب واقع (ہونے کو) ہو گا قول ان پر تو نکالیں گے ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے، وہ کلام کرے گا ان سے کہ بے شک لوگ تھے ہماری آیتوں پر نہیں یقین رکھتے (82)
[82] یعنی جب لوگوں پر وہ بات پوری ہونے کا وقت آ پہنچے گا جسے اللہ تعالیٰ نے حتمی قرار دیا ہے اور اس کا وقت مقرر کر دیا ہے ﴿ اَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةً مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو ہم ان کے لیے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے‘‘ یا زمین کے جانوروں میں سے ایک جانور، جو آسمان کے جانوروں میں سے نہیں ہو گا۔ ﴿تُكَلِّمُهُمۡ ﴾ یہ جانور بندوں کے ساتھ کلام کرے گا کہ بے شک لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے، یعنی اس وجہ سے کہ لوگوں کا علم اور آیات الٰہی پر ان کا یقین کمزور ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ اس جانور کو ظاہر فرمائے گا جو کہ اللہ تعالیٰ کی حیرت انگیز نشانیوں میں سے ہے تاکہ اس چیز کو وہ لوگوں پر کھول کھول کر بیان کر دے جس میں وہ شک کیا کرتے تھے۔ یہ جانور وہ مشہور جانور ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہو گا اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس بارے میں بکثرت احادیث وارد ہوئی ہیں ، (اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے اس جانور کی کیفیت اور اس کی نوع ذکر نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ تو دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے لیے ظاہر کرے گا اور وہ خارق عادت کے طور پر لوگوں سے کلام کرے گا اور یہ ان سچے دلائل میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بتایا ہے۔ واللہ اعلم)(بریکٹوں کے درمیان والی عبارت نسخہ الف کے حاشیے میں شیخ (مؤلف تفسیر) کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ہے)(از محقق)
27:83وَيَوۡمَ نَحۡشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٖ فَوۡجٗا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُمۡ يُوزَعُونَ
اور جس دن اکٹھا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں میں سے جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو پس وہ روکے جائیں گے (83) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے (محشر میں ) تو کہے گا (اللہ)، کیا جھٹلایا تھا تم نے میری آیتوں کو جبکہ نہیں احاطہ کیا تھا تم نے ان کا علم سے یا کیا تھے تم عمل کرتے رہے؟ (84) اور واقع ہو جائے گا قول (عذاب) ان پر بوجہ اس کے جو ظلم کیا انھوں نے پس وہ نہیں بول سکیں گے (85)
[83] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ مِّمَّنۡ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ساتھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔‘‘ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجروتوبیخ اور ملامت کی جائے گی۔
[84]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡ ﴾ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجروتوبیخ کرتے اور ڈانٹتے ہوئے پوچھے گا ﴿ اَ كَذَّبۡتُمۡ بِاٰيٰتِيۡ وَلَمۡ تُحِيۡطُوۡا بِهَا عِلۡمًا ﴾ ’’کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمھارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔‘‘ تم پر اس وقت تک توقف کرنا فرض تھا جب تک کہ حق منکشف نہ ہو جاتا اور صرف کسی علم کی بنیاد پر کلام کرتے۔ تم نے ایک ایسے امر کی کیونکر تکذیب کر دی جبکہ تمھیں اس کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں ﴿ اَمَّاذَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کچھ کرتے رہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے ان کے علم اور ان کے عمل کے بارے میں سوال کرے گا تو وہ ان کے علم کو حق کی تکذیب کرنے والا اور ان کے عمل کو غیر اللہ کے لیے یا ان کے رسول(ﷺ) کی سنت کے خلاف پائے گا۔
[85]﴿ وَوَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ اور جب، ان کے اس ظلم کی پاداش میں جس پر وہ اڑے ہوئے تھے، ان کے لیے عذاب کا حکم متحقق ہوجائے گا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ بول نہیں سکیں گے۔‘‘ کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔
27:84حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبۡتُم بِـَٔايَٰتِي وَلَمۡ تُحِيطُواْ بِهَا عِلۡمًا أَمَّاذَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
اور جس دن اکٹھا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں میں سے جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو پس وہ روکے جائیں گے (83) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے (محشر میں ) تو کہے گا (اللہ)، کیا جھٹلایا تھا تم نے میری آیتوں کو جبکہ نہیں احاطہ کیا تھا تم نے ان کا علم سے یا کیا تھے تم عمل کرتے رہے؟ (84) اور واقع ہو جائے گا قول (عذاب) ان پر بوجہ اس کے جو ظلم کیا انھوں نے پس وہ نہیں بول سکیں گے (85)
[83] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ مِّمَّنۡ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ساتھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔‘‘ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجروتوبیخ اور ملامت کی جائے گی۔
[84]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡ ﴾ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجروتوبیخ کرتے اور ڈانٹتے ہوئے پوچھے گا ﴿ اَ كَذَّبۡتُمۡ بِاٰيٰتِيۡ وَلَمۡ تُحِيۡطُوۡا بِهَا عِلۡمًا ﴾ ’’کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمھارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔‘‘ تم پر اس وقت تک توقف کرنا فرض تھا جب تک کہ حق منکشف نہ ہو جاتا اور صرف کسی علم کی بنیاد پر کلام کرتے۔ تم نے ایک ایسے امر کی کیونکر تکذیب کر دی جبکہ تمھیں اس کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں ﴿ اَمَّاذَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کچھ کرتے رہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے ان کے علم اور ان کے عمل کے بارے میں سوال کرے گا تو وہ ان کے علم کو حق کی تکذیب کرنے والا اور ان کے عمل کو غیر اللہ کے لیے یا ان کے رسول(ﷺ) کی سنت کے خلاف پائے گا۔
[85]﴿ وَوَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ اور جب، ان کے اس ظلم کی پاداش میں جس پر وہ اڑے ہوئے تھے، ان کے لیے عذاب کا حکم متحقق ہوجائے گا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ بول نہیں سکیں گے۔‘‘ کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔
27:85وَوَقَعَ ٱلۡقَوۡلُ عَلَيۡهِم بِمَا ظَلَمُواْ فَهُمۡ لَا يَنطِقُونَ
اور جس دن اکٹھا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں میں سے جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو پس وہ روکے جائیں گے (83) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے (محشر میں ) تو کہے گا (اللہ)، کیا جھٹلایا تھا تم نے میری آیتوں کو جبکہ نہیں احاطہ کیا تھا تم نے ان کا علم سے یا کیا تھے تم عمل کرتے رہے؟ (84) اور واقع ہو جائے گا قول (عذاب) ان پر بوجہ اس کے جو ظلم کیا انھوں نے پس وہ نہیں بول سکیں گے (85)
[83] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ مِّمَّنۡ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ساتھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔‘‘ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجروتوبیخ اور ملامت کی جائے گی۔
[84]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡ ﴾ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجروتوبیخ کرتے اور ڈانٹتے ہوئے پوچھے گا ﴿ اَ كَذَّبۡتُمۡ بِاٰيٰتِيۡ وَلَمۡ تُحِيۡطُوۡا بِهَا عِلۡمًا ﴾ ’’کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمھارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔‘‘ تم پر اس وقت تک توقف کرنا فرض تھا جب تک کہ حق منکشف نہ ہو جاتا اور صرف کسی علم کی بنیاد پر کلام کرتے۔ تم نے ایک ایسے امر کی کیونکر تکذیب کر دی جبکہ تمھیں اس کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں ﴿ اَمَّاذَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کچھ کرتے رہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے ان کے علم اور ان کے عمل کے بارے میں سوال کرے گا تو وہ ان کے علم کو حق کی تکذیب کرنے والا اور ان کے عمل کو غیر اللہ کے لیے یا ان کے رسول(ﷺ) کی سنت کے خلاف پائے گا۔
[85]﴿ وَوَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ اور جب، ان کے اس ظلم کی پاداش میں جس پر وہ اڑے ہوئے تھے، ان کے لیے عذاب کا حکم متحقق ہوجائے گا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ بول نہیں سکیں گے۔‘‘ کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔
27:86أَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا جَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ لِيَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک بنایا ہم نے رات کو تاکہ وہ آرام کریں اس میں اور (بنایا) دن کودکھلانے والا (روشن)؟ بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (86)
[86] یعنی کیا انھوں نے اس عظیم نشانی اور بہت بڑی نعمت کا مشاہدہ نہیں کیا؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے شب و روز کو مسخر کر دیا۔ یہ رات اپنے اندھیرے کی وجہ سے نعمت ہے لوگ اس میں سکون پاتے اور تھکن سے آرام کرتے ہیں اور کام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور دن اپنی روشنی کی وجہ سے نعمت ہے تاکہ لوگ اس روشنی میں پھیل جائیں اور اپنی معاش اور دیگر مصروفیات میں مشغول ہو جائیں ۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ کی کامل وحدانیت اور اس کی بے پایاں نعمت پر۔
27:87وَيَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَكُلٌّ أَتَوۡهُ دَٰخِرِينَ
اور جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو گھبرا جائے گا جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں سوائے اس کے جسے چاہے اللہ اور سب (لوگ) آئیں گے اللہ کے پاس ذلیل ہو کر (87) اور آپ دیکھیں گے پہاڑوں کو تو گمان کریں گے آپ ان کو جمے ہوئے جبکہ وہ چل رہے ہوں گے مانند چلنے بادلوں کے (یہ) کاری گری ہے اللہ کی جس نے پختہ کیا ہرچیز کو، بلاشبہ وہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو (88) جو شخص لائے گا نیکی تو اس کے لیے بہت بہتر (بدلہ) ہو گا اس سےاور اور وہ لوگ گھبراہٹ سے ا س دن بے خوف ہوں گے (89) اور جو شخص لائے گا برائی تو اوندھے کر دے جائیں گے ان کے منہ آگ میں (اورکہا جائے گا) نہیں سزا دیے جاؤ گے تم مگر (اس کی) جو کچھ تھے تم عمل کرتے (90)
[87] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انھیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انھیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلا دینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَفَزِعَ ﴾ ’’اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔‘‘ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ ﴿ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے گی اور وہ خوف کی وجہ سے جو انھیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ﴾ سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کر ثابت قدمی عطا کرے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ یعنی صور پھونکے جانے کے وقت تمام مخلوق ﴿ اَتَوۡهُ دٰخِرِيۡنَ﴾ ذلیل اور مطیع ہو کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93) ’’زمین اور آسمان کے اندر جو بھی مخلوق ہے وہ سب رحمن کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘ اور اس روز مالک الملک کے حضور تذلل اور عاجزی میں رؤساء اور عوام سب برابر ہوں گے۔
[88] قیامت کے روز کی ہولناکی کی وجہ سے ﴿تَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً ﴾ ’’آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ جامد ہیں ۔‘‘ یعنی آپ ان میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ یہ تمام پہاڑ اپنے اپنے احوال میں باقی ہیں حالانکہ یہ شدت اور ہولناکی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹ پھوٹ کر اور غبار بن کر اڑ جائیں گے اس لیے فرمایا: ﴿ وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ﴾ ’’اور وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ اپنی خفت اور شدت خوف کے باعث۔ ﴿ صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بے شک وہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[89] پھر اللہ تعالیٰ نے اس جزا کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو تمام قسم کی قولی، فعلی اور قلبی نیکیوں کو شامل ہے ﴿ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّؔنۡهَا﴾ ’’تو اس کے لیے اس سے بہتر ہے۔‘‘ یہ کمترین تفصیل ہے۔(مصنف a نے اس مقام پر سبقت قلم سے سورۃ الانعام کی آیت ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا﴾ کی تفسیر کردی ہے) ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ يَّوۡمَىِٕذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور سے مامون اور مصؤن ہوں گے جن سے مخلوق گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہو گی اگرچہ وہ بھی ان کے ساتھ گھبرا رہے ہوں گے۔
[90]﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ ﴾ ’’اور جو برائی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو ہر قسم کی برائی کو شامل ہے ﴿ فَكُبَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ﴾ یعنی انھیں چہروں کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ﴿ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘
27:88وَتَرَى ٱلۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةٗ وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِۚ صُنۡعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِيٓ أَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍۚ إِنَّهُۥ خَبِيرُۢ بِمَا تَفۡعَلُونَ
اور جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو گھبرا جائے گا جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں سوائے اس کے جسے چاہے اللہ اور سب (لوگ) آئیں گے اللہ کے پاس ذلیل ہو کر (87) اور آپ دیکھیں گے پہاڑوں کو تو گمان کریں گے آپ ان کو جمے ہوئے جبکہ وہ چل رہے ہوں گے مانند چلنے بادلوں کے (یہ) کاری گری ہے اللہ کی جس نے پختہ کیا ہرچیز کو، بلاشبہ وہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو (88) جو شخص لائے گا نیکی تو اس کے لیے بہت بہتر (بدلہ) ہو گا اس سےاور اور وہ لوگ گھبراہٹ سے ا س دن بے خوف ہوں گے (89) اور جو شخص لائے گا برائی تو اوندھے کر دے جائیں گے ان کے منہ آگ میں (اورکہا جائے گا) نہیں سزا دیے جاؤ گے تم مگر (اس کی) جو کچھ تھے تم عمل کرتے (90)
[87] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انھیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انھیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلا دینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَفَزِعَ ﴾ ’’اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔‘‘ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ ﴿ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے گی اور وہ خوف کی وجہ سے جو انھیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ﴾ سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کر ثابت قدمی عطا کرے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ یعنی صور پھونکے جانے کے وقت تمام مخلوق ﴿ اَتَوۡهُ دٰخِرِيۡنَ﴾ ذلیل اور مطیع ہو کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93) ’’زمین اور آسمان کے اندر جو بھی مخلوق ہے وہ سب رحمن کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘ اور اس روز مالک الملک کے حضور تذلل اور عاجزی میں رؤساء اور عوام سب برابر ہوں گے۔
[88] قیامت کے روز کی ہولناکی کی وجہ سے ﴿تَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً ﴾ ’’آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ جامد ہیں ۔‘‘ یعنی آپ ان میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ یہ تمام پہاڑ اپنے اپنے احوال میں باقی ہیں حالانکہ یہ شدت اور ہولناکی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹ پھوٹ کر اور غبار بن کر اڑ جائیں گے اس لیے فرمایا: ﴿ وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ﴾ ’’اور وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ اپنی خفت اور شدت خوف کے باعث۔ ﴿ صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بے شک وہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[89] پھر اللہ تعالیٰ نے اس جزا کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو تمام قسم کی قولی، فعلی اور قلبی نیکیوں کو شامل ہے ﴿ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّؔنۡهَا﴾ ’’تو اس کے لیے اس سے بہتر ہے۔‘‘ یہ کمترین تفصیل ہے۔(مصنف a نے اس مقام پر سبقت قلم سے سورۃ الانعام کی آیت ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا﴾ کی تفسیر کردی ہے) ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ يَّوۡمَىِٕذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور سے مامون اور مصؤن ہوں گے جن سے مخلوق گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہو گی اگرچہ وہ بھی ان کے ساتھ گھبرا رہے ہوں گے۔
[90]﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ ﴾ ’’اور جو برائی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو ہر قسم کی برائی کو شامل ہے ﴿ فَكُبَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ﴾ یعنی انھیں چہروں کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ﴿ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘
27:89مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَا وَهُم مِّن فَزَعٖ يَوۡمَئِذٍ ءَامِنُونَ
اور جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو گھبرا جائے گا جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں سوائے اس کے جسے چاہے اللہ اور سب (لوگ) آئیں گے اللہ کے پاس ذلیل ہو کر (87) اور آپ دیکھیں گے پہاڑوں کو تو گمان کریں گے آپ ان کو جمے ہوئے جبکہ وہ چل رہے ہوں گے مانند چلنے بادلوں کے (یہ) کاری گری ہے اللہ کی جس نے پختہ کیا ہرچیز کو، بلاشبہ وہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو (88) جو شخص لائے گا نیکی تو اس کے لیے بہت بہتر (بدلہ) ہو گا اس سےاور اور وہ لوگ گھبراہٹ سے ا س دن بے خوف ہوں گے (89) اور جو شخص لائے گا برائی تو اوندھے کر دے جائیں گے ان کے منہ آگ میں (اورکہا جائے گا) نہیں سزا دیے جاؤ گے تم مگر (اس کی) جو کچھ تھے تم عمل کرتے (90)
[87] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انھیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انھیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلا دینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَفَزِعَ ﴾ ’’اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔‘‘ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ ﴿ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے گی اور وہ خوف کی وجہ سے جو انھیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ﴾ سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کر ثابت قدمی عطا کرے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ یعنی صور پھونکے جانے کے وقت تمام مخلوق ﴿ اَتَوۡهُ دٰخِرِيۡنَ﴾ ذلیل اور مطیع ہو کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93) ’’زمین اور آسمان کے اندر جو بھی مخلوق ہے وہ سب رحمن کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘ اور اس روز مالک الملک کے حضور تذلل اور عاجزی میں رؤساء اور عوام سب برابر ہوں گے۔
[88] قیامت کے روز کی ہولناکی کی وجہ سے ﴿تَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً ﴾ ’’آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ جامد ہیں ۔‘‘ یعنی آپ ان میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ یہ تمام پہاڑ اپنے اپنے احوال میں باقی ہیں حالانکہ یہ شدت اور ہولناکی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹ پھوٹ کر اور غبار بن کر اڑ جائیں گے اس لیے فرمایا: ﴿ وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ﴾ ’’اور وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ اپنی خفت اور شدت خوف کے باعث۔ ﴿ صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بے شک وہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[89] پھر اللہ تعالیٰ نے اس جزا کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو تمام قسم کی قولی، فعلی اور قلبی نیکیوں کو شامل ہے ﴿ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّؔنۡهَا﴾ ’’تو اس کے لیے اس سے بہتر ہے۔‘‘ یہ کمترین تفصیل ہے۔(مصنف a نے اس مقام پر سبقت قلم سے سورۃ الانعام کی آیت ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا﴾ کی تفسیر کردی ہے) ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ يَّوۡمَىِٕذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور سے مامون اور مصؤن ہوں گے جن سے مخلوق گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہو گی اگرچہ وہ بھی ان کے ساتھ گھبرا رہے ہوں گے۔
[90]﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ ﴾ ’’اور جو برائی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو ہر قسم کی برائی کو شامل ہے ﴿ فَكُبَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ﴾ یعنی انھیں چہروں کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ﴿ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘
27:90وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُبَّتۡ وُجُوهُهُمۡ فِي ٱلنَّارِ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
اور جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو گھبرا جائے گا جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں سوائے اس کے جسے چاہے اللہ اور سب (لوگ) آئیں گے اللہ کے پاس ذلیل ہو کر (87) اور آپ دیکھیں گے پہاڑوں کو تو گمان کریں گے آپ ان کو جمے ہوئے جبکہ وہ چل رہے ہوں گے مانند چلنے بادلوں کے (یہ) کاری گری ہے اللہ کی جس نے پختہ کیا ہرچیز کو، بلاشبہ وہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو (88) جو شخص لائے گا نیکی تو اس کے لیے بہت بہتر (بدلہ) ہو گا اس سےاور اور وہ لوگ گھبراہٹ سے ا س دن بے خوف ہوں گے (89) اور جو شخص لائے گا برائی تو اوندھے کر دے جائیں گے ان کے منہ آگ میں (اورکہا جائے گا) نہیں سزا دیے جاؤ گے تم مگر (اس کی) جو کچھ تھے تم عمل کرتے (90)
[87] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انھیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انھیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلا دینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَفَزِعَ ﴾ ’’اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔‘‘ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ ﴿ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے گی اور وہ خوف کی وجہ سے جو انھیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ﴾ سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کر ثابت قدمی عطا کرے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ یعنی صور پھونکے جانے کے وقت تمام مخلوق ﴿ اَتَوۡهُ دٰخِرِيۡنَ﴾ ذلیل اور مطیع ہو کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93) ’’زمین اور آسمان کے اندر جو بھی مخلوق ہے وہ سب رحمن کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘ اور اس روز مالک الملک کے حضور تذلل اور عاجزی میں رؤساء اور عوام سب برابر ہوں گے۔
[88] قیامت کے روز کی ہولناکی کی وجہ سے ﴿تَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً ﴾ ’’آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ جامد ہیں ۔‘‘ یعنی آپ ان میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ یہ تمام پہاڑ اپنے اپنے احوال میں باقی ہیں حالانکہ یہ شدت اور ہولناکی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹ پھوٹ کر اور غبار بن کر اڑ جائیں گے اس لیے فرمایا: ﴿ وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ﴾ ’’اور وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ اپنی خفت اور شدت خوف کے باعث۔ ﴿ صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بے شک وہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[89] پھر اللہ تعالیٰ نے اس جزا کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو تمام قسم کی قولی، فعلی اور قلبی نیکیوں کو شامل ہے ﴿ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّؔنۡهَا﴾ ’’تو اس کے لیے اس سے بہتر ہے۔‘‘ یہ کمترین تفصیل ہے۔(مصنف a نے اس مقام پر سبقت قلم سے سورۃ الانعام کی آیت ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا﴾ کی تفسیر کردی ہے) ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ يَّوۡمَىِٕذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور سے مامون اور مصؤن ہوں گے جن سے مخلوق گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہو گی اگرچہ وہ بھی ان کے ساتھ گھبرا رہے ہوں گے۔
[90]﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ ﴾ ’’اور جو برائی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو ہر قسم کی برائی کو شامل ہے ﴿ فَكُبَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ﴾ یعنی انھیں چہروں کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ﴿ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘
27:91إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ ٱلۡبَلۡدَةِ ٱلَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَيۡءٖۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
یقینا حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کروں میں رب کی اس شہر(مکہ) کے وہ جس نے حرمت دی اس کو اور اسی کے لیے ہے ہر چیزاورحکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں مسلمانوں میں سے (91) اوریہ کہ تلاوت کروں میں قرآن کی، پس جس نے ہدایت پائی تو یقینا وہ ہدایت پائے گا اپنی ہی ذات کے لیےاور جو شخص گمراہ ہوا تو آپ کہہ دیجیے! یقینا میں تو ہوں ڈرانے والوں میں سے (92) اور کہہ دیجیے! تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ دکھائے گا تمھیں اپنی نشانیاں سو پہچان لو گے تم ان کو اور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو (93)
[91] اے محمد (ﷺ) ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ هٰؔذِهِ الۡبَلۡدَةِ ﴾ ’’مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں ۔‘‘ یعنی مکہ مکرمہ ﴿ الَّذِيۡ حَرَّمَهَا ﴾ ’’جس نے اس کو محترم بنایا۔‘‘ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔ ﴿ وَلَهٗ كُلُّ شَيۡءٍ﴾ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے ﴿ وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾(یہاں مصنف نے سبقت قلم سے ﴿ وَّاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَ كُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر کی ہے) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جلدی سے اسلام کی طرف بڑھوں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعمیل کی کیونکہ وہ اولین مسلمان اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے۔
[92]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح مجھے یہ حکم بھی دیا گیا ہے ﴿ اَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ﴾ ’’کہ میں تمھارے سامنے قرآن کی تلاوت کروں ‘‘ تاکہ تم اس کے ذریعے سے راہ نمائی حاصل کرو اور اس کے الفاظ اور معانی کو سیکھو۔ یہی میری ذمہ داری ہے جو میں نے پوری کر دی ہے۔ ﴿ فَمَنِ اهۡتَدٰؔى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہو گا اور وہی اس کا پھل پائے گا۔ ﴿ وَمَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ ﴾ ’’اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں ۔‘‘ اور ہدایت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
[93]﴿ وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ یعنی دنیا وآخرت میں ، تمام خلائق، خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندوں کی طرف سے ہر قسم کی حمد وثنا صرف اسی کے لیے ہے۔ کیونکہ ان کی طرف سے اپنے رب کے لیے ہونے والی حمد و ثنا دوسرے لوگوں کی طرف سے ہونے والی حمد و ثنا کی بنسبت زیادہ عظمت کے لائق ہے کیونکہ ان کے درجات بلند، ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب کامل نیز ان پر اس کے احسانات زیادہ ہیں ۔ ﴿ سَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ فَتَعۡرِفُوۡنَهَا﴾ ’’وہ عنقریب تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جنھیں تم پہچان لو گے۔‘‘ ان آیات الٰہی کی تمھیں ایسی معرفت حاصل ہو گی جو حق اور باطل کے بارے میں راہنمائی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ضرور تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جن کے ذریعے سے تم اندھیروں میں اپنی راہوں کو روشن کرو گے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42)’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا رب تمھارے عملوں سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘ بلکہ وہ تمھارے اعمال و احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے ان اعمال کی جزا کی مقدار کا بھی علم ہے وہ تمھارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا کہ تم اس فیصلے پر اس کی حمدوثنا بیان کرو گے اور یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے تمھارے لیے اس کے خلاف حجت نہ ہو گا۔
27:92وَأَنۡ أَتۡلُوَاْ ٱلۡقُرۡءَانَۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهۡتَدِي لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ
یقینا حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کروں میں رب کی اس شہر(مکہ) کے وہ جس نے حرمت دی اس کو اور اسی کے لیے ہے ہر چیزاورحکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں مسلمانوں میں سے (91) اوریہ کہ تلاوت کروں میں قرآن کی، پس جس نے ہدایت پائی تو یقینا وہ ہدایت پائے گا اپنی ہی ذات کے لیےاور جو شخص گمراہ ہوا تو آپ کہہ دیجیے! یقینا میں تو ہوں ڈرانے والوں میں سے (92) اور کہہ دیجیے! تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ دکھائے گا تمھیں اپنی نشانیاں سو پہچان لو گے تم ان کو اور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو (93)
[91] اے محمد (ﷺ) ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ هٰؔذِهِ الۡبَلۡدَةِ ﴾ ’’مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں ۔‘‘ یعنی مکہ مکرمہ ﴿ الَّذِيۡ حَرَّمَهَا ﴾ ’’جس نے اس کو محترم بنایا۔‘‘ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔ ﴿ وَلَهٗ كُلُّ شَيۡءٍ﴾ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے ﴿ وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾(یہاں مصنف نے سبقت قلم سے ﴿ وَّاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَ كُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر کی ہے) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جلدی سے اسلام کی طرف بڑھوں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعمیل کی کیونکہ وہ اولین مسلمان اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے۔
[92]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح مجھے یہ حکم بھی دیا گیا ہے ﴿ اَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ﴾ ’’کہ میں تمھارے سامنے قرآن کی تلاوت کروں ‘‘ تاکہ تم اس کے ذریعے سے راہ نمائی حاصل کرو اور اس کے الفاظ اور معانی کو سیکھو۔ یہی میری ذمہ داری ہے جو میں نے پوری کر دی ہے۔ ﴿ فَمَنِ اهۡتَدٰؔى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہو گا اور وہی اس کا پھل پائے گا۔ ﴿ وَمَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ ﴾ ’’اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں ۔‘‘ اور ہدایت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
[93]﴿ وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ یعنی دنیا وآخرت میں ، تمام خلائق، خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندوں کی طرف سے ہر قسم کی حمد وثنا صرف اسی کے لیے ہے۔ کیونکہ ان کی طرف سے اپنے رب کے لیے ہونے والی حمد و ثنا دوسرے لوگوں کی طرف سے ہونے والی حمد و ثنا کی بنسبت زیادہ عظمت کے لائق ہے کیونکہ ان کے درجات بلند، ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب کامل نیز ان پر اس کے احسانات زیادہ ہیں ۔ ﴿ سَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ فَتَعۡرِفُوۡنَهَا﴾ ’’وہ عنقریب تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جنھیں تم پہچان لو گے۔‘‘ ان آیات الٰہی کی تمھیں ایسی معرفت حاصل ہو گی جو حق اور باطل کے بارے میں راہنمائی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ضرور تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جن کے ذریعے سے تم اندھیروں میں اپنی راہوں کو روشن کرو گے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42)’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا رب تمھارے عملوں سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘ بلکہ وہ تمھارے اعمال و احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے ان اعمال کی جزا کی مقدار کا بھی علم ہے وہ تمھارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا کہ تم اس فیصلے پر اس کی حمدوثنا بیان کرو گے اور یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے تمھارے لیے اس کے خلاف حجت نہ ہو گا۔
27:93وَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ فَتَعۡرِفُونَهَاۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
یقینا حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کروں میں رب کی اس شہر(مکہ) کے وہ جس نے حرمت دی اس کو اور اسی کے لیے ہے ہر چیزاورحکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں مسلمانوں میں سے (91) اوریہ کہ تلاوت کروں میں قرآن کی، پس جس نے ہدایت پائی تو یقینا وہ ہدایت پائے گا اپنی ہی ذات کے لیےاور جو شخص گمراہ ہوا تو آپ کہہ دیجیے! یقینا میں تو ہوں ڈرانے والوں میں سے (92) اور کہہ دیجیے! تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ دکھائے گا تمھیں اپنی نشانیاں سو پہچان لو گے تم ان کو اور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو (93)
[91] اے محمد (ﷺ) ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ هٰؔذِهِ الۡبَلۡدَةِ ﴾ ’’مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں ۔‘‘ یعنی مکہ مکرمہ ﴿ الَّذِيۡ حَرَّمَهَا ﴾ ’’جس نے اس کو محترم بنایا۔‘‘ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔ ﴿ وَلَهٗ كُلُّ شَيۡءٍ﴾ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے ﴿ وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾(یہاں مصنف نے سبقت قلم سے ﴿ وَّاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَ كُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر کی ہے) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جلدی سے اسلام کی طرف بڑھوں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعمیل کی کیونکہ وہ اولین مسلمان اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے۔
[92]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح مجھے یہ حکم بھی دیا گیا ہے ﴿ اَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ﴾ ’’کہ میں تمھارے سامنے قرآن کی تلاوت کروں ‘‘ تاکہ تم اس کے ذریعے سے راہ نمائی حاصل کرو اور اس کے الفاظ اور معانی کو سیکھو۔ یہی میری ذمہ داری ہے جو میں نے پوری کر دی ہے۔ ﴿ فَمَنِ اهۡتَدٰؔى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہو گا اور وہی اس کا پھل پائے گا۔ ﴿ وَمَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ ﴾ ’’اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں ۔‘‘ اور ہدایت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
[93]﴿ وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ یعنی دنیا وآخرت میں ، تمام خلائق، خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندوں کی طرف سے ہر قسم کی حمد وثنا صرف اسی کے لیے ہے۔ کیونکہ ان کی طرف سے اپنے رب کے لیے ہونے والی حمد و ثنا دوسرے لوگوں کی طرف سے ہونے والی حمد و ثنا کی بنسبت زیادہ عظمت کے لائق ہے کیونکہ ان کے درجات بلند، ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب کامل نیز ان پر اس کے احسانات زیادہ ہیں ۔ ﴿ سَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ فَتَعۡرِفُوۡنَهَا﴾ ’’وہ عنقریب تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جنھیں تم پہچان لو گے۔‘‘ ان آیات الٰہی کی تمھیں ایسی معرفت حاصل ہو گی جو حق اور باطل کے بارے میں راہنمائی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ضرور تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جن کے ذریعے سے تم اندھیروں میں اپنی راہوں کو روشن کرو گے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42)’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا رب تمھارے عملوں سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘ بلکہ وہ تمھارے اعمال و احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے ان اعمال کی جزا کی مقدار کا بھی علم ہے وہ تمھارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا کہ تم اس فیصلے پر اس کی حمدوثنا بیان کرو گے اور یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے تمھارے لیے اس کے خلاف حجت نہ ہو گا۔