al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 26 · 227 verses
26:1طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔
[3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
[4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘
[5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
[6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔
[8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
26:2تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ
طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔
[3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
[4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘
[5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
[6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔
[8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
26:3لَعَلَّكَ بَٰخِعٞ نَّفۡسَكَ أَلَّا يَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ
طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔
[3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
[4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘
[5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
[6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔
[8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
26:4إِن نَّشَأۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةٗ فَظَلَّتۡ أَعۡنَٰقُهُمۡ لَهَا خَٰضِعِينَ
طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔
[3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
[4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘
[5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
[6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔
[8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
26:5وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن ذِكۡرٖ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ مُحۡدَثٍ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهُ مُعۡرِضِينَ
طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔
[3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
[4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘
[5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
[6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔
[8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
26:6فَقَدۡ كَذَّبُواْ فَسَيَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَـٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔
[3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
[4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘
[5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
[6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔
[8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
26:7أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ كَمۡ أَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ كَرِيمٍ
طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔
[3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
[4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘
[5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
[6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔
[8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
26:8إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔
[3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
[4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘
[5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
[6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔
[8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
26:9وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
طٰسٓمّٓ (1) یہ آیتیں ہیں کتاب واضح کی (2) شاید کہ آپ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو ، اس لیے کہ نہیں ہوتے و ہ ایمان لانے والے (3) اگر ہم چاہیں تو نازل کر دیں ان پر آسمان سے کوئی نشانی، پس ہو جاتیں ان کی گردنیں اس کے لیے جھکنے والیں (4) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمن کی طرف سے نئی مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے (5) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے، پس عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ ساتھ اس کے استہزاء کرتے (6)کیا نہیں دیکھا انھوں نے زمین کی طرف، کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں ؟ (7) بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں ہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (8) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا (9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اورمقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والے کے لیے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلندترین معانی پر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اس سے رو گردانی کرتے ہیں جن کے لیے بدبختی لکھ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ مشرکین کے ایمان نہ لانے پر بہت غمگین ہوتے تھے کیونکہ وہ ان کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے اور ان کے خیرخواہ تھے۔
[3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں ۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
[4] اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً ﴾ ’’اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں ۔‘‘ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ ﴾ ’’پھر ہو جائیں ان کی گردنیں ۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِيۡنَ﴾ ’’اس کے آگے جھکنے والیں ۔‘‘ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا ﴾(الانعام:6؍158) ’’کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں ، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔‘‘
[5]﴿ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ ﴾ ’’اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔‘‘ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهُ مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
[6] بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدۡ كَذَّبُوۡا ﴾ ’’پس انھوں نے تکذیب کی۔‘‘ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَيَاۡتِيۡهِمۡ۠ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔
[7] اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کی، جو انسان کو فائدہ دیتا ہے، ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اِلَى الۡاَرۡضِ كَمۡ اَنۢۡبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا، کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اگائی ہیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نباتات کی تمام اصناف اگائیں جو بہت خوبصورت نظر آتی ہیں جو بہت فوائد کی حامل ہیں ۔
[8]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اس میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103) ’’خواہ آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[9]﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور آپ کا رب غالب ہے۔‘‘ یعنی جو تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام عالم علوی و سفلی اس کے سامنے سرنگوں ہے ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، اس کی نوازشیں ہر زندہ چیز تک پہنچتی ہیں ۔ وہ غالب ہے بدبختوں کو مختلف عقوبتوں کے ذریعے سے ہلاک کرتا ہے اور سعادت مندوں پر بہت مہربان ہے انھیں ہر شر اور ہر بلا سے نجات دیتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰu کی مدح و ثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰu کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰu کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰu صاحب شریعت کبریٰ اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
26:10وَإِذۡ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱئۡتِ ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:11قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَۚ أَلَا يَتَّقُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:12قَالَ رَبِّ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:13وَيَضِيقُ صَدۡرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرۡسِلۡ إِلَىٰ هَٰرُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:14وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢبٞ فَأَخَافُ أَن يَقۡتُلُونِ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:15قَالَ كَلَّاۖ فَٱذۡهَبَا بِـَٔايَٰتِنَآۖ إِنَّا مَعَكُم مُّسۡتَمِعُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:16فَأۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:17أَنۡ أَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:18قَالَ أَلَمۡ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٗا وَلَبِثۡتَ فِينَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:19وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ ٱلَّتِي فَعَلۡتَ وَأَنتَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:20قَالَ فَعَلۡتُهَآ إِذٗا وَأَنَا۠ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:21فَفَرَرۡتُ مِنكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكۡمٗا وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:22وَتِلۡكَ نِعۡمَةٞ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنۡ عَبَّدتَّ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:23قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:24قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:25قَالَ لِمَنۡ حَوۡلَهُۥٓ أَلَا تَسۡتَمِعُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:26قَالَ رَبُّكُمۡ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:27قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ ٱلَّذِيٓ أُرۡسِلَ إِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُونٞ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:28قَالَ رَبُّ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡقِلُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:29قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذۡتَ إِلَٰهًا غَيۡرِي لَأَجۡعَلَنَّكَ مِنَ ٱلۡمَسۡجُونِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:30قَالَ أَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٖ مُّبِينٖ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:31قَالَ فَأۡتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:32فَأَلۡقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعۡبَانٞ مُّبِينٞ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:33وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:34قَالَ لِلۡمَلَإِ حَوۡلَهُۥٓ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٞ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:35يُرِيدُ أَن يُخۡرِجَكُم مِّنۡ أَرۡضِكُم بِسِحۡرِهِۦ فَمَاذَا تَأۡمُرُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:36قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَٱبۡعَثۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:37يَأۡتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٖ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:38فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَٰتِ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:39وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلۡ أَنتُم مُّجۡتَمِعُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:40لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ ٱلۡغَٰلِبِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:41فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرۡعَوۡنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:42قَالَ نَعَمۡ وَإِنَّكُمۡ إِذٗا لَّمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:43قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:44فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:45فَأَلۡقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:46فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:47قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:48اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:49قَالَ ءَامَنتُمۡ لَهُۥ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:50قَالُواْ لَا ضَيۡرَۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:51إِنَّا نَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَٰيَٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:52۞وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِيٓ إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:53فَأَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:54إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٞ قَلِيلُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:55وَإِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآئِظُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:56وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٰذِرُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:57فَأَخۡرَجۡنَٰهُم مِّن جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:58وَكُنُوزٖ وَمَقَامٖ كَرِيمٖ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:59كَذَٰلِكَۖ وَأَوۡرَثۡنَٰهَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:60فَأَتۡبَعُوهُم مُّشۡرِقِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:61فَلَمَّا تَرَـٰٓءَا ٱلۡجَمۡعَانِ قَالَ أَصۡحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدۡرَكُونَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:62قَالَ كَلَّآۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهۡدِينِ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:63فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡبَحۡرَۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٖ كَٱلطَّوۡدِ ٱلۡعَظِيمِ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:64وَأَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ٱلۡأٓخَرِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:65وَأَنجَيۡنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:66ثُمَّ أَغۡرَقۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:67إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:68وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور (یاد کریں ) جب پکارا آپ کے رب نے موسیٰ کو، یہ کہ جا تو ظالم قوم کے پاس (10)( یعنی ) قوم فرعون کے پاس، کیا نہیں ڈرتے وہ؟ (11)موسیٰ نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں اس سے کہ وہ جھٹلائیں گے مجھے (12) اور تنگ ہوتا ہے میرا سینہ اور نہیں چلتی میری زبان، پس (وحی) بھیج تو ہارون کی طرف(13) اور ان کا میرے ذمہ ایک گناہ (جرم) ہے، سو ڈرتا ہوں میں اس سے کہ وہ قتل کر دیں مجھے (14) اللہ نے کہا، ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ یقینا ہم تمھارے ساتھ ہیں ، سننے والے (15) پس جاؤ تم فرعون کے پاس اور کہو، بلاشبہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے (16) یہ کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو (17) فرعون نے کہا، کیا نہیں پرورش کی تھی ہم نے تیری اپنے اندر جبکہ تو بچہ تھا اور ٹھہرا رہا ہے تو ہمار ے اندراپنی عمر میں سے کئی سال (18) اور کیا تو نے اپنا کام، وہ جو کیا تو نےاور تو ناشکروں میں سے ہے (19) موسیٰ نے کہا، کیا تھا میں وہ (کام) اس وقت جبکہ میں بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے تھا (20) پس بھاگ گیا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے، پس عطا کیا مجھے میرے رب نے حکم اور اس نے بنایا مجھے رسولوں میں سے (21)اور (کیا یہی ہے) وہ احسان کہ احسان جتلاتا ہے تو اس کا مجھ پر، یہ کہ غلام بنا رکھا ہے تو نے بنی اسرائیل کو؟ (22)کہا فرعون نےاور کیا ہے رب العالمین؟ (23)موسیٰ نے کہا،(وہ ہے) رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے (24) فرعون نے کہا ان لوگوں سے جو اس کے اردگرد تھے، کیا نہیں سنتے تم؟ (25) موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) تمھارا رب اور رب تمھارے پہلے باپ دادا کا (26) فرعون نے کہا، بلاشبہ تمھارا رسول، وہ جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف، یقینا دیوانہ ہے (27)موسیٰ نے کہا، (وہ ہے) رب مشرق اور مغرب کا اور (ان کا) جوان دونوں کے درمیان ہے، اگر ہو تم عقل رکھتے (28) فرعون نے کہا، البتہ اگر پکڑا تو نے کوئی (اور) معبود سوائے میرے تو البتہ ضرور بنا دوں گا میں تجھے قیدیوں میں سے (29) موسیٰ نے کہا، کیا اگرچہ لاؤں میں تیرے پاس کوئی چیز واضح (تو بھی)؟(30)کہا اس نے، لے آتو وہ چیز، اگر ہے تو سچوں میں سے (31) پس ڈالا موسیٰ نے عَصَا اپنا تو ناگہاں وہ اژدہا تھا ظاہر (32) اور نکالا اس نے اپنا ہاتھ تو ناگہاں وہ سفید (چمکتا ہوا) تھا دیکھنے والوں کے لیے (33) کہا اس نے ان وڈیروں سے جو اردگرد تھے اس کے ، بلاشبہ یہ (موسیٰ) البتہ جادو گر ہے خوب جاننے والا (34) وہ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟ (35)انھوں نے کہا، مہلت دے تو اسے اور اس کے بھائی کواور بھیج تو شہروں میں اکٹھا کرنے والے (36)لے آئیں وہ تیرے پاس تمام بڑے بڑے ماہر جادو گر (37) پس جمع کیے گئے جادو گر (خاص) وقت پر ایک دن معین کے (38) اور کہا گیا لوگوں سے، کیا تم (بھی) جمع ہو گے؟(39) تاکہ ہم اتباع کریں جادو گروں کا، اگر ہوں وہی غالب (40) پس جب آئے جادو گر تو کہا انھوں نے فرعون سے، کیا بلاشبہ ہمارے لیے البتہ صلہ ہو گا اگر ہوں ہم ہی غالب؟ (41)اس نے کہا، ہاں ! اور بلاشبہ تم اس وقت البتہ (میرے) مقرب لوگوں میں سے ہو گے (42) کہا ان سے موسیٰ نے، ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو (43) پس ڈالیں انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں اور کہا انھوں نے، قسم ہے عزت فرعون کی، بلاشبہ ہم ، البتہ ہم ہی ہیں غالب (44) پس ڈالا موسیٰ نے اپنا عَصَا تو ناگہاں وہ نگلتا تھا جو کچھ وہ جھوٹ باندھتے تھے(45) پس گرا دیے گئے (وہ) جادو گر سجدہ کرتے ہوئے (46)کہا انھوں نے، ایمان لائے ہم رب العالمین کے ساتھ(47) جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا (48) کہا فرعون نے ، کیا ایمان لے آئے تم اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ، بلاشبہ وہ البتہ تمھارا بڑاہے جس نے سکھایا ہے تمھیں جادو، سو یقینا عنقریب جان لو گے تم، البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف طرف سےاور البتہ ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو (49) انھوں نے کہا، نہیں کوئی حرج بے شک ہم طرف اپنے رب کی لوٹنے والے ہیں (50) بلاشبہ ہم امید رکھتے ہیں یہ کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ، اس لیے کہ ہم ہی ہیں پہلے ایمان لانے والے (51) اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف یہ کہ رات کو (نکال) لے جا تو میرے بندوں کو، بلاشبہ تم پیچھا کیے جاؤ گے (52) پس بھیجے فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے (53)(یہ کہتے ہوئے) بلاشبہ یہ لوگ، البتہ ایک جماعت ہے تھوڑی سی (54) اور بلاشبہ وہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں (55) اور بلاشبہ ہم البتہ جماعت ہیں ہوشیار، چوکس (56)پس نکالا ہم نے انھیں باغات اور چشموں سے (57) اور خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں سے (58) اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو (59) پس پیچھے لگے فرعونی ان (بنی اسرائیل) کے سورج نکلتے وقت (60) سو جب ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جماعتوں نے تو کہا اصحاب موسیٰ نے، یقینا ہم تو پکڑے گئے (61)موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں ، بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا (62) پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی ، یہ کہ مار تو اپنا عَصَا سمندر کو پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا ہر ایک ٹکڑا (سمندر کا) جیسے پہاڑ بہت بڑا (63) اور قریب کر دیا ہم نے وہاں دوسروں کو (64) اور نجات دی ہم نے موسیٰ کو اوران لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، سب کو (65) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں (فرعونیوں ) کو (66) بلاشبہ اس میں البتہ ایک (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (67) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب بہت رحم کرنے والا(68)
[11,10] فرمایا کہ حضرت موسیٰu کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندا دی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، کو رسول بنا کر بھیجا اور انھیں حکم دیا ﴿ اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔‘‘ جنھوں نے زمین میں تکبر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اللہ کی مخلوق پر جبر کے ساتھ مسلط ہیں اور ان کے سردار نے ربوبیت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ﴿ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’قوم ِفرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی انھیں نہایت نرم لہجے اور لطیف عبارت میں کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے جس نے تمھیں پیدا کیا، تمھیں رزق سے نوازا اور تم اس کے بدلے میں کفر کا رویہ اختیار كيے ہوئے ہو؟
[14-12] موسیٰu نے اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کر کے، اپنا عذر بیان کرتے ہوئے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے میں معاون کا سوال کیا:﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِؕ۰۰وَيَضِيۡقُ صَدۡرِيۡ وَلَا يَنۡطَلِقُ لِسَانِيۡ ﴾ ’’انھوں نے کہا، میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے۔‘‘ عرض کی ﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡۙ۰۰وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡۙ۰۰وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ۰۰وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡۙ۰۰هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾(طٰہٰ:20؍25-30) ’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے، میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں ۔ میرے خاندان میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے، ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔‘‘ ﴿ فَاَرۡسِلۡ اِلٰى هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’پس تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی دعا قبول فرما لی اور آپ کے بھائی حضرت ہارونu کو اسی طرح نبوت سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰu کو سرفراز فرمایا تھا: ﴿ فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾(القصص : 28؍34) ’’اس کو میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی میرے کام میں ہارون کو میرا معاون بنا دیتاکہ وہ لوگ میری تصدیق کریں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢۡبٌ ﴾ ’’اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک گناہ ہے۔‘‘ یعنی قبطی کے قتل کے ضمن میں ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ﴾ ’’تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘
[17-15]﴿ قَالَ كَلَّا﴾ ’’اللہ نے فرمایا، ہرگز نہیں ‘‘ یعنی وہ تجھ کو قتل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ تم دونوں کو ہم قوت عطا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(القصص : 28؍35) ’’پس وہ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں تک پہنچ نہیں سکیں گے تم دونوں اور تمھارے پیرو کار ہی غالب رہیں گے۔‘‘ اسی لیے فرعون، حضرت موسیٰu کے ساتھ انتہائی دشمنی، آپ کی رائے کو سفاہت قرار دینے، آپ کو اور آپ کی قوم کو گمراہ جاننے کے باوجود آپ کے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔ ﴿ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ‘‘ جو تمھاری صداقت اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’ہم تمھارے ساتھ سننے والے ہیں ۔‘‘ میں تم دونوں کی حفاظت کروں گا اور تم پر نظر رکھوں گا۔ ﴿ فَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تیری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ تو اللہ تعالیٰ پر اور ہم پر ایمان لائے، اس کی توحید کو مان لے اور اس کی عبادت کے لیے اس کی اطاعت کرے۔ ﴿ اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘ ان کو تعذیب اور ایذا دینا چھوڑ دے اور ان پر سے اپنی غلامی کا جوا اٹھا لے تاکہ وہ اپنے رب کی عبادت کر سکیں اور اپنے امور دین کو قائم کر سکیں ۔
[19,18] جب حضرت موسیٰ اور ہارونi فرعون کے پاس آئے اور وہ سب کچھ اس سے کہہ دیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔ مگر فرعون ایمان نہ لایا اور نہ اس میں کسی قسم کی نرمی ہی پیدا ہوئی بلکہ اس نے موسیٰu کی مخالفت شروع کر دی۔ کہنے لگا ﴿ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، کہ تو ابھی بچہ ہی تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ یعنی کیا ہم نے تجھے اپنی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ کیا ہم نے تیری اس وقت سے پرورش نہیں کی جب تو پنگوڑے میں تھا اور تو اسی طرح ہمارے پاس پرورش پاتا رہا؟ ﴿ وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ۰۰ وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِيۡ فَعَلۡتَ ﴾ ’’اور تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کتنے ہی سال گزارے ہیں اور تو نے وہ کام کیا تھا جو کیا۔‘‘ اس سے مراد موسیٰu کے ہاتھوں قبطی کا قتل ہے، جب اس قبطی کے خلاف جو کہ دشمن گروہ سے تھا اس شخص نے مدد چاہی جو کہ موسیٰ(u) کی قوم سے تھا۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾(القصص:28؍15) ’’تو موسیٰu نے اس کو ایک مکا رسید کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ ﴿وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو بھی کافروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی اس وقت تیرا طریقہ اور راستہ وہی تھا جو کافرانہ طریقہ اور راستہ ہمارا تھا۔ پس فرعون نے اپنے بارے میں غیر شعوری طورپر کفر کا اقرار کیا۔
[22-20] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ فَعَلۡتُهَاۤ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں سے تھا۔‘‘ یعنی میں نے وہ قتل کفر کی بنا پر نہیں کیا وہ خطا اور نادانی کے باعث ہوا۔ پس میں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی تو اس نے مجھے معاف کر دیا۔ ﴿ فَفَرَرۡتُ مِنۡكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ﴾ ’’پس جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا۔‘‘ یہ وہ وقت تھا جب تم نے میرے قتل کا مشورہ کرلیا تھا پس میں مدین کی طرف بھاگ کر چلا گیا اور کئی سال وہاں رہا، پھر تمھارے پاس چلا آیا۔ ﴿ فَوَهَبَ لِيۡ رَبِّيۡ حُكۡمًا وَّجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پھر اللہ نے مجھے نبوت و علم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔‘‘ حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ u پر فرعون کا اعتراض ایک جاہل یا جان بوجھ کر جاہل بننے والے کا اعتراض ہے کیونکہ اس نے آنجناب کے رسول ہونے سے اس امر کو مانع قرار دیا کہ ان سے قتل کا ارتکاب ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰu نے فرعون پر واضح کر دیا کہ ان سے یہ قتل انجانے اور خطا سے ہوا ہے جس میں انسان کے قتل کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فضل کسی کے لیے ممنوع نہیں ہے تو پھر تم حکمت اور رسالت کو مجھ سے کیونکر روک سکتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے۔ اے فرعون! باقی رہا تیرا یہ طعنہ: ﴿اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا﴾ ’’کیا ہم نے تیری، جبکہ تو بچہ تھا، پرورش نہیں کی۔‘‘ اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس میں تیرا کوئی احسان نہیں ۔ اس لیے موسیٰu نے فرمایا:﴿ وَتِلۡكَ نِعۡمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یعنی تو مجھ پر یہ احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور تو نے مجھے اپنی غلامی سے بچا دیا ہے اور اسے تو مجھ پر اپنی نعمت اور اپنا احسان قرار دیتا ہے۔ غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ تو نے اس فضیلت والے گروہ پر ظلم کیا ہے تو نے اپنے ظلم سے ان کو مطیع کرکے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس کے باوجود کہ تو نے میری قوم پر اذیت اورتعذیب کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری ایذا رسانی سے محفوظ رکھا۔ اس میں کون سا احسان ہے جو تو مجھ پرجتلاتا ہے؟
[25-23]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟‘‘ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰu کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم یقین رکھتے ہو۔‘‘ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ‘‘ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
[27,26] موسیٰu نے فرمایا: ﴿ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی خواہ تم تعجب کرو یا نہ کرو، خواہ تم تکبر کرو یا فروتنی، اللہ تعالیٰ تمھارا اور تمھارے آباء و اجداد کا رب ہے۔فرعون نے حق کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا اور حضرت موسیٰu کی دعوت میں جرح و قدح کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ رَسُوۡلَكُمُ الَّذِيۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ ﴾ ’’تمھارا یہ رسول، جسے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، دیوانہ ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہے اور اس راستے کی مخالفت کرتا ہے جس پر ہم گامزن ہیں ۔ پس اس کے نزدیک عقل مندی اور عقل مند وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ انھیں اور زمین و آسمان کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ یہ زمین و آسمان کسی موجد کی ایجاد کے بغیر ہمیشہ سے موجود ہیں اور خود ان کی ذات بغیر خالق کے خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کے نزدیک عقل مندی یہ ہے کہ مخلوق کی عبادت کی جائے جو ہر لحاظ سے ناقص اور محتاج ہے اور جنون اس کے نزدیک یہ ہے کہ رب کا اثبات کیا جائے جو عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کرنے والا، ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور اس رب کی عبادت کی طرف دعوت دی جائے۔ اس نے اپنی بات کو آراستہ کر کے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس کی قوم کے لوگ بیوقوف اور کم عقل تھے:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کی عقل کھودی اور انھوں نے اس کی اطاعت کرلی، یقینا وہ بڑے فاسق لوگ تھے۔‘‘
[28] فرعون کے انکار اور رب العالمین کو اس کے معطل قرار دینے پر موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے، سب کا مالک ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات کا بھی پروردگار ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم سمجھ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے پوری طرح واضح کر دیا ہے، جس کے پاس معمولی سی بھی عقل ہے اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جو چیز میں تمھیں بتا رہا ہوں تم اس کے بارے میں جان بوجھ کرجہالت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ تم نے جس جنون کو موسیٰu کی طرف منسوب کیا ہے وہ درحقیقت تمھاری بیماری ہے اور تم نے اسے مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور علم میں سب سے زیادہ کامل ہستی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ درآں حا لیکہ تم خود مجنون ہو کیونکہ تم نے موجودات میں سب سے زیادہ ظاہر ہستی کا انکار کر دیا ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کی خالق ہے۔ جب تم نے اس کا انکار کر دیا تو پھر کون سی چیز ہے جس کا تم اثبات کر رہے ہو؟ جب تم یہ چیز نہیں جانتے تو پھر تم کیا جانتے ہو؟ جب تم اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد تم کس چیز پر ایمان لاؤ گے؟ اللہ کی قسم! وہ پاگل لوگ جو جانوروں کی مانند ہیں ، تم سے زیادہ عقل مند ہیں اور گھاس چرنے والے مویشی بھی تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
[33-29] جب حضرت موسیٰu کی دلیل نے فرعون کو لاجواب کر دیا تو اس کی قدرت اور اس کا بیان موسیٰu کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گیا ﴿ قَالَ ﴾ ’’تو اس نے کہا‘‘ موسیٰu کو طاقت اور سلطنت کا رعب جماتے ہوئے اور دھمکی دیتے ہوئے ﴿ لَىِٕنِ اتَّؔخَذۡتَ اِلٰهًا غَيۡرِيۡ لَاَجۡعَلَنَّكَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قید کر دوں گا۔‘‘ اللہ اس کا برا کرے… اس کی خواہش تھی کہ وہ موسیٰu کو گمراہ کر دے اور موسیٰu اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائیں ورنہ یہ بات متحقق تھی کہ موسیٰu اور ان کے ساتھیوں کا موقف بصیرت پر مبنی تھا۔ موسیٰu نے اس سے فرمایا: ﴿اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی خواہ میں اپنی دعوت پر واضح اور نمایاں معجزہ ہی کیوں نہ لے آؤں ؟ ﴿ قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ۰۰ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’فرعون نے کہا، اگر سچے ہو تو اس کو لاؤ۔ پس انھوں نے لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت اژدھا بن گئی۔‘‘ یعنی نر سانپ ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾وہ ہر ایک پر ظاہر تھا، تخیل اور تشبیہ کا کرشمہ نہ تھا۔﴿ وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’اور آپ نے اپنا ہاتھ نکالا‘‘ اپنے گریباں سے ۔ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کو سفید نظر آنے لگا۔‘‘ یعنی یہ بہت زیادہ روشن تھا اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔
[37-34]﴿ قَالَ لِلۡمَلَاِ حَوۡلَهٗۤ ﴾ فرعون نے حق اور موسیٰu کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے حاشیہ نشیں سرداروں سے کہا: ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌۙ ۰۰ يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهٖ﴾ ’’یہ کامل فن جادوگر ہے چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو کے ذریعے سے تمھارے ملک سے نکال دے۔‘‘ چونکہ اسے علم تھا کہ یہ ضعیف العقل لوگ ہیں اس لیے ان کے سامنے ملمع سازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو جادو گروں کے شعبدوں کی جنس میں سے ایک شعبدہ ہے کیونکہ ان کے ہاں یہ بات مسلمہ تھی کہ جادوگر ایسے حیرت انگیز شعبدے دکھا سکتے ہیں جو لوگوں کی قدرت سے باہر ہیں ۔ فرعون نے ان کو ڈرایا کہ موسیٰu کا مقصد اس جادو کے ذریعے سے تمام لوگوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرنا ہے تاکہ وہ اس شخص کے ساتھ عداوت رکھنے میں پوری جدوجہد کریں جو انھیں اپنے اہل و عیال اور گھروں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہے۔ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’بتلاؤ! تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘ کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کے اور اس کے بھائی کے بارے میں کچھ توقف کیجیے۔‘‘ یعنی ان دونوں کو روک لو ﴿وَابۡعَثۡ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾ اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے شہروں میں ہر کارے دوڑا دو ﴿ يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں ۔‘‘ یعنی ان تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دو جو علم کا گہوارہ اور جادو کا گڑھ ہیں تاکہ وہ تمام ماہر جادو گروں کو اکٹھا کر لیں جو جادو کا پورا علم رکھتے ہیں کیونکہ جادوگر کا مقابلہ اسی قسم کے جادو ہی سے کیا جاتا ہے۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر جاہل، گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرعون کی جعل سازیوں کا بطلان واضح کیا جو یہ کہتا تھا کہ یہ سب موسیٰ (u) کی شعبدہ بازی ہے۔ اس نے انھیں پابند کیا کہ وہ ماہر جادو گروں کو جمع کریں تاکہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے مجلس منعقد ہو، حق باطل پر غالب آئے اور اہل علم اور شعبدہ باز موسیٰu کی دعوت کی صحت کا اقرار کریں نیز یہ اعتراف کریں کہ موسیٰu کا معجزہ جادو نہیں ۔
[40-38] فرعون نے ان کی رائے پرعمل کرتے ہوئے تمام شہروں میں ہر کارے دوڑا دیے تاکہ وہ جادو گروں کو اکٹھا کریں اور اس نے اس معاملے میں پوری جدوجہد کی۔ ﴿ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِـمِيۡقَاتِ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴾ ’’تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع کرلیے گئے۔‘‘ یہ دن موسیٰu نے مقابلے کے لیے مقرر کر دیا، یعنی ان کے جشن کا دن اس دن وہ اپنے کاموں سے فارغ ہوتے تھے۔ ﴿ وَّقِيۡلَ لِلنَّاسِ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ﴾ ’’اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہو کر جانا چاہیے۔‘‘ یعنی اس مقررہ دن، لوگوں کے جمع ہونے کے لیے عام منادی کرائی گئی۔ ﴿ لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہو جائیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے لوگوں سے کہا کہ سب اکٹھے ہو جاؤ تاکہ موسیٰu پر جادو گروں کی فتح کا نظارہ کر سکو۔ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں ہم ان کی تعظیم اور پیروی کریں اور علم سحر کا اعتراف کریں ۔ اگر وہ حق کے خواہاں ہوتے تو کہتے کہ ہم ان میں سے اس شخص کی پیروی کریں ، جو حق پر ہو۔ نیز حق و صواب کا اعتراف کریں ، اس لیے اس مقابلے نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا، البتہ ان کے خلاف حجت قائم ہو گئی۔
[42,41]﴿ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ ﴾ ’’پس جب جادوگر آ گئے۔‘‘ یعنی جب جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ﴿ اَىِٕنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب رہے۔‘‘ ﴿ قَالَ نَعَمۡ ﴾ ’’کہا ضرور‘‘ تم کو اجرت اور انعام ملے گا ﴿وَاِنَّـكُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور اس وقت تم مقربین میں شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘ فرعون نے ان سے انعام اور مقرب بنانے کا وعدہ کر لیا تاکہ ان کے نشاط میں اضافہ ہو اور وہ پوری طاقت کے ساتھ موسیٰu کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔
[45-43] جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰu اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ١ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ﴾(طٰہٰ:20؍61)’’تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔‘‘ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔﴿۠ قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴾ ’’تو موسیٰ(u) نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔‘‘ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں ، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ﴾ ’’تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔‘‘ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمۡ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾مقسم علیہ ہے۔﴿ فَاَلۡقٰى مُوۡسٰؔى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ﴾ ’’پس موسیٰ (u) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔‘‘ اور موسیٰu کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
[48-46] جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰu کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ﴾ ’’پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔‘‘ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ ’’کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون (i) کا رب ہے۔‘‘ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
[51-49] مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں ، اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾ ’’بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔‘‘ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰu سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰu کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔‘‘ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔‘‘ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَيۡرَ﴾ ’’کچھ نقصان نہیں ۔‘‘ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَۚ اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ ﴾ ’’بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔‘‘ ﴿ اَنۡ كُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
[52] اس کے باوجود کہ موسیٰu فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰu سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰu ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کی طرف وحی کی: ﴿ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِيۡۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ مُّتَّبـَعُوۡنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰu کے ساتھ نکل گئے ہیں ۔
[56-53]﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ ﴾ ’’تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے‘‘ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ﴾ ’’بے شک یہ لوگ‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَ﴾ ’’مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں ۔‘‘ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں ۔
[59-57] فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ﴾’’پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔﴿ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ ﴾ ’’اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا‘‘ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں ۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا‘‘ یعنی ان باغات، چشموں ، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’بنی اسرائیل کو‘‘ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
[62-60]﴿ فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ ﴾ یعنی طلوع آفتاب کے وقت، فرعون کے لشکروں نے موسیٰu کی قوم کا پیچھا کیا اور انتہائی غصے اور غیظ و غضب میں ان کے تعاقب میں گئے۔﴿ فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ ﴾ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ﴿ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu کی قوم نے غمزدہ ہو کر موسیٰu کے پاس شکایت کی ﴿ اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾ ’’ہم تو پکڑے گئے۔‘‘ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان کو ثابت قدم رہنے کی تلقین اور اپنے رب کے سچے وعدے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ كَلَّا ﴾ ’’ہرگز ایسا نہیں ہو گا‘‘ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ تم پکڑ لیے جاؤ گے۔ ﴿ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری راہنمائی کرے گا۔‘‘ یعنی وہ میری اور تمھاری نجات کی راہ دکھاے گا۔
[68-63]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ﴾ ’’پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔‘‘ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانۡفَلَقَ ﴾ ’’پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔‘‘ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’اور ہر ایک (یوں ) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔‘‘ اور موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ﴾ ’’اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔‘‘ یعنی اسی جگہ ﴿ الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’دوسروں کو‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰu اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔‘‘ یعنی موسیٰu اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں موسیٰu کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں ، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔‘‘ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی۔
26:69وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ إِبۡرَٰهِيمَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:70إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦ مَا تَعۡبُدُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:71قَالُواْ نَعۡبُدُ أَصۡنَامٗا فَنَظَلُّ لَهَا عَٰكِفِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:72قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُونَكُمۡ إِذۡ تَدۡعُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:73أَوۡ يَنفَعُونَكُمۡ أَوۡ يَضُرُّونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:74قَالُواْ بَلۡ وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:75قَالَ أَفَرَءَيۡتُم مَّا كُنتُمۡ تَعۡبُدُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:76أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُمُ ٱلۡأَقۡدَمُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:77فَإِنَّهُمۡ عَدُوّٞ لِّيٓ إِلَّا رَبَّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:78ٱلَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهۡدِينِ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:79وَٱلَّذِي هُوَ يُطۡعِمُنِي وَيَسۡقِينِ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:80وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِينِ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:81وَٱلَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحۡيِينِ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:82وَٱلَّذِيٓ أَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لِي خَطِيٓـَٔتِي يَوۡمَ ٱلدِّينِ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:83رَبِّ هَبۡ لِي حُكۡمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّـٰلِحِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:84وَٱجۡعَل لِّي لِسَانَ صِدۡقٖ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:85وَٱجۡعَلۡنِي مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيمِ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:86وَٱغۡفِرۡ لِأَبِيٓ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:87وَلَا تُخۡزِنِي يَوۡمَ يُبۡعَثُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:88يَوۡمَ لَا يَنفَعُ مَالٞ وَلَا بَنُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:89إِلَّا مَنۡ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلۡبٖ سَلِيمٖ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:90وَأُزۡلِفَتِ ٱلۡجَنَّةُ لِلۡمُتَّقِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:91وَبُرِّزَتِ ٱلۡجَحِيمُ لِلۡغَاوِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:92وَقِيلَ لَهُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡبُدُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:93مِن دُونِ ٱللَّهِ هَلۡ يَنصُرُونَكُمۡ أَوۡ يَنتَصِرُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:94فَكُبۡكِبُواْ فِيهَا هُمۡ وَٱلۡغَاوُۥنَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:95وَجُنُودُ إِبۡلِيسَ أَجۡمَعُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:96قَالُواْ وَهُمۡ فِيهَا يَخۡتَصِمُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:97تَٱللَّهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:98إِذۡ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:99وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلَّا ٱلۡمُجۡرِمُونَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:100فَمَا لَنَا مِن شَٰفِعِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:101اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:102فَلَوۡ أَنَّ لَنَا كَرَّةٗ فَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:103إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:104وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
اور تلاوت کیجیے آپ ان پر خبر ابراہیم کی (69) جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کس کی تم عبادت کرتے ہو؟ (70) انھوں نے کہا، ہم عبادت کرتے ہیں بتوں کی اور ہمیشہ رہیں گے ہم تو ان کی تعظیم کرنے والے (71) کہا ابراہیم نے ، کیا وہ سنتے ہیں تمھاری بات جب تم پکارتے ہو (انھیں )؟ (72)یا وہ نفع دیتے ہیں تمھیں یا وہ نقصان دیتے ہیں تمھیں ؟(73) انھوں نے کہا (نہیں) بلکہ پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو، اسی طرح کرتے تھے وہ (74) ابراہیم نے کہا، کیا پس دیکھا تم نے جن کی ہو تم عبادت کرتے؟(75) تم اور باپ دادا تمھارے پہلے (76) پس بلاشبہ وہ دشمن ہیں میرے، سوائے رب العالمین کے (77)وہ جس نے پیدا کیا مجھے، پس وہی رہنمائی کرتا ہے میری (78) اور وہ کہ وہی کھلاتا ہے مجھے اور پلاتا ہے مجھے (79) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے مجھے (80) اور وہ جو مارے گا مجھے ، پھر زندہ کرے گا مجھے (81) او وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں یہ کہ وہ بخش دے گا واسطے میرے میری خطائیں دن جزا کے (82) اے میرے رب! تو عطا کر مجھے حکمت اور ملا دے مجھے ساتھ صالح لوگوں کے (83) اور تو بنا دے میرے لیے زبان سچائی کی (ذکر خیر) پچھلے لوگوں میں (84)اور بنا مجھے وارثوں میں سے جنت کا نعمتوں والی (85) اور بخش دے میرے باپ کو، بلاشبہ وہ تھا گمراہوں میں سے (86) اور نہ رسوا کرنا تو مجھے اس دن کہ وہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے (87) جس دن نہیں نفع دے گا مال اور نہ بیٹے (اولاد)(88) مگر اس کو جو آیا (حاضرہوا) اللہ کے پاس ساتھ قلب سلیم کے (89) اور قریب کی جائے گی جنت واسطے پرہیز گاروں کے (90)اور ظاہر کی جائے گی دوزخ واسطے گمراہوں کے (91) اور کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کی تھے تم عبادت کرتے(92) سوائے اللہ کے ؟ کیا وہ تمھاری مددکر سکتے ہیں ؟ یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ (93)پس وہ اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے اس میں ، وہ اور (سب) گمراہ (لوگ)(94) اور لشکر ابلیس کے سب کے سب (95) وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں جھگڑتے ہوں گے (96) اللہ کی قسم! بلاشبہ ہم تھے البتہ گمراہی ظاہر میں (97)جبکہ ہم برابر ٹھہراتے تھے تمھیں ساتھ رب العالمین کے (98) اور نہیں گمراہ کیا تھا ہمیں مگر (ان بڑے) مجرموں ہی نے (99) پس نہیں ہے ہمارے لیے کوئی بھی سفارشی (100) اور نہ کوئی دوست مخلص (101) پس کاش کہ! بے شک ہو ہمارے لیے ایک بار لوٹنا (دنیا میں ) تو ہوں ہم مومنوں میں سے(102) بلاشبہ اس (قصۂ ابراہیم) میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں اکثر ان کے ایمان لانے والے (103) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (104)
[71-69] فرمایا: اے محمد!(ﷺ)آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیمu کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں ۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا‘‘ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا﴾ ’’ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کی پوجا پر قائم ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں ، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں ۔
[74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُوۡنَكُمۡ۠ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوۡ يَنۡفَعُوۡنَكُمۡ۠ اَوۡ يَضُرُّوۡنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا:﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلۡ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔
[82-75] ابراہیمu نے فرمایا اس معاملے میں تم اور تمھارے آباء واجداد سب ایک فریق ہو اور تم سب سے ہم ایک ہی بات کہتے ہیں : ﴿ اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ۰۰ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمُ الۡاَقۡدَمُوۡنَ ۰۰فَاِنَّهُمۡ عَدُوٌّ لِّيۡۤ﴾ ’’تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمھارے اگلے باپ دادا بھی۔ وہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ پس وہ مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچائیں ، میرے خلاف کوئی چال چل دیکھیں وہ ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ﴿ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۰۰ الَّذِيۡ خَلَقَنِيۡ فَهُوَ يَهۡدِيۡنِ ﴾ ’’لیکن اللہ رب العالمین، جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی تخلیق کی نعمت میں وہی متفرد ہے اور دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف راہنمائی سے بھی صرف وہی نوازتا ہے۔پھر ان میں سے بعض ضروریات کا خاص طورپر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡ هُوَ يُطۡعِمُنِيۡ وَيَسۡقِيۡنِۙ ۰۰ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ۪ۙ ۰۰ وَالَّذِيۡ يُمِيۡتُنِيۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡنِۙ ۰۰ وَالَّذِيۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ يَّغۡفِرَ لِيۡ خَطِيۡٓــَٔتِيۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی ہے جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز قیامت میرے گناہ بخش دے گا۔‘‘ یعنی ان تمام افعال کو اکیلا وہی سرانجام دیتا ہے اس لیے واجب ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور اطاعت کی جائے اور ان بتوں کی عبادت چھوڑ دی جائے جو تخلیق پر قادر ہیں نہ ہدایت پر، جو کسی کو بیمار کر سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ، جو کھلا سکتے ہیں نہ پلا سکتے ہیں ، جو مار سکتے ہیں نہ زندہ کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو دور کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ وہ گناہوں کو بخش سکتے ہیں ۔یہ ایسی قطعی دلیل اور روشن حجت ہے جس کا تم اور تمھارے آباء و اجداد مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس یہ چیز گمراہی میں تمھارے اشتراک اور رشد وہدایت کے راستے کو چھوڑ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ … الآيات﴾(الانعام:6؍80) ’’اور ابراہیم سے اس کی قوم نے جھگڑا کیا، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت دی…‘‘
[84,83] پھر ابراہیمu نے ان الفاظ میں اپنے رب سے دعا کی: ﴿ رَبِّ هَبۡ لِيۡ حُكۡمًا﴾ ’’اے میرے رب! مجھے علم و دانش عطا فرما۔‘‘ یعنی اے میرے رب مجھے علم کثیر عطا کر جس کے ذریعے سے میں تیرے احکام اور حلال و حرام کی معرفت حاصل کروں ، پھر اس علم کے مطابق مخلوق کے درمیان فیصلے کروں ۔ ﴿وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما۔‘‘ یعنی میرے بھائی انبیاء و مرسلین میں ۔ ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ ’’اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔‘‘ یعنی مجھے سچی مدح و ثنا عطا کر جو ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو علم و حکمت سے سرفراز فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء و مرسلین کے گروہ میں شامل کیا، آپ کو اپنا محبوب و مقبول بندہ بنایا۔ ہر آن تمام اقوام و ملل میں آپ کو عظمت اور مدح و ثنا عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ فِي الۡاٰخِرِيۡنَۖ۰۰سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ۰۰كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الصافات: 37؍108۔111) ’’اور ہم نے آپ کی مدح و توصیف بعد میں آنے والی نسلوں میں چھوڑی، سلام ہو ابراہیم پر، ہم اپنے نیک بندوں کوایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں تھا۔‘‘
[85]﴿ وَاجۡعَلۡنِيۡ مِنۡ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں کر۔‘‘ یعنی اہل جنت میں سے، جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور نعمتوں بھری جنت میں بہت بلند قدرومنزلت عطا کی۔
[86]﴿ وَاغۡفِرۡ لِاَبِيۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور میرے باپ کو بخش دے بے شک وہ گمراہوں میں سے تھا۔‘‘ آپ کی یہ دعا اس وعدے کے سبب سے تھی جو آپ نے اپنے باپ سے کیا تھا: ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم:19؍47) ’’میں اپنے رب سے آپ کی بخشش کے لیے دعا کروں گا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿ وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت اس وعدے کی بنا پر تھی جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔ ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘
[89-87]﴿ وَلَا تُخۡزِنِيۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ یعنی بعض لغزشوں پر زجرو توبیخ، عقاب اور فضیحت کے ذریعے سے قیامت کے روز مجھے رسوا نہ کرنا۔ بلکہ اس روز مجھے سعادت مند بنانا جس روز ﴿ يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾ ’’مال کچھ فائدہ دے گا نہ بیٹے، ہاں جو شخص اللہ کے ہاں پاک دل لے کر آئے گا۔‘‘ پس یہی وہ چیز ہے جو تیرے ہاں اس کے لیے فائدہ مند ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے بندہ عذاب سے نجات پا سکے گا اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہرے گا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک، شک وشبہ، شرکی محبت اور بدعت و معاصی پر اصرار سے پاک اور محفوظ ہو۔ متذکرہ صدر امور سے قلب کا سلامت اور محفوظ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ان کی اضداد یعنی اخلاص، علم، یقین، خیر کی محبت اور قلب کے اس سے مزین ہونے جیسی صفات سے متصف ہو، نیز اس کا ارادہ اور محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع اور اس کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی شریعت کے تابع ہوں ۔
[95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزۡلِفَتِ الۡجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلۡغٰوِيۡنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِيۡلَ لَهُمۡ اَيۡنَمَا كُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَۙ ۰۰مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ﴾’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔﴿ فَكُبۡكِبُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمۡ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالۡغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوۡدُ اِبۡلِيۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
[104-96]﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا يَخۡتَصِمُوۡنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنۡ كُنَّا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍۙ ۰۰ اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے:﴿ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنۡ شَافِعِيۡنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔وہ کہیں گے:﴿ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘
26:105كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوحٍ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:106إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:107إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:108فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:109وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:110فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:111۞قَالُوٓاْ أَنُؤۡمِنُ لَكَ وَٱتَّبَعَكَ ٱلۡأَرۡذَلُونَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:112قَالَ وَمَا عِلۡمِي بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:113إِنۡ حِسَابُهُمۡ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّيۖ لَوۡ تَشۡعُرُونَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:114وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:115إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٞ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:116قَالُواْ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ يَٰنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمَرۡجُومِينَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:117قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوۡمِي كَذَّبُونِ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:118فَٱفۡتَحۡ بَيۡنِي وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحٗا وَنَجِّنِي وَمَن مَّعِيَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:119فَأَنجَيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:120ثُمَّ أَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ ٱلۡبَاقِينَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:121إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:122وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
جھٹلایا قوم نوح نے رسولوں کو (105)جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟(106) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (107) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (108) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی صلہ، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (109) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو تم میری (110) انھوں نے کہا، کیا ایمان لائیں ہم تجھ پر حالانکہ پیروی کی ہے تیری رذیل لوگوں نے؟ (111)نوح نے کہااور کیاعلم ہے مجھے اس کا، جو کچھ کہ تھے وہ عمل کرتے؟ (112)نہیں ہے حساب ان کا مگر ذمے میرے رب کے، کاش کہ! تم شعور رکھتے(113)اور نہیں ہوں میں دور کرنے والا ایمان والوں کو (114)نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا کھلم کھلا (115) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ رکا تو اس سے اے نوح! تو البتہ ضرور ہو جائے گا تو رجم کیے ہوؤں میں سے (116)نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میری قوم نے جھٹلایا ہے مجھے (117) پس فیصلہ کر تو میرے درمیان اور ان کے درمیان (قطعی) فیصلہ اور نجات دے تو مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان میں سے (118) پس نجات دی ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے اس کشتی میں جو بھری ہوئی تھی (119) پھر غرق کر دیا ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو (120) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (121) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(122)
[110-105] اللہ تعالیٰ نے نوحu کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوحu کو جھٹلایا، نیز نوحu نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوحu کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ِ۟ الۡمُرۡسَلِيۡنَ۠ ﴾ ’’نوح(u)کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔‘‘ گویا حضرت نوحu کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ۔﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ نُوۡحٌ ﴾ ’’ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں ۔ نوحu نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرامu کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے‘‘ کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾’’بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ حضرت نوحu کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں ، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں ۔﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا‘‘ جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔‘‘ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں ۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوحu ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘ فرمایا:﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾(العنکبوت:29؍14) ’’پس وہ (نوحu) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔‘‘ نوحu نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِيۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِيۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴾(نوح:71؍5،6) ’’اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔‘‘
[111] انھوں نے نوحu کی دعوت کو ٹھکراتے اور ایسی چیز کی بنا پر آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جس کی بنا پر مخالفت کرنا درست نہ تھا: ﴿اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ یعنی ہم تیری اتباع کیسے کر سکتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کرنے والے معاشرے میں سبب سے گھٹیا، رذیل اور گرے پڑے لوگ ہیں ۔ ان کی ان باتوں سے ان کا حق سے تکبر کرنا اور حقائق سے جاہل رہنا پہچانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاش حق ہوتا اور انھیں آپ کی دعوت میں کوئی شک و شبہ ہوتا تو کہتے کہ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں اس تک پہنچانے والے طرق کے ذریعے سے ہمیں اس کے صحیح ہونے کے بارے میں وضاحت فرما دیجیے! اگر وہ غور کرتے جیسا کہ غور کرنے کا حق ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ نوحu کے متبعین ہی بہترین لوگ اور انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں ، وہ بہترین عقل اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں ۔ سب سے رذیل وہ ہے جس سے خصوصیات عقل سلب کر لی گئی ہوں اور وہ پتھروں کی عبادت کو مستحسن سمجھتا ہو اور وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور حاجتوں میں ان کو پکارنے پر راضی ہو اور اس نے کامل ترین انسانوں یعنی انبیاء ورسل کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔جب دو جھگڑنے والوں میں سے ایک کلام باطل کے ساتھ بات کر رہا ہو تو محض اس کے کلام ہی سے اس کے فساد کا پتہ چل جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس کے جھگڑے کے دعویٰ کی صحت پر غور کیا جائے۔ جب ہم حضرت نوحu کی قوم کے بارے میں سنتے ہیں کہ انھوں نے نوحu کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا:﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾ تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور خطا کار ہیں اگرچہ ہم حضرت نوحu کے معجزات اور ان کی عظیم دعوت کا مشاہدہ نہ بھی کریں جو کہ آپ کی سچائی پر پختہ یقین اور جس چیز کو لے کر آپ اٹھے ہیں اس کے صحیح ہونے کا فائدہ دیتے ہیں کیونکہ ان منکرین نے حضرت نوحu کی دعوت کو رد کرنے کی بنیاد ایسی چیز پر رکھی ہے جس کا فساد سب پر واضح ہے۔
[115-112] چنانچہ نوحu نے فرمایا: ﴿ وَمَا عِلۡمِيۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۰۰ اِنۡ حِسَابُهُمۡ اِلَّا عَلٰى رَبِّيۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴾’’اور مجھے کیا خبر وہ پہلے کیا کرتے رہے ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تم شعور رکھتے ہو۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور میرا فرض اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے، تم ان کا معاملہ چھوڑو۔ اگر میری دعوت حق ہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ ان کا برا کرے… تکبر اور جبر سے نوحu سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے دھتکار دیں تب وہ ایمان لائیں گے تو نوحu نے جواب دیا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ کیونکہ یہ اہانت اور دھتکارے جانے کے مستحق نہیں بلکہ یہ تو قولی و فعلی اکرام و تکریم کے مستحق ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ﴾(الانعام:6؍54)’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔‘‘﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں صرف ڈرانے والا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دینے والا ہوں اور میں بندوں کی خیرخواہی کی کوشش میں لگا رہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ، معاملے کا تمام اختیار صرف، اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔
[116] نوحu دن رات، کھلے چھپے، انھیں دعوت دیتے رہے مگر وہ دور ہی دور بھاگتے رہے اور کہنے لگے:﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰنُوۡحُ ﴾ اے نوح! اگر تو ہمیں اللہ کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَ ﴾ ہم تجھے پتھر مارمار کر بری طرح قتل کریں گے، جس طرح کتے کو قتل کیا جاتا ہے… ان کا برا ہو… انھوں نے کتنا برا تقابل کیا ہے۔ وہ ایک خیرخواہ، امین شخص کا تقابل، جو ان کے لیے خود ان سے زیادہ شفیق ہے، بدترین تقابل کررہے ہیں ۔
[118,117] جب ان کے جرم کی انتہا ہو گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا تو ان کے نبی نے ان کے لیے بدعا کی جس نے ان کو گھیر لیا، چنانچہ نوحu نے عرض کیا:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب کسی کافر کو زمین پر بسانہ رہنے دے۔‘‘ اور یہاں فرمایا: ﴿رَبِّ اِنَّ قَوۡمِيۡ كَذَّبُوۡنِۚۖ۰۰ فَافۡتَحۡ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا ﴾ ’’میرے رب! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا پس تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔‘‘ یعنی ہم میں سے جو زیادتی کا مرتکب ہے اسے ہلاک کر دے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی کے مرتکب ہیں ، اس لیے عرض کیا ﴿ وَّنَجِّنِيۡ وَمَنۡ مَّعِيَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مجھے اور ان مومنین کو جو میرے ساتھ ہیں ، نجات دے۔‘‘
[122-119]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے بچا لیا۔‘‘ ﴿ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴾ جو مخلوق اور حیوانات سے بھری ہوئی تھی۔ ﴿ ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ الۡبٰقِيۡنَ﴾ ’’پھر اس کے بعد غرق کر دیا۔‘‘ یعنی نوحu اور ان اہل ایمان کے بعد جو آپ کے ساتھ تھے ﴿ الۡبٰقِيۡنَ ﴾ باقی تمام قوم کو غرق کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک اس میں ۔‘‘ یعنی نوحu اور ان کے متبعین کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت میں ﴿ لَاٰيَةً﴾ ’’ایک نشانی ہے‘‘ جو ہمارے رسولوں کی صداقت اور ان کی دعوت کے حق ہونے اور ان کی تکذیب کرنے والے دشمنوں کے موقف کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جو اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر اپنے دشمنوں پر غالب ہے اور اس نے ان کو طوفان کے ذریعے سے غرق کر دیا۔ ﴿الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مہربان ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اولیا پر بہت مہربان ہے اس نے حضرت نوحu اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو نجات دی۔
26:123كَذَّبَتۡ عَادٌ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:124إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:125إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:126فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:127وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:128أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:129وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:130وَإِذَا بَطَشۡتُم بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِينَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:131فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:132وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِيٓ أَمَدَّكُم بِمَا تَعۡلَمُونَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:133أَمَدَّكُم بِأَنۡعَٰمٖ وَبَنِينَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:134{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:135إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:136قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَوَعَظۡتَ أَمۡ لَمۡ تَكُن مِّنَ ٱلۡوَٰعِظِينَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:137إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا خُلُقُ ٱلۡأَوَّلِينَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:138وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:139فَكَذَّبُوهُ فَأَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:140وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
{كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ (123) إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ (124) إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (125) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (126) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (127) أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128) وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129) وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ (130) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (131) وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ (132) أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ (133) وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (134) إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (135) قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ (136) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ (137) وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ (138) فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (139) وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ (140).
جھٹلایا (قوم) عاد نے رسولوں کو (123) جب کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (124) بے شک میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (125) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (126) اور نہیں مانگتا ہے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (127)کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (عمارت) کھیلتے ہوئے؟ (128)اور بناتے (تعمیر کرتے) ہو تم (رہائشی) مضبوط محل، شاید کہ تم ہمیشہ (یہاں ہی) رہو گے (129)اور جب پکڑتے ہو تم تو پکڑتے ہو سرکشوں کی طرح (130) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (131) اور ڈرو تم اس سے جس نے بڑھایا تمھیں ساتھ ان چیزوں کے جو تم جانتے ہو (132) اس نے بڑھایا تمھیں ساتھ مویشیوں اور بیٹوں کے (133)اور باغات کے اور چشموں کے (134) بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک بڑے دن کے (135) انھوں نے کہا، برابر ہے ہم پر خواہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں سے (136) نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی (137)اورنہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (138) پس جھٹلایا انھوں نے اسے تو ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بے شک اس میں البتہ (عظیم)نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (139) اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (140)
[127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوۡدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔
[135-128]﴿اَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ﴾ ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔‘‘ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰيَةً ﴾ ’’علامت‘‘ یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعۡبَثُوۡنَ ﴾’’کھیل کود کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ۔﴿ وَتَتَّؔخِذُوۡنَ مَصَانِعَ ﴾ ’’اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔‘‘ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴾ ’’شاید تم ہمیشہ رہو گے؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں ۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ ﴾ ’’اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔‘‘ ﴿بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔‘‘ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے:﴿ مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٓم السجدۃ:41؍15) ’’کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟‘‘ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس تم اللہ سے ڈرو۔‘‘ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’اور میری اطاعت کرو۔‘‘ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں ۔ ﴿وَاتَّقُوا الَّذِيۡۤ اَمَدَّكُمۡ ﴾ ’’اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔‘‘ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمۡ بِاَنۡعَامٍ ﴾ ’’اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور بیٹے عطا کیے۔‘‘ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا:﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
[138-136] انھوں نے حق کے ساتھ عناد کامظاہرہ اور اپنے نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَ ﴾ ’’خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی سب برابر ہے۔ یہ سرکشی کی انتہاء ہے کہ جب قومیں اس حالت کو پہنچ جاتی ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مواعظ و تذکیر، جن کے سامنے پہاڑوں کی ٹھوس چٹانیں بھی پگھل جاتی ہیں اور عقل مندوں کے دل لخت لخت ہو جاتے ہیں ، کا وجود اور عدم وجود برابر ہوں تو یہ ان کے ظلم اور بدبختی کی آخری حد ہے۔ تب ان کی ہدایت کی امید منقطع ہو جاتی ہے۔اس لیے انھوں نے کہا:﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہ تو اگلوں ہی کے طرق ہیں ۔‘‘ یعنی یہ احوال اور یہ تمام نعمتیں وغیرہ، پہلے لوگوں کے ساتھ بھی ایسے ہوتا آیا ہے۔ وہ کبھی مالدار ہوتے تھے اور کبھی محتاج۔ یہ زمانے کے حالات ہیں ۔ یہ سختیاں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ اس کے بندوں کی آزمائش ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔‘‘ یہ گویا ان کی طرف سے قیامت کا انکار یا اپنے نبی کو اس کی رائے سے ہٹانے کی کوشش یا اس کے ساتھ استہزا ہے اور اگر ہم فرض کرلیں کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو جس طرح ہمیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا گیا ہے اسی طرح ہمیں دوسری زندگی میں بھی نعمتیں عطا ہوتی رہیں گی۔
[140,139]﴿فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی تکذیب کی۔‘‘ یعنی تکذیب ان کی فطرت اور عادت بن گئی تھی اور اس سے کوئی انھیں باز نہیں رکھ سکتا۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿ بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ۰۰سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقہ:69؍6،7) ’’اور عاد کو نہایت تیز آندھی نے ہلاک کر دیا اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس آندھی کو ان پر چلائے رکھا، پس تو لوگوں کو اس میں اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھے گا جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے نبی ہودu، ان کی دعوت کی صداقت اور ان کی قوم کے شرک اور سرکشی کے بطلان پر دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے جو ایمان کا تقاضا کرتی ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور تمھارا رب تو غالب ہے۔‘‘ جس نے اپنی قدرت کے ذریعے سے حضرت ہودu کی قوم کو، ان کے طاقتور اور زبردست ہونے کے باوجود، ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے نبی ہودu پر بہت رحم کرنے والا تھا کیونکہ اس نے حضرت ہودu اور ان کے ساتھی اہل ایمان کو کفار سے نجات بخشی۔
26:141كَذَّبَتۡ ثَمُودُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:142إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ صَٰلِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:143إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:144فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:145وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:146أَتُتۡرَكُونَ فِي مَا هَٰهُنَآ ءَامِنِينَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:147جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:148وَزُرُوعٖ وَنَخۡلٖ طَلۡعُهَا هَضِيمٞ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:149وَتَنۡحِتُونَ مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتٗا فَٰرِهِينَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:150فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:151وَلَا تُطِيعُوٓاْ أَمۡرَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:152ٱلَّذِينَ يُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُونَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:153قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:154مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا فَأۡتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:155قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٞ لَّهَا شِرۡبٞ وَلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:156وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:157فَعَقَرُوهَا فَأَصۡبَحُواْ نَٰدِمِينَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:158فَأَخَذَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:159وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے رسولوں کو (141) جب کہا ان سے ان کے بھائی صالح نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (142) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امانت دار (143) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (144) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (145) کیا تم چھوڑ دیے جاؤ گے ان چیزوں میں جو یہاں ہیں امن سے؟ (146)(یعنی ) باغات اور چشموں میں ؟ (147) اورکھیتوں اورکھجوروں میں کہ شگوفے ان کے نرم و نازک (اور ملائم) ہیں ؟ (148) اور تراشتے ہو تم پہاڑوں سے گھر، اتراتے ہوئے (149) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (150) اور نہ اطاعت کرو تم حد سے بڑھ جانے والوں کی (151) جو فساد کرتے ہیں زمین میں اور نہیں وہ اصلاح کرتے (152) انھوں نے کہا، یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (153) نہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی، پس لے آ تو کوئی نشانی (معجزہ) اگر ہے تو سچوں میں سے (154) صالح نے کہا، یہ اونٹنی (معجزہ)ہے، اس کے لیے پانی پینے کی باری ہے اور تمھارے لیے پانی پینے کی باری ہے ایک دن مقرر میں (155) اور نہ ہاتھ لگانا اسے برائی سے، پس آپکڑے گا تمھیں عذاب ایک بڑے دن کا (156)پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اس کی ، پھر ہو گئے وہ سخت نادم (157) پس آپکڑا ان کو عذاب نے بے شک اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہےاور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (158) اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ وہ ہے،نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (159)
[144-141]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ ﴾ ’’قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔‘‘ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے ﴿ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ ’’پیغمبروں کو۔‘‘ انھوں نے صالحu کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت تھی، اس لیے حضرت صالحu کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ اَخُوۡهُمۡ صٰلِحٌ ﴾ ’’جب ان کے بھائی صالحu نے، (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا: ﴿ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے؟ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ ﴾ ’’بے شک میں تمھارے رب کی طرف سے رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے تمھاری طرف بھیجا ہے پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرو اور فروتنی اور اطاعت کے ساتھ اس کا استقبال کرو۔ ﴿ اَمِيۡنٌ﴾ تم میری امانت و دیانت کو خوب جانتے ہیں اور یہ چیز اس امر کی متقاضی ہے کہ تم مجھ پر اور میری دعوت پر ایمان لاؤ۔ ﴿وَمَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’اور میں اس کا تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تمھاری اتباع سے صرف اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم ہمارا مال ہتھیانا چاہتے ہو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میرا اجر تو رب العالمین کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اس کا اجروثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہوں ۔
[152-145]﴿ اَتُتۡرَؔكُوۡنَ فِيۡ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِيۡنَۙ ۰۰ فِيۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰ وَّزُرُوۡعٍ وَّنَخۡلٍ طَلۡعُهَا هَضِيۡمٌ﴾ ’’کیا جو چیزیں ہیں ان میں تم بے خوف چھوڑ دیے جاؤ گے یعنی باغات اور چشموں میں اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔‘‘ یعنی پھل سے لدے ہوئے یعنی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھیں ان نعمتوں اور آسائشوں میں بے کار چھوڑ دیا جائے گا تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ جیسے چوپائے فائدہ اٹھاتے ہیں تمھیں کوئی حکم دیا جائے گا نہ کسی چیز سے روکا جائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی میں مدد طلب کرو گے۔ ﴿ وَتَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا فٰرِهِيۡنَ﴾ یعنی تمھاری مہارت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم ٹھوس سخت پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بناتے ہو۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ ۰۰ وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘ یعنی جن کا وصف اور جن کی بیماری گناہوں کے ارتکاب اور لوگوں کو گناہوں کی طرف دعوت کے ذریعے سے زمین میں اس قدر فساد پھیلانا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے کیونکہ یہ خالص شر ہے۔ حضرت صالحu کی قوم میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے نبی کی مخالفت کے لیے ہر وقت مستعد اور کمربستہ رہتے تھے اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دعوت توحید کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ صالحu نے اپنی قوم کو ان مفسدوں کے دھوکے میں آنے سے روکا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾(النمل:27؍48) ’’اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[154,153] اس نہی اور وعظ و نصیحت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا، چنانچہ انھوں نے حضرت صالحu سے کہا:﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠ ﴾ یعنی تجھ پر تو جادو کر دیا گیا ہے اس لیے تو ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے اور ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس کا کوئی معنی نہیں ۔ ﴿ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تو ہماری ہی طرح کا آدمی ہے۔‘‘ تب وہ کون سی فضیلت ہے جس کے ذریعے سے تجھے ہم پر فوقیت حاصل ہے، یہاں تک کہ تو ہمیں اپنی اتباع کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿فَاۡتِ بِاٰيَةٍ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر۔‘‘ حالانکہ صالحu کی مجرد حالت کا اعتبار نیز آپ کی دعوت کا اعتبار ہی اس چیز کی صحت اور صداقت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے مگر انھوں نے اپنی بدبختی کی بنا پر معجزات کا مطالبہ کیا۔ غالب حالات میں ان معجزات کا مطالبہ کرنے والے فلاح نہیں پاتے کیونکہ ان کا مطالبہ طلب رشد و ہدایت پر نہیں بلکہ تعنت پر مبنی ہوتا ہے۔
[156,155] صالحu نے کہا: ﴿ هٰؔذِهٖ نَاقَةٌ ﴾ ’’یہ اونٹنی ہے‘‘ جو ٹھوس اور ملائم پتھر سے نکلی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو اور تم سب اس کا مشاہدہ کر رہے ہو۔ ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ ’’اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمھاری باری ہے۔‘‘ یعنی اس کنویں سے ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور تم اس کا دودھ پیو گے اگلے روز اونٹنی پانی نہیں پیئے گی اور تم کنویں کا پانی پیو گے۔ ﴿ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اس کو کوئی تکلیف پہنچانے کے لیے نہ چھونا۔‘‘ یعنی اسے ہلاک وغیرہ کرنے کی نیت سے چھونا بھی نہیں ﴿ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’ورنہ تم کو سخت دن کا عذاب آ پکڑے گا۔‘‘
[159-157] پس یہ اونٹنی ان کے سامنے برآمد ہوئی اور اسی حال میں ان کے سامنے رہی مگر وہ ایمان نہ لائے اور اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ ﴿ فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ۰۰ فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ پس ان کو عذاب نے آ پکڑا۔‘‘ یہ عذاب ایک چیخ کی صورت میں نازل ہوا جس نے ان سب کو ہلاک کر کے رکھ دیا ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ہمارے رسولوں کی دعوت کی صداقت اور ان کے مخالفین کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے ﴿وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ﴾
26:160كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوطٍ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:161إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:162إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:163فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:164وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:165أَتَأۡتُونَ ٱلذُّكۡرَانَ مِنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:166وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٌ عَادُونَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:167قَالُواْ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ يَٰلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُخۡرَجِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:168قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ ٱلۡقَالِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:169رَبِّ نَجِّنِي وَأَهۡلِي مِمَّا يَعۡمَلُونَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:170فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:171إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:172ثُمَّ دَمَّرۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:173وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلۡمُنذَرِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:174إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:175وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
جھٹلایا قوم لوط نے رسولوں کو (160) جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (161) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین(162) پس ڈرو تم اللہ سےاور اطاعت کرو میری (163)اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (164) کیا آتے ہو تم (جنسی تسکین کے لیے) مردوں کے پاس جہان (والوں ) میں سے؟ (165) اورچھوڑ دیتے ہو تم جنھیں پیدا کیا تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویوں میں سےبلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے (166) انھوں نے کہا، البتہ اگر نہ باز آیا تو اے لوط! تو یقینا ہو جائے گا تو نکالے گئے لوگوں میں سے (167) لوط نے کہا، بلاشبہ میں ہوں تمھارے عمل کو ناپسند کرنے والوں میں سے (168) اے میرے رب! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کے انجام) سے جو وہ کرتے ہیں (169) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سب کو (170) سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ تھی پیچھے رہنے والوں میں سے (171) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (172) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش، پس بری تھی بارش ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے (عذاب سے)(173) بلاشبہ اس میں البتہ عظیم نشانی ہے (قدرت کی) اورنہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (174) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (175)
[167-160] حضرت لوطu نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انھوں نے لوطu کو وہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں ۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوطu انھیں اس گندے کام سے روکتے رہے، یہاں تک کہ ﴿قَالُوۡا ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ حضرت لوطu سے ﴿ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰلُوۡطُ لَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِيۡنَ ﴾ ’’اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو شہر بدر کردیا جائے گا۔‘‘
[175-168] جب لوطu نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّيۡ لِعَمَلِكُمۡ مِّنَ الۡقَالِيۡنَ﴾ ’’میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں ‘‘ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں ۔ حضرت لوطu نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ وَاَهۡلِيۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾’’اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔‘‘ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوطu کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ۰۰ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔‘‘
26:176كَذَّبَ أَصۡحَٰبُ لۡـَٔيۡكَةِ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:177إِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ أَلَا تَتَّقُونَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:178إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:179فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:180وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:181۞أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:182وَزِنُواْ بِٱلۡقِسۡطَاسِ ٱلۡمُسۡتَقِيمِ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:183وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:184وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلۡجِبِلَّةَ ٱلۡأَوَّلِينَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:185قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:186وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:187فَأَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:188قَالَ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:189فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ ٱلظُّلَّةِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٍ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:190إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:191وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
جھٹلایا صحرا نشینوں نے رسولوں کو (176)جب کہا ان سے شعیب نے ، کیا نہیں ڈرتے تم (اللہ سے)؟ (177) بلاشبہ میں ہوں تمھارے لیے رسول امین (178) پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (179) اور نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر (صلہ)، نہیں ہے میرا اجر مگر اوپر پروردگار جہانوں کے (180)پورا بھر کر دو تم ماپ اور نہ ہو تم (دوسروں کو) نقصان دینے والوں میں سے (181) اور تولو تم ساتھ ترازو سیدھی کے (182) اور نہ کم دو تم لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ دوڑو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (183) اور ڈرو تم اس (اللہ کی) ذات سے جس نے پیدا کیاتمھیں اور مخلوق پہلی کو (184) انھوں نے کہا یقینا تو سحر زدہ لوگوں میں سے ہے (185) اورنہیں ہے تو (کچھ اور) مگر بشر ہم جیسا ہی اور بلاشبہ ہم گمان کرتے ہیں تجھے البتہ جھوٹوں میں سے (186) پس گرا دے تو ہم پر ایک ٹکڑا آسمان سے اگر ہے تو سچوں میں سے (187) شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو (188) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا ان کو عذاب نے سائے والے دن کے، بلاشبہ وہ تھا عذاب ایک بڑے دن کا (189) بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے اور نہیں تھے اکثر ان کے ایمان لانے والے (190) اور بلاشبہ آپ کا رب، البتہ وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا (191)
[180-176]﴿اَصۡحٰؔبُ لۡـَٔيۡكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیبu کو جھٹلایا۔ شعیبu بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
[184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوۡفُوا الۡكَيۡلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ وَالۡجِبِلَّةَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[187-185] انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِيۡنَ۠﴾ ’’تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘ اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾’’اور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔‘‘ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں ۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا:﴿ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیبu کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی)سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیبu، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر ’’خطیب الانبیاء‘‘ کہا جاتاہے۔ حضرت شعیبu کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔﴿ فَاَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔‘‘ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تو سچا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال:8؍32) ’’اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں ۔
[188]﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے کہا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تم جو کام کرتے ہو، میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔‘‘ یعنی میرا رب نزول عذاب اور وقوع معجزات کے بارے میں جانتا ہے۔ میں وہ ہستی نہیں جو اپنی طرف سے تمھیں یہ معجزات دکھاؤں یا تم پر کوئی عذاب نازل کروں مجھ پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور تمھاری خیرخواہی کروں ۔ سو میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ معجزات کو میرا رب لے کر آتا ہے جو تمھارے اعمال و احوال سے واقف ہے جو تمھارا حساب لے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[191-189]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ ’’پس انھوں نے اس (شعیب u) کو جھٹلایا۔‘‘ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنا ان کا وصف اور کفر ان کی عادت بن گئی حتی کہ نزول عذاب کے سوا معجزات نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ کوئی حیلہ ان کے کام آیا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ الظُّلَّةِ﴾ ’’پس یوم سائبان کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔‘‘ یعنی ایک بادل ان پر سایہ کناں ہوا اور یہ لوگ اس کے سائے سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ پس اس بادل نے عذاب کے ذریعے سے ان کو جلا ڈالا اور وہ اس کے نیچے بے حس و حرکت پڑے رہ گئے، وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بدبختی اور عذاب کی وادی میں جا نازل ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ﴾’’بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔‘‘ یہ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے کہ دوبارہ عمل کریں اور کسی گھڑی ان سے عذاب منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ اس میں ایک نشانی ہے‘‘ جو حضرت شعیبu کی صداقت، آپ کی دعوت کے صحیح ہونے اور آپ کی قوم نے جو آپ کا رد کیا اس کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ان میں اکثر لوگ آیات و معجزات کا مشاہدہ کر لینے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان میں کوئی پاکیزگی ہے نہ ان کے پاس کوئی بھلائی ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(یوسف:12؍103)’’خواہ آپ کتنی ہی خواہش کیوں نہ کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک تیرا رب غالب ہے‘‘ جو اپنی قدرت کی بنا پر کسی کے ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور تمام مخلوقات پر غالب اور زبردست ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ وہ ذات، رحمت جس کا وصف ہے۔ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اس وقت سے لے کر اس کی انتہا تک، اس میں موجود تمام بھلائیاں ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے اس کے انبیاء ورسل کی تکذیب کی اور یہ اس کی رحمت ہی کے آثار ہیں کہ اس نے اپنے اولیاء اور ان کے متبعین اہل ایمان کو نجات دی۔
26:192وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:193نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:194عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:195بِلِسَانٍ عَرَبِيّٖ مُّبِينٖ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:196وَإِنَّهُۥ لَفِي زُبُرِ ٱلۡأَوَّلِينَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:197أَوَلَمۡ يَكُن لَّهُمۡ ءَايَةً أَن يَعۡلَمَهُۥ عُلَمَـٰٓؤُاْ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:198وَلَوۡ نَزَّلۡنَٰهُ عَلَىٰ بَعۡضِ ٱلۡأَعۡجَمِينَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:199فَقَرَأَهُۥ عَلَيۡهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ مُؤۡمِنِينَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:200كَذَٰلِكَ سَلَكۡنَٰهُ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:201لَا يُؤۡمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:202فَيَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:203فَيَقُولُواْ هَلۡ نَحۡنُ مُنظَرُونَ
اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نازل کیا ہوا ہے رب العالمین کا (192) اترا ہے اس کو لے کر روح الامین (جبرائیل)(193) اوپر آپ کے دل کے تاکہ ہوں آپ ڈرانے والوں میں سے (194) زبان عربی میں جو فصیح ہے (195) اور بلاشبہ وہ (اس کا ذکر موجود) ہے البتہ پہلی کتابوں میں بھی (196) کیا نہیں ہے ان کے لیے ایک نشانی یہ کہ جانتے ہیں اس (قرآن یا رسول) کو علماء بنی اسرائیل کے؟ (197) اور اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پر عجمیوں میں سے (198) پس وہ پڑھتا اس ان پر، (تو بھی) نہ ہوتے وہ اس پر ایمان لانے والے (199) اسی طرح داخل کیا ہے ہم نے اس (تکذیب) کو دلوں میں مجرموں کے (200) نہیں ایمان لائیں گے وہ اس پر حتی کہ دیکھ لیں وہ عذاب نہایت درد ناک (201) پس آجائے گا وہ (عذاب) ان کے پاس اچانک ہی جبکہ وہ نہ شعور رکھتے ہوں گے (202) تو وہ کہیں گے کیا ہم مہلت دیے جائیں گے؟ (203)
[192] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انھوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا … تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفی (ﷺ)اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لیے ہدایت ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‘‘ پس وہ ہستی جس نے اس عظیم کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی کی مربی ہے۔ جس طرح اس نے بندوں کی ان کے جسمانی اور دنیاوی مصالح میں تربیت کی، اسی طرح اس نے ان کے دین و دنیا کے مصالح میں بھی راہنمائی فرما کر ان کی تربیت کی۔ سب سے عظیم چیز جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے وہ اس کتاب کریم قرآن مجید کا نازل فرمانا ہے جو بے انتہا بھلائی اور بے پایاں نیکی پر مشتمل ہے۔ یہ دین و دنیا کے مصالح اور اخلاق فاضلہ کو متضمن ہے جن سے دوسری کتابیں تہی دامن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ میں اس کتاب کی تعظیم اور اس کے مہتم بالشان ہونے پر دلیل ہے نیزاس امر کی دلیل ہے کہ یہ عظیم کتاب کسی اور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس کے نازل کرنے کا مقصد تمھارا فائدہ اور تمھاری ہدایت ہے۔
[195-193]﴿ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُ﴾ ’’اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘ اس سے مراد جبریلu ہیں جو فرشتوں میں سب سے افضل اور سب سے طاقتور ہیں ﴿ الۡاَمِيۡنُ ﴾ ’’وہ امانت دار ہیں ‘‘ وہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ ﴿ عَلٰى قَلۡبِكَ﴾ ’’آپ کے دل پر۔‘‘ یعنی اے محمد (ﷺ)! جبریل اسے لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا ﴿ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾ تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو رشد و ہدایت کی راہ دکھائیں اور ان کو گمراہی کا راستہ اختیار کرنے سے ڈرائیں ۔ ﴿ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’ صاف صاف عربی زبان میں ‘‘ اور عربی زبان سب سے افضل زبان ہے اور اسے ان لوگوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جن کی طرف اسے بھیجا گیا ہے اور ان کو دعوت دینے میں یہی زبان استعمال ہوئی ہے، صاف اور واضح زبان۔ آپ غور کیجیے کہ کیسے یہ تمام فضائل فاخرہ اس عظیم کتاب میں جمع ہو گئے ہیں یہ کتاب سب سے افضل کتاب ہے، اسے سب سے افضل فرشتہ لے کر نازل ہوا، اس ہستی پر نازل ہوئی جو مخلوق میں سب سے افضل ہے اور جسم میں سب سے افضل حصے یعنی آپ کے دل پر نازل کی، سب سے افضل امت پر نازل کی گئی اور سب سے افضل، سب سے فصیح اور سب سے وسیع زبان میں نازل کی گئی اور وہ ہے واضح عربی زبان۔
[196]﴿ وَاِنَّهٗ لَفِيۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اور اس کی خبر پہلی کتابوں میں ہے۔‘‘ یعنی پہلی کتابوں میں اس کی خوشخبری دی گئی ہے اور پہلی کتابوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ چونکہ ان کتابوں نے اس کے بارے میں جو خبر دی تھی یہ اس کے مطابق نازل ہوئی ہے اس لیے یہ ان کی تصدیق ہے۔ بلکہ یہ کتاب حق کے ساتھ آئی ہے اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتی ہے۔
[197]﴿ اَوَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ دلیل نہیں ‘‘ اس کتاب کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ﴿ اَنۡ يَّعۡلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ‘‘ جن پر علم کی انتہا ہے اور وہ سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور انصاف کرنے والے لوگ ہیں ۔ کیونکہ اگر کسی معاملے میں اشتباہ واقع ہو جائے تو باصلاحیت اور اہل درایت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کا قول دوسروں پر حجت ہوتا ہے۔ جیسے ان جادوگروں نے، جو جادو کے علم میں ماہر تھے، موسیٰu کے معجزہ کی صداقت کو پہچان لیا۔ اس کے بعد جاہل اور لاعلم لوگوں کے قول کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
[199,198]﴿ وَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَ﴾ ’’اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔‘‘ جو ان کی زبان کو سمجھتے ہیں نہ مناسب طریقے سے تعبیر کلام کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’تو وہ ان (قریش) کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے۔‘‘ وہ کہتے کہ وہ جو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم نہیں جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ان کواپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیے کہ یہ کتاب ایسے شخص پر نازل ہوئی ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ فصیح اللسان اور عبارات واضحہ کے ذریعے سے اس کتاب کے مقاصد کی تعبیر کرنے کی سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا اور ان کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کرنے، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اسے قبول کرنے میں جلدی کریں۔
[203-200] مگر کسی شبہ کے بغیر ان کا اس کتاب کو جھٹلانا، کفر و عناد کے سوا کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں میں متواتر چلا آ رہا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ سَلَكۡنٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (تکذیب) کو اسی طرح داخل کر دیا ہے جیسے سوئی کے ناکے میں دھاگہ داخل ہوتا ہے۔ تکذیب ان کے دلوں میں رچ بس کر ان کا وصف بن گئی ہے۔یہ ان کے ظلم اور ان کے جرائم کے سبب سے ہے۔ اس لیے ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (اپنی تکذیب کی پاداش میں ) دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے۔‘‘ ﴿ فَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یہ عذاب ان کواچانک اور ان کی غفلت کی حالت میں آ لے گا، انھیں اس کا احساس تک ہو گا نہ اس کے نازل ہونے کا شعور ہو گا تاکہ اس عذاب کے ذریعے سے ان کو پوری طرح سزا دی جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا﴾ اس وقت یہ کہیں گے ﴿ هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَ﴾ ’’کیا ہمیں مہلت ملے گی؟‘‘ یعنی وہ درخواست کریں گے کہ ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے اور حال یہ ہے کہ مہلت کا وقت گزر گیا اور ان پر عذاب نازل ہو گیا جسے ان پر سے کبھی نہیں اٹھایا جائے گا اور نہ کبھی ایک گھڑی کے لیے منقطع ہو گا۔
26:204أَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُونَ
کیا پس ہمارا عذاب وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں ؟ (204) کیا پس دیکھا آپ نے اگر فائدہ دیں ہم ان کو کئی سال (205) پھر آجائے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (206) تو نہیں کفایت کریں گی ان سے وہ چیزیں جن سے تھے وہ فائدہ پہنچائے جاتے (207)
[204] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ ﴾ ’’کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔‘‘ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ ’’جلدی مچاتے ہیں ؟‘‘ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟
[207-205]﴿ اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَ﴾ ’’بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں ۔‘‘ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾ ’’جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
26:205أَفَرَءَيۡتَ إِن مَّتَّعۡنَٰهُمۡ سِنِينَ
کیا پس ہمارا عذاب وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں ؟ (204) کیا پس دیکھا آپ نے اگر فائدہ دیں ہم ان کو کئی سال (205) پھر آجائے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (206) تو نہیں کفایت کریں گی ان سے وہ چیزیں جن سے تھے وہ فائدہ پہنچائے جاتے (207)
[204] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ ﴾ ’’کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔‘‘ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ ’’جلدی مچاتے ہیں ؟‘‘ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟
[207-205]﴿ اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَ﴾ ’’بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں ۔‘‘ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾ ’’جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
26:206ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ
کیا پس ہمارا عذاب وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں ؟ (204) کیا پس دیکھا آپ نے اگر فائدہ دیں ہم ان کو کئی سال (205) پھر آجائے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (206) تو نہیں کفایت کریں گی ان سے وہ چیزیں جن سے تھے وہ فائدہ پہنچائے جاتے (207)
[204] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ ﴾ ’’کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔‘‘ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ ’’جلدی مچاتے ہیں ؟‘‘ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟
[207-205]﴿ اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَ﴾ ’’بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں ۔‘‘ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾ ’’جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
26:207مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
کیا پس ہمارا عذاب وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں ؟ (204) کیا پس دیکھا آپ نے اگر فائدہ دیں ہم ان کو کئی سال (205) پھر آجائے ان کے پاس وہ (عذاب) جس کا تھے وہ وعدہ دیے جاتے (206) تو نہیں کفایت کریں گی ان سے وہ چیزیں جن سے تھے وہ فائدہ پہنچائے جاتے (207)
[204] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ ﴾ ’’کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔‘‘ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ ﴾ ’’جلدی مچاتے ہیں ؟‘‘ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟
[207-205]﴿ اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَ﴾ ’’بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں ۔‘‘ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾ ’’جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
26:208وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
26:209ذِكۡرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
26:210وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ ٱلشَّيَٰطِينُ
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
26:211وَمَا يَنۢبَغِي لَهُمۡ وَمَا يَسۡتَطِيعُونَ
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
26:212إِنَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّمۡعِ لَمَعۡزُولُونَ
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے تھے ڈرانے والے (208) یاد دہانی کے لیےاورنہیں ہیں ہم ظلم کرنے والے (209) اور نہیں لے کر اترے اس (قرآن) کو شیاطین (210)اور نہیں لائق ان کے لیے اور نہ وہ (اس کی) استطاعت ہی رکھتے ہیں (211) بلاشبہ وہ تو اس کے سننے سے بھی البتہ دوررکھے گئے ہیں (212)
[209,208] اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں ، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں ، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں ۔ ﴿ذِكۡرٰى ﴾ ’’نصیحت‘‘ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ۔‘‘ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں ، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍15) ’’اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں ۔‘‘ ﴿ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ﴾(النساء:4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔‘‘
[212-210] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم کا کمال اور اس کی جلالت بیان کرتے ہوئے اسے ہر صفت نقص سے منزہ قرار دیا نیز واضح کر دیا کہ وہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت اور اس کے بعد شیاطین جن و انس سے اس کی حفاظت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ وَ مَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نازل ہوئے ہیں نہ یہ ان کے لائق ہی ہے۔‘‘ یعنی یہ چیز ان کے حال کے لائق ہے نہ ان سے کوئی مناسبت رکھتی ہے ﴿ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠﴾ ’’اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔‘‘ ﴿اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ۠﴾ ’’وہ (آسمانی باتوں کے) سننے سے الگ کر دیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس سے دور کر دیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کی خاطر شیاطین کے لیے شہاب ثاقب تیار كيے گئے ہیں ۔ اس قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوتا ہے جو سب سے طاقتور فرشتہ ہے شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نہ اس کے اردگرد منڈلا سکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ ﴾(الحجر:15؍9) ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
26:213فَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُعَذَّبِينَ
پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)
[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
26:214وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ
پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)
[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
26:215وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)
[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
26:216فَإِنۡ عَصَوۡكَ فَقُلۡ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ
پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)
[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔
[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
26:217وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ
اور توکل کیجیے اس پر جو غالب نہایت رحم کرنے والا ہے (217) وہ جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں (نماز کے لیے)(218) اور آپ کے ، پھرنے (اٹھنے بیٹھنے) کو سجدہ کرنے والوں میں (219) بلاشبہ وہ (اللہ) ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (220)
[217] جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسہ اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لیے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔‘‘ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔
[220-218] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے استحضار اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ يَرٰىكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ۰۰ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں ، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں ، دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
26:218ٱلَّذِي يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ
اور توکل کیجیے اس پر جو غالب نہایت رحم کرنے والا ہے (217) وہ جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں (نماز کے لیے)(218) اور آپ کے ، پھرنے (اٹھنے بیٹھنے) کو سجدہ کرنے والوں میں (219) بلاشبہ وہ (اللہ) ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (220)
[217] جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسہ اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لیے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔‘‘ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔
[220-218] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے استحضار اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ يَرٰىكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ۰۰ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں ، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں ، دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
26:219وَتَقَلُّبَكَ فِي ٱلسَّـٰجِدِينَ
اور توکل کیجیے اس پر جو غالب نہایت رحم کرنے والا ہے (217) وہ جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں (نماز کے لیے)(218) اور آپ کے ، پھرنے (اٹھنے بیٹھنے) کو سجدہ کرنے والوں میں (219) بلاشبہ وہ (اللہ) ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (220)
[217] جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسہ اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لیے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔‘‘ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔
[220-218] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے استحضار اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ يَرٰىكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ۰۰ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں ، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں ، دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
26:220إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
اور توکل کیجیے اس پر جو غالب نہایت رحم کرنے والا ہے (217) وہ جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں (نماز کے لیے)(218) اور آپ کے ، پھرنے (اٹھنے بیٹھنے) کو سجدہ کرنے والوں میں (219) بلاشبہ وہ (اللہ) ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (220)
[217] جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسہ اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لیے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔‘‘ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔
[220-218] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے استحضار اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ يَرٰىكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ۰۰ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں ، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں ، دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
26:221هَلۡ أُنَبِّئُكُمۡ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُ
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
26:222تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
26:223يُلۡقُونَ ٱلسَّمۡعَ وَأَكۡثَرُهُمۡ كَٰذِبُونَ
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
26:224وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
26:225أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
26:226وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین
26:227إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَذَكَرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱنتَصَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَيَّ مُنقَلَبٖ يَنقَلِبُونَ
کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)
[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔
[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔
[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین