QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Qasas

ٱلْقَصَص

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 28 · 88 verses

28:1

طسٓمٓ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:2

تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:3

نَتۡلُواْ عَلَيۡكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرۡعَوۡنَ بِٱلۡحَقِّ لِقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:4

إِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلَ أَهۡلَهَا شِيَعٗا يَسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَةٗ مِّنۡهُمۡ يُذَبِّحُ أَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيِۦ نِسَآءَهُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:5

وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَنَجۡعَلَهُمۡ أَئِمَّةٗ وَنَجۡعَلَهُمُ ٱلۡوَٰرِثِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:6

وَنُمَكِّنَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَنُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَجُنُودَهُمَا مِنۡهُم مَّا كَانُواْ يَحۡذَرُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:7

وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَرۡضِعِيهِۖ فَإِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ فَأَلۡقِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحۡزَنِيٓۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيۡكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:8

فَٱلۡتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرۡعَوۡنَ لِيَكُونَ لَهُمۡ عَدُوّٗا وَحَزَنًاۗ إِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَجُنُودَهُمَا كَانُواْ خَٰطِـِٔينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:9

وَقَالَتِ ٱمۡرَأَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَيۡنٖ لِّي وَلَكَۖ لَا تَقۡتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:10

وَأَصۡبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَٰرِغًاۖ إِن كَادَتۡ لَتُبۡدِي بِهِۦ لَوۡلَآ أَن رَّبَطۡنَا عَلَىٰ قَلۡبِهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:11

وَقَالَتۡ لِأُخۡتِهِۦ قُصِّيهِۖ فَبَصُرَتۡ بِهِۦ عَن جُنُبٖ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:12

۞وَحَرَّمۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَرَاضِعَ مِن قَبۡلُ فَقَالَتۡ هَلۡ أَدُلُّكُمۡ عَلَىٰٓ أَهۡلِ بَيۡتٖ يَكۡفُلُونَهُۥ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهُۥ نَٰصِحُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:13

فَرَدَدۡنَٰهُ إِلَىٰٓ أُمِّهِۦ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ وَلِتَعۡلَمَ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:14

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسۡتَوَىٰٓ ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:15

وَدَخَلَ ٱلۡمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفۡلَةٖ مِّنۡ أَهۡلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَٰذَا مِنۡ عَدُوِّهِۦۖ فَٱسۡتَغَٰثَهُ ٱلَّذِي مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِي مِنۡ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيۡهِۖ قَالَ هَٰذَا مِنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِۖ إِنَّهُۥ عَدُوّٞ مُّضِلّٞ مُّبِينٞ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:16

قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي فَٱغۡفِرۡ لِي فَغَفَرَ لَهُۥٓۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:17

قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ فَلَنۡ أَكُونَ ظَهِيرٗا لِّلۡمُجۡرِمِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:18

فَأَصۡبَحَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ خَآئِفٗا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِي ٱسۡتَنصَرَهُۥ بِٱلۡأَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهُۥۚ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِيّٞ مُّبِينٞ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:19

فَلَمَّآ أَنۡ أَرَادَ أَن يَبۡطِشَ بِٱلَّذِي هُوَ عَدُوّٞ لَّهُمَا قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقۡتُلَنِي كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسَۢا بِٱلۡأَمۡسِۖ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلۡمُصۡلِحِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:20

وَجَآءَ رَجُلٞ مِّنۡ أَقۡصَا ٱلۡمَدِينَةِ يَسۡعَىٰ قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلۡمَلَأَ يَأۡتَمِرُونَ بِكَ لِيَقۡتُلُوكَ فَٱخۡرُجۡ إِنِّي لَكَ مِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:21

فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآئِفٗا يَتَرَقَّبُۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:22

وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّيٓ أَن يَهۡدِيَنِي سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:23

وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ أُمَّةٗ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسۡقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمۡرَأَتَيۡنِ تَذُودَانِۖ قَالَ مَا خَطۡبُكُمَاۖ قَالَتَا لَا نَسۡقِي حَتَّىٰ يُصۡدِرَ ٱلرِّعَآءُۖ وَأَبُونَا شَيۡخٞ كَبِيرٞ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:24

فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰٓ إِلَى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَآ أَنزَلۡتَ إِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٖ فَقِيرٞ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:25

فَجَآءَتۡهُ إِحۡدَىٰهُمَا تَمۡشِي عَلَى ٱسۡتِحۡيَآءٖ قَالَتۡ إِنَّ أَبِي يَدۡعُوكَ لِيَجۡزِيَكَ أَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَاۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيۡهِ ٱلۡقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفۡۖ نَجَوۡتَ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:26

قَالَتۡ إِحۡدَىٰهُمَا يَـٰٓأَبَتِ ٱسۡتَـٔۡجِرۡهُۖ إِنَّ خَيۡرَ مَنِ ٱسۡتَـٔۡجَرۡتَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡأَمِينُ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:27

قَالَ إِنِّيٓ أُرِيدُ أَنۡ أُنكِحَكَ إِحۡدَى ٱبۡنَتَيَّ هَٰتَيۡنِ عَلَىٰٓ أَن تَأۡجُرَنِي ثَمَٰنِيَ حِجَجٖۖ فَإِنۡ أَتۡمَمۡتَ عَشۡرٗا فَمِنۡ عِندِكَۖ وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أَشُقَّ عَلَيۡكَۚ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:28

قَالَ ذَٰلِكَ بَيۡنِي وَبَيۡنَكَۖ أَيَّمَا ٱلۡأَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَٰنَ عَلَيَّۖ وَٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٞ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:29

۞فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى ٱلۡأَجَلَ وَسَارَ بِأَهۡلِهِۦٓ ءَانَسَ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ نَارٗاۖ قَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا لَّعَلِّيٓ ءَاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ أَوۡ جَذۡوَةٖ مِّنَ ٱلنَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:30

فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِيَ مِن شَٰطِيِٕ ٱلۡوَادِ ٱلۡأَيۡمَنِ فِي ٱلۡبُقۡعَةِ ٱلۡمُبَٰرَكَةِ مِنَ ٱلشَّجَرَةِ أَن يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّيٓ أَنَا ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:31

وَأَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰٓ أَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡۖ إِنَّكَ مِنَ ٱلۡأٓمِنِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:32

ٱسۡلُكۡ يَدَكَ فِي جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٖ وَٱضۡمُمۡ إِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ ٱلرَّهۡبِۖ فَذَٰنِكَ بُرۡهَٰنَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:33

قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسٗا فَأَخَافُ أَن يَقۡتُلُونِ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:34

وَأَخِي هَٰرُونُ هُوَ أَفۡصَحُ مِنِّي لِسَانٗا فَأَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡءٗا يُصَدِّقُنِيٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُلۡطَٰنٗا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيۡكُمَا بِـَٔايَٰتِنَآۚ أَنتُمَا وَمَنِ ٱتَّبَعَكُمَا ٱلۡغَٰلِبُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:36

فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّفۡتَرٗى وَمَا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِيٓ ءَابَآئِنَا ٱلۡأَوَّلِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:37

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَن جَآءَ بِٱلۡهُدَىٰ مِنۡ عِندِهِۦ وَمَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:38

وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَأُ مَا عَلِمۡتُ لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرِي فَأَوۡقِدۡ لِي يَٰهَٰمَٰنُ عَلَى ٱلطِّينِ فَٱجۡعَل لِّي صَرۡحٗا لَّعَلِّيٓ أَطَّلِعُ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:39

وَٱسۡتَكۡبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُۥ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ إِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:40

فَأَخَذۡنَٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡيَمِّۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّـٰلِمِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:41

وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا يُنصَرُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:42

وَأَتۡبَعۡنَٰهُمۡ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا لَعۡنَةٗۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ هُم مِّنَ ٱلۡمَقۡبُوحِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:43

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِ مَآ أَهۡلَكۡنَا ٱلۡقُرُونَ ٱلۡأُولَىٰ بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:44

وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلۡغَرۡبِيِّ إِذۡ قَضَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَى ٱلۡأَمۡرَ وَمَا كُنتَ مِنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:45

وَلَٰكِنَّآ أَنشَأۡنَا قُرُونٗا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡعُمُرُۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيٗا فِيٓ أَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَا وَلَٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:46

وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلطُّورِ إِذۡ نَادَيۡنَا وَلَٰكِن رَّحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٖ مِّن قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:47

وَلَوۡلَآ أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ فَيَقُولُواْ رَبَّنَا لَوۡلَآ أَرۡسَلۡتَ إِلَيۡنَا رَسُولٗا فَنَتَّبِعَ ءَايَٰتِكَ وَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ مِنۡ عِندِنَا قَالُواْ لَوۡلَآ أُوتِيَ مِثۡلَ مَآ أُوتِيَ مُوسَىٰٓۚ أَوَلَمۡ يَكۡفُرُواْ بِمَآ أُوتِيَ مُوسَىٰ مِن قَبۡلُۖ قَالُواْ سِحۡرَانِ تَظَٰهَرَا وَقَالُوٓاْ إِنَّا بِكُلّٖ كَٰفِرُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:49

قُلۡ فَأۡتُواْ بِكِتَٰبٖ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ هُوَ أَهۡدَىٰ مِنۡهُمَآ أَتَّبِعۡهُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:50

فَإِن لَّمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَكَ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيۡرِ هُدٗى مِّنَ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:51

۞وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ ٱلۡقَوۡلَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ

طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2)پڑھتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں موسیٰ اور فرعون کی ساتھ حق کے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) بے شک فرعون نے سرکشی کی زمین (مصر) میں اور بنا دیا اس نے اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ، ضعیف سمجھتا تھا وہ ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو ان میں سے وہ ذبح کرتا تھا ان کے بیٹے اور زندہ رکھتا تھا ان کی عورتیں (بیٹیاں )، بلاشبہ وہ تھا فساد کرنے والوں میں سے (4) اور ہم چاہتے تھے یہ کہ احسان کریں ہم ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے تھے زمین (مصر) میں اور یہ کہ بنائیں ہم ان کو امام (پیشوا)اور بنائیں ہم انھیں وارث (ملک کا)(5)اور قدرت دیں ہم ان کو زمین میں اور دکھلائیں ہم فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان (کمزوروں کے ہاتھ) سے وہ چیز جس سے تھے وہ ڈرتے (6)اور الہام کیا ہم نے موسیٰ کی ماں کو یہ کہ دودھ پلا تو اس (موسیٰ) کو، پس جب ڈرے تو اس پر تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ڈرنا اور نہ غم کھانا بلاشبہ ہم لوٹانے والے ہیں اسے تیری طرف اور بنانے والے ہیں اس کو رسولوں میں سے (7)(اس نے ڈالا) پس اٹھا لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ ہو ان کے لیے دشمن اور (باعث) غم، بلاشبہ فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر تھے وہ خطا کار (8) اور کہا بیوی نے فرعون کی (یہ تو) ٹھنڈک ہے آنکھوں کی میرے لیے اور تیرے لیے، نہ قتل کرو تم اسے، امید ہے کہ یہ نفع دے ہمیں یا بنا لیں ہم اسے بیٹااور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (انجام کا)(9)اور ہو گیا دل موسیٰ کی ماں کا (صبر وقرار سے) خالی بلاشبہ قریب تھا کہ البتہ وہ ظاہر کر دیتی اس کو اگر نہ ہوتی یہ بات کہ مضبوط کر دیا تھا ہم نے اس کے دل کوتاکہ ہو وہ یقین کرنے والوں میں سے (10) اور کہا موسیٰ کی ماں نے اس کی بہن سے پیچھے پیچھے جا تو اس کے، پس وہ (گئی اور) دیکھتی رہی اسے دور سے جبکہ وہ (فرعونی) نہیں شعور رکھتے تھے (اس کا)(11)اور حرام کر دیا تھا ہم نے موسیٰ پردائیوں (کے دودھ) کو پہلے اس سے، پس کہا (موسیٰ کی بہن نے) کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اوپر ایک گھر والوں کے جو پرورش کریں اس (بچے) کی تمھارے لیےاور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہیں؟ (12) پس لوٹا دیا ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہوں اس کی آنکھیں اور (تاکہ) نہ غم کھائے وہ اور تاکہ وہ جان لے کہ بے شک وعدہ اللہ کا سچا ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (13) اور جب پہنچا وہ (موسیٰ) اپنی جوانی کو اور کامل ہو گیا (عقل و شعور میں ) تو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور اسی طرح جزا دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو (14) اور داخل ہوا وہ (موسیٰ) شہر میں ایسے وقت کہ غفلت میں تھے اس کے باشندے پس پایا اس نے اس شہر میں دو آدمیوں کو جو باہم لڑ رہے تھے، یہ (ایک تو) اس کے گروہ میں سے تھااور یہ (دوسرا) اس کے دشمن (گروہ میں ) سے پس مدد مانگی موسیٰ سے اس شخص نے جو اس کے گروہ میں سے تھا خلاف اس کے جو اس کے دشمن (گروہ میں ) سے تھا، پس گھونسا مارا اس (فرعونی) کو موسیٰ نے تو کام ہی تمام کر دیا اس کا، کہا موسیٰ نے، یہ (قتل) عمل ہے شیطان کا بلاشبہ وہ دشمن ہے، گمراہ کرنے والا صریح (15) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے ظلم کیا ہے اپنے نفس پر پس بخش دے مجھے سو بخش دیا اللہ نے اسے، بلاشبہ وہ ہے بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا(16) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بہ سبب اس کے کہ انعام کیا تو نے مجھ پر پس ہرگز نہیں ہوں گا میں مدد گار مجرموں کا (17) پس صبح کی موسیٰ نے شہر میں ڈرتے ڈرتے، انتظار کرتے ہوئے تو ناگہاں وہ شخص کہ جس نے مدد مانگی تھی اس سے کل، وہی (مدد کے لیے) پکار رہا تھا اسے (آج بھی) کہا اس سے موسیٰ نے، بلاشبہ تو البتہ گمراہ ہے ظاہر (18) پس جب ارادہ کیا موسیٰ نے یہ کہ پکڑے اس شخص کو کہ جو دشمن تھا ان دونوں کا تو اس (اسرائیلی) نے کہا اے موسیٰ! کیا چاہتا ہے تو یہ کہ قتل کرے تو مجھے جس طرح قتل کیا تھا تو نے ایک شخص کو کل؟ نہیں چاہتا تو مگر یہ کہ ہو تو ظالم زمین میں اور نہیں چاہتا تو یہ کہ ہو تو اصلاح کرنے والوں میں سے (19) اور آیا ایک آدمی آخری کنارے سے شہر کے دوڑتا ہوا اس نے کہا، اے موسیٰ! بلاشبہ (فرعونی) سردار مشورہ کر رہے ہیں تیرے متعلق تاکہ وہ قتل کر دیں تجھے، پس نکل جا تو، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) پس نکلا موسیٰ اس شہر سے ڈرتا سہمتا، انتظار کرتا ہوا (اور) کہا، اے میرے رب! تو نجات دے مجھے ظالم قوم سے (21) اور جب متوجہ ہوا وہ طرف مدین کی تو کہا، امید ہے میرا رب یہ کہ ہدایت دے گا وہ مجھے سیدھے راستے کی (22) اور جب وہ پہنچا پانی (کنویں ) پر مدین کے تو پایا اس نے اس پر ایک گروہ لوگوں کا، وہ پانی پلا رہے تھے (مویشیوں کو) اور پایا اس نے ان کے ورے دوعورتوں کو کہ و ہ روکتی تھیں (اپنے جانور)، موسیٰ نے کہا، کیاحال ہے تمھارا؟ انھوں نے کہا، نہیں پانی پلاتیں ہم حتیٰ کہ واپس لے جائیں چرواہے (اپنے مویشی) اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا (23) پس موسیٰ نے پانی پلایا ان کے لیے ، پھر پلٹا وہ طرف سائے کی اور کہا، اے میرے رب! بے شک میں اس چیز کا جو نازل کرے تو میری طرف بھلائی سے ، محتاج ہوں (24) پس آئی اس کے پاس ایک (لڑکی) ان دونوں سے چلتی تھی وہ حیا سے، اس نے کہا، بے شک میرے والد بلاتے ہیں تجھے تاکہ وہ دیں تجھے مزدوری اس کی کہ پانی پلایا ہے تو نے ہماری خاطر پس جب آیا وہ (موسیٰ) اس کے پاس اور بیان کیا اس نے اس پر (سارا) قصہ تو اس نے کہا، مت ڈر تو، نجات پالی ہے تو نے (اس) ظالم قوم سے (25) کہا ایک (لڑکی) نے ان دونوں میں سے، ابا جان! اجرت پر رکھ لیجیے اسے، بلاشبہ بہترین وہ شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں طاقتور اور امانتدار آدمی ہی ہے (26) ا س نے کہا، بلاشبہ میں چاہتا ہوں یہ کہ نکا ح کر دوں میں تجھ سے ایک کا اپنی ان دو بیٹیوں میں سے اوپر اس (شرط) کے کہ نوکری کرے تو میری آٹھ سال پس اگر پورے کرے تو دس سال تو(وہ) تیری طرف سے ہےاور نہیں چاہتا میں یہ کہ سختی کروں تجھ پر یقینا تو پائے گا مجھے، اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے (27) موسیٰ نے کہا، یہ (معاہدہ) ہے میرے درمیان اور آپ کے درمیان، جونسی دو مدتوں میں سے پوری کر لوں میں تو نہیں ہو گی زیادتی مجھ پر اور (اللہ)اوپر اس (بات) کے جو ہم کہہ رہے ہیں ، نگران ہے (28) پس جب پور ی کر لی موسیٰ نے (وہ) مدت اور چلا گیا لے کر اپنی بیوی کو تو دیکھی اس نے طور کی ایک جانب سے آگ، اس نے کہا اپنی بیوی سے، ٹھہرو تم، بے شک میں نے دیکھی ہے آگ سی، شاید کہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس جگہ سے کوئی خبر یا کوئی انگار ا آگ کا تاکہ تم تاپو (29) پس جب وہ آیا اس کے پاس تو ندا دیا گیاوہ وادی کے دائیں کنارے سے، بابرکت جگہ میں ، درخت (کی طرف) سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں اللہ ہوں ، رب سب جہانوں کا (30) اور یہ کہ ڈال دے تو لاٹھی اپنی، پس جب دیکھا موسیٰ نے لاٹھی کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیچھے ہٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ پیچھے مڑکر دیکھا اس نے (کہا گیا) اے موسیٰ آگے آاور نہ ڈر، بلاشبہ تو امن والوں میں سے ہے (31) داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں (پھر نکال اسے تو) نکلے گا وہ (سفید) چمکتا ہوا بغیر کسی عیب کے اور ملالے اپنی طرف اپنا بازو خوف سے (بچنے کے لیے) پس یہ دونوں دلیلیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان (32) موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں نے قتل کیا تھا ان میں سے ایک شخص کو سو ڈرتا ہوں میں کہ وہ قتل کر دیں مجھے (33) اور میرا بھائی ہارون، وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے باعتبار زبان کے، پس بھیج اسے میرے ساتھ مدد گار بنا کر کہ وہ تصدیق کرے میری، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (34)اللہ نے کہا، عنقریب ہم مضبوط کر دیں گے تیرا بازو ساتھ تیرے بھائی کے اور کر دیں گے ہم تم دونوں کے لیے غلبہ، سو نہیں پہنچ سکیں گے وہ تمھاری طرف (جاؤ تم) ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور جس نے تمھاری پیروی کی غالب ہوں گے (35) پس جب آیا ان کے پاس موسیٰ ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، نہیں ہے یہ مگر جادو ہی گھڑا ہوں اور نہیں سنیں ہم نے یہ (باتیں ) اپنے پہلے باپ دادا میں (36) اور کہا موسیٰ نے، میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ساتھ ہدایت کے اس کی طرف سےاور اس شخص کو کہ ہو گا اس کے لیے (بہتر) انجام آخرت کا بلاشبہ نہیں فلاح پاتے ظالم (37) اور کہا فرعون نے، اے سردارو! نہیں جانتا میں تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اپنے، پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان اوپر مٹی کے (یعنی اینٹیں بنا) پھر بنا تو میرے لیے ایک محل تاکہ (اس پہ چڑھ کر) جھانکوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بلاشبہ میں البتہ گمان کرتا ہوں موسیٰ کو جھوٹوں میں سے (38) اور تکبر کیا اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین (مصر) میں ناحق اور گمان کیا انھوں نے کہ بے شک وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے (39) پس پکڑ لیا ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، پس آپ دیکھیں کیسا ہوا انجام ظالموں کا؟ (40) اور بنایا تھا ہم نے ان کو پیشوا یانِ(کفر)، وہ بلاتے تھے آگ کی طرف اور دن قیامت کے نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(41) اور پیچھے لگا دی ہم نے ان کے اس دنیا میں لعنت اور دن قیامت کے وہ بدحالوں میں سے ہو ں گے (42) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، بعد اس کے کہ ہلاک کیا ہم نے پہلی امتوں کو، بصیرتیں (عطا کرنے والی) لوگوں کو اور ہدایت اورحمت (کا ذریعہ) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (43) اور نہیں تھے آپ مغربی جانب (طور کی) جب وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف (خاص) معاملے کی اور نہیں تھے آپ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں سے (44) لیکن ہم نے پیدا کیں کئی امتیں پس لمبی ہو گئیں ان پر عمریں اور نہیں تھے آپ مقیم اہلِ مدین میں کہ تلاوت کرتے آپ ان پر ہماری آیتیں لیکن ہم ہی تھے (آپ کو رسول بنا کر) بھیجنے والے (45) اور نہیں تھے آپ جانب طور کی جب آواز دی تھی ہم نے (موسیٰ کو) لیکن (یہ تو) رحمت ہے آپ کے رب کی طرف سےتاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (46) اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ پہنچتی ان کو کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو وہ کہتے اے ہمارے رب! کیوں نے نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول کہ پیروی کرتے ہم تیری آیتوں کی اور ہوتے ہم مومنوں میں سے، (تو آپ کو نہ بھیجتے)(47) پس جب آیا ان کے پاس حق ہمارے پاس سے تو انھوں نے کہا، کیوں نہیں دیا گیا یہ پیغمبر مثل ان (معجزوں ) کے جو دیے گئے تھے موسیٰ؟ کیا نہیں انکار کیا انھوں نے ان کا جو دیے گئے تھے موسیٰ پہلے اس سے؟ انھوں نے کہا تھا، (یہ) دو جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مدد گاراور کہا انھوں نے ، بلاشبہ ہم ہر ایک کے منکر ہیں (48) کہہ دیجیے! پس لے آؤ تم کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے کہ وہ زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے، میں پیروی کروں گا اس کی، اگر ہو تم سچے (49) پس اگر نہ قبول کی انھوں نے آپ کی بات تو جان لیجیے یقینا وہ پیروی کر رہے ہیں اپنی خواہشوں کی اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرے اپنی خواہش کی بغیر ہدایت کے اللہ کی طرف سے؟سے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو (50) اور البتہ تحقیق لگا تار بھیجا ہم نے ان کے لیے اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (51) [2]﴿تِلۡكَ﴾ یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں ۔ ﴿ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴾ کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں ، مثلاً:رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولیاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اور اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کر کے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کر دیا۔ [3] اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰu اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ نَتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰؔى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ہم تمھیں موسیٰ(u) اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن لوگوں کے لیے‘‘ پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں ، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں ۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ [4] موسیٰu اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَعًا﴾’’اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔‘‘ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔﴿ يَّسۡتَضۡعِفُ طَآىِٕفَةً مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔‘‘ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ يُذَبِّـحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔‘‘ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔ [5] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں ۔‘‘ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً ﴾ ’’اور (دین میں ) ہم ان کو امام بنا دیں ‘‘ اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں ‘‘ جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔ [6]﴿ وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور ملک میں ان کو قدرت دیں ۔‘‘ ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا ان پر اس کی مشیت جاری ہو گئی۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ہم اسی طرح چاہتے تھے کہ ﴿ نُرِيَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا ﴾ ’’فرعون، (اس کے وزیر) ہامان اور ان کے لشکروں کو (جن کی مدد سے وہ ظلم اور بغاوت اور سرکشی کرتے تھے)﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اس کمزور گروہ کی طرف سے۔ ﴿ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ چیز جس سے وہ ڈرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے گھروں سے نکال دینا۔ اس لیے وہ ان کا قلع قمع کرنے، ان کی شوکت کو توڑنے اور ان کے بیٹوں کو قتل کرنے میں کوشاں تھے کیونکہ ان کے بیٹے ان کی طاقت اور شوکت کا سبب تھے۔ان تمام امور کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے اسباب کو آسان اور اس کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب جاری فرمائے جس کو اس کے اولیاء جانتے تھے نہ اعداء… جو اس مطلوب و مقصود تک رسائی کا ذریعہ بن گئے۔ [7] اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول موسیٰu کو پیدا فرمایا جن کے ذریعے سے بنی اسرائیل کے گروہ کو نجات دلانا تھی، ان کی پیدائش انتہائی خوف کے حالات میں ہوئی کہ جب وہ اسرائیلی بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتے تھے … تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کی طرف وحی کی کہ وہ اپنے بیٹے (موسیٰu) کو دودھ پلاتی رہیں اور انھیں اپنے پاس رکھیں ﴿فَاِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو‘‘ یعنی جب کسی ایسے شخص کی آمد کاخطرہ محسوس کریں جو اسے فرعون کے پاس لے جائے۔ ﴿ فَاَلۡقِيۡهِ فِي الۡيَمِّ ﴾’’تو اسے دریا میں بہا دینا‘‘ یعنی ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دینا۔﴿ وَلَا تَخَافِيۡ وَلَا تَحۡزَنِيۡ١ۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَيۡكِ وَجَاعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ خوف اور غم کھانا بے شک ہم اس بچے کو تیری طرف ہی لوٹا دیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی والدہ کو خوشخبری سنا دی کہ وہ اس بچے کو ان کے پاس واپس لوٹا دے گا، یہ بچہ بڑا ہو گا اور ان کی سازشوں سے محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو رسول بنائے گا۔ یہ بہت بڑی اور جلیل القدر بشارت ہے جو موسیٰu کی والدہ کو دی گئی تاکہ ان کا دل مطمئن اور ان کا خوف زائل ہو جائے۔ [8] چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور موسیٰu کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ اس صندوق کو حفاظت کے ساتھ چلاتا رہا۔ حتی کہ فرعون کے گھر والوں نے اسے نکال لیا گویا وہ ان کے لیے راستے میں پڑا ہوا بچہ بن گیا جنھوں نے اسے نکالا تھا اور وہ اسے پاکر بہت خوش ہوئے ﴿ لِيَكُوۡنَ لَهُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا﴾ تاکہ ان کی عاقبت اور انجام یہ ہو کہ اٹھایا ہوا بچہ ان کا دشمن اور ان کے لیے حزن وغم اور صدمے کا باعث بنے، اس کا سبب یہ ہے کہ تقدیر الٰہی کے مقابلے میں احتیاط کام نہیں آتی۔ وہ چیز جس کے بارے میں وہ بنی اسرائیل سے خائف تھے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ ان کا قائد ان کے ہاتھوں میں ، ان کی نظروں کے سامنے اور ان کی کفالت میں تربیت پائے۔جب آپ حضرت موسیٰ کے واقعے میں غور وفکر کریں گے تو اس ضمن میں آپ پائیں گے کہ بنی اسرائیل کے لیے بہت سے مصالح حاصل ہوئے اور بہت سے پریشان کن امور سے انھیں چھٹکارا حاصل ہوا، اسی طرح آپ کو رسالت ملنے سے پہلے بنی اسرائیل پر سے بہت سے مظالم ختم ہوگئے، کیونکہ آپ مملکت فرعون کے ایک بڑے عہدے دار کی حیثیت سے رہتے تھے....چونکہ آپ ایک بلند ہمت اور انتہائی غیرت مند انسان تھے اسی لیے طبعی طور پر آپ کی قوم کے بہت سے حقوق کا دفاع ہونا ضروری تھا۔ آپ کی ضعیف اور کمزور قوم.... جن کی کمزوری و ناتوانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے.... کے بعض افراد اس ظالم و غاصب قوم کے خلاف جھگڑنے لگے تھے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔یہ حضرت موسیٰu کے ظہور کے مقدمات تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے کہ تمام امور آہستہ آہستہ اور بتدریج وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کوئی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ فرمایا:﴿ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا كَانُوۡا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ یعنی یہ سب مجرم تھے اس لیے ہم نے ان کو ان کے جرم کی سزا دینے کا ارادہ کیا اور ہم نے ان کے مکر اور سازش کرنے کی پاداش میں ان کے خلاف چال چلی۔ [9] پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰu کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾ ’’وہ بولی‘‘ یہ لڑکا ﴿ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّيۡ وَلَكَ١ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ﴾ ’’میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں ۔ ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّؔخِذَهٗ وَلَدًا ﴾ ’’شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ rموسیٰu کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰu کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ [10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔ [11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔ [12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔ [13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔ [14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔ [17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔ [19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔ [20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔ [21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔ [22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔ [23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔ [24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ [25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔ [26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ [27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔ [28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔ [29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔ [30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ [31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے [32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔ [34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘ [35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔ [36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘ [37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔ [38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔ [39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔ [40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔ [41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔ [42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔ [43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ [44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔ [45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔ [46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘ [47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ [48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔ [49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔ [50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ [51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟ قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.
28:52

ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِهِۦ هُم بِهِۦ يُؤۡمِنُونَ

وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب اس (قرآن) سے پہلے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں (52) اور جب تلاوت کیا جاتا ہے ان پر (قرآن) تو وہ کہتے ہیں ، ایمان لائے ہیں ہم اس پر، بے شک وہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، بلاشبہ ہم تو تھے اس سے پہلے ہی مسلمان(53) یہ لوگ دیے جائیں گے اپنا اجر دوبار بوجہ اس کے کہ انھوں نے صبر کیا اور وہ دور کرتے ہیں بھلائی کے ساتھ برائی کو اور اس میں سے جورزق دیا ہم نے ان کو وہ خرچ کرتے ہیں (54) اور جب وہ سنتے ہیں لغو بات تو اعراض کرتے ہیں وہ اس سے اور کہتے ہیں ، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں ، سلام ہو تم پر نہیں چاہتے ہم جاہلوں کو (55) [52] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت، صداقت اور حقانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حقیقت کا علم رکھنے والے اہل علم ہی اس کو پہچانتے، اس پر ایمان لاتے اور اس کی حقانیت کا اقرارکرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی۔‘‘ اس سے مراد وہ اہل تورات اور اہل انجیل ہیں جنھوں نے اپنی کتابوں میں تغیر و تبدل نہیں کیا۔ ﴿ هُمۡ بِهٖ ﴾ وہی اس قرآن اور قرآن کے لانے والے پر ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ [53]﴿ وَاِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور جب ان کے سامنے اس قرآن کو پڑھا جاتا ہے‘‘ تو اسے غور سے سنتے ہیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بے شک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ان کتابوں کے موافق ہے جنھیں انبیاء ورسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور ان کتابوں میں جو کچھ مذکور ہے اس کے عین مطابق ہے، سچی خبروں اور حکمت پر مبنی اوامر و نواہی پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی شہادت مفید اور ان کا قول نفع مند ہے۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں ، علم و بصیرت کی بنیاد پر کہتے ہیں کیونکہ وہ اہل خبر اور اہل کتاب ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا قرآن کو رد کرنا اور اس کی مخالفت کرنا ان کے لیے حجت ہونا تو کجا، وہ کسی شبہ پر بھی دلالت نہیں کرتا کیونکہ وہ لوگ جاہل یا حق کے بارے میں معاند متجاہل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدوں میں گر جاتے ہیں ۔‘‘اور ان کا قول ہے:﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلِهٖ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم تو اس کے پہلے سے مطیع ہیں ۔‘‘ اسی لیے جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان اور اسلام سے سرفراز فرمایا تو ہم اس پر ثابت قدم رہے، ہم نے اس قرآن کی تصدیق کی اور ہم پہلی اور آخری کتاب پر ایمان لائے، ہمارے علاوہ دیگر لوگ جب اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کی یہ تکذیب پہلی کتاب پر ایمان کے متناقض ہے۔ [54]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ۔‘‘ یعنی جو دونوں کتابوں پر ایمان لائے۔ ﴿ يُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ان کو دوبار اجر عطا کیا جائے گا‘‘ ایک اجر پہلی کتاب پر ایمان لانے پر اور ایک اجر دوسری کتاب پر ایمان لانے پر ﴿ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ایمان پر صبر کیا اور عمل پر ثابت قدم رہے کوئی شبہ ان کے ایمان کو متزلزل کر سکا نہ کوئی ریاست و شہوت ان کو اپنے ایمان سے ہٹا سکی۔ وہ اپنے بہترین خصائل جو ان کے ایمان صحیح کے آثار ہیں ، کے ذریعے سے بے شک وہ ﴿ وَيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’برائی کو بھلائی کے ساتھ دفع کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ان کی عادت اور طریقہ ہے۔ یہاں تک کہ جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو یہ اچھی بات اور اچھے فعل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ انھیں اس خلق عظیم کی فضیلت کا اچھی طرح علم ہے اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ اس خلق عظیم کی توفیق کسی خوش قسمت ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ [55]﴿ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغۡوَ اَعۡرَضُوۡا ﴾ ’’اور جب وہ کوئی فضول بات سنتے ہیں ‘‘ کسی جاہل شخص سے جو ان سے لغو گفتگو کرتا ہے ﴿وَقَالُوۡا ﴾ تو وہ رحمان کے عقلمند بندوں کی مانند ان سے کہتے ہیں : ﴿ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡ﴾ ’’ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔‘‘ یعنی ہر شخص کو اسی اکیلے کے عمل کی جزا دی جائے گی اس پر کسی دوسرے کے عمل کا بوجھ نہیں ہو گا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ جہلاء کے لغو اور باطل کاموں اور بے فائدہ کلام سے بچے ہوئے ہیں ۔ ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’سلامتی ہو تم پر‘‘ یعنی تم لوگ ہم سے بھلائی کے سوا کچھ نہیں سنو گے اور نہ ہم تم سے تمھاری جہالت کے تقاضے کے مطابق مخاطب ہوں گے۔ کیونکہ تم اگرچہ اپنے لیے اس کمینگی پر راضی ہو مگر ہم اپنے آپ کو اس کمینے رویے سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں ملوث ہونے سے بچتے ہیں ۔ ﴿ لَا نَبۡتَغِي الۡجٰهِلِيۡنَ ﴾ ’’ہم (کسی معاملے) میں جاہلوں سے نہیں الجھتے۔‘‘
28:53

وَإِذَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦٓ إِنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلِهِۦ مُسۡلِمِينَ

وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب اس (قرآن) سے پہلے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں (52) اور جب تلاوت کیا جاتا ہے ان پر (قرآن) تو وہ کہتے ہیں ، ایمان لائے ہیں ہم اس پر، بے شک وہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، بلاشبہ ہم تو تھے اس سے پہلے ہی مسلمان(53) یہ لوگ دیے جائیں گے اپنا اجر دوبار بوجہ اس کے کہ انھوں نے صبر کیا اور وہ دور کرتے ہیں بھلائی کے ساتھ برائی کو اور اس میں سے جورزق دیا ہم نے ان کو وہ خرچ کرتے ہیں (54) اور جب وہ سنتے ہیں لغو بات تو اعراض کرتے ہیں وہ اس سے اور کہتے ہیں ، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں ، سلام ہو تم پر نہیں چاہتے ہم جاہلوں کو (55) [52] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت، صداقت اور حقانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حقیقت کا علم رکھنے والے اہل علم ہی اس کو پہچانتے، اس پر ایمان لاتے اور اس کی حقانیت کا اقرارکرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی۔‘‘ اس سے مراد وہ اہل تورات اور اہل انجیل ہیں جنھوں نے اپنی کتابوں میں تغیر و تبدل نہیں کیا۔ ﴿ هُمۡ بِهٖ ﴾ وہی اس قرآن اور قرآن کے لانے والے پر ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ [53]﴿ وَاِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور جب ان کے سامنے اس قرآن کو پڑھا جاتا ہے‘‘ تو اسے غور سے سنتے ہیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بے شک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ان کتابوں کے موافق ہے جنھیں انبیاء ورسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور ان کتابوں میں جو کچھ مذکور ہے اس کے عین مطابق ہے، سچی خبروں اور حکمت پر مبنی اوامر و نواہی پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی شہادت مفید اور ان کا قول نفع مند ہے۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں ، علم و بصیرت کی بنیاد پر کہتے ہیں کیونکہ وہ اہل خبر اور اہل کتاب ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا قرآن کو رد کرنا اور اس کی مخالفت کرنا ان کے لیے حجت ہونا تو کجا، وہ کسی شبہ پر بھی دلالت نہیں کرتا کیونکہ وہ لوگ جاہل یا حق کے بارے میں معاند متجاہل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدوں میں گر جاتے ہیں ۔‘‘اور ان کا قول ہے:﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلِهٖ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم تو اس کے پہلے سے مطیع ہیں ۔‘‘ اسی لیے جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان اور اسلام سے سرفراز فرمایا تو ہم اس پر ثابت قدم رہے، ہم نے اس قرآن کی تصدیق کی اور ہم پہلی اور آخری کتاب پر ایمان لائے، ہمارے علاوہ دیگر لوگ جب اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کی یہ تکذیب پہلی کتاب پر ایمان کے متناقض ہے۔ [54]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ۔‘‘ یعنی جو دونوں کتابوں پر ایمان لائے۔ ﴿ يُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ان کو دوبار اجر عطا کیا جائے گا‘‘ ایک اجر پہلی کتاب پر ایمان لانے پر اور ایک اجر دوسری کتاب پر ایمان لانے پر ﴿ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ایمان پر صبر کیا اور عمل پر ثابت قدم رہے کوئی شبہ ان کے ایمان کو متزلزل کر سکا نہ کوئی ریاست و شہوت ان کو اپنے ایمان سے ہٹا سکی۔ وہ اپنے بہترین خصائل جو ان کے ایمان صحیح کے آثار ہیں ، کے ذریعے سے بے شک وہ ﴿ وَيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’برائی کو بھلائی کے ساتھ دفع کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ان کی عادت اور طریقہ ہے۔ یہاں تک کہ جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو یہ اچھی بات اور اچھے فعل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ انھیں اس خلق عظیم کی فضیلت کا اچھی طرح علم ہے اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ اس خلق عظیم کی توفیق کسی خوش قسمت ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ [55]﴿ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغۡوَ اَعۡرَضُوۡا ﴾ ’’اور جب وہ کوئی فضول بات سنتے ہیں ‘‘ کسی جاہل شخص سے جو ان سے لغو گفتگو کرتا ہے ﴿وَقَالُوۡا ﴾ تو وہ رحمان کے عقلمند بندوں کی مانند ان سے کہتے ہیں : ﴿ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡ﴾ ’’ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔‘‘ یعنی ہر شخص کو اسی اکیلے کے عمل کی جزا دی جائے گی اس پر کسی دوسرے کے عمل کا بوجھ نہیں ہو گا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ جہلاء کے لغو اور باطل کاموں اور بے فائدہ کلام سے بچے ہوئے ہیں ۔ ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’سلامتی ہو تم پر‘‘ یعنی تم لوگ ہم سے بھلائی کے سوا کچھ نہیں سنو گے اور نہ ہم تم سے تمھاری جہالت کے تقاضے کے مطابق مخاطب ہوں گے۔ کیونکہ تم اگرچہ اپنے لیے اس کمینگی پر راضی ہو مگر ہم اپنے آپ کو اس کمینے رویے سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں ملوث ہونے سے بچتے ہیں ۔ ﴿ لَا نَبۡتَغِي الۡجٰهِلِيۡنَ ﴾ ’’ہم (کسی معاملے) میں جاہلوں سے نہیں الجھتے۔‘‘
28:54

أُوْلَـٰٓئِكَ يُؤۡتَوۡنَ أَجۡرَهُم مَّرَّتَيۡنِ بِمَا صَبَرُواْ وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ

وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب اس (قرآن) سے پہلے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں (52) اور جب تلاوت کیا جاتا ہے ان پر (قرآن) تو وہ کہتے ہیں ، ایمان لائے ہیں ہم اس پر، بے شک وہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، بلاشبہ ہم تو تھے اس سے پہلے ہی مسلمان(53) یہ لوگ دیے جائیں گے اپنا اجر دوبار بوجہ اس کے کہ انھوں نے صبر کیا اور وہ دور کرتے ہیں بھلائی کے ساتھ برائی کو اور اس میں سے جورزق دیا ہم نے ان کو وہ خرچ کرتے ہیں (54) اور جب وہ سنتے ہیں لغو بات تو اعراض کرتے ہیں وہ اس سے اور کہتے ہیں ، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں ، سلام ہو تم پر نہیں چاہتے ہم جاہلوں کو (55) [52] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت، صداقت اور حقانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حقیقت کا علم رکھنے والے اہل علم ہی اس کو پہچانتے، اس پر ایمان لاتے اور اس کی حقانیت کا اقرارکرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی۔‘‘ اس سے مراد وہ اہل تورات اور اہل انجیل ہیں جنھوں نے اپنی کتابوں میں تغیر و تبدل نہیں کیا۔ ﴿ هُمۡ بِهٖ ﴾ وہی اس قرآن اور قرآن کے لانے والے پر ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ [53]﴿ وَاِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور جب ان کے سامنے اس قرآن کو پڑھا جاتا ہے‘‘ تو اسے غور سے سنتے ہیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بے شک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ان کتابوں کے موافق ہے جنھیں انبیاء ورسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور ان کتابوں میں جو کچھ مذکور ہے اس کے عین مطابق ہے، سچی خبروں اور حکمت پر مبنی اوامر و نواہی پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی شہادت مفید اور ان کا قول نفع مند ہے۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں ، علم و بصیرت کی بنیاد پر کہتے ہیں کیونکہ وہ اہل خبر اور اہل کتاب ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا قرآن کو رد کرنا اور اس کی مخالفت کرنا ان کے لیے حجت ہونا تو کجا، وہ کسی شبہ پر بھی دلالت نہیں کرتا کیونکہ وہ لوگ جاہل یا حق کے بارے میں معاند متجاہل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدوں میں گر جاتے ہیں ۔‘‘اور ان کا قول ہے:﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلِهٖ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم تو اس کے پہلے سے مطیع ہیں ۔‘‘ اسی لیے جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان اور اسلام سے سرفراز فرمایا تو ہم اس پر ثابت قدم رہے، ہم نے اس قرآن کی تصدیق کی اور ہم پہلی اور آخری کتاب پر ایمان لائے، ہمارے علاوہ دیگر لوگ جب اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کی یہ تکذیب پہلی کتاب پر ایمان کے متناقض ہے۔ [54]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ۔‘‘ یعنی جو دونوں کتابوں پر ایمان لائے۔ ﴿ يُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ان کو دوبار اجر عطا کیا جائے گا‘‘ ایک اجر پہلی کتاب پر ایمان لانے پر اور ایک اجر دوسری کتاب پر ایمان لانے پر ﴿ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ایمان پر صبر کیا اور عمل پر ثابت قدم رہے کوئی شبہ ان کے ایمان کو متزلزل کر سکا نہ کوئی ریاست و شہوت ان کو اپنے ایمان سے ہٹا سکی۔ وہ اپنے بہترین خصائل جو ان کے ایمان صحیح کے آثار ہیں ، کے ذریعے سے بے شک وہ ﴿ وَيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’برائی کو بھلائی کے ساتھ دفع کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ان کی عادت اور طریقہ ہے۔ یہاں تک کہ جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو یہ اچھی بات اور اچھے فعل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ انھیں اس خلق عظیم کی فضیلت کا اچھی طرح علم ہے اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ اس خلق عظیم کی توفیق کسی خوش قسمت ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ [55]﴿ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغۡوَ اَعۡرَضُوۡا ﴾ ’’اور جب وہ کوئی فضول بات سنتے ہیں ‘‘ کسی جاہل شخص سے جو ان سے لغو گفتگو کرتا ہے ﴿وَقَالُوۡا ﴾ تو وہ رحمان کے عقلمند بندوں کی مانند ان سے کہتے ہیں : ﴿ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡ﴾ ’’ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔‘‘ یعنی ہر شخص کو اسی اکیلے کے عمل کی جزا دی جائے گی اس پر کسی دوسرے کے عمل کا بوجھ نہیں ہو گا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ جہلاء کے لغو اور باطل کاموں اور بے فائدہ کلام سے بچے ہوئے ہیں ۔ ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’سلامتی ہو تم پر‘‘ یعنی تم لوگ ہم سے بھلائی کے سوا کچھ نہیں سنو گے اور نہ ہم تم سے تمھاری جہالت کے تقاضے کے مطابق مخاطب ہوں گے۔ کیونکہ تم اگرچہ اپنے لیے اس کمینگی پر راضی ہو مگر ہم اپنے آپ کو اس کمینے رویے سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں ملوث ہونے سے بچتے ہیں ۔ ﴿ لَا نَبۡتَغِي الۡجٰهِلِيۡنَ ﴾ ’’ہم (کسی معاملے) میں جاہلوں سے نہیں الجھتے۔‘‘
28:55

وَإِذَا سَمِعُواْ ٱللَّغۡوَ أَعۡرَضُواْ عَنۡهُ وَقَالُواْ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ لَا نَبۡتَغِي ٱلۡجَٰهِلِينَ

وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب اس (قرآن) سے پہلے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں (52) اور جب تلاوت کیا جاتا ہے ان پر (قرآن) تو وہ کہتے ہیں ، ایمان لائے ہیں ہم اس پر، بے شک وہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، بلاشبہ ہم تو تھے اس سے پہلے ہی مسلمان(53) یہ لوگ دیے جائیں گے اپنا اجر دوبار بوجہ اس کے کہ انھوں نے صبر کیا اور وہ دور کرتے ہیں بھلائی کے ساتھ برائی کو اور اس میں سے جورزق دیا ہم نے ان کو وہ خرچ کرتے ہیں (54) اور جب وہ سنتے ہیں لغو بات تو اعراض کرتے ہیں وہ اس سے اور کہتے ہیں ، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں ، سلام ہو تم پر نہیں چاہتے ہم جاہلوں کو (55) [52] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت، صداقت اور حقانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حقیقت کا علم رکھنے والے اہل علم ہی اس کو پہچانتے، اس پر ایمان لاتے اور اس کی حقانیت کا اقرارکرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی۔‘‘ اس سے مراد وہ اہل تورات اور اہل انجیل ہیں جنھوں نے اپنی کتابوں میں تغیر و تبدل نہیں کیا۔ ﴿ هُمۡ بِهٖ ﴾ وہی اس قرآن اور قرآن کے لانے والے پر ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ [53]﴿ وَاِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور جب ان کے سامنے اس قرآن کو پڑھا جاتا ہے‘‘ تو اسے غور سے سنتے ہیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بے شک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ان کتابوں کے موافق ہے جنھیں انبیاء ورسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور ان کتابوں میں جو کچھ مذکور ہے اس کے عین مطابق ہے، سچی خبروں اور حکمت پر مبنی اوامر و نواہی پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی شہادت مفید اور ان کا قول نفع مند ہے۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں ، علم و بصیرت کی بنیاد پر کہتے ہیں کیونکہ وہ اہل خبر اور اہل کتاب ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا قرآن کو رد کرنا اور اس کی مخالفت کرنا ان کے لیے حجت ہونا تو کجا، وہ کسی شبہ پر بھی دلالت نہیں کرتا کیونکہ وہ لوگ جاہل یا حق کے بارے میں معاند متجاہل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدوں میں گر جاتے ہیں ۔‘‘اور ان کا قول ہے:﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلِهٖ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم تو اس کے پہلے سے مطیع ہیں ۔‘‘ اسی لیے جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان اور اسلام سے سرفراز فرمایا تو ہم اس پر ثابت قدم رہے، ہم نے اس قرآن کی تصدیق کی اور ہم پہلی اور آخری کتاب پر ایمان لائے، ہمارے علاوہ دیگر لوگ جب اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کی یہ تکذیب پہلی کتاب پر ایمان کے متناقض ہے۔ [54]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ۔‘‘ یعنی جو دونوں کتابوں پر ایمان لائے۔ ﴿ يُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ان کو دوبار اجر عطا کیا جائے گا‘‘ ایک اجر پہلی کتاب پر ایمان لانے پر اور ایک اجر دوسری کتاب پر ایمان لانے پر ﴿ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ایمان پر صبر کیا اور عمل پر ثابت قدم رہے کوئی شبہ ان کے ایمان کو متزلزل کر سکا نہ کوئی ریاست و شہوت ان کو اپنے ایمان سے ہٹا سکی۔ وہ اپنے بہترین خصائل جو ان کے ایمان صحیح کے آثار ہیں ، کے ذریعے سے بے شک وہ ﴿ وَيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’برائی کو بھلائی کے ساتھ دفع کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ان کی عادت اور طریقہ ہے۔ یہاں تک کہ جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو یہ اچھی بات اور اچھے فعل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ انھیں اس خلق عظیم کی فضیلت کا اچھی طرح علم ہے اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ اس خلق عظیم کی توفیق کسی خوش قسمت ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ [55]﴿ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغۡوَ اَعۡرَضُوۡا ﴾ ’’اور جب وہ کوئی فضول بات سنتے ہیں ‘‘ کسی جاہل شخص سے جو ان سے لغو گفتگو کرتا ہے ﴿وَقَالُوۡا ﴾ تو وہ رحمان کے عقلمند بندوں کی مانند ان سے کہتے ہیں : ﴿ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡ﴾ ’’ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔‘‘ یعنی ہر شخص کو اسی اکیلے کے عمل کی جزا دی جائے گی اس پر کسی دوسرے کے عمل کا بوجھ نہیں ہو گا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ جہلاء کے لغو اور باطل کاموں اور بے فائدہ کلام سے بچے ہوئے ہیں ۔ ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’سلامتی ہو تم پر‘‘ یعنی تم لوگ ہم سے بھلائی کے سوا کچھ نہیں سنو گے اور نہ ہم تم سے تمھاری جہالت کے تقاضے کے مطابق مخاطب ہوں گے۔ کیونکہ تم اگرچہ اپنے لیے اس کمینگی پر راضی ہو مگر ہم اپنے آپ کو اس کمینے رویے سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں ملوث ہونے سے بچتے ہیں ۔ ﴿ لَا نَبۡتَغِي الۡجٰهِلِيۡنَ ﴾ ’’ہم (کسی معاملے) میں جاہلوں سے نہیں الجھتے۔‘‘
28:56

إِنَّكَ لَا تَهۡدِي مَنۡ أَحۡبَبۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ

بلاشبہ آپ نہیں ہدایت دے سکتے جس کو آپ چاہیں لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہےاور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو (56) [56] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفیﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ… اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ … کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں ۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کر دیتا ہے اور کون ہدایت عطا كيے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَاِنَّكَ لَتَهۡدِيۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾(الشوریٰ:42؍52) ’’اور بلاشبہ آپ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کررہے ہیں ‘‘ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے ہدایت کا اثبات تو یہ ہدایت بیان و ارشاد ہے۔ رسول اللہ ﷺ صراط مستقیم کو واضح کرتے ہیں لوگوں کو اس پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں اور لوگوں کو اس پر گامزن کرنے کی بھرپور جدوجہد کرتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ آیا آپ دلوں میں ایمان پیدا کرنے پر قادر ہیں اور فعل کی توفیق عطا کر سکتے ہیں … تو حاشا و کلا ایسا ہرگز نہیں … ایسا ہرگز نہیں ۔ لہذا اگر آپ اس پر قادر ہوتے تو آپ اس شخص کو ضرور ہدایت سے سرفراز فرماتے جس نے آپ پر احسان فرمایا تھا، جس نے آپ کو اپنی قوم سے بچایا اور آپ کی مدد فرمائی … یعنی آپ کے چچا ابو طالب … مگر آپ نے ابو طالب کو دین کی دعوت دے کر اور کامل خیر خواہی کے ساتھ ان پر احسان کیا اور یہ اس احسان سے بہت زیادہ ہے جو آپ کے چچا نے آپ کے ساتھ کیا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
28:57

وَقَالُوٓاْ إِن نَّتَّبِعِ ٱلۡهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ أَرۡضِنَآۚ أَوَلَمۡ نُمَكِّن لَّهُمۡ حَرَمًا ءَامِنٗا يُجۡبَىٰٓ إِلَيۡهِ ثَمَرَٰتُ كُلِّ شَيۡءٖ رِّزۡقٗا مِّن لَّدُنَّا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ

اور وہ کہتے ہیں ، اگر ہم نے پیروی کی ہدایت کی تیرے ساتھ تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی زمین سے (اللہ نے فرمایا) کیا نہیں جگہ دی ہم نے انھیں حرم میں جو امن والا ہے؟ لائے جاتے ہیں (ہر جانب سے) اس کی طرف پھل ہرچیز (قسم) کے بطور رزق کے ہماری طرف سے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (57) اورکتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے بستیاں جو اتراتی تھیں اپنی (عمدہ) گزران پر، پس یہ (اجڑپڑے) ہیں ان کے گھر، نہیں آباد کیے گئے ان کے بعد مگر تھوڑے ہی اور تھے ہم ہی وارث (58)اور نہیں ہے آپ کارب ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ وہ بھیجتا ہے ان میں سے بڑی بستی میں کوئی رسول، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر ہماری آیتیں اور نہیں ہم ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر جبکہ ہوں ان کے باشندے ظالم (59) [57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قریش میں سے اہل تکذیب اور دیگر اہل مکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿ اِنۡ نَّتَّبِـعِ الۡهُدٰؔى مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا﴾ ’’اگر ہم تمھارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں ۔‘‘ یعنی ہمیں قتل کر کے، قیدی بنا کر اور ہمارا مال و متاع لوٹ کر زمین سے اچک لیاجائے گا کیونکہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور آپ کی مخالفت کرتے ہیں لہذا اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو ہمیں تمام لوگوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم لوگوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ ان کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوء ظن پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا بلکہ اس کے برعکس وہ لوگوں کو اپنے دین کے حاملین پر غالب کرے گا جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کریں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ باطل حق پر غالب آ جائے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت بیان کرتے اور لوگوں کی بجائے ان کے اختصاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ نُمَؔكِّنۡ لَّهُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجۡبٰۤى اِلَيۡهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا﴾ ’’کیا ہم نے پر امن حرم کو ان کا جائے قیام نہیں بنایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طورپر ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں ؟‘‘ یعنی کیا ہم نے انھیں حرم میں اصحاب اختیار نہیں بنایا جہاں نہایت کثرت سے لوگ پے در پے آتے ہیں اور زائرین اس کی زیارت کا قصد کرتے ہیں ۔ قریب والے اور بعید والے سب لوگ اس کا احترام کرتے ہیں ۔ حرم کے رہنے والوں کو خوف زدہ نہیں کیا جاتا اور لوگ انھیں کم یا زیادہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ حالانکہ ان کے اردگرد ہر جگہ خوف میں گھری ہوئی ہے اور وہاں کے رہنے والے محفوظ ہیں نہ مامون۔ اس لیے انھیں اپنے رب کی حمدوثنا بیان کرنی چاہیے کہ اس نے انھیں کامل امن سے نوازا جو دوسروں کو میسر نہیں ، انھیں اس رزق کثیر پر اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جو ہر طرف سے پھلوں ، کھانوں اور دیگر سازوسامان کی صورت میں ان کے پاس پہنچاتا ہے جس سے یہ متمتع ہوتے ہیں اور انھیں فراخی اور کشادگی حاصل ہوتی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس رسول کریمﷺکی اتباع کریں تاکہ انھیں امن تام اور فراخی سے نوازا جائے۔وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اترانے سے بچیں ورنہ ان کا امن خوف سے، ان کی عزت ذلت سے اور ان کی دولت مندی فقر سے بدل جائے گی۔ [58] اس لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کو ان کی بداعمالیوں کی جو سزا دی ہے ان کو بھی اس سزا سے ڈرایا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍۭ بَطِرَتۡ مَعِيۡشَتَهَا﴾ ’’اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ و برباد کردیا جو اپنی معیشت پر اترایا کرتی تھیں ‘‘ یعنی یہ بستیاں اپنی معیشت پر فخر کرتی تھیں اور غفلت میں مبتلا تھیں اور ان کے رہائشی اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے اپنی خوشحالی میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا، ان سے نعمت چھین لی اور ان پر عذاب نازل کیا ﴿فَتِلۡكَ مَسٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَنۡ مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی ان پر لگاتار ہلاکت نازل ہونے، ان کے جان و مال کے تلف ہونے اور ان کے بعد ان کی بستیوں کے اجڑ جانے کے بعد وہ کبھی آباد نہ ہوئیں ۔ ﴿وَؔكُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی ہم بندوں کے وارث ہیں ، ہم انھیں موت دیں گے اور وہ تمام نعمتیں ہماری طرف لوٹ آئیں گی جو ہم نے ان کو عطا کی تھیں پھر ہم ان کو واپس اپنی طرف لوٹائیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی جزاوسزا دیں گے۔ [59] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ قوموں پر ان کے مجرد کفر کی بنا پر، ان پر حجت قائم کرنے اور ان کی طرف رسول مبعوث کرنے سے قبل، عذاب نازل نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’اور تمھارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔‘‘ یعنی ان کے کفر اور ظلم کی بنا پر ﴿ حَتّٰى يَبۡعَثَ فِيۡۤ اُمِّهَا ﴾ ’’جب تک ان کے بڑے شہر میں نہ بھیج لے۔‘‘ یعنی اس بستی اور شہر میں ، جہاں سے وہ گزرتے ہیں ، جہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں ، ان بستیوں کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں اور ان سے ان کی خبریں اور واقعات مخفی نہیں رہتے ہیں ۔ ﴿ رَسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾’’رسول جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتا۔‘‘ جو اس وحی کی صحت پر دلالت کرتیں جسے رسول لے کر آیا اور اس کی دعوت کی تصدیق کرتی تھیں اور اللہ کا رسول ان کے قریب اور دور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا تھا۔ اس کے برعکس دور دراز بستیوں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں ، رسولوں کا مبعوث ہونا ان پر مخفی رہ سکتا ہے۔ مگر بڑے بڑے شہروں میں ان اخبار و واقعات کا شائع ہونا زیادہ یقینی ہے اور غالب حالات میں شہروں کے باشندوں میں دوسروں کی نسبت جفا کم ہوتی ہے۔﴿ وَمَا كُنَّا مُهۡلِـكِي الۡقُرٰۤى اِلَّا وَاَهۡلُهَا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اسی وقت جبکہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں ۔‘‘ یعنی انھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ظلم کی بنا پر اور اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی عذاب دیتا ہے۔
28:58

وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةِۭ بَطِرَتۡ مَعِيشَتَهَاۖ فَتِلۡكَ مَسَٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَن مِّنۢ بَعۡدِهِمۡ إِلَّا قَلِيلٗاۖ وَكُنَّا نَحۡنُ ٱلۡوَٰرِثِينَ

اور وہ کہتے ہیں ، اگر ہم نے پیروی کی ہدایت کی تیرے ساتھ تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی زمین سے (اللہ نے فرمایا) کیا نہیں جگہ دی ہم نے انھیں حرم میں جو امن والا ہے؟ لائے جاتے ہیں (ہر جانب سے) اس کی طرف پھل ہرچیز (قسم) کے بطور رزق کے ہماری طرف سے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (57) اورکتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے بستیاں جو اتراتی تھیں اپنی (عمدہ) گزران پر، پس یہ (اجڑپڑے) ہیں ان کے گھر، نہیں آباد کیے گئے ان کے بعد مگر تھوڑے ہی اور تھے ہم ہی وارث (58)اور نہیں ہے آپ کارب ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ وہ بھیجتا ہے ان میں سے بڑی بستی میں کوئی رسول، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر ہماری آیتیں اور نہیں ہم ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر جبکہ ہوں ان کے باشندے ظالم (59) [57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قریش میں سے اہل تکذیب اور دیگر اہل مکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿ اِنۡ نَّتَّبِـعِ الۡهُدٰؔى مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا﴾ ’’اگر ہم تمھارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں ۔‘‘ یعنی ہمیں قتل کر کے، قیدی بنا کر اور ہمارا مال و متاع لوٹ کر زمین سے اچک لیاجائے گا کیونکہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور آپ کی مخالفت کرتے ہیں لہذا اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو ہمیں تمام لوگوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم لوگوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ ان کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوء ظن پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا بلکہ اس کے برعکس وہ لوگوں کو اپنے دین کے حاملین پر غالب کرے گا جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کریں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ باطل حق پر غالب آ جائے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت بیان کرتے اور لوگوں کی بجائے ان کے اختصاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ نُمَؔكِّنۡ لَّهُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجۡبٰۤى اِلَيۡهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا﴾ ’’کیا ہم نے پر امن حرم کو ان کا جائے قیام نہیں بنایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طورپر ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں ؟‘‘ یعنی کیا ہم نے انھیں حرم میں اصحاب اختیار نہیں بنایا جہاں نہایت کثرت سے لوگ پے در پے آتے ہیں اور زائرین اس کی زیارت کا قصد کرتے ہیں ۔ قریب والے اور بعید والے سب لوگ اس کا احترام کرتے ہیں ۔ حرم کے رہنے والوں کو خوف زدہ نہیں کیا جاتا اور لوگ انھیں کم یا زیادہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ حالانکہ ان کے اردگرد ہر جگہ خوف میں گھری ہوئی ہے اور وہاں کے رہنے والے محفوظ ہیں نہ مامون۔ اس لیے انھیں اپنے رب کی حمدوثنا بیان کرنی چاہیے کہ اس نے انھیں کامل امن سے نوازا جو دوسروں کو میسر نہیں ، انھیں اس رزق کثیر پر اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جو ہر طرف سے پھلوں ، کھانوں اور دیگر سازوسامان کی صورت میں ان کے پاس پہنچاتا ہے جس سے یہ متمتع ہوتے ہیں اور انھیں فراخی اور کشادگی حاصل ہوتی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس رسول کریمﷺکی اتباع کریں تاکہ انھیں امن تام اور فراخی سے نوازا جائے۔وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اترانے سے بچیں ورنہ ان کا امن خوف سے، ان کی عزت ذلت سے اور ان کی دولت مندی فقر سے بدل جائے گی۔ [58] اس لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کو ان کی بداعمالیوں کی جو سزا دی ہے ان کو بھی اس سزا سے ڈرایا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍۭ بَطِرَتۡ مَعِيۡشَتَهَا﴾ ’’اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ و برباد کردیا جو اپنی معیشت پر اترایا کرتی تھیں ‘‘ یعنی یہ بستیاں اپنی معیشت پر فخر کرتی تھیں اور غفلت میں مبتلا تھیں اور ان کے رہائشی اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے اپنی خوشحالی میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا، ان سے نعمت چھین لی اور ان پر عذاب نازل کیا ﴿فَتِلۡكَ مَسٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَنۡ مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی ان پر لگاتار ہلاکت نازل ہونے، ان کے جان و مال کے تلف ہونے اور ان کے بعد ان کی بستیوں کے اجڑ جانے کے بعد وہ کبھی آباد نہ ہوئیں ۔ ﴿وَؔكُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی ہم بندوں کے وارث ہیں ، ہم انھیں موت دیں گے اور وہ تمام نعمتیں ہماری طرف لوٹ آئیں گی جو ہم نے ان کو عطا کی تھیں پھر ہم ان کو واپس اپنی طرف لوٹائیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی جزاوسزا دیں گے۔ [59] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ قوموں پر ان کے مجرد کفر کی بنا پر، ان پر حجت قائم کرنے اور ان کی طرف رسول مبعوث کرنے سے قبل، عذاب نازل نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’اور تمھارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔‘‘ یعنی ان کے کفر اور ظلم کی بنا پر ﴿ حَتّٰى يَبۡعَثَ فِيۡۤ اُمِّهَا ﴾ ’’جب تک ان کے بڑے شہر میں نہ بھیج لے۔‘‘ یعنی اس بستی اور شہر میں ، جہاں سے وہ گزرتے ہیں ، جہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں ، ان بستیوں کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں اور ان سے ان کی خبریں اور واقعات مخفی نہیں رہتے ہیں ۔ ﴿ رَسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾’’رسول جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتا۔‘‘ جو اس وحی کی صحت پر دلالت کرتیں جسے رسول لے کر آیا اور اس کی دعوت کی تصدیق کرتی تھیں اور اللہ کا رسول ان کے قریب اور دور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا تھا۔ اس کے برعکس دور دراز بستیوں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں ، رسولوں کا مبعوث ہونا ان پر مخفی رہ سکتا ہے۔ مگر بڑے بڑے شہروں میں ان اخبار و واقعات کا شائع ہونا زیادہ یقینی ہے اور غالب حالات میں شہروں کے باشندوں میں دوسروں کی نسبت جفا کم ہوتی ہے۔﴿ وَمَا كُنَّا مُهۡلِـكِي الۡقُرٰۤى اِلَّا وَاَهۡلُهَا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اسی وقت جبکہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں ۔‘‘ یعنی انھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ظلم کی بنا پر اور اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی عذاب دیتا ہے۔
28:59

وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبۡعَثَ فِيٓ أُمِّهَا رَسُولٗا يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۚ وَمَا كُنَّا مُهۡلِكِي ٱلۡقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهۡلُهَا ظَٰلِمُونَ

اور وہ کہتے ہیں ، اگر ہم نے پیروی کی ہدایت کی تیرے ساتھ تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی زمین سے (اللہ نے فرمایا) کیا نہیں جگہ دی ہم نے انھیں حرم میں جو امن والا ہے؟ لائے جاتے ہیں (ہر جانب سے) اس کی طرف پھل ہرچیز (قسم) کے بطور رزق کے ہماری طرف سے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (57) اورکتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے بستیاں جو اتراتی تھیں اپنی (عمدہ) گزران پر، پس یہ (اجڑپڑے) ہیں ان کے گھر، نہیں آباد کیے گئے ان کے بعد مگر تھوڑے ہی اور تھے ہم ہی وارث (58)اور نہیں ہے آپ کارب ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ وہ بھیجتا ہے ان میں سے بڑی بستی میں کوئی رسول، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر ہماری آیتیں اور نہیں ہم ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر جبکہ ہوں ان کے باشندے ظالم (59) [57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قریش میں سے اہل تکذیب اور دیگر اہل مکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿ اِنۡ نَّتَّبِـعِ الۡهُدٰؔى مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا﴾ ’’اگر ہم تمھارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں ۔‘‘ یعنی ہمیں قتل کر کے، قیدی بنا کر اور ہمارا مال و متاع لوٹ کر زمین سے اچک لیاجائے گا کیونکہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور آپ کی مخالفت کرتے ہیں لہذا اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو ہمیں تمام لوگوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم لوگوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ ان کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوء ظن پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا بلکہ اس کے برعکس وہ لوگوں کو اپنے دین کے حاملین پر غالب کرے گا جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کریں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ باطل حق پر غالب آ جائے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت بیان کرتے اور لوگوں کی بجائے ان کے اختصاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ نُمَؔكِّنۡ لَّهُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجۡبٰۤى اِلَيۡهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا﴾ ’’کیا ہم نے پر امن حرم کو ان کا جائے قیام نہیں بنایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طورپر ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں ؟‘‘ یعنی کیا ہم نے انھیں حرم میں اصحاب اختیار نہیں بنایا جہاں نہایت کثرت سے لوگ پے در پے آتے ہیں اور زائرین اس کی زیارت کا قصد کرتے ہیں ۔ قریب والے اور بعید والے سب لوگ اس کا احترام کرتے ہیں ۔ حرم کے رہنے والوں کو خوف زدہ نہیں کیا جاتا اور لوگ انھیں کم یا زیادہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ حالانکہ ان کے اردگرد ہر جگہ خوف میں گھری ہوئی ہے اور وہاں کے رہنے والے محفوظ ہیں نہ مامون۔ اس لیے انھیں اپنے رب کی حمدوثنا بیان کرنی چاہیے کہ اس نے انھیں کامل امن سے نوازا جو دوسروں کو میسر نہیں ، انھیں اس رزق کثیر پر اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جو ہر طرف سے پھلوں ، کھانوں اور دیگر سازوسامان کی صورت میں ان کے پاس پہنچاتا ہے جس سے یہ متمتع ہوتے ہیں اور انھیں فراخی اور کشادگی حاصل ہوتی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس رسول کریمﷺکی اتباع کریں تاکہ انھیں امن تام اور فراخی سے نوازا جائے۔وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اترانے سے بچیں ورنہ ان کا امن خوف سے، ان کی عزت ذلت سے اور ان کی دولت مندی فقر سے بدل جائے گی۔ [58] اس لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کو ان کی بداعمالیوں کی جو سزا دی ہے ان کو بھی اس سزا سے ڈرایا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍۭ بَطِرَتۡ مَعِيۡشَتَهَا﴾ ’’اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ و برباد کردیا جو اپنی معیشت پر اترایا کرتی تھیں ‘‘ یعنی یہ بستیاں اپنی معیشت پر فخر کرتی تھیں اور غفلت میں مبتلا تھیں اور ان کے رہائشی اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے اپنی خوشحالی میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا، ان سے نعمت چھین لی اور ان پر عذاب نازل کیا ﴿فَتِلۡكَ مَسٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَنۡ مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی ان پر لگاتار ہلاکت نازل ہونے، ان کے جان و مال کے تلف ہونے اور ان کے بعد ان کی بستیوں کے اجڑ جانے کے بعد وہ کبھی آباد نہ ہوئیں ۔ ﴿وَؔكُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی ہم بندوں کے وارث ہیں ، ہم انھیں موت دیں گے اور وہ تمام نعمتیں ہماری طرف لوٹ آئیں گی جو ہم نے ان کو عطا کی تھیں پھر ہم ان کو واپس اپنی طرف لوٹائیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی جزاوسزا دیں گے۔ [59] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ قوموں پر ان کے مجرد کفر کی بنا پر، ان پر حجت قائم کرنے اور ان کی طرف رسول مبعوث کرنے سے قبل، عذاب نازل نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’اور تمھارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔‘‘ یعنی ان کے کفر اور ظلم کی بنا پر ﴿ حَتّٰى يَبۡعَثَ فِيۡۤ اُمِّهَا ﴾ ’’جب تک ان کے بڑے شہر میں نہ بھیج لے۔‘‘ یعنی اس بستی اور شہر میں ، جہاں سے وہ گزرتے ہیں ، جہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں ، ان بستیوں کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں اور ان سے ان کی خبریں اور واقعات مخفی نہیں رہتے ہیں ۔ ﴿ رَسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾’’رسول جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتا۔‘‘ جو اس وحی کی صحت پر دلالت کرتیں جسے رسول لے کر آیا اور اس کی دعوت کی تصدیق کرتی تھیں اور اللہ کا رسول ان کے قریب اور دور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا تھا۔ اس کے برعکس دور دراز بستیوں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں ، رسولوں کا مبعوث ہونا ان پر مخفی رہ سکتا ہے۔ مگر بڑے بڑے شہروں میں ان اخبار و واقعات کا شائع ہونا زیادہ یقینی ہے اور غالب حالات میں شہروں کے باشندوں میں دوسروں کی نسبت جفا کم ہوتی ہے۔﴿ وَمَا كُنَّا مُهۡلِـكِي الۡقُرٰۤى اِلَّا وَاَهۡلُهَا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اسی وقت جبکہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں ۔‘‘ یعنی انھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ظلم کی بنا پر اور اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی عذاب دیتا ہے۔
28:60

وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتُهَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ

اور جو کچھ بھی دیے گئے ہو تم کوئی چیز تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا اور اس کی زینت اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہت بہتر اور دیرپا ہے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (60) کیا پس وہ شخص کہ وعدہ کیا ہم نے اس سے وعدہ اچھا، پھر وہ ملنے والا ہے اس کو، اس شخص جیسا ہے کہ فائدہ دیا ہم نے اسے (کچھ)فائدہ زندگانیٔ دنیا کا ، پھر وہ دن قیامت کے ، حاضر کردہ لوگوں میں سے ہو گا (61) [60] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا میں زہد کی ترغیب دی ہے نیز انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کے دھوکے میں نہ آئیں اور یہ کہ وہ آخرت میں رغبت رکھیں ، نیز اس نے آخرت کو بندے کا مطلوب و مقصود قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سب کچھ، جو مخلوق کو عطا کیا گیا ہے، مثلاً:سونا چاندی، حیوانات، مال و متاع، عورتیں ، بیٹے، ماکولات، مشروبات اور لذات صرف دنیا کی متاع اور اس کی زینت ہیں ۔ بندہ جن سے بہت تھوڑے وقت کے لیے متمتع ہوتا ہے وہ بہت ہی تھوڑی سی متاع ہے جو تکدر سے گھری ہوئی اور غم و اندوہ سے لبریز ہے۔ بندہ نہایت قلیل مدت کے لیے فخروریا کے طور پر اس دنیا سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے پھر جلد ہی یہ دنیا زائل اور تمام کی تمام ختم ہو جاتی ہے اور اس دنیا سے محبت کرنے والا حسرت، ندامت، ناکامی اور حرماں نصیبی کے سوا اس دنیا سے کچھ حاصل نہیں کر پاتا۔﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور ہر قسم کے تکدر سے محفوظ زندگی ﴿ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ اپنے اوصاف اور کمیت کے اعتبار سے بہتر ہے وہ زندگی دائمی، سرمدی اور ابدی ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم لوگوں میں عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم دونوں امور کے مابین موازنہ کر سکو کہ کون سی زندگی ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے اور کون سی زندگی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ کی جائے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق، آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور اگر کوئی آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا باعث اس کی کم عقلی ہے۔ [61] بنابریں اللہ تعالیٰ نے انسانی عقلوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ دنیا کو ترجیح دینے والوں کے انجام اور آخرت کو ترجیح دینے والوں کے انجام کے مابین موازنہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ وَّعَدۡنٰهُ وَعۡدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيۡهِ ﴾ ’’بھلا جسے ہم نے کوئی اچھا وعدہ دیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو‘‘ کیا وہ مومن جو آخرت کے لیے کوشاں ہے، اپنے رب کے وعدۂ ثواب یعنی جنت کے لیے عمل پیرا ہے جس میں بڑی بڑی نعمتیں عطا ہوں گی اور بلاشبہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا کیونکہ یہ ایک کریم ہستی کی طرف سے کیا گیا وعدہ ہے جس کا وعدہ سچا ہوتا ہے، وہ اپنے اس بندے سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتی جو اس کی رضا پر چلتا ہے اور اس کو ناراض کرنے والے امور سے اجتناب کرتا ہے۔ ﴿ كَمَنۡ مَّتَّعۡنٰهُ مَتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیاوی زندگی کے سروسامان سے نوازا ہو‘‘ جو اس دنیا کو حاصل کرتا ہے وہ کھاتا پیتا اور اس سے یوں متمتع ہوتا ہے جیسے جانور متمتع ہوتے ہیں ؟ یہ شخص اپنی آخرت سے غافل ہو کر اپنی دنیا میں مشغول ہے اس نے ہدایت الٰہی کی کوئی پروا کی نہ انبیاء و مرسلین کی اطاعت کی۔ یہ اپنے اسی رویے پر جما ہوا ہے۔ اس دنیا سے اس نے جو کچھ زاد راہ سمیٹا ہے وہ ہلاکت اور خسارے کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں ہو جو حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی پھر حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے دامن میں کوئی بھلائی نہیں ، اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اس کے لیے نقصان دہ ہے… کیا تم جانتے ہو اس کا کیا انجام ہو گا؟ اور اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا … عقل مند شخص کو وہی چیز اختیار کرنی چاہیے جو اختیار كيے جانے کی مستحق ہے اور اسی چیز کو ترجیح دینا چاہیے جو ترجیح دیے جانے کے قابل ہے۔
28:61

أَفَمَن وَعَدۡنَٰهُ وَعۡدًا حَسَنٗا فَهُوَ لَٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعۡنَٰهُ مَتَٰعَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ مِنَ ٱلۡمُحۡضَرِينَ

اور جو کچھ بھی دیے گئے ہو تم کوئی چیز تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا اور اس کی زینت اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہت بہتر اور دیرپا ہے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (60) کیا پس وہ شخص کہ وعدہ کیا ہم نے اس سے وعدہ اچھا، پھر وہ ملنے والا ہے اس کو، اس شخص جیسا ہے کہ فائدہ دیا ہم نے اسے (کچھ)فائدہ زندگانیٔ دنیا کا ، پھر وہ دن قیامت کے ، حاضر کردہ لوگوں میں سے ہو گا (61) [60] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا میں زہد کی ترغیب دی ہے نیز انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کے دھوکے میں نہ آئیں اور یہ کہ وہ آخرت میں رغبت رکھیں ، نیز اس نے آخرت کو بندے کا مطلوب و مقصود قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سب کچھ، جو مخلوق کو عطا کیا گیا ہے، مثلاً:سونا چاندی، حیوانات، مال و متاع، عورتیں ، بیٹے، ماکولات، مشروبات اور لذات صرف دنیا کی متاع اور اس کی زینت ہیں ۔ بندہ جن سے بہت تھوڑے وقت کے لیے متمتع ہوتا ہے وہ بہت ہی تھوڑی سی متاع ہے جو تکدر سے گھری ہوئی اور غم و اندوہ سے لبریز ہے۔ بندہ نہایت قلیل مدت کے لیے فخروریا کے طور پر اس دنیا سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے پھر جلد ہی یہ دنیا زائل اور تمام کی تمام ختم ہو جاتی ہے اور اس دنیا سے محبت کرنے والا حسرت، ندامت، ناکامی اور حرماں نصیبی کے سوا اس دنیا سے کچھ حاصل نہیں کر پاتا۔﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور ہر قسم کے تکدر سے محفوظ زندگی ﴿ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ اپنے اوصاف اور کمیت کے اعتبار سے بہتر ہے وہ زندگی دائمی، سرمدی اور ابدی ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم لوگوں میں عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم دونوں امور کے مابین موازنہ کر سکو کہ کون سی زندگی ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے اور کون سی زندگی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ کی جائے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق، آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور اگر کوئی آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا باعث اس کی کم عقلی ہے۔ [61] بنابریں اللہ تعالیٰ نے انسانی عقلوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ دنیا کو ترجیح دینے والوں کے انجام اور آخرت کو ترجیح دینے والوں کے انجام کے مابین موازنہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ وَّعَدۡنٰهُ وَعۡدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيۡهِ ﴾ ’’بھلا جسے ہم نے کوئی اچھا وعدہ دیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو‘‘ کیا وہ مومن جو آخرت کے لیے کوشاں ہے، اپنے رب کے وعدۂ ثواب یعنی جنت کے لیے عمل پیرا ہے جس میں بڑی بڑی نعمتیں عطا ہوں گی اور بلاشبہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا کیونکہ یہ ایک کریم ہستی کی طرف سے کیا گیا وعدہ ہے جس کا وعدہ سچا ہوتا ہے، وہ اپنے اس بندے سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتی جو اس کی رضا پر چلتا ہے اور اس کو ناراض کرنے والے امور سے اجتناب کرتا ہے۔ ﴿ كَمَنۡ مَّتَّعۡنٰهُ مَتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیاوی زندگی کے سروسامان سے نوازا ہو‘‘ جو اس دنیا کو حاصل کرتا ہے وہ کھاتا پیتا اور اس سے یوں متمتع ہوتا ہے جیسے جانور متمتع ہوتے ہیں ؟ یہ شخص اپنی آخرت سے غافل ہو کر اپنی دنیا میں مشغول ہے اس نے ہدایت الٰہی کی کوئی پروا کی نہ انبیاء و مرسلین کی اطاعت کی۔ یہ اپنے اسی رویے پر جما ہوا ہے۔ اس دنیا سے اس نے جو کچھ زاد راہ سمیٹا ہے وہ ہلاکت اور خسارے کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں ہو جو حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی پھر حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے دامن میں کوئی بھلائی نہیں ، اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اس کے لیے نقصان دہ ہے… کیا تم جانتے ہو اس کا کیا انجام ہو گا؟ اور اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا … عقل مند شخص کو وہی چیز اختیار کرنی چاہیے جو اختیار كيے جانے کی مستحق ہے اور اسی چیز کو ترجیح دینا چاہیے جو ترجیح دیے جانے کے قابل ہے۔
28:62

وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ

اور جس دن ندا دے گا انھیں (اللہ)، پھر وہ کہے گا (ان سے)، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (62)کہیں گے وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ان پر قول (عذاب) کا ، اے ہمارے رب! یہی ہیں وہ لوگ جنھیں گمراہ کیا تھا ہم نے، ہم نے گمراہ کیا تھا انھیں جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے ہم بیزاری ظاہر کرتے ہیں تیرے سامنے (ان سے) نہیں تھے وہ خاص ہماری ہی عبادت کرتے (63) اور کہا جائے گا، بلاؤ تم اپنے شریکوں کو پس وہ پکاریں گے ان کوتو وہ نہیں جواب دیں گے انھیں اور وہ (سب) دیکھ لیں گے عذاب کاش کہ! بے شک ہوتے وہ ہدایت پر چلتے (64) اور (یاد کرو!) جس دن پکارے گا ان کا (اللہ)، پھر وہ کہے گا، کیا جواب دیا تھا تم نے رسولوں کو؟ (65) پس اندھی ہو جائیں گی ان پر خبریں اس دن! پس وہ نہیں کریں گے ایک دوسرے سے سوال بھی (66) [63,62] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا:1 اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔2 اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔3 اور انھوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنھوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انھیں اس لیے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بے بسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہو جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پس وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ ندا ان کے زعم اور ان کی بہتان طرازی پر طنز کے طور پر ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’جن کا تمھیں دعویٰ تھا۔‘‘ تمھارے مزعومہ معبود اپنی ذات کے ساتھ کہاں ہیں اور کہاں ہے ان کی نفع دینے اور نقصان دینے کی طاقت؟اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں ہو جائے گی کہ جن خودساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے رہے ہیں جن پر ان کو بہت امیدیں اور توقعات تھیں ، سب باطل اور کمزور تھے اور وہ امیدیں بھی بے ثمر تھیں جو انھوں نے ان معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں وہ اپنے بارے میں ضلالت اور بے راہ روی کا اعتراف کریں گے۔ بنابریں ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’وہ لوگ جن پر عذاب کی بات واجب ہوجائے گی کہیں گے‘‘ کفروشر میں ان کی قیادت کرنے والے سردار اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اے ہمارے رب یہی‘‘ وہ پیروکار ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اَغۡوَيۡنَا١ۚ اَغۡوَيۡنٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَا﴾ ’’جن کو ہم نے بدراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح بدراہ کیا جس طرح ہم خود بدراہ ہوئے۔‘‘ یعنی گمراہی اور بدراہی میں ہم میں سے ہر ایک شریک ہے اور اس پر عذاب واجب ہو گیا۔ وہ کہیں گے:﴿ تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ یعنی ہم ان کی عبادت سے بری الذمہ ہیں ہم ان سے اور ان کے عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ﴿ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔‘‘ یہ لوگ تو شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے۔ [64]﴿ وَقِيۡلَ ﴾ ’’کہا جائے گا‘‘ ان سے ﴿ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ﴾ ’’اپنے ان معبودوں کو بلالو‘‘ جن سے تمھیں کوئی نفع پہنچنے کی امید تھی چنانچہ مصیبت کی ایسی گھڑی میں ان کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کا حکم دیا جائے گا جس میں عابد اپنے معبود کا پکارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ ﴾ ’’پس وہ ان کو پکاریں گے‘‘ تاکہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچائیں یا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں ﴿ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے‘‘ تب کفار کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے اور سزا کے مستحق ہیں ۔ ﴿ وَرَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور وہ اس عذاب کو دیکھیں گے‘‘ جو ان کے آنکھوں دیکھتے نازل ہو گا جس کو وہ جھٹلایا اور اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ ﴿ لَوۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’کاش وہ ہدایت یاب ہوتے۔‘‘ تو ان کو اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انھیں جنت کے راستے کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی، جیسے انھیں دنیا میں راہنمائی حاصل ہوئی تھی مگر اس کے برعکس وہ دنیا میں راہ راست پر گامزن نہ ہوئے، اس لیے آخرت میں انھیں جنت کا راستہ نہیں ملا۔ [66,65]﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ یعنی آیا تم نے ان کی تصدیق کر کے ان کی اتباع کی یا تم نے ان کی تکذیب کر کے ان کی مخالفت کا راستہ اختیار کیا؟ ﴿ فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَنۢۡبَآءُ يَوۡمَىِٕذٍ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی انھیں اس سوال کا جواب بن نہیں پڑے گا اور نہ انھیں صواب کا راستہ ہی ملے گا اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مقام پر صریح اور صحیح جواب دیے بغیر ان کی جان نہیں چھوٹے گی، یعنی اپنے احوال کے مطابق انھیں بتانا پڑے گا کہ انھوں نے ایمان اور اطاعت کے ساتھ رسولوں کی آواز پر لبیک کہی تھی مگر جب انھیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کے رویے، ان کے ساتھ اپنے عناد اور ان کے احکام کی مخالفت کے بارے میں معلوم ہو گا تو وہ کچھ نہیں بولیں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے کہ کیا جواب دیں خواہ جواب جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
28:63

قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغۡوَيۡنَآ أَغۡوَيۡنَٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَاۖ تَبَرَّأۡنَآ إِلَيۡكَۖ مَا كَانُوٓاْ إِيَّانَا يَعۡبُدُونَ

اور جس دن ندا دے گا انھیں (اللہ)، پھر وہ کہے گا (ان سے)، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (62)کہیں گے وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ان پر قول (عذاب) کا ، اے ہمارے رب! یہی ہیں وہ لوگ جنھیں گمراہ کیا تھا ہم نے، ہم نے گمراہ کیا تھا انھیں جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے ہم بیزاری ظاہر کرتے ہیں تیرے سامنے (ان سے) نہیں تھے وہ خاص ہماری ہی عبادت کرتے (63) اور کہا جائے گا، بلاؤ تم اپنے شریکوں کو پس وہ پکاریں گے ان کوتو وہ نہیں جواب دیں گے انھیں اور وہ (سب) دیکھ لیں گے عذاب کاش کہ! بے شک ہوتے وہ ہدایت پر چلتے (64) اور (یاد کرو!) جس دن پکارے گا ان کا (اللہ)، پھر وہ کہے گا، کیا جواب دیا تھا تم نے رسولوں کو؟ (65) پس اندھی ہو جائیں گی ان پر خبریں اس دن! پس وہ نہیں کریں گے ایک دوسرے سے سوال بھی (66) [63,62] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا:1 اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔2 اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔3 اور انھوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنھوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انھیں اس لیے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بے بسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہو جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پس وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ ندا ان کے زعم اور ان کی بہتان طرازی پر طنز کے طور پر ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’جن کا تمھیں دعویٰ تھا۔‘‘ تمھارے مزعومہ معبود اپنی ذات کے ساتھ کہاں ہیں اور کہاں ہے ان کی نفع دینے اور نقصان دینے کی طاقت؟اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں ہو جائے گی کہ جن خودساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے رہے ہیں جن پر ان کو بہت امیدیں اور توقعات تھیں ، سب باطل اور کمزور تھے اور وہ امیدیں بھی بے ثمر تھیں جو انھوں نے ان معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں وہ اپنے بارے میں ضلالت اور بے راہ روی کا اعتراف کریں گے۔ بنابریں ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’وہ لوگ جن پر عذاب کی بات واجب ہوجائے گی کہیں گے‘‘ کفروشر میں ان کی قیادت کرنے والے سردار اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اے ہمارے رب یہی‘‘ وہ پیروکار ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اَغۡوَيۡنَا١ۚ اَغۡوَيۡنٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَا﴾ ’’جن کو ہم نے بدراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح بدراہ کیا جس طرح ہم خود بدراہ ہوئے۔‘‘ یعنی گمراہی اور بدراہی میں ہم میں سے ہر ایک شریک ہے اور اس پر عذاب واجب ہو گیا۔ وہ کہیں گے:﴿ تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ یعنی ہم ان کی عبادت سے بری الذمہ ہیں ہم ان سے اور ان کے عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ﴿ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔‘‘ یہ لوگ تو شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے۔ [64]﴿ وَقِيۡلَ ﴾ ’’کہا جائے گا‘‘ ان سے ﴿ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ﴾ ’’اپنے ان معبودوں کو بلالو‘‘ جن سے تمھیں کوئی نفع پہنچنے کی امید تھی چنانچہ مصیبت کی ایسی گھڑی میں ان کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کا حکم دیا جائے گا جس میں عابد اپنے معبود کا پکارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ ﴾ ’’پس وہ ان کو پکاریں گے‘‘ تاکہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچائیں یا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں ﴿ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے‘‘ تب کفار کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے اور سزا کے مستحق ہیں ۔ ﴿ وَرَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور وہ اس عذاب کو دیکھیں گے‘‘ جو ان کے آنکھوں دیکھتے نازل ہو گا جس کو وہ جھٹلایا اور اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ ﴿ لَوۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’کاش وہ ہدایت یاب ہوتے۔‘‘ تو ان کو اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انھیں جنت کے راستے کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی، جیسے انھیں دنیا میں راہنمائی حاصل ہوئی تھی مگر اس کے برعکس وہ دنیا میں راہ راست پر گامزن نہ ہوئے، اس لیے آخرت میں انھیں جنت کا راستہ نہیں ملا۔ [66,65]﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ یعنی آیا تم نے ان کی تصدیق کر کے ان کی اتباع کی یا تم نے ان کی تکذیب کر کے ان کی مخالفت کا راستہ اختیار کیا؟ ﴿ فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَنۢۡبَآءُ يَوۡمَىِٕذٍ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی انھیں اس سوال کا جواب بن نہیں پڑے گا اور نہ انھیں صواب کا راستہ ہی ملے گا اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مقام پر صریح اور صحیح جواب دیے بغیر ان کی جان نہیں چھوٹے گی، یعنی اپنے احوال کے مطابق انھیں بتانا پڑے گا کہ انھوں نے ایمان اور اطاعت کے ساتھ رسولوں کی آواز پر لبیک کہی تھی مگر جب انھیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کے رویے، ان کے ساتھ اپنے عناد اور ان کے احکام کی مخالفت کے بارے میں معلوم ہو گا تو وہ کچھ نہیں بولیں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے کہ کیا جواب دیں خواہ جواب جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
28:64

وَقِيلَ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُمۡ وَرَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ لَوۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ يَهۡتَدُونَ

اور جس دن ندا دے گا انھیں (اللہ)، پھر وہ کہے گا (ان سے)، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (62)کہیں گے وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ان پر قول (عذاب) کا ، اے ہمارے رب! یہی ہیں وہ لوگ جنھیں گمراہ کیا تھا ہم نے، ہم نے گمراہ کیا تھا انھیں جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے ہم بیزاری ظاہر کرتے ہیں تیرے سامنے (ان سے) نہیں تھے وہ خاص ہماری ہی عبادت کرتے (63) اور کہا جائے گا، بلاؤ تم اپنے شریکوں کو پس وہ پکاریں گے ان کوتو وہ نہیں جواب دیں گے انھیں اور وہ (سب) دیکھ لیں گے عذاب کاش کہ! بے شک ہوتے وہ ہدایت پر چلتے (64) اور (یاد کرو!) جس دن پکارے گا ان کا (اللہ)، پھر وہ کہے گا، کیا جواب دیا تھا تم نے رسولوں کو؟ (65) پس اندھی ہو جائیں گی ان پر خبریں اس دن! پس وہ نہیں کریں گے ایک دوسرے سے سوال بھی (66) [63,62] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا:1 اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔2 اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔3 اور انھوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنھوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انھیں اس لیے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بے بسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہو جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پس وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ ندا ان کے زعم اور ان کی بہتان طرازی پر طنز کے طور پر ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’جن کا تمھیں دعویٰ تھا۔‘‘ تمھارے مزعومہ معبود اپنی ذات کے ساتھ کہاں ہیں اور کہاں ہے ان کی نفع دینے اور نقصان دینے کی طاقت؟اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں ہو جائے گی کہ جن خودساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے رہے ہیں جن پر ان کو بہت امیدیں اور توقعات تھیں ، سب باطل اور کمزور تھے اور وہ امیدیں بھی بے ثمر تھیں جو انھوں نے ان معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں وہ اپنے بارے میں ضلالت اور بے راہ روی کا اعتراف کریں گے۔ بنابریں ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’وہ لوگ جن پر عذاب کی بات واجب ہوجائے گی کہیں گے‘‘ کفروشر میں ان کی قیادت کرنے والے سردار اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اے ہمارے رب یہی‘‘ وہ پیروکار ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اَغۡوَيۡنَا١ۚ اَغۡوَيۡنٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَا﴾ ’’جن کو ہم نے بدراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح بدراہ کیا جس طرح ہم خود بدراہ ہوئے۔‘‘ یعنی گمراہی اور بدراہی میں ہم میں سے ہر ایک شریک ہے اور اس پر عذاب واجب ہو گیا۔ وہ کہیں گے:﴿ تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ یعنی ہم ان کی عبادت سے بری الذمہ ہیں ہم ان سے اور ان کے عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ﴿ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔‘‘ یہ لوگ تو شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے۔ [64]﴿ وَقِيۡلَ ﴾ ’’کہا جائے گا‘‘ ان سے ﴿ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ﴾ ’’اپنے ان معبودوں کو بلالو‘‘ جن سے تمھیں کوئی نفع پہنچنے کی امید تھی چنانچہ مصیبت کی ایسی گھڑی میں ان کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کا حکم دیا جائے گا جس میں عابد اپنے معبود کا پکارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ ﴾ ’’پس وہ ان کو پکاریں گے‘‘ تاکہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچائیں یا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں ﴿ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے‘‘ تب کفار کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے اور سزا کے مستحق ہیں ۔ ﴿ وَرَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور وہ اس عذاب کو دیکھیں گے‘‘ جو ان کے آنکھوں دیکھتے نازل ہو گا جس کو وہ جھٹلایا اور اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ ﴿ لَوۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’کاش وہ ہدایت یاب ہوتے۔‘‘ تو ان کو اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انھیں جنت کے راستے کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی، جیسے انھیں دنیا میں راہنمائی حاصل ہوئی تھی مگر اس کے برعکس وہ دنیا میں راہ راست پر گامزن نہ ہوئے، اس لیے آخرت میں انھیں جنت کا راستہ نہیں ملا۔ [66,65]﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ یعنی آیا تم نے ان کی تصدیق کر کے ان کی اتباع کی یا تم نے ان کی تکذیب کر کے ان کی مخالفت کا راستہ اختیار کیا؟ ﴿ فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَنۢۡبَآءُ يَوۡمَىِٕذٍ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی انھیں اس سوال کا جواب بن نہیں پڑے گا اور نہ انھیں صواب کا راستہ ہی ملے گا اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مقام پر صریح اور صحیح جواب دیے بغیر ان کی جان نہیں چھوٹے گی، یعنی اپنے احوال کے مطابق انھیں بتانا پڑے گا کہ انھوں نے ایمان اور اطاعت کے ساتھ رسولوں کی آواز پر لبیک کہی تھی مگر جب انھیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کے رویے، ان کے ساتھ اپنے عناد اور ان کے احکام کی مخالفت کے بارے میں معلوم ہو گا تو وہ کچھ نہیں بولیں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے کہ کیا جواب دیں خواہ جواب جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
28:65

وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبۡتُمُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ

اور جس دن ندا دے گا انھیں (اللہ)، پھر وہ کہے گا (ان سے)، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (62)کہیں گے وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ان پر قول (عذاب) کا ، اے ہمارے رب! یہی ہیں وہ لوگ جنھیں گمراہ کیا تھا ہم نے، ہم نے گمراہ کیا تھا انھیں جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے ہم بیزاری ظاہر کرتے ہیں تیرے سامنے (ان سے) نہیں تھے وہ خاص ہماری ہی عبادت کرتے (63) اور کہا جائے گا، بلاؤ تم اپنے شریکوں کو پس وہ پکاریں گے ان کوتو وہ نہیں جواب دیں گے انھیں اور وہ (سب) دیکھ لیں گے عذاب کاش کہ! بے شک ہوتے وہ ہدایت پر چلتے (64) اور (یاد کرو!) جس دن پکارے گا ان کا (اللہ)، پھر وہ کہے گا، کیا جواب دیا تھا تم نے رسولوں کو؟ (65) پس اندھی ہو جائیں گی ان پر خبریں اس دن! پس وہ نہیں کریں گے ایک دوسرے سے سوال بھی (66) [63,62] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا:1 اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔2 اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔3 اور انھوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنھوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انھیں اس لیے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بے بسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہو جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پس وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ ندا ان کے زعم اور ان کی بہتان طرازی پر طنز کے طور پر ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’جن کا تمھیں دعویٰ تھا۔‘‘ تمھارے مزعومہ معبود اپنی ذات کے ساتھ کہاں ہیں اور کہاں ہے ان کی نفع دینے اور نقصان دینے کی طاقت؟اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں ہو جائے گی کہ جن خودساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے رہے ہیں جن پر ان کو بہت امیدیں اور توقعات تھیں ، سب باطل اور کمزور تھے اور وہ امیدیں بھی بے ثمر تھیں جو انھوں نے ان معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں وہ اپنے بارے میں ضلالت اور بے راہ روی کا اعتراف کریں گے۔ بنابریں ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’وہ لوگ جن پر عذاب کی بات واجب ہوجائے گی کہیں گے‘‘ کفروشر میں ان کی قیادت کرنے والے سردار اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اے ہمارے رب یہی‘‘ وہ پیروکار ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اَغۡوَيۡنَا١ۚ اَغۡوَيۡنٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَا﴾ ’’جن کو ہم نے بدراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح بدراہ کیا جس طرح ہم خود بدراہ ہوئے۔‘‘ یعنی گمراہی اور بدراہی میں ہم میں سے ہر ایک شریک ہے اور اس پر عذاب واجب ہو گیا۔ وہ کہیں گے:﴿ تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ یعنی ہم ان کی عبادت سے بری الذمہ ہیں ہم ان سے اور ان کے عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ﴿ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔‘‘ یہ لوگ تو شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے۔ [64]﴿ وَقِيۡلَ ﴾ ’’کہا جائے گا‘‘ ان سے ﴿ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ﴾ ’’اپنے ان معبودوں کو بلالو‘‘ جن سے تمھیں کوئی نفع پہنچنے کی امید تھی چنانچہ مصیبت کی ایسی گھڑی میں ان کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کا حکم دیا جائے گا جس میں عابد اپنے معبود کا پکارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ ﴾ ’’پس وہ ان کو پکاریں گے‘‘ تاکہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچائیں یا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں ﴿ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے‘‘ تب کفار کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے اور سزا کے مستحق ہیں ۔ ﴿ وَرَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور وہ اس عذاب کو دیکھیں گے‘‘ جو ان کے آنکھوں دیکھتے نازل ہو گا جس کو وہ جھٹلایا اور اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ ﴿ لَوۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’کاش وہ ہدایت یاب ہوتے۔‘‘ تو ان کو اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انھیں جنت کے راستے کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی، جیسے انھیں دنیا میں راہنمائی حاصل ہوئی تھی مگر اس کے برعکس وہ دنیا میں راہ راست پر گامزن نہ ہوئے، اس لیے آخرت میں انھیں جنت کا راستہ نہیں ملا۔ [66,65]﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ یعنی آیا تم نے ان کی تصدیق کر کے ان کی اتباع کی یا تم نے ان کی تکذیب کر کے ان کی مخالفت کا راستہ اختیار کیا؟ ﴿ فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَنۢۡبَآءُ يَوۡمَىِٕذٍ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی انھیں اس سوال کا جواب بن نہیں پڑے گا اور نہ انھیں صواب کا راستہ ہی ملے گا اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مقام پر صریح اور صحیح جواب دیے بغیر ان کی جان نہیں چھوٹے گی، یعنی اپنے احوال کے مطابق انھیں بتانا پڑے گا کہ انھوں نے ایمان اور اطاعت کے ساتھ رسولوں کی آواز پر لبیک کہی تھی مگر جب انھیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کے رویے، ان کے ساتھ اپنے عناد اور ان کے احکام کی مخالفت کے بارے میں معلوم ہو گا تو وہ کچھ نہیں بولیں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے کہ کیا جواب دیں خواہ جواب جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
28:66

فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَنۢبَآءُ يَوۡمَئِذٖ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُونَ

اور جس دن ندا دے گا انھیں (اللہ)، پھر وہ کہے گا (ان سے)، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (62)کہیں گے وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ان پر قول (عذاب) کا ، اے ہمارے رب! یہی ہیں وہ لوگ جنھیں گمراہ کیا تھا ہم نے، ہم نے گمراہ کیا تھا انھیں جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے ہم بیزاری ظاہر کرتے ہیں تیرے سامنے (ان سے) نہیں تھے وہ خاص ہماری ہی عبادت کرتے (63) اور کہا جائے گا، بلاؤ تم اپنے شریکوں کو پس وہ پکاریں گے ان کوتو وہ نہیں جواب دیں گے انھیں اور وہ (سب) دیکھ لیں گے عذاب کاش کہ! بے شک ہوتے وہ ہدایت پر چلتے (64) اور (یاد کرو!) جس دن پکارے گا ان کا (اللہ)، پھر وہ کہے گا، کیا جواب دیا تھا تم نے رسولوں کو؟ (65) پس اندھی ہو جائیں گی ان پر خبریں اس دن! پس وہ نہیں کریں گے ایک دوسرے سے سوال بھی (66) [63,62] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا:1 اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔2 اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔3 اور انھوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنھوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انھیں اس لیے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بے بسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہو جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پس وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ ندا ان کے زعم اور ان کی بہتان طرازی پر طنز کے طور پر ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’جن کا تمھیں دعویٰ تھا۔‘‘ تمھارے مزعومہ معبود اپنی ذات کے ساتھ کہاں ہیں اور کہاں ہے ان کی نفع دینے اور نقصان دینے کی طاقت؟اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں ہو جائے گی کہ جن خودساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے رہے ہیں جن پر ان کو بہت امیدیں اور توقعات تھیں ، سب باطل اور کمزور تھے اور وہ امیدیں بھی بے ثمر تھیں جو انھوں نے ان معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں وہ اپنے بارے میں ضلالت اور بے راہ روی کا اعتراف کریں گے۔ بنابریں ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’وہ لوگ جن پر عذاب کی بات واجب ہوجائے گی کہیں گے‘‘ کفروشر میں ان کی قیادت کرنے والے سردار اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اے ہمارے رب یہی‘‘ وہ پیروکار ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اَغۡوَيۡنَا١ۚ اَغۡوَيۡنٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَا﴾ ’’جن کو ہم نے بدراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح بدراہ کیا جس طرح ہم خود بدراہ ہوئے۔‘‘ یعنی گمراہی اور بدراہی میں ہم میں سے ہر ایک شریک ہے اور اس پر عذاب واجب ہو گیا۔ وہ کہیں گے:﴿ تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ یعنی ہم ان کی عبادت سے بری الذمہ ہیں ہم ان سے اور ان کے عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ﴿ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔‘‘ یہ لوگ تو شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے۔ [64]﴿ وَقِيۡلَ ﴾ ’’کہا جائے گا‘‘ ان سے ﴿ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ﴾ ’’اپنے ان معبودوں کو بلالو‘‘ جن سے تمھیں کوئی نفع پہنچنے کی امید تھی چنانچہ مصیبت کی ایسی گھڑی میں ان کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کا حکم دیا جائے گا جس میں عابد اپنے معبود کا پکارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ ﴾ ’’پس وہ ان کو پکاریں گے‘‘ تاکہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچائیں یا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں ﴿ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے‘‘ تب کفار کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے اور سزا کے مستحق ہیں ۔ ﴿ وَرَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور وہ اس عذاب کو دیکھیں گے‘‘ جو ان کے آنکھوں دیکھتے نازل ہو گا جس کو وہ جھٹلایا اور اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ ﴿ لَوۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’کاش وہ ہدایت یاب ہوتے۔‘‘ تو ان کو اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انھیں جنت کے راستے کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی، جیسے انھیں دنیا میں راہنمائی حاصل ہوئی تھی مگر اس کے برعکس وہ دنیا میں راہ راست پر گامزن نہ ہوئے، اس لیے آخرت میں انھیں جنت کا راستہ نہیں ملا۔ [66,65]﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ یعنی آیا تم نے ان کی تصدیق کر کے ان کی اتباع کی یا تم نے ان کی تکذیب کر کے ان کی مخالفت کا راستہ اختیار کیا؟ ﴿ فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَنۢۡبَآءُ يَوۡمَىِٕذٍ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی انھیں اس سوال کا جواب بن نہیں پڑے گا اور نہ انھیں صواب کا راستہ ہی ملے گا اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مقام پر صریح اور صحیح جواب دیے بغیر ان کی جان نہیں چھوٹے گی، یعنی اپنے احوال کے مطابق انھیں بتانا پڑے گا کہ انھوں نے ایمان اور اطاعت کے ساتھ رسولوں کی آواز پر لبیک کہی تھی مگر جب انھیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کے رویے، ان کے ساتھ اپنے عناد اور ان کے احکام کی مخالفت کے بارے میں معلوم ہو گا تو وہ کچھ نہیں بولیں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے کہ کیا جواب دیں خواہ جواب جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
28:67

فَأَمَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَعَسَىٰٓ أَن يَكُونَ مِنَ ٱلۡمُفۡلِحِينَ

پس لیکن جس شخص نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اس نے عمل کیا نیک تو امید ہے یہ کہ ہو گا وہ فلاح پانے والوں میں سے (67) [67]اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق سے ان کے معبود اور ان کے رسولوں کے بارے میں اپنے سوال کا ذکر کرنے کے بعد اس طریق کا ذکر کرتا ہے جس کے ذریعے سے بندہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتا ہے۔ بے شک صرف وہی شخص نجات حاصل کر سکتا ہے جو شرک اور معاصی سے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے، اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، ان کی تصدیق کرتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور پنے اعمال میں رسولوں کی اتباع کرتا ہے۔﴿ فَعَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ ﴾ ’’پس امید ہے کہ وہ ہوں ‘‘ یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام خصائل جمع ہیں ۔ ﴿ مِنَ الۡمُفۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’کامیاب ہونے والوں میں سے۔‘‘ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کرنے اور خوف سے نجات پانے میں کامیاب ہونے والے۔ پس متذکرہ بالا امور کے بغیر فلاح کا کوئی راستہ نہیں ۔
28:68

وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ

اور آپ کا رب پیدا کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور (جو) وہ پسند کرتا ہے، نہیں ہے ان (لوگوں ) کے لیے کوئی اختیار، پاک ہے اللہ اور وہ برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (68)اور آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں سینے ان کے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (69) اور وہی ہے اللہ، نہیں کوئی اور الٰہ مگر وہی، اسی کے ہے تمام حمد دنیا اور آخرت میں اور اسی کا ہے حکم،اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(70) [70-68] اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، اوامر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کر لیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں ، مددگاروں ، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنھیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنھیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنھیں یہ ظاہر کرتے ہیں ۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بنا پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔ وہی دنیا و آخرت میں فیصلے کرنے والا ہے، دنیا میں اپنے حکم کونی و قدری کے مطابق فیصلے کرتا ہے جو تمام مخلوق میں جاری و ساری ہیں اور وہ اپنے حکم دینی کے مطابق فیصلے کرتا ہے جس سے تمام شرائع اوامر و نواہی وجود میں آتے ہیں ۔ وہ آخرت میں بھی اپنے حکم قدری و جزائی کے مطابق فیصلے کرے گا اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ تب وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کی جزا دے گا۔
28:69

وَرَبُّكَ يَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُونَ

اور آپ کا رب پیدا کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور (جو) وہ پسند کرتا ہے، نہیں ہے ان (لوگوں ) کے لیے کوئی اختیار، پاک ہے اللہ اور وہ برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (68)اور آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں سینے ان کے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (69) اور وہی ہے اللہ، نہیں کوئی اور الٰہ مگر وہی، اسی کے ہے تمام حمد دنیا اور آخرت میں اور اسی کا ہے حکم،اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(70) [70-68] اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، اوامر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کر لیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں ، مددگاروں ، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنھیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنھیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنھیں یہ ظاہر کرتے ہیں ۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بنا پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔ وہی دنیا و آخرت میں فیصلے کرنے والا ہے، دنیا میں اپنے حکم کونی و قدری کے مطابق فیصلے کرتا ہے جو تمام مخلوق میں جاری و ساری ہیں اور وہ اپنے حکم دینی کے مطابق فیصلے کرتا ہے جس سے تمام شرائع اوامر و نواہی وجود میں آتے ہیں ۔ وہ آخرت میں بھی اپنے حکم قدری و جزائی کے مطابق فیصلے کرے گا اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ تب وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کی جزا دے گا۔
28:70

وَهُوَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ لَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأُولَىٰ وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ

اور آپ کا رب پیدا کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور (جو) وہ پسند کرتا ہے، نہیں ہے ان (لوگوں ) کے لیے کوئی اختیار، پاک ہے اللہ اور وہ برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (68)اور آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں سینے ان کے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (69) اور وہی ہے اللہ، نہیں کوئی اور الٰہ مگر وہی، اسی کے ہے تمام حمد دنیا اور آخرت میں اور اسی کا ہے حکم،اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(70) [70-68] اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، اوامر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کر لیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں ، مددگاروں ، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنھیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنھیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنھیں یہ ظاہر کرتے ہیں ۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بنا پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔ وہی دنیا و آخرت میں فیصلے کرنے والا ہے، دنیا میں اپنے حکم کونی و قدری کے مطابق فیصلے کرتا ہے جو تمام مخلوق میں جاری و ساری ہیں اور وہ اپنے حکم دینی کے مطابق فیصلے کرتا ہے جس سے تمام شرائع اوامر و نواہی وجود میں آتے ہیں ۔ وہ آخرت میں بھی اپنے حکم قدری و جزائی کے مطابق فیصلے کرے گا اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ تب وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کی جزا دے گا۔
28:71

قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلَّيۡلَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِضِيَآءٍۚ أَفَلَا تَسۡمَعُونَ

کہہ دیجیے، بتلاؤ تو سہی! اگر کر دے اللہ تم پر رات ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون الٰہ ہے سوائے اللہ کے جو لے آئے تمھارے پاس روشنی؟ کیا پس نہیں سنتے تم؟ (71) کہہ دیجیے، بتلاؤ تو سہی! اگر کر دے اللہ تم پر دن ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون الٰہ ہے سوائے اللہ کے جو لے آئے تمھارے پاس رات کو تم آرام کر لو اس میں ؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (72) اور اپنی رحمت ہی سے اس (اللہ) نے بنایا تمھارے لیے رات اوردن کو تاکہ تم آرام کرو اس (رات) میں اور تاکہ تلاش کرو تم (دن میں ) فضل اس کا اور تاکہ تم شکر کرو (73) [73-71]یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر احسان ہے۔ وہ ان کو اس احسان پر شکر ادا کرنے، اس کی عبودیت اور حق کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ بے شک اس نے اپنی بے پایاں رحمت کی وجہ سے ان کے لیے دن بنایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں اوردن کی روشنی میں اپنے رزق اور معیشت کی طلب میں زمین میں پھیل جائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رات پیدا کی تاکہ وہ اس میں سکون پائیں ان کے بدن، دن بھر کی تگ و دو کے بعد آرام کر کے تھکاوٹ کو دور کریں ۔ یہ بندوں پر اس کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے… کیا مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی ہے جو ایسا کرنے پر قادر ہو؟﴿ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ الَّيۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِضِيَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات ہی طاری کردےتو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھیں روشنی لادیتا کیا تم سنتے نہیں ؟‘‘ اللہ کی نصیحتوں اور آیتوں کو سمجھنے اور قبول کرنے کی غرض سے؟ اور ﴿عَلَيۡكُمُ النَّهَارَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِلَيۡلٍ تَسۡكُنُوۡنَ فِيۡهِ١ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ دن ہی طاری کر دے تو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھارے لیے رات لے آتا جس میں تم آرام کرسکتے کیا تم دیکھتے نہیں ‘‘ عبرت کے مواقع اور آیات الٰہی کے جگہیں تاکہ تمھاری بصیرت روشن رہے اور تم صراط مستقیم پر گامزن رہو۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے رات کی آیت مبارکہ میں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ؟‘‘ اور دن کی آیت مبارکہ میں فرمایا:﴿ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا تم دیکھتے نہیں ؟‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کے وقت سماعت کا حاسہ، بصارت کے حاسہ کی نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے اور دن کے وقت بصارت کا حاسہ زیادہ قوی ہوتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غوروفکر کرے، ان میں بصیرت حاصل کرے اور ان کے وجود اور عدم وجود کے مابین موازنہ کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وجود اور ان کے عدم وجود کے مابین موازنہ کرے گا تو اس کی عقل کو اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت پر تنبہ حاصل ہو گا۔ اس کے برعکس جو کوئی عادت کی پیروی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ سے اسی طرح چلا آ رہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کی حمدوثنا سے خالی اور اس حقیقت کی رؤیت سے بے بہرہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے… تو وہ ایسا شخص ہے جس کے دل میں کبھی شکر اور ذکر کا خیال پیدا نہیں ہوتا۔
28:72

قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن جَعَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمُ ٱلنَّهَارَ سَرۡمَدًا إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِلَيۡلٖ تَسۡكُنُونَ فِيهِۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ

کہہ دیجیے، بتلاؤ تو سہی! اگر کر دے اللہ تم پر رات ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون الٰہ ہے سوائے اللہ کے جو لے آئے تمھارے پاس روشنی؟ کیا پس نہیں سنتے تم؟ (71) کہہ دیجیے، بتلاؤ تو سہی! اگر کر دے اللہ تم پر دن ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون الٰہ ہے سوائے اللہ کے جو لے آئے تمھارے پاس رات کو تم آرام کر لو اس میں ؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (72) اور اپنی رحمت ہی سے اس (اللہ) نے بنایا تمھارے لیے رات اوردن کو تاکہ تم آرام کرو اس (رات) میں اور تاکہ تلاش کرو تم (دن میں ) فضل اس کا اور تاکہ تم شکر کرو (73) [73-71]یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر احسان ہے۔ وہ ان کو اس احسان پر شکر ادا کرنے، اس کی عبودیت اور حق کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ بے شک اس نے اپنی بے پایاں رحمت کی وجہ سے ان کے لیے دن بنایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں اوردن کی روشنی میں اپنے رزق اور معیشت کی طلب میں زمین میں پھیل جائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رات پیدا کی تاکہ وہ اس میں سکون پائیں ان کے بدن، دن بھر کی تگ و دو کے بعد آرام کر کے تھکاوٹ کو دور کریں ۔ یہ بندوں پر اس کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے… کیا مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی ہے جو ایسا کرنے پر قادر ہو؟﴿ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ الَّيۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِضِيَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات ہی طاری کردےتو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھیں روشنی لادیتا کیا تم سنتے نہیں ؟‘‘ اللہ کی نصیحتوں اور آیتوں کو سمجھنے اور قبول کرنے کی غرض سے؟ اور ﴿عَلَيۡكُمُ النَّهَارَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِلَيۡلٍ تَسۡكُنُوۡنَ فِيۡهِ١ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ دن ہی طاری کر دے تو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھارے لیے رات لے آتا جس میں تم آرام کرسکتے کیا تم دیکھتے نہیں ‘‘ عبرت کے مواقع اور آیات الٰہی کے جگہیں تاکہ تمھاری بصیرت روشن رہے اور تم صراط مستقیم پر گامزن رہو۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے رات کی آیت مبارکہ میں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ؟‘‘ اور دن کی آیت مبارکہ میں فرمایا:﴿ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا تم دیکھتے نہیں ؟‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کے وقت سماعت کا حاسہ، بصارت کے حاسہ کی نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے اور دن کے وقت بصارت کا حاسہ زیادہ قوی ہوتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غوروفکر کرے، ان میں بصیرت حاصل کرے اور ان کے وجود اور عدم وجود کے مابین موازنہ کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وجود اور ان کے عدم وجود کے مابین موازنہ کرے گا تو اس کی عقل کو اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت پر تنبہ حاصل ہو گا۔ اس کے برعکس جو کوئی عادت کی پیروی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ سے اسی طرح چلا آ رہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کی حمدوثنا سے خالی اور اس حقیقت کی رؤیت سے بے بہرہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے… تو وہ ایسا شخص ہے جس کے دل میں کبھی شکر اور ذکر کا خیال پیدا نہیں ہوتا۔
28:73

وَمِن رَّحۡمَتِهِۦ جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ

کہہ دیجیے، بتلاؤ تو سہی! اگر کر دے اللہ تم پر رات ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون الٰہ ہے سوائے اللہ کے جو لے آئے تمھارے پاس روشنی؟ کیا پس نہیں سنتے تم؟ (71) کہہ دیجیے، بتلاؤ تو سہی! اگر کر دے اللہ تم پر دن ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون الٰہ ہے سوائے اللہ کے جو لے آئے تمھارے پاس رات کو تم آرام کر لو اس میں ؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (72) اور اپنی رحمت ہی سے اس (اللہ) نے بنایا تمھارے لیے رات اوردن کو تاکہ تم آرام کرو اس (رات) میں اور تاکہ تلاش کرو تم (دن میں ) فضل اس کا اور تاکہ تم شکر کرو (73) [73-71]یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر احسان ہے۔ وہ ان کو اس احسان پر شکر ادا کرنے، اس کی عبودیت اور حق کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ بے شک اس نے اپنی بے پایاں رحمت کی وجہ سے ان کے لیے دن بنایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں اوردن کی روشنی میں اپنے رزق اور معیشت کی طلب میں زمین میں پھیل جائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رات پیدا کی تاکہ وہ اس میں سکون پائیں ان کے بدن، دن بھر کی تگ و دو کے بعد آرام کر کے تھکاوٹ کو دور کریں ۔ یہ بندوں پر اس کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے… کیا مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی ہے جو ایسا کرنے پر قادر ہو؟﴿ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ الَّيۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِضِيَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات ہی طاری کردےتو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھیں روشنی لادیتا کیا تم سنتے نہیں ؟‘‘ اللہ کی نصیحتوں اور آیتوں کو سمجھنے اور قبول کرنے کی غرض سے؟ اور ﴿عَلَيۡكُمُ النَّهَارَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِلَيۡلٍ تَسۡكُنُوۡنَ فِيۡهِ١ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ دن ہی طاری کر دے تو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھارے لیے رات لے آتا جس میں تم آرام کرسکتے کیا تم دیکھتے نہیں ‘‘ عبرت کے مواقع اور آیات الٰہی کے جگہیں تاکہ تمھاری بصیرت روشن رہے اور تم صراط مستقیم پر گامزن رہو۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے رات کی آیت مبارکہ میں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ؟‘‘ اور دن کی آیت مبارکہ میں فرمایا:﴿ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا تم دیکھتے نہیں ؟‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کے وقت سماعت کا حاسہ، بصارت کے حاسہ کی نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے اور دن کے وقت بصارت کا حاسہ زیادہ قوی ہوتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غوروفکر کرے، ان میں بصیرت حاصل کرے اور ان کے وجود اور عدم وجود کے مابین موازنہ کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وجود اور ان کے عدم وجود کے مابین موازنہ کرے گا تو اس کی عقل کو اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت پر تنبہ حاصل ہو گا۔ اس کے برعکس جو کوئی عادت کی پیروی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ سے اسی طرح چلا آ رہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کی حمدوثنا سے خالی اور اس حقیقت کی رؤیت سے بے بہرہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے… تو وہ ایسا شخص ہے جس کے دل میں کبھی شکر اور ذکر کا خیال پیدا نہیں ہوتا۔
28:74

وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ

اورجس دن ندا دے گا انھیں اللہ، پھر وہ کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (74) اور ہم نکالیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ ، پھر کہیں گے ہم، لاؤ تم اپنی دلیل، پس جان لیں گے وہ کہ بلاشبہ سچی بات اللہ ہی کی ہے اور گم ہو جائے گا ان سے جو کچھ تھے وہ افتراباندھتے (75) [75,74] جس روز اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور ان لوگوں کو… جو غیر اللہ کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہیں ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ الوہیت میں غیر اللہ کا حصہ ہے اور ان کے یہ خود ساختہ معبود عبادت کے مستحق ہیں اور نفع و نقصان دینے کی طاقت رکھتے ہیں … پکارے گا۔ پس جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ مشرکین کی جسارت، ان کے زعم کا ذب اور ان کی خود اپنے آپ کی تکذیب کو ظاہر کرنا چاہے گا۔ ﴿يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’تو ان کو پکار کر پوچھے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم، شریک سمجھتے تھے۔‘‘ یہ نفس امر میں شریک نہیں بلکہ ان کے زعم باطل کے مطابق شریک ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ﴾(یونس:10؍66) ’’اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ تو محض اپنے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور وہ صرف قیاس آرائیاں کررہے ہیں ۔‘‘جب یہ مشرکین اور ان کے معبودان باطل اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ﴿ مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا ﴾ ’’ہر امت میں سے ایک گواہ‘‘ یعنی جھٹلانے والی ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کرے گا جو دنیا میں ان کے کرتوتوں ، ان کے شرک اور ان کے اعتقادات پر گواہی دے گا اور یہ منتخب لوگ ہوں گے یعنی ہم جھٹلانے والوں کے سرداروں میں سے کچھ لوگوں کو منتخب کر لیں گے جو اپنی طرف سے اور اپنے بھائیوں کی طرف سے جھگڑیں گے کیونکہ وہ ایک ہی راستے پر چلتے رہے ہیں اور جب وہ محاکمہ کے لیے سامنے آئیں گے ﴿ فَقُلۡنَا هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ ﴾ ’’تو ہم (ان سے)کہیں گے اپنی دلیل لاؤ‘‘ یعنی اپنے شرک کی صحت پر حجت و برہان کہ آیا ہم نے تمھیں اس شرک کا حکم دیا؟ کیا میرے رسولوں نے تمھیں اس کا حکم دیا؟ یا اس شرک کے جواز کے بارے میں تم نے میری کتابوں میں کچھ لکھا ہوا پایا؟ کیا ان خود ساختہ شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو الوہیت کا مستحق ہو؟ کیا یہ معبود تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں ؟ یا تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹانے میں تمھارے کوئی کام آ سکتے ہیں ؟ اگر ان میں کوئی اہلیت ہے تو وہ یہ کام کر دیکھیں وہ تم سے عذاب الٰہی کو دور کریں اگر وہ ایسا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔﴿ فَعَلِمُوۡۤا ﴾ ’’تب وہ جان لیں گے‘‘ اپنے قول کے بطلان و فساد کو اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا ﴿ اَنَّ الۡحَقَّ لِلّٰهِ ﴾ ’’کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے‘‘ خصومت ان کی طرف رخ کر لے گی۔ ان کی حجت ناکام اور اللہ تعالیٰ کی حجت غالب آ جائے گی۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’جو جھوٹ اور بہتان انھوں نے گھڑا تھا سب مضمحل، ناپید اور معدوم ہو جائے گا۔‘‘ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انصاف کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی شخص کو سزا دی ہے جو اس کا مستحق اور اہل ہے۔
28:75

وَنَزَعۡنَا مِن كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدٗا فَقُلۡنَا هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ فَعَلِمُوٓاْ أَنَّ ٱلۡحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ

اورجس دن ندا دے گا انھیں اللہ، پھر وہ کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (74) اور ہم نکالیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ ، پھر کہیں گے ہم، لاؤ تم اپنی دلیل، پس جان لیں گے وہ کہ بلاشبہ سچی بات اللہ ہی کی ہے اور گم ہو جائے گا ان سے جو کچھ تھے وہ افتراباندھتے (75) [75,74] جس روز اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور ان لوگوں کو… جو غیر اللہ کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہیں ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ الوہیت میں غیر اللہ کا حصہ ہے اور ان کے یہ خود ساختہ معبود عبادت کے مستحق ہیں اور نفع و نقصان دینے کی طاقت رکھتے ہیں … پکارے گا۔ پس جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ مشرکین کی جسارت، ان کے زعم کا ذب اور ان کی خود اپنے آپ کی تکذیب کو ظاہر کرنا چاہے گا۔ ﴿يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’تو ان کو پکار کر پوچھے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم، شریک سمجھتے تھے۔‘‘ یہ نفس امر میں شریک نہیں بلکہ ان کے زعم باطل کے مطابق شریک ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ﴾(یونس:10؍66) ’’اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ تو محض اپنے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور وہ صرف قیاس آرائیاں کررہے ہیں ۔‘‘جب یہ مشرکین اور ان کے معبودان باطل اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ﴿ مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا ﴾ ’’ہر امت میں سے ایک گواہ‘‘ یعنی جھٹلانے والی ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کرے گا جو دنیا میں ان کے کرتوتوں ، ان کے شرک اور ان کے اعتقادات پر گواہی دے گا اور یہ منتخب لوگ ہوں گے یعنی ہم جھٹلانے والوں کے سرداروں میں سے کچھ لوگوں کو منتخب کر لیں گے جو اپنی طرف سے اور اپنے بھائیوں کی طرف سے جھگڑیں گے کیونکہ وہ ایک ہی راستے پر چلتے رہے ہیں اور جب وہ محاکمہ کے لیے سامنے آئیں گے ﴿ فَقُلۡنَا هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ ﴾ ’’تو ہم (ان سے)کہیں گے اپنی دلیل لاؤ‘‘ یعنی اپنے شرک کی صحت پر حجت و برہان کہ آیا ہم نے تمھیں اس شرک کا حکم دیا؟ کیا میرے رسولوں نے تمھیں اس کا حکم دیا؟ یا اس شرک کے جواز کے بارے میں تم نے میری کتابوں میں کچھ لکھا ہوا پایا؟ کیا ان خود ساختہ شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو الوہیت کا مستحق ہو؟ کیا یہ معبود تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں ؟ یا تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹانے میں تمھارے کوئی کام آ سکتے ہیں ؟ اگر ان میں کوئی اہلیت ہے تو وہ یہ کام کر دیکھیں وہ تم سے عذاب الٰہی کو دور کریں اگر وہ ایسا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔﴿ فَعَلِمُوۡۤا ﴾ ’’تب وہ جان لیں گے‘‘ اپنے قول کے بطلان و فساد کو اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا ﴿ اَنَّ الۡحَقَّ لِلّٰهِ ﴾ ’’کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے‘‘ خصومت ان کی طرف رخ کر لے گی۔ ان کی حجت ناکام اور اللہ تعالیٰ کی حجت غالب آ جائے گی۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’جو جھوٹ اور بہتان انھوں نے گھڑا تھا سب مضمحل، ناپید اور معدوم ہو جائے گا۔‘‘ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انصاف کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی شخص کو سزا دی ہے جو اس کا مستحق اور اہل ہے۔
28:76

۞إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوۡمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيۡهِمۡۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلۡعُصۡبَةِ أُوْلِي ٱلۡقُوَّةِ إِذۡ قَالَ لَهُۥ قَوۡمُهُۥ لَا تَفۡرَحۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَرِحِينَ

بلاشبہ قارون تھا قومِ موسیٰ میں سے، پس اس نے ظلم کیا ان پر اور دیا تھا ہم نے اسے خزانوں سے اس قدر کہ بلاشبہ اس کی چابیاں (ان کا اٹھانا) بھاری ہوتا تھا ایک جماعت قوت والی پر جب کہا اس سے اس کی قوم (کے لوگوں ) نے، نہ اترا تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اترانے والوں کو (76) اور تلاش کر تو اس میں جو کچھ دیا ہے تجھے اللہ نے، گھر آخرت کا اور مت بھول تو حصہ اپنا دنیا سےاور احسان کر تو (لوگوں پر) جس طرح کہ احسان کیا اللہ نے تجھ پر اور نہ تلاش کر تو فساد زمین میں بے شک اللہ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو (77) قارون نے کہا، یقینا دیا گیا ہوں میں وہ (مال) اس علم کی بنا پر جو میرے پاس ہے، کیا نہیں جانا اس نے کہ بلاشبہ اللہ نے تحقیق ہلاک کیے ہیں پہلی امتوں میں سے وہ لوگ کہ وہ زیادہ تھے اس سے قوت میں اور بہت زیادہ تھے جمع پونجی (یا جماعت) میں اور نہیں پوچھے جاتے اپنے گناہوں کی بابت مجرم لوگ (78) پس وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں تو کہا ان لوگوں نے جو چاہتے تھے زندگانی دنیا کی، اے کاش! ہوتا ہمارے لیے (بھی) مثل اس کے جو دیا گیا قارون کو، بلاشبہ وہ البتہ بہت بڑے نصیبے والا ہے (79) اور کہا ان لوگوں نے جو دیے گئے تھے علم، افسوس تم پر! ثواب اللہ کا بہت بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے عمل کیے نیک اورنہیں سکھلائی جاتی یہ بات مگر صبر کرنے والوں ہی کو (80)پس دھنسا دیاہم نے اسے اوراس کے گھر کو زمین میں پس نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کےاور نہ ہوا وہ خود ہی بدلہ لینے والوں میں سے (81)اور ہو گئے وہ لوگ جنھوں نے تمنا کی تھی اس کے مرتبے کی کل، کہتے تھے کیا نہیں دیکھا تو نے کہ اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہی تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)، اگر نہ ہوتا یہ کہ احسان کیا اللہ نے ہم پر تو البتہ وہ دھنسا دیتا ہمیں بھی، کیا نہیں دیکھا تو نے کہ نہیں فلاح پاتے کافر (82) [76] اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا،اس کے ساتھ خیرخواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰؔى ﴾ یعنی قارون، بنی اسرائیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ا ن کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہو گیا، اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور اس کے سپرد كيے گئے تھے۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ ﴾ ’’ہم نے اسے (مال و دولت کے بہت سے) خزانے عطا كيے تھے‘‘ ﴿ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِي الۡقُوَّةِ﴾ ’’ان (خزانوں ) کی کنجیاں ایک طاقتور ’’عصبہ‘‘ کو اٹھانی مشکل ہوتیں ۔‘‘ (عُصْبَۃ) کا اطلاق سات سے دس تک کی تعداد پر ہوتا ہے، یعنی حتیٰ کہ خزانوں کی کنجیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی بہت بھاری تھا۔ یہ تو تھیں ان خزانوں کی کنجیاں ، تب ان خزانوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ﴾ ’’جب اس کی قوم نے کہا‘‘ اس کی خیرخواہی کرتے اور اسے سرکشی سے ڈراتے ہوئے: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ ﴾ یعنی اس دنیاوی شان و شوکت پر خوش ہو نہ اس پر فخر کر کہ یہ تجھے آخرت سے غافل کر دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں ، فخر کرنے والوں اور دنیا کی محبت میں مشغول ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [77]﴿وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ یعنی تجھے آخرت کے لیے ایسے مال و سائل حاصل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں لہذا ان وسائل کے ذریعے سے وہ کچھ طلب کر جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ کر محض لذات و شہوات کے حصول پر اقتصار نہ کر ﴿وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلا۔‘‘ ہم تجھے یہ نہیں کہتے کہ تو اپنا سارا مال صدقہ کر دے اور خود ضائع ہو جا بلکہ اپنی آخرت کے لیے خرچ کر اور اپنی دنیا سے اس طرح فائدہ اٹھا جس سے تیرے دین کو نقصان پہنچے نہ تیری آخرت خراب ہو۔ ﴿وَاَحۡسِنۡ ﴾ ’’اور بھلائی کر‘‘ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ﴿ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ﴾ ’’جیسے اللہ تعالیٰ نے (تجھے یہ مال و دولت عطا کر کے) تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اور تکبر کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور منعم کو فراموش کر کے نعمتوں میں مشغول ہو کر زمین میں فساد برپا نہ کر ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ بلکہ فساد برپا کرنے پر انھیں سخت سزا دیتا ہے۔ [78]﴿ قَالَ ﴾ قارون نے اپنی قوم کی خیر خواہی کو ٹھکراتے اور اپنے رب کی ناشکری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ﴾ ’’یہ (مال) مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔‘‘ یعنی یہ مال و دولت میں نے اپنے کسب، مختلف مکاسب کے بارے میں اپنی معرفت اور مہارت کے ذریعے سے حاصل کیا ہے۔ یا اس بنا پر یہ مال مجھے حاصل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حال کا علم ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں اس مال و دولت کا اہل ہوں تب تم اس چیز کے بارے میں مجھے کیوں نصیحت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کو عطا کیا جا رہا ہے اس کے احوال اچھے ہیں … فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَهۡلَكَ مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةً وَّاَكۡثَرُ جَمۡعًا﴾ ’’کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں ، جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ، ہلاک کرڈالی ہیں ؟‘‘ پس دوسرے زمانوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے سے کون سی چیز مانع ہے حالانکہ ان جیسے اور ان سے بھی بڑے لوگوں کو ہلاک کرنے کے متعلق ہماری سنت اور اصول… جب وہ ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کی ہلاکت کے موجب ہوتے ہیں … گزر چکے ہیں ؟ ﴿ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِهِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گا۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دیتا ہے اور ان کی بداعمالیوں پر ان کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ پس اگر وہ اپنے بارے میں حسن احوال کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان احوال کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں اور یہ دعویٰ ان سے عذاب کو دور نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ ان کے کرتوت چھپے ہوئے نہیں ہیں اس لیے ان کا انکار بے محل ہے۔ [79] قارون اپنے عناد اور سرکشی پر جما رہا اس نے تکبر اور غرور کی بنا پر اپنی قوم کی خیرخواہی کو قبول نہ کیا، وہ خودپسندی میں مبتلا تھا، جو مال و دولت اسے عطا کیا گیا تھا اس نے اسے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ﴿ فَخَرَجَ ﴾ ایک روز باہر آیا ﴿ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ﴾ ’’اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑی ٹھاٹھ باٹھ یعنی وہ اپنے بہترین دنیاوی حال میں اپنی قوم کے سامنے آیا، اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھا وہ پوری طرح تیار ہو کر اور پوری سج دھج کے ساتھ، اپنی قوم کے سامنے آیا۔ اس قسم کے لوگوں کی یہ سج دھج، عام طور پر بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے جس میں دنیاوی زیب و زینت، اس کی خوبصورتی، اس کی شان و شوکت، اس کی آسودگی اور اس کا تفاخر سب شامل ہوتے ہیں ۔قارون کو اس حالت میں آنکھوں نے دیکھا، اس کے لباس کی ہیئت نے دلوں کو لبریز کر دیا اور اس کی سج دھج نے نفوس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ دیکھنے والے دو گروہوں میں منقسم ہو گئے ہر گروہ نے اپنے اپنے عزم و ہمت اور اپنی اپنی رغبت کے مطابق تبصرہ کیا۔ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے ارادے صرف دنیاوی شان و شوکت ہی سے متعلق ہیں ، دنیا ہی ان کی منتہائے رغبت ہے اور دنیا کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں انھوں نے کہا:﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ (دنیاوی سازوسامان اور اس کی خوبصورتی)عطا کر دی جاتی، جس سے قارون کو نوازا گیا ہے۔‘‘﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔‘‘ اگر ان کی رغبتوں کا منتہائے مقصود یہی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں تو وہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ تو بڑے نصیبے والا ہے کیونکہ وہ دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ ور ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے مطالب و مقاصد کے حصول پر قادر تھا۔ یہ بہرہ وافر لوگوں کے ارادوں کے مطابق تھا۔ یہ ان لوگوں کے ارادے اور ان کے مقاصد و مطالب ہیں جو نہایت گھٹیا ہمتوں کے مالک ہیں ، جن کے ارادے اعلیٰ مقاصد و مطالب کی طرف ترقی کرنے سے قاصر ہیں ۔ [80]﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔‘‘ وہ لوگ جو اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے تھے اور جب وہ دنیا کے ظاہری روپ کو دیکھتے تھے تو اس کے باطن پر بھی ان کی نظر جاتی تھی۔ ﴿ وَيۡلَكُمۡ ﴾ ’’تم پر افسوس‘‘ ان کے حال کو دیکھتے، ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا:﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ ﴾ ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت کی لذت، اس کی طرف انابت، اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ خَيۡرٌ ﴾ ’’بہتر ہے‘‘ اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ﴿ اِلَّا الصّٰؔبِرُوۡنَ ﴾ اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پر صبر کرتے ہیں ، جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں ۔ [81] جب قارون کی سرکشی اور فخر کی حالت انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے سامنے دنیا پوری طرح آراستہ ہو گئی اور دنیا نے اس کو بے انتہا تکبر اور غرور میں ڈال دیا تو اس کو اچانک عذاب نے آ لیا۔ ﴿ فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ﴾ ’’پس ہم نے سزا کے طور پر اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا‘‘ سزا اس کے عمل کی جنس میں سے تھی۔ جس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے بندوں سے بلند سمجھتا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر اور مال و دولت سمیت، جس نے اسے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا، انتہائی پستیوں میں اتار دیا ﴿ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ ﴾ ’’اس کی کوئی جماعت نہ تھی۔‘‘ یعنی کوئی جماعت، گروہ، خدام اور افواج نہ تھیں ﴿ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۗ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کے سوا جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔‘‘ یعنی عذاب الٰہی آ پہنچا کسی نے اس کی مددکی نہ وہ کسی سے مدد حاصل کر سکا۔ [82]﴿ وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و مرتبے کی تمنا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔‘‘ ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے‘‘ دکھ محسوس کرتے، عبرت پکڑتے اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ بھی عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں :﴿ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ﴾ ’’ہماری حالت پر افسوس! اللہ اپنے بندوں سے جس کا چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے‘‘ تب ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون کے رزق میں فراخی، اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں کوئی بھلائی ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہ تھے ﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾’’قارون تو بڑے ہی نصیبے والا ہے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا﴾ ’’اگر ہم پر اللہ کی عنایت نہ ہوتی‘‘ تو وہ ہماری بات پر ہماری گرفت کرلیتا اور اگر اس کا فضل و کرم نہ ہوتا ﴿ لَخَسَفَ بِنَا﴾ ’’تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔‘‘ قارون کی ہلاکت اس کے لیے سزا اور دوسروں کے لیے عبرت اور نصیحت تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جو قارون پر رشک کیا کرتے تھے نادم ہوئے اور قارون کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا ﴿ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور حقیقت یہی ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ۔
28:77

وَٱبۡتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنۡيَاۖ وَأَحۡسِن كَمَآ أَحۡسَنَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ وَلَا تَبۡغِ ٱلۡفَسَادَ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُفۡسِدِينَ

بلاشبہ قارون تھا قومِ موسیٰ میں سے، پس اس نے ظلم کیا ان پر اور دیا تھا ہم نے اسے خزانوں سے اس قدر کہ بلاشبہ اس کی چابیاں (ان کا اٹھانا) بھاری ہوتا تھا ایک جماعت قوت والی پر جب کہا اس سے اس کی قوم (کے لوگوں ) نے، نہ اترا تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اترانے والوں کو (76) اور تلاش کر تو اس میں جو کچھ دیا ہے تجھے اللہ نے، گھر آخرت کا اور مت بھول تو حصہ اپنا دنیا سےاور احسان کر تو (لوگوں پر) جس طرح کہ احسان کیا اللہ نے تجھ پر اور نہ تلاش کر تو فساد زمین میں بے شک اللہ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو (77) قارون نے کہا، یقینا دیا گیا ہوں میں وہ (مال) اس علم کی بنا پر جو میرے پاس ہے، کیا نہیں جانا اس نے کہ بلاشبہ اللہ نے تحقیق ہلاک کیے ہیں پہلی امتوں میں سے وہ لوگ کہ وہ زیادہ تھے اس سے قوت میں اور بہت زیادہ تھے جمع پونجی (یا جماعت) میں اور نہیں پوچھے جاتے اپنے گناہوں کی بابت مجرم لوگ (78) پس وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں تو کہا ان لوگوں نے جو چاہتے تھے زندگانی دنیا کی، اے کاش! ہوتا ہمارے لیے (بھی) مثل اس کے جو دیا گیا قارون کو، بلاشبہ وہ البتہ بہت بڑے نصیبے والا ہے (79) اور کہا ان لوگوں نے جو دیے گئے تھے علم، افسوس تم پر! ثواب اللہ کا بہت بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے عمل کیے نیک اورنہیں سکھلائی جاتی یہ بات مگر صبر کرنے والوں ہی کو (80)پس دھنسا دیاہم نے اسے اوراس کے گھر کو زمین میں پس نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کےاور نہ ہوا وہ خود ہی بدلہ لینے والوں میں سے (81)اور ہو گئے وہ لوگ جنھوں نے تمنا کی تھی اس کے مرتبے کی کل، کہتے تھے کیا نہیں دیکھا تو نے کہ اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہی تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)، اگر نہ ہوتا یہ کہ احسان کیا اللہ نے ہم پر تو البتہ وہ دھنسا دیتا ہمیں بھی، کیا نہیں دیکھا تو نے کہ نہیں فلاح پاتے کافر (82) [76] اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا،اس کے ساتھ خیرخواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰؔى ﴾ یعنی قارون، بنی اسرائیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ا ن کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہو گیا، اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور اس کے سپرد كيے گئے تھے۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ ﴾ ’’ہم نے اسے (مال و دولت کے بہت سے) خزانے عطا كيے تھے‘‘ ﴿ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِي الۡقُوَّةِ﴾ ’’ان (خزانوں ) کی کنجیاں ایک طاقتور ’’عصبہ‘‘ کو اٹھانی مشکل ہوتیں ۔‘‘ (عُصْبَۃ) کا اطلاق سات سے دس تک کی تعداد پر ہوتا ہے، یعنی حتیٰ کہ خزانوں کی کنجیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی بہت بھاری تھا۔ یہ تو تھیں ان خزانوں کی کنجیاں ، تب ان خزانوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ﴾ ’’جب اس کی قوم نے کہا‘‘ اس کی خیرخواہی کرتے اور اسے سرکشی سے ڈراتے ہوئے: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ ﴾ یعنی اس دنیاوی شان و شوکت پر خوش ہو نہ اس پر فخر کر کہ یہ تجھے آخرت سے غافل کر دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں ، فخر کرنے والوں اور دنیا کی محبت میں مشغول ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [77]﴿وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ یعنی تجھے آخرت کے لیے ایسے مال و سائل حاصل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں لہذا ان وسائل کے ذریعے سے وہ کچھ طلب کر جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ کر محض لذات و شہوات کے حصول پر اقتصار نہ کر ﴿وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلا۔‘‘ ہم تجھے یہ نہیں کہتے کہ تو اپنا سارا مال صدقہ کر دے اور خود ضائع ہو جا بلکہ اپنی آخرت کے لیے خرچ کر اور اپنی دنیا سے اس طرح فائدہ اٹھا جس سے تیرے دین کو نقصان پہنچے نہ تیری آخرت خراب ہو۔ ﴿وَاَحۡسِنۡ ﴾ ’’اور بھلائی کر‘‘ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ﴿ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ﴾ ’’جیسے اللہ تعالیٰ نے (تجھے یہ مال و دولت عطا کر کے) تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اور تکبر کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور منعم کو فراموش کر کے نعمتوں میں مشغول ہو کر زمین میں فساد برپا نہ کر ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ بلکہ فساد برپا کرنے پر انھیں سخت سزا دیتا ہے۔ [78]﴿ قَالَ ﴾ قارون نے اپنی قوم کی خیر خواہی کو ٹھکراتے اور اپنے رب کی ناشکری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ﴾ ’’یہ (مال) مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔‘‘ یعنی یہ مال و دولت میں نے اپنے کسب، مختلف مکاسب کے بارے میں اپنی معرفت اور مہارت کے ذریعے سے حاصل کیا ہے۔ یا اس بنا پر یہ مال مجھے حاصل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حال کا علم ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں اس مال و دولت کا اہل ہوں تب تم اس چیز کے بارے میں مجھے کیوں نصیحت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کو عطا کیا جا رہا ہے اس کے احوال اچھے ہیں … فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَهۡلَكَ مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةً وَّاَكۡثَرُ جَمۡعًا﴾ ’’کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں ، جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ، ہلاک کرڈالی ہیں ؟‘‘ پس دوسرے زمانوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے سے کون سی چیز مانع ہے حالانکہ ان جیسے اور ان سے بھی بڑے لوگوں کو ہلاک کرنے کے متعلق ہماری سنت اور اصول… جب وہ ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کی ہلاکت کے موجب ہوتے ہیں … گزر چکے ہیں ؟ ﴿ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِهِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گا۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دیتا ہے اور ان کی بداعمالیوں پر ان کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ پس اگر وہ اپنے بارے میں حسن احوال کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان احوال کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں اور یہ دعویٰ ان سے عذاب کو دور نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ ان کے کرتوت چھپے ہوئے نہیں ہیں اس لیے ان کا انکار بے محل ہے۔ [79] قارون اپنے عناد اور سرکشی پر جما رہا اس نے تکبر اور غرور کی بنا پر اپنی قوم کی خیرخواہی کو قبول نہ کیا، وہ خودپسندی میں مبتلا تھا، جو مال و دولت اسے عطا کیا گیا تھا اس نے اسے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ﴿ فَخَرَجَ ﴾ ایک روز باہر آیا ﴿ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ﴾ ’’اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑی ٹھاٹھ باٹھ یعنی وہ اپنے بہترین دنیاوی حال میں اپنی قوم کے سامنے آیا، اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھا وہ پوری طرح تیار ہو کر اور پوری سج دھج کے ساتھ، اپنی قوم کے سامنے آیا۔ اس قسم کے لوگوں کی یہ سج دھج، عام طور پر بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے جس میں دنیاوی زیب و زینت، اس کی خوبصورتی، اس کی شان و شوکت، اس کی آسودگی اور اس کا تفاخر سب شامل ہوتے ہیں ۔قارون کو اس حالت میں آنکھوں نے دیکھا، اس کے لباس کی ہیئت نے دلوں کو لبریز کر دیا اور اس کی سج دھج نے نفوس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ دیکھنے والے دو گروہوں میں منقسم ہو گئے ہر گروہ نے اپنے اپنے عزم و ہمت اور اپنی اپنی رغبت کے مطابق تبصرہ کیا۔ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے ارادے صرف دنیاوی شان و شوکت ہی سے متعلق ہیں ، دنیا ہی ان کی منتہائے رغبت ہے اور دنیا کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں انھوں نے کہا:﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ (دنیاوی سازوسامان اور اس کی خوبصورتی)عطا کر دی جاتی، جس سے قارون کو نوازا گیا ہے۔‘‘﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔‘‘ اگر ان کی رغبتوں کا منتہائے مقصود یہی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں تو وہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ تو بڑے نصیبے والا ہے کیونکہ وہ دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ ور ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے مطالب و مقاصد کے حصول پر قادر تھا۔ یہ بہرہ وافر لوگوں کے ارادوں کے مطابق تھا۔ یہ ان لوگوں کے ارادے اور ان کے مقاصد و مطالب ہیں جو نہایت گھٹیا ہمتوں کے مالک ہیں ، جن کے ارادے اعلیٰ مقاصد و مطالب کی طرف ترقی کرنے سے قاصر ہیں ۔ [80]﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔‘‘ وہ لوگ جو اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے تھے اور جب وہ دنیا کے ظاہری روپ کو دیکھتے تھے تو اس کے باطن پر بھی ان کی نظر جاتی تھی۔ ﴿ وَيۡلَكُمۡ ﴾ ’’تم پر افسوس‘‘ ان کے حال کو دیکھتے، ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا:﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ ﴾ ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت کی لذت، اس کی طرف انابت، اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ خَيۡرٌ ﴾ ’’بہتر ہے‘‘ اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ﴿ اِلَّا الصّٰؔبِرُوۡنَ ﴾ اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پر صبر کرتے ہیں ، جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں ۔ [81] جب قارون کی سرکشی اور فخر کی حالت انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے سامنے دنیا پوری طرح آراستہ ہو گئی اور دنیا نے اس کو بے انتہا تکبر اور غرور میں ڈال دیا تو اس کو اچانک عذاب نے آ لیا۔ ﴿ فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ﴾ ’’پس ہم نے سزا کے طور پر اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا‘‘ سزا اس کے عمل کی جنس میں سے تھی۔ جس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے بندوں سے بلند سمجھتا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر اور مال و دولت سمیت، جس نے اسے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا، انتہائی پستیوں میں اتار دیا ﴿ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ ﴾ ’’اس کی کوئی جماعت نہ تھی۔‘‘ یعنی کوئی جماعت، گروہ، خدام اور افواج نہ تھیں ﴿ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۗ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کے سوا جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔‘‘ یعنی عذاب الٰہی آ پہنچا کسی نے اس کی مددکی نہ وہ کسی سے مدد حاصل کر سکا۔ [82]﴿ وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و مرتبے کی تمنا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔‘‘ ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے‘‘ دکھ محسوس کرتے، عبرت پکڑتے اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ بھی عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں :﴿ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ﴾ ’’ہماری حالت پر افسوس! اللہ اپنے بندوں سے جس کا چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے‘‘ تب ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون کے رزق میں فراخی، اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں کوئی بھلائی ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہ تھے ﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾’’قارون تو بڑے ہی نصیبے والا ہے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا﴾ ’’اگر ہم پر اللہ کی عنایت نہ ہوتی‘‘ تو وہ ہماری بات پر ہماری گرفت کرلیتا اور اگر اس کا فضل و کرم نہ ہوتا ﴿ لَخَسَفَ بِنَا﴾ ’’تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔‘‘ قارون کی ہلاکت اس کے لیے سزا اور دوسروں کے لیے عبرت اور نصیحت تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جو قارون پر رشک کیا کرتے تھے نادم ہوئے اور قارون کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا ﴿ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور حقیقت یہی ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ۔
28:78

قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمٍ عِندِيٓۚ أَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَهۡلَكَ مِن قَبۡلِهِۦ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مَنۡ هُوَ أَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةٗ وَأَكۡثَرُ جَمۡعٗاۚ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَن ذُنُوبِهِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ

بلاشبہ قارون تھا قومِ موسیٰ میں سے، پس اس نے ظلم کیا ان پر اور دیا تھا ہم نے اسے خزانوں سے اس قدر کہ بلاشبہ اس کی چابیاں (ان کا اٹھانا) بھاری ہوتا تھا ایک جماعت قوت والی پر جب کہا اس سے اس کی قوم (کے لوگوں ) نے، نہ اترا تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اترانے والوں کو (76) اور تلاش کر تو اس میں جو کچھ دیا ہے تجھے اللہ نے، گھر آخرت کا اور مت بھول تو حصہ اپنا دنیا سےاور احسان کر تو (لوگوں پر) جس طرح کہ احسان کیا اللہ نے تجھ پر اور نہ تلاش کر تو فساد زمین میں بے شک اللہ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو (77) قارون نے کہا، یقینا دیا گیا ہوں میں وہ (مال) اس علم کی بنا پر جو میرے پاس ہے، کیا نہیں جانا اس نے کہ بلاشبہ اللہ نے تحقیق ہلاک کیے ہیں پہلی امتوں میں سے وہ لوگ کہ وہ زیادہ تھے اس سے قوت میں اور بہت زیادہ تھے جمع پونجی (یا جماعت) میں اور نہیں پوچھے جاتے اپنے گناہوں کی بابت مجرم لوگ (78) پس وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں تو کہا ان لوگوں نے جو چاہتے تھے زندگانی دنیا کی، اے کاش! ہوتا ہمارے لیے (بھی) مثل اس کے جو دیا گیا قارون کو، بلاشبہ وہ البتہ بہت بڑے نصیبے والا ہے (79) اور کہا ان لوگوں نے جو دیے گئے تھے علم، افسوس تم پر! ثواب اللہ کا بہت بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے عمل کیے نیک اورنہیں سکھلائی جاتی یہ بات مگر صبر کرنے والوں ہی کو (80)پس دھنسا دیاہم نے اسے اوراس کے گھر کو زمین میں پس نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کےاور نہ ہوا وہ خود ہی بدلہ لینے والوں میں سے (81)اور ہو گئے وہ لوگ جنھوں نے تمنا کی تھی اس کے مرتبے کی کل، کہتے تھے کیا نہیں دیکھا تو نے کہ اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہی تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)، اگر نہ ہوتا یہ کہ احسان کیا اللہ نے ہم پر تو البتہ وہ دھنسا دیتا ہمیں بھی، کیا نہیں دیکھا تو نے کہ نہیں فلاح پاتے کافر (82) [76] اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا،اس کے ساتھ خیرخواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰؔى ﴾ یعنی قارون، بنی اسرائیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ا ن کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہو گیا، اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور اس کے سپرد كيے گئے تھے۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ ﴾ ’’ہم نے اسے (مال و دولت کے بہت سے) خزانے عطا كيے تھے‘‘ ﴿ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِي الۡقُوَّةِ﴾ ’’ان (خزانوں ) کی کنجیاں ایک طاقتور ’’عصبہ‘‘ کو اٹھانی مشکل ہوتیں ۔‘‘ (عُصْبَۃ) کا اطلاق سات سے دس تک کی تعداد پر ہوتا ہے، یعنی حتیٰ کہ خزانوں کی کنجیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی بہت بھاری تھا۔ یہ تو تھیں ان خزانوں کی کنجیاں ، تب ان خزانوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ﴾ ’’جب اس کی قوم نے کہا‘‘ اس کی خیرخواہی کرتے اور اسے سرکشی سے ڈراتے ہوئے: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ ﴾ یعنی اس دنیاوی شان و شوکت پر خوش ہو نہ اس پر فخر کر کہ یہ تجھے آخرت سے غافل کر دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں ، فخر کرنے والوں اور دنیا کی محبت میں مشغول ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [77]﴿وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ یعنی تجھے آخرت کے لیے ایسے مال و سائل حاصل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں لہذا ان وسائل کے ذریعے سے وہ کچھ طلب کر جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ کر محض لذات و شہوات کے حصول پر اقتصار نہ کر ﴿وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلا۔‘‘ ہم تجھے یہ نہیں کہتے کہ تو اپنا سارا مال صدقہ کر دے اور خود ضائع ہو جا بلکہ اپنی آخرت کے لیے خرچ کر اور اپنی دنیا سے اس طرح فائدہ اٹھا جس سے تیرے دین کو نقصان پہنچے نہ تیری آخرت خراب ہو۔ ﴿وَاَحۡسِنۡ ﴾ ’’اور بھلائی کر‘‘ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ﴿ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ﴾ ’’جیسے اللہ تعالیٰ نے (تجھے یہ مال و دولت عطا کر کے) تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اور تکبر کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور منعم کو فراموش کر کے نعمتوں میں مشغول ہو کر زمین میں فساد برپا نہ کر ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ بلکہ فساد برپا کرنے پر انھیں سخت سزا دیتا ہے۔ [78]﴿ قَالَ ﴾ قارون نے اپنی قوم کی خیر خواہی کو ٹھکراتے اور اپنے رب کی ناشکری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ﴾ ’’یہ (مال) مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔‘‘ یعنی یہ مال و دولت میں نے اپنے کسب، مختلف مکاسب کے بارے میں اپنی معرفت اور مہارت کے ذریعے سے حاصل کیا ہے۔ یا اس بنا پر یہ مال مجھے حاصل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حال کا علم ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں اس مال و دولت کا اہل ہوں تب تم اس چیز کے بارے میں مجھے کیوں نصیحت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کو عطا کیا جا رہا ہے اس کے احوال اچھے ہیں … فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَهۡلَكَ مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةً وَّاَكۡثَرُ جَمۡعًا﴾ ’’کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں ، جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ، ہلاک کرڈالی ہیں ؟‘‘ پس دوسرے زمانوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے سے کون سی چیز مانع ہے حالانکہ ان جیسے اور ان سے بھی بڑے لوگوں کو ہلاک کرنے کے متعلق ہماری سنت اور اصول… جب وہ ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کی ہلاکت کے موجب ہوتے ہیں … گزر چکے ہیں ؟ ﴿ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِهِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گا۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دیتا ہے اور ان کی بداعمالیوں پر ان کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ پس اگر وہ اپنے بارے میں حسن احوال کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان احوال کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں اور یہ دعویٰ ان سے عذاب کو دور نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ ان کے کرتوت چھپے ہوئے نہیں ہیں اس لیے ان کا انکار بے محل ہے۔ [79] قارون اپنے عناد اور سرکشی پر جما رہا اس نے تکبر اور غرور کی بنا پر اپنی قوم کی خیرخواہی کو قبول نہ کیا، وہ خودپسندی میں مبتلا تھا، جو مال و دولت اسے عطا کیا گیا تھا اس نے اسے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ﴿ فَخَرَجَ ﴾ ایک روز باہر آیا ﴿ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ﴾ ’’اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑی ٹھاٹھ باٹھ یعنی وہ اپنے بہترین دنیاوی حال میں اپنی قوم کے سامنے آیا، اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھا وہ پوری طرح تیار ہو کر اور پوری سج دھج کے ساتھ، اپنی قوم کے سامنے آیا۔ اس قسم کے لوگوں کی یہ سج دھج، عام طور پر بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے جس میں دنیاوی زیب و زینت، اس کی خوبصورتی، اس کی شان و شوکت، اس کی آسودگی اور اس کا تفاخر سب شامل ہوتے ہیں ۔قارون کو اس حالت میں آنکھوں نے دیکھا، اس کے لباس کی ہیئت نے دلوں کو لبریز کر دیا اور اس کی سج دھج نے نفوس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ دیکھنے والے دو گروہوں میں منقسم ہو گئے ہر گروہ نے اپنے اپنے عزم و ہمت اور اپنی اپنی رغبت کے مطابق تبصرہ کیا۔ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے ارادے صرف دنیاوی شان و شوکت ہی سے متعلق ہیں ، دنیا ہی ان کی منتہائے رغبت ہے اور دنیا کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں انھوں نے کہا:﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ (دنیاوی سازوسامان اور اس کی خوبصورتی)عطا کر دی جاتی، جس سے قارون کو نوازا گیا ہے۔‘‘﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔‘‘ اگر ان کی رغبتوں کا منتہائے مقصود یہی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں تو وہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ تو بڑے نصیبے والا ہے کیونکہ وہ دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ ور ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے مطالب و مقاصد کے حصول پر قادر تھا۔ یہ بہرہ وافر لوگوں کے ارادوں کے مطابق تھا۔ یہ ان لوگوں کے ارادے اور ان کے مقاصد و مطالب ہیں جو نہایت گھٹیا ہمتوں کے مالک ہیں ، جن کے ارادے اعلیٰ مقاصد و مطالب کی طرف ترقی کرنے سے قاصر ہیں ۔ [80]﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔‘‘ وہ لوگ جو اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے تھے اور جب وہ دنیا کے ظاہری روپ کو دیکھتے تھے تو اس کے باطن پر بھی ان کی نظر جاتی تھی۔ ﴿ وَيۡلَكُمۡ ﴾ ’’تم پر افسوس‘‘ ان کے حال کو دیکھتے، ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا:﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ ﴾ ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت کی لذت، اس کی طرف انابت، اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ خَيۡرٌ ﴾ ’’بہتر ہے‘‘ اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ﴿ اِلَّا الصّٰؔبِرُوۡنَ ﴾ اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پر صبر کرتے ہیں ، جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں ۔ [81] جب قارون کی سرکشی اور فخر کی حالت انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے سامنے دنیا پوری طرح آراستہ ہو گئی اور دنیا نے اس کو بے انتہا تکبر اور غرور میں ڈال دیا تو اس کو اچانک عذاب نے آ لیا۔ ﴿ فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ﴾ ’’پس ہم نے سزا کے طور پر اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا‘‘ سزا اس کے عمل کی جنس میں سے تھی۔ جس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے بندوں سے بلند سمجھتا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر اور مال و دولت سمیت، جس نے اسے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا، انتہائی پستیوں میں اتار دیا ﴿ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ ﴾ ’’اس کی کوئی جماعت نہ تھی۔‘‘ یعنی کوئی جماعت، گروہ، خدام اور افواج نہ تھیں ﴿ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۗ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کے سوا جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔‘‘ یعنی عذاب الٰہی آ پہنچا کسی نے اس کی مددکی نہ وہ کسی سے مدد حاصل کر سکا۔ [82]﴿ وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و مرتبے کی تمنا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔‘‘ ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے‘‘ دکھ محسوس کرتے، عبرت پکڑتے اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ بھی عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں :﴿ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ﴾ ’’ہماری حالت پر افسوس! اللہ اپنے بندوں سے جس کا چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے‘‘ تب ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون کے رزق میں فراخی، اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں کوئی بھلائی ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہ تھے ﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾’’قارون تو بڑے ہی نصیبے والا ہے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا﴾ ’’اگر ہم پر اللہ کی عنایت نہ ہوتی‘‘ تو وہ ہماری بات پر ہماری گرفت کرلیتا اور اگر اس کا فضل و کرم نہ ہوتا ﴿ لَخَسَفَ بِنَا﴾ ’’تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔‘‘ قارون کی ہلاکت اس کے لیے سزا اور دوسروں کے لیے عبرت اور نصیحت تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جو قارون پر رشک کیا کرتے تھے نادم ہوئے اور قارون کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا ﴿ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور حقیقت یہی ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ۔
28:79

فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ فِي زِينَتِهِۦۖ قَالَ ٱلَّذِينَ يُرِيدُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا يَٰلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَآ أُوتِيَ قَٰرُونُ إِنَّهُۥ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٖ

بلاشبہ قارون تھا قومِ موسیٰ میں سے، پس اس نے ظلم کیا ان پر اور دیا تھا ہم نے اسے خزانوں سے اس قدر کہ بلاشبہ اس کی چابیاں (ان کا اٹھانا) بھاری ہوتا تھا ایک جماعت قوت والی پر جب کہا اس سے اس کی قوم (کے لوگوں ) نے، نہ اترا تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اترانے والوں کو (76) اور تلاش کر تو اس میں جو کچھ دیا ہے تجھے اللہ نے، گھر آخرت کا اور مت بھول تو حصہ اپنا دنیا سےاور احسان کر تو (لوگوں پر) جس طرح کہ احسان کیا اللہ نے تجھ پر اور نہ تلاش کر تو فساد زمین میں بے شک اللہ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو (77) قارون نے کہا، یقینا دیا گیا ہوں میں وہ (مال) اس علم کی بنا پر جو میرے پاس ہے، کیا نہیں جانا اس نے کہ بلاشبہ اللہ نے تحقیق ہلاک کیے ہیں پہلی امتوں میں سے وہ لوگ کہ وہ زیادہ تھے اس سے قوت میں اور بہت زیادہ تھے جمع پونجی (یا جماعت) میں اور نہیں پوچھے جاتے اپنے گناہوں کی بابت مجرم لوگ (78) پس وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں تو کہا ان لوگوں نے جو چاہتے تھے زندگانی دنیا کی، اے کاش! ہوتا ہمارے لیے (بھی) مثل اس کے جو دیا گیا قارون کو، بلاشبہ وہ البتہ بہت بڑے نصیبے والا ہے (79) اور کہا ان لوگوں نے جو دیے گئے تھے علم، افسوس تم پر! ثواب اللہ کا بہت بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے عمل کیے نیک اورنہیں سکھلائی جاتی یہ بات مگر صبر کرنے والوں ہی کو (80)پس دھنسا دیاہم نے اسے اوراس کے گھر کو زمین میں پس نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کےاور نہ ہوا وہ خود ہی بدلہ لینے والوں میں سے (81)اور ہو گئے وہ لوگ جنھوں نے تمنا کی تھی اس کے مرتبے کی کل، کہتے تھے کیا نہیں دیکھا تو نے کہ اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہی تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)، اگر نہ ہوتا یہ کہ احسان کیا اللہ نے ہم پر تو البتہ وہ دھنسا دیتا ہمیں بھی، کیا نہیں دیکھا تو نے کہ نہیں فلاح پاتے کافر (82) [76] اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا،اس کے ساتھ خیرخواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰؔى ﴾ یعنی قارون، بنی اسرائیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ا ن کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہو گیا، اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور اس کے سپرد كيے گئے تھے۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ ﴾ ’’ہم نے اسے (مال و دولت کے بہت سے) خزانے عطا كيے تھے‘‘ ﴿ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِي الۡقُوَّةِ﴾ ’’ان (خزانوں ) کی کنجیاں ایک طاقتور ’’عصبہ‘‘ کو اٹھانی مشکل ہوتیں ۔‘‘ (عُصْبَۃ) کا اطلاق سات سے دس تک کی تعداد پر ہوتا ہے، یعنی حتیٰ کہ خزانوں کی کنجیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی بہت بھاری تھا۔ یہ تو تھیں ان خزانوں کی کنجیاں ، تب ان خزانوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ﴾ ’’جب اس کی قوم نے کہا‘‘ اس کی خیرخواہی کرتے اور اسے سرکشی سے ڈراتے ہوئے: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ ﴾ یعنی اس دنیاوی شان و شوکت پر خوش ہو نہ اس پر فخر کر کہ یہ تجھے آخرت سے غافل کر دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں ، فخر کرنے والوں اور دنیا کی محبت میں مشغول ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [77]﴿وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ یعنی تجھے آخرت کے لیے ایسے مال و سائل حاصل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں لہذا ان وسائل کے ذریعے سے وہ کچھ طلب کر جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ کر محض لذات و شہوات کے حصول پر اقتصار نہ کر ﴿وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلا۔‘‘ ہم تجھے یہ نہیں کہتے کہ تو اپنا سارا مال صدقہ کر دے اور خود ضائع ہو جا بلکہ اپنی آخرت کے لیے خرچ کر اور اپنی دنیا سے اس طرح فائدہ اٹھا جس سے تیرے دین کو نقصان پہنچے نہ تیری آخرت خراب ہو۔ ﴿وَاَحۡسِنۡ ﴾ ’’اور بھلائی کر‘‘ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ﴿ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ﴾ ’’جیسے اللہ تعالیٰ نے (تجھے یہ مال و دولت عطا کر کے) تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اور تکبر کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور منعم کو فراموش کر کے نعمتوں میں مشغول ہو کر زمین میں فساد برپا نہ کر ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ بلکہ فساد برپا کرنے پر انھیں سخت سزا دیتا ہے۔ [78]﴿ قَالَ ﴾ قارون نے اپنی قوم کی خیر خواہی کو ٹھکراتے اور اپنے رب کی ناشکری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ﴾ ’’یہ (مال) مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔‘‘ یعنی یہ مال و دولت میں نے اپنے کسب، مختلف مکاسب کے بارے میں اپنی معرفت اور مہارت کے ذریعے سے حاصل کیا ہے۔ یا اس بنا پر یہ مال مجھے حاصل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حال کا علم ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں اس مال و دولت کا اہل ہوں تب تم اس چیز کے بارے میں مجھے کیوں نصیحت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کو عطا کیا جا رہا ہے اس کے احوال اچھے ہیں … فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَهۡلَكَ مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةً وَّاَكۡثَرُ جَمۡعًا﴾ ’’کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں ، جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ، ہلاک کرڈالی ہیں ؟‘‘ پس دوسرے زمانوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے سے کون سی چیز مانع ہے حالانکہ ان جیسے اور ان سے بھی بڑے لوگوں کو ہلاک کرنے کے متعلق ہماری سنت اور اصول… جب وہ ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کی ہلاکت کے موجب ہوتے ہیں … گزر چکے ہیں ؟ ﴿ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِهِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گا۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دیتا ہے اور ان کی بداعمالیوں پر ان کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ پس اگر وہ اپنے بارے میں حسن احوال کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان احوال کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں اور یہ دعویٰ ان سے عذاب کو دور نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ ان کے کرتوت چھپے ہوئے نہیں ہیں اس لیے ان کا انکار بے محل ہے۔ [79] قارون اپنے عناد اور سرکشی پر جما رہا اس نے تکبر اور غرور کی بنا پر اپنی قوم کی خیرخواہی کو قبول نہ کیا، وہ خودپسندی میں مبتلا تھا، جو مال و دولت اسے عطا کیا گیا تھا اس نے اسے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ﴿ فَخَرَجَ ﴾ ایک روز باہر آیا ﴿ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ﴾ ’’اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑی ٹھاٹھ باٹھ یعنی وہ اپنے بہترین دنیاوی حال میں اپنی قوم کے سامنے آیا، اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھا وہ پوری طرح تیار ہو کر اور پوری سج دھج کے ساتھ، اپنی قوم کے سامنے آیا۔ اس قسم کے لوگوں کی یہ سج دھج، عام طور پر بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے جس میں دنیاوی زیب و زینت، اس کی خوبصورتی، اس کی شان و شوکت، اس کی آسودگی اور اس کا تفاخر سب شامل ہوتے ہیں ۔قارون کو اس حالت میں آنکھوں نے دیکھا، اس کے لباس کی ہیئت نے دلوں کو لبریز کر دیا اور اس کی سج دھج نے نفوس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ دیکھنے والے دو گروہوں میں منقسم ہو گئے ہر گروہ نے اپنے اپنے عزم و ہمت اور اپنی اپنی رغبت کے مطابق تبصرہ کیا۔ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے ارادے صرف دنیاوی شان و شوکت ہی سے متعلق ہیں ، دنیا ہی ان کی منتہائے رغبت ہے اور دنیا کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں انھوں نے کہا:﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ (دنیاوی سازوسامان اور اس کی خوبصورتی)عطا کر دی جاتی، جس سے قارون کو نوازا گیا ہے۔‘‘﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔‘‘ اگر ان کی رغبتوں کا منتہائے مقصود یہی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں تو وہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ تو بڑے نصیبے والا ہے کیونکہ وہ دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ ور ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے مطالب و مقاصد کے حصول پر قادر تھا۔ یہ بہرہ وافر لوگوں کے ارادوں کے مطابق تھا۔ یہ ان لوگوں کے ارادے اور ان کے مقاصد و مطالب ہیں جو نہایت گھٹیا ہمتوں کے مالک ہیں ، جن کے ارادے اعلیٰ مقاصد و مطالب کی طرف ترقی کرنے سے قاصر ہیں ۔ [80]﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔‘‘ وہ لوگ جو اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے تھے اور جب وہ دنیا کے ظاہری روپ کو دیکھتے تھے تو اس کے باطن پر بھی ان کی نظر جاتی تھی۔ ﴿ وَيۡلَكُمۡ ﴾ ’’تم پر افسوس‘‘ ان کے حال کو دیکھتے، ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا:﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ ﴾ ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت کی لذت، اس کی طرف انابت، اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ خَيۡرٌ ﴾ ’’بہتر ہے‘‘ اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ﴿ اِلَّا الصّٰؔبِرُوۡنَ ﴾ اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پر صبر کرتے ہیں ، جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں ۔ [81] جب قارون کی سرکشی اور فخر کی حالت انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے سامنے دنیا پوری طرح آراستہ ہو گئی اور دنیا نے اس کو بے انتہا تکبر اور غرور میں ڈال دیا تو اس کو اچانک عذاب نے آ لیا۔ ﴿ فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ﴾ ’’پس ہم نے سزا کے طور پر اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا‘‘ سزا اس کے عمل کی جنس میں سے تھی۔ جس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے بندوں سے بلند سمجھتا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر اور مال و دولت سمیت، جس نے اسے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا، انتہائی پستیوں میں اتار دیا ﴿ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ ﴾ ’’اس کی کوئی جماعت نہ تھی۔‘‘ یعنی کوئی جماعت، گروہ، خدام اور افواج نہ تھیں ﴿ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۗ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کے سوا جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔‘‘ یعنی عذاب الٰہی آ پہنچا کسی نے اس کی مددکی نہ وہ کسی سے مدد حاصل کر سکا۔ [82]﴿ وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و مرتبے کی تمنا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔‘‘ ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے‘‘ دکھ محسوس کرتے، عبرت پکڑتے اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ بھی عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں :﴿ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ﴾ ’’ہماری حالت پر افسوس! اللہ اپنے بندوں سے جس کا چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے‘‘ تب ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون کے رزق میں فراخی، اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں کوئی بھلائی ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہ تھے ﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾’’قارون تو بڑے ہی نصیبے والا ہے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا﴾ ’’اگر ہم پر اللہ کی عنایت نہ ہوتی‘‘ تو وہ ہماری بات پر ہماری گرفت کرلیتا اور اگر اس کا فضل و کرم نہ ہوتا ﴿ لَخَسَفَ بِنَا﴾ ’’تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔‘‘ قارون کی ہلاکت اس کے لیے سزا اور دوسروں کے لیے عبرت اور نصیحت تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جو قارون پر رشک کیا کرتے تھے نادم ہوئے اور قارون کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا ﴿ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور حقیقت یہی ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ۔
28:80

وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ وَيۡلَكُمۡ ثَوَابُ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لِّمَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗاۚ وَلَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلصَّـٰبِرُونَ

بلاشبہ قارون تھا قومِ موسیٰ میں سے، پس اس نے ظلم کیا ان پر اور دیا تھا ہم نے اسے خزانوں سے اس قدر کہ بلاشبہ اس کی چابیاں (ان کا اٹھانا) بھاری ہوتا تھا ایک جماعت قوت والی پر جب کہا اس سے اس کی قوم (کے لوگوں ) نے، نہ اترا تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اترانے والوں کو (76) اور تلاش کر تو اس میں جو کچھ دیا ہے تجھے اللہ نے، گھر آخرت کا اور مت بھول تو حصہ اپنا دنیا سےاور احسان کر تو (لوگوں پر) جس طرح کہ احسان کیا اللہ نے تجھ پر اور نہ تلاش کر تو فساد زمین میں بے شک اللہ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو (77) قارون نے کہا، یقینا دیا گیا ہوں میں وہ (مال) اس علم کی بنا پر جو میرے پاس ہے، کیا نہیں جانا اس نے کہ بلاشبہ اللہ نے تحقیق ہلاک کیے ہیں پہلی امتوں میں سے وہ لوگ کہ وہ زیادہ تھے اس سے قوت میں اور بہت زیادہ تھے جمع پونجی (یا جماعت) میں اور نہیں پوچھے جاتے اپنے گناہوں کی بابت مجرم لوگ (78) پس وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں تو کہا ان لوگوں نے جو چاہتے تھے زندگانی دنیا کی، اے کاش! ہوتا ہمارے لیے (بھی) مثل اس کے جو دیا گیا قارون کو، بلاشبہ وہ البتہ بہت بڑے نصیبے والا ہے (79) اور کہا ان لوگوں نے جو دیے گئے تھے علم، افسوس تم پر! ثواب اللہ کا بہت بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے عمل کیے نیک اورنہیں سکھلائی جاتی یہ بات مگر صبر کرنے والوں ہی کو (80)پس دھنسا دیاہم نے اسے اوراس کے گھر کو زمین میں پس نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کےاور نہ ہوا وہ خود ہی بدلہ لینے والوں میں سے (81)اور ہو گئے وہ لوگ جنھوں نے تمنا کی تھی اس کے مرتبے کی کل، کہتے تھے کیا نہیں دیکھا تو نے کہ اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہی تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)، اگر نہ ہوتا یہ کہ احسان کیا اللہ نے ہم پر تو البتہ وہ دھنسا دیتا ہمیں بھی، کیا نہیں دیکھا تو نے کہ نہیں فلاح پاتے کافر (82) [76] اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا،اس کے ساتھ خیرخواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰؔى ﴾ یعنی قارون، بنی اسرائیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ا ن کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہو گیا، اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور اس کے سپرد كيے گئے تھے۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ ﴾ ’’ہم نے اسے (مال و دولت کے بہت سے) خزانے عطا كيے تھے‘‘ ﴿ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِي الۡقُوَّةِ﴾ ’’ان (خزانوں ) کی کنجیاں ایک طاقتور ’’عصبہ‘‘ کو اٹھانی مشکل ہوتیں ۔‘‘ (عُصْبَۃ) کا اطلاق سات سے دس تک کی تعداد پر ہوتا ہے، یعنی حتیٰ کہ خزانوں کی کنجیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی بہت بھاری تھا۔ یہ تو تھیں ان خزانوں کی کنجیاں ، تب ان خزانوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ﴾ ’’جب اس کی قوم نے کہا‘‘ اس کی خیرخواہی کرتے اور اسے سرکشی سے ڈراتے ہوئے: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ ﴾ یعنی اس دنیاوی شان و شوکت پر خوش ہو نہ اس پر فخر کر کہ یہ تجھے آخرت سے غافل کر دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں ، فخر کرنے والوں اور دنیا کی محبت میں مشغول ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [77]﴿وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ یعنی تجھے آخرت کے لیے ایسے مال و سائل حاصل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں لہذا ان وسائل کے ذریعے سے وہ کچھ طلب کر جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ کر محض لذات و شہوات کے حصول پر اقتصار نہ کر ﴿وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلا۔‘‘ ہم تجھے یہ نہیں کہتے کہ تو اپنا سارا مال صدقہ کر دے اور خود ضائع ہو جا بلکہ اپنی آخرت کے لیے خرچ کر اور اپنی دنیا سے اس طرح فائدہ اٹھا جس سے تیرے دین کو نقصان پہنچے نہ تیری آخرت خراب ہو۔ ﴿وَاَحۡسِنۡ ﴾ ’’اور بھلائی کر‘‘ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ﴿ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ﴾ ’’جیسے اللہ تعالیٰ نے (تجھے یہ مال و دولت عطا کر کے) تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اور تکبر کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور منعم کو فراموش کر کے نعمتوں میں مشغول ہو کر زمین میں فساد برپا نہ کر ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ بلکہ فساد برپا کرنے پر انھیں سخت سزا دیتا ہے۔ [78]﴿ قَالَ ﴾ قارون نے اپنی قوم کی خیر خواہی کو ٹھکراتے اور اپنے رب کی ناشکری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ﴾ ’’یہ (مال) مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔‘‘ یعنی یہ مال و دولت میں نے اپنے کسب، مختلف مکاسب کے بارے میں اپنی معرفت اور مہارت کے ذریعے سے حاصل کیا ہے۔ یا اس بنا پر یہ مال مجھے حاصل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حال کا علم ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں اس مال و دولت کا اہل ہوں تب تم اس چیز کے بارے میں مجھے کیوں نصیحت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کو عطا کیا جا رہا ہے اس کے احوال اچھے ہیں … فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَهۡلَكَ مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةً وَّاَكۡثَرُ جَمۡعًا﴾ ’’کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں ، جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ، ہلاک کرڈالی ہیں ؟‘‘ پس دوسرے زمانوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے سے کون سی چیز مانع ہے حالانکہ ان جیسے اور ان سے بھی بڑے لوگوں کو ہلاک کرنے کے متعلق ہماری سنت اور اصول… جب وہ ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کی ہلاکت کے موجب ہوتے ہیں … گزر چکے ہیں ؟ ﴿ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِهِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گا۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دیتا ہے اور ان کی بداعمالیوں پر ان کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ پس اگر وہ اپنے بارے میں حسن احوال کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان احوال کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں اور یہ دعویٰ ان سے عذاب کو دور نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ ان کے کرتوت چھپے ہوئے نہیں ہیں اس لیے ان کا انکار بے محل ہے۔ [79] قارون اپنے عناد اور سرکشی پر جما رہا اس نے تکبر اور غرور کی بنا پر اپنی قوم کی خیرخواہی کو قبول نہ کیا، وہ خودپسندی میں مبتلا تھا، جو مال و دولت اسے عطا کیا گیا تھا اس نے اسے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ﴿ فَخَرَجَ ﴾ ایک روز باہر آیا ﴿ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ﴾ ’’اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑی ٹھاٹھ باٹھ یعنی وہ اپنے بہترین دنیاوی حال میں اپنی قوم کے سامنے آیا، اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھا وہ پوری طرح تیار ہو کر اور پوری سج دھج کے ساتھ، اپنی قوم کے سامنے آیا۔ اس قسم کے لوگوں کی یہ سج دھج، عام طور پر بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے جس میں دنیاوی زیب و زینت، اس کی خوبصورتی، اس کی شان و شوکت، اس کی آسودگی اور اس کا تفاخر سب شامل ہوتے ہیں ۔قارون کو اس حالت میں آنکھوں نے دیکھا، اس کے لباس کی ہیئت نے دلوں کو لبریز کر دیا اور اس کی سج دھج نے نفوس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ دیکھنے والے دو گروہوں میں منقسم ہو گئے ہر گروہ نے اپنے اپنے عزم و ہمت اور اپنی اپنی رغبت کے مطابق تبصرہ کیا۔ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے ارادے صرف دنیاوی شان و شوکت ہی سے متعلق ہیں ، دنیا ہی ان کی منتہائے رغبت ہے اور دنیا کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں انھوں نے کہا:﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ (دنیاوی سازوسامان اور اس کی خوبصورتی)عطا کر دی جاتی، جس سے قارون کو نوازا گیا ہے۔‘‘﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔‘‘ اگر ان کی رغبتوں کا منتہائے مقصود یہی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں تو وہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ تو بڑے نصیبے والا ہے کیونکہ وہ دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ ور ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے مطالب و مقاصد کے حصول پر قادر تھا۔ یہ بہرہ وافر لوگوں کے ارادوں کے مطابق تھا۔ یہ ان لوگوں کے ارادے اور ان کے مقاصد و مطالب ہیں جو نہایت گھٹیا ہمتوں کے مالک ہیں ، جن کے ارادے اعلیٰ مقاصد و مطالب کی طرف ترقی کرنے سے قاصر ہیں ۔ [80]﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔‘‘ وہ لوگ جو اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے تھے اور جب وہ دنیا کے ظاہری روپ کو دیکھتے تھے تو اس کے باطن پر بھی ان کی نظر جاتی تھی۔ ﴿ وَيۡلَكُمۡ ﴾ ’’تم پر افسوس‘‘ ان کے حال کو دیکھتے، ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا:﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ ﴾ ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت کی لذت، اس کی طرف انابت، اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ خَيۡرٌ ﴾ ’’بہتر ہے‘‘ اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ﴿ اِلَّا الصّٰؔبِرُوۡنَ ﴾ اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پر صبر کرتے ہیں ، جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں ۔ [81] جب قارون کی سرکشی اور فخر کی حالت انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے سامنے دنیا پوری طرح آراستہ ہو گئی اور دنیا نے اس کو بے انتہا تکبر اور غرور میں ڈال دیا تو اس کو اچانک عذاب نے آ لیا۔ ﴿ فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ﴾ ’’پس ہم نے سزا کے طور پر اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا‘‘ سزا اس کے عمل کی جنس میں سے تھی۔ جس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے بندوں سے بلند سمجھتا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر اور مال و دولت سمیت، جس نے اسے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا، انتہائی پستیوں میں اتار دیا ﴿ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ ﴾ ’’اس کی کوئی جماعت نہ تھی۔‘‘ یعنی کوئی جماعت، گروہ، خدام اور افواج نہ تھیں ﴿ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۗ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کے سوا جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔‘‘ یعنی عذاب الٰہی آ پہنچا کسی نے اس کی مددکی نہ وہ کسی سے مدد حاصل کر سکا۔ [82]﴿ وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و مرتبے کی تمنا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔‘‘ ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے‘‘ دکھ محسوس کرتے، عبرت پکڑتے اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ بھی عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں :﴿ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ﴾ ’’ہماری حالت پر افسوس! اللہ اپنے بندوں سے جس کا چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے‘‘ تب ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون کے رزق میں فراخی، اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں کوئی بھلائی ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہ تھے ﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾’’قارون تو بڑے ہی نصیبے والا ہے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا﴾ ’’اگر ہم پر اللہ کی عنایت نہ ہوتی‘‘ تو وہ ہماری بات پر ہماری گرفت کرلیتا اور اگر اس کا فضل و کرم نہ ہوتا ﴿ لَخَسَفَ بِنَا﴾ ’’تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔‘‘ قارون کی ہلاکت اس کے لیے سزا اور دوسروں کے لیے عبرت اور نصیحت تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جو قارون پر رشک کیا کرتے تھے نادم ہوئے اور قارون کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا ﴿ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور حقیقت یہی ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ۔
28:81

فَخَسَفۡنَا بِهِۦ وَبِدَارِهِ ٱلۡأَرۡضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٖ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُنتَصِرِينَ

بلاشبہ قارون تھا قومِ موسیٰ میں سے، پس اس نے ظلم کیا ان پر اور دیا تھا ہم نے اسے خزانوں سے اس قدر کہ بلاشبہ اس کی چابیاں (ان کا اٹھانا) بھاری ہوتا تھا ایک جماعت قوت والی پر جب کہا اس سے اس کی قوم (کے لوگوں ) نے، نہ اترا تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اترانے والوں کو (76) اور تلاش کر تو اس میں جو کچھ دیا ہے تجھے اللہ نے، گھر آخرت کا اور مت بھول تو حصہ اپنا دنیا سےاور احسان کر تو (لوگوں پر) جس طرح کہ احسان کیا اللہ نے تجھ پر اور نہ تلاش کر تو فساد زمین میں بے شک اللہ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو (77) قارون نے کہا، یقینا دیا گیا ہوں میں وہ (مال) اس علم کی بنا پر جو میرے پاس ہے، کیا نہیں جانا اس نے کہ بلاشبہ اللہ نے تحقیق ہلاک کیے ہیں پہلی امتوں میں سے وہ لوگ کہ وہ زیادہ تھے اس سے قوت میں اور بہت زیادہ تھے جمع پونجی (یا جماعت) میں اور نہیں پوچھے جاتے اپنے گناہوں کی بابت مجرم لوگ (78) پس وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں تو کہا ان لوگوں نے جو چاہتے تھے زندگانی دنیا کی، اے کاش! ہوتا ہمارے لیے (بھی) مثل اس کے جو دیا گیا قارون کو، بلاشبہ وہ البتہ بہت بڑے نصیبے والا ہے (79) اور کہا ان لوگوں نے جو دیے گئے تھے علم، افسوس تم پر! ثواب اللہ کا بہت بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے عمل کیے نیک اورنہیں سکھلائی جاتی یہ بات مگر صبر کرنے والوں ہی کو (80)پس دھنسا دیاہم نے اسے اوراس کے گھر کو زمین میں پس نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کےاور نہ ہوا وہ خود ہی بدلہ لینے والوں میں سے (81)اور ہو گئے وہ لوگ جنھوں نے تمنا کی تھی اس کے مرتبے کی کل، کہتے تھے کیا نہیں دیکھا تو نے کہ اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہی تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)، اگر نہ ہوتا یہ کہ احسان کیا اللہ نے ہم پر تو البتہ وہ دھنسا دیتا ہمیں بھی، کیا نہیں دیکھا تو نے کہ نہیں فلاح پاتے کافر (82) [76] اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا،اس کے ساتھ خیرخواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰؔى ﴾ یعنی قارون، بنی اسرائیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ا ن کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہو گیا، اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور اس کے سپرد كيے گئے تھے۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ ﴾ ’’ہم نے اسے (مال و دولت کے بہت سے) خزانے عطا كيے تھے‘‘ ﴿ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِي الۡقُوَّةِ﴾ ’’ان (خزانوں ) کی کنجیاں ایک طاقتور ’’عصبہ‘‘ کو اٹھانی مشکل ہوتیں ۔‘‘ (عُصْبَۃ) کا اطلاق سات سے دس تک کی تعداد پر ہوتا ہے، یعنی حتیٰ کہ خزانوں کی کنجیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی بہت بھاری تھا۔ یہ تو تھیں ان خزانوں کی کنجیاں ، تب ان خزانوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ﴾ ’’جب اس کی قوم نے کہا‘‘ اس کی خیرخواہی کرتے اور اسے سرکشی سے ڈراتے ہوئے: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ ﴾ یعنی اس دنیاوی شان و شوکت پر خوش ہو نہ اس پر فخر کر کہ یہ تجھے آخرت سے غافل کر دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں ، فخر کرنے والوں اور دنیا کی محبت میں مشغول ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [77]﴿وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ یعنی تجھے آخرت کے لیے ایسے مال و سائل حاصل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں لہذا ان وسائل کے ذریعے سے وہ کچھ طلب کر جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ کر محض لذات و شہوات کے حصول پر اقتصار نہ کر ﴿وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلا۔‘‘ ہم تجھے یہ نہیں کہتے کہ تو اپنا سارا مال صدقہ کر دے اور خود ضائع ہو جا بلکہ اپنی آخرت کے لیے خرچ کر اور اپنی دنیا سے اس طرح فائدہ اٹھا جس سے تیرے دین کو نقصان پہنچے نہ تیری آخرت خراب ہو۔ ﴿وَاَحۡسِنۡ ﴾ ’’اور بھلائی کر‘‘ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ﴿ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ﴾ ’’جیسے اللہ تعالیٰ نے (تجھے یہ مال و دولت عطا کر کے) تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اور تکبر کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور منعم کو فراموش کر کے نعمتوں میں مشغول ہو کر زمین میں فساد برپا نہ کر ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ بلکہ فساد برپا کرنے پر انھیں سخت سزا دیتا ہے۔ [78]﴿ قَالَ ﴾ قارون نے اپنی قوم کی خیر خواہی کو ٹھکراتے اور اپنے رب کی ناشکری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ﴾ ’’یہ (مال) مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔‘‘ یعنی یہ مال و دولت میں نے اپنے کسب، مختلف مکاسب کے بارے میں اپنی معرفت اور مہارت کے ذریعے سے حاصل کیا ہے۔ یا اس بنا پر یہ مال مجھے حاصل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حال کا علم ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں اس مال و دولت کا اہل ہوں تب تم اس چیز کے بارے میں مجھے کیوں نصیحت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کو عطا کیا جا رہا ہے اس کے احوال اچھے ہیں … فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَهۡلَكَ مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةً وَّاَكۡثَرُ جَمۡعًا﴾ ’’کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں ، جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ، ہلاک کرڈالی ہیں ؟‘‘ پس دوسرے زمانوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے سے کون سی چیز مانع ہے حالانکہ ان جیسے اور ان سے بھی بڑے لوگوں کو ہلاک کرنے کے متعلق ہماری سنت اور اصول… جب وہ ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کی ہلاکت کے موجب ہوتے ہیں … گزر چکے ہیں ؟ ﴿ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِهِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گا۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دیتا ہے اور ان کی بداعمالیوں پر ان کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ پس اگر وہ اپنے بارے میں حسن احوال کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان احوال کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں اور یہ دعویٰ ان سے عذاب کو دور نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ ان کے کرتوت چھپے ہوئے نہیں ہیں اس لیے ان کا انکار بے محل ہے۔ [79] قارون اپنے عناد اور سرکشی پر جما رہا اس نے تکبر اور غرور کی بنا پر اپنی قوم کی خیرخواہی کو قبول نہ کیا، وہ خودپسندی میں مبتلا تھا، جو مال و دولت اسے عطا کیا گیا تھا اس نے اسے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ﴿ فَخَرَجَ ﴾ ایک روز باہر آیا ﴿ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ﴾ ’’اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑی ٹھاٹھ باٹھ یعنی وہ اپنے بہترین دنیاوی حال میں اپنی قوم کے سامنے آیا، اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھا وہ پوری طرح تیار ہو کر اور پوری سج دھج کے ساتھ، اپنی قوم کے سامنے آیا۔ اس قسم کے لوگوں کی یہ سج دھج، عام طور پر بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے جس میں دنیاوی زیب و زینت، اس کی خوبصورتی، اس کی شان و شوکت، اس کی آسودگی اور اس کا تفاخر سب شامل ہوتے ہیں ۔قارون کو اس حالت میں آنکھوں نے دیکھا، اس کے لباس کی ہیئت نے دلوں کو لبریز کر دیا اور اس کی سج دھج نے نفوس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ دیکھنے والے دو گروہوں میں منقسم ہو گئے ہر گروہ نے اپنے اپنے عزم و ہمت اور اپنی اپنی رغبت کے مطابق تبصرہ کیا۔ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے ارادے صرف دنیاوی شان و شوکت ہی سے متعلق ہیں ، دنیا ہی ان کی منتہائے رغبت ہے اور دنیا کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں انھوں نے کہا:﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ (دنیاوی سازوسامان اور اس کی خوبصورتی)عطا کر دی جاتی، جس سے قارون کو نوازا گیا ہے۔‘‘﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔‘‘ اگر ان کی رغبتوں کا منتہائے مقصود یہی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں تو وہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ تو بڑے نصیبے والا ہے کیونکہ وہ دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ ور ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے مطالب و مقاصد کے حصول پر قادر تھا۔ یہ بہرہ وافر لوگوں کے ارادوں کے مطابق تھا۔ یہ ان لوگوں کے ارادے اور ان کے مقاصد و مطالب ہیں جو نہایت گھٹیا ہمتوں کے مالک ہیں ، جن کے ارادے اعلیٰ مقاصد و مطالب کی طرف ترقی کرنے سے قاصر ہیں ۔ [80]﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔‘‘ وہ لوگ جو اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے تھے اور جب وہ دنیا کے ظاہری روپ کو دیکھتے تھے تو اس کے باطن پر بھی ان کی نظر جاتی تھی۔ ﴿ وَيۡلَكُمۡ ﴾ ’’تم پر افسوس‘‘ ان کے حال کو دیکھتے، ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا:﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ ﴾ ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت کی لذت، اس کی طرف انابت، اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ خَيۡرٌ ﴾ ’’بہتر ہے‘‘ اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ﴿ اِلَّا الصّٰؔبِرُوۡنَ ﴾ اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پر صبر کرتے ہیں ، جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں ۔ [81] جب قارون کی سرکشی اور فخر کی حالت انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے سامنے دنیا پوری طرح آراستہ ہو گئی اور دنیا نے اس کو بے انتہا تکبر اور غرور میں ڈال دیا تو اس کو اچانک عذاب نے آ لیا۔ ﴿ فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ﴾ ’’پس ہم نے سزا کے طور پر اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا‘‘ سزا اس کے عمل کی جنس میں سے تھی۔ جس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے بندوں سے بلند سمجھتا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر اور مال و دولت سمیت، جس نے اسے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا، انتہائی پستیوں میں اتار دیا ﴿ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ ﴾ ’’اس کی کوئی جماعت نہ تھی۔‘‘ یعنی کوئی جماعت، گروہ، خدام اور افواج نہ تھیں ﴿ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۗ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کے سوا جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔‘‘ یعنی عذاب الٰہی آ پہنچا کسی نے اس کی مددکی نہ وہ کسی سے مدد حاصل کر سکا۔ [82]﴿ وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و مرتبے کی تمنا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔‘‘ ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے‘‘ دکھ محسوس کرتے، عبرت پکڑتے اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ بھی عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں :﴿ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ﴾ ’’ہماری حالت پر افسوس! اللہ اپنے بندوں سے جس کا چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے‘‘ تب ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون کے رزق میں فراخی، اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں کوئی بھلائی ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہ تھے ﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾’’قارون تو بڑے ہی نصیبے والا ہے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا﴾ ’’اگر ہم پر اللہ کی عنایت نہ ہوتی‘‘ تو وہ ہماری بات پر ہماری گرفت کرلیتا اور اگر اس کا فضل و کرم نہ ہوتا ﴿ لَخَسَفَ بِنَا﴾ ’’تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔‘‘ قارون کی ہلاکت اس کے لیے سزا اور دوسروں کے لیے عبرت اور نصیحت تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جو قارون پر رشک کیا کرتے تھے نادم ہوئے اور قارون کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا ﴿ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور حقیقت یہی ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ۔
28:82

وَأَصۡبَحَ ٱلَّذِينَ تَمَنَّوۡاْ مَكَانَهُۥ بِٱلۡأَمۡسِ يَقُولُونَ وَيۡكَأَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُۖ لَوۡلَآ أَن مَّنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا لَخَسَفَ بِنَاۖ وَيۡكَأَنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ

بلاشبہ قارون تھا قومِ موسیٰ میں سے، پس اس نے ظلم کیا ان پر اور دیا تھا ہم نے اسے خزانوں سے اس قدر کہ بلاشبہ اس کی چابیاں (ان کا اٹھانا) بھاری ہوتا تھا ایک جماعت قوت والی پر جب کہا اس سے اس کی قوم (کے لوگوں ) نے، نہ اترا تو بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اترانے والوں کو (76) اور تلاش کر تو اس میں جو کچھ دیا ہے تجھے اللہ نے، گھر آخرت کا اور مت بھول تو حصہ اپنا دنیا سےاور احسان کر تو (لوگوں پر) جس طرح کہ احسان کیا اللہ نے تجھ پر اور نہ تلاش کر تو فساد زمین میں بے شک اللہ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو (77) قارون نے کہا، یقینا دیا گیا ہوں میں وہ (مال) اس علم کی بنا پر جو میرے پاس ہے، کیا نہیں جانا اس نے کہ بلاشبہ اللہ نے تحقیق ہلاک کیے ہیں پہلی امتوں میں سے وہ لوگ کہ وہ زیادہ تھے اس سے قوت میں اور بہت زیادہ تھے جمع پونجی (یا جماعت) میں اور نہیں پوچھے جاتے اپنے گناہوں کی بابت مجرم لوگ (78) پس وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں تو کہا ان لوگوں نے جو چاہتے تھے زندگانی دنیا کی، اے کاش! ہوتا ہمارے لیے (بھی) مثل اس کے جو دیا گیا قارون کو، بلاشبہ وہ البتہ بہت بڑے نصیبے والا ہے (79) اور کہا ان لوگوں نے جو دیے گئے تھے علم، افسوس تم پر! ثواب اللہ کا بہت بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے عمل کیے نیک اورنہیں سکھلائی جاتی یہ بات مگر صبر کرنے والوں ہی کو (80)پس دھنسا دیاہم نے اسے اوراس کے گھر کو زمین میں پس نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کےاور نہ ہوا وہ خود ہی بدلہ لینے والوں میں سے (81)اور ہو گئے وہ لوگ جنھوں نے تمنا کی تھی اس کے مرتبے کی کل، کہتے تھے کیا نہیں دیکھا تو نے کہ اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہی تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)، اگر نہ ہوتا یہ کہ احسان کیا اللہ نے ہم پر تو البتہ وہ دھنسا دیتا ہمیں بھی، کیا نہیں دیکھا تو نے کہ نہیں فلاح پاتے کافر (82) [76] اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا،اس کے ساتھ خیرخواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰؔى ﴾ یعنی قارون، بنی اسرائیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ا ن کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہو گیا، اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور اس کے سپرد كيے گئے تھے۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ ﴾ ’’ہم نے اسے (مال و دولت کے بہت سے) خزانے عطا كيے تھے‘‘ ﴿ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِي الۡقُوَّةِ﴾ ’’ان (خزانوں ) کی کنجیاں ایک طاقتور ’’عصبہ‘‘ کو اٹھانی مشکل ہوتیں ۔‘‘ (عُصْبَۃ) کا اطلاق سات سے دس تک کی تعداد پر ہوتا ہے، یعنی حتیٰ کہ خزانوں کی کنجیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی بہت بھاری تھا۔ یہ تو تھیں ان خزانوں کی کنجیاں ، تب ان خزانوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ﴾ ’’جب اس کی قوم نے کہا‘‘ اس کی خیرخواہی کرتے اور اسے سرکشی سے ڈراتے ہوئے: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ ﴾ یعنی اس دنیاوی شان و شوکت پر خوش ہو نہ اس پر فخر کر کہ یہ تجھے آخرت سے غافل کر دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں ، فخر کرنے والوں اور دنیا کی محبت میں مشغول ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [77]﴿وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ یعنی تجھے آخرت کے لیے ایسے مال و سائل حاصل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں لہذا ان وسائل کے ذریعے سے وہ کچھ طلب کر جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ کر محض لذات و شہوات کے حصول پر اقتصار نہ کر ﴿وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلا۔‘‘ ہم تجھے یہ نہیں کہتے کہ تو اپنا سارا مال صدقہ کر دے اور خود ضائع ہو جا بلکہ اپنی آخرت کے لیے خرچ کر اور اپنی دنیا سے اس طرح فائدہ اٹھا جس سے تیرے دین کو نقصان پہنچے نہ تیری آخرت خراب ہو۔ ﴿وَاَحۡسِنۡ ﴾ ’’اور بھلائی کر‘‘ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ﴿ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ﴾ ’’جیسے اللہ تعالیٰ نے (تجھے یہ مال و دولت عطا کر کے) تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اور تکبر کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور منعم کو فراموش کر کے نعمتوں میں مشغول ہو کر زمین میں فساد برپا نہ کر ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ بلکہ فساد برپا کرنے پر انھیں سخت سزا دیتا ہے۔ [78]﴿ قَالَ ﴾ قارون نے اپنی قوم کی خیر خواہی کو ٹھکراتے اور اپنے رب کی ناشکری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ﴾ ’’یہ (مال) مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔‘‘ یعنی یہ مال و دولت میں نے اپنے کسب، مختلف مکاسب کے بارے میں اپنی معرفت اور مہارت کے ذریعے سے حاصل کیا ہے۔ یا اس بنا پر یہ مال مجھے حاصل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حال کا علم ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں اس مال و دولت کا اہل ہوں تب تم اس چیز کے بارے میں مجھے کیوں نصیحت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کو عطا کیا جا رہا ہے اس کے احوال اچھے ہیں … فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ قَدۡ اَهۡلَكَ مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مَنۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةً وَّاَكۡثَرُ جَمۡعًا﴾ ’’کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں ، جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ، ہلاک کرڈالی ہیں ؟‘‘ پس دوسرے زمانوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے سے کون سی چیز مانع ہے حالانکہ ان جیسے اور ان سے بھی بڑے لوگوں کو ہلاک کرنے کے متعلق ہماری سنت اور اصول… جب وہ ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کی ہلاکت کے موجب ہوتے ہیں … گزر چکے ہیں ؟ ﴿ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِهِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق پوچھا نہیں جائے گا۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دیتا ہے اور ان کی بداعمالیوں پر ان کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ پس اگر وہ اپنے بارے میں حسن احوال کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان احوال کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں اور یہ دعویٰ ان سے عذاب کو دور نہیں کر سکے گا۔ کیونکہ ان کے کرتوت چھپے ہوئے نہیں ہیں اس لیے ان کا انکار بے محل ہے۔ [79] قارون اپنے عناد اور سرکشی پر جما رہا اس نے تکبر اور غرور کی بنا پر اپنی قوم کی خیرخواہی کو قبول نہ کیا، وہ خودپسندی میں مبتلا تھا، جو مال و دولت اسے عطا کیا گیا تھا اس نے اسے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ﴿ فَخَرَجَ ﴾ ایک روز باہر آیا ﴿ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ﴾ ’’اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بڑی ٹھاٹھ باٹھ یعنی وہ اپنے بہترین دنیاوی حال میں اپنی قوم کے سامنے آیا، اس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت تھا وہ پوری طرح تیار ہو کر اور پوری سج دھج کے ساتھ، اپنی قوم کے سامنے آیا۔ اس قسم کے لوگوں کی یہ سج دھج، عام طور پر بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے جس میں دنیاوی زیب و زینت، اس کی خوبصورتی، اس کی شان و شوکت، اس کی آسودگی اور اس کا تفاخر سب شامل ہوتے ہیں ۔قارون کو اس حالت میں آنکھوں نے دیکھا، اس کے لباس کی ہیئت نے دلوں کو لبریز کر دیا اور اس کی سج دھج نے نفوس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ دیکھنے والے دو گروہوں میں منقسم ہو گئے ہر گروہ نے اپنے اپنے عزم و ہمت اور اپنی اپنی رغبت کے مطابق تبصرہ کیا۔ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ﴾ یعنی وہ لوگ جن کے ارادے صرف دنیاوی شان و شوکت ہی سے متعلق ہیں ، دنیا ہی ان کی منتہائے رغبت ہے اور دنیا کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں انھوں نے کہا:﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ (دنیاوی سازوسامان اور اس کی خوبصورتی)عطا کر دی جاتی، جس سے قارون کو نوازا گیا ہے۔‘‘﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بے شک وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔‘‘ اگر ان کی رغبتوں کا منتہائے مقصود یہی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں تو وہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ وہ تو بڑے نصیبے والا ہے کیونکہ وہ دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ ور ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے مطالب و مقاصد کے حصول پر قادر تھا۔ یہ بہرہ وافر لوگوں کے ارادوں کے مطابق تھا۔ یہ ان لوگوں کے ارادے اور ان کے مقاصد و مطالب ہیں جو نہایت گھٹیا ہمتوں کے مالک ہیں ، جن کے ارادے اعلیٰ مقاصد و مطالب کی طرف ترقی کرنے سے قاصر ہیں ۔ [80]﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے۔‘‘ وہ لوگ جو اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے تھے اور جب وہ دنیا کے ظاہری روپ کو دیکھتے تھے تو اس کے باطن پر بھی ان کی نظر جاتی تھی۔ ﴿ وَيۡلَكُمۡ ﴾ ’’تم پر افسوس‘‘ ان کے حال کو دیکھتے، ان کی تمناؤں پر دکھ محسوس کرتے اور ان کی بات پر نکیر کرتے ہوئے کہا:﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ ﴾ ثواب عاجل یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت کی لذت، اس کی طرف انابت، اس کی طرف اقبال اور ثواب آخرت یعنی جنت کی نعمتیں اور جو کچھ اس میں ہے کہ نفس جن کی خواہش کرتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ خَيۡرٌ ﴾ ’’بہتر ہے‘‘ اس چیز سے جس کی تم تمنا کر رہے ہو اور جس کی طرف تم رغبت رکھتے ہو۔یہ تو ہے معاملے کی اصل حقیقت مگر اس حقیقت کا علم رکھنے والے سب لوگ تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ﴿ اِلَّا الصّٰؔبِرُوۡنَ ﴾ اس کی توفیق صرف ان لوگوں کو عطا کی گئی ہے جو صبر سے بہرہ ور ہیں اور جن لوگوں نے نافرمانی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند کر رکھا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر پر صبر کرتے ہیں ، جو اپنے رب کو فراموش کر کے دنیا کی پرکشش لذات و شہوات میں مشغول ہوتے ہیں نہ یہ لذات شہوات ان کے ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے… یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو اس دنیائے فانی پر ترجیح دیتے ہیں ۔ [81] جب قارون کی سرکشی اور فخر کی حالت انتہا کو پہنچ گئی اور اس کے سامنے دنیا پوری طرح آراستہ ہو گئی اور دنیا نے اس کو بے انتہا تکبر اور غرور میں ڈال دیا تو اس کو اچانک عذاب نے آ لیا۔ ﴿ فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ﴾ ’’پس ہم نے سزا کے طور پر اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا‘‘ سزا اس کے عمل کی جنس میں سے تھی۔ جس طرح وہ اپنے آپ کو اللہ کے بندوں سے بلند سمجھتا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر اور مال و دولت سمیت، جس نے اسے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا، انتہائی پستیوں میں اتار دیا ﴿ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ ﴾ ’’اس کی کوئی جماعت نہ تھی۔‘‘ یعنی کوئی جماعت، گروہ، خدام اور افواج نہ تھیں ﴿ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۗ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کے سوا جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔‘‘ یعنی عذاب الٰہی آ پہنچا کسی نے اس کی مددکی نہ وہ کسی سے مدد حاصل کر سکا۔ [82]﴿ وَاَصۡبَحَ الَّذِيۡنَ تَمَنَّوۡا مَكَانَهٗ بِالۡاَمۡسِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو کل اس کے مقام و مرتبے کی تمنا کرتے تھے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ﴾ ’’کاش ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔‘‘ ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے‘‘ دکھ محسوس کرتے، عبرت پکڑتے اور ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ بھی عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں :﴿ وَيۡكَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ﴾ ’’ہماری حالت پر افسوس! اللہ اپنے بندوں سے جس کا چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہے تنگ کردیتا ہے‘‘ تب ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون کے رزق میں فراخی، اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں کوئی بھلائی ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہ تھے ﴿ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾’’قارون تو بڑے ہی نصیبے والا ہے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا﴾ ’’اگر ہم پر اللہ کی عنایت نہ ہوتی‘‘ تو وہ ہماری بات پر ہماری گرفت کرلیتا اور اگر اس کا فضل و کرم نہ ہوتا ﴿ لَخَسَفَ بِنَا﴾ ’’تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔‘‘ قارون کی ہلاکت اس کے لیے سزا اور دوسروں کے لیے عبرت اور نصیحت تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جو قارون پر رشک کیا کرتے تھے نادم ہوئے اور قارون کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بدل گیا ﴿ وَيۡكَاَنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور حقیقت یہی ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ۔
28:83

تِلۡكَ ٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوّٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فَسَادٗاۚ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ

یہ گھر آخرت کا کرتے ہیں ہم اس کو ان لوگوں کے لیے جو نہیں چاہتے بڑائی زمین میں اورنہ فساداور (بہترین) انجام پرہیز گاروں ہی کے لیے ہے (83) [83] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قارون اور جو کچھ اس کو عطا کیا گیا اور اس کے انجام کا ذکر کیا نیز اہل علم کے اس قول سے آگاہ فرمایا: ﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّمَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’اس شخص کے لیے اللہ کا ثواب بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت کی ترغیب دی اور وہ سبب بیان فرمایا جو آخرت کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ فرمایا: ﴿ تِلۡكَ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ ﴾ ’’آخرت کا یہ گھر‘‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں خبر دی، اس کے رسولوں نے آگاہ کیا، جس میں ہر نعمت جمع کر دی گئی اور جہاں سے ہر تکدر کو دور کر دیا گیا ہے ﴿ نَجۡعَلُهَا﴾ ہم اس کو گھر اور ٹھکانا بنا دیں گے ﴿لِلَّذِيۡنَ لَا يُرِيۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فَسَادًا١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جو زمین میں اپنی بڑائی چاہتے ہیں نہ فساد کرتے ہیں ‘‘ یعنی ان کا زمین میں فساد کرنے کا ارادہ تک نہیں تو پھر زمین میں اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بڑائی حاصل کرنے کی کوشش کرنا، ان کے ساتھ تکبر سے پیش آنا اور حق کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔ ﴿ وَلَا فَسَادًا﴾ ’’اور نہ فساد‘‘ اور یہ تمام معاصی کو شامل ہے۔جب ان کا زمین میں بڑائی حاصل کرنے اور فساد برپا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تو اس سے یہ بات لازم آئی کہ ان کے ارادے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں مصروف، آخرت کا گھر ان کا مطلوب و مقصود، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع سے پیش آنا ان کا حال ہے، وہ حق کی اطاعت اور عمل صالح میں مشغول رہتے ہیں ۔ یہی وہ اہل تقویٰ ہیں ، جن کے لیے اچھا انجام ہے بنابریں فرمایا:﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ یعنی فلاح اور کامیابی دائمی طور پر ان لوگوں کا حال ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ اگرچہ ان کو کچھ غلبہ اور راحت حاصل ہوتی ہے مگر یہ لمبی مدت کے لیے نہیں ہوتی، جلد ہی زائل ہو جا تی ہے۔ آیت کریمہ میں اس حصر سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو لوگ زمین میں بڑائی یا فساد کا ارادہ کرتے ہیں ان کے لیے آخرت کے گھر میں کوئی حصہ نہیں ۔
28:84

مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

جو کوئی لائے گا نیکی اس کے لیے بہت بہتر (بدلہ) ہو گا اس (نیکی) سے اور جو کوئی لائے گابرائی تو نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے مگر جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے (84) [84] اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے کئی گنا زیادہ ہونے اور اپنے عدل کامل کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ اس میں شرط عائد کی گئی ہے کہ عامل نیکی کے ساتھ آئے کیونکہ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان کوئی نیکی کرتا ہے اور اس نیکی کے ساتھ کچھ ایسے اعمال بھی ہوتے ہیں جو قابل قبول نہیں ہوتے یا وہ اس نیکی کو باطل کر دیتے ہیں … تو یہ شخص درحقیقت نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر نہیں ہوتا۔ ﴿الۡحَسَنَةِ﴾’’نیکی‘‘ یہاں اسم جنس ہے جو ان تمام امور کو شامل ہے جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) نے حکم دیا ہے ، مثلاً: حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام اقوال اور تمام ظاہری اور باطنی اعمال ﴿ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّؔنۡهَا﴾ ’’تو اس کے لیے اس سے بہتر نیکی ملے گی‘‘ یعنی اس کی جزا زیادہ بڑی اور زیادہ جلیل القدر ہے ایک اور آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا ﴾(الانعام:6؍160) ’’اس کے لیے ویسی ہی دس نیکیاں ہیں ۔‘‘نیکی کا اس طرح کئی گنا ہونا لازمی امر ہے۔ بسااوقات اس کے ساتھ کچھ اسباب مقرون ہوتے ہیں جو اس کو اور زیادہ کر دیتے ہیں : ﴿ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾(البقرۃ:2؍261)’’اللہ جس کی نیکیوں کو چاہتا ہے کئی گنا کر دیتا ہے، وہ بہت وسعت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ اور یہ اضافہ نیکی کرنے والے کے حال، اس کے اس نیک عمل، اس عمل کے فائدے اور اس کے محل و مقام کے مطابق ہوتا ہے۔﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ ﴾ ’’اور جو شخص برائی لے کر آئے‘‘ یہاں ﴿السَّيِّئَةِ ﴾ ’’برائی‘‘ سے مراد ہر وہ کام ہے جس کو شارع نے حرام ٹھہرا کر اس سے روک دیا ہو ﴿ فَلَا يُجۡزَى الَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کو برائیوں کا اتنا ہی بدلہ ملے گا جس قدر انھوں نے کی ہوں گی‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا١ۚ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍160) ’’جو کوئی اللہ کے حضور ایک نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے ویسی ہی دس نیکیاں ہیں اور جو کوئی ایک برائی لے کر حاضر ہو گا تو اس کو صرف اتنی ہی سزا ملے گی جتنی اس نے برائی کی ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘
28:85

إِنَّ ٱلَّذِي فَرَضَ عَلَيۡكَ ٱلۡقُرۡءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٖۚ قُل رَّبِّيٓ أَعۡلَمُ مَن جَآءَ بِٱلۡهُدَىٰ وَمَنۡ هُوَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ

بلاشبہ وہ جس نے نازل کیا آپ پر قرآن البتہ وہ لوٹانے والا ہے آپ کو (آپ کے) لوٹنے کی جگہ کی طرف، کہہ دیجیے! میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ہے ساتھ ہدایت کےاوراس کو بھی جو ہے گمراہی ظاہر میں (85) اور نہیں تھے آپ امید رکھتے یہ کہ القا کی جائے گی آپ کی طرف (یہ) کتاب مگر (القا کی گئی ہے) رحمت سے آپ کے رب کی، پس نہ ہوں آپ ہرگز مدد گار کافروں کے لیے (86) اور نہ روک دیں وہ آپ کو اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے جب وہ نازل کی گئیں آپ کی طرف اور آپ بلائیں اپنے رب کی طرف اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکوں میں سے (87) اورنہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے کسی اور معبود کو، نہیں کوئی معبود مگر وہی، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے اسی کے لیے ہے حکم اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(88) [85] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ ﴾ ’’جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔‘‘ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا، اس میں احکام فرض كيے، اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا، آپ کو اسے تمام لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا، نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔ اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ’’انجام کار‘‘ کی طرف لوٹائے جہاں نیکوکاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے سامنے ہدایت کو کھول کھول کر بیان کر دیا اور ہدایت کے راستے کو واضح کر دیا ہے اب اگر وہ آپ کی پیروی کریں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور سعادت مندی ہے اور اگر وہ آپ کی مخالفت پر ڈٹ جائیں ، اس ہدایت میں جرح و قدح کریں جسے آپ لے کر آئے ہیں اور اپنے باطل موقف کو حق پر ترجیح دیں تو بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور غیب و موجود کا علم رکھنے والی اس ہستی کی طرف سے ان کے اعمال کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا جو حق کا احقاق اور باطل کا ابطال کرتی ہے۔بنابریں فرمایا:﴿ قُلۡ رَّبِّيۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى وَمَنۡ هُوَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کا رسول (ﷺ)خود راہ راست پر گامزن اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔ اور آپ کے دشمن گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہیں ۔ [86] فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ يُّلۡقٰۤى اِلَيۡكَ الۡكِتٰبُ ﴾ یعنی آپ اس بات کے خواہش مند نہ تھے کہ یہ کتاب آپ پر نازل کی جاتی اور نہ اس کے لیے تیار تھے اور نہ اس کے درپے تھے ﴿ اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ تو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اور بندوں پر بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے آپ کو اس کتاب کے ساتھ مبعوث کیا، اس نے تمام جہانوں پر رحم فرمایا اور انھیں وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتے تھے، انھیں پاک کیا اور انھیں کتاب و حکمت کا علم سکھایا اگرچہ اس سے پہلے لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے رحمت کے طور پر آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل و کرم ہے، اس لیے آپ کے دل میں کسی قسم کی کچھ تنگی نہ ہو اور آپ یہ نہ سمجھیں کہ جو کچھ اس کے خلاف ہے، زیادہ درست اور زیادہ نفع مند ہے۔ ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ ظَهِيۡرًا لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی کفار کے کفر پر ان کی اعانت نہ کیجیے۔ کفار کے کفر پر منجملہ اعانت یہ ہے کہ قرآن کی کسی آیت یا حکم کے بارے میں کہا جائے کہ یہ حکمت، مصلحت اور منفعت کے خلاف ہے۔ [87]﴿وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَيۡكَ ﴾’’اور وہ تمھیں اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے کہ وہ آپ پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں ۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو آگے پہنچائیے، ان کے احکام کو نافذ کیجیے، ان کی چالوں کی پروا نہ کیجیے، کفار آپ کو ان آیات کے بارے میں فریب میں مبتلا نہ کریں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔﴿ وَادۡعُ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی اپنے رب کی طرف دعوت کو اپنا منتہائے مقصود اور اپنے عمل کی غرض و غایت بنائیے اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیجیے ، مثلاً: ریا، شہرت کی طلب اور اہل باطل کی اغراض کی موافقت وغیرہ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں اہل باطل کی معیت اور ان کے امور میں ان کی اعانت کی داعی ہیں ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ یعنی ان کے ساتھ ان کے شرک میں شامل ہوں نہ اس کی فرع میں ۔ شرک کی فروع سے مراد تمام گناہ ہیں ۔ [88]﴿ وَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔‘‘ بلکہ اپنی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رکھیے! ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی کامل اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہستی کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جس کو الٰہ بنایا جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کی عبادت کی جائے ﴿ كُلُّ شَيۡءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجۡهَهٗ﴾’’اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز مضمحل ہو کر ہلاک ہونے والی ہے تو ہلاکت کا شکار ہونے والی باطل ہستی کی عبادت بھی انتہائی باطل ہے۔﴿ لَهُ الۡحُكۡمُ ﴾ دنیا و آخرت میں اسی کا حکم نافذ ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں صرف اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز باطل اور ہلاک ہونے والی ہے اور اللہ باقی رہنے والا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی تمام خلائق کا مرجع ہے تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ جس شخص میں ادنیٰ سی بھی عقل ہے اس کے سامنے یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے ایسے اعمال كيے جائیں جو اس کے تقرب کاذریعہ ہیں ، اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچا جائے اور اس چیز سے بھی بچا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عدم توبہ کی حالت میں اور گناہ اور خطاؤں کو ختم كيے بغیر حاضر ہوا جائے۔
28:86

وَمَا كُنتَ تَرۡجُوٓاْ أَن يُلۡقَىٰٓ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبُ إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۖ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرٗا لِّلۡكَٰفِرِينَ

بلاشبہ وہ جس نے نازل کیا آپ پر قرآن البتہ وہ لوٹانے والا ہے آپ کو (آپ کے) لوٹنے کی جگہ کی طرف، کہہ دیجیے! میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ہے ساتھ ہدایت کےاوراس کو بھی جو ہے گمراہی ظاہر میں (85) اور نہیں تھے آپ امید رکھتے یہ کہ القا کی جائے گی آپ کی طرف (یہ) کتاب مگر (القا کی گئی ہے) رحمت سے آپ کے رب کی، پس نہ ہوں آپ ہرگز مدد گار کافروں کے لیے (86) اور نہ روک دیں وہ آپ کو اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے جب وہ نازل کی گئیں آپ کی طرف اور آپ بلائیں اپنے رب کی طرف اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکوں میں سے (87) اورنہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے کسی اور معبود کو، نہیں کوئی معبود مگر وہی، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے اسی کے لیے ہے حکم اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(88) [85] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ ﴾ ’’جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔‘‘ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا، اس میں احکام فرض كيے، اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا، آپ کو اسے تمام لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا، نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔ اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ’’انجام کار‘‘ کی طرف لوٹائے جہاں نیکوکاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے سامنے ہدایت کو کھول کھول کر بیان کر دیا اور ہدایت کے راستے کو واضح کر دیا ہے اب اگر وہ آپ کی پیروی کریں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور سعادت مندی ہے اور اگر وہ آپ کی مخالفت پر ڈٹ جائیں ، اس ہدایت میں جرح و قدح کریں جسے آپ لے کر آئے ہیں اور اپنے باطل موقف کو حق پر ترجیح دیں تو بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور غیب و موجود کا علم رکھنے والی اس ہستی کی طرف سے ان کے اعمال کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا جو حق کا احقاق اور باطل کا ابطال کرتی ہے۔بنابریں فرمایا:﴿ قُلۡ رَّبِّيۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى وَمَنۡ هُوَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کا رسول (ﷺ)خود راہ راست پر گامزن اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔ اور آپ کے دشمن گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہیں ۔ [86] فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ يُّلۡقٰۤى اِلَيۡكَ الۡكِتٰبُ ﴾ یعنی آپ اس بات کے خواہش مند نہ تھے کہ یہ کتاب آپ پر نازل کی جاتی اور نہ اس کے لیے تیار تھے اور نہ اس کے درپے تھے ﴿ اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ تو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اور بندوں پر بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے آپ کو اس کتاب کے ساتھ مبعوث کیا، اس نے تمام جہانوں پر رحم فرمایا اور انھیں وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتے تھے، انھیں پاک کیا اور انھیں کتاب و حکمت کا علم سکھایا اگرچہ اس سے پہلے لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے رحمت کے طور پر آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل و کرم ہے، اس لیے آپ کے دل میں کسی قسم کی کچھ تنگی نہ ہو اور آپ یہ نہ سمجھیں کہ جو کچھ اس کے خلاف ہے، زیادہ درست اور زیادہ نفع مند ہے۔ ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ ظَهِيۡرًا لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی کفار کے کفر پر ان کی اعانت نہ کیجیے۔ کفار کے کفر پر منجملہ اعانت یہ ہے کہ قرآن کی کسی آیت یا حکم کے بارے میں کہا جائے کہ یہ حکمت، مصلحت اور منفعت کے خلاف ہے۔ [87]﴿وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَيۡكَ ﴾’’اور وہ تمھیں اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے کہ وہ آپ پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں ۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو آگے پہنچائیے، ان کے احکام کو نافذ کیجیے، ان کی چالوں کی پروا نہ کیجیے، کفار آپ کو ان آیات کے بارے میں فریب میں مبتلا نہ کریں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔﴿ وَادۡعُ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی اپنے رب کی طرف دعوت کو اپنا منتہائے مقصود اور اپنے عمل کی غرض و غایت بنائیے اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیجیے ، مثلاً: ریا، شہرت کی طلب اور اہل باطل کی اغراض کی موافقت وغیرہ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں اہل باطل کی معیت اور ان کے امور میں ان کی اعانت کی داعی ہیں ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ یعنی ان کے ساتھ ان کے شرک میں شامل ہوں نہ اس کی فرع میں ۔ شرک کی فروع سے مراد تمام گناہ ہیں ۔ [88]﴿ وَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔‘‘ بلکہ اپنی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رکھیے! ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی کامل اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہستی کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جس کو الٰہ بنایا جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کی عبادت کی جائے ﴿ كُلُّ شَيۡءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجۡهَهٗ﴾’’اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز مضمحل ہو کر ہلاک ہونے والی ہے تو ہلاکت کا شکار ہونے والی باطل ہستی کی عبادت بھی انتہائی باطل ہے۔﴿ لَهُ الۡحُكۡمُ ﴾ دنیا و آخرت میں اسی کا حکم نافذ ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں صرف اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز باطل اور ہلاک ہونے والی ہے اور اللہ باقی رہنے والا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی تمام خلائق کا مرجع ہے تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ جس شخص میں ادنیٰ سی بھی عقل ہے اس کے سامنے یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے ایسے اعمال كيے جائیں جو اس کے تقرب کاذریعہ ہیں ، اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچا جائے اور اس چیز سے بھی بچا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عدم توبہ کی حالت میں اور گناہ اور خطاؤں کو ختم كيے بغیر حاضر ہوا جائے۔
28:87

وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بَعۡدَ إِذۡ أُنزِلَتۡ إِلَيۡكَۖ وَٱدۡعُ إِلَىٰ رَبِّكَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ

بلاشبہ وہ جس نے نازل کیا آپ پر قرآن البتہ وہ لوٹانے والا ہے آپ کو (آپ کے) لوٹنے کی جگہ کی طرف، کہہ دیجیے! میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ہے ساتھ ہدایت کےاوراس کو بھی جو ہے گمراہی ظاہر میں (85) اور نہیں تھے آپ امید رکھتے یہ کہ القا کی جائے گی آپ کی طرف (یہ) کتاب مگر (القا کی گئی ہے) رحمت سے آپ کے رب کی، پس نہ ہوں آپ ہرگز مدد گار کافروں کے لیے (86) اور نہ روک دیں وہ آپ کو اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے جب وہ نازل کی گئیں آپ کی طرف اور آپ بلائیں اپنے رب کی طرف اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکوں میں سے (87) اورنہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے کسی اور معبود کو، نہیں کوئی معبود مگر وہی، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے اسی کے لیے ہے حکم اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(88) [85] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ ﴾ ’’جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔‘‘ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا، اس میں احکام فرض كيے، اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا، آپ کو اسے تمام لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا، نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔ اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ’’انجام کار‘‘ کی طرف لوٹائے جہاں نیکوکاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے سامنے ہدایت کو کھول کھول کر بیان کر دیا اور ہدایت کے راستے کو واضح کر دیا ہے اب اگر وہ آپ کی پیروی کریں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور سعادت مندی ہے اور اگر وہ آپ کی مخالفت پر ڈٹ جائیں ، اس ہدایت میں جرح و قدح کریں جسے آپ لے کر آئے ہیں اور اپنے باطل موقف کو حق پر ترجیح دیں تو بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور غیب و موجود کا علم رکھنے والی اس ہستی کی طرف سے ان کے اعمال کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا جو حق کا احقاق اور باطل کا ابطال کرتی ہے۔بنابریں فرمایا:﴿ قُلۡ رَّبِّيۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى وَمَنۡ هُوَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کا رسول (ﷺ)خود راہ راست پر گامزن اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔ اور آپ کے دشمن گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہیں ۔ [86] فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ يُّلۡقٰۤى اِلَيۡكَ الۡكِتٰبُ ﴾ یعنی آپ اس بات کے خواہش مند نہ تھے کہ یہ کتاب آپ پر نازل کی جاتی اور نہ اس کے لیے تیار تھے اور نہ اس کے درپے تھے ﴿ اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ تو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اور بندوں پر بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے آپ کو اس کتاب کے ساتھ مبعوث کیا، اس نے تمام جہانوں پر رحم فرمایا اور انھیں وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتے تھے، انھیں پاک کیا اور انھیں کتاب و حکمت کا علم سکھایا اگرچہ اس سے پہلے لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے رحمت کے طور پر آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل و کرم ہے، اس لیے آپ کے دل میں کسی قسم کی کچھ تنگی نہ ہو اور آپ یہ نہ سمجھیں کہ جو کچھ اس کے خلاف ہے، زیادہ درست اور زیادہ نفع مند ہے۔ ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ ظَهِيۡرًا لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی کفار کے کفر پر ان کی اعانت نہ کیجیے۔ کفار کے کفر پر منجملہ اعانت یہ ہے کہ قرآن کی کسی آیت یا حکم کے بارے میں کہا جائے کہ یہ حکمت، مصلحت اور منفعت کے خلاف ہے۔ [87]﴿وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَيۡكَ ﴾’’اور وہ تمھیں اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے کہ وہ آپ پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں ۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو آگے پہنچائیے، ان کے احکام کو نافذ کیجیے، ان کی چالوں کی پروا نہ کیجیے، کفار آپ کو ان آیات کے بارے میں فریب میں مبتلا نہ کریں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔﴿ وَادۡعُ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی اپنے رب کی طرف دعوت کو اپنا منتہائے مقصود اور اپنے عمل کی غرض و غایت بنائیے اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیجیے ، مثلاً: ریا، شہرت کی طلب اور اہل باطل کی اغراض کی موافقت وغیرہ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں اہل باطل کی معیت اور ان کے امور میں ان کی اعانت کی داعی ہیں ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ یعنی ان کے ساتھ ان کے شرک میں شامل ہوں نہ اس کی فرع میں ۔ شرک کی فروع سے مراد تمام گناہ ہیں ۔ [88]﴿ وَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔‘‘ بلکہ اپنی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رکھیے! ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی کامل اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہستی کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جس کو الٰہ بنایا جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کی عبادت کی جائے ﴿ كُلُّ شَيۡءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجۡهَهٗ﴾’’اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز مضمحل ہو کر ہلاک ہونے والی ہے تو ہلاکت کا شکار ہونے والی باطل ہستی کی عبادت بھی انتہائی باطل ہے۔﴿ لَهُ الۡحُكۡمُ ﴾ دنیا و آخرت میں اسی کا حکم نافذ ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں صرف اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز باطل اور ہلاک ہونے والی ہے اور اللہ باقی رہنے والا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی تمام خلائق کا مرجع ہے تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ جس شخص میں ادنیٰ سی بھی عقل ہے اس کے سامنے یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے ایسے اعمال كيے جائیں جو اس کے تقرب کاذریعہ ہیں ، اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچا جائے اور اس چیز سے بھی بچا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عدم توبہ کی حالت میں اور گناہ اور خطاؤں کو ختم كيے بغیر حاضر ہوا جائے۔
28:88

وَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۘ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ كُلُّ شَيۡءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجۡهَهُۥۚ لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ

بلاشبہ وہ جس نے نازل کیا آپ پر قرآن البتہ وہ لوٹانے والا ہے آپ کو (آپ کے) لوٹنے کی جگہ کی طرف، کہہ دیجیے! میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو آیا ہے ساتھ ہدایت کےاوراس کو بھی جو ہے گمراہی ظاہر میں (85) اور نہیں تھے آپ امید رکھتے یہ کہ القا کی جائے گی آپ کی طرف (یہ) کتاب مگر (القا کی گئی ہے) رحمت سے آپ کے رب کی، پس نہ ہوں آپ ہرگز مدد گار کافروں کے لیے (86) اور نہ روک دیں وہ آپ کو اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے جب وہ نازل کی گئیں آپ کی طرف اور آپ بلائیں اپنے رب کی طرف اور ہرگز نہ ہوں آپ مشرکوں میں سے (87) اورنہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے کسی اور معبود کو، نہیں کوئی معبود مگر وہی، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے اسی کے لیے ہے حکم اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(88) [85] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ ﴾ ’’جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔‘‘ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا، اس میں احکام فرض كيے، اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا، آپ کو اسے تمام لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا، نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔ اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ’’انجام کار‘‘ کی طرف لوٹائے جہاں نیکوکاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے سامنے ہدایت کو کھول کھول کر بیان کر دیا اور ہدایت کے راستے کو واضح کر دیا ہے اب اگر وہ آپ کی پیروی کریں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور سعادت مندی ہے اور اگر وہ آپ کی مخالفت پر ڈٹ جائیں ، اس ہدایت میں جرح و قدح کریں جسے آپ لے کر آئے ہیں اور اپنے باطل موقف کو حق پر ترجیح دیں تو بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور غیب و موجود کا علم رکھنے والی اس ہستی کی طرف سے ان کے اعمال کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا جو حق کا احقاق اور باطل کا ابطال کرتی ہے۔بنابریں فرمایا:﴿ قُلۡ رَّبِّيۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى وَمَنۡ هُوَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کا رسول (ﷺ)خود راہ راست پر گامزن اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔ اور آپ کے دشمن گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہیں ۔ [86] فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ يُّلۡقٰۤى اِلَيۡكَ الۡكِتٰبُ ﴾ یعنی آپ اس بات کے خواہش مند نہ تھے کہ یہ کتاب آپ پر نازل کی جاتی اور نہ اس کے لیے تیار تھے اور نہ اس کے درپے تھے ﴿ اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ تو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اور بندوں پر بے پایاں رحمت تھی کہ اس نے آپ کو اس کتاب کے ساتھ مبعوث کیا، اس نے تمام جہانوں پر رحم فرمایا اور انھیں وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتے تھے، انھیں پاک کیا اور انھیں کتاب و حکمت کا علم سکھایا اگرچہ اس سے پہلے لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے رحمت کے طور پر آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل و کرم ہے، اس لیے آپ کے دل میں کسی قسم کی کچھ تنگی نہ ہو اور آپ یہ نہ سمجھیں کہ جو کچھ اس کے خلاف ہے، زیادہ درست اور زیادہ نفع مند ہے۔ ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ ظَهِيۡرًا لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی کفار کے کفر پر ان کی اعانت نہ کیجیے۔ کفار کے کفر پر منجملہ اعانت یہ ہے کہ قرآن کی کسی آیت یا حکم کے بارے میں کہا جائے کہ یہ حکمت، مصلحت اور منفعت کے خلاف ہے۔ [87]﴿وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعۡدَ اِذۡ اُنۡزِلَتۡ اِلَيۡكَ ﴾’’اور وہ تمھیں اللہ کی آیتوں سے بعد اس کے کہ وہ آپ پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں ۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو آگے پہنچائیے، ان کے احکام کو نافذ کیجیے، ان کی چالوں کی پروا نہ کیجیے، کفار آپ کو ان آیات کے بارے میں فریب میں مبتلا نہ کریں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔﴿ وَادۡعُ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ یعنی اپنے رب کی طرف دعوت کو اپنا منتہائے مقصود اور اپنے عمل کی غرض و غایت بنائیے اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیجیے ، مثلاً: ریا، شہرت کی طلب اور اہل باطل کی اغراض کی موافقت وغیرہ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں اہل باطل کی معیت اور ان کے امور میں ان کی اعانت کی داعی ہیں ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ یعنی ان کے ساتھ ان کے شرک میں شامل ہوں نہ اس کی فرع میں ۔ شرک کی فروع سے مراد تمام گناہ ہیں ۔ [88]﴿ وَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔‘‘ بلکہ اپنی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رکھیے! ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی کامل اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہستی کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جس کو الٰہ بنایا جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کی عبادت کی جائے ﴿ كُلُّ شَيۡءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجۡهَهٗ﴾’’اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز مضمحل ہو کر ہلاک ہونے والی ہے تو ہلاکت کا شکار ہونے والی باطل ہستی کی عبادت بھی انتہائی باطل ہے۔﴿ لَهُ الۡحُكۡمُ ﴾ دنیا و آخرت میں اسی کا حکم نافذ ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں صرف اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز باطل اور ہلاک ہونے والی ہے اور اللہ باقی رہنے والا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی تمام خلائق کا مرجع ہے تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ جس شخص میں ادنیٰ سی بھی عقل ہے اس کے سامنے یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے ایسے اعمال كيے جائیں جو اس کے تقرب کاذریعہ ہیں ، اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچا جائے اور اس چیز سے بھی بچا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عدم توبہ کی حالت میں اور گناہ اور خطاؤں کو ختم كيے بغیر حاضر ہوا جائے۔